عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 16,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 7
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-01 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
انٹرویو ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس
:عنوان

. متفرق :کیٹیگری
عائشہ جاوید :مصنف

انٹرویو

ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس

ترجمہ: سلیمان واثق

نظرثانی: عائشہ جاوید

سوڈانی نژاد ایک عالم جو ہمارے فکری مراجع میں آتے ہیں

مجلۃ العصر:                    ہم ایک ایسی فاضل شخصیت سے  ملاقات کا شرف حاصل کر رہے ہیں جنہوں نے  تمام عالم اسلام کے فکری حلقوں اور خصوصاسوڈان پر انتہائی گہرےعلمی اثرات مرتب کیے  ہیں۔ یہ فضیلۃ الشیخ استاذ ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس حفظہ اللہ ہیں۔آج ہم ان کے ساتھ زندگی,تجربات ,فکر اور مشاہدات کے مختلف پہلوؤں کی سیر کریں گے۔ ابتدا میں ہم شیخ محترم سے گزارش کریں گے کہ وہ اپنے ان حوادثات زندگی اور شخصیات کے بارے میں بیان کریں جنہوں نے ان کی دعوتی ,فکری اور ثقافتی جہات اور اسالیب پر گہرا اثر مرتب کیا ہو,پھر ہم ان سے  دعوتی ,علمی اور فکری جوانب سے متعلق سوالات کریں گے۔

والدین کے اثرات شیخ محترم کی تربیت پر :

شیخ جعفر :        الحمدلله نحمده ونستعينه ونستغفره ونستهديه واشهد ان لااله الا الله وحده لاشريك له واشهد ان سيدنا محمداعبدالله ورسوله صلى الله عليه وآله و صحبه اجمعين.میرا تعلق چونکہ  ایک سوڈانی خاندان سے ہے اس لیے میرا خاندان بھی دیگر سوڈانیوں کی طرح صوفی سلسلے سے منسلک تھا ,اس سلسلے کا نام ختمیہ ہے (یہ سلسلہ سوڈان اور اس کے قرب جوار کے ممالک میں پھیلا ہوا ہے اس کے بانی محمد عثمان بن محمد المیر غنی تھے جوکہ طائف سے تشریف لائے تھے اور سلسلہ ادریسیہ کے شیخ احمد بن ادریس سے بیعت تھے۔ مترجم ) یہ بات واضح ہے (یا ہوجانی چاہیے )کہ ہمارےخطے کے صوفی گروہ شرک  میں بہت زیادہ  مبتلا ہیں مگر اللہ تعالى نے میرے والدین پر اوران کے ذریعے سے مجھ پر خصوصی انعام فرمایا تھا۔ میری والدہ عالمہ عورت نہ تھیں مگر وہ سخت قسم کی  دیندار تھیں ,نماز کے معاملے میں انھوں نے والد محترم کی بہ نسبت مجھ پر زیادہ اثر ڈالا ,مجھے یاد ہے کہ وہ بسااوقات ہمیں نیند سے جگا کر پوچھا کرتی تھیں کہ ہم لوگوں نے عشاء کی نماز پڑھ لی ہے یا نہیں۔ والد محترم کی شخصیت بھی ہمارے لیے اللہ تعالى کے انعامات میں سے تھی۔ان کی طبیعت میں عفوو  درگزر تھا وہ اُس وقت بھی ہمارے ساتھ ایسے معاملہ کرتے تھے جیسے ہم لوگ بزرگ ہوں, وہ بسا اوقات  مختلف مسائل میں ہم بہن بھائیوں سے مشاورت کرلیا کرتے تھے۔ آپ اندازہ کریں سوڈان میں اس طرزمعاشرت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔  البتہ وہ اس صوفی سلسلے سے ہی وابستہ رہے۔ سب سے پہلی چیز ,جس نے میری زندگی پر انتہائی ذیادہ اثر ڈالا, اور میں اس پر اللہ کا شکر گزار  ہوں وہ یہ تھا کہ ہمارے کسی قرابت دارنے سب سے پہلی مرتبہ سوڈان میں سلفی دعوت کا پرچار کرنا شروع کیا ان کا تعلق جماعت انصار سنت محمدیہ بور سوڈان سے تھا۔ اس وقت میری عمر بارہ سال تھی تب میں نے ان سے متاثر ہو کراپنے والدین کے اختیار کردہ سلسلے کی طرف نسبت توڑ لی اور ان کے ساتھ سلفی دعوت میں شامل ہو گیا ,اب میرا گھر والوں سے اختلاف شروع  ہوگیا خصوصا میری والدہ بہت ہی زیادہ ناراض ہوئیں حتى کہ انھوں نے میرا بائیکاٹ کر دیا اور بول چال تک بند کر دی۔ وہ یہ سمجھتی تھیں کہ میں گمراہ ہو گیا ہوں۔

البتہ میرے لیے یہ بات بہت مفید تھی کہ میں جن سے سلفیت میں متاثر ہوتا جارہا تھا وہ ہمارے اقارب میں سےتھے۔ انھوں نے میری مدد کی اور ان میں سے ایک صاحب جن کا والدہ محترمہ بہت احترام کرتی تھیں ,وہ ایک سادہ منش انسان تھے اور درزی کا کام کرتے تھے ,ایک دن وہ تشریف لائے اور میری امی سے میری صلح کروادی۔ میرے والد حافظ قرآن تھے میں انہیں  بعض کتب پڑھ کر باربار سناتا رہا, اللہ کے فضل سے وہ بھی کچھ عرصہ بعد تبدیل ہوگئے اور سلفیت کو اپنا لیا۔

مجلۃ العصر :کیا ان کتابوں کے نام بتلانا پسند فرمائیں گے؟

یہ مصر سے چھپے ہوئے کچھ کتابچے تھے ان میں ایک کتاب تھی جس کا نام مجھے یاد نہیں میں وہ کتاب باربار والد صاحب کو سناتا رہا حتى کہ وہ مجھ سے متفق ہوگئے اور ان کی زندگی میں ایک تبدیلی آگئی۔ پھر کچھ عرصہ بعد والدہ نے بھی صوفیت تر ک کر دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تعالى کے انعامات میں سے تھا کہ میں اپنے والدین کے لیے ہدایت کا سبب بن گیا اور انہیں شرک اور خرافات سے نکال لایا۔ ولله الحمد سبحانه

بچپن کا ایک واقعہ :بچپن میں ایک حادثہ ہوا جس نے مجھ پر بہت ہی بڑا اثر ڈالا ۔ یہ اثر کوئی فکری یا علمی نہ تھا مگر اس کے نتائج مجھ پر آج تک موجود ہیں۔ کھیلتے ہوئے مجھے ایک کیل لگ گئی اور اندر سے ہڈی ٹوٹ گئی۔ مجھے شدید درد ہوا ,میں اس وقت چھ سال کا تھا  اور یہ تکلیف مجھے نو سال کی عمر تک رہی, یہ انگریز کا زمانہ تھا۔جب مجھے ڈاکٹر کے پاس لایا گیاتو اس نے کہا کہ اس بچے کی ٹانگ کاٹنی پڑیگی۔ میرے والد تو متفق ہوگئے مگر والدہ محترمہ نہ مانیں اور ڈٹ گئیں وہ اپنے پیر سید علی میر غنی کے پاس  مشورہ لینے گئیں تو انھوں نے فرمایا کہ طبیب کی بات مان لو اور ٹانگ کٹوا لو۔ کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا کہ وہ پنے پیر صاحب کی بات رد کر دیں گی مگر انھوں نے رد کر دی اور ڈاکٹر سے کہا کہ ہم ٹانگ نہیں کٹوائیں گے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ  ٹانگ تو کاٹنی ہی پڑے گی ورنہ بچے کی جان کو خطرہ ہے۔ امی جان نے ایک جملہ کہا تھا کہ یہ دو ٹانگوں کے ساتھ مرجائے یہ بہتر ہے اس سے کہ ایک ٹانگ کے ساتھ جیتا رہے۔

اس حادثے  کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں کلاس میں پیچھے رہ گیا مگر اس تاخیر نے مجھے ذاتی طور پر بہت فائدہ دیا اور جب میں دوبار ہ تعلیم کے لیے اسکول گیا تو میر ی پیاس بڑھ چکی تھی۔ مجھے ایسے لگا کہ میں نے کبھی اس کام کی ابتدا ہی نہ کی تھی جب میں دوسری مرتبہ تعلیم میں شامل ہوا تو میری پہلی کلاس چوتھے درجے تک جا چکی تھی اور میں تھاکہ اب پہلے درجے میں بیٹھ رہاتھا۔ جب میں پہلی مرتبہ اسکول گیاتھا تو اساتذہ نے یہ کہہ کر مجھے رد کردیا تھا کہ اس  بچے کی عمر کم ہے اورانھوں نے میرے بڑے بھائی کو شامل کر لیا اور اب میری عمر زیادہ ہو چکی تھی میرا یہ بھائی مذاق میں کہا کرتا تھا کہ اس حادثے پر اللہ کا شکر ادا کیا کر اگر یہ نہ ہواہوتا  تو جامعہ میں بھی داخل نہ ہو پاتا!!!!

میٹرک میں داخلہ بھی بہت مشکل سے ہوتا تھا ان دنوں پورے سوڈان میں صر ف تین ہائی اسکول تھے  کسی ایک میں  بڑی ہی مشکل سے داخلہ ہوپاتا تھا۔ میری خوش قسمتی یہ تھی کہ میں اسکول میں انتہائی محنت اور جوش کے ایام میں آن پہنچا تھا میں کتب خانے میں فجر کی نماز سے داخل ہوتا تھا  جب میرے والد مجھے نماز کے لیے جگایا کرتے تھے,6بجے وہاں ٍسے باہر نکلتا تھا اور تیاری کر کے پڑھنے کو اسکول چلا جاتا تھا,وہاں سے لوٹتے ہی میں دوبارہ لائبریری میں جابیٹھتا ,پھر کچھ دیر آرام کرکے دوبارہ مغرب کے وقت مکتبہ میں چلا جاتا تھا۔

مساجد کی مجلسیں :

اس کے بعد میں نے ایک سنی عالم کے دروس میں شریک ہونا شروع کر دیا۔ انہی دنوں میں نے کچھ مختصر رسائل کا بھی مطالعہ کیا ,اور احادیث بھی حفظ کرنا شروع کر دی ,میں نے اربعین نووی مکمل یاد کرلی تھی۔ پھر جب میں مڈل اسکول میں داخل ہواتو اپنے والد محترم کے ہمراہ سنت  پر ہونے والے ایک لیکچر میں شریک ہوتا تھا ۔  جو کہ ازہر سے فارغ التحصیل حدیث کے جو ایک استاد ہمارے ملک کے مشہور عالم تھے دیا کرتے تھے ۔یہ دور تھا جب شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒکے بعض رسائل بھی میرے زیر مطالعہ آئے۔

مجلۃ العصر:        کیا آپ ان رسائل کا نام ذکر کرنا پسند فرمائیں گے؟

شیخ جعفر : ان میں سے ایک تو میرے خیال سے العبودية تھی ,باقی میراگمان ہے کہ ان کی مختلف کتب سے فصول کو علیحدہ کرکے چھاپا جاتا تھا ,مجھے ان کے نام یاد نہیں رہےاور ان کتابوں کی زیادہ تعداد مصر سے چھپ کر آتی تھی۔

مجلۃ العصر :کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک طالب کا علم کا شیوخ کے محاضرات میں شریک ہونا ,ابن تیمیہ کی کتب کا مطالعہ کرنا اور کتب سنت کو پڑھنا اس معاشرے میں ایک نادر چیز تھی اور سوڈان میں کہیں نہیں پائی جاتی تھی۔

 شیخ جعفر :نہیں ایسی بات بالکل نہیں۔ شیوخ کی خدمت میں حاضر ہونا کوئی نادر چیز نہ تھی ,بلکہ اس وقت لوگ شیوخ ہی کے پاس جاکر علم حاصل کیا کرتے تھے لیکن ہمارے دینی طبقات عموما صرف مذہب مالکی کی کتب پڑھا کرتے تھے ۔ میں نے بھی ابتدامیں یہی کتب پڑھیں مثلاالعرية والعشماويةوغیرہ۔ ہمارے ہاں تدریس کا شعبہ عموما موریطانیہ کے شنقیطی بھائیوں کے پاس تھا۔ وہ جب بھی حج کے لیے آتے تھے تو سوڈان میں لمبا عرصہ قیام کیا کرتے تھے۔ اس وقت سوڈان کی حالت ,موجودہ صورت حال سے کہیں بہتر تھی۔میں نے بعض شنقیطیوں ٍ سے پڑھا ہے۔ جن شخصیات نے میرے اندر سنت کی بنیاد مضبوط کر کی ان میں ایک شیخ اسماعیل انصاری ؒتھے ان کا تعلق بھی آل شنقیط سے تھا بڑے فاضل اور علامہ شخص  تھے۔ قرآن کریم جس قدر انہیں حفظ پر عبور تھا میں نے اس کی مثال نہیں دیکھی وہ قرآن کے الفاظ کی معجم المفہرس تھے اگر ایسا کہنا درست ہو تو !آپ جب بھی ان سے قرآن کے کسی لفظ کے بارے میں پوچھیں تو وہ فورا بتا دیتے تھے کہ یہ لفظ قرآن کی کن کن آیات میں آیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ ابتدا میں متعصب مالکی تھے پھر وہ تبدیل ہوئے اس لیے فقہی کتب پر بہت شدید ردکرتے تھے درحقیقت یہ ایک رد عمل تھا ,وہ ہمیں کہا کرتے تھے اربعین نووی تمام کتب فقہ سے بہتر ہے۔ ایک عرصے تک میں ان کی خدمت میں حاضرہوتا رہا۔ پھر وہ سعودیہ چلے گئے سعودیہ میں ان کا شمار کبار علماء ہوتاتھا اگر چہ یہ زیادہ مشہورنہ تھے (شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اجنبی تھے )مگر وہ شیخ ابن باز ؒکے ساتھ ادارۃ البحوث والافتاء میں بھی کام کرتے رہے تھے۔ انہوں بعض کتب کی تحقیق بھی کی ہے۔

مجلۃ العصر:شیخ محترم یہ کب کی بات ہے؟

شیخ جعفر: ان کے ساتھ میری صحبت کا زمانہ پانچویں دہائی کی ابتدا میں تھا 1951تقریبا\1952 کی بات ہے

تباہ کن طوفانوں سے کش مکش :

میری زندگی میں ایک انتہائی موثر کردار کمیونزم کا بھی ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے سکول کے زمانے میں سوشلزم  ایک بہت بڑی تحریک بن کر معاشرے پر چھایا ہوا تھااس کے دامن میں اشتراکیت کا ایک طوفان عالمگیر تھا جو کہ معاشیات اور معاشرت کے بہت سارے میدانوں میں چیلنج کی صورت میں سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔میں جس قدر بھی زاد مطالعہ جمع کیا ہواتھا وہ اس فکر کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی تھا ,کیونکہ اشتراکیت نے جدید موضوعات چھیڑ رکھے تھے۔اسی زمانے میں میں نے حرکۃ التحریر الاسلامی (اسلامی آزادی کی تحریک)میں شمولیت اختیار کر لی۔  سید قطب میری پسندیدہ ترین شخصیات میں سے ایک تھےان کی تحریروں کا مجھ پر فکری اثر بھی مرتب ہوا۔

مجلۃ العصر:کیا سوڈان کی فکری تحریک پر مصری اثرات پڑ رہے تھے یا یہ بذات خود سوڈان ہی کی زمین پر اگنے والا پودا تھا؟

شیخ جعفر:ابتدا میں تو ایسا نہیں تھا بلکہ یہ فکری تحریک  صرف سوڈان ہی کی پیداوار تھی,لیکن بعد میں تو یہ تحریک بنفسہ اخوان المسلمون بن گئی تھی۔ البتہ بعض امتیازات ایسے تھے جو اسے مصر کی اخوان سے ممتاز کرتے تھے۔ اس تحریک کے بانی اکثر وہ لوگ تھے جو کمیونزم  کو الحادی طرز فکرمان کرچھوڑ کر آئے تھے ,اس تحریک پر بہت زیادہ اثر انداز ہونے والی شخصیات میں سے ایک ماجد الکرّاح صاحب تھے ,جو اعلى درجے کی مہذب شخصیت رکھتے تھے۔ مصری مصنفین کے ساتھ ساتھ ہم پاکستانی لکھاریوں کی کتابیں بھی بہت شوق سے پڑھا کرتے تھے مثلا شیخ مودودی ؒوغیر ہ۔ ان کی کتب ہم انگریزی میں پڑھا کرتے تھے ,ان کی کتب کا عربی میں ابھی تک ترجمہ نہیں ہواتھا۔

مجلۃ العصر:آپ کو شیخ مودودی ؒ کی کتب کے نام تو یاد ہونگے نا؟

شیخ جعفر :جی بالکل !ایک کتاب کا نام تھا منهاج الانقلاب الاسلامياس وقت میں نے یہ کتاب کئی بار پڑھی ,میرا خیال یہ ہے کہ یہ کتاب عصر حاضر کے تقاضے پورے کرتی ہے۔ اس کے علاوہ شیخ ؒ کے معاشیات اور سیاسیات کے موضوعات پر لکھے گئے کتابچے بھی میں نے پڑھے۔ مجھے یاد ہے کہ ان کی حیرتناک کتاب جو کہ میرے زیر مطالعہ آئی وہ تھی الدین القیم !۔اس کتاب میں گویا میں نے اپنے شعور کے گمشدہ صفحات پا لیے ,اس کتاب کا اسلوب حجت وبرہان میرے لیے بہت ہی جاذب شعور تھا۔ اس کتاب میں عقلی براہین کے ساتھ  ساتھ یہ بھی ثابت کردیا گیا کہ یہ دین اللہ سبحانہ وتعالى کی طرف سے ہے۔

مجلۃ العصر:لگتا ہےاس دور میں  اس کتاب نے آپ لوگوں میں اشتراکیت کے مقابلے میں ایک فکری ارتکاز پیدا کردیا تھا؟

شیخ جعفر :بالکل !یہی چیز اس طر ح کی کشمکش میں اہمیت رکھتی ہے ,اس کے بعد میں نے شیخ ابوالحسن علی ندوی ؒ (علی میاں )کی کتب کا مطالعہ کیا ,ہائی اسکول کے زمانے میں ہی میں نے شیخ ندوی  ؒکی کتاب ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين پڑھی ,اس کتاب سے بھی ہم نے بہت استفادہ کیا تھا۔   اسی طرح ہم تہذیب اور ثقافت کٍے موضوعات پر دیگر کتب کی طرح انگلش لٹریچر مثلاناول, افسانے وغیرہ  بھی پڑھتے تھے ,ہماری تعلیم بھی مکمل طور پر انگلش میں ہوتی تھی ،سوائے دومضامین کے ، عربی زبان اور دینیات۔ اساتذہ بھی سارے انگریز ہوتے تھے۔

اس لیے  اس تحریک میں شمولیت بلا شبہ وہ واقعہ تحا جس نے میری زندگی پر گہرا اثر چھوڑا, بعد میں یہ تنظیم اخوان المسلمون بن گئی تھی۔ یہ بھی بتلاتا چلوں کہ جب میں پہلی مرتبہ تنظیم میں شمولیت کے بعد گھر آیا تو گھر والوں نے مجھ میں کئی تبدیلیا ں محسوٍس کیں۔ پہلے میں ایک تنہائی پسند انسان تھا ,بچپن سے ہی میں دوسرے بچوں سے علیحدہ رہتا تھا نہ کھیل میں حصہ لیتا تھا اور نہ  دوستیا ں کرتا تھا حتى کہ میری والدہ یہ سمجھنے لگیں تھیں کہ میں مریض ہوں۔

مجلۃ العصر :واضح بات ہےکہ  یہ تنہائی فکر ی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ شخصی جہت رکھتی تھی کیا ایسا نہیں ہے؟

شیخ جعفر :جی ہاں، اس طر ح کی تنہائی معاملات میں شدت پسندی بھی پیداکردیتی ہے ,جس چیز نے مجھ میں ایک تغیر برپا کردیا تھا وہ تھا کہ جس شہر میں ,میں میٹرک کرنے کے لیے رہ رہا تھا  وہاں کے لوگ بہت ہی محبت کرنے والے تھے ,ہمارے شہر کے لوگ قلت محبت کے حوالے سے مشہور تھے ,اس لیےاس نئے شہر   کا ماحول میرے لیے مختلف سا تھا مثلا ہمارے لیے  گلے ملنا تعجب کی بات تھی ,مگر یہاں تویہ ایک عام بات تھی۔ اس شہر کے لوگوں کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جب کوئی ناپسندیدہ شے دیکھتے تھے تو اس پر آپ کے پاس آکر باقاعدہ تنقید کرتے تھے  اور آپ سے خود گفتگو کا آغاز کرتے تھے,اس چیز نے مجھے کسی حد تک سماجی بنادیا۔ میں ایک اور بات کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ امام حسن البناء نے اخوان میں ایک چیز اسرہ کے نام سے بھی متعارف کروائی ہے اسی کی پیروی کرتے ہوئے ہم بھی اپنے ساتھیوں کو اسرہ جات میں تقسیم کرلیتے تھے یہ چھوٹے چھوٹے مجموعے ہوتے تھے۔ یہ ایک جادوئی سا طریقہ تھا لوگوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے ,ایک آدمی وہ کام کبھی نہیں کر سکتا جسے ایک گروہ کریگا۔اس سے کارکنوں میں رابطہ گہرا ہوتا ہے اور اخوت کا جذبہ بڑھتا ہے۔

میں دوبارہ یہ کہنا چاہوں گا کہ اسی اثناء میں ,میں سید قطب سے متعارف ہوا تھااور اس وقت ہم صرف ان کی کتب کا مطالعہ نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں شعور اور وجود میں انڈیل رہے تھے ,خصوصا وہ کتابیں جن میں شہیدؒ نے اشتمالیت اور جمہوریت پر تنقید کی ہے۔ مجھے ابھی تک ان کتابوں کی مثال نہیں مل سکی مثلا معركة الاسلام والراسمالية,الاسلام والسلام العالمي ,العدالة الاجتماعية في الاسلام .ان کتب میں اہم مسائل پر بحث کی گئی تھی جو آج بھی ہمیں اشتراکیت سے کشمکش درپیش ہیں ,ہمیں ان کتابوں کے اندر دیے جانے والے دلائل تک یاد ہو گئے تھے۔

اسی طرح ,میں ان دنوں ایسی کتب کا مطالعہ بھی کرتا رہا ہوں جن میں خالق کے وجود پربحث کی گئی ہوتی تھی کیونکہ اشتراکیوں  کے ہاں خالق کے وجود کا انکار کیا جاتا تھااور مجھے ان کتابوں کے مطالعے کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی۔ اس موضوع پر ہماری اپنی اسلامی تحریک کا لٹریچر ناکافی تھا۔

یہی دور  ہے جب ابن قیم الجوزی ؒسے بھی مجھے  تعارف ہوا اور ان کے مباحث مجھے شیخ الاسلام کی بہ نسبت بھی زیادہ سمجھ میں آتے تھے۔ محمد رشید رضا مصری کی ایک کتاب الوحي المحمدي نے بھی مجھ پر بہت ذیادہ اثر ڈالا تھا.اس کتاب کا عقلی اسلوب  مجھے اچھا لگا تھا۔جن کتابوں کے مطالعے کی میں نوجوانوں کو نصیحت کروں گأ وہ ہیں الداء والدواء لابن قيم ,التصوير الفني في القرآن لسيد قطب .

شیخ ابن باز ؒ کی صحبتیں

میرا مختلف شخصیات سے متاثر ہونے کا دوسرا زمانہ سعودیہ سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں میری ملاقات شیخ علامہ عبدالعزیز بن باز ؒ سے ہوئی ,میں سمجھتا ہوں کہ یہ مجھ پر اللہ تعالى کی طرف سے ہونیوالی ایک نعمت تھی۔

شیخ ؒ ایک متقی ,زاہد اور علمی شخصیت تھے ,میں انہیں اس دور کے بڑے علماء میں سے شمار کرتا ہوں ,حق بات یہ ہے کہ میں نے شیخ ؒ کا ہم مثل  انسان نہ تو مسلمانوں میں پایا ہے اور نہ غیر مسلموں میں۔شیخ ؒ کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے مخالف پر اس قدر ادب  کے ساتھ تنقید کرتے  کہ اس کی مثال نہیں مل سکتی  ۔میں عرب وعجم کے بے شمار علماء سے ملا ہوں وہ جب بھی کسی پر تنقید کرتے ہیں تو تنقید تحقیر بن جاتی ہے۔ وہ کسی کی تحقیر نہیں کرتے    تھے اورنہ ہی کبھی ان کی زبان سے اس طرح کے کلمات سننے کو ملتے تھے جس طرح سے آج آپ علماء اور داعیوں کے لیے بڑے قبیح جملے سنتے ہیں۔ آپؒ داعیوں کی بہت ہی ذیادہ مدح کرتے تھے مثلا مولانا مودودی ؒ اور حسن البناء ؒ ,اسی طر ح شیخ البانی ؒ کا جب بھی تذکرہ کرتے تھے تو انہیں علامہ البانی ؒ کہہ کر یاد کرتے تھے۔ ہمارے ساتھیوں کی بھی تعریف کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کسی آدمی نے شیخ مودودی ؒ کے بارے میں پوچھا کہ وہ فلاں تاویل کرتے ہیں۔ آپ ؒ نے جواب دیا کہ یہ ان کی خطا ہے۔ مگریہ مسئلہ بھی انتہائی دقیق ہے۔

جب انسان کی فضیلت مشہور ہو جائے تو اس پر تنقید کی جاتی ہے تشنیع نہیں۔

شیخ عبدالعزیز بن بازؒکی دوسر ی بڑی خوبی سخاوت تھی اس میں تو گویا وہ حاتم ثانی تھے۔ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ہمارے سلفی بھائیوں میں یہ خوبی عام ہو جائے۔ ان خصوصیات میں حضرت شیخ ؒ صوفیائے مشائخ جیسا قد کاٹھ رکھتے تھے ۔جس طرح صوفیاء میں رقت قلب اور سخاوت ہوتی ہے آپ کا مزاج بھی ویسا ہی تھا۔ مجھے  جب بھی آپ کے ہاں کھانا تناول کرنے کا شرف ملا  تو آپ کے دسترخوان پر پندرہ سے بیس افراد ہوتے تھے اور یہ تقریبا سارے لوگ مختلف ضرورتوں کے لیے مدد طلب کرنے آئے ہوتے تھے۔

حضرت شیخ کی ایک اورخوبی یہ تھی کہ اللہ تعالى نے انہیں عجیب وغریب قوت حافظہ سے نوازا تھا ان میں صرف حفظ کی قوت ہی نہ تھی بلکہ یہ تو بہت سارے لوگوں میں مل جائے گی البتہ آپ کا امتیاز انتہائی حاضر جوابی تھی۔ میری یہ حسرت  ہی رہی کہ کاش میں شیخ ؒ سے کچھ پہلے واقفیت پاتا اور آپ کے طریق تعلیم کامشاہدہ کر سکتا۔

مجلۃ العصر :اگر آپ مناسب سمجھیں تو ان چیزوں کا تذکرہ فرمادیں جو آپ نے شیخ سے پڑھیں؟

شیخ جعفر :میں  ان سے باقاعدہ معروف اسلوب میں کچھ نہیں پڑھ سکا بلکہ میں ان کے جامع مسجد میں ہونیوالے محاضرات میں شامل ہوتا تھا۔اس میں شیخ محترم نے کئی کتب پڑھائی تھیں مجھے وہ یاد ہیں جو میں نے سماعت کی تھیں جیسے صحیح بخاری سے فضائل صحابہ۔بعض مبتدی حضرات ان سے شیخ محمدبن عبدالوھاب کی کتاب التوحیدبھی پڑھا کرتے تھے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آپ مبتدیوں کو پڑھاتے ہوئے  تفصیل اور تشریح کرتے تھے جبکہ بڑی کتب کو پڑھاتے وقت بہت مختصر اشارات کردیتے تھے۔ہم نے بہت ساری کتب کی شیخ سے سماعت کی تھی۔ اسی طرح تفسیر القرآن کے دروس میں بھی شامل رہنے کا موقع ملا ہے تفسیر ابن کثیر آپ کی پسندید ہ ترین تفسیر تھی ۔ میں  نے تو ان کے دروس میں 1975ء کے بعدآنا شروع کیا تھا میری خواہش  رہتی تھی کہ باربار ان کے دروس میں حاضر ہوتا رہوں ,کیونکہ ہم نے حضرت شیخ ؒ سے علم کے ساتھ ساتھ خاموشی بھی سیکھی تھی۔ آپ ہر وقت اللہ کی یاد کو شعور میں تازہ رکھتے تھے۔ آپ یقین کامل رکھتے تھےکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر عبادت ہے ۔میں نےاس طرح کی کوئی شخصیت نہیں دیکھی جو دعوت اور اس کے عصری تقاضوں کو پورا کرنے پراس قدر کوشاں رہتی ہو۔

تحریکوں پر نظر

مجلۃ العصر :اب ہم فضیلۃ الشیخ سے جماعتوں اور تحریکوں کے حوالے سے سوال کرتے ہیں۔ کہ دینی تحریکوں سے وابستگی کا اسلوب کیا رکھتے رہے ہیں یا کیسا طریقہ کار پسند فرماتے ہیں؟

شیخ جعفر :جب میں اخوان میں شامل ہوا تھا اس وقت  بھی میری یہ حالت تھی کہ جو موقف میں اختیار کر لیتا تھا پھر اسے غلط نہیں سمجھتا تھا اور بہت تیزی سے تنقیدبھی  کرنا شروع کردیتا تھا۔ بعض لوگوں کو یہ چیز اچھی نہیں لگتی تھی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اخوانی الماثورات پڑ ھا کرتے تھے اور اس کی ابتدا میں لکھا ہوا تھا کہ ذکر اجتماعی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں نے یہ بات بالکل رد کردی اور بعض دوستوں کوبھی اس کے خلاف  قائل کر لیاتھا۔ اسی طرح ایک اور چیز جس پر مجھے اعتراض تھا وہ تھا ورد الرابطہ نامی ایک ذکر تھا جو کہ مغرب کے بعد پڑھا جاتا تھا۔  اہل السنۃ کی طرف میرے رجحان نے مجھے بہت نفع پہنچایا۔ اس وجہ سے تنقید ایک پہلو سے میری طبیعت کا حصہ بن گئی ,اس پہلوسے بعض اسلامی ایشوز پرمیں نے لکھا بھی ہے ,یہ ایک مقالہ ہے جو میری کتاب نظرات في منهج العمل الاسلامي میں موجود ہے۔ یہ کتاب اخوان میں بہت معروف ہوئی۔ بعض جماعتوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ان کی جماعت ہی مسلمانوں کی جماعت ہے جو اس سے خارج ہو اوہ الجماعۃسے خارج ہوگیا۔ میں نے یہ فکر پیش کی کہ ہم جماعۃ المسلمین کا حصہ ہیں نہ  کہ کل جماعۃ المسلمین ہیں۔ میں نے اس پورے مقالے میں ان چیزوں پر تنقید کی ہے ۔ میں نے اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اسلام میں اس چیز کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا جسے ہم فکرٍٍِجماعت کا اہتمام کرنے اور اس کی پیروی کرنے کا نا م دیتے ہیں۔ اس موضوع پر میں نٍے شیخ مودودی ؒ سے بھی بحث کی تھی ,جب وہ لندن آئے تھے۔ سعودی عرب میں آمد کے بعدمیں بہت سارے علماء سے ملا جن میں پاکستان ,تیونس ,مغرب,اور جزائر خاص طورپر شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ تنقید کی اسی صلاحیت نے مجھ پر حسن ترابی کی حقیقت, بہت جلدہی کھول دی تھی۔

مجلۃ العصر:آپ کے اور شیخ مودودی ؒ کے مابین جو گفتگو ہوئی تھی ,وہ آپ کو یاد ہے؟

شیخ جعفر :جی بالکل !کچھ باتیں تو ابھی تک یاد ہیں ,مثلا انھوں نے اخوان پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا تھا :تم لوگ عالم اسلامی میں پھیلی ہوئی مستقل جماعتیں ہو مگر سب اخوان المسلمون کہلاتے ہو۔ حالانکہ معاملہ اس کے  برعکس ہونا چاہیے جماعت تو ایک ہو مگر نام مختلف ہوں تاکہ کسی ایک کی غلطی کی وجہ سے دوسرا نہ پکڑا جائے۔

اس کے بعد ہمارے درمیان تنظیم کی فکری پابندی پر مناقشہ ہوا ,میں  نے عرض     کیا  کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے دین میں کسی جماعت کی فکری پیروی کو لازم ٹھہرا دیا گیا ہو۔البتہ کسی جماعت کے ساتھ مل کام کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر حاکم اگر کسی چیز کا حکم دے تو میں رائے کے لحاظ سے اس سے اختلاف کر سکتا ہوں البتہ عملی طور پر میں اس کے ماتحت رہوں گا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہے گا,البتہ حاکم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ کہے کہ جاؤ اور لوگوں سے کہہ دو کہ فلاں رائے درست ہے۔ وہ فرمانے لگے کہ جب ہم اس چیز کو لازم نہ ٹھہرائیں گے تو انتشار پھیل جائے گا۔ میں نے کہا کہ انتشار اس صورت میں روکا جاسکتا ہے جب ہم لوگوں کی ایک خاص اسلوب پر تربیت کریں گے ۔مگر ہوا یوں کہ ہم نے لوگوں سے کہا کہ جو آدمی جماعت کی رائے سے  اختلاف کرے گا وہ جماعت سے خارج ہوگا۔ اس کے جماعتوں پر بہت افسوسناک حد تک برے  اثرات پڑے۔

پورا سلامی عمل  ہماری اپنی سرگزشت ہے ہم خود کیوں نہ اپنے اوپر تنقید کریں اور اپنی اصلاح کریں۔صحابہ کرام ؓ ایک دوسرے پر تنقید بھی کرتے تھے اور وہ آپس میں شدید محبت بھی کرتے تھے۔ آخر میں شیخ مودودی ؒ نے اپنی جماعت کے نظم کی تفصیلات بتلائیں۔ میں اسے عمدہ ترین مثال سمجھتا ہوں۔ فرمانے لگے ,ہم اپنی جماعت میں زیادہ قوانین نہیں بناتے الا یہ کہ اسکے بغیر چارہ نہ ہو، البتہ اہم امور کے لیے ضوابط مقرر کردیتے ہیں ۔

اس کے علاوہ دیگر اشیاء میں کارکنا ن آزاد ہوتے ہیں ,جب بھی ہم نے کوئی فیصلہ کیا ہے تو ہمیں غالب اکثریت کا سہارا نہیں لینا پڑا بلکہ اتفاق عمومی ہوجاتا ہے اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو ہم مجتمع ہوکر اسے مطمئن کرتے ہیں۔میں نے عرض کی کہ ہم یہ فرض کرلیتے ہیں کہ تم سارے لوگ متفق ہوگئے ہو مگر میں مغربی پاکستا ن میں ہوں ,اس وقت پاکستان دوحصوں پر مشتمل تھا ,کیونکہ میری ان سے یہ ملاقات علیحدگی سےپہلے   ہوئی تھی ,فرمانے لگے اگر آپ اس اتفاق کو نہ مانیں گے تو انتشار ہو جائے گا۔ میں ان کی بات کی نفی کرتے ہوئے کہاکہ میں  جب تک اپنی مخالفانہ رائے پر عمل نہیں  کروں گاتب تک تو فتنہ نہ ہوگا نا۔ مثال کے طور پر آپ نے جماعت کے ارکان کی معیت میں یہ طے کیا کہ عورت انتخاب میں حصہ نہیں لے گی یا لے گی ,مگر میری رائے اس کے خلاف ہے ,جب میں اسے ایک اجتہادی مسئلہ سمجھوں گاتو عملی اعتبار سے اس کی موافقت کرونگا لیکن جب مجھ سے پوچھا جائے گا تو میں اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرونگا۔میں سمجھتا ہوں کہ رائے پر پابندی دور حاضر کی تنظیموں کی سب سے بڑی آفت ہے لگتا ہے کہ مغرب کی سب سے بری تحریک اشتراکیت سے ہماری تنظیموں نے یہ چیز سیکھی ہے۔ اشتراکیوں کا طریقہ کار یہ ہے کہ تحریک کے کچھ ارکان ایک فیصلہ صادر کرتے ہیں اور اسے تنظیم کا مشترکہ موقف قرار دے دیا جاتا ہے جو بھی اس کی مخالفت کرتا ہے وہ پوری اشتراکی تنظیم کا مخالف قرار دیا جاتا ہے ,یعنی جو شخص کسی ایک اصول سے اختلاف رکھتا ہو اسے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ پوری تنظیم کا مخالف اور منحرف ہے۔

نظرات في منهج العمل الاسلامی نامی مقالہ جس کا میں نے پہلے تذکرہ کیا ہے یہ اصل میں ایک لیکچر تھا بعد میں اسے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا تھا۔ جب میں اس سے فارغ ہوا تو اگلے دن ایک طالب علم میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا تعلق دوسری تنظیم سے ہے مگر جن چیزوں کا آپ نے تذکرہ کیا ہے وہ ساری ان تمام تنظیموں میں موجود ہیں۔اسکی یہ بات میرے لیے پریشان کن تھی۔ اس لیے ہمیں آج بھی تنظیمی فکر کی اصلاح کرنی چاہیے ,مثلا قیادت کا انتخاب ,اس کی ذمہ داریاں ,صلاحیت کا معیار ,تنظیم میں پابندی اور آزادی کے معیارات۔

کتب

مجلۃ العصر :اب ہم کتابوں کی طرف واپس آتے ہیں ,شیخ محترم آپ کی مطالعے کی متوسط مقدار کیا ہے؟

شیخ جعفر :پہلے تو یہ عرض کردوں کہ میں مطالعے میں خاصا سست رو واقع ہوا ہوں ,مجھے یاد ہے جب میں برطانیہ میں تھا تو میں نے ایک ورکشاپ میں شرکت کی تھی جو مطالعہ کی رفتار زیادہ کرنے پر منعقد کی گئی تھی ,مجھے اس سے شعوری طور پر فائدہ تو ہوا تھا مگر میرا شمار اب بھی سست رو قاریوں میں ہوتا ہوں ۔  ایک بات ذکر کردوں کہ ایک دن  ٹیچر نے کہا کہ تیز پڑھنے کے علاوہ بھی دوسری مفید صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ پھر اس ٹیچر نے دوسری صلاحیتوں کے بارے میں پوچھا تو میں نے سب سے زیادہ  اس نکتہ کے حق میں بولا۔تو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا کہ تم سست رفتار ہو اس لیے تم نے دیگر  فوائد کوترقی دے ڈالی ہے,میرا گمان ہے کہ سرعت قراءت کاتعلق سرعت کلام کے ساتھ ہے اور میں ان دونوں میں سست ہوں۔ جن لیکچرز میں ,میں حاضر تھا ان سے میں نے بہت استفادہ کیا میرے ٹیچر نے مجھے یہ باور کرا دیا تھا کہ یہ شعور کی سست رفتاری کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ آنکھوں کی سست رفتاری کی وجہ سے ہوتا ہے ,اگر ایک شخص بچپن سے سست رفتاری کے ساتھ پڑھتا رہاہے تو اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اپنی رفتار زیادہ کر لے اور ایک جملے کی جگہ پوری ایک سطر پڑھ لے۔ باوجود اس کے کہ میں سست رفتار ہو ں مگر پھر بھی بہت زیادہ پڑ ھ لیتا ہوں۔ شیخ ابن باز ؒ سے جو چیز میں نے اس حوالے سے سیکھی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کا حافظہ قوی تھا مگر آپ جس سطرکا سماع فرماتے تھے اس کے فہم پر توجہ مرکوز کرتے تھے ,اور بعض کتابوں کو خصوصی اہتمام سے سناکرتے تھے ,میں نے سنا ہے کہ آپ نے صحیح مسلم کا 60مرتبہ سماع فرمایا تھا ,اس لیے احادیث آپ کی زبان پر اس طرح روانی سے جاری ہوتی تھیں جیٍسے پانی بہتا ہے ,آپ نے البدایہ والنہایہ کا سات مرتبہ مطالعہ فرمایا تھا,آپ ہمیشہ حافظے سے گفتگو فرمایا کرتے تھے۔ آپ کا مشہور مقولہ تھا کہ علم مذاکرے کے بغیر ضایع ہو جاتا ہے۔ مگر میں ایک سے زیادہ بار تو شاذونادر ہی کسی کتاب کو پڑھ پایا ہوں اس کی بنیادی وجہ مطالعے کی سست رفتار ی ہے۔

البتہ میرے پڑھنے کامیدان خاصا وسیع ہے ,میں انگریزی ادب کی مختلف اصناف کو زیر مطالعہ رکھتا ہوں ,اس کے علاوہ فکر, فلسفہ اور سیاسیات کے موضوعات پر بھی پڑھتا ہوں ,میں سائنسی کتب بھی زیر مطالعہ رکھتا ہوں خصوصا جو مہذب عوام کی خاطر لکھی جارہی ہوں ,میں نے ایسی کتابوں سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔ ان کے بارے میں اپنی کتاب جو وجود خالق پر لکھی گئی ہے اس میں ان  کتب کے متعلق میں نے گفتگو کی ہے۔ حتى کہ بعض وہ کتب بھی جو کسی خاص  سائنسی موضوع پر لکھی گئی ہوں۔میں ان دنوں جینز کے موضوع پرمطالعہ کر رہا ہوں۔ اسی طرح فلکیات کے موضوعات پر مطالعہ کرنا بھی میراپسندیدہ مشغلہ ہے۔ اس موضوع پر میں نے ماہرین فلکیا ت کی کتب کا مطالعہ کیا ہے مجھے خصوصا وہ کتابیں زیادہ پسند ہیں جن میں سائنسی موضوعات فلسفیانہ جہت بھی رکھتے ہوں بگ بینگ تھیوری پر میں نے خاصا مطالعہ کیا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ اتنے اہم موضوع پر عربی زبان میں کتابوں کی کمی ہے۔ ڈارونزم کے بارے میں سب سے بہترین کتاب جومیں     دیکھیDarwin's Black Boxہے۔ یہ  ایک کیتھولک سائنسدان کی تصنیف ہے۔ میں نےاس کتاب سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ اوروہ کتابیں جو میں نے بار بار پڑھی ہیں ان میں سے ایک معالم فی الطریق  ہے سوڈان میں اس کتاب کو میں نے سب سے پہلے مشہور کروایا تھا ,پھر جب میں نے اس کتاب کے بعض سلبی اثرات دیکھے تو جامعہ مسجد میں اس پر لیکچر دیے جس میں نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد حاضر ہواکرتی تھی۔ جب میں کتاب کے بعض مقامات پر تنقید کرتا تھا کئی لوگ اس پر ناراض ہوجاتے تھے ,میں ان سٍے کہتا تھا کہ میں سید قطب کا احترام کرتا ہوں اور ان کی فضیلت کا معترف بھی ہوں مگر کتاب کی بعض چیزوں پر تنقید کرنے میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ اسی طرح میں نے اساسی نوعیت کی کتب کو کئی بار پڑھتا ہوں۔

مجلۃ العصر :کیا آپ ان کتابوں کے نام بعینہ ذکرکرنا پسند فرمائیں گے؟

شیخ جعفر :جیساکہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں مجھے وہ کتابیں پسند ہیں جو فکری موضوعات پر لکھی گئی ہوں ,اسلئے وہ کتابیں جو اعدادوشمار اور اسماء وغیرہ سے بھری ہوئی ہیں میرا میلان ان کی طرف نہیں ہوپاتا۔ اس لیے میں کئی بار اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ یہ اللہ کی خصوصی رحمت ہے کہ قرآن کریم ایسا نہیں ہے !!!

میرا حافظہ کمزور ہے مگر اللہ کا شکر ہے کہ دلائل اور براہین کو یاد رکھنا میرے لیے آسان ہے خواہ یہ دلائل  اسلامی ہوں یا غیر اسلامی۔ ایک کتاب جسے بہت کم لوگ پڑھتے ہیں میں نے اسے کئی بار پڑھا ہے وہ ہے امام ابن تیمیہ ؒ کی کتاب درء تعارض العقل والنقل ہے، اسکا ابتدائی حصہ کچھ دشوار ہے مگر باقی کی کتاب نسبتا آسان ہے۔اسی طرح منہاج السنہ ہے ,مگر میں نے ابن تیمیہ ؒ کی فقہی کتب کا بہت کم مطالعہ کیا ہے۔

دیارِ مغرب میں

مجلۃ العصر :آپ نے ہمیں سوڈان ,سعودیہ کے ایام کے بارے میں تو بتلایا مگر مغرب کے بارے میں آپ نے کچھ ارشاد نہیں فرمایا؟ کہ آپ نے یہاں قیام کے دوران کیا فائدہ اٹھایا؟

شیخ جعفر :میں مغرب 1962میں گیا تھا ,جب میں جامعہ خرطوم سے فارغ ہوا تو پی ایچ ڈی کے لیے یہاں آیا تھا۔مگر ہمارا رابطہ مغرب کے ساتھ وہاں جانے سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس کی ابتدا میٹرک سے ہوگئی تھی جہاں پڑھائی مکمل طور پر انگریزی زبان میں تھی۔ جامعہ خرطوم میں تو پہلے سال سے ہی اسی زبان میں تعلیم شروع ہو جاتی ہے۔ ہمیں اسی وقت سے فکر ِمغرب سے واسطہ پڑاتھا اورہم نے آخری دوسالوں میں معاشیات اور فلسفہ کےمیدانوں میں اس فکر کا مطالعہ کیا تھا اس ساری مغربی فکر نے ہماری فکری اپروچ پر بہت زیادہ اثر ڈالاہے اس کے اثرات ایجابی بھی ہیں اورسلبی بھی ہیں۔ میرے لیے ایک بات خاصی افسوسناک ہے کہ عالم عرب میں ان افکار اور مسائل پر جو کتابیں لکھی جارہی ہیں ان کے مقابلے میں مغرب کے اپنے مصنفین کی کتب زیادہ گہری ,عمیق اور محکم ہیں۔ جیسے کارل مارکس پر لکھی جانے والی کتب کو اگر مارکس پڑ ھ لے تو اسے ہنسی آجائے۔ مارکسزم پر زیادہ تنقید مغرب سے ہی کی گئی ہے۔ یہ بات میں نے شیخ ابن تیمیہ ؒ سے سیکھی ہے ,وہ فرماتے ہیں کہ اہل اہواء پر رد کرنے کے لیے انہیں کے کسی دوسرے فرقے سے استفادہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک دوسرے کی غلطیاں خود ہی سامنے لے آتے ہیں۔ لیکن میں ایک بات عرض کردوں کہ یہ کتب ,کاتب کے اپنے نقطہ نظر پر مبنی ہوتی ہیں ,ہر وہ عیب جو کو ئی سرمایہ دارانہ نظام کا حامی اشتراکیت سے بیان کرتا ہے لازمی نہیں وہ اسلامی نقطہ نظر سے بھی غلطی  ہی ہو۔اس کی مثال یہ ہے کہ مغربی مفکرین کہتے ہیں کہ ملکیت انسانی فطرت کا لازمی تقاضا ہے یعنی اگر آپ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں تو گویا آپ فطرت انسانی سے ہٹے ہوئے ہیں۔ یہ فکر اسلام سے کوئی نسبت نہیں رکھتی بلکہ اللہ تعالى فرماتے ہیں۔ ويل لكل همزه الذي جمع مالا وعدده يحسب ان ماله اخلده

البتہ بعض  اشتراکیوں کی طرف سے  سرمایہ داری پر سامنے آنے والے ردبہت حد تک درست ہوتے ہیں مثلا انتخاب میں شامل ہونے کا مسئلہ ہی لیجیے۔  سرمایہ دارانہ نظام کہتا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینا  صرف دولت مندوںکا حق ہے  یا وہ آدمی جس کی امیر طبقہ اعانت کرے کیونکہ غریب  طبقے اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔یہ جمہوری نقطہ نظر سے بہت بڑی خامی ہے۔ اگر لوگ مغرب کے تجربے کو اختیار کرنے پر آجائیں تواس سے عدل اور انصاف کا تقاضا کرنا ایک لازمی چیزہے اسی طرح ہم نے ان کی پبلک سائنس کی کتب سے بھی بہت فائدہ اٹھایا ہے ان کتب کا زیادہ اہتمام سوویت یونین کی طرف سے کیا جاتا تھا۔ سوویتی مصنفین بسااوقات ان مباحث کو اپنے فلسفے کے ساتھ خلط ملط کردیتے ہیں۔مغرب کے مفکرین نے بھی اس میدان میں لکھا ہے مگر وہ اس کی ٹکر کانہیں ہے۔

مجلۃ العصر:آپ نے اپنے قیام مغرب کے درمیان دعوتی اور خود شناسی کے اعتبار سے کیاسیکھا؟

شیخ جعفر :میں نے قیام مغرب کے دوران سب سے بڑافائدہ یہ حاصل کیا کہ مغرب کے بعض عیوب پرآگاہی صرف مشاہدے کے ساتھ ممکن ہے اور وہ مشاہدات مجھے مغرب جاکر ہوئے ہیں ان چیزوں کے متعلق آگہی کتب کے ذریعے سے ممکن نہیں ہے۔ جب آپ کتب میں خبریں اور تجزیے پڑھتے ہیں تو ایک اور نتیجے تک پہنچتے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک چیز جس کو میں اہل سوڈان پر واضح کرنا چاہوں گاوہ ہے جمہوریت۔ جمہوریت کی متعلق لوگ بہت اعلى توقعات رکھتے ہیں گویا کہ جمہوریت اور انتخابات ان کی تمام مشکلات کو حل کر دیں گے۔اس لیے میں یہ عرض کروں گاجمہوریت جن معاشروں میں رائج ہے وہ اس پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں اور وہ کتب جن میں جمہوریت پر تنقید کی گئی ہے ان میں سب سے گہری ,عمدہ اور وسیع تنقیدیں خود اہل مغرب سے ملتی ہیں۔ مغرب کے ایک صحافی غالبا ًلیبمان ہیں جن کا مشہور جملہ ہے کہ جمہوریت انسان کے حکومت تک پہنچنے کے ضوابط تو رکھتی ہے مگر حکمرانی کے اصول نہیں رکھتی۔ یہ کسی بھی نظام کے لیے بہت بڑا عیب ہے۔ میں نے اپنے بعض دوستوں سے کہاہے کہ ہم اہل السنۃ اس کے برعکس ہیں جمہوریت میں حکومت تک پہنچنے کے اصولوں کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور بعد کے معاملات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی جبکہ اہل السنۃ کے ہاں حکومت تک پہنچنے کے قواعد تو اتنے زیادہ محکم نہیں ہیں (ان میں وسعت کا پہلو زیادہ ہے )البتہ حکمرانی کے اصول انتہائی باریک بینی سے متعین اور مقرر ہیں,ان کے نزدیک غالب قوت کا حامل  طبقہ یا فرد حکومت کا حق رکھتا ہے البتہ اسے کتاب وسنت کا نفاذ کرنا ہوگا۔سورجنسٹین ایک روسی مصنف ہیں یہ یورپ اور امریکا میں آیا اور اس نے سرمایہ دارانہ نظام  پر تنقید لکھی ہےاسی ضمن میں یہ کہتا ہے کہ جمہوریت اس وقت ایک مفید نظام ہو سکتا ہے جب یہ دین کے ساتھ شامل ہوکر  لاگو کیا جائے,جمہوریت آپ کو آزادی اظہار اور آزادی دین تودے دیتی ہے اوردونوں کو ملا کر ایک درست منہج تشکیل دیتی ہے مگر جب دین کو چھوڑ دیا گیا تو یہ صرف آزادی شر ٹھہری۔ اسی طرح واشنگٹن پوسٹ نے ایک کتاب کے بارے میں لکھا ہے جس کے  مصنف نے اشتراکیوں کے  قدیم اصولوں کی روشنی میں کچھ نئے دلائل پر اس اسلوب کے ساتھ بحث کی ہے کہ   جمہوریت میں سرمایہ چند افراد کے  ہاتھوں میں مرتکز ہوجاتا ہے اس کی مثال بل گیٹس ہیں وہ امریکہ کی کل عوام کے چالیس فیصد جتنا سرمائے کے مالک ہیں۔ جدید معاشروں میں اس طرح کے سیاسی اور اقتصادی نقائص کے پائے جانے پر ہم نے ان میں رہ کر ہی مشاہدات کیے ہیں۔ اس کے ساتھ میں یہاں کی اخلاقی اعتبار سے پائی جانے والی پیچیدگی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کا یہ معاشرے سامنا کررہے ہیں جو کہ ایک خوفناک صورتحال ہے۔منشیات کا اسکولز اور یونیورسٹیز میں کثرت سے استعمال ہونا اور جنسی اباحیت اس معاشرے کی بڑی اخلاقی کمزوریاں ہیں۔لگتا یہی ہے کہ سوائے چند سنجیدہ دانشوروں کے ان معاشروں کے اکثر افراد کو ان معاملات کا کوئی شعور نہیں ہے۔

اس  قیام کے دوران میں نے جو ایک اور اہم فائدہ اٹھا یا وہ ہے جدید مباحث  کا مطالعہ کیا ہے جوکہ محققانہ اور موضوعاتی اسلوب میں حقائق پر مبنی ہیں۔  ان مقالات میں یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ ان نتائج سے بالکل اتفاق نہ کریں جو محقق نے خود اخذ کیے ہوں ,خود میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسے ہوتا ہے کہ میں مصنف کی بنسبت  بالکل الگ نتائج اخذ کرتا ہوں کیونکہ میں ان تجربات اور مشاہدات کو ان اصولوں پر پرکھتا ہوں جو میری فکر کا لازمہ ہیں۔ برسبیل مثال میں ان دنوں مغرب میں عورتوں کے حقوق کی علمبردار  عورت کی ایک کتاب پڑھ رہاہوں,وہ اپنی اس کتاب کے ایک باب میں لکھتی ہے کہ ہماری عورت کی مردسے برابری کا یہ مقصد نہیں کہ عورت مرد بن جائےبلکہ ہم یہ مشن رکھتے ہیں کہ عورت اپنی انوثت ہی کی بنیادپر محترم اورمعزز ہو جائے۔ کیونکہ اس وقت معاشروں میں عورتوں کا بنیادی کام یہ  آن ٹھہرا ہے کہ عورت یا تو مرد جیسی  ہوجائے یا پھر مرد  کے لیے سامان راحت بن کر رہ جائے ۔ پھر اس نے یہ تفصیلات ذکر کی ہیں کہ عورت اپنے ظاہری جسم کے نظارے کو پر لطف بنانے پر کس قدر مال خرچ کر دیتی ہے۔ یہاں میں یہ عرض کروں گا کہ اگر پردے میں ہو تو اس پنے بناؤ سنگھار پر اس قدر مال خرچ نہ کرنا پڑے۔ یہاں آن کر معلوم ہوتا ہے کہ حجاب میں کس قدر حکمتیں ہیں۔ ایک امریکی لڑکی نے اپنے استادسے کہا جوکہ مسلم تھے ,میں فیشن ڈیزائننگ میں کام کرتی ہوں یہاں پر  صرف وہ چیز میک اپ کرائی جاتی ہے جسے مرد پسند کرتے ہیں ,میں یہ سمجھتی ہوں کہ عورت کی سب سے بڑی آزادی حجاب میں مضمر ہے۔ ایک باحجاب عورت مردوں کی پراپرٹی بننے سے محفوظ رہتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم مغرب کو ایک تجربے کے طور پر لیں اور اللہ نے ہمیں اس کا موقع فراہم کردیا ہے ,کہ ہم اس بات کا مشاہدہ کرلیں کہ جب معاشرے اللہ کے احکامات سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان پر کیا بیتتی ہے۔ اس لیے جب آپ تحقیقات اور اعداد وشمار کو دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے اورممکن ہے کہ مغربی معاشرے کے اندر رہتے ہوئے آپ ان چیزوں کو ٹھیک طرح سے محسوس نہ کر پائے ہوں۔ اس کی مثال کتاب انتہائے تاریخ ہے جس میں مصنف نے مغربی معاشرے میں اخلاق اور اقدار میں پائے جانے والے فساد کے وہ اعداد وشمار ذکر کیے ہیں کہ کہ جنہیں پڑھتے ہی انسان پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے۔

سوڈان کے احوال :

مجلۃ العصر :اب ہم آپ کی سوڈان واپسی سے متعلق بات چیت کریں گے۔ اب آپ واپسی کے بعد سوڈان میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟

شیخ جعفر :جی بالکل ! اب میں یہیں رہائش پذیر ہوں اور جامعہ کے احوال  پر نظر رکھے ہوئے ہوں اور کانفرنسز میں شریک رہتا ہوں۔ مجھے اللہ تعالى نے اپنے فضل سے جو حکمت اور تجربہ دیا ہے میں چاہتا ہوں کہ اسے منتقل کردوں ,اب تو میں حکومت سے بھی باقاعدہ رابطے میں ہوں ,مگر میں عہدے قبول نہیں کرتا صرف  نصیحت کا فریضہ سرانجام دینے کے لیے چلا جاتا ہوں۔ اسی طرح میں مختلف جرائد میں بھی لکھنا چاہتا ہوں اورکسی ایک رسالے کو خصوصی طورپر منتخب کرنا بھی میرے خیال سے ضروری ہوگا۔اسی طرح میری خواہش ہے کہ مساجد میں دروس دوں اور اسلامی تنظیموں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کروں۔ اس وقت بھی میرے ان سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور میں انہیں جاری رکھنے کا شدید خواہش مند ہوں۔اللہ تعالى نے ہمیں تجربات کو دوسروں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے تاکہ وہ ان سے استفادہ کر سکیں۔

مجلۃ العصر :آپ اس نظام حکومت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ اسے قائم ہوئے 11سال ہوچکے ہیں؟

شیخ جعفر :نظام حکومت پر سب سے پہلے تو خود حکمران ہی تنقید کر رہے ہیں۔ خود عمر البشیرنے کہا ہے کہ ہم لوگوں کے مسائل حل نہیں کرسکے اوراپنی حکومتی مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ اگر چہ مجھے ان کی اس بات پر تعجب ہوتا ہے کیونکہ اختلافات کی ابتدا ۱۹۹۲ میں ہو گئی تھی جب حسن ترابی پس منظر میں چلے گئےاور اب مقصد یہی ہے کہ حالات کو بہتری کی طرف لے جایا جائے۔

مجلۃ العصر :آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ان اختلافات کو مٹادینا چاہیے یا پھر اصلاح کا اندرونی عمل ممکن ہے، اگر یہ سوڈان کے اہم مسئلوں میں شمار ہوسکتا ہو؟

شیخ جعفر :نہیں !ایسی بات بالکل نہیں۔ یہاں ایک دوست ہیں جو اختلافی امور نمٹانے والی کسی کمیٹی کی سربراہ ہیں ,میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کیوں ہر اختلاف کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہر اختلاف کو مٹایا نہیں جاتا بلکہ بعض اختلافات مفید بھی ہوتے ہیں۔ اخبارات نے میرا یہ جملہ چھاپ بھی ڈالا تھا۔ اس لیے میں یہ عرض کروں گا کہ میری تو یہ پوزیشن نہیں کہ میں ان کے مابین اصلاح کروا سکوں کیوں کہ میرے تو اپنے ترابی سے اختلافات ہیں۔ میرا تو ذہن یہ کہتا ہے کہ ترابی کا قصہ ختم ہو چکا ہے ,اب تو جو لوگ اس سے وابستہ ہیں وہ صر ف اس سے شخصی طورپر منسلک ہیں ,اور یہ بات زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہ سکتی۔ ان میں زیادہ اکثریت جامعات کے طلبہ کی ہے۔ میرا گمان بھی نہیں تھا کہ اس کی پاس اتنی بڑی تعداد جمع ہو جائیگی  میرے لیے یہ بات خاصی عجیب ہے۔ اس کے مخالفین بتلاتے ہیں کہ وہ خود اسے لوگوں میں کام کرنے کے لیے لاکھوں لوگ   فراہم کرتے رہے ہیں,چونکہ طلباء میں اور کوئی  کام کرنے والا نہ تھاتو  وہ اس کے متعصب حامی بن گئے۔ یہ سب کچھ آخری دس سالوں میں ہوا ہے۔ ایک بھائی نے مجھ سے کہا کہ اب یونیورسٹیوں میں لوگ یہ باتیں کرنے لگے ہیں کہ الحرکۃ الاسلامیہ کے نوجوان دین کے بارے میں تو کچھ جانتے نہیں البتہ صرف اپنی  قیادتوں کے حق میں بہت متعصب ہوتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ترابی بھی یہی چاہتا ہے۔ اس کے الفاظ میں  ترابی جہالت میں مجتہد ہے۔ اس جہالت کی علامت یہ ہے کہ اس کے کارکن اس کی اندھی اطاعت کے قائل ہیں۔

مجلۃ العصر:کیاآپ نے مشاہدہ نہیں فرمایا کہ اسلامی تحریکیں خواہ وہ سوڈان کی ہوں یا کسی اور اسلامی خطے کی انہیں یہ چیلنج درپیش ہے کہ ان کے پاس اسلامی نظام حکومت کے قیام کا کوئی واضح لائحہ عمل نہیں ہے۔ یہ اعتراض تمام اسلامی تحریکوں کے سامنے رکھا جارہا ہے۔

شیخ جعفر:یہ بات درست ہے اور میں نے سوڈان میں اپنے دوستوں سے کئی بار کہا ہے۔ یعنی اس وقت نظام حکومت کیا ہوگا جب ایک فوجی حاکم ہو,لازمی بات ہے کہ یہ فوج پر ہی منحصر ہے کہ وہ خود کیسی ہے۔  اس وقت سوڈان کا حاکم ایک دیندار آدمی ہے مگر کیا صرف اتنا ہی کافی ہے؟میں عمومی اعتبار سے حاکم میں عیوب کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا کیونکہ ادوار خلافت راشدہ کے علاوہ کوئی حاکم بھی مفکر نہیں تھااس کا مطلب ہے کہ اس وقت جو کمی پائی جارہی ہے وہ اسلامی تحریکوں کی ادبیات کے میدان سے متعلق ہے اوران میں اس قدر اہم موضوع پر کوئی اچھا مواد نہیں ملتا۔ یہ بات کتنی عجیب ہے کہ ہم حکومت کا مطالبہ تو کرتے ہیں مگر اس کے حوالے سے کسی بھی درست لائحہ عمل سے خالی ہیں۔

کسی بھی اسلامی تحریک نے اسلامی نظام حکومت کی تشکیل کےطریقہ کارکے حوالے سے کوئی بھی چیز تخلیق نہیں کی۔ اسی لیے سوڈان میں  اسلامی عمل کے حوالے سے جوکچھ  ہوا اس سے عام لوگوں کو بھی بہت زیادہ نقصان اٹھا نا پڑا۔ کیونکہ ان کا خیال تھا کہ پہلے کی نسبت بہتری آئیگی۔ مگر حکومت کے آخری ایام میں کچھ ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔ میرا خیال ہے کہ ترابی نے خود ایسا نہیں کیا ہوگا کیونکہ ترابی میں اتنی ہمت اور جرأت  نہ تھی۔  حالانکہ سمجھا یہ جا رہا تھا کہ حکومت میں شامل تمام افراد کی نسبت ترابی کا قد کاٹھ سب سے بڑا ہے اور یہ کہ ترابی پورے عالم اسلامی میں سب سے بڑھ کر متعصب اور قدامت پرست انسان ہے ,حقیقت یہ ہے کہ اس بندے میں ایک ذرے جتنی بھی یہ چیزیں نہیں ہیں ۔وہ تویہ تک کہا کرتے تھے کہ ہم حدود پر ایمان نہیں رکھتے اور میں جانتا ہوں کہ اس نے اس بات کا اعتراف بھی کر لیا تھا آپ اگر ملاحظہ فرمائیں تویہ باتیں سوڈان اوراس کے گردو نواح میں آپ کو واضح بیانات ,نغمات اوردوسرے ممکنہ ذرائع سے مل سکتی ہیں۔ اسی طرح اشتمالیوں کے ساتھ  شدت سے نپٹنا بھی اچھی بات نہ تھی ,ابتدائے انقلاب میں بہت بڑی تعداد کو سختی اورعذاب میں ڈالا گیا۔ میں ایک آدمی کو جانتا ہوں پہلے وہ کمیونسٹ تھا اوربعد میں مسلمان ہوگیا اس نے حج بھی کیا ہے ہمارے ایک دوست نے اس کی پیٹھ پر سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو کوڑوں کے نشانات تھے حالانکہ اس کی عمر بھی بہت زیادہ ہے ,بعض لوگوں کو قتل کیا گیا حالانکہ ان کا جرم  اتنابڑا نہ تھا ,مثلا ایک آدمی اس وجہ سے قتل ہوا کہ اس کے پاس ڈالر تھے۔ انقلاب کے بعد ایک عرصے تک یہی ظلم چلتا رہا۔ ایک دوست جو کہ حکومت چھوڑ کر ناقدین میں آن شامل ہوئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ اگر کوئی اچھائی بعد میں ہوئی بھی ہے تو یہ ہماری محنتوں  کا ثمر نہ تھی بلکہ مغربی دباؤ کا نتیجہ تھا۔  لگتا ہے کہ اب ایسا  کرنا ممکن نہیں رہا ,مجھے اس کی کئی ایک وجوہات نظر آتی ہیں۔  لگتا ہے کہ انقلابیوں کو خود اس بات کا ادراک ہو گیا ہے اور حکومت میں بھی اتنا دم خم نہیں رہا اسی طرح اندرونی تنقید بھی اس میں موثر ثابت ہوئی ہے یہ تنقید خود تنظیم کے ارکان کی طرف سے بھی سامنے آئی ہے۔

سوڈان میں دو اور پریشانیاں بھی ہیں۔ پہلی تو یہ ہے کہ جنوبی سوڈان ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے اور مغر ب اس میں باغیوں کاساتھ دے رہا ہے ان کا سب سے بڑا سپورٹر امریکا ہے ۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ باغی مغربی ممالک کی امداد کے بغیر اتنے عرصے تک ٹھہر جائیں۔ یہ جنگ ایک انتہائی سنگین انسانی جرم ہے۔ خود مغربی ممالک کی رپورٹس کے مطابق اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے جاچکے ہیں۔ یہ جنگ سوڈانیوں کی ہے ہی نہیں۔ ایک سوڈانی یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ یہ جنگ کس کی ہے؟ اگر اس کے مقتولین امریکی ہوتے تو یہ کب کی ختم ہو چکی ہوتی۔ چونکہ  اس جنگ کے تمام مقتولین سوڈانی ہیں اسی لیے یہ تاحال جاری ہے۔

اسی طرح سوڈان کے بارے میں عجیب وغریب دعوے کیے جاتے ہیں مثلا غلامی والے فسانے ہی کو لے لیجیے۔  میں نے اپنے ملک میں غلامی کے بارے میں آج تک کچھ  نہیں سنا۔  یہ مغربی ذرائع ابلاغ کی پیش کردہ الف لیلوی داستا ن ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس  کے جھوٹ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جنوبی سوڈان کی آدھی سے زیادہ اکثریت شمالی علاقوں میں آن رہائش پذیر ہوئی  ہے ان لوگوں نے آخر یہ علاقے چھوڑ کر کسی اورطرف  ہجرت کیوں نہیں  کی بلکہ اپنے شمالی علاقہ جات کے بھائیوں کے ساتھ رہنے کو ہی ترجیح دی ہے۔  میرا خیال ہے یہ ہجرت مغرب کے کئی لوگوں کو اچھی طرح پریشان کر رہی ہے  کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ شمالی علاقوں میں جاکر یہ لوگ عربی سیکھ جائیں  گے اوراس کے بعد مسلمان ہوجانا لازمی نظر آتا ہے۔ اسی طرح کا ایک جھوٹ دہشت گردی اور حقوق کی پامالی کا بھی لگایا جاتا ہے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ اس وقت سوڈان میں ایک فوجی حکومت کے ہوتے ہوئے جس قدر آزادی ہے اس کا عالم عرب میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔  رسائل اورجرائد میں صدر مملکت پر کھلے عام تنقید کی جاتی ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہونی ضروری ہے کہ مغرب کے نزدیک انسانی حقوق کا تصور مختلف ہے ۔پوری دنیا میں ہنگامہ سا برپا ہو گیا تھا جب والیء خرطوم نے حکمنامہ جاری کیا کہ عورت فلنگ سٹیشن اور ہوٹل میں کام نہیں کرسکتی ,ہمارے دین کے لحاظ سے یہ ایک انقلابی قدم تھا مگر مغرب کے نزدیک یہ ایک انسانی جرم ٹھہرا ۔

سوڈان کا دوسرا مسئلہ حکومت مخالفین ہیں۔ اس میں پریشانی کا پہلو یہ ہے کہ مخالفین اسلام نہیں چاہتے  ان میں سے بعض نے یہ کہا  ہے کہ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ عمر  بشیر صدر  رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک مقرر  عرصے کے بعد انتخابات ہونے چاہییں لیکن اس کا امکا ن ہے کہ ان انتخابات میں اسلام پسند کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔ یوں جب کوئی پارلیمنٹ فیصلہ کرنے بیٹھے گا تو اس کے ممبران اسلام کے حق میں فیصلہ نہیں دیں گے۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ رسائل اور جرائد پر بھی جمہوریت پسند غالب ہیں  بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پریشانی تمام غریب ممالک میں مشترک ہے۔ اگر انتخابات ہوتے ہیں تو ان میں کئی اور جہات سے پیچیدگیا ں پیدا ہو جائیں گی اورذرائع ابلاغ بھی شامل ہو جائیں گے اور لبنان والا قصہ دہرا دیا جائے گا۔  ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی لوگوں کو شریعت کے نفاذ پر کسی ادنی جہت سے متفق کردے۔ عمر البشیر نے کئی بار صراحت کی ہے کہ وہ شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ بہر حال سوڈانی مسلمانوں کے عبور کرنے کے لیے یہ دو بڑی گھاٹیا  ں ہیں۔

 اقتصادی پریشانی کا تعلق ایک تو جنوب سوڈان سے ہے اور دوسرے نمبر پر سوڈان میں صنعتی ترقی کو بڑھانے سے ہے ۔  اس حکومت کایہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے معاشی میدان میں بہت ترقی کر لی ہے۔  لیکن لگتا ہے کہ جنوبی سوڈان کے ساتھ ہونے والی اس جنگ میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوجائیگا گوکہ پٹرول نے اس نقصان کو کچھ کم کر دیا ہے۔ جنوب کامسئلہ حل ہوتے ہی اور صنعتی ترقی میں اضافے کے ساتھ ہی اقتصادی پریشانی حل ہو جائے گی۔ لیکن اقتصادی مسئلے کے حل ہوتے ہی اس کے لیے ایک اور مسئلہ کھڑا ہوجائیگا ,وہ یہ کہ سوڈان باوجود اس حالت فقیری کے قرب وجوار کے ممالک کی نسبت بہتر ہے ,اس وقت بھی سوڈان کے آس پاس کے لوگ سوڈان منتقل ہو رہے ہیں اور اگر اس کی حالت سدھر جاتی ہے تو ان ممالک کے رہنے والے بہت بڑی تعداد میں یہاں ہجرت کرکے آئیں گے۔ جس سے اس کی حالت تبدیل ہو جائیگی ,اس میں عربیت کی بو باس کم ہوجائیگی اور دینداری کمزور ہوجائیگی۔ میرے نزدیک اس کا حل یہ ہے کہ مصر سے سوڈان آنے جانے  والوں کار استہ کھول دیا جائے جس  سےاعتدال پیدا ہو جائیگا۔

مجلۃ العصر : بات سے بات نکلتی ہے ,ایک آدمی جس کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں ,اس کے عیوب کو سب سے پہلے آپ نےآشکارا کیا اور اس پر کھل کر تنقید کی۔ میر ی مراد ڈاکٹر حسن الترابی ہیں۔  آپ ان کے بارے میں کیا کہیں گے؟

شیخ جعفر :میں اور ڈاکٹر ترابی ایک ہی اسکول میں پڑھتے رہے ہیں اور ایک ہی ہاسٹل میں رہے ہیں۔ یہ تعلیم  میں مجھ سے دو سال آگے تھے یہ میرے ساتھ ایک ہی کلاس میں نہیں پڑھے جامعہ میں سال اول میں جب ہم نے سنا کہ وہ جماعت میں شامل ہو گئے ہیں ہم سب کو اس بات کی خوشی ہوئی۔ پھر جب ہم دوسری مرتبہ یونیورسٹی میں اکٹھے ہوئے اور مجھے اس کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملاتو مجھے اس میں فکری اورعملی طور پر عیوب نظر آئے۔ بعض لوگ یہ سمجھے کہ میری اس پر تنقید حسد کی بنیاد پر ہے۔ میں نے اس کے اندر ان تمام باتوں کا مشاہدہ کر لیاتھا جبکہ میں اس وقت تنظیم کا ذمہ دار تھا اورجب یہ شخص تو کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا تب بھی میں نے اس پر تنقید کی تھی حالانکہ اس وقت کسی مقابلہ بازی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مگر تنقید کے باوجود میں اس سے تعاون کرتا رہا حتى کہ یہ تنظیم میں ذمہ دار بن گیا۔ ابتدا میں مجھے جو چیزیں اس سے سننے کو ملیں وہ یہ کہ ترابی اہل السنہ کو ناپسند کرتا تھا،  امام بخاری ؒاور ابن کثیرؒ کے ذکر سے اس کا دل تنگ ہوجاتا تھا ,اور یہ صحابہ کا احترام نہیں کرتا تھا ,میرے دوست جب بھی اس پر تنقید کرتے تھے اس  کو معتزلی قراردیتے تھے ,میں انہیں کہتا تھا کہ معتزلہ پر ظلم نہ کرو وہ تو عبادت گزار اور صالح لوگ تھے وہ جس فکر کی دعوت دے رہے تھے اس کی طر ف مائل ہونے کا سبب تو اچھا تھا،  وہ یہ تھا کہ وہ اللہ تعالى سے عیوب کی نفی کرنا چاہتے تھے ,ہمارے اِس دور میں جو لوگ معتزلہ بنے پھرتے ہیں اگر انہیں معتزلہ دیکھ لیں تو ان سے اظہار برا ت کر لیں۔ (شیخ محتر م کی یہ بات پوری طرح سے ہمارے معاشرے کے معتزلہ پر بھی صادق آتی ہے )۔ بعض دوست اسے اشعری کہتے تھے حالانکہ اشاعرہ بھی اس طرح نہ تھے۔ میر ا خیال ہے کہ ان کی قریب ترین تعریف زنادقہ بنتی ہے یا پھر یہ فلاسفہ قرار پائیں گے جو اہل مذہب نہ تھے میں ان  کو معقولین نہیں شمار کروں گا کیو ں کہ آیات میں تعقل کا حکم دیا گیا ہے۔ میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالى نے عقل کی مذمت کی ہو۔ بلکہ اللہ تعالى نے عقل کا تعلق ایمان سے جوڑا ہے اور عدم عقل کی نسبت کفر کی طرف کی ہے۔ البتہ اہل اھوا کے مختلف طبقات ہیں بعض عقائد کے ابواب میں ہوائے نفس کے پیرو ہوتے ہیں اور کچھ سلوک وعمل  میں جبکہ کچھ ان دونوں گمراہیوں کو جمع کر لیتے ہیں۔

مجلۃ العصر :کیا اس تنقید نے جماعت میں کوئی اثرات بھی پیدا کیے میری مراد ہے کہ آپ کی یہ تنقید بیداری اور ادراک کا سبب بنی ہو۔ یا پھر اس کی حیثیت ترابی کے ساتھ ایک اختلافی مباحثہ بن کر رہ گئی؟

شیخ جعفر :میرا خیال ہے کہ اس کی حیثیت ترابی کے ساتھ ایک مباحثے کی سی بنی رہی اور کوئی باقاعدہ وسیع رجحان نہ بن سکی البتہ ہم نے کچھ طلباء کو قائل کر لیا تھا۔ چونکہ یہ بات یہ بات ہمارے معاشرے میں ایک مسلمے کی حیثیت رکھتی تھی کہ یہ مسائل ذاتی ہیں اور اس طرح کے مجادلے معاصرین کی باہمی  چپقلش ہوتے ہیں۔ لوگ اسی طرح کی سادہ باتوں پر راضی ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے لیے اس بات کو قبول کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے جسے وہ آسانی سے سمجھ سکیں۔ مشکل یہ تھی کہ یہ شخص فورا مکر جاتا تھا۔ اس لیے میں لوگوں کو قصوروار نہیں ٹھہراتاکیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ جس آدمی پر بھی الزام لگے لوگ اسے قبول کر لیں اور خاص طورپر اگر وہ آدمی اس کا انکاربھی کر رہا ہوں۔ حسن ترابی ایک منافق آدمی تھا صرف خاص مجالس میں اس طرح کی باتیں کرتا تھا اور اعلانیہ مجالس میں مکر جاتا تھا ,آج بھی و ہ ایسے ہی کرتا ہے بلکہ جو باتیں وہ اس وقت کرتا تھا اب اس سے بڑھ کر کرتا ہے۔ ویسے وہ ایک مسکین آدمی ہے اس کی عقل ہر شبہ کو  قبول کر لیتی ہے بقول ابن قیم ؒ کے جس چیز سے بھی اسے واسطہ پڑتا ہے ,وہ اس پر اثر انداز ہوجاتی ہے۔

مجلۃ العصر:خاص طور پر اگر جماعت کے اندر کوئی رکاوٹ نہ ہوتو اس طرح کے لوگوں کو ترویج مل جاتی ہے؟

شیخ جعفر :جی بالکل !صرف یہی نہیں بلکہ وہ بعض کے ہاں محبوب اور مرغوب بھی ہو گیا تھا۔ اس لیے اس میں وہ رویے پیدا ہو گئے جو پہلے ہم نے نہ دیکھے تھے جبکہ ہم اس کے قریبی ساتھی رہ چکے تھے۔ وہ زبردستی اور جبر کو پسند کرتا تھا۔ اس لیے بہت سارے لوگ جن پر اس کا انحراف واضح ہو گیا تھا انھوں نے بھی کھل کرتنقید نہیں کی تھی کیونکہ ان کی اکثریت یہ چاہتی تھی کہ کلاس کا ماحول ٹھیک رہے اور اختلاف نہ پیدا ہو جائے۔

مجلۃ العصر:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بہتر یہ تھا کہ ان شبہات پر پہلے لکھ کر ان کا سدباب کر لیا جاتا۔ آپ کو افسوس نہیں ہوتا کہ آپ نے ابتدا میں اس موضوع پر کچھ نہیں لکھا؟

شیخ جعفر :مجھے اس بات پر افسوس ہوتا ہے اورمیں اسے اپنی بہت بڑی غلطی سمجھتا ہوں۔  مجھے لوگوں پر اعتماد تھا اورتنظیم پر بھی بھروسا تھا ,اوریہ کہ ہم نے تنقید کردی ہے اوربیان بھی کردیا ہے۔ اور فرد واحد ایک حد سے زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکتالیکن میرا گمان غلط نکلا۔ میری غلطی صرف یہ نہیں کہ میں نے اس پر خود کچھ نہیں لکھا بلکہ میں نے دوسروں کو بھی اس پر لکھنے سے منع کردیا تھا۔ شیخ سفر الحوالی اس پر لکھنا چاہتے تھے اور اس کے لیے مواد بھی جمع کر لیاتھا۔  مگر اس وقت انتخابات ہو رہے تھے اورڈاکٹر ترابی اس وقت اسلام پسندوں کے لیڈر کے طور پر سامنے آئے تھے اور اس کے مخالفین اسلام پسند نہ تھے مجھے یہ خطرہ محسوس ہوا کہ اس کا انتخابات پر برا اثرپڑیگا۔ اس سوچ کا سبب میری تنظیمی فکر تھی کہ اس سے اختلاف کھڑا ہو جائے گا البتہ اب میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ  بیان حق زیا دہ ضروری تھا۔

تجربات کا نچوڑ:

مجلۃ العصر :اللہ تعالیٰ آپ کی عمر میں برکت فرما ئے۔ اس طویل دورانیے میں آپ کو جو تجربات ہوئے ان کی روشنی میں آپ نئی نسلوں کو کیا کہنا چاہیں گے؟

شیخ جعفر :سب سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ ہمیں تنظیمی فکر کو درست راہ پر لانا چاہیے۔  دوسری بات جو میں آپ سے عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ میرے نزدیک اسلامی تحریکوں کی سب سے بڑی پریشا نی یہ ہے کہ قیادت پر علماء نہیں ہیں۔ میں ایک بات اکثر کہتا ہوں اوربعض لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے مگر میں یہ بتلا دوں کہ یہ چیز میں نے شیخ ابن باز ؒ سے سیکھی ہے اور یہ اسلامی تحریکی مواد میں شاید بالکل ہی نہ ملے۔ میں نے شیخ ابن باز سے حکومتوں اور سیاسی جماعتوں سے تعلقات کے حوالے بہت ہی مفید طریقہ کا ر سیکھا ہے۔ یہ بات انہوں نے ایک حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے کہی تھی۔ حدیث تو امر بالمعروف او ر نہی عن المنکر کے موضوع پر تھی شیخ فرمانے لگے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے اہم ترین وسائل میں سے ہے کہ ہم حکومتوں سے رابطہ رکھیں اگر چہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں۔ لوگوں کو تعجب ہوا تو شیخ ؒ نے انہیں مثال دے کر سمجھا یا کہ جب میں یہ چاہوں گا کہ اسلامی تعلیمی مواد برطانیہ کے اسکولوں میں شامل کرواؤں تو یہ کیسے ممکن ہوگا؟ ظاہر ہے وہاں کی حکومت سے رابطے کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے۔ میں نے انہیں  سے استفادہ کیا کہ انسان ہر وقت مخالف نہیں رہتا بلکہ جو چیز اچھی ہو اسے اختیار کرلیتا ہے اس لیے گوکہ حکومت بری بھی ہو مگر رابطہ حکام کے دلوں کو نرم کر دیتا اور انسان ان کو باور کروا لیتا ہے کہ ہمیشہ  مخالفت ہی کرتے چلے جانا یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔

تیسر ی بات جو میں کہنا چاہتا ہوں یہ دل اور نفس کو حزن والم میں مبتلا کر دیتی ہے۔ میں نے اس دور کی  تمام اسلامی جماعتوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اخلاقی زوال کا شکار ہیں۔ حسن اخلاق تو ایسی چیز ہے جو ایک عامی مسلمان کا خاصہ ہونا چاہیے چہ جائے کہ ایسا شخص جو اسلام کی ترجمانی کا مدعی ہو اور حسن  اخلاق سے خالی ہو۔ سوء اخلاق ایک مرض ہے جو بدقسمتی سے عام ہو چکی ہے۔ اسلامی جماعتوں کے کارکنوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بہت ہی آسانی سے جھوٹ بول لیتے ہیں دھوکا دے لیتے ہیں۔ اکثر کے اندر تو انصاف کا مادہ ختم ہوگیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسلامی تحریکوں کو ان چیزوں پر خصوصی توجہ دینی  ہوگی۔ اور اس سبق کو تازہ کیا جائے کہ اسلامی انقلاب کی اساس حسن اخلاق ہے ,جس کا مقصد نفس اور معاشرے کو بچانا ہوتا ہے ,ناکہ صرف معاشرے کو بدلنے پر اصرار کرتے چلے جانا۔اشتراکیت کا محور اس بات پر ہوتا ہے کہ گروہ اشتراکیت کو آگے لانا ہی اصل مقصود ہوتا ہے اس میں اس بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی کہ یہ طریقہ بذات خود برا ہے اوراسلام اس کو رد کرتا ہے۔

چوتھی شے جوآپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ اطاعت اور تنقید  دونوں ضروری ہیں جماعتوں کے افراد اطاعت تو بہت کرتے ہیں مگر تنقید کا پہلو اختیار ہی کو ئی نہیں کرتا اطاعت کرنا امور شریعت کے مطابق ایک ضروری شے ہے مگر یہ بات پس منظر میں چلی جاتی ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے جب آپ کی اطاعت کی بیعت کی تو اس میں قول حق کی شرط لگائی تھی اور اس کو وہ بالکل قابل ملامت نہیں سمجھتے تھے۔

جب تنقید غائب ہو جائے تو ڈکٹیٹر شپ اور جبر وتسلط جنم لے لیتا ہے۔ اسلامی تحریکوں  کو نرمی کا منہج اختیار کرنا چاہیے ورنہ ان میں اور اشتمالیوں میں کیا فرق رہ جائے گا۔اشتراکیت مفکرین کے لیے تنگی پیدا کردیتی ہے کسی مغربی مفکر نے اشتراکیت اور کیتھولک فرقے کے درمیان تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اشتراکیت سے بھی مفکرین کی ایک بہت بڑی تعداد اس میں تنگ روی کی وجہ سے نکلی ہے۔ بعض اسلامی تحریکیں بھی اس حادثے کا شکار ہیں  جس طرح سوڈان میں ترابی کے دور میں ہوا کہ بہت سارے لوگ اس کی وجہ سے تنظیم کو خاموشی سے چھوڑ گئے ,البتہ میں نے اس مسئلے پر کھل کر اظہار کیا۔ میری خواہش یہ ہے کہ ہمیں مغربی تہذیب کا شعور بہت زیادہ ہونا چاہیے کیونکہ عالمی سیاست کا سب سے موثر کردار اس وقت کا مغرب ہے جبکہ مغرب کے سامنے ہماری تصویر بہت زیادہ بھیانک ہے۔ اس وقت دنیا ایک گاؤں بن گئی ہے  اس لیے ہمیں مغرب کا شعور زیادہ سے زیادہ ہوناچاہیے اور عالمی مسائل میں ایک موثر کردار ادا کرنا چاہیے یہاں تک کہ مسلمانوں کی شراکت باقاعدہ ایک واقعہ ہو۔ اس معاملے کا ایک حصہ مغرب کے مسلمان سنبھال سکتے ہیں۔ مغرب کی مختلف زبانوں میں لکھی جانے والی اسلامی کتب عموما مبتدیانہ قسم کی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کسی اسلامی مفکر کی سب سے اہم کتاب جوکہ ایک علمی معیار کی حامل ہے وہ زرابوزو کی اربعین نووی کی شرح ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ امریکی عوام جن مسائل کا سامنا کررہی ہے ہمیں ان میں شرکت کرنی چاہیے یہ بھی اسلامی دعوت کی ایک صورت ہے۔ منشیات ,اسقاط حمل ,گلوبلائزیشن اوراقتصادی مشکلات وغیر ہ جیسے مسائل پر سامنے آنا چاہیے تاکہ ہمارے اندر مغرب کے معاشرے کے مشہور مفکرین جنم لیں۔

مجلۃ العصر :اس میں کوئی شک نہیں کہ امت اس وقت تنظیموں اور جماعتوں کی بہ نسبت بڑے چیلنچز کا سامنا کر رہی ہے مگر امت کا ایک بہت بڑا طبقہ ان تنظیمات سے علیحدہ رہ رہا ہے۔ یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ ہم منشور امت کو ان جماعتوں کی سطح سے بلند کرکے تمام طبقات کی سطح تک لے آئیں؟

شیخ جعفر :اس کا جزوی علاج تو یہی ہے جو میں نے ابھی ذکر کیا ہے اوراس علاج کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ داعیوں کی  ایک تعداد ایسی ہو جو ان تنظیموں میں سے کسی کی طرف منسوب نہ ہوں  اور وہ معاشرے پر اثر انداز ہورہے ہوں میں نے ایک طالب علم عبدالحئی یوسف کو یہی نصیحت کی ہے۔ مثال کے طور پر ابن باز ؒ اور شیخ البانی ؒ کولے لیجیے ان کے اثرات ان تنظیموں سے بھی زیادہ ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ داعی کو حکومت کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی کی طرح نہیں ہونا چاہیے اورنہ ہی اس طرح کا حریف ہونا چاہیے جو مغرب میں اپنا ایک خاص سیاق رکھتا ہے داعی وہ  ہونا چاہیے جو ہروقت حق کو نشر کرنے کے لیے  کوشاں رہتا ہو اس پر عمل اوراقامت کی صدا بلند کرتا رہے۔ یہ بات انفرادی دعوت کا کام کرنے والوں کے حوالے سے ہونی چاہیے ,اور تنظیموں کو بھی آپس  میں مضبوط رابطہ رکھنا چاہیے ,سوڈان میں تو ایسا ہوناشروع ہو چکا ہے ,ہمارے ملک میں تنظیمیں ایک دوسرے کے وجود کی تکمیل کے منہج پر گامزن ہیں اور اپنے اپنے مخصوص دائروں میں محدود رہنے کی روش ترک کر چکی ہیں۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے باقاعدہ ادارے تشکیل دیے جارہے ہیں اور یہ ایک خوش آئند بات ہے ان میں مختلف مجلات کی قائم کردہ کمیٹیا ں اہم ہیں ,ہو سکتا ہے اللہ تعالی کسی تجربہ کار اور دیندار آدمی کو ایک ایسا ادارہ تشکیل دینے کی توفیق دے جو اسلامی شعور کو بلند کرنے کا ذریعہ بن جائے۔اسی طرح جامعات بھی خاصی موثر ہوتی ہیں۔  میرے خیال سے یہ ساری چیزیں مل کر اس پورے قضیے کا حل ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ معاشرے کے حقیقی مسائل کو  اسلامی دعوت کے موضوعات بنائیں۔  یہ بات تمام کارکنان دعوت پر آشکار ہونی چاہیے کہ یہ سارا دینی عمل سب سے پہلے درجے پر  اپنے آپ کو بچانے کے لیے کر رہے ہیں , اس ادائے واجب سے ان کو ذاتی فائدہ پہنچے گا۔اگر ہم یہ باور کروا لیں تو آگے بڑھنے کے لیے واجبات کی ذمہ داری لینے کا پہلا مرحلہ طے ہو جائیگا۔

مجلۃ العصر :آپ نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہوگا کہ انقلاب ایران کے بعد سے اسلام پسندوں کی  صفوں میں  حکومت ایران سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے ایک بھگدڑ سی مچی ہوئی ہے۔ آپ اس رجحان کے بارے میں کیا فرمائیں گے؟

شیخ جعفر :سب سے پہلے تو میں یہ واضح کر دوں کہ ایران میں  قدیم نظام کی شکست اور انقلاب کی کامیابی اصل میں مغربی فکر کی جیت ہے ,ہاں اس سب کچھ کے باووجود بھی اس کامیابی میں جزوی خوبیا ں موجود ہیں۔  اس انقلاب کے لیے جتنے دلائل فراہم کیے گئے وہ سارے جواز مغربی  فکر سے لیے گئے اس لیے مغرب کے حلقوں میں اس تحریک کی کامیابی پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مجھے تو یہ خوف ہونے لگا ہے کہ یہ اسلامی نظام کو چھوڑنے کے سلسلے  میں اٹھا یا جانے والا پہلا اہم ترین قدم نہ بن جائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی صورتیں مختلف ہیں یعنی ایک ہے بطور حکومت تعلقات استوار کرنا اورایک ہے بطور مذہب تعامل کرنا۔ ایران کے ساتھ تعلقات ملکی بنیادوں پر قائم کرنا غلط نہیں ہے آخر ہم کافر مملکتوں کے ساتھ بھی تو تعلقات استوار کرتے ہیں۔ البتہ بعض اسلام پسندوں کے ایران کے حوالے سے موقف کی بات رہی تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسا علماء کی کمی کی وجہ سے ہوسکتا ہے یا پھر ان کے ہاں ابھی عقیدے کے مسائل زیادہ معروف نہ ہو سکے ہوں گے حتى کہ بعض قائدین کی طرف سے ایسے بیانات بھی  سامنے آرہے ہیں کہ جو کسی عامی سے بھی مشکل سے صادر ہو تے ہیں۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ بطور ایک حکومت کے تعلقات قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں,اس میں اپنے سنی ہونے کی کسی حیثیت کو نظر انداز نہ ہونے دیا جائے اور عقیدے کو بھی واضح طور پر سامنے رکھا جائے ,اس میں عقیدے کےاصولوں پر کسی قسم کا لین دین قبول نہ کیا جائے۔ میری معلومات کے مطابق جوکہ میں نے ایران کے احوال جاننے والے احباب سے جمع کی ہیں ,اگر ایران میں ایک باشعور اسلامی تحریک کھڑی ہوجائے تو وہ  خود متاثر ہونے کی نسبت  ایرانی معاشرے پر اثر انداز زیادہ ہوگی۔ ایران کے مہذب طبقے میں سنت کے حوالے سے ایک وسعت پائی جاتی ہے۔ ایران میں ایک کتاب میلے کا انعقاد کیا گیا تو سب سے پہلے اس میں کتب سنت لائی گئیں  تھیں۔ یہ وسعت اورموجودہ حکومت کے خلاف پائے جانے والے نفرت انگیز جذبات ایر ان میں اثر انداز ہونے کے لیے مثبت پوئنٹ ہیں۔

البتہ تقارب ادیان کا فسانہ اپنی عمر پوری کر چکا ہے۔  اب تواسکے حق میں تقریریں کرنے والے  حضرات ایک دو مجلسیں لگاتے ہیں اور بس۔   کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان اختلافات کا سبب چند کھوکھلے قواعد نہیں ہیں بلکہ اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدے اورفکر کے تصورات اور اصول ہیں۔

مجلۃ العصر : شیخ محترم جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اثرانداز ہونے کے لیے کچھ شروط ہیں۔  اس وقت اکثر لوگ جو اس راستے پر چل نکلے ہیں وہ دین کے بنیادی اصولوں کا مضبوط فہم نہیں رکھتے  اورعلم شریعت کے اعتبار سے  زاد قلیل رکھتے ہیں۔اب وہ اثر انداز ہونے کی بجائے خودکھلواڑ بن کر رہ گئے ہیں۔

شیخ جعفر : ہاں یہ بات صحیح ہے۔

مجلۃ العصر : شیخ محترم منہج کی دو اہم سطحیں  ہوتی ہیں ایک تو پختہ اورقائم اصول اوردوسری سطح حرکی نوعیت رکھتی ہے۔ اکثر داعیوں کے نزدیک ثانی الذکر ہی اصل اوربنیادی اصول بن کر رہ گئی ہے۔ جس کی وجہ سےوہ داعی  اسلامی عمل میں بہت سارے انحرافات کا سبب بنے جارہے ہیں۔ منہج کی ان دونوں میں کیا فرق ہے اور اس مسئلے کا کیا حل ہے؟

شیخ جعفر : اس کا حل یہ ہے درست شرعی منہج کے حاملین کومیدان میں اترنے کے لیے  تحریک دلوائی جائے ,بہت سارے احباب تنہائی اور عزلتِ عملی کا شکار ہیں اور کوئی گہری اور موثر پوزیشن نہیں سنبھال رہے۔ بھائی عبداللہ ادریس کے بارے میں دوست بتلاتے ہیں کہ وہ سلفی بھائیوں کے پاس چلے جاتے تھے اور انھوں نے بہت ساروں کو میدان میں لاکھڑا کیا۔  اس لیے ضروری یہ ہے کہ لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیےخود  نکلا جائے اگر ہم لوگوں کے آنے کے انتظار میں رہے تو ہمارے موثر ہونے کا کیا معنی؟ لوگ مسلمان ہیں اس لیے ضروری ہے کہ انہیں حق بات سناتے وقت محبتیں بھی استوار کی جائیں۔  ہمارے اسلاف اہل السنۃ اس طرح نہیں تھے ابن تیمیہ ؒ نے اپنے دور کے کسی آدمی کو چھوڑ نہیں دیا بلکہ سب کے ساتھ مباحثے اور محنتیں کیں ۔ ہمارے بہت سارے سلفی علماء جذبات اورعلم کے حامل ہیں مگر و ہ جدید امور سے واقف نہیں ہیں گویا وہ زمانہ ماضی کی باقیات ہیں۔ ہاں البتہ اگر ان کے ساتھ اس دور  حاضر کے ماہرین کو استفادہ کروا کر میدان میں لایا جائے تو ایک موثر  قوت پیدا کی جاسکتی ہے۔

مجلۃ العصر: اسلامی صفوں میں کشادگی اور تعامل کے آداب کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟

شیخ جعفر :اس کے بارے میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔ پھر ایک اضافہ کیے دیتا ہوں کہ ہمارے ہاں کشادگی سے ایک خوف سا پایا جاتا ہے۔ اور عموما اس طرح کا خوف زیادہ تر جماعت کی طرف سے ہوتا ہے حتى کہ بسااوقات توکسی شخص کے ,کسی کانفرنس میں جانے یا مخصوص افراد کے ساتھ اختلاط سے بھی خطرہ محسوس کیا جارہا ہوتا ہے۔ یہ خوف جس کا منبع عموما جماعتیں ہوتی ہیں , یہ وسعت فکر  کے سامنے ایک بہت ہی بڑی رکاوٹ ہے۔  اس کے لیے بعض افراد کو جراءت کا مظاہرہ کرنا ہوگا اورایسا کرنا ضروری ہے۔ ہمارے بعض دوستوں  کو اس تنگ روی سے بہت زیادہ تکلیف بھی ہوئی ہے اور یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔ ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں ,میں ذاتی طورپر باوجود اس کے کہ مجھے تنقید کا نشانہ بھی بنا یا گیا ,مگر میں نے دوسروں کے لیے کشادہ روی کو اختیارکررکھا ہے۔

مجلۃ العصر : مسئلہ یہ ہے کہ آج کا شخص حق پر ہونے کے باوجود مصالحت کی راہ اختیار کرتے ہوئَے دوسروں کے اصولوں کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے ذاتی نظریات کو مدفون خاک کر دیتا ہے۔ اصل مشکل تو یہ ہے نا؟

شیخ جعفر :آپ کی بات درست ہے اگر اس کے اصولوں نے اسے روک رکھا ہوتا تو پھر اس کی شخصیت قوی شمار کی جاتی  یاپھر اس چیز کا خلاف شریعت ہونا رکنے کا سبب ہو ,مگر پیچیدگی یہ ہے کہ دوسروں کے خوف کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہوتی۔ شیخ ابن باز ؒ بہت وسیع مزاج کے حامل  انسان تھے ,مجھ سے بی بی سی والوں نے انٹرویو کی بات کی ,میں نے شیخ ؒ سے پوچھا ,حالانکہ میں نے ٹیلی ویژن کے بارے میں نہیں پوچھا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب بات عقیدے کے مسائل کی ہو تو ٹیلی ویژن اس کے مقابلے میں ایک چھوٹا سا مسئلہ ہے۔ میرے خیال سے شیخ اس مسئلے میں متردد تھے ,میں نے سوال پوچھا مگر درمیان میں اینکر بول پڑا ,یہ بات تو مسلمانوں کی اکثریت نہیں مانے گی۔ شیخ ؒ فرمانے لگے آپ حق بیان کرتے رہیے بھلے وہ اکثریت کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے ان پر لازم ہے کہ وہ اسے بیان کریں اور ان دائروں سے نکل آئیں جس میں انہوں نے اپنے آپ کو محبوس کر رکھا ہے۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
پطرس کے "کتے" کے بعد!
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
السلام علیکم اپریل 2014
متفرق-
عائشہ جاوید
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ قارئین کرام !مسلم دنیا اس وقت مصائب وآلام کی جن تند و تیز لہروں۔۔۔
’جدید بیانیہ‘ کے رد پر ایقاظ کا خصوصی شمارہ
متفرق-
ادارہ
السلام علیکم قارئین کرام! مارچ+اپریل 2015 کا ایقاظ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اِس خصوصی اشاعت میں دو شمارے یکجا ۔۔۔
ناموس رسالت اور ہمارے دیسی لبرلز دانشورانہ منافقت یا منافقانہ دانشوری؟
متفرق-
ابو زید
ناموس رسالت اور ہمارے دیسی لبرلز دانشورانہ منافقت یا منافقانہ دانشوری؟   ابوزید abuz۔۔۔
جہاد کا قائم مقام.. پاکستان بھارت کا میچ!
متفرق-
ادارہ
جہاد کا قائم مقام.. پاکستان بھارت کا میچ! عامرہ احسان کرکٹ کا میدان..... پاکستان بھارت کا میچ..... فضا نعرہ۔۔۔
السلام عليكم شمارہ 1999
متفرق-
ادارہ
دعا ہے آپ ايمان اور صحت كى بہترين حالت ميں زندگى بسر كررہے ہوں ! قارئين كرام! ہر وہ چيز جو چھپ كر لوگوں۔۔۔
ویلنٹائن پر ایک انگریزی جریدے کا ’پول‘
متفرق-
حامد كمال الدين
’ویلنٹائن‘ وغیرہ اشیاء چند عشرے پیشتر یہاں کسی نگاہِ غلط انداز کے قابل بھی شاید نہیں تھیں۔ ان کا خالی ذکر ہو۔۔۔
قدروں کا نوحہ
ثقافت- معاشرہ
متفرق-
محمد قطب
محمد قطبؒ اخلاق باختگی کا ایک طوفان کچھ زخموں کو ہرا کر جاتا ہے، گو یہ سال بھر مندمل نہیں ہوتے۔ ۔۔۔
ایک کروڑ افریقیوں کو مار آؤ، کوئی تمہیں ہٹلر نہیں کہے گا!
متفرق-
متفرق-
ادارہ
عالمی میڈیا سے استفادہ: سارہ اقبال اس تصویر کو اچھی طرح دیکھیے۔ کیا آپ اسے پہچان پائے؟ لوگوں کی ا۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز