عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
فرانسیسی قصاب... مالی کے بعد وسطی افریقہ؟
:عنوان

ایسی "دہشت گردی"دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوتے ہی مغربی افواج "شہریوں کی حفاظت" اور "قیام امن" کے نام پر فورا حرکت میں آ جاتی ہیں۔

. احوال :کیٹیگری
عبد اللہ آدم :مصنف

Text Box: 180فرانسیسی قصاب... مالی کے بعد وسطی افریقہ؟

عبداللہ آدم

اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے  کہ  وسطی افریقہ میں فرانس کی فوجی مداخلت محض قیام امن کےلیے ہے، جیساکہ فرانسیسی وزیردفاع  جان ایف لوڈریان نے بیان جاری کیا ہے، تو یہ محض خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرانس اور دوسری استعماری طاقتیں  ایک عرصہ دراز سے افریقہ کے خطوں میں  صرف قبضہ کرنےاور نسل پرستی کو مختلف طریقے سے ہوا دینےپر ہی اکتفا نہیں کرتی ہیں ۔ یہ طاقتیں مقامی لوگوں میں باہمی جنگ و جدل کو بھی ابھارتی ہیں تاکہ آئندہ ان علاقوں میں کسی بھی وقت دوبارہ داخلےکا دروازہ کھلا رہے۔اس طرح یہ ممالک آج کے استعمار زدہ علاقوں میں اپنے مفادات کاتحفظ کرتے ہیں ۔ ماضی کا بظاہر امن و استحکام کسی بھی دیکھنے والے کو دھوکے میں مبتلا نہ کرے دے ، یہ محض نظر کا دھوکہ ہی ہے  اور اس بے بس خطے میں فرانس ، برطانیہ اور دیگر استعماری طاقتوں کے اڈے آج بھی  ایک مختلف رنگ میں استعمار اور قابضین کی موجودگی کی سند ہیں۔

 اقتصادی محرکات( مثلا تیل اور سونے اور ہیرے نکالنے کی مغربی کمپنیاں) اور بے اندازہ دولت ہی کو فرانس اور دیگر قابضین کے افریقہ میں داخلے کا  اولین سبب مان لیا جائے پھر بھی اس قسم کے حملوں میں  ان کی اسلام دشمنی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ فرانس کا مالی اور وسطی افریقہ میں فوج کشی عین اسی اسلام دشمن پالیسی کے تحت نظر آتی ہے ،جیسا کہ فرانسیسی وزیر خارجہ نے 14 نومبر 2013ء کو مالی پر حملے کی  وضاحت ان الفاظ میں دی کہ : " اس حوالے  سے ہمارے، یورپ اور افریقہ کے مفادات ایک ہی ہیں، اس لیے ہمیں جلداز جلد حرکت میں آنا ہوگا"

جس طرح مالی میں فرانسیسی مداخلت یورپی اور امریکی چھتری تلے وقوع پذیر ہوئی، بالکل اسی طرح وسطی افریقہ میں بھی ہوا ۔ جی فائیو کی متفقہ قراردادمیں شہریوں کی حفاظت اور مسلح تنظیموں  کو بنیاد بنا کر  افریقی اور فرانسیسی افواج کو خصوصی طور پر وسطی افریقہ میں مداخلت کی منظوری دی گئی۔ ہالینڈ نے واضح الفاظ مین بیان جاری کیا: " قرار داد میں طے ہوا کہ شہریوں کی حفاظت اور قیام امن  کو یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے  فوری طور پر فرانسیسی فوج کو ملک (وسطی افریقہ) کے طول و عرض اور خاص طور پر دارالحکومت"بانگی"  میں تعینات کیا جا رہا ہے۔بعد میں فوج کی کل تعداد 1600 تک پہنچ جائے گی۔"

افریقہ میں فرانس کے جو اقتصادی مفادات اس مداخلت کی وجہ بنے ہیں ان پر نظر دوڑائیں تو کچھ ایسی صورتحال سامنے آتی ہے:

علاقے میں فرانسیسی کمپنیوں کے مفادات کی حفاظت کرنا۔ ان کمپنیوں میں ایٹمی توانائی کے میدان میں مصروف کار "اریفا " قابل ذکر ہے جو باکوما میں یورینیم  نکالنے میں مصروف ہے۔ اس کی اہمیت مزید سامنے آتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فرانس اپنی بجلی کی ضروریات کا قریبا  75 فیصد اسی ایٹمی توانائی سے پورا کرتا ہے۔    

چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اثر ونفوذ کا مقابلہ کرنا، جیسا کہ بعض رپورٹیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پچھلی چار دہائیوں سے نائیجر میں یورینیم کی کان کنی پر "اریفا" کی اجارہ داری تھی اور حال ہی میں معزول کردہ صدر کی حکومت نے ہندوستانی، چینی، امریکی اور آسٹریلیا کی کمپنیوں کو یورینیم کی تلاش کے لائسنس جاری کیےتھے۔

یہ خوف کہ فرانسیسی تزویراتی مفادات رکھنے والے ممالک خصوصا چاڈ اور کیمرون کہیں اپنے ہمسایہ ممالک کے تنازعات سے متاثر نہ ہو جائیں۔

 وسطی افریقہ کی ہیرے کی کانوں اور بیش بہا قدرتی وسائل پر فرانس کی نظر، کیونکہ وسطی افریقہ ہیرے کی تجارت کا عالمی مرکز ہے اور ہیروں کی برآمد  کا کل قومی آمدنی میں 60 فیصد  حصہ ہے۔

یہ تو تھے اقتصادی لحاظ سے فرانس کے افریقہ میں مداخلت کے سب سے بڑے سمجھے جانے والے اسباب، البتہ اگر ہم دینی حوالے سے دیکھیں تو یہ پہلووسطی افریقہ کی نسبت مالی پر فرانسیسی حملے میں کہیں زیادہ واضح طور پر نظر آتاہے۔  جیسے ہی مجاہدین نے اسلامی مملکت قائم کرنےکے لیے ملک کے 90 فیصد حصے پر غلبہ پانے کے بعد مالی کے دارالحکومت باماکو  کے دروازے پر دستک دی، فرانسیسی استعمار  خوف و دہشت میں مبتلا ہو گیا۔وسطی افریقہ میں بھی یہ پہلو کارفرما نظر آتا ہے اگرچہ اس کی صورت مختلف ہے۔ وسطی افریقہ میں مسلمان 20 فیصد ہیں جن پر  انتہا پسند عیسائی تنظیموں نے ظلم و زیادتی میں کوئی کسر نہ چھوڑی، جیسا کہ افریقی اور برطانوی صحافت نے رپورٹ کیا کہ وسطی افریقہ میں   عیسائیوں کے ایک گروہ نے  کم ا زکم 12 مسلمانوں کو شہید کیا جن میں حاملہ عورتیں اور 10 بچے بھی شامل تھے۔اس سلسلے میں معزول صدرفرانسو بوزیزیہ کی ذاتی حفاظتی  ملیشیا  (مناهضو السواطير) کا نام سامنے آیا ہے جومسلمانوں پر ظلم و بربریت میں پیش پیش ہے۔اس تنظیم نے 300 کے قریب مسلمانوں کو ذبح کیا جیسا کہ ریڈ کراس نے تصریح کی ہے۔ (زیر نظر مضمون کی اشاعت کے بعد اب تک شہداء کی تعداد کہیں زیادہ ہو چکی ہے)

 درحقیقت فرانسیسی افواج کی وسطی افریقہ میں مداخلت مسلمانوں کو عیسائی درندوں کی بربریت سے بچانے کے لیے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی طرف سے ممکنہ دفاعی مزاحمت سے عیسائیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہے۔ مغرب کی یہ سیاست اب کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے ۔مغرب کے ہاں  مسلمانوں پر حرام ہے کہ وہ موت کے پھیلتے ہوئے سایے سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں یا اپنی اولاد اور مال کی حفاظت کے لیے کچھ کریں۔  ایسی "دہشت گردی"دنیا کے کسی بھی حصے میں ہوتے ہی مغربی افواج "شہریوں کی حفاظت" اور "قیام امن" کے نام پر فورا حرکت میں آ جاتی ہیں۔

ہو سکتا ہے بعض لوگوں کو اس بات سے دھوکہ لگے کہ فرانس نے معزول صدر فرانسو بوعزیزی کے عیسائی ہونے کے باوجود اسے ہٹانے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اورموجودہ صدر محمد ضحیۃ(مسلمان) کو قائم رکھا ہے۔ اس چیز سے یہ گمان کیا جانا ممکن ہے کہ فرانس کی مداخلت میں دینی پہلو نہیں ہے اور وہ واقعی امن و امان کو واپس لانے اور تنظیموں کے باہمی قتل و قتال کو روکنے کے لیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک بار پھر اس بات کو دہرا دینا کافی ہے کہ معزول صدر فرانسو بوزیزی نے عیسائی ہونے کے باوجود فرانس کی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے چینی اور جنوب افریقی کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے تھے۔اس پر فرانس غیض و غضب سے بھر گیا،ایسا عیسائی بھی انہیں  کیونکر  گواراہو سکتا ہے۔اگرچہ اب وہ اسے دوسرا رنگ دے رہے ہیں لیکن ایسا وہ ہر اس حکمران کے ساتھ کرتے ہیں جو ان کے مفادات کے رستے میں رکاوٹیں ڈالنے والا ہو۔(خود معزول صدر کی ملیشیا کی سرگرمیاں آپ اوپر پڑھ چکے ہیں)

مغرب اور یہود کی اسلام سے دشمنی میں کسی مسلمان کو شک ہو، یہ بات ممکن نہیں۔ قتل مسلم پر ان کی مسلسل خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاں اس قتل عام کو روکنا ان کے مفاد میں نہیں ہوتا وہاں  اس کے جاری رہنے سے انہیں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ ہاں!  جیسے ہی کوئی فائدہ یا مصلحت سامنے آتی ہے تو وہ امن و امان اور معصوم انسانوں کے دفاع کے نام پر میدان میں آجاتے ہیں!  اس سے بڑی منافقت اور دشمنی اور کیا ہو گی !

http://www.almoslim.net/node/195622

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کشمیر کےلیے چند کلمات
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام
احوال- امت اسلام
ادارہ
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام  جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت
احوال- امت اسلام
ادارہ
ایرانی اہل السنۃ کی آفیشل ویب سائٹ: قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
مذہبی سیاسی جماعتیں: "اتحاد" سے پہلے ایک "مضبوط کیس" رکھنے کی ضرورت
احوال- تبصرہ و تجزیہ
حامد كمال الدين
مذہبی سیاسی جماعتیں: "اتحاد" سے پہلے ایک "مضبوط کیس" رکھنے کی ضرورت مذہبی جماعتوں کا سیاسی اتحاد خوش۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز