عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, August 8,2020 | 1441, ذوالحجة 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
‘جبر" ایک انسانی ضرورت اور صلاح و فساد کا میدان: "جماعۃالمسلمین" بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ"
:عنوان

کوئی نہیں پوچھتا کہ ’’ملک‘‘ بڑے اور چھوٹے ہو کیسے جاتے ہیں؟ اِس عجیب و غریب ’یو۔این برادری‘ کے بونے کیا ہمیشہ ہی بونے تھےاور اِس کے دیو ہمیشہ سے دیو تھے؟ یہاں جو ’چھوٹے‘ رہ گئے تو کیا وہ ’پیدائشی‘ چھوٹے تھے!؟

. اصولمنہج :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

Text Box: 126(خلافت و ملوکیت) ذیلی مبحث3[1]

’’جبر‘‘ ایک انسانی ضرورت اور صلاح و فساد کا میدان

’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘

ماڈرن سٹیٹ کے ’اسلامی‘ حمایتیوں کے ساتھ ایک مکالمہ:

ہر ’’ریاست‘‘ ایک طرح کا جبر ہوتی ہے، خصوصاً ابتداء میں؛ تاوقتیکہ وہ لوگوں کو اپنے ایک خاص ڈھب پر لے آئے اور ’’جبر‘‘ کی بجائے ایک ’معمول‘ نظر آنے لگے!

جو چیزیں آج آپ کو ’مستحکم‘ نظر آرہی ہیں وہ ابتداء میں ایسی نہ تھیں۔  اور جو آج ’مستحکم‘ اور ’نہ ہلنے والی‘ دکھائی دیتی ہیں ان میں سے بہت سی کل کو متروک اور مدفون پڑی ہوں گی۔  خدائی سنتوں اور طبعی امکانات کو کام میں لا کر یہاں جو تبدیلیاں بھی آپ برپا کردیں گے کل کو بہت سے لوگ ان کو ’حجتِ قاطعہ‘ جانیں گے؛ عین جس طرح آج کے بہت سے ’دیدہ ور‘ چند عشرے پیشتر کی تبدیلیوں developments  کو ’حتمی وابدی‘ دیکھ رہے ہیں! ہمیشہ دنیا میں ایسے لوگ رہیں گے جو کتابِ تاریخ کے ہر ورق کو اُس کا آخری ورق جانیں۔ البتہ ایسے باہمت اور حوصلہ مند لوگ بھی یہیں ہوں گے جو اپنے ہاتھ سے تاریخ کا ورق الٹ کر جائیں۔ کچھ ابن الوقت اور کچھ ابو الوقت! کچھ تابع اور کچھ متبوع! ایک ہی نکیل؛ کسی کی ناک تو کسی کا ہاتھ! (انْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ) حضرت عمر بن العزیز﷫  کا مشہور اثر ہے: إن اللیلَ والنھارَ یعملانِ فيكَ، فاعملۡ فيھما ’’اے ابن آدم! رات اور دن تجھ میں تبدیلیاں برپا کیے جاتے ہیں، تو بھی تو ان میں تبدیلیاں برپا کر‘‘! اور جبکہ ہمارے دین نے تو کارزارِ حیات کو دیکھنے کےلیے ہمیں ایک پرعزم و حوصلہ مند نظر دینے میں کمال کردی ہے:  عَنۡ أَنَس بْن مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ، فَإِنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَفْعَلْ» (مسند احمد رقم 12981، صححہ الألبانی، السلسلۃ الصحیحۃ رقم 9) ’بروایت انس بن مالکؓ، فرمایا رسول اللہﷺ نے: جب قیامت آئے، اس حال میں کہ تم میں سے کسی کے ہاتھ میں ننھا سا پودا کاشت کرنے والا ہو تو اگر اٹھنے سے پہلے پہلے (ایک روایت میں: قیامت کے برپا ہونے سے پہلے پہلے) اسے کاشت کرسکے تو ضرور کردے‘‘۔

کارزارِ حیات کثیر پہلو ہے، ہم یہاں ’’ریاست‘‘ کی بات کریں گے۔ یہاں کی مستحکم سے مستحکم ریاست ایک وقت سے پہلے نہیں تھی۔ ’بڑے بڑے نشانات‘ دنیا میں بنتے بھی آئے اور مٹتے بھی۔  حوصلہ، نظر ، ہوش مندی، محنت، عزم، پامردی اور اجتماعی سپرٹ اِس دنیا میں بہت کچھ کروا دیتے ہیں اور قنوطیت، کم نظری، غفلت، بدنظمی، نامردی ہاتھ آئی ہوئی چیز گنوا دیتے ہیں۔ ریاست کو عربی میں ’’دولت‘‘ کہتے ہیں۔ اس کا مادہ وہی ہے جو ’’تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ‘‘[2]  والا ہے۔ یعنی یہ ’’گردش‘‘ کرنے والی چیز ہے۔ اس میں پلٹ جھپٹ ہمیشہ چلتی ہے۔ کل یہ آپ کے ہاتھ میں تھی، آج کسی دوسرے کی چیز نظر آتی ہے، کل یہ پھر آپ کی ہوسکتی ہے۔ اصل چیز وہ ’’نظر‘‘ اور وہ ’’حوصلہ‘‘ ہے جو آپ کو میدان نہیں چھوڑنے دیتا۔  کیونکہ جو ہونا ہے میدان میں ہونا ہے؛ میدان سے باہر کچھ نہیں۔  یہاں اگر آپ کا کوئی دعویٰ ہی نہیں؛ یہاں کھیل میں آپ کوئی فریق ہی نہیں؛ تو ’نتائج‘ کی توقع کس بات پر؟! یہاں آپ ’موجود‘ کو مسترد نہیں کرسکتے تو ’مفقود‘ کےلیے جگہ پیدا نہیں کراسکتے۔ یہاں آپ کا کوئی مستقل بالذات کیس نہیں تو آپ کوئی فریق نہیں۔ ایک مضبوط ’’کیس‘‘ رکھنا، اُس پر ڈٹ کر دکھانا، قوم کو اس پر قائل کرنے کی قوت، ہمت اور صلاحیت لے کر آنا؛ ’’قافلہ‘‘ بننے کے حق میں پیشگی شرط ہے۔ غرض یہاں ایک فاعلیت درکار ہے۔ تھوڑے لوگ ہمیشہ بڑی بڑی آبادیوں کو رخ دیتے ہیں۔ ’مجمعے‘ کسی نہ کسی کا زیرنگر ہوتے ہیں! ’اکثریت‘ ہمیشہ ایک ’’جبر‘‘ کے تابع ہوتی ہے۔ اس سے کوئی مفر ہے ہی نہیں۔ اُس ’مجمعے‘ کی خوش قسمتی؛ اگر اس کی مہار تھام رکھنے والا ’’جبر‘‘ حق[‌أ] پر قائم اور اللہ ویومِ آخرت کا مومن ہے۔ اُس ’مجمعے‘ کی بدقسمتی؛ اگر وہ ’’جبر‘‘ باطل کا پیرو اور خلود و  عُلوٌ فی الارض کا طلبگار ہے۔  مگر اِس ’’جبر‘‘ کے بغیر آج تک کوئی سوسائٹی نہیں دیکھی گئی؛ خواہ وہ ’’جبر‘‘ صریح اور صاف گو ہواور خواہ ’جمہوریت‘ ایسے کسی بہروپ میں۔ خوش سلیقہ ہو یا پھوہڑ۔ مہربان ہو یا سخت گیر۔ انسانی معاشروں کو کسی نہ کسی درجے کا ’’جبر‘‘ درکار رہتا ہے خواہ اس حقیقت کو آپ کتنا بھی گھما پھرا کر بیان کرلیں!

اِسی ’’جبر‘‘ کا نام آج کی زبان میں ’’ریاست‘‘ ہے؛ اور قطع نظر اس سے کہ اس کی صورت یا اس کی سیرت کیا ہو، یہ ایک انسانی ضرورت ہے۔[3]   یہ اگر آپ نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا کرے گا۔ یہاں ’’خلاء‘‘ پایا ہی نہیں جاسکتا۔ البتہ سوسائٹی میں پیدا ہونے والے بہت سے رویے اس  چیز سے براہِ راست متعلق ہو جاتے ہیں کہ یہ ’’جبر‘‘ وہاں پر کیا صورت اور کیا سیرت رکھتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں یہ ’’جبر‘‘ سوسائٹی کے انتظام تک محدود نہیں رہتا بلکہ سوسائٹی کی تشکیل تک چلا جاتا ہے۔یہاں سے؛ ہر وہ نظریہ جو سوسائٹی کی تشکیل کرنے پر ایمان رکھتا ہے، اِس ’’جبر‘‘ کے ساتھ کسی نہ کسی انداز میں متعلقہ ہوجاتا ہے۔ سوسائٹی کو رخ دینے پر یقین رکھنے والا ایک نظریہ اِس ’’جبر‘‘ سے لاتعلق رہ ہی نہیں سکتا خصوصاً اگر وہ ’’جبر‘‘ جو اِس وقت سوسائٹی پر حاوی ہے سوسائٹی کے انتظام تک محدود نہیں بلکہ سوسائٹی کی تشکیل کرنے میں لگا ہے؛ یہ اگر غیر صالح ہے تو بالآخر یہ آپ کے بچے کی نماز اور حیاء تک کا کام تمام کرکے رہے گا۔ کیونکہ یہ سوسائٹی کو ڈیزائن ہی اس طرح کرے گا جہاں آپ کے نونہال کی نماز اور حیاء کےلیے اس کی مزاحمت دشوار سے دشوار تر ہوجائے؛ اور آخر دم توڑ جائے۔[4]   پس معاشرے میں پنپنے والے رویے، اخلاق، اقدار سب کا تعلق بڑے قوی طور پر اِسی ’’جبر‘‘ سے ہے جس کو آج آپ ’’ریاست‘‘ کہتے ہیں؛ یہ ’’جبر‘‘ اگر اللہ و یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور انبیاء سے اعراض پر قائم ہے (جوکہ فساد فی الارض کی بدترین صورت ہے) تو معاشرے میں آپ جتنی بھی ’نیکی کی تبلیغ‘ کرتے رہیں آپ کا وہ سب وعظ (کچھ خواص کو چھوڑ کر) ایک عمومی سطح پر بےاثر رہے گا؛ جیسا کہ اس وقت آپ بچشمِ سر دیکھ رہے ہیں۔[5]  اور اگر یہ ’’جبر‘‘ اللہ و یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا اور رسالتِ آسمانی کا پابند ہے تو سوسائٹی میں ہر طرف پھول کھلیں گے اور تھوڑی سی ’تبلیغ‘ بھی یہاں ڈھیروں اثر دکھائے گی؛ لوگوں کے ایمان اور اخلاق پر حملہ آور بہت سے فتنے تب ’’ریاستی  مزاحمت‘‘ کا سامنا کریں گے اور بہت سی نیکی ’’قوتِ نافذہ‘‘ کے حرکت میں آنے سے پہلے[6]  ’’تعلیم‘‘ اور ’’ابلاغ‘‘ کے ذریعے ہی نفوس میں انڈیل لی جائے گی۔ اِس لحاظ سے وحیدالدین خان اور ان سے وابستہ دبستان کا کیس جو صالحین  پراِس ’’امامت‘‘ کو فرض نہیں ٹھہراتا اور اِس کو صالحین کے معاشرے میں سرگرم ہونے کے اہم ترین میدانوں میں نہیں گنتا بلکہ طریقوں طریقوں سے اس کی حوصلہ شکنی کرتااور اس کو دین میں ایک تجاوز قرار دیتا ہے، کچھ واضح شرعی و عمرانی حقیقتوں کے ساتھ تصادم ہے اور ایک کھلا مکابرہ۔

یہ جبر جس کو آج کی زبان میں ’’ریاست‘‘ کہا جاتا ہے ، اِن حضرات کے ہاں معاشرے کو رخ دینے کے دعویدار ہر نظریے کے حق میں آج تسلیم ہوتا ہے سوائے اسلام کے!

ہمارے ’اسلامی‘ ہیومنسٹوں کی نظر میں یہ ’’جبر‘‘ سو فیصد جائز اور برحق ہے سوائے جب ’’خلافت‘‘ اور ’’اسلامی امارت‘‘ کی بات ہو؛ ہاں اُس وقت یہ ’’جبر‘‘ حرام ہوجاتا ہے!

یہ ’’جبر‘‘ جو ’جدید ریاست‘ آج آزما رہی ہےتاریخ کا بدترین جبر ہے؛ کیونکہ ’’جبر‘‘ کو اتنی ’’سائنٹیفک‘‘ بنیادیں کبھی دی ہی نہ گئی تھیں۔ دماغوں کو زنجیروں میں کس دینے کے ایسے حیرت انگیز کمالات اس سے پہلے کبھی  دیکھے نہ گئے تھے۔ اِس کا جبر ہزارہا پہلو رکھتا ہے جو آپ کے بچے کی درسی کتاب یا ٹی وی میں دیکھے جانے والے (بظاہر معمولی)  کارٹون کے مندرجات سے لے کر جنرل اسمبلی میں جاری ایک سنگین بحث تک کڑی در کڑی جڑا ہوا ہے۔ پورا کرۂ ارض آج ایک خاص عالمی ایجنڈا کی جکڑ میں ہے؛ یہاں کے سب تعلیمی، ابلاغی، معاشی، سیاسی، ثقافتی قضیے ایک دوسرے میں الجھے ہوئے ہیں اور اس بنیاد پر ایک ہی ’’جامع‘‘ حل چاہتے ہیں (ان میں سے کسی ایک میدان کو باقی میدانوں سے الگ کرکے آپ کوئی حل دے ہی نہیں سکتے؛ بلکہ یہ ایک ’پیکیج‘ ہے جس کے مقابلے پر آپ کو بھی ’’پیکیج‘‘ ہی لانا ہوگا)۔ نیز ان قضیوں کی مقامی جہتیں یکایک ان کی عالمی جہتوں سے جا ملتی ہیں اور ان کی عالمی جہتیں  بےساختہ یہاں گلی محلوں کی سطح پر بولتی ہیں؛ چنانچہ ان میں سےایک ایک قضیہ بیک وقت مقامی بھی ہے اور عالمی بھی۔ غرض معاملہ کسی ایک ملک کا نہیں (گو اِس ہڑبونگ کا میدان ہمارے ہی ممالک ہیں)؛ پوری زمین کا پانسہ پلٹنے کی سطح پر آیا ہوا ہے۔ بلکہ وہ اپنے تئیں یہ پانسہ پلٹ چکے؛ صرف  اس کو ’’برقرار‘‘ رکھنے کے مراحل کی جنگیں لڑنے میں مصروف ہیں۔ یہاں سے؛ اِس ’’جبر‘‘ کے مقابلے پر ہماری ’’الجماعۃ‘‘ (معروف تر لفظوں میں ’’خلافت‘‘) اور بھی متعلقہ ہوجاتی ہے۔ ہاتھیوں کی لڑائی میں مینڈکوں کا جو ’کردار‘ ہوسکتا ہے وہ ہر کسی کو معلوم ہے۔ یہاں لامحالہ آپ کو ’’ہاتھیوں‘‘ کی سطح پر آنا ہے؛ ورنہ آپ کا انجام نوشتۂ دیوار ہے۔ اس کےلیے:

1.        ایک تو آپ کا اپنا پیکیج بھی جامع ہونا چاہئے؛ کیونکہ آپ کو اگر محض کوئی ایک آدھ میدان ہی درست کرنا ہے تو یہ معرکہ آپ کے لڑنے کا نہیں۔ یہ سب میدان کڑی در کڑی جڑے ہوئے ہیں؛ ان سے الگ الگ نمٹا ہی نہیں جاسکتا۔ اُدھر ’’پیکیج‘‘ ہے تو اِدھر بھی لامحالہ ’’پیکیج‘‘ ہی ہونا چاہئے۔  یہاں الحمد للہ آپ کا ’’دین‘‘ آپ کو جو جامعیت[7]  دیتا ہے اُس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔[8]

2.        دوسرا، آپ کو بھی ایک ’’عالمی فنامنا‘‘ ہونا ہے۔ آپ اگر کوئی ایک آدھ ’خطہ‘ ہیں تو اِس بےرحم عفریت کے ہاتھوں آپ کی موت یقینی ہے۔ یہاں آپ کی خوش قسمتی؛ آپ ایک ’خطہ‘ نہیں آپ ایک ’’امت‘‘ ہیں جو آج زمین کے اہم ترین مراکز پر بیٹھی اور زمین کے اعلیٰ ترین و زرخیز ترین وسائل کی مالک ہے۔ آسمانی شریعت کی امین۔ تین براعظموں کا سنگم جو باقی امتوں کو بڑی آسانی سے ’’حاشیائی‘‘ marginalize   کردیتا ہے۔ جب یہ ایک عالمی ’’جبر‘‘ ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کےلیے آپ کو ایک عالمی ’’مزاحمت‘‘ ہی لانا ہوگی؛ کوئی ’علاقائی‘ مزاحمت اس کے قدم ہلانے کی طاقت نہ رکھے گی۔ یہاں؛ ’’الجماعۃ‘‘ کا احیاء ناگزیر ہوجاتا ہے۔ ڈیڑھ ارب انسان کو مل کر آج اپنا آپ رہا کروانا ہوگا۔

تو پھر یہ دو چیزیں ہوئیں جو آپ کو اِس عالمی درندے کی ٹکر کا بناتی ہیں بلکہ اس کے مقابلے پر آپ کو بالادست کرتی ہیں:  ایک آپ کا ’’دینِ جامع‘‘ رکھنا اور ایک آپ کا ’’امت‘‘ ہونا۔

’’خلافت‘‘  یا ’’جماعت‘‘ جس چیز کا نام ہے ظاہر ہے وہ اِسی ’’دین‘‘ اور اِسی ’’امت‘‘ پر قائم ہوتی ہے۔ یعنی اس کا دستور: ’’دین‘‘۔ اور اس کا دائرہ: ’’امت‘‘۔ دونوں سے اُس مفسد فی الارض کی جان جاتی ہے۔ اِس ’’دین‘‘ کو وہ سیکولرزم کی قید ڈالتا ہے اور اِس ’’امت‘‘ کو نیشنلزم کی۔ (نیشنلزم کے ساتھ ساتھ، جوکہ آنے والے دنوں میں اُس کے ایجنڈا کے اندر شاید بوجوہ فٹ نہ بیٹھے، اب وہ گلوبلزم، انسان پرستی، میکڈانلڈ کلچر، ملٹی نیشنلز، اور تقاربِ ادیان کو لے آیا ہے)۔ غرض وہ اپنے تعلیمی وابلاغی ’’جبر‘‘ کو کام میں لا کر، نیز ’’جبر‘‘ کے سیاسی ومعاشی وعسکری ہتھکنڈے استعمال کرکے، سیکولرزم کو ہماری گھٹی میں اتار رہا ہے جس سے ’’دین‘‘ عبادت خانے میں محصور ہوجائے۔ پھر ’’جبر‘‘ کے انہی ہتھکنڈوں کو اختیار کرکے، ایک دوسری سطح پر ایسی صورتحال تخلیق کرتا ہے کہ اس ’’عبادت خانے‘‘ سے بھی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اچاٹ کردیا جائے  اور ان کے ’فارغ اوقات‘ کو ’’مصروف‘‘ کرنے کےلیے ان کو اتنی کچھ لغویات دے دی جائیں  کہ پھر بھی جس نوجوان کا جی مسجد ہی میں لگے وہ کوئی خدا کا بہت بڑا ولی ہو۔ یعنی ایک سطح پر یہ ’’دین‘‘ کو عبادت خانے میں قید کروائے گا تو دوسری سطح پر عبادت خانے کو ’’انسانوں‘‘ سے خالی کروائے گا؛ یوں دین کو صرف ’’امورِ ریاست‘‘ سے نہیں بلکہ ’’معاشرے‘‘ سے ہی باہر[9]   کر کے آئے گا! پس ’’دین‘‘ اُس مفسد فی الارض کا سب سے پہلا نشانہ ہے اور ’’امت‘‘ دوسرا۔ ویسے تو ہم اُسے کسی بھی شکل میں اچھے نہیں لگتے لیکن ’’مسلم امت‘‘ نامی چیز کو اِس دنیا سے رخصت کرانے کےلیے؛ ہم اُسے ’پاکستانی‘ کے طور پر بڑے اچھے لگیں گے، افغانی، بنگالی، ایرانی، کویتی، سعودی، اماراتی ایسے ہر روپ میں بھلے لگیں گے، البتہ مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کے انسانوں کا اپنے آپ کو صرف اور صرف ’’مسلمان‘‘ کے طور پر دیکھنا اُس کے اوسان خطا کرتا ہے۔[‌ب]   لہٰذا وہ ہماری اِس پہچان کو مٹانے کےلیے ’’جبر‘‘ کے سب ذرائع جھونک دینے پر آمادہ ہے۔

پس یہ ’’دین‘‘ اِس ’’امت‘‘ کے بغیر، اور یہ ’’امت‘‘ اِس ’’دین‘‘ کے بغیر آج ایک عظیم خطرے میں ہے۔ ’’دین‘‘ کے حصے بخرے ہوں گے تو وہ ہماری موت۔ ’’امت‘‘ کے حصے بخرے ہوں گے تو وہ ہماری تباہی۔ اور یہ ’’دین‘‘ اور یہ ’’امت‘‘ ایک دوسرے سے الگ ہوں گے تو وہ ہماری ہلاکت۔ اِس ’’پیکیج‘‘ کو ایک رکھنا  آج ایسے ہی ہے جیسے پانچ نحیف انگلیاں مل کر ایک مضبوط مکہ بنیں اور اپنی حرمتوں پر حملہ آور کسی ظالم کے دانت توڑ ڈالیں۔  ہمیں ’’عَلَیۡکُمۡ بِالۡجَمَاعَۃِ‘‘[10]   کا حکم جس شریعت نے دیا ہے، اُس کو نازل کرنے والا جانتا تھا کہ ’’جبر‘‘ ایک انسانی ضرورت اور عمرانی حقیقت ہے،اور یہ بھی کہ روئے زمین پر شرک اور توحید کا آمناسامنا ایک دائمی و آفاقی عمل ہےجس کو کسی ایک دن کےلیے نہیں تھمنا۔ پس وہ دنیا جہاں ’’شرک‘‘ اور ’’خدا سے اعراض‘‘ تو کیل کانٹے سے لیس، پورے روئے زمین پر پھیلے ایک دیوہیکل تعلیمی نظام اور ایک حیرت انگیز ابلاغی مشینری کا مالک ہو، کروڑوں کی تعداد میں افواج، ہتھیار، معیشتیں ، انٹیلی جنسیں، منصوبہ ساز ادارے اور پرشکوہ ایوان رکھتا ہو... البتہ دوسری طرف ’’توحید‘‘ اور ’’خدا پر ایمان‘‘ کو صرف ’’فرد‘‘[11]   کے طور پر ہی سامنے آنے کا حق ہو نہ کہ ایک ’’جماعت‘‘ کے طور پر؛ بلکہ ’’فرد‘‘ سے بڑھ کر کسی حیثیت میں آنا یا ایسی کسی ’’حیثیت‘‘ کا دعویٰ رکھنا اُ س کے حق میں ’بدعت‘ اور ’انحراف‘ ہو... آخر سیدھے لفظوں میں یہ کیوں نہ کہا جائے کہ اُس دنیا میں’’توحید‘‘ اور ’’خدا پر ایمان‘‘ کو پنپنے کا حق ہی نہیں ہے اور وہ دنیا درحقیقت ہے ہی فساد کی قوتوں کےلیے؛ اس کی تعمیر کسی ’’حق‘‘ پر ہوئی ہی نہیں ہے؛ اور اہل حق وہاں ہیں ہی دھکے کھانے کےلیے: }وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ (الانفال: 73)’’اور کافر لوگ ایک دوسرے کا جتھہ ہیں (مسلمانو!) اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں ایک فتنہ ہوگا اور ایک فسادِ کبیر‘‘{۔ اور آج بلاشبہ مسلمانوں کی آپس کی جتھہ بندی (ولایت)، جوکہ ’’جماعت‘‘ کا معنیٰ دینے میں قوی ترین ہے، موقوف ہونے کے باعث، زمین فساد سے بھر گئی ہے۔

*****

پس وہ ’’جبر‘‘ جو اللہ، یومِ آخرت اور رسالتِ آسمانی کو پہچان کر دینے کا روادار نہیں وہ باطل جبر ہے؛  اس کی مزاحمت ہوگی۔ہاں وہ ’’جبر‘‘ جو ’’اللہ، یوم آخرت اور رسالتِ آسمانی‘‘ پر ایمان رکھے، اُس کی اطاعت فرض ہوگی۔ البتہ ’’جبر‘‘ زمین میں ہر دو حال کے اندر پایا جائے گا؛ اور آپ کو لامحالہ اِن دو میں سے کسی ایک ’’جبر‘‘ کو اختیار کرنا ہوگا۔

*****

چنانچہ آج ہر طرف ہمیں اُس ’’جبر‘‘ کا سامنا ہے جو ہمیں خدا کی ’’بندگی‘‘ سے نکال کر اوروں کی ’’بندگی‘‘ میں دینے جا رہا ہے؛ اور ہزارہا محور پر کام کر رہا ہے۔یہاں تک کہ اِس ’’جبر‘‘ کا سامنا ہماری اُن ’قومی ریاستوں‘ کو ہے جو اسلام کو اپنی ترکیب سے ’’مکمل‘‘ طور پر خارج کردینے پر آمادہ نہیں۔ بلکہ اِس ’’جبر‘‘ کا سامنا ہماری اُن ریاستوں کو ہے جو اپنے نظامِ مملکت سے اسلام کو سو فیصد باہر رکھے ہوئے ہیں  مگران  کی ’’آبادی‘‘[‌ج]  اپنے آپ کو مسلمان کہتی اور اپنے یہاں آئینِ خداوندی (الکتاب) کی خالی تلاوت کرتی ہے۔ (یہ بھی کیوں ہے؟!) ’ماڈرن سٹیٹ‘ کے نام پر یہاں ان سب معاشروں کو اُس نقطے تک پہنچنا ہےجہاں وہ مُفسِد فی الارض اہلِ زمین کے مابین سوفیصد مطاع اور پیشوا ہو اور دنیا ’’صرف‘‘ اُس کا کلمہ پڑھے۔ یعنی یہ ’’جبر‘‘ (’’مزاحمت‘‘ نہ ہونے کی صورت میں) مسلسل بڑھے گا اور زیادہ سےزیادہ ’’خالص‘‘ اطاعت کا مطالبہ کرے گا۔ اِس کا “do more”   کا مطالبہ ہزار پہلو سے ہے۔  پس وہ لوگ جو فساد فی الارض کی اِس منظم ترین تحریک کا کھلا انکار کرکے آج اپنے آپ کو مرنے کےلیے پیش کریں گے اور فی الحال غیروں سے پہلے ’’اپنوں‘‘ سے ہی اس پر برابھلا سنیں گےوہ خود اِن برابھلا کہنے والوں کے اور پورے عالم اسلام کے محسن ہوں گے؛ بلکہ کوئی وقت آئے گا کہ پوری انسانیت ان کی احسانمند ہوگی؛ کیونکہ باطل کی خدائی تمام بنی نوعِ انسان کےلیے عذاب ہے۔

*****

البتہ ہماری گفتگو یہاں ماڈرن سٹیٹ کے ’اسلامی‘ حمایتیوں کے ساتھ ہورہی ہے جن کا لازم القول یہی بنے گا کہ یہ ’’جبر‘‘ دنیا میں باطل کرے تو روا، اور اگر حق کرے تو ناروا ہے... اِلّا یہ کہ ’’حق‘‘ اور ’’باطل‘‘ کی تعریف ہی ہیومن اسٹ پیراڈائم سے لی جائے! ہاں اگر ’’حق‘‘ سے مراد ’’خدا کی اتھارٹی‘‘ ہو اور ’’باطل‘‘ سے مراد ’’مخلوق کی اتھارٹی‘‘ ہو تو ’’حق‘‘ کےلیے اُس عمرانی ضرورت کی صورت دھارنا جسے آج کی زبان میں ’’ریاست‘‘ کہا جاتا ہے حرام اور ’’باطل‘‘ کےلیے واجب ہے! وہ ’’جبر‘‘ جو انسانی سنت ہے، جس کے بغیر نہ خاندان چل سکتا ہے، نہ محلہ، نہ شہر، نہ دفتر، نہ مدرسہ، نہ ادارہ، نہ ملک اور نہ یہ پورا گلوب کوئی توازن پاسکتا ہے... یعنی ہر ہر سطح پر انسانی زندگی کو ایک ڈسپلن یا ایک ضبط اور توازن  درکار ہے...  وہ جبر ’’کتاب اللہ‘‘ کو آئین ماننے اور ’’مالکِ یوم الدین‘‘ پر یقین رکھنے والوں کے حق میں تو قطعی حرام اور ابتداع ہے (وحیدالدین خانی دبستان: ’’جماعت‘‘ اور ’’خلافت‘‘ کا دین میں کوئی تصور ہی نہیں، محض انتہاپسندوں کی اختراع ہے!)۔ جبکہ دینِ خداوندی (’’دین‘‘ بمعنی آئین اور ’’دین‘‘ بمعنیٰ جوابدہی، ہردو) کو نہ ماننے والوں کے حق میں بالکل درست! حالانکہ کہاں وہ ’’جبر‘‘ جو خدا پر ایمان رکھنے والی ’’الجماعۃ‘‘ کی صورت میں پیش آتا ہے اور کہاں وہ ’’جبر‘‘(بلکہ دھونس)  جو ’ماڈرن سٹیٹ‘ کی صورت میں سامنے آتی ہے  اور جس کی ٹکر لامحالہ دینِ انبیاء کے ساتھ ہوتی ہے جس کی وجہ: ایک تو یہ کہ باطل کی ساخت ہی میں حق سے ایک خوف اور عدم تحفظ رکھ دیا گیا ہے،[12]   اور دوسری یہ کہ انسانیت سے اس کے شر کو دفع کرنے کی صلاحیت صرف اِس دینِ انبیاء کے اندر رکھی گئی ہے۔ یہ دو حقیقتیں ایک ہی نتیجے پر لےجاتی ہیں اور وہ یہ کہ اُن کی یہ جنگ صرف وقت کے نبی اور اس کے دین اور اس کی امت کے ساتھ رہ جائے خواہ اس کو ڈپلومیٹک زبان کے جتنے مرضی پھیر دے لیے جائیں۔

پس اِن دونوں کے ’’جبر‘‘ میں کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔  حق اور باطل کے مابین بھلا کیا موازنہ ہوسکتا ہے...؟!

ہمارا منتہا خدا کی ذات[13]... اور اُن کا منتہا خود اُن کو معلوم نہیں!

*****

یہ ماڈرن  ریاست سب سے پہلے اپنی ’دلیل‘ ہی کے معاملہ میں آپ اپنا ثبوت ہوتی ہے؛ اپنے وجود کی دلیل وہ کہیں باہر سے نہیں لیتی (’رب‘ کےلیے یہی ضروری ہے!)۔ وہ اپنے وجود کو ’دلیل‘ کا محتاج کردےتو ہر دم چیلنج ہوتی رہے (خصوصاً جبکہ اس کا وجود باطل اور غیرمنضبط inconsistent   ہو)۔  ہاں اسلامی ریاست، جس کا صحیح نام ’’جماعۃ المسلمین‘‘ ہے، اپنی دلیل بفضلِ خدا آپ کو شرع سے بھی بتائےگی اور عقل و  منطق سے بھی؛ کیونکہ یہ رب نہیں جو ’’دلیل‘‘ سے ماوراء ہو۔ بلکہ یہ ’’عبد‘‘ ہے جو ’’رب‘‘ کی عبدیت اور اس کے ساتھ نسبت سے اپنے وجود کےلیے دلیل پکڑتی ہے۔ جتنا سا ’’اختلاف‘‘ انسانوں کے مابین اُس رب کی اتاری ہوئی ’’کتاب‘‘ اور اُس کے بھیجے ہوئے ’’رسول‘‘ پر ہوسکتا ہے اُتنا سا ’’اختلاف‘‘ اِس ’’آسمانی جماعت‘‘ پر بھی یقیناً ہوسکتا ہے۔  (البتہ اِس اختلاف کا نام ہمارے ہاں ’’نزاع مابین اہلِ ہدایت و اہل ضلالت‘‘ ہے)۔ جتنا سا ’’اتفاق‘‘ دنیا میں خدا کی نازل کردہ ’’کتاب‘‘ اور اُس کے بھیجے ہوئے ’’رسول‘‘ پر ہوسکتا ہے (اور جس پر فی الوقت اہلِ زمین کے ڈیڑھ ارب انسان پائے جاتے ہیں) اُتنا سا اتفاق زمین کی اِس وحدت پر بھی پایا جاسکتا ہے۔ اِس سے بڑھ کر ’’اتفاق‘‘ کی ضرورت بھی نہیں۔[14]

رہ گئی ماڈرن سٹیٹ تو وہ اپنے یونٹ کے ’’جامع‘‘ ہونے پر کبھی کوئی دلیل دے سکتی ہے اور نہ ’’مانع‘‘ ہونے پر۔ بس یہ ہوتی ہے! کہاں سے، کس بنیاد پر؟ کچھ پتہ نہیں، البتہ یہ ہے! یہ چھوٹی چھوٹی تین ریاستیں ایک کیوں نہیں اور  وہ اتنی بڑی ریاست دس ریاستیں کیوں نہیں؟ اس کا جواب بھلا کون دے سکتا ہے! بس یہ ہیں...!

بنگلہ دیش اگر بنگالی زبان یا بنگالی نسل کا گھر ہے تو بھارت کے بنگالی خطے بنگلہ دیش میں ہی کیوں نہ آجائیں؟ ایک ’اصولی بات‘ پر بھارت کو بھی کیا  اعتراض ہونا چاہئے؛ آخر بھارت ایک ’ماڈرن ریاست‘ نہیں؟!  اور اگر یہ کوئی اصولی بات نہیں؛ اگر بھارت میں بڑے بڑے گنجان ’’بنگالی‘‘ خطے پائے جاسکتے ہیں اور ان ’’بنگالی‘‘ خطوں کا بھارت میں رہنا ہی حق ہے تو پورا بنگلہ دیش بھی بھارت میں کیوں نہیں آجاتا، کیا ملک کا سائز بڑا ہوجانے کا ڈر ہے!؟ اور کیا ملک کا سائز بڑا ہونے پر اِس دنیا میں کوئی پابندی ہے؛ جتنا مرضی بڑا کرلو! ’بھارتی پنجاب‘ کئی صوبوں پر مشتمل، ’’بھارت‘‘ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے تو ’بھارتی بنگال‘ بھی کئی صوبوں پر مشتمل ہولے، کیا جاتا ہے؟  بھارت میں دیگر اتنی قومیتیں سما سکتی ہیں تو بنگالی کیوں نہیں؟ ’زبان کا فرق‘ کوئی بنیاد ہے تو بھارت کو اب تک سو ریاستوں میں تقسیم ہونا چاہئے تھا، اس صورت میں بھارت ایک ملک کیوں ہے؟ کوئی ایک ’دلیل‘ تو ہو کہ بنگلہ دیش بنگلہ دیش کیوں ہے اور بھارت بھارت کیوں ہے؟  ایسے سوال اِس ہیومن اسٹ دور میں آپ ’مذہب‘ سے پوچھا کریں کہ تمہاری فلاں بات اِس طرح اور فلاں بات اُس طرح کیوں ہے، اور وہ بھی ہمارے ہیومن اسٹ معیاروں پر؟  آپ ’ریاست‘ سے پوچھنے چل دیے کہ تمہارے وجود کی تُک کیا ہے! کچھ چیزیں  given  ہوتی ہیں سرکار، ان کی دلیل نہیں پوچھی جاتی! آخر چالیس کے عشرے تک بنگال ہندوستان کا حصہ نہیں تھا؟ کونسا کام رکا ہوا تھا؟! چالیس کے عشرے میں ’’اسلام‘‘ کے نام پر تحریک نہ چلتی تو یہاں اس الگ ملک کی کیا تک تھی؟ محض (1947 کی) ایک ’غلطی‘ کا نتیجہ جو بنگالی خیر سے اب ایک ریاست ہیں؟!! اور اگر بھارت ایسا ایک تناور ملک خطے کے باقی ملکوں کو اپنی خوراک بنانے کےلیے اپنی انٹیلی جنس کے کسی چیمبر میں یہ منصوبہ بنائے کہ بنگلہ دیش کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا جائے، اور پھر وہ کچھ سالوں یا عشروں کی محنت سے (خدانخواستہ) بنگلہ دیش کو کچھ ایسے جھٹکے لگانے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے... تو پھر ’منقسم بنگلہ دیش‘ کا ہر حصہ given (سوال سے بالاتر)  ہوجائے گا؟ یعنی بنگلہ دیش کے اُن منقسم حصوں کی بھی ’دلیل‘ نہیں پوچھی جائے گی، جیسے حالیہ بنگلہ دیش کے 1947 والے انڈیا سے الگ ہونے کی دلیل آج نہیں پوچھی جائے گی؟!  } ماشاء اللہ ’دلیل‘اس کی یہ ہے کہ ’جو ہوگیا سو ہوگیا‘؛ 47 والی ’غلطی‘نہ ہوتی تو نہ ہوتی؛ ہند تقسیم نہ ہوتا تو نہ ہوتا، ہوگیا سو ہوگیا؛ یہ ہوئی دلیل اس بات کی کہ اب قیامت تک بنگال (کا ایک حصہ) اور ہند الگ الگ ملک کے طور پر ایک ’طبعی و بدیہی حقیقت‘مانے جائیں؛ اس کی صحت کی بابت سوال اٹھانا ’خلافِ شرع‘!{۔

یعنی اِس کوچے میں جس بھی تبدیلی کی ’’صدا‘‘ بلند کی جائے وہ کسی کی سالمیت کا انکار اور اس کے خلاف ایک کھلی جسارت ہوگی؛ البتہ جب وہ ’سالمیت کا انکار‘ اور وہ ’کھلی جسارت‘ کسی طرح کامیاب ہوجائے  (جس کےلیے ’عالمی برادری‘ کی سپورٹ بہت ضروری ہے؛ ورنہ وہ ’کشمیر‘ اور ’فلسطین‘ ہوتا ہے!)  تو اب کامیاب ہونے کے بعد وہ مطلق ’’حق‘‘ اور ’’آزادی‘‘ اور ’’عدل‘‘ ہے بلکہ اب یہ بذاتِ خود وہ بُت ہے جس کی ’سالمیت کا انکار‘ اب ’ظلم‘، ’بغاوت‘، ’سرکشی‘ اور ’جسارت‘ ہے! غرض یہ دائرہ کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا؛ آئے روز آپ اِس کے مظاہر دیکھتے ہیں۔

پس ایک چیز کے ’’حق‘‘ ہونے کی دلیل یہاں پر کیا ہوئی؟ اس کا ’سٹیٹس کو‘ ہونا۔ یعنی جبر۔ یہ ہے سو یہ حق ہے، نہ ہوتا تو باطل تھا! ’کامیاب‘ ہونے کے بعد اس کا نام ’آزادی‘، ’حقِ خوداِرادیت‘ اور ’اپنا دیس‘؛ جبکہ ’کامیاب‘ ہونے سے پہلے اُس کا نام ’ریاست سے غداری‘، ’علیحدگی پسندی‘، ’عصبیت‘ اور ’فرقہ واریت‘ communalism! ہم عِبادُ اللہ جو ایک ناقابلِ تبدیل وحدت (خدا کی نازل کردہ کتاب پر ہی ’’جمع‘‘ رہنے) پر یقین رکھتے ہیں کیوں نہ ان سبھی کا نام بلاتفریق ’’فرقہ واریت‘‘ communalism  رکھیں؟ یعنی  اب تک کے وہ ’فرقے‘ بھی جو اولادِ آدم کو کسی وجہ کے بغیر کاٹنے اور پھاڑنے میں ’ کامیاب‘ رہے اور وہ ’فرقے‘ بھی جو اولادِ آدم کے ٹکڑے کرنے میں کوشش کے باوجود ’کامیاب‘ نہیں ہوئےان سبھی کو بنی نوع انسان کے حق میں مجرم مانیں؟

آپ جتنا بھی غور فرمالیجئے؛ ’’جبر‘‘ کے علاوہ یہاں کوئی حقیقی دلیل[15]   آپ کو نہ ملے گی، گو اس کو عنوان کمال کمال کے دیے گئے ہوں گے۔ اب تک جو ہوگیا وہ ٹھیک؛ عین اُسی دلیل سے اب جو ہونے جا رہا ہے وہ غلط تاوقتیکہ وہ ’’ہو‘‘ جائے؛ پھر جب وہ ’’ہو‘‘ جائےتو وہ ’’حق‘‘ ہے! اور ’’حق‘‘ بھی وہ صرف اُس وقت سے نہ ہوگا جب سے وہ ’’ہوا‘‘ ہے بلکہ وہ اپنے ’’ہونے‘‘ سے پہلے حق تھا! بلکہ وہ ’’ہوا‘‘ ہی اس لیے کہ وہ حق تھا! اور اب ذرا وہ لوگ سامنے لائے جائیں جو اِس ’’حق‘‘ کے پیش آنے سے پہلے اِس کے مخالف تھے اور اس کے راستے میں روڑے اٹکاتے تھے؛ ایسے ’مخالفینِ حق‘ کو پھانسیاں، کال کوٹھڑیاں؛ یہ ایک ’قوم‘ کی ’آزادی‘ اور ’سالمیت‘ کے راستے میں روڑےاٹکاتے تھے؛ کیا کوئی چھوٹا جرم تھا اِن کا؟! یہ ہے منطق اِس ’’حق‘‘ کی جو ہماری ’’خلافت‘‘ کے مقابلے پر ’دلائلِ شرعیہ‘ سے ثابت ہے!

یہاں کوئی بھی علاقائی ساہوکاری regional hegemony پر ایمان رکھنے والا بڑے وسائل کا ملک، جرمِ ضعیفی کے مرتکب کسی بھی ملک کے دگرگوں حالات کا فائدہ اٹھانے کےلیے ذرا کامیاب قسم کی انجنئرنگ کرلے، کوئی دو چار ہزار پڑھا لکھا نوجوان وہاں اچھے نرخوں پر بھرتی کرے، چند سالوں یا چند عشروں میں وہاں عدم استحکام پیدا کر ڈالے؛ وہاں کا سیاستدان اگر بکاؤ مال ہے تو تھوک کے حساب سے اس کی خریدوفروخت کرے، اس کے میڈیا کو ’سپانسر‘ کرے، اُس کے نظامِ تعلیم میں ’مدد‘ دے، اور پھر موقع دیکھ کر کسی وقت اس کے ایک حصے کو اس کے دوسرے حصے سے ’آزادی‘ لےدے! اگر وہ کوئی مسلم ملک ہے تو جہاں ’عالمی برادری‘ سے اُس کےلیے تالیاں وہاں ہمارے ’اسلامی‘ہیومنسٹوں کے فتوے! ’جدید ریاست‘ بذاتِ خود حق ہے؛ اس کے حق ہونے کی دلیل خود اس کے سوا کیا ہوسکتی ہے!

اور اگر اس راستے پر چلتے ہوئے، کسی وقت (خدانخواستہ) پورے عالم اسلام کو کاٹ کاٹ کر کویت اور برونائی سے بھی چھوٹے لقمے بنا دیا جائے (جس پر کام ہو بھی رہا ہے) تو ایسے ہر آزاد اور خودمختار ’ملک‘ کی سالمیت و خودمختاری کی بھی دلیل نہیں پوچھی جائے گی؛ کیونکہ طبعی و بدیہی اشیاء کی دلیل نہیں ہوتی؟! گو ہمارے المورد ایسے ’تحقیقی‘ ادارے اس کی ’اسلامی‘ دلیل بتانے کو ضرور موجود ہوں گےکہ حضرات ریاستیں ’مذہب‘ کی بنیاد پر ہوتی ہیں نہیں... البتہ یہ کبھی نہیں بتائیں گے کہ حضرات یہ ریاستیں کسی بھی بنیاد پر نہیں ہوتیں!!!

یہ ظالم ’محققین‘ ہمیں ’شرعی دلیلوں‘ سے باندھ کر  ان خونخوار بھیڑیوں کے آگے ڈالنا چاہتے ہیں۔ سامراج کی ہر عالمی پیش رفت کے ساتھ ہی اِدھر سے ’دلیلوں‘ کا تانتا جاری ہو جاتا ہے اور بڑی دیر تک تھمنے کا نام نہیں لیتا!

اب ذرا اِس دھکے اور فوجداری کا اندازہ کرلیجئے؛ بھارت اپنے ’’سائز‘‘ اور ’’آبادی‘‘ کو ’’دلیل‘‘ بنا کر آج سلامتی کونسل میں رکنیت مانگتا ہے!  کہاں سے لے آیا ہے وہ اتنا بڑا ’سائز‘ اور ’آبادی‘؟ ’’جبر‘‘ کے علاوہ کیا اس کی کوئی دلیل ہے؟[‌د]  باقی دنیا کو تقسیم کرتے چلے جاؤ؛ ان کے اربوں کو ’ہزاروں‘ اور ’سینکڑوں‘ میں کردو اور پھر اپنے ’بڑے سائز‘ اور ’زیادہ آبادی‘ کو دلیل بنا کر لےآؤ؛ اور اگر اس کے نتیجے میں ’ویٹوپاور‘ پالو تو اس کے بعد ان ’ہزاروں‘ اور ’سینکڑوں‘ کا جو  حشر کرو وہ ’’جبر‘‘ کی تاریخ میں بالکل ایک نیا باب ہو! چنانچہ روزبروز اب بھارتی تقاضا زور پکڑتا جارہا ہے: ’ہماری آبادی ایک ارب اور ہمارا رقبہ اتنا بڑا ہے؛ ہمیں اُن ویٹوپاورز میں شامل ہونے دیا جائے جن کو دنیا کی زندگی اجیرن کرنے کا حق ہے‘! تو کوئی چیز ہوئی ناں ’’بڑا سائز‘‘ اور ’’زیادہ آبادی‘‘ (’’بڑا سائز‘‘ اور ’’زیادہ آبادی‘‘ رنگوں اور نسلوں اور زبانوں کے گم ہونے کی قیمت پر، اگر ’المورد‘ اجازت دے!)[16]!!! کوئی نہیں پوچھتا کہ ’’ملک‘‘ بڑے اور چھوٹے ہو کیسے جاتے ہیں؟ کوئی سوال نہیں کرتا کہ اِس دنیا میں کیوں کوئی ملک ’کویت‘ ہوتا ہے اور کوئی ’بھارت‘ ہوتا ہے؟  اِس عجیب و غریب ’یو۔این برادری‘ کے بونے کیا ہمیشہ ہی بونے تھےاور اِس کے دیو giant  ہمیشہ سے دیو تھے؟ یہاں جو ’چھوٹے‘ رہ گئے تو کیا وہ ’پیدائشی‘ چھوٹے تھے؟ اور جو ’بڑے‘ ہوگئے تو کیا وہ ’پیدا‘ ہی بڑے ہوئے تھے؟! ہاتھی کا بچہ چند دن کا بھی ہو تو بڑے ڈیل ڈول کا ہوگا؛ چوہے کے بچے کو ساری عمر ’چوہا‘ ہی رہنا ہوگا اور خدا کی اِس ’تقسیم‘ پر قانع بھی؛ اور یہ بات ’دلیلوں‘ سے ثابت ہے! کیا آج کے انہی ڈیڑھ ڈیڑھ بالشت کے ’عرب ملکوں‘ میں بیٹھ کر کبھی اِس پورے ہند پر حکومت نہیں ہوتی تھی جو آج ’’ویٹو پاور‘‘ مانگتا ہے؟ کیا صرف ساٹھ ستر سال پہلے کی ایک عالمی تشکیل کو ہم ازلی اور ابدی مان لیں اور اس کو ’شرعی‘ دلیلوں سے امر کردیں؟ اِس کو مسترد کریں تو انتہاپسند، شدت پسند اور تنگ نظر؛ قبول کرلیں تو ’چوہے‘ اور ’ہاتھی‘ کے مابین وسائل اور حقوق کی تقسیم ’شرعی وعمرانی حقیقت‘؟!!

ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ہم پرامن سے پرامن انداز میں بھی اِس عالمی بندربانٹ کو مسترد کرتے ہوئے  دنیا کی ایک حقیقی تقسیم کی بات کریں: ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ مقابلہ ’’الۡمُشٔۡرِکِینَ.. الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ‘‘[17]...! یہ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ یا ’’اِمارۃ المؤمنین‘‘ ہوتی کیا ہے؟!  بات کرنا تک حرام ہے حضرات! ’’خلافت‘‘ ہے ہی بدعت!  ’’دین کی وحدت‘‘ پر قائم  الجماعۃ کا ’نظریہ‘ پھیلانا ہی انحراف ہے!  ’نیشن سٹیٹ‘ کا نظریہ البتہ آسمان سے اترا ہے، اس کا پرچار بھی جائز، اس کا دفاع بھی واجب؛ یہاں نہ سوا ارب کا چائنا نظروں میں کھٹکے، نہ ایک ارب کا بھارت پریشان کرے (جس کی ایک چوتھائی وہ ظالم ہمارے اپنے  بھائیوں کو ڈال کر پورے کرتا ہے؛ نہ یہ بات ہی کھَلے)، نہ پورے تین ٹائم زونز Three time zones   پر مشتمل امریکہ (جو مشرق میں بحر اوقیانوس کے ساحلوں سے شروع ہوتا ہے تو مغرب میں بحرالکاہل تک جاتا ہے، بلکہ آدھا بحرالکاہل گزر کر ہوائی تک پہنچتا ہے)[‌ه]  نہ یہ امریکہ ہی ’علاقائی اکائیوں‘ کے حق میں کبھی ہم کو قابل اعتراض نظر آئے...  اعتراض ہے تو اس ایک بات پر کہ کوئی ’کم علم‘ یہاں ڈیڑھ ارب کے اس ’’مسلم ملک‘‘ کی بات کرے جو دنیا کا وسط، مَجۡمَعُ البِحَار، تین براعظموں کا عظیم ترین سنگم ہے اور جو اگر اپنا کچھ بھی شیرازہ جمع کر لے تو اللہ کے فضل سے سب ’ویٹوپاورز‘ کو سرے سے غیرمتعلقہ کردے اور ظالموں کے اِس پورے کھیل کی بساط ہی الٹ دے! صرف اُس ایک ’’خوفناک ملک‘‘ کی بات کرنا اِن مفتیانِ شرع کے نزدیک دین سے انحراف ہے!

ہمیں معلوم ہے ہم اُس نقطے سے بہت دور ہیں کہ اس ’’ڈیڑھ ارب‘‘ کو ایک قوت کہہ سکیں؛ اس کی سمت بلاشبہ ہم نےابھی پہلا قدم تک نہیں اٹھایا ہے؛ باوجود اس کے کہ بےپناہ امکانات اِس کے حق میں پائے جاتے ہیں۔ یہ سچ ہے۔ البتہ ہمارا گلہ فی الحال یہاں ان مفتیانِ کرام سے ہے جو اس سمت میں قدم اٹھانا تو دور کی بات اس جانب دیکھنا ہی ہم پر حرام ٹھہراتے ہیں۔ ان کے قول کی رُو سے یہ سمت ہی باطل ہے۔ ’’ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے ایک ملک‘‘ کی بات کرنا   -   جی ہاں محض بات کرنا    -   ہی شریعت کی خلاف ورزی ہے! ’قدم‘ تو بعد میں اٹھائے جائیں گے؛ اس بابت تو سوچنا ہی دین سے تجاوز ہے!

*****

ایک بات واضح کردینا یہاں بےحد ضروری ہے؛ ورنہ ’دلیل‘ کی مہارت معاملے کی اصل دلالت کو بالکل الٹ کر رکھ دے گی...

پیچھے ہم کہہ چکےکہ ہر ریاست ایک طرح کا جبر ہوتا ہے؛ خصوصاً ابتداء میں۔ تاآنکہ وہ ایک معمول کی چیز نظر آنے لگے اور یوں محسوس ہو کہ وہ ہمیشہ سے ایسی تھی۔ یعنی وہ ’’جبر‘‘ جس نے آپ کے ایک ’’معمول‘‘ کو جنم دیا یہاں تک کہ یہ ایک طبعی اور بدیہی چیز نظر آنے لگا... وہ ’’جبر‘‘ محض ایک ’’معمول‘‘ اور ’’بدیہہ‘‘ نظر آنے کے باعث آپ کو اب ’’جبر‘‘ دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ سطح بیں لوگوں نے معاملے کی ترتیب الٹ دی اور وہ اس ’’معمول‘‘ کو اس ’’جبر‘‘ کی دلیل اور وجہِ جواز سمجھنے لگے!

 مثلاً آج پورے برصغیر کی علمی زبان آپ انگریزی دیکھتے ہیں (میٹرک کے بعد تقریباً انگریزی ہی چلتی ہے)، پورا سرکاری عمل تقریباً انگریزی میں انجام پاتا ہے، نجی اداروں تک کے کھاتے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں یہاں تک کہ اردو میں لکھیں تو اچھی خاصی ’دشواریاں‘ آنے لگتی ہیں۔ یہاں تک کہ اِس ’’معمول‘‘ کو بدلنا پہاڑ نظر آتا ہے... تو اس کے پیچھے ایک ایسا ’’جبر‘‘ ہے جس کی عمر ایک ڈیڑھ صدی سے زیادہ نہیں؛ ورنہ کہاں سات سمندر پار کی ایک سراسر اجنبی زبان اور کہاں یہ خطہ۔یہاں تک کہ ’’اردو‘‘ اب جا کر کہیں پاکستان کے بلوچ اور پختون دیہاتیوں کو ’تھوڑی تھوڑی‘ سمجھ آنے لگی ہے تو اس کے پیچھے چند عشروں کا ’ریاستی عمل‘ ہے جبکہ ابھی بھی بہت سے علاقے یہاں ایسے ہوں گے کہ ایک ارود بولنے والے کو یہاں کے پٹھانوں اور بلوچوں کو اپنا مدعا بتانے کےلیے مترجم کی ضرورت ہوگی۔  صرف ڈیڑھ صدی پہلے یہ حیثیت یہاں فارسی کو حاصل تھی جبکہ یہ فارسی بھی یہاں پر ’’رائج‘‘ کروائی گئی تھی؛ یہاں کی زبان نہیں تھی۔ لیکن رابطے کی زبان ’’فارسی‘‘ ہونے کے باعث ایران اور وسطِ ایشیا سے لے کر ہند تک کو ایک طرح کی ’’وحدت‘‘ مل رہی تھی۔  اُس فارسی کو ہٹا کر انگریزی آئی تو اِس خطے کو خودبخود یورپ کے ساتھ ایک قسم کی ’’وحدت‘‘ محسوس ہونے لگی اور اب تک ہورہی ہے۔  چنانچہ ’’ریاست‘‘ ایک ایسی مہیب بلا ہے کہ ایک چیز کا نام و نشان نہ ہو مگر وہ چند برس میں اس کو یوں کھڑا کردیتی ہے کہ آپ کو وہ ’نقارۂ خدا‘ لگتا ہے یہاں تک کہ یقین کرنا دشوار ہوتا ہے کہ کبھی یہ چیز یہاں نہیں تھی! یہی بھارت جو آج سیکورٹی کونسل کی رکنیت مانگتا ہے، زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ یہ سینکڑوں راجواڑوں میں تقسیم تھا۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے، اس کو وحدت کا شعور دینے والے ہی مسلمان تھے۔حتیٰ کہ مسلم اقتدار کے کمزور پڑتے ہی یہ متعدد سلطنتوں میں بٹ جاتا رہا۔ رنجیت سنگھ کے زمانے تک یہ ’ایک ملک‘ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ انگریزوں نے اس کا شیرازہ اکٹھا کیا۔ اور پھر چند عشرے نہ گزرے کہ نہرو اور گاندھی کے ساتھ ساتھ بہت سے مسلمانوں کو ہند کی ’تاریخی وحدت‘ کی خاطر غشیاں پڑنے لگیں!  جبکہ ’ہندی‘ پر بےتحاشا محنت کرلینے کے باوجود (جس میں ایک حیرت انگیز کردار ’بالی وڈ فلم انڈسٹری‘ کا ہے) بھارت کے بہت سے خطوں، حتیٰ کہ ان کے سیاستدانوں، کے مابین رابطے کی زبان آج بھی انگریزی ہے؛ ’انگریزی‘ کے سوا کوئی چیز ان ’بھارتیوں‘ کو نہیں جوڑتی! یعنی چند عشروں کا ایک بھاری بھرکم ریاستی عمل، تعلیمی وابلاغی محنت اور ’عالمی برادری کا تعاون‘ سینکڑوں راجواڑوں کی زمین کو ایک ایسی وحدت بنا ڈالتا ہے گویا وہ زمانۂ آدم سے ایک ملک چلا آتا ہے! دوسری جانب دیکھ لیجئے۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں وغیرہ کے آنے سے پہلے پورا عالم عرب عثمانی خلافت کے پرچم تلے ایک وحدت تھا۔  آپ اندازہ کرسکتے ہیں یہ عرب وحدت ’بھارت‘ کی وحدت کے مقابلے پر کس قدر مضبوط اور مستحکم چیز تھی۔ لیکن اسرائیل ایسے ’شعب اللہ المختار‘ (’خدا کی چہیتی قوم‘) کے اردگرد ’عرب وحدت‘!؟ آپ جانتے ہیں ان سب عرب راجواڑوں کی تاریخ چند عشروں سے زیادہ پرانی نہیں؛ مگر ہمارے سطح بینوں کو یوں لگے گا گویا یہ کوئی ازل سے چلی آنے والی ’’حقیقت‘‘ ہے!

بہت سے بڑے بڑے خطے ایسے ہیں جن میں زبان یا رہن سہن کا اشتراک بھی آج اگر نظر آتا ہے تو وہ ان کے ایک اکائی بننے کے بعد پیدا ہوا ہے؛ البتہ ان کو ’اکائی‘ بنانے والی چیز ابتدا میں محض ایک ’’جبر‘‘ کے سوا کچھ نہ تھا۔

المختصر؛ وہ بہت سی چیزیں جو ہمارے ہیومن اسٹوں کو کسی وسیع و عریض خطے کی وحدت کی بنیاد اور ’’دلیل‘‘ نظر آتی ہیں، اور اسکے بل پر ان کا ’دل‘ کہتا ہے کہ ہاں یہ ’ایک ملک‘ ہونا چاہئے... نہ صرف یہ کہ وہ اسکی وحدت کی بنیاد نہیں بلکہ معاملہ اس سے بالکل الٹ ہے۔ ایسا کوئی ملک پہلے کسی ’’جبر‘‘ کے نتیجے میں ایک ہوا پھر اس کے نتیجے میں اس کے مختلف حصوں کے مابین زبان اور رہن سہن کا کچھ نہ کچھ اشتراک بھی پیدا ہوا، نہ کہ زبان اور رہن سہن کے اشتراک نے اس کو ایک ملک بنایا۔ معاملے کی یہ ترتیب الٹ دینا کمال فنکاری ہے۔

بنابریں... آپ کی ’’جماعۃ المسلمین‘‘ اور ’’امارۃ المؤمنین‘‘ اور اس کی ’’شریعت‘‘ کویہاں کے معمولات اور رہن سہن میں بولنے کےلیے ان شاء اللہ اُتنا وقت بھی درکار نہ ہوگا جتنا یہاں کے ذہین دماغوں کو ’انگریزی‘ سیکھنے میں لگا تھا۔  ’’جبر‘‘ ایک ناگزیر عمرانی حقیقت ہے! اصل چیز آپ کا ارادہ اور قوتِ فیصلہ ہے؛ اور اسی کی تشکیل ہمارا اِس وقت کا سب سے بڑا محاذ۔ عزم ہو تو یہاں کوئی بھی بڑی تبدیلی چند سال یا چند عشرے لیتی ہے؛ کم از کم معاملہ ایک رخ پر ضرور لے آیا جاتا ہے۔ واللہ غالبٌ علیٰ امرہ۔



[1] بہ سلسلہ تعلیق 12 ’’آسمانی شریعت نہ کہ سوشل کونٹریکٹ‘‘(حاشیہ ح) نیز ذیلی مبحث 2 (حاشیہ ب)

[2]   (آل عمران: 140) ’’اور یہ دن ہیں جن کو ہم لوگوں کے مابین گردش  دیتے ہیں‘‘

 نیز یہی مادہ یہاں آیا ہے: كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ (الحشر: 7) ’’تاکہ وہ (مال) تمہارے مالداروں ہی کے مابین گردش نہ کرتا رہے‘‘۔

[3]   خلیفۂ ثالث عثمان﷛ سے منسوب یہ اثر اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے:  إنَّ اللہَ یَزَعُ بِالسُّلۡطَانِ مَا لَا یَزَعُ بِالۡقُرۡآنِ ’’بےشک اللہ (مسلم) اقتدار کے ذریعے اُن اشیاء کو کنٹرول کرواتا ہے جن کو قرآن سے نہیں کرواتا‘‘۔

[4]   اور اب تو یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو کانوں کے پردے پھاڑنے لگی۔ یہ صبح سے شام تک عین اُنہی ’چینلوں‘ پر بول رہی ہوتی ہے جہاں کسی ’ایک گھنٹے کے دینی پروگرام‘ میں ہمارے یہ اسلامی مفکرین گرمجوشی کے ساتھ بیان کرنے کر رہے ہوتے ہیں کہ ’سٹیٹ‘ کا ’مذہب‘ سے کچھ تعلق نہیں؛ہمارا دین ’سٹیٹ‘ کے بغیر بھی مکمل ہے، یہ نجانے کن لوگوں نے ایسے انتہاپسندانہ نظریات پھیلا دیے ہیں!

[5]   اس موضوع پر دیکھئے ہمارا ایک اداریہ ’’اصلاحِ فرد کےلیے پریشان طبقوں کی خدمت میں‘‘۔

[6]   حقیقت یہ ہے کہ تعلیم اور ابلاغ ’’قوتِ نافذہ کے حرکت میں آنے‘‘ میں شامل ہے۔ ہمارے سلف نے ’’اولی الامر‘‘ کی تفسیر میں ’’اہل علم‘‘ کا ذکر  بلاوجہ نہیں کیا! (دیکھئے تعلیق 5 ’’اولی الامر سے مراد‘‘) 

[7]   امام شاطبی﷫ کہتے ہیں: شرعِ محمد﷑ کا صرف یہی امتیاز نہیں کہ اس میں ہر ہر معاملے کےلیے ہدایت ہے۔  بلکہ اس کا یہ امتیاز اس سے  بھی کہیں بڑا ہے کہ اس کا ہر معاملہ ایک خاص تنسیق اور خاص نسبت تناسب سے ہے؛ جو اس کو ایک بےحد خوبصورت چیز بنا دیتا ہے۔ جو لوگ خاص اِس پہلو سے شرعِ محمد﷑  کا مطالعہ کریں اصل میں تو وہ اَش اَش کریں گے اور ان کے دل کا کونہ کونہ شہادت دے گا کہ یہ ’’تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ‘‘ ہے!

[8]   خصوصاً اگر آپ اس کو ’نظام‘ کی بحثوں کی بجائے ’’ایمان‘‘، ’’اَخلاق‘‘ اور ’’اللہ و یوم آخرت‘‘ کا موضوع بنائیں۔ کیونکہ فریقِ مخالف سب سے زیادہ اسی میدان میں دیوالیہ ہے اور ہماری برتری کا میدان سب سے زیادہ یہی ہے؛ علاوہ اس بات کے کہ ہمارے دین کی سب سے اہم بات بھی یہی ہے۔ ’’ایمان‘‘ اور ’’اخلاق‘‘ کے بعد ’’رشتے‘‘ ہیں جن میں ہمارا دامن اللہ کے فضل سے خیر سے بھرا ہے اور ہمارے دشمن کے یہاں خاک اڑتی ہے۔

[9]   سیکولرزم کے حق میں دلیلیں دینے والے ہمارے ’اسلامی‘ دانشور تھوڑی سی آنکھ کھول کر اِس پوری تصویر کو دیکھ لیں، جوکہ اب آخری حد تک بھیانک ہوچکی، تو ان کو اندازہ ہو کہ وہ کس مشن کو مکمل کرنے کےلیے ’آؤٹ سورس‘ کا کام دےرہے ہیں!

[10]  عَلَیۡکُمۡ بِالۡجَمَاعَۃِ وَاِیَّاکُمۡ وَالۡفُرۡقَۃ  ’’لازم پکڑو جماعت کو اور ٹکڑے مت ہو‘‘۔ سنن الترمذی 2165، سنن النسائی 9181،  مسند أحمد 23165، صححہ الألبانی صحیح الجامع الصغیر 2546۔

[11]   اس موضوع پر دیکھئے ہمارا پمفلٹ ’’فتنۂ ہیومن ازم‘‘۔

[12]   محمد قطب کے الفاظ میں: جاہلیت جتنے بھی کرّ و فرّ کی مالک ہو،جیسے ہی وہ اپنے دور میں انبیاء کے سچے پیروکاروں کو دیکھتی ہے، اس کے وجود میں وہی سنسنی دوڑتی ہے جو چور کے وجود میں کوتوالی کو دیکھ کر! وہ انبیاء کے پیروکاروں کو ’خطرہ‘ دیکھے بغیر رہ ہی نہیں سکتی! پس اِس ’منافرت‘ کے اسباب خارج میں ڈھونڈنا فضول ہے؛ چور اور کوتوال کا تعلق ہی کچھ ایسا ہے خواہ چور کے ہاتھ کسی وقت کتنے ہی لمبے کیوں نہ ہوگئے ہوں اور کوتوال کتنا ہی بےبس کیوں نہ ہوگیا ہو!

[13]   ’’منتہا‘‘ یعنی جہاں ’’بات ختم‘‘؛ اور جوکہ خدا اور اُس کا فرمان ہی ہوسکتا ہے۔ (عقلِ مخلوق اسکو سراہے گی البتہ اسکا محاکمہ نہ کرپائے گی)۔ دلیلیں خدا تک پہنچاتی ہیں البتہ خدا کو اور اُس کے فرمائے کو کسی ’دلیل‘ کی ضرورت نہیں۔ وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهَى۔ ’’جبر‘‘ کےلیے اگر کوئی معقول ترین بنیاد دنیا میں ہوسکتی ہے تو وہ یہی ہے (یعنی تشریعِ خداوندی)۔  ہاں خدا کے نام پر جھوٹ بولا جارہا ہو تو وہ البتہ ظلمِ عظیم ہے (قرآن نے یہ مسئلہ بیان کرنے پر شدید زور دیا ہے)۔  پس ہماری ’’امارت‘‘ کی پابندکن حیثیت binding status (’’جبر‘‘) کا ماخذ صرف اور صرف یہ ہے؛ یعنی شرع کا ’’حرفِ آخر‘‘ ہونا۔ کافروں کے پاس ظاہر ہے اس مقام پر کیا ہوسکتا ہے؟!   وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ۔

[14]   ’’جماعۃ المسلمین‘‘ غیرمسلمین کے اتفاق کی ضرورتمند نہیں ہوتی، اسی لیے ان کو وہاں پر ’’اہلِ ذمہ‘‘ کہا جاتا ہے، دیکھئے آئندہ فصل کی دوسری تعلیق۔

[15]   حالانکہ جبر کو ہم نے انسانی ’’ضرورت‘‘ مانا ہے نہ کہ ’ دلیل‘۔ اسکی ’’دلیل‘‘ ہوسکتی ہے تو یہ کہ یہ آسمانی شریعت کا اتباع ہو۔ ورنہ یہ دھونس ہے؛ کوئی انسان دوسرے انسان کو ’’اپنا‘‘ پابند نہیں کرسکتا۔

[16]  دیکھئے ایقاظ (جنوری تا مارچ 2014) میں ٹی وی چینلز کے مقبول ترین مذہبی دانشور کے ایک ٹاک شو کی روداد؛ جس میں زور دیا گیا ہے کہ ’’پاکستان‘‘ کے تحت مختلف خطوں کو ’مذہب‘ کے نام پر اکٹھا کرنا  خرابی کی جڑ تھی؛ المورد کی اس اہم شخصیت کے خیال میں یہ غلطی ہونی ہی نہ چاہئے تھی۔ (ظاہر ہے دین کی بنیاد پر آئندہ بھی مسلمانوں کو اکٹھا کرنا غلط ہوگا)؛ انکے خیال میں ریاستوں کو زبان اور رہن سہن کی بنیاد پر تقسیم ہونا چاہئے۔ اسکا ویب لنک:  http://eeqaz.co/14201401ghamdi_islamic_state/ 

[17]   آیت }وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ  مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (الروم: 31، 32) ’’اور نہ ہو جاؤ اُن مشرکین میں سے جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور ٹولوں میں بٹ گئے ہیں، ہر ایک ٹولے کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے‘‘{ کی تفسیر میں امام ابن کثیر لکھتے ہیں: وَقَرَأَ بَعْضُهُمْ: "فَارَقُوا دِينَهُمْ" أَيْ: تَرَكُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ، وَهَؤُلَاءِ كَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ وعَبَدة الْأَوْثَانِ، وَسَائِرِ أَهْلِ الْأَدْيَانِ الْبَاطِلَةِ، مِمَّا عَدَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ ’’بعض اہل قراءت نے یہاں لفظ فَـرَّقُوا کو فَـارَقُوا بھی پڑھا ہے، یعنی  وہ لوگ جو اپنے اصل سچے دین سے مفارقت کرگئے، یعنی اس کو پس پشت ڈال دیا، اور یہ ہیں جیسے یہود، نصاریٰ، مجوس، بت پرست اور تمام ادیانِ باطلہ کے پیروکار جو اہل اسلام کے ماسوا ہیں‘‘۔ (دیکھئے ان آیات کے تحت تفسیر ابن کثیر)



[‌أ]  نہایت  واضح ہو، اِس پورے سیاق میں ’’حق‘‘ اور ’’باطل‘‘ سے ہماری مراد وہی ہےجس کا ’’حق‘‘ اور ’’باطل‘‘ ہونا آئینِ رسالت سے ثابت ہو؛ کیونکہ یہی ’’انسانوں کے مابین فیصل‘‘ ہے۔ اس وقت اس پر تنبیہ خاص طور پر اس لیے ضروری ہے کہ نہام نہاد ہیومن ازم جو  آج  ہماری اسلامی عقول پر حملہ آور ہے وہ ایک غیرمحسوس انداز میں ہمیں عدل اور ظلم کے کچھ ’مطلق معانی‘ کی طرف لے کر جارہا ہے؛ جس میں ’جدید معتزلہ‘ کا پیراڈائم بھی مددگار ہورہا ہے (اس پر دیکھئے: ہماری تعلیق 10، نیز تعلیق 12 کا حاشیہ ج)۔ ہم سمجھتے ہیں کہ’حق‘، ’باطل‘، ’عدل‘ اور ’ظلم‘ ایسی اشیاء کے ’’مطلق معانی‘‘ لینے اور دلوانے کا یہ چلن جو اِس وقت عام کرایا جا رہا ہے اور جوکہ ’’کتابِ آسمانی‘‘ کے ’’مرجع‘‘ ہونے کی حیثیت کو خود عالم اسلام ہی کے اندر بائی پاس کروانے کا ذریعہ ہو رہا ہے، (باقاعدہ ایک ’ٹرینڈ‘ تشکیل دیا جارہا ہے)، یہاں تک کہ روزمرہ گفتگو میں اس کا اثر دیکھا جانے لگا... یہ ’ٹرینڈ‘ دراصل ہماری عقول کو ’’رسالتِ آسمانی‘‘ کے ساتھ کفر (اعراض) کی طرف لے کر بڑھ رہا ہے۔ کیونکہ ’’کتاب‘‘ کا منصب ہی یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ انسانوں کے نزاعات میں ’’فیصل‘‘ بن کر رہے (وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ) اور اشیاء کو اس کی جانب باقاعدہ ’’لوٹایا‘‘ جائے۔ (اس پر مزید  دیکھئے: ہماری تعلیق 11) (واضح رہے، تعلیق 12 تک کے مضامین گزشتہ شمارہ میں شائع ہوچکے ہیں)۔

[‌ب]   ذرا تصور کریں، ڈیڑھ ارب کی ایک امت کو ’’فرد فرد‘‘ دیکھ کر اِس دین کے دشمنوں کی باچھیں کیسے کھلیں گی! (وحیدالدین خان اور المورد کی سعی کتنی قدر کی نگاہ سے دیکھنے کی چیز ہے!)۔  یہ لوگ پورے’علمی‘ تسلسل کے ساتھ معاملے کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔  پہلے مرحلے پر خلافت (’’الجماعۃ‘‘) کو ایک ڈھکونسلہ ثابت کرنا (یعنی روئے زمین پر مسلمانوں کا ’’جماعت‘‘ بن کر رہنا ختم)؛ ہم سو ٹکڑے ہو جائیں یا ہزار؛ یہ کوئی ’شرعی مسئلہ‘ نہیں۔ دوسرے مرحلے پر؛ چلئے ہم مسلمانوں کی یہ چھوٹی چھوٹی اکائیاں (پاکستان، سعودی عرب، مصر، شام، عراق، سوڈان وغیرہ) ہی اپنی بنیاد ’’دین‘‘ قرار دےلیں اور اسلام کے سماجی وعالمی مقاصد جتنے پورے کرائے جاسکیں فی الحال اِسی راہ سے کرائے جاتے رہیں (’’خلافت‘‘ کی غیرموجودگی میں مسلمانوں کے سب مصالح کو موقوف ٹھہرا دینا ہرگز صائب رائے نہیں، اس پر ہم کچھ اور مقامات پر گفتگو کرچکے )۔ لیکن یہاں ان لوگوں کا فتویٰ ہے کہ یہ (نیشن سٹیٹ) بھی ’مذہب‘ کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہئے! یعنی یہاں سے بھی ہماری چھٹی۔  ہماری ان قومی ریاستوں کو بھی، خصوصاً جو سائز اور آبادی میں بڑی یا وسائل سے مالامال ہیں، چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرنا اِس وقت دشمن کے ایجنڈا پر ہے (انڈونیشیا، سوڈان اور عراق ’تازہ ترین کامیابیوں‘ کے طور پر ذکر ہوتے ہیں؛ باقیوں پر کام جاری ہے!)۔ ظاہر ہے جب بھی ہماری کسی قومی ریاست کو ’مزید قوموں‘ میں توڑا جائے گا ’زبان‘ اور ’رہن سہن‘ کے فرق کا کچھ نہ کچھ حوالہ دے ہی لیا جائے گا، بلکہ اس کی آگ بھڑکائی جائے گی (جیساکہ ہمارے مسلم بنگال کے ساتھ ہوا)۔ یہاں ان کا فتویٰ ہے: ریاست ہونی ہی زبان اور رہن سہن وغیرہ کی بنیاد پر چاہئے۔ یعنی ہمیں لخت لخت کرنے کا ایک کھلا لائسنس؛ اِس ’زبان‘ اور ’رہن سہن‘ کے فرق کو بنیاد بنا کر جتنے چاہو ہمارے ٹکڑے کردو!  اِس قومی ریاست سے بھی جب ’مذہب‘ کی چھٹی ہوگئی... یعنی اب اِس کفر کی عالمی خدائی کا مقابلہ ہم ’’خلافت‘‘ کی حیثیت میں بھی نہیں کرسکتے اور ’’ریاست‘‘ کی  حیثیت میں بھی نہیں... نہ اسلام کو عالمی سطح پر ’’خلافت‘‘ کی صورت میں آپریٹ کرنے کی اجازت ہے اور نہ اسلام علاقائی سطح پر ’’ریاست‘‘ کی صورت میں آپریٹ کرنے کا مجاز ہے (از روئے فتوائے جدید!)... تو اب ہم ’افراد‘ رہ گئے۔ ’’فرد‘‘ کے علاوہ ہماری کوئی حیثیت ہے ہی نہیں؛ دین کا یہی فیصلہ ہے! تاریخ کے اِس منظم ترین اور مفسد ترین ’’جبر‘‘ کے مقابلے پر ڈیڑھ ارب ’افراد‘!!! اِن ڈیڑھ ارب انسانوں کے ملنے (’’الجماعۃ‘‘) کو فرض کہنا دین میں ’بدعت‘، اور ان کو فرد فرد رکھنا ’دین کی اصل روح‘! (’فرد‘ جو ازروئے حدیث ہے ہی ’’بھیڑیے‘‘ کا لقمہ)۔ ’’ریاست‘‘ کے بعد کچھ مزاحمت اِس عالمی ’’جبر‘‘ کو اِس دوران ’’مسلم تنظیموں‘‘ سے مل رہی تھی، کبھی آپ وحید الدین اور المورد کو اِن ’’تنظیموں‘‘ پر برستا دیکھئے گا!  کافر کا آخری حملہ ہمارے سماجی وخاندانی ادارے پر ہے۔ یہ ایک طبعی بات ہے کہ ایسے منظم عالمی کفر کا مقابلہ ’’خاندان‘‘ کی سطح پر نہیں ہوسکتا۔ ’’خاندان‘‘ بیچارہ ایک ٹی وی حملے کی مار ہے؛ ’’خاندان‘‘ کو تباہ کرنے کے باقی مؤثرات اس پر مستزاد؛ اور یہ بات کسی ہوشمند سے اوجھل نہیں۔ ہمارا سماجی فیبرک وہ بڑی حد تک تار تار کرچکے۔  ’سماجی دباؤ‘ اب شاید کوئی چیز رہ ہی نہیں گئی ہے؛ کیونکہ ’انفرادیت‘ کو اس سے پہلے ہی خوب پروان چڑھا لیا گیا ہے، نیز اس ’’روایتی‘‘ سماجی دباؤ کی جگہ لینے کےلیے جدید میڈیا کی تخلیق کردہ ’رائےعامہ‘ تشریف لاچکی ہے جس کے سب تار اسی مفسد فی الارض کی جانب سے ہلائے جاتے ہیں۔ یعنی ہماری اِس چیز کو بھی وہی لے اڑے۔ (یہاں پر المورد نے اپنا ’تفسیرِ دین‘  کا فرض پورا کرتے ہوئے، شریعت کے معروف و منکر کو اِس ’رائے عامہ‘ کے ساتھ جوڑ دیا)۔  قصہ کوتاہ... اُدھر سے کفر کی یلغار، اِدھر سے دین کی یہ تفسیرِ نو،  ایک ہی کہانی مکمل کرتے چلے جا رہے ہیں۔  اِن کی اِس شبانہ روز ’تحقیقی‘ مساعی (اور بیک وقت کئی کئی چینلوں پر چلنے والی ’میڈیا‘ سرگرمی) کے نتیجے میں لامحالہ مسلم ’’فرد‘‘ روزبروز  تنہا، نہتا اور مقہور ہوتا چلا جائے گا اور وحیدالدین صاحب کی بیان کردہ ’دین کی روح‘ زیادہ سے زیادہ تسکین پاتی چلی جائے گی!

[‌ج]   جدید ریاست کے چار عناصر یوں بیان ہوتے ہیں: آبادی، رقبہ، حکومت اور حاکمیتِ اعلیٰ۔

1.        ان میں سے آخری چیز یعنی حاکمیتِ اعلیٰ sovereignty  اِن ریاستوں کے یہاں بہت سے معنوں میں یقیناً وجود رکھتی ہے، ہمیں بھی اس سے انکار نہیں ... لیکن ایک نہایت اعلیٰ اسلوب اختیار کرتے ہوئے  ’’پیراڈائم‘‘ کے معاملہ میں (یعنی اشیاء کی حقیقتوں اور قدروں کا تعین کرنے کے معاملہ میں) اِن ریاستوں کی حاکمیتِ اعلیٰ ’’یو۔این‘‘ کے دفتر میں جمع کرا دی گئی ہے اور بوقتِ ضرورت اِس کو وہیں پر چیک کرنا ہوتا ہے! (یو۔این چارٹر پر دستخط؛ جو اِن کی ’سوورینٹی‘ کو سب سے پہلے ایک ’’پیراڈائم‘‘ دیتا ہے)۔  لہٰذا اگر کوئی ریاست اپنے ’داخلی معاملات‘ میں قرآن کو اپنے ’قانون کا ماخذ‘ مان بھی لےتو قرآن کے حوالے اُسی پیراڈائم کے اندر رہ کر سمجھے جائیں گے جو ’’بیسک رائٹس‘‘، ’’تصورِ ریاست‘‘ اور ’’لیجس لیٹو پاورز‘‘ وغیرہ کے حوالے سے ’’یو۔این چارٹر‘‘ (وقت کی عالمی شریعت) کے یہاں مسلمات کا درجہ رکھتے ہیں۔ اِس عالمی پیراڈائم کو ’’مسلّمہ‘‘ بنا رکھنے کےلیے پورے جہان میں ’یونی ورسٹیوں‘ کا جال پھیلا رکھا گیا ہے نیز وہ پورا نظامِ تعلیم جو نیچے ’’کے۔جی‘‘ تک جاتا ہے۔ نیز یہ دیکھتے ہوئے کہ تھرڈ ورلڈ میں شرح خواندگی ویسے ہی بہت کم ہے (جس کو ’اوپر‘ لے جانے کےلیے اُن کی پریشانی اور جلدی دیدنی ہے!) اور ایک بڑی تعداد اسکولوں سے محروم ہے،  اضافی طور پر یہاں ’میڈیا ریوولیوشن‘ کا بندوبست کر ڈالا گیا۔  یہ سارا انتظام اپنے بہت سے فوائد اور نقصانات رکھتا ہوگا مگر اشیاء کی ’’حقیقتوں‘‘، ’’قدروں‘‘ اور ’’حوالوں‘‘ کا تعین (پیراڈائم) کو دماغوں میں ٹھونس ٹھونس کر بھرنے کے معاملہ میں اس کی افادیت ہر شک و شبہ سے بالا تر ہے۔علاوہ ازیں، ’عالمی برادری‘ کے خودساختہ ترجمان،  تھرڈورلڈ ممالک کو ’عالمی برادری‘ کا پابند رکھنے کےلیے بہت سے ہتھیار اور حربے اپنے پاس رکھتے ہیں۔  صرف بحری بیڑوں اور بی ففٹی ٹو بمباروں کی بات نہیں، آپ کی ’سورینٹی‘ کو ایک آئی ایم ایف کی جھلک ہی بہت کافی ہے! ہمیشہ سے ہی دنیا کی ریت رہی ہے کہ ہتھیار ’’چلانے‘‘ کےلیے بہت کم بنائے جاتے ہیں؛ یہ کہیں پر ’’پڑے‘‘ نظر آتے رہیں تو اپنا پورا فائدہ دیتے ہیں۔ انسان ایک سمجھدار مخلوق ہے؛ اپنی ’سورینٹی‘‘ کی تفسیر کرتے وقت بھی  ’’عقل‘‘ کااستعمال ترک نہیں کرتی! یہاں آپ کی ’’سورینٹی‘‘ کا ایک چھوٹا سا ٹیسٹ تو اُسی دن ہوجائے گا جس دن آپ کا سیاستدان بکاؤ مال نہ رہا۔ (’جمہوریت‘ کے نام پر ’چالیس چوروں‘ کا یہ کھیل نہایت بامعنیٰ ہے!) کسی ’’شریعت کی حکمرانی‘‘ کے معاملہ میں نہیں  صرف ’’ملکی وسائل کے تحفظ‘‘ کے معاملہ میں ہی آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ’’سورینٹی‘‘ لینے کےلیے ابھی آپ کو کتنی قیمت دینی ہے۔ غرض ’’جبر‘‘ یہاں اظہر من الشمس ہے۔

2.          ’’حکومت‘‘ کا معاملہ ’’حاکمیتِ اعلیٰ‘‘ کے ساتھ وابستہ ہے:

i.              ایک طرف یہ اُس عالمی ’’جبر‘‘ کے ماتحت ہے جو ’عالمی برادری‘ کے ’مستند‘ ترجمان ان حکومتوں پر فرض کریں۔  بلکہ ان گنت عوامل ایسے ہیں جو یہاں کی حکومتوں کے ’چناؤ‘، انکی بقاء، انکی اکھاڑ پچھاڑ اور انکی کامیابی و ناکامی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتےہیں اور اِس تیسری دنیا کو ایک خاص ڈھب پر چلانے کے معاملہ میں ’خاموش قوانین‘  کا درجہ رکھتے ہیں۔

ii.              دوسری طرف یہ (حکومتیں) اپنے داخلی نظام اور قانون وضع کرنے کے معاملے میں  ’’عالمی شریعت‘‘ کے جبر کا وہاں بھی سامنا کرتی ہیں جہاں ’بظاہر‘ اِن کو آزادی ہے۔  کسی ملک کو چور کے ہاتھ کاٹنا یا زانی کو کوڑے مارنا (’’سنگسار‘‘ کا لفظ تو شاید غشی لانے کا موجب ہو) پڑیں، آپ کو معلوم ہے وہاں کی حکومت (فرض کریں وہ دل سے یہ چاہتی بھی ہو) اس پر کیسا کیسا ’’خوف‘‘ محسوس کرے گی۔ حکومت (جی ہاں ’’حکومت‘‘ جو ’’اپنے‘‘ ملک میں سیاہ وسفید کی مالک ہوتی ہے) کو اس کے کیسے کیسے بھیانک نتائج ذہن میں رکھنا ہوں گے! ایک ملک میں حکومت سود کو ختم کرنے کی ’خواہش‘ رکھتی ہو تو بھی اُسے باربار ’’باہر‘‘ کی طرف دیکھنا ہوتا ہے، آخر کس سے یہ بات اوجھل ہے؟ جبکہ یہ سب مسئلے بظاہر اس کے داخلی مسئلے ہیں جن کو اپنی ’مرضی‘ سے طے کرنے کا وہ پورا حق رکھتی ہے!

iii.            تیسری طرف، عالمی برادری کے ’مستند‘ ترجمانوں کے وہ کھلے اور خاموش تقاضے جو اِن ملکوں کے عوام، یہاں کے رہن سہن، تعلیم، ثقافت اور روزمرہ معاملات سے متعلق ہوتے ہیں، اُن کو یہاں پر ’’چلانے‘‘ کے معاملہ میں اُس عالمی ’’جبر‘‘ کا حصہ بننا ’’حکومت‘‘ کے فرائضِ منصبی میں جانئے! طوعاً و کرھاً؛ عالمی فیشنز کو وقت کا رائج کا سکہ بنانے میں ’’حکومتوں‘‘ کو ایک مشین کا کام دینا ہوتا ہے؛ اور یہ بات شاید ہی کسی پر مخفی ہو۔ یعنی جبر بالائے جبر۔

3.        ’’رقبہ‘‘ جمادات میں آتا ہے۔ پس ویسے تو اس کا کوئی حکم نہیں۔ پھر بھی وہ اراضی جو چرچ، مندر اور سنیگاگ کی بجائے مسجدوں کی تعمیر اور اذانوں اور تکبیروں کے نشر ہونے کے کام آئے وہ اُس کی نظرِ کرم کے حوالے سے بالعموم ’قحط‘ کا شکار رہتی ہے۔ ماضی قریب کے متعدد واقعات بتاتے ہیں،  ایسے ہر ’رقبے‘ کو ہر دم چوکنا رہنا ہوگا کہ کسی بھی وقت اُس میں ’سیاست‘ کی کوئی ہڑبونگ مچے  اور ہوش آئے تو وہ اپنے کسی ایک قطعے سے محروم کردیا گیا ہو! ایسی ’قدرتی‘ آفتیں سب سے زیادہ زمین کے اُن خطوں پر آتی رہی ہیں  جو ’’فرعون‘‘ کی نظر سے ’’بنی اسرائیل‘‘ کے طور پر دیکھے جائیں! غرض آپ کے ’رقبے‘ تک اِس جبر سے محفوظ نہیں۔ اسلام سے نسبت رکھنے کی صورت میں؛ ماڈرن ریاست میں ’’رقبہ‘‘ اور ’’آبادی‘‘ اُتنا مقدس نہیں جتنا سوکس civics  کی کسی کتاب میں دیکھ کر آپ کو محسوس ہوتا ہے! اس (ماڈرن ریاست) کو آپ ایک رقبے کی بجائے دو رقبے کردیں وہ فی الفور اس کے مطابق اپنا آپ ’ایڈجسٹ‘ کرلے گی! پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین ریاست کا ایک بنیادی عنصر ’’رقبہ‘‘ کیا دو ٹکڑے نہیں ہوا؟ کیا ’جدید ریاست‘ کے تصور کو کوئی فرق آیا؟ فرق آیا ہوگا آپ کے اسلام کو (آخر میں ان اقوام کا سگا پھر اسلام ہی بچے گا، ان شاء اللہ۔ اور وہی ان سب کا باپ ہے، باِذن اللہِ تعالیٰ)۔ فرق آیا ہوگا آپ کے تاریخی رشتوں کو، جو سن اکہتر اور  سن سنتالیس ہی نہیں سن  ستاون (1857) سے پیچھے جاتے ہیں، کیا ’جدید ریاست‘ کو بھی کوئی فرق آیا!؟ اور اگر خدانخواستہ آپ ان میں سے ایک ایک کے مزید دس دس ٹکڑے کردیں تو بھی ’جدید ریاست‘ کو کیا فرق آئے گا؛ اِس کو آپ جہاں رکھ دیں یہ وہاں ہے! اِس کو جہاں ’’چار ایلی منٹ‘‘ میسر آئیں یہ وہاں بیٹھ جائے گی۔ صرف ’عالمی برادری‘ کے ہاں رجسٹریشن درکار ہوگی؛ ہاں اُس کے بغیر اِس کا برا حشر ہوتا ہے؛ بلکہ اُس کے بغیر یہ ’جدید‘ ہوتی ہی نہیں ’’پتھر کے دور‘‘ کی چیز ہوتی ہے!

4.        ریاست کا ایک بنیادی عنصر ’’آبادی‘‘ ہے۔  سب سے اہم کام اِس کو قابو میں رکھنا ہے۔ پس ’’جبر‘‘ کا سب سے بڑا محل آج کے دور میں یہ ہے۔ ’خاندانی منصوبہ بندی‘ اور ’برین ڈرین‘ و ’امیگریشن انجنئرنگ‘ سے لے کر ’جدید تصورِ شہریت‘ تک، ’تعلیم‘ اور ’ابلاغ‘ کے بےرحم تھپیڑوں سے لے کر ’بڑے شہروں‘ metropolitan   کا کلچر لانے تک (کہ جہاں سماجی رشتے ختم ہو کر رہ جاتے ہیں اور پڑوسی برس ہا برس اپنے پڑوسی کو نہیں جانتا، یعنی وہ ’’آبادی‘‘ نہیں ہوتی بلکہ یہاں کے ’رہائشی‘ ہوتے ہیں!)، ’تفریح‘، ’سیاحت‘، میوزک، سنیما، تھیٹر، آرٹ، فیشن، مقابلہ ہائے حسن، ماردھاڑ فلم کلچر، مافیاز اور این جی اوز سے لے کر قانونی قحبہ گری ‘licensed prostitution’ کو عام کروانے، ’’ازدواجی زندگی‘‘ کو مضحکہ خیز اور ’چٹکلوں‘  کا موضوع اور اس کے مقابلے پر ’رومانس‘ کو ’مقدس‘ اور ’ملکوتی‘ بنا کر پیش کرنے، شادی کو مشکل اور بدکاری کو آسان کرنے، اور اب آخر میں ’ہم جنس پرستوں‘ کے غول چھوڑنے اور ہر جگہ ان کے ’حقوق‘ کی بات کروانے تک...  ایک مخصوص عالمی ایجنڈا آج پوری دنیا میں دندناتا ہے۔ اِس کی یکسانیت uniformity   نصف النہار سے واضح تر ہے؛ حیرت اُن ’دانشوروں‘ پر ہے جو اِسے دیکھنے (اور اس کے پیچھے ایک بدبودار ’عالمی بستی‘ کی چاپ سننے) سے قاصر ہیں۔ قوموں کی قومیں آج اس کے بینڈ پر ڈرل کرتی ہیں۔ ایسی طاقتور انجینئرنگ کہ چند عشروں میں آپ کسی ’’آبادی‘‘ کے خدوخال بدل کر رکھ دیں۔ ایک ’پیپسی‘ اور اس کے ’اَیڈ‘ کے ساتھ ہی سب کچھ چلا آتا ہے! بجلی کے ’تار‘ کے ساتھ ہی پورا کلچر ڈھیر كرديا جاتا ہے۔ یہ ننھا ’موبائل‘ ہی پورا ایک جہان ہے! آنکھ کھولیں تو چند برسوں میں نقشہ ہی کچھ سے کچھ ہوا پڑا ہے۔ کہنے کو ہر ریاست ’خودمختار‘، مگر ثقافت ،تعلیمی نظریات اور سوچ کے سانچے صرف ایک سرچشمے سے! (اور اس کو اِن آبادیوں پر ’فرض‘ ٹھہرانے کی کہانی کبھی سنیں تو آپ دنگ رہ جائیں)۔  یونی ورسٹیاں آپ کی، ان میں جو پڑھایا جائے گا وہ باہر کا۔ استاد ایک، شاگرد سبھی۔ پیشوا ایک، پیرو جہان۔ باقی سب اس کو ’ناں‘ کر ہی نہیں سکتے ’جدید‘ رہنا ہے تو اُس کو ’’ہاں‘‘ ہی ہوگی؛ آپ ہندو آبادی ہیں تو آج اپنی اشیاء کو اس سے ’ہم آہنگ‘ کرنے میں لگے ہوں گے، بدھ ہیں تو تب، مسلم ہیں تو تب! سو سال پہلے کا حال دیکھ لیں اور آج کی تصویر؛ دنیا کی سب بڑی بڑی آبادیاں ماڈرن سٹیٹ میں ڈھلتےڈھلتے کسی اور ہی ’سٹیٹ‘ میں ڈھل گئی ہیں۔ اور جو کام رہ گیا وہ بڑی تیزی سے ’’مکمل‘‘ ہو رہا ہے۔ اس ’’جبر‘‘ کے آگے سَپر ڈال رکھنے کے باوجود البتہ اگر آپ ایک ’مسلم اکثریتی آبادی‘ ہیں تو آپ کو بہت سی اضافی قیمت دینا پڑے گی۔ آپ اُن کی کھینچی ہوئی حدوں کی جتنی مرضی پاسداری کرلیں، بطور ایک ’’مسلم اکثریتی ملک‘‘ اگر آپ جنوبی ایشیا میں ہیں تو بھارت کے مقابلے پر، قوقاز میں ہیں تو روس کے مقابلے پر، مشرقِ وسطیٰ میں ہیں تو اسرائیل کے مقابلے پر، بحر ابیض میں جنوبی قبرص کے مقابلے پر،قرنِ افریقی میں ایتھوپیا کے مقابلے پر، بلقان میں صربیا کے مقابلے پر، اور جنوب مشرقی یورپ میں یونان کے مقابلے پر آپ کو جس عدم استحکام کا سامنا ہے وہ ایک معلوم حقیقت ہے۔ علیٰ ھٰذا القیاس۔ (ابھی ہم اُن بڑی بڑی آبادیوں کی بات نہیں کررہے جو بیچاری ’مسلم اکثریتی‘ ہونے سے رہ گئیں؛ یہ تصویر دیکھنا چاہیں تو آپ کو گجرات، کشمیر، برما، فلیپائن، سوویت ریاستوں اور مشرقی یورپ جانا ہوگا، اور چھوٹی آبادیوں کا تو ذکر ہی کیا!)  یہ ’’جبر‘‘ جو ’مسلم حکومتوں‘ کی سطح پر کہیں ڈر تو کہیں لالچ کو کام میں لا کر انجام پاتا ہے، اس کی آخری منزل یہاں کی ’آبادیاں‘ ہی ہوتی ہیں۔ اِن کی تراش خراش مسلسل چلتی ہے؛ یہاں تک کہ محض ایک سو سال کی محنت کرلینے کے بعد بڑی کامیابی کے ساتھ یہاں اب ’گلوبل ولیج‘‘ کی باتیں ہونے لگی ہیں۔ یعنی یہ ’جدید ریاست‘ اب کچھ اور بھی ’جدید‘ ہونے والی ہے۔  خود ’نیشن سٹیٹ‘ کے بہت سے پیچ ڈھیلے ہونے والے ہیں۔ ہمارے ’اسلامی ‘ ہیومنسٹوں پر ’تحقیقات‘ کا بار شاید کچھ مزید آپڑنے والا ہو! آپ دیکھتے رہئے گا، ہم مسلمانوں کی عالمی ’’الجماعۃ‘‘ کے خلاف ’کتاب و سنت‘ سے جو ڈھیروں دلائل دریافت ہوئے تھے، کچھ مزید تحقیق و تدقیق کے بعد وہی دلائل اُن کی عالمی ’کمیونٹی‘ کےحق میں بولنے لگیں گے! یعنی یہ دو دھاری دلائل ہوں گے جو بیک وقت ہمارے اجتماعی وجود کو بےجان اور اُن کی ’جماعۃ‘ کو زندگی دیتے چلے جائیں گے۔

[‌د]    یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ’بھارت‘ جو ایک وحدت نہیں تھا، انگریز کے ہاتھوں ’وحدت‘ بنا۔ دوسری جانب ’’عرب‘‘ جو ایک وحدت تھا انگریز کے ہاتھوں ’درجنوں ممالک‘ بنا۔ دونوں کام ایک ہی دور میں اور  چند عشروں کے اندر مکمل ہوئے۔ (اوپر ’مابعد رنجیت سنگھ بھارت‘ اور ’’مابعد عثمانی خلافت عالم عرب‘‘ کا ایک مختصر موازنہ گزر چکا ہے)۔

[‌ه]   ان گنت تجزیہ کاروں نے یہ بات نوٹ کروائی ہے کہ بیسویں صدی میں ’’طاقت کا کھیل‘‘ کیوں یورپ سے نکل کر روس اور امریکہ کے پاس چلا گیا یہاں تک کہ برطانیہ جیسا ’ببر شیر‘ اب امریکہ کے پیچھے ’’کمّیوں‘‘ کی طرح پھرتا ہے۔ (علاوہ بہت سے دیگر اسباب)،  وہ کہتے ہیں اس کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ امریکہ اکیلا تقریباً ایک پورے براعظم پر مشتمل ہے۔ روس کا رقبہ ایسے ہے گویا آدھی دنیا۔  یہ دونوں ملک (استعماری عزائم کے ساتھ ساتھ) اتنے حیرت انگیز طور پر  بڑے رقبوں کے مالک ہوگئے تھے اور اس وجہ سے اتنے ناقابلِ اندازہ وسائل ان کے ہاتھ آگئے تھے کہ یورپی ’قوتیں‘ ان کے مقابلے پر تقریباً روپوش ہی ہوگئیں۔ مغربی یورپ ایک تو خود چھوٹا سا، پھر وہ اتنے سارے ’خودمختار‘ چودھریوں میں بٹا ہوا۔ پس یورپی قوتوں کا طوطی اُس وقت تک ہی بول سکتا تھا جب تک روس اور امریکہ ایسے بڑے بڑے جغرافیائی دیو میدان میں نہ آئے تھے اور وہ صرف عالم اسلام جوکہ ’تھرڈ ورلڈ‘ تھا، کے مقابلے پر ہی ’قوتیں‘ تھیں۔ آخر یورپ کے لوگوں نے یہ فرق ختم کرنے کی ضرورت محسوس کی اور ’’یورپی یونین‘‘ کا ڈول ڈالا لیکن ان میں سے ایک ایک ملک کا ’صدیوں سے چلی آتی‘ ایک ’’الگ قوم‘‘ اور ’’الگ ملک‘‘ ہونا اس یونین میں وہ ہم آہنگی لے آنے کے اندر ابھی تک مانع ہے جو ان کو روس اور امریکہ کے انداز کی ’’وحدت‘‘ بنا دے؛ نہ فرانس اپنے آپ کو ’’گم‘‘ کرنے پر تیار نہ جرمنی اور نہ برطانیہ۔ بلکہ ان کے دل اس قدر پھٹے ہوئے ہیں کہ برطانیہ امریکہ کا کمّی ہونے کے باعث ابھی تک وہ سنجیدگی دکھانے پر آمادہ نہیں جو جرمنی اور فرانس دکھا رہے ہیں۔ غرض ’’الگ الگ ملک‘‘ ہونا یورپی یونین کو وہ بڑی جغرافیائی وسیاسی وحدت عطا نہیں کرتا جو روس و امریکہ کو حاصل ہے۔جرمنی، فرانس، برطانیہ، یونان، ہالینڈ، آسٹریا، اٹلی، سپین اور پرتگال کو اپنا  الگ الگ قوم ہونا بھلا کر اور ان میں سے ایک ایک کا ’پدرم سلطان بود‘ والا زعم چھوڑ کر اِن نئی عالمی حقیقتوں کو سمجھنے اور ایک بڑی یورپی وحدت میں اپنا آپ ’’گم‘‘ کرنے میں اچھا خاصا وقت درکار تھا اور شاید ہے۔ اِس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئےچین اچھی خاصی جگہ بنا  چکا۔ انڈیا بہت سی جگہ لے چکا۔ لاطینی امریکہ انگڑائیاں لینے لگا۔ مگر یورپی قوتوں کےلیے اپنا وہ پرانا مقام بچا رکھنا ہی دشوار رہا؛ جس کی وجہ ان میں سے ایک ایک کا ’قومی‘ نخرہ ہے جو ایک دن میں جانے والا نہیں۔ نئی عالمی حقیقتیں یہاں ایک ایک کو سیدھا کرکے چھوڑیں گی، ورنہ مرگِ مفاجات!

یہاں سے آپ پر واضح ہوجاتا ہے کہ کرۂ ارض پر ذلیل اور دست نگر ’راجواڑوں‘ کے طور پر رہنے کی بجائے سراٹھا کر چلنے والی ’’امت‘‘ کے طور پر رہنا ’’ایک بڑی جغرافیائی وسیاسی وحدت‘‘ ہونے پر کس قدر انحصار کرتا ہے، اور وہ بھی ایسی یکجان کہ ’آئی سی‘ یا ’رابطہ عالم اسلامی‘ وغیرہ تو خیر بالکل ہی مذاق ہے، اس کےلیے ’’یورپی یونین‘‘ تک کام نہیں دیتی۔ اس کےلیے کم از کم بھی روس، امریکہ، چائنا اور انڈیا ایسی ’’وحدتیں‘‘ درکار ہیں (یعنی ’’ایک ملک‘‘ ہوکر رہنا)۔ اِس عالمی سیناریو میں عزت دار رہنے کےلیے کیا آپ کے پاس ’’جماعۃ المسلمین‘‘ کے احیاء کے سوا کوئی مفر ہے اور جبکہ وہ آپ کی ’ضرورت‘ ہونے سے پہلے آپ پر ایک ’’فرضِ دینی‘‘ ہے؟

عَلَيْكُمْ بِالجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالفُرْقَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، مَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الجَمَاعَةَ  (سنن الترمذی 2165، سنن النسائی 9181،  مسند أحمد 23165، صححہ الألبانی صحیح الجامع الصغیر 2546) ’’ایک جماعت بن کر رہو۔ خبردار پھوٹ میں نہ پڑنا؛ بے شک شیطان اکیلے آدمی سے قریب جبکہ دو سے دورتر ہوتا ہے۔ جو آدمی جنت کے ٹھاٹھ چاہے اُسے چاہئے کہ ’’جماعت‘‘ کو لازم پکڑے‘‘۔

فی الحال ایک عرصے تک اگر یہ ذلت اور دربدر کی ٹھوکریں ہی ہمارا مقدر ہے وہ تو پھر ہے۔ صدیوں کی غفلت کا خمیازہ کسی چٹکی بجانے سے نہ ٹلے گا۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ کا اٹھنا کوئی ایک دن میں ممکن نہیں، یہ سچ ہے۔ اِس درمیانی عرصے میں حالیہ سیٹ اپ کے ذریعے جتنے نقصانات اپنی امت سے دفع کیے جاسکتے ہوں کیے جائیں اور جتنے مصالح ممکن بنائے جاسکتے ہوں بنائے جائیں، اس میں ہرگز کوئی قباحت نہیں۔ لیکن ’’الجماعۃ‘‘ کی دعوت تو زور و شور سے اٹھائی جائے۔ وہ ذلت آمیز صورتحال جو آج ہمیں درپیش ہے اس کو اصولی سطح پر تو رد کیا جائے۔ اس ذلت کی فکری بنیادوں کو پاش پاش تو کیا جائے۔ ’’الجماعۃ‘‘ کی کوئی تحریک تو اٹھے! اس کی فکری بنیادیں تو کھڑی کی جائیں! اس میں کیا شک ہے کہ ایک اعلیٰ ترین شریعت رکھنے والی یہ عالمی امت جو جغرافیائی طور پر خودبخود ایک بلاک ہے اور جو یورپ، افریقہ اور ایشیا کو ایک وحدت بناتی اور ہر سال خانہ کعبہ میں اکٹھی ہوکر خدائے واحد کو سجدہ کرتی اور اپنے ’’ایک‘‘ ہونے کا وہ پرانا سبق یاد کرتی ہے... یہ اپنے مابین وحدت کے ایسے عظیم عوامل رکھتی ہے جو نہ دنیا کی کوئی ’نیشن سٹیٹ‘ اپنے پاس رکھتی ہے، نہ کوئی ’ریجنل ٹریٹی‘، نہ کوئی ’ٹریڈ گروپ‘،  نہ کوئی ’یونین‘ اور نہ کوئی ’یونائٹد سٹیٹس‘۔ توحید ان کے دلوں کو جوڑتی ہے تو ان میں ایسی محبت آتی ہے (الحب فی اللہ والبغض فی اللہ) کہ دنیا کے سب رشتے اس کے آگے ماند پڑ جائیں۔  ’’میرِ حجازؐ‘‘ ان کے دلوں میں کچھ ایسے تار چھیڑتا ہےکہ یہ امت دنیا کو الٹ دینے کےلیے کھڑی ہوجاتی ہے۔ ان میں ایسی وحدت اور ہم آہنگی آتی ہے کہ زبان اور خون کے رشتے اس کے آگے ہیچ ہوتے ہیں۔ جس وقت روس کے خلاف افغان جہاد ہورہا تھا... تو بخدا ہم نے  ایک ایک مورچے میں یمن، حجاز، شام، مصر، سوڈان، قیروان، بلقان، بربر، قرنِ افریقی، فارس، خراسان، پنجاب، سندھ، دکن، ماوراء النہر، نیپال، فلیپائن اور انڈونیشیا کے نوجوانوں کو ایک دوسرے پر یوں فدا ہوتے دیکھا تھا جیسے ان سب کو ایک ماں نے جنا ہو! آپ کا نظامِ تعلیم اور آپ کا میڈیا اِس ’’محبت‘‘ کے نغمے کبھی چھیڑ کر تو دیکھے... چند دنوں میں عالمِ کفر پر اگر لرزہ طاری نہ ہوجائے! چند دنوں میں مراکش تا انڈونیشیا زندگی کی ایک نئی نہ دوڑ جائے اور یہ مردہ وجود اٹھ کھڑا ہونے کےلیے خودبخود بےچین نہ ہوجائے! یہ محبت اور یہ رشتہ جو ’’ایمان‘‘ سے پھوٹتا ہے اس کے ٹکر کی کوئی چیز دنیا میں پیدا نہیں ہوئی! قرآن کی قوت بڑی دیر سے دنیا نے دیکھی ہی نہیں!

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی حامد کمال الدین ذیل میں میری ۔۔۔
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
جہاد- تحريك
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين