عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, August 8,2020 | 1441, ذوالحجة 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ابن تیمیہؒ کی تقریر... ’’سوشل کونٹریکٹ‘‘ کا ابطال
:عنوان

یہ بندگی فرض ہوئی کہاں سے؟عہدِ سوشل کونٹریکٹ سے؛جسپر چاہےآپ نےکبھی صاد نہ کیا ہو مگرروسو اور کانٹ کی آنکھ نےآپکی وہ کارروائی ہمیشہ کےلیےمحفوظ کرلی،لہذا وہ سند ہےاور تاقیامت کارآمد!یہ واحد عقد ہےجو ناقابل فسخ ہے

. اصولمنہج :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

Text Box: 100(خلافت و ملوکیت) تعلیق 18[1]

ابن تیمیہؒ     کی تقریر... ’’سوشل کونٹریکٹ‘‘ کا ابطال

ابن تیمیہ﷫  کا یہ بیان نہایت اہم اور لائقِ توجہ ہے۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘  کا لزوم اور ’’امارۃ المؤمنین‘‘ کی اطاعت آدمی پر اُسی طرح فرض ہے جس طرح پنجوقتہ نماز، روزہ اور حج۔ یہ خدا کی طرف سے فرض ہے آدمی کے اپنے ووٹ، یا دستخط، یا اتفاق نامے سے فرض ہونے والی چیز نہیں۔ ’’اطاعت‘‘ کا مصدر ہمارے ہاں ’’خدائی شریعت‘‘ ہے۔ خدا، جو انسان میں روح ڈالتا، اس کو کھلاتا، پلاتا اور کائنات کی سب قوتوں کو اس کے کام میں لگاتا ہے، اور آخر میں وہی اِس کی جان لیتا اور اس کو اپنی عدالت میں کھڑا کرتا... وہ خدا جو چاہے انسان پر فرض کرے؛ صرف اُس کے فرض کرنے سے چیزیں فرض ہوں گی ورنہ ہرگز نہ ہوں گی۔ البتہ وہ مہربان، دانا اور غنی ہے؛ انسان پر وہی چیز فرض کرتا ہے جو اِس کی فطرت کے موافق، اِس کے فائدے کی موجب اور اِس کے مقدور کے اندر ہو۔

یہاں سے ’’شہریت‘‘ کا جدید تصور نہ صرف باطل ہوجاتا ہے بلکہ مسلمانوں کی ضرورت ہی نہیں رہتا:’’فرد‘‘ پر ’’جماعت‘‘ کا لزوم اور ’’اطاعت‘‘ خدا کے فرض ٹھہرانے سے فرض ٹھہرتی ہے، عین اُسی طرح جس طرح ’’نماز‘‘ اور ’’روزہ‘‘ اُس کے فرض ٹھہرانے سے فرض ٹھہرتا ہے۔ اُس کے سوا کوئی ہستی ہے ہی نہیں جو انسان پر کچھ فرض کرے۔ تصور کرلیجئے، اسلام میں انسان ’’عبد‘‘ ہوتے ہوئے اتنا معزز ہے کہ کوئی اسے حکم نہیں دے سکتا سوائے اُس ایک ہستی کے جس کا یہ عبد ہے اور جو اِس کی خالق ہے۔ ’’عبد‘‘ ہوتے ہوئے یہ اِدھر اتنا معزز ہے جتنا اُدھر ’’خدا‘‘ ہوتے ہوئے معزز نہیں ہے... کیونکہ اُدھر  کچھ انسانوں (درحقیقت بھیڑیوں) کو اس کے جان و مال میں مطلق تصرف کرنا اور اِس کو اپنے ’قوانین‘ کا پابند کرنا ہے!

یہ واردات ’’ریاست‘‘ کے نام پر ہوتی ہے۔ کسی ’دلیل‘ سے ایک بار ’’ریاست‘‘ کو انسان کا مطاع ٹھہرا لیا جائے تو پھر اگلے سب مراحل آسان ہوجاتے ہیں۔ ایک خاص ذہین اور طاقتور طبقہ وسائل اور ساہوکاری کا جادو جگا کر ’’ریاست‘‘ کے روپ میں عام انسان کا مطاع ہوجائے گا[2]   اور پھر اپنے ’قوانین‘ وغیرہ کی صورت میں مسلسل اس سے اپنی ’’عبادت‘‘ کروائے گا۔

تو پھر ’’ریاست‘‘ کی اطاعت کس دلیل سے فرض ٹھہرائی جائے؟

ہر ملک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے کام سے کام رکھتی اور وہاں کے سیاسی عمل سے کسی بھی انداز کا سروکار نہیں رکھتی؛ اسکی مجبوری صرف اتنی ہے کہ وہ یہاں پر ’پیدا‘ ہوئی ہوتی ہے! اتنے لوگوں نے یہاں کے سیاسی عمل سے کوئی سروکار نہیں رکھا، آخر کیسے کہا جائے کہ انہوں نے ریاست کو اپنی مطلق اطاعت کا راضی نامہ  consent  دے دیا ہے؟ انکے جان، مال، آبرو[3]  میں ریاست کس دلیل سے تصرف کرے... جبکہ مطلق مطاع بنے بغیر اسکا گزارہ ہی نہیں؟!

  اس کےلیے کچھ مغربی مفکرین مانند  روسو نے ’’سوشل کونٹریکٹ‘‘ کا نظریہ گھڑا؛ جس کی رو سے ایک شہری کی بابت یہ فرض کر لیا جائے گا کہ وہ  وہاں کے نظام کا مطیع ہونے کی حامی بھر چکا ہے۔ انسان جوکہ عقیدہ ہیومنزم کی رو سے ویسے تو ’’آزاد‘‘ اور ’’اپنی مرضی کی مالک‘‘ ہستی ہے جو کسی چیز کی پابند نہیں کی جاسکتی۔ مگر ’’ریاست‘‘ بھی ایک خدا ہے جس کا مطاعِ مطلق ہوئے بغیر گزارہ نہیں۔ اس تناقض کو ختم کرنے کیلئے روسو یہ ’فرض‘ کرلیتا ہےکہ ایک ’شہری‘ اپنے گرد پائی جانے والی انسانی جماعت اور اسکے نظم کی اطاعت کی حامی بھر چکا ہے اور وہ ایسی حامی ہے کہ آدمی اس نظم کی اطاعت سے اگر صراحت کے ساتھ ’ناں‘ کرے تو بھی اُس کی ’ہاں‘ ہی ہوگی! المختصر جیسے ہی آپ ’شہری‘ ہوئے آپ ’آزاد‘ نہیں رہے؛ آپکی وہ آزادی آپ سے سلب ہوکر ریاست کے پاس چلی گئی ہے؛ اب آپ صرف وہاں پر آزاد ہیں جہاں ریاست آپکو آزادی دے۔ ہاں مگر یہ اعتقاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ آزادی آپ نے خود ہی اپنے حق میں ختم کرلی کسی نے آپ پر فرض نہیں کی! یعنی آپکو پتہ تک نہیں چلا، اِس ریاست میں آنکھ کھولتے ہی آپ نے ایک ایسا ایگری منٹ سائن کرلیا جس کو آپ زور بھی لگا لیں تو منسوخ نہیں کر سکتے!!! آپکو کوئی چناؤ نہیں دیا گیا مگر آپ نے ان میں سے ایک بات کا چناؤ کرلیا!

یہ ہے ہابس، لاک، روسو اور کانٹ کا پیش کردہ نظریۂ سوشل کونٹریکٹ!

یہاں سے جماعت (ریاست) کی خدائی بھی قائم ہوگئی  اور جماعت آدمی کے جان اور مال میں متصرف بھی ہوگئی، یہاں تک کہ شہری کو  subject  کا نام دینے لگی (اس کے بغیر کاروبارِ ریاست چل بھی نہیں سکتا!) یعنی صاف اطاعت... لیکن کوئی ایسی بالاتر ہستی بھی ’فرض‘ کرنا نہیں پڑی جو انسان کو جماعت کا پابند کرتی ہو!

اِس فوجداری کا حال یہ ہے کہ آپ یہ تک نہیں کہہ سکتے کہ چلئے میں ریاست کے ’عطاکردہ‘ وسائل اور مواقع ہی نہیں لیتا جس کے عوض ریاست مجھے اپنا بندہ  subject     بناتی ہے؛ میں کسی جنگل یا صحرا میں جا کر رہ لیتا ہوں تاکہ مجھے ریاست کی بندگی نہ کرنی پڑے۔  یہاں ریاست آپ کو کہتی ہے، یہ جنگل اور صحرا بھی میرے ہیں؛ میری عبادت سے نکل کر تم جا کہاں سکتے ہو؟ پس یہ پوری زمین کسی نہ کسی ’ریاست‘ کی جاگیر ہے، لہٰذا کسی نہ کسی ’ریاست‘ کی بندگی آپ پر فرض ہے۔ یہ بندگی فرض ہوئی کہاں سے؟  عہدِ سوشل کونٹریکٹ سے؛ جس پر چاہے آپ نے کبھی صاد نہ کیا ہو مگر روسو اور کانٹ کی آنکھ نے آپ کی وہ کارروائی ہمیشہ کےلیے محفوظ کرلی ہے، لہٰذا اب وہ سند ہے اور تاقیامت کارآمد! یہ واحد عقد ہے جو ناقابلِ فسخ ہے!

یہ ہے ریاست کی اطاعت، جس کو آپ کی زندگی میں مطلق تصرف کا حق مل جاتا ہے۔ ریاست آپ کے مال میں جتنا حصہ مقرر کرے اس کی مرضی؛ آپ اس کو ’مقدس حق‘ جان کر اُس کا وہ حصہ ادا کریں گے۔ ریاست آپ کے لیے ذرائعِ آمدن و صرف میں جائز و ناجائز کا تقرر کرے گی۔ دولت کی تقسیم کے پیمانے وضع کرے گی۔ تعلقاتِ مردو زن کا تعین کرے گی۔  سزاؤں کا ضابطہ وضع کرے گی؛ جس کی رو سے وہ انسانوں کی جان تک لینے کی مجاز ہے۔ کس چیز کو وہ جرم سمجھے گی اور کس چیز کو جرم نہ سمجھے گی، آپ کی زندگی میں ان سب قدروں کا تعین کرنا ریاست کا اختیار ہےجس کو یہاں کا ’شہری‘ ہونے کے ناطے ریاست میں ’پایا جانے‘ والا ہر ابن آدم اپنے گلے کی زینت بنا چکا ہے۔

جبکہ اِدھر...  ’’جماعت‘‘ کے لزوم اور ’’اولی الامر‘‘ کی اطاعت کا حکم خدائے علیم و حکیم کے دربار سے آتا ہے۔  اس صراحت کے ساتھ کہ یہ ’’جماعت‘‘ یا اِس کے ’’اولی الامر‘‘ اُس کے بندوں کے جان و مال میں صرف اُس حد تک تصرف کرسکتے ہیں جتنی وہ اجازت دے۔ خود ’’جماعت‘‘ اُس کی شریعت کی پابند ہےاور اُس کے بندوں کے جان، مال اور آبرو میں اُس کی اجازت کے بغیر ایک ذرہ تصرف کرنے کی مجاز نہیں۔ (اس کے ساتھ وہ ایک ایسی مفصل شریعت دیتا ہے جس میں اموال، ارواح اور اَعراض وغیرہ کے معاملہ میں سب اہم اہم فیصلے وہ خود ہی کردیتا ہے، یعنی اس معاملہ میں وہ اشرافیہ کا تشریعی کردار ہی ختم کردیتا ہے۔ پھر وہ ایسے اعلیٰ فیصلے ہیں کہ جس دانا نے بھی اُن کا مطالعہ کیا، اُس کی حکمت اور دانائی پر اَش اَش کر اٹھا کہ کس طرح ایک محکم شریعت کے ذریعے اُس نے انسانی زندگی سے ظلم، استحصال، بےحیائی، غلاظت، سفلہ پن اور تذلیلِ انسانیت کی راہیں مسدود کرکے رکھ دیں... ایک حرمتِ سود کا مسئلہ ہی پوری زمین کو سکھ کا سانس دلانے اور ساہوکاری کا ناطقہ بند کردینے کےلیے قیامت تک کافی ہے!) خود  ’’فرد‘‘ کو اُس کی واضح ہدایت ہے کہ جہاں خالق کی نافرمانی لازم آتی ہو وہاں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں۔ ’’جماعت‘‘ اور اس پر قائم ’’امارت‘‘ کی اطاعت بھی اُس کی اپنی اطاعت کے تابع ہے۔ اُس کی خدائی پر ایمان لانا زمین پر سکھ کی ضمانت ہے۔

یہ ہوا اسلامی پیراڈائم میں ’’ لزومِ جماعت‘‘ بمقابلہ مغربی پیراڈائم میں ’’سوشل کونٹریکٹ‘‘۔

(مزید مطالعہ کےلیے دیکھئے تعلیق 12 ’’آسمانی شریعت نہ سوشل کونٹریکٹ‘‘، گزشتہ شمارہ صفحہ101 )



[1]   ابن تیمیہ کے متن میں دیکھئے فصل اول، حاشیہ  18 (گزشتہ شمارہ ص 50)

[2]  یہ خاص ذہین، طاقتور، گھاگ طبقہ یا تو ’’ریاست‘‘ میں براہِ راست تصرف کرے گا یا ریاست کے ’نمائندوں‘ کو اپنا نوکر کرلے گا جو اس کے مفاد کا تحفظ کریں اور اس کے عوض اقتدار میں کچھ دیر مزے کریں۔ اسی گھاگ خرانٹ طبقے کو جدید زبان میں ’اشرافیہ‘ کہا جاتا ہے (آپ یہاں کسی جمہوری سے جمہوری ملک کی نشاندہی نہ کرسکیں گے جس کی الیکشن کیمپین وہاں کی ساہوکار برادری سے نظرِ کرم پائے بغیر انجام پا جاتی ہو؛ ’نوکروں‘ کی بھرتی اور سرپرستی سمجھو یہیں سے شروع ہوجاتی ہے)۔ اسی ساہوکار ایلیٹ کی اھواء پھر مختلف پہلوؤں سے ’’ریاست‘‘ کی زبان میں بولتی ہیں جس کے تقدس پر انسانیت کا ’اجماع‘ باور کرا لیا گیا ہے۔ یہ ’’اشرافیہ‘‘ ہر حال اور ہر صورتحال میں پائی جائے گی۔ كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى۔  بسا اوقات آپ مڈل کلاس کیا، پسے ہوئے طبقوں کو اوپر آیا ہوا دیکھتے ہیں، مگر اِن طبقوں کے ہی کچھ آدمی دنوں میں ’اشرافیہ‘ ہوں گے (یہ اُس صورت میں اگر وہ کسی مقامی یا عالمی اشرافیہ کا ظاہری روپ نہیں) اور ایسے ایسے کام انجام دیں گے جو کسی ’خاندانی‘ اشرافیہ کے بس میں نہ ہوں!

[3]  ’’ریاست‘‘ یہ تک قانون بنا سکتی ہے کہ آپ کی بیوی یا بہن گھر سے نکلتے ہوئے سر نہیں ڈھانپ سکتی اور اگر ڈھانپے تو سزا کی مستوجب ہے۔  ریاست آپ کی جوان بیٹی پر سیکس ایجوکیشن فرض کرسکتی ہے۔  ’کنواری ماؤں کے حقوق‘ کا قانون پاس کرسکتی ہے۔ رحمِ مادر میں پڑے بچے کے اسقاط کو جائز اور ناجائز ٹھہرا سکتی ہے۔ ہم جنسی پرستی (بدفعلی) کو ’تقدس‘ دے سکتی ہے۔ وغیرہ

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی حامد کمال الدین ذیل میں میری ۔۔۔
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
جہاد- تحريك
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
تحريك
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز