عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, August 8,2020 | 1441, ذوالحجة 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
’’الجماعۃ‘‘: وَاعۡتَصِمُوا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعاً
:عنوان

جس طرح ایک’ماڈرن سوسائٹی‘میں ’ترقی‘اور’پیداوار‘ کےآوازے کسی وقت دھیمےنہیں پڑتے، خواہ قوم نےکتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلی ہو، اسی طرح اس "الجماعۃ"(موحد سوسائٹی)میں "توحید"، "آخرت" اور "رسالت" کےتذکرے کبھی نہیں تھمتے

. اصولمنہج :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

Text Box: 90(خلافت و ملوکیت) تعلیق 14[1]

’’الجماعۃ‘‘: وَاعۡتَصِمُوا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعاً

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا؛ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَأَنْ تناصحوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ                                                  (صحیح مسلم رقم 1715)

ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، کہ نبیﷺ نے فرمایا:  اللہ کو تمہارے لیے تین باتیں پسند ہیں: یہ کہ تم اس کی عبادت کرو بغیر اس کے کہ اُس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کرو۔ اور یہ کہ سب مل کر اللہ کی رسی سے چمٹ جاؤ اور آپس میں تفرقہ نہ کرو۔ اور یہ کہ جن لوگوں کو اللہ نے تمہارا حکمران بنایا ہے ان کا وفادار و خیرخواہ  رہو۔

حدیث میں تین چیزیں بیان ہوئیں جو اللہ کو امتِ محمدﷺ کےلیے خاص طور پر پسند ہیں:

1.        توحید: یکتا وتنہا اللہ کی عبادت، بلا شرکتِ غیرے۔

2.        جماعت: سب مل کر اللہ کی رسی کو تھام لیں، اور تفرقہ نہ کریں۔ (لزومِ جماعت) [2]

3.        مناصحت: مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو ان کے معاملاتِ کار کو چلانے والے ہوں، ان  کے ساتھ خیرخواہی اور فہمائش کا سلسلہ  رکھنا۔

1۔  توحید:

جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو وہ اس ’’جماعت‘‘ (عالمی کمیونٹی) کے وجود میں آنے کی بنیاد ہےاور اس کی سب جان اسی میں ہے۔لہٰذا اس کی باربار یاددہانی ہوتی ہے۔ چونکہ یہ دنیا کی ہر کمیونٹی سے ایک مختلف کمیونٹی ہے؛ کہ اس کی بنیاد نہ وطن، نہ قوم، نہ سٹیٹ، نہ خطہ،  بلکہ اس کی بنیاد اپنے مقصدِ تخلیق کی پہچان ہے، اپنے پیدا کرنے والے کی شناخت ہے، اُس کی عبادت اور بندگی ہے اور دنیا میں اُس کا نام بلند کرنا اور اُس کے شریکوں اور ہمسروں کا کلمہ پست کرنا ہے... لہٰذا یہ مسلسل ضروری رہتا ہے کہ اِس جماعت میں اس کی یہ حقیقت باربار تازہ کی جائے۔ جس طرح ایک ’ماڈرن سوسائٹی‘ میں ’ترقی‘ اور ’پیداوار‘ کے آوازے کسی وقت دھیمے نہیں پڑتے، خواہ قوم نے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلی ہو، اسی طرح اِس ’’الجماعۃ‘‘ (موحد سوسائٹی) میں ’’توحید‘‘، ’’آخرت‘‘ اور ’’رسالت‘‘ کے تذکرے اور ان کے ساتھ وابستگی کا اعادہ کسی وقت نہیں تھمتا۔ ’’توحیدِ عبادت‘‘ کی یہ آئینی وسماجی جہت اگلی فصل کی پہلی تعلیق میں بھی ہمارے زیرِبحث آئے گی۔

2۔  جماعت:

دوسرا فرض ہے ’’جماعت‘‘۔ جس کا مطلب ہے: ایک ہونا۔ مجتمع رہنا۔[3]  اختلاف نہ کرنا۔ ٹولیاں، گروہ، جماعتیں، دھڑے اور فرقے نہ ہونا۔ کئی کئی ملک اور کئی کئی ملتیں نہ ہونا۔

’’اجتماع‘‘ ایک ناقابلِ تصور چیز ہے جب تک کہ اُس ’’بنیاد‘‘ کا تعین نہ ہو جس کے گرد انسانوں کو مجتمع ہونا اور مجتمع رہنا ہو۔ یہ ہے آئینِ خداوندی: الکتاب۔ جس کا منصب ہی یہ بیان کیا گیا کہ اس پہ آکر انسانوں کے نزاعات ختم ہوں اور ان کے آپس میں وحدت کی ایک مستحکم بنیاد فراہم ہو۔ اسی کو ’’حبل اللہ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اعتصام بحبل اللہ کا ذکریہاں حدیث میں بھی ہوا ہے اور آیت میں بھی۔ اس موضوع پر یہاں ہم سلف کی تفاسیر سے کچھ استفادہ کریں گے:

حبل اللہ سے مراد:

طبریؒ اس پر تین تفسیریں نقل کرتے ہیں:

1.        حبل اللہ سے مراد ہے: الجماعۃ۔ یہ تفسیر عبد اللہ بن مسعودؓ سے آتی ہے۔

2.        اس سے مراد ہے: قرآن اور وہ عہد جو قرآن میں اللہ نے (اپنے بندوں سے) لیا ہے۔ یہ تفسیر خود عبد اللہ بن مسعودؓ، نیز قتادہؒ، سدیؒ، مجاہدؒ، عطاءؒ اور ضحاکؒ سے آتی ہے۔

3.        اس سے مراد ہے: خالص توحید۔یہ تفسیر ابوالعالیہؒ اور ابنِ زیدؒ سے مروی ہے۔

ابن جریر طبریؒ اس پر اپنی جامع تفسیر دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

وَاعۡتَصِمُوا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعاً: تمسَّكوا بدين الله الذي أمركم به، وعهده الذي عَهده إليكم في كتابه إليكم، من الألفة والاجتماع على كلمة الحق، والتسليم لأمر الله

یعنی مضبوطی سے پکڑ لو اللہ کے دین کو جو اس نے تمہارے لیے دستور ٹھہرایا ہے، اور اُس کے عہد کو جو اُس نے تمہارے ساتھ اپنی کتاب میں باندھا ہے، یعنی مجتمع اور ایک رہنا حق کے بول پر  اور خدا کے دستور کے تابع رہنے پر۔

حدیثِ مذکورہ کی شرح میں ترجمانِ سلف ابن عبدالبرؒ حضرت عبداللہ بن المبارکؒ کے یہ اشعار بھی لے کر آتے ہیں:

إِنَّ الْجَمَاعَةَ حَبْلُ اللَّهِ فَاعْتَصِمُوا ...          مِنْهُ بِعُرْوَتِهِ الْوُثْقَى لِمَنْ دَانَا

لَوْلَا الْخِلَافَةُ لَمْ تُؤَمَنْ لَنَا سُبُلٌ ...           وَكَانَ أَضْعَفُنَا نَهْبًا لِأَقْوَانَا

’’الجماعۃ‘‘ ہے اللہ کی رسی۔ تو پھر اس کی مضبوط کڑی سے چمٹ جاؤ۔ اُس بالادست ہستی کی خاطر۔ خلافت نہ ہوتی تو ہمارے لیے راستے ہی محفوظ نہ ہوتے۔ تب تو یوں ہوتا کہ ہم میں کا ایک ضعیف آدمی ہمارے طاقتور کےلیے مالِ غنیمت ہوتا۔[4]  

’’حبل اللہ‘‘ کے متعلق ابن عبدالبرؒ اپنی تقریر دیتے ہیں:

وَحَبْلُ اللَّهِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ فِيهِ قَوْلَانِ أَحَدُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ وَالْآخَرُ الْجَمَاعَةُ وَلَا جَمَاعَةَ إِلَّا بِإِمَامٍ وَهُوَ عِنْدِي مَعْنَى مُتَدَاخِلٌ مُتَقَارِبٌ لِأَنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالْأُلْفَةِ وَيَنْهَى عَنِ الْفُرْقَةِ

اس مقام پر ’’حبل اللہ‘‘ کی تفسیر میں (سلف سے) دو قول آتے ہیں: ایک یہ کہ اس سے مراد ہے کتاب اللہ۔ دوسرا یہ کہ اس سے مراد ہے ایکا (جماعت)۔ جبکہ جماعت بغیر امام کے ممکن نہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں معنے ایک دوسرے کے اندر داخل ہیں  اور باہم قریب ہیں؛ کیونکہ کتاب اللہ کا اپنا حکم یہ ہے کہ (مومن) ایک ہوں اور ٹولہ ٹولہ ہونے سے ممانعت ہے۔

ابن عبدالبرؒ اپنی اِس تقریر پر (کہ یہ دونوں معنے ایک دوسرے میں داخل ہیں) دلیل دیتے ہیں کہ خود عبداللہ بن مسعودؓ دو الگ الگ مواقع پر ’’حبل اللہ‘‘ کی تفسیر میں یہ دو قول بیان کرتے ہیں:

ایک: عبداللہ بن مسعودؓ   کا قول:

عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا قَالَ حَبْلُ اللَّهِ وَصِرَاطُ اللَّهِ الْمُسْتَقِيمُ كِتَابُ اللَّهِ ابو وائل، ابن مسعودؓ سے روایت کرتے ہیں بابت وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا، فرمایا:  حبلُ اللہ اور صراط ُاللہِ المستقیم ہے اللہ کی کتاب۔

دوسرا: عبداللہ بن مسعودؓ   کا خطبہ:

عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي خُطْبَتِهِ أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ فَإِنَّهَا حَبْلُ اللَّهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ وإن ما تكرهون في الجماعة خير مما تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ ثابت بن قطبہ سے روایت ہے، کہا: عبداللہ بن مسعودؓ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: لوگو! اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو؛ کیونکہ یہی ہے اللہ کی رسی جس (کو تھامنے) کا اُس نے تمہیں حکم دے رکھا ہے۔ اور دیکھو جماعت (اکٹھا رہنے) میں تمہیں جو چیزیں پریشان کرتی ہیں وہ اُن چیزوں سے کہیں بہتر ہیں جو  ٹولے ٹولے ہونے کی صورت میں تمہیں بہت بھلی لگتی ہیں۔

(التمھید مؤلفہ ابن عبد البر: 21: 269)

’’جمیعاً‘‘ کی دلالت:

یہ درست ہے کہ ’’جمیع‘‘ کا مطلب ’’سب‘‘ بھی ہوتا ہے تاہم اس کا زیادہ قوی معنیٰ ’’مل کر‘‘ یا ’’مجتمع‘‘ ہوتا ہے۔ پھر بھی اگر کوئی اشکال ہو تو تفاسیرِ سلف سے یہ واضح ہے کہ ’’جمیعاً‘ کا لفظ یہاں پر ’’جماعت‘‘ کا معنیٰ دینے میں نہایت مؤثر ہے۔

دراصل مغرب کے تشکیل کردہ جدید اندازِ معاشرت میں ’انفرادیت پرستی‘ individualism  [5]   کا اثر ہمارے ’اسلامی‘ ہیومن اسٹ ذہن نے بھی خوب لیا ہے۔ چنانچہ یہ ذہن آیتِ مذکورہ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے ’’جمیعاً‘‘  کا معنیٰ ’’مل کر‘‘ کی بجائے ’’سب لوگ‘‘ کرنے کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ یعنی اس صورت میں آیت کی مراد یہ ہوجائے گی کہ: ’’سب لوگ‘‘ اللہ کی رسی (قرآن) سے چمٹ جاؤ۔  ظاہر ہے ’’سب لوگ‘‘ کچھ ہی دیر میں ’’ہر آدمی‘‘ سے بدل جاتا ہے۔ یعنی ’’ہر آدمی‘‘ (اپنے اپنے طور پر) اللہ کی رسی (قرآن) کو مضبوطی سے تھام لے! یوں ’’جماعت‘‘  کا معنیٰ مکمل طور پر گول ہوگیا اور قرآن کے اُس مقام پر بھی جہاں (از روئے حدیث و ازروئے تفسیرِ سلف) ’’جماعت‘‘ کا حکم تھا   individualism    ثابت ہوگیا! سلف قرآن کے اِس مقام پر ’’الجماعۃ‘‘ کے مباحث بیان کرتے رہ گئے؛ اور اِن حضرات کا خیال کہ آیت یہاں ’الگ الگ‘ انسان سے مخاطب ہے!

ویسے تو اگر دیکھا جائے، قرآن وہ شریعت ہی نہیں ہے جسے ہر شخص ’اپنے اپنے طور پر‘ تھام لے تو وہ تھاما جائے؛ اسے ’’تھامنے‘‘ کےلیے کرۂ ارض پر پھیلی ایک مربوط انسانی جماعت درکار ہے۔ اوپر یہ بات واضح کی جا چکی: وَاعۡتَصِمُوا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعاً  کی تفسیر ’’لُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ‘‘  خود حدیث سے ہی ثابت ہے۔

’’وَلَا تَفَرَّقُوا‘‘

آیت میں، اور حدیث میں بھی، اعتصام بِحَبل اللہ جمیعاً کے بعد مزید تاکید کےلیے تنبیہ ہوتی ہے: وَلَا تَفَرَّقُوا۔ اس کے تحت امام نوویؒ لکھتے ہیں:

وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَفَرَّقُوا فَهُوَ أَمْرٌ بِلُزُومِ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ وَتَأَلُّفِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَهَذِهِ إِحْدَى قَوَاعِدِ الْإِسْلَامِ

(حدیثِ مذکورہ میں) نبیﷺ کا یہ فرمان کہ ’’ٹولے مت بنو‘‘: دراصل یہ جماعۃ المسلمین کو لازم پکڑنے کا حکم ہے اور یہ کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ مل اپنی شیرازہ بندی کریں۔ اور یہ اسلام کے بنیادی پایوں میں سے ایک پایہ ہے۔

3۔  مناصحت:

حدیث میں تیسرا حکم یہ ہے کہ آدمی ’’جماعۃ المسلمین‘‘ کے ڈسپلن کا پابند رہے۔ یہاں کے بااختیار افسروں کا خیرخواہ رہے۔ ان کو فہمائش کا کوئی موقع جانے نہ دے۔ ان کےلیے کلمۂ خیر کہنے میں بخل نہ کرے۔ ان کے عیوب کی پردہ پوشی کرے (نہ کہ ’جمہوری معاشروں‘ کی طرح ان کو اچھالے)۔ عوام میں ان کے لتے لینے کی بجائے  علیحدگی میں سمجھائے۔  ابن عبدالبرؓ حضرت انس بن مالکؓ  کا قول نقل کرتے ہیں کہ بزرگ صحابہ ہمیں امراء کو برا بھلا کہنے سے ممانعت فرمایا کرتے تھے۔  ابن عبدالبرؒ سلف میں سے کسی کا یہ قول بھی نقل کرتے ہیں کہ جب بھی کوئی قوم اپنے امیرکو برا بھلا کہنا روا کرتی ہےخیر سے محروم کردی جاتی ہے۔ احادیث میں یہاں تک آتا ہے کہ امراء کی ظلم زیادتیوں پر بھی صبر کیا جائے۔ (الاستذکار: 8: 579)

 

 

 

 


ووٹ اور بیعت... ایک ہی چیز ؟!



[1]   ابن تیمیہ کے متن میں دیکھئے فصل اول، حاشیہ14

[2] اس سے پہلے ابن تیمیہؒ  کے متن میں اشارہ گزر چکا کہ: ابوہریرہ ؓ والی مذکورہ بالا حدیث میں ’’وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا‘‘ کی جگہ عبد اللہ بن مسعودؓ والی حدیث میں ’’لُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ‘‘ کے الفاظ آتے ہیں۔ جوکہ اس بات پر دلیل ہوئی کہ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا کی تفسیر ’’لُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ‘‘  خود حدیث ہی سے ثابت ہے۔ (دیکھئے گزشتہ شمارہ ص 45، 46)

[3]   ابن تیمیہؒ کہتے ہیں: الْجَمَاعَةَ هِيَ الِاجْتِمَاعُ وَضِدُّهَا الْفُرْقَةُ؛ وَإِنْ كَانَ لَفْظُ الْجَمَاعَةِ قَدْ صَارَ اسْمًا لِنَفْسِ الْقَوْمِ الْمُجْتَمِعِينَ (مجموع الفتاویٰ ج 3 ص 157) ’’جماعت کا اصل مطلب ہے اجتماع، اس کی ضد افتراق ہے؛ بعدازاں لفظِ جماعت اُن لوگوں پر بھی بولا جانے لگا جو مجتمع حالت پر ہوں‘‘۔ لفظِ ’’جماعت‘‘ احادیث میں بھی ’’افتراق‘‘ کے مقابلے پر آتا ہے۔ مثلاً: عَلَیۡکُمۡ بِالۡجَمَاعَۃِ، وَإیَّاکُمۡ وَالۡفُرۡقَۃِ  ’’اکٹھ ہونے کو لازم پکڑو، ٹولیاں ہونے سے بچو‘‘ (الترمذی: کتاب الفتن باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ رقم 2165، النسائی رقم 9181، مسند أحمد 23145، السنۃ لابن أبی عاصم 897، صححہ الألبانی: إرواء الغلیل ج 6 ص 215 رقم 1813)

[4]   (الاستذکار، مؤلفہ ابن عبدالبر: 8: 578)۔     عبد اللہ بن المبارکؒ کو کیا خبر لوگ آج اس پر تعجب کریں گے کہ محض ’’راستوں کی حفاظت‘‘ کےلیے بھلا خلافت کی کیا ضرورت؛ کیا عبداللہ بن المبارکؒ کے دور میں ’انگریز ی فورسز‘ نہ تھیں؛ جن کے دم سے ہمارا غریب ہمارے امیر کےلیے مالِ غنیمت نہیں بنتا، پوری امت انگریز کےلیے مالِ غنیمت بنتی ہے!

[5]   ’ماڈرن سٹیٹ‘ کے فنامنا نے نہ صرف ’’دین‘‘ بلکہ ’’قبیلہ‘‘ وغیرہ ایسی طبعی وحدتوں کو بھی بڑی بےرحمی کے ساتھ کچلا ہے اور ’’انفرادیت‘‘ کو خاص فروغ دیا ہے۔ (دیکھئے ذیلی مبحث1)۔  طبعی رشتوں کے معاملہ میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بےیارومددگار کردینے کے نتیجے میں ہی دورِ حاضر میں’’ریاست‘‘ کا کردار زیادہ بڑھا ہے۔ یہ وجہ ہے کہ ہمارے ’اسلامی‘ جدت پسند اپنی دینی تفاسیر میں ’’فرد‘‘ کے اسی تصور کو بنیاد بنانے لگے۔ (ان جدت پسند رجحانات کے حوالے سے دیکھئے ذیلی مبحث3 کا حاشیہ أ) 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی حامد کمال الدین ذیل میں میری ۔۔۔
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
جہاد- تحريك
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
تحريك
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز