عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 16,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 7
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
آپ فی الوقت ان دونوں پارٹیوں کے سوتیلے ہیں
:عنوان

اصل چیز تو یہ ہےکہ اسلامی سیکٹر یہاں سیاست کو کوئی"مین سٹریم پارٹی"دےیعنی اردگان ایسی1سیاسی پارٹی جو مذہبی پیکنگ میں نہ ہو&وہ یہاں کی عام عورتوں مردوں پر مشتمل ویسی ہی1پارٹی ہو جیسی یہاں کی مین سٹریم پارٹیاں

. احوال . تنقیحات :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف


آپ فی الوقت ان دونوں پارٹیوں کے سوتیلے ہیں


دینی جماعتوں کو سیاست میں مؤثر آواز بنانا اپنی جگہ ایک پراجیکٹ ہے، اگرچہ طویل یا کسی قدر پیچیدہ لگے۔ پچھلے چند عشروں سے عالمی ہوائیں کچھ اس بےرحمی سے دنیا کے صرف ایک ’مذہب‘ کے پیچھے پڑ گئی ہیں کہ یہ ایک خاصا مشکل ہدف ہو چکا۔ بدھ، ہندو اور عیسائی جماعتیں اپنےاپنے ملکوں کی ’’سیاسی مین اسٹریم‘‘ بنتی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ عالم اسلام کی دینی جماعتیں کہیں پس زنداں، تو کہیں گمنامی کی نذر۔ اگرچہ کہیں کہیں اپنی کوتاہیوں کی اسیر بھی ہیں۔ گو اِس موخر الذکر صورت کو عالمی ابلاغ ’پولیٹیکل اسلام‘ کے حوالہ سے نمایاں بنا کر پیش کرتا ہے۔ جس سے؛ نہ صرف دوسرے ملکوں میں اسلامی جماعتوں پر ہونے والے مظالم سے توجہ پھیرنے میں ایک گونہ مدد ملتی ہے بلکہ ’شہر میں غالب کی آبرو‘ کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اِس لحاظ سے، ہماری یہاں کی مذہبی جماعتیں عالم اسلام کا ایک خاصا بڑا وزن اٹھائے کھڑی ہیں! یہاں زیادہ تر دینی طبقے اپنےاپنے لیے جو ایک ’حتمی‘ پوزیشن لے چکے، اس نے بات کی زیادہ گنجائش چھوڑ ہی نہیں رکھی، سوائے ایک ’’قولِ معروف‘‘ کہہ دینے کے جس کی ہم کوشش کر لیتے ہیں۔ تھوڑی بہت فائدے کی تعلیق یا تجویز پھر بھی گوش گزار کر ہی دی جاتی ہے (تمام تر ’’ممکنہ‘ ردعمل کا خطرہ مول لیتے ہوئے!)۔ یہ ہے پس منظر ہمارے یہ کہنے کا کہ: دینی جماعتوں کو یہاں سیاست میں ایک مؤثر آواز بنانا کسی قدر ایک مشکل اور طویل پراجیکٹ ہے؛ اور اُس پر کام کا اپنا الگ محور۔

بطور اسلامی سیکٹر، البتہ مجھے اپنے آپشن زیر غور لانا ہیں۔ ایک چیز ذرا وقت طلب ہے، تو بھی اِس دوران مجھے سرنڈر بہرحال نہیں کرنا۔ اپنے سیکولر/لبرل حریف کے ساتھ آخری دم تک مجھے لڑنا ہے، معاشرتی زمین کے چپےچپے پر اُس کی راہ روکنی اور ایک ایک مسئلہ میں اُس کے مقابلے پر اپنے دینی ایجنڈا کو نصرت دلانی ہے۔ خاص اِس حوالہ سے، یہ معاملہ قارئین کے سامنے آج ایک ایسی جہت سے سامنے لایا جا رہا ہے جو کسی قدر غیر روایتی ہے تاہم حالیہ صورتحال میں ناگزیر۔ مگر اس سے پہلے یہ صراحت کر دی جائے کہ: لاکھ پسپائی کے باوجود دینی جماعتوں کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، اور اس معنیٰ میں کوئی چیز ان کا متبادل نہیں۔ کل کیا ہوتا ہے، اللہ اعلم۔البتہ آج کی تاریخ تک کوئی شےء ان کا قائم مقام نہیں۔ یہاں جو چیز بیان ہونے جا رہی ہے اس کو محض ایک ’سپلیمنٹری‘  supplimentary  شےء سمجھیے؛ جو ’’موجود‘‘ کا توڑ کرنے کےلیے نہیں بلکہ کسی قدر اس کا ’’کیس‘‘ مضبوط کرنے کےلیے اختیار ہونی چاہئے۔ خصوصاً جبکہ وہ شےء اپنی جگہ ہے اور فی الحال رہے گی، خواہ آپ اُس کو پسند کریں یا ناپسند۔ خواہ آپ اُس سے اپنے کاز cause    کےلیے کچھ فائدہ لیں یا اس سے الجھنے کو ہی اپنی ترجیح بنا لیں، وہ بہرحال ہے۔

اس تمہید کے بعد میں اصل موضوع پر آتا ہوں۔ ’’ختم نبوت‘‘ کے تعلق سے چلنے والی حالیہ سوشل میڈیا کیمپین ذہن میں رہے تو بات اپنے مقصود یا نوعیت واضح کرنے کے معاملہ میں زیادہ متعلقہ  relevant   رہے گی۔

*****

غور فرمائیں تو خاص مذہبی لیبل کے ساتھ میدان میں اترنے والی جماعتوں کا وزن حالیہ سیاست میں بہت زیادہ نہیں۔ ہمارا مذہبی عنصر دراصل ایک اور راستے سے حالیہ سیاست میں اس سے بڑھ کر دخیل ہے اور وہ ہے ان دو بڑی پارٹیوں (نون لیگ اور تحریک انصاف) کے اندر اسلام پسندوں کا ایک اچھی خاصی تعداد میں موجود ہونا، جو کچھ اور قسم کے حالات میں شاید ایک گونہ قابل اعتراض بھی ہوتا مگر اندریں حالات ایک خوش آئند امر ہے۔ بہت اوپر کی سطح پر نہ سہی، پیندے میں یہاں بہت سا اسلامی عنصر موجود ہے۔ لوگوں کا اپنااپنا نقطۂ نظر ہے، میں اس کو حد سے بڑھ کر اہمیت دیتا ہوں۔ ’’دستیاب مواقع‘‘ کا یہ پہلو کلیتاً نظرانداز کرنے کا نہیں۔ گو یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے اور اس کے بعض جوانب ہماری کچھ آئندہ تحریروں میں آ سکیں گے، ان شاء اللہ۔

تاوقتیکہ ہماری دینی جماعتیں سیاسی اکھاڑے کے مین پلیئرز main players   نہیں بنتیں جوکہ تاحال ایک خواب ہے، یا جب تک کوئی اردگان ٹائپ اسلام دوست مگر مذہبی پیکنگ کے بغیر ایک پارٹی سامنے نہیں آتی (جوکہ میرے نزدیک بوجوہ ضروری ہے اور روایتی دینی جماعتوں کی نسبت صورتحال کےلیے مناسب تر)... تاوقتیکہ ایسی کوئی مطلوبہ لینڈ سلائڈ ڈیویلپ منٹ land-slide development   سامنے نہیں آتی، یہاں کی ’’غیر مذہبی‘‘ جماعتوں (مانند نون لیگ و پی ٹی آئی) میں موجود یہ ’’مذہبی‘‘ عنصر میرے نزدیک بسا غنیمت ہے۔ یہ نہ ہو تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ اور استشراقی مافیا کے چھانٹے ہوئے خرانٹ لبرل، بہت تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود، یہاں ہمیں ایک گھڑی میں پٹخ دیں۔ اُن کا لبرل ایجنڈا فی الحال اپنے بہت سے ارمان پورے کرنے سے قاصر ہے، اور جوکہ اللہ کے فضل سے ایک حقیقت ہے، تو اس بات کے بہت تھوڑے بلکہ نہ ہونے کے برابر نمبر سیاست میں ’مذہبی‘ نعرے کے ساتھ اترنے والے عنصر کو جاتے ہیں۔ زیادہ نمبر میری نظر میں اُس خاموش مذہبی عنصر کو جاتے ہیں جو خود نون لیگ اور پی ٹی آئی وغیرہ ہی کی صفوں کے اندر موجود ہے؛ اور جن کا ڈر ان کی قیادتوں کو یہاں کی مذہبی جماعتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اِنہی کے کردار کو، اِن کا یا اِن کی پارٹیوں کا کوئی نقصان کیے بغیر، موثر تر بنانا، اِس وقت کا ایک اہم ہدف۔ میں اپنے آپ کو ’’اسلامی سیکٹر‘‘ کے طور پر دیکھوں تو میرا ایک بہت بڑا اثاثہ اِس وقت یہی طبقہ ہے۔ لبرل سویرے کے راستے کی ایک بہت بڑی رکاوٹ میرے یہی لوگ ہیں۔ (علاوہ کچھ دیگر اسلامی عناصر جو سیاست کے ماسوا میدانوں میں، جوکہ ہو سکتا ہے سیاست سے بھی اہم تر ہوں، اِس تہذیبی توازن کو بہتر رکھنے میں ایک بڑا کردار رکھتے ہیں۔ تاہم یہاں ہماری بات خاص سیاست میں موجود اِس خادمِ دین عنصر پر ہو رہی ہے)۔

یہ غلط فہمی تو میں بالکل نہیں رکھتا کہ نون لیگ اور پی ٹی آئی کی ٹاپ قیادتیں اسلام کےلیے ذرہ فکرمند ہیں۔ نہ میں یہ گمان رکھتا ہوں کہ اِس تہذیبی معرکے میں دینِ محمدؐ کےلیے اِن دونوں کو ادنیٰ درجے کی کوئی پریشانی یا کوئی تشویش ہو سکتی ہے۔ البتہ یہ میں ادراک رکھتا ہوں کہ ان دونوں قیادتوں کو اپنی اپنی پارٹی میں موجود اس عنصر کو کھو دینے کی پریشانی حد سے بڑھ کر ہو سکتی ہے جو بہرحال اسلام کےلیے پریشان ہوتا ہے اور جس کےلیے اس ملک میں اسلامی تہذیب کو پسپا ہوتا یا لبرل اور قادیانی ایجنڈا کو پیش قدمی کرتا دیکھنا ناقابل برداشت ہے۔ بطور اسلامی سیکٹر، یہ خاموش عنصر اس ملک میں میری بہت بڑی سٹرینتھ strength    ہے اور اس سے کام لے کر مجھے اس تہذیبی معرکے میں کئی ایک ہدف سر کرنے اور کئی ایک بلائیں اپنے دین اور امت سے دفع کرنی ہیں۔ یہ بات میرے لیے اضافی طور پر خوش آئند ہے کہ ان دو بڑی پارٹیوں کی ٹاپ قیادتیں کسی بھی معنیٰ میں کوئی نظریاتی قیادتیں نہیں۔ ان کے نظریاتی ہونے پر میں ضرور خوش ہوتا اگر یہ اسلامی ہوتیں۔ ہاں غیر اسلامی ہوں اور پوری طرح نظریاتی ہوں، اس سے مہلک آفت اِس ملک اور قوم کے حق میں بھلا کیا ہو گی؟ (مشرف کے حوالہ سے کسی قدر اس بات کا امکان نظر آتا تھا، جس سے اللہ نے جان چھڑا دی)۔ مگر یہ دونوں قیادتیں اگر اسلامی نہیں تو نظریاتی بھی نہیں، جوکہ میری مشکلات کو فی الوقت یہاں کم کرتا ہے، اور یہ بھی اِس وقت تو غنیمت ہی ہے۔ ان میں سے ایک نرا اپنے مفاد کا ہے اور دوسرا اپنی ذات کو منوانے اور کوئی اچیومنٹ achievement   کر دکھانے کا، البتہ نظریاتی ترجیحات ان دونوں کے ہاں نہیں پائی جاتیں۔ جس کا مطلب ہے، نہ یہ اسلامی ایجنڈا کے حوالے سے کوئی ’’اپنی‘‘ پوزیشن لیں گی اور نہ لبرل/قادیانی ایجنڈا کے حوالے سے۔ دونوں متحارب نظریاتی ایجنڈوں کے حوالے سے، ان کی جو پوزیشن ہو گی وہ دراصل ان کی سیاسی ترجیحات کی پوزیشن ہو گی۔ ’’اسلام بمقابلہ لبرل/قادیانی‘‘ کشمکش میں یہ ہر موقع پر ’’تیل اور تیل کی دھار‘‘ ہی دیکھیں گی، جبکہ ’’تیل‘‘ ہمارے حریف کے پاس فی الحال وافر ہے اور وہ اس کی اعلیٰ سے اعلیٰ ’’دھار‘‘ بھی بنا سکتا ہے۔ تاہم ہمارے کارڈز بھی کچھ ایسے کم نہیں جنہیں ہمیں حوصلے اور دانشمندی کے ساتھ کھیلنا ہے، جس میں کامیابی کے بےپناہ امکانات ایک آپ کی حالیہ سوشل میڈیا کیمپین سے ہی عیاں ہیں۔ (مراد ہے انتخابی امیدوار فارم میں ’’ختم نبوت‘‘ کے حوالے سے جو ترمیم ہوئی، اس کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا کیمپین، جو بہت جلد اپنا اثر دکھانے میں کامیاب ہوئی، اور جس کا سہرا یہاں بہت سے مخلص طبقوں کے سر جاتا ہے)۔

چنانچہ یہ خاصی حد تک درست ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے مہمیز دیے ہوئے مقامی فیکٹرز اس وقت بہت زیادہ مضبوط اور ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں، لہٰذا وہ یہاں کے سیاستدان کو اُس کی اپنی ترجیح و دلچسپی کے فریم ورک میں بہت اچھی آفر کرنے کی پوزیشن میں ہیں، اور اِس لحاظ سے ہم اسلام پسند اپنے سیاستدان کے گرد منڈلاتے اُس لبرل خریدار کو کسی بڑی سطح پر فی الوقت آؤٹ بِڈ outbid   نہیں کر سکتے۔ نہ ہی میرا مشورہ ان پارٹیوں میں موجود نبی کے وفادار طبقوں کو یہ ہو گا کہ وہ اپنی قیادتوں پر ’’اسلامی‘‘ دباؤ ڈالنے میں ایک خاص حد سے بڑھیں، کیونکہ یہ کوئی بہت مختصر کھیل نہیں ہے اور شاید بہت کچھ یہاں آنے والے مشکل وقتوں کےلیے بچا رکھنا ضروری ہے؛ اور فی الوقت تو گراؤنڈ مضبوط کرنا بڑی ترجیح۔ علاوہ شعور بیدار کرنے کے، جوکہ علی الاطلاق سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہئے، اور جس میں بڑا حصہ ان آزاد مؤثر آوازوں کا ہونا چاہئے جو ان بڑی سیاسی پارٹیوں کا حصہ نہیں مگر وہ ان کی حریف بھی بہرحال نہیں۔ (یہ ایک الگ مبحث ہے، جس پر آئندہ کسی فرصت میں روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائے گی)۔ یہاں جو چیز مقصود ہے وہ ہے اپنی قوت کے ایک بہت بڑے پوائنٹ کی نشاندہی a potenial point of our strength۔ یہ ہے ملکی سطح پر ایک ’’بڑی جماعت‘‘ main-stream party   بننے کی خواہشمند یہاں کی کسی بھی پارٹی کی مجبوریاں؛ جوکہ اللہ کے فضل سے یہاں ہمیں ڈھیروں راستہ دلوانے والی ہیں۔ ایک بات سمجھ لیجئے، لبرل اور قادیانی یہاں کی کسی جماعت کو ’’بڑی پارٹی‘‘ نہیں بنا سکتے۔ ہاں جب کوئی پارٹی ایک ’’بڑی پارٹی‘‘ ہو جائے، اور وہ ظاہر ہے میرے اور آپ کے دم سے ہو گی، تو اس کے بعد البتہ وہ (لبرل اور قادیانی) اس پارٹی کا مول لگا سکتے ہیں؛ اور تب چاہے وہ اس کو سونے میں تول دیں۔ پھر، اس کی یہ قیمت ’مارکیٹ‘ میں اُس وقت تک ہے جب تک وہ معاشرے کے زیادہ سے زیادہ طبقوں کو اپنے ساتھ چلانے کی یہ صلاحیت برقرار رکھے۔ البتہ جیسے ہی وہ ایک ’’بڑی پارٹی‘‘ یعنی ’’معاشرے کے تمام یا بیشتر طبقوں کو اپنے ساتھ چلا سکنے والی پارٹی‘‘ کی سطح سے نیچے آئے گی، اُس وقت وہ لبرل کے کام سے بھی چلی جائے گی؛ اور لبرل ساہوکار تب اس سے ہاتھ اٹھا کسی اور کا مول لگانے چل دے گا۔ خوب جان رکھیے، آپ کا دشمن یہاں صرف دودھیل جانور کا بیوپاری ہے؛ نرا چارا کھلانا نہ کبھی اُس کا شوق رہا اور نہ اُس کے وارے کا۔ اس بات سے لاعلم نہ رہنا چاہئے کہ یہاں کی کسی بھی ’کامیاب‘ پارٹی کو اِدھر اُدھر کی اعلیٰ آفرز تب تک ہی ہیں جب تک وہ معاشرے کے میکسی مم maximum   طبقوں کی پارٹی ہے جن میں سے ایک، آپ اسلام پسند بھی ہیں۔ آج کا پاکستان ساٹھ یا ستّر کی دَہائی کا پاکستان نہیں ہے جہاں کسی وجہ سے نظریات کی بنیاد پر انسان بٹنے لگے تھے اور جہاں کمیونزم کا ایک جھوٹا نعرہ بھی کام دے جانے والا تھا۔ آج کے ڈائنامکس بالکل اور ہیں؛ جن پر کسی اور وقت تفصیل سے بات ہو سکتی ہے۔ پس آج کی یہ ملغوبہ پارٹیاں اگر کسی درجے میں ’ہماری‘ مجبوری ہیں تو اس سے بڑھ کر اللہ کے فضل سے ہم ’’ان کی‘‘ مجبوری ہیں۔ سیاناپن البتہ یہ ہے کہ ہم اِن پارٹیوں سے اپنے مذہبی مطالبات یا توقعات کرنے میں وہاں تک رہیں جہاں تک ہم ان کی ’ضرورت‘ ہی رہیں اور اس کو حد سے بڑھے ’بوجھ‘  liability   میں نہ بدلنے دیں۔ ہاں اس پوائنٹ تک جانے سے آپ کو احتراز کرنا ہو گا، جیسا کہ پیچھے کہا جا چکا؛ اور یہ ایک نپا تلا بیلنس بہرحال قائم رکھنا ہو گا۔ اتنی مہارت بلا شبہہ درکار ہے۔ البتہ یہ ایک ایسی زبردست بات ہے جو ہمیں دانشمندی کے ساتھ بہت سے شاٹ shot   کھیلنے کی اعلیٰ بنیاد فراہم کرتی ہے۔ میں آپ سے عرض کروں، اصل مسئلہ ہمارے یہاں شعور کی کمی ہے؛ جس کے باعث ہم بیگار دینے کے کچھ زیادہ عادی ہو گئے ہیں۔ نتیجتاً؛ ہم نے موقع پرستوں کےلیے ’’سیاست‘‘ کچھ زیادہ آسان کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، اپنی اہمیت significance   اور سٹرینتھ strength   سے ناواقفیت۔ خاص طور پر ہمارے بہت سارے لوگوں کا اِس وقت یہ سمجھنا کہ جو دیندار (اللہ و رسولؐ کا وفادار) یہاں کی مذہبی سیاسی جماعتوں میں نہیں وہ دین کے کس کام کا! حالانکہ کیا بعید وہ ہم سے بڑھ کر دین کے کام کا ہو؛ اللہ نے نبی کے ہر امتی میں خیر رکھی ہے، ہاں البتہ اس خیر کو برآمد کرانا اور اس کو حق کی ایک طاقت اور دھارا بنانا ایک باقاعدہ عمل ہے جو اپنی پشت پر کچھ اعلیٰ عقول کے آنے اور اشیاء کو سٹرٹیجائز strategize   کروانے کا ضرورتمند رہتا ہے۔ ہر میدان کے کچھ رِجال ہوتے ہیں اور یہاں بھی آپ کو رِجال لانا ہوں گے۔ اس کی طلب demand   جب موجود ہے، اور میرے خیال میں بڑھتی جا رہی ہے، تو فراہمی supply   بہت دیر تک رکی نہیں رہ سکتی۔ البتہ اس کے اندر جلدی کر لینے اور کوالٹی لے آنے میں ہم سب کا فائدہ ہے۔

*****

اس نتیجہ پر پہنچنا میں اپنے لیے چنداں مشکل نہیں پاتا کہ سیاستِ پاکستان کا موجودہ مرحلہ خالصتاً ’ملغوبہ پارٹیوں‘ کا ہے۔ یعنی ایک ایسی پارٹی جو معاشرے کے سب طبقوں کی پارٹی ہو اور جس پر کسی ایک طبقے کی بہت واضح چھاپ ہرگز نہ ہو؛ اور اس کا عمومی رنگ بھی اس وقت وہی ہو جو کسی قدر معاشرے کا رنگ ہے؛ یعنی ملا جلا؛ نہ خالصتاً مذہبی اور نہ خالصتاً غیرمذہبی۔ کم از کم ڈسپلے display    کی حد تک یہ ضروری ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں، نظریاتی نعرے خود نظریاتی جماعتوں میں اس وقت بیک فٹ پر چلے گئے ہیں؛ (اور مسلسل ہائبرنیشن موڈ hybernation mode   پر رہنے کے باعث، کیا بعید دم بھی توڑ جائیں)۔ اب وہ (شدید نظریاتی) جماعتیں بھی کامیابی اسی میں ڈھونڈنے لگی ہیں کہ سیاست میں وہ کچھ غیرنظریاتی نعرے ہی لے کر چلیں یعنی کرپشن، مہنگائی وغیرہ ایسے عوام کی دلچسپی کے ایشوز ہی اٹھائیں (حالانکہ جس وقت یہ نظریاتی جھگڑے لے کر کھڑی تھیں اُس وقت بھی کرپشن اور مہنگائی وغیرہ ملک میں ہوتی ہی تھی! بات اصل میں دَور دَور کی ہے، جسے شاید ہم تسلیم کرنا نہیں چاہتے)۔ آئندہ دنوں میں ہو سکتا ہے بڑی بڑی کٹر اسلامی سیاسی جماعتوں کو عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کےلیے اپنی ممبرشپ کھولنی پڑے۔ (ایک ایسے ملک میں جہاں اللہ کا شکر ہے مسلمان ہی مسلمان ہیں! یہ ہے دَور دَور کا فرق)۔ ان سب حقیقتوں کو ہم اس وقت کن انکھیوں سے دیکھ تو رہے ہیں لیکن ان کو ہیڈ آن head on  لینے سے کترا رہے ہیں۔ ہاں جب ایک ضرورت پر بیس سال گزر جائیں تو اس کےلیے ’دلائل‘ وغیرہ میں گنجائش ڈھونڈنے کی نوبت آئے گی اور کوئی دس سال ’اجتہاد‘ میں بھی لگ جائیں گے۔ تب دنیا اُس سے چالیس سال آگے جا چکی ہو گی۔ یوں مسلسل ہم دنیا کے پیچھے بھی جا رہے ہوں گے لیکن اس کو اپنے رخ پر لانے کی بجائے اُس سے ’’پیچھے‘‘ بھی رہیں گے؛ اِس بات کو اپنے ’مذہبی‘ ہونے کا تقاضا جاننے کے تحت! یعنی ایک چیز کی قیمت دینی ہے لیکن اس سے وصول کچھ نہیں کرنا! اور مسلسل اِسی ڈھب سے چلنا ہے! بحرانوں کو ہاتھ ڈالنا اِسے نہیں کہتے حضرات۔ اس کےلیے جو نظر اور جرأتمندی چاہئے اُس کا بندوبست کرنا ہی ہو گا۔ ورنہ دنیا کو پچاس سال کا مارجن دے کر اُس کے پیچھے چلتے جائیے اور یہ یقین رکھیے کہ کسی دن یہ آپ کے پیچھے آ جائے گی؛ اور دنیا بہرحال گول ہے!

پس اصل چیز تو یہ ہے کہ اسلامی سیکٹر بھی یہاں سیاست کو کوئی ’’مین سٹریم پارٹی‘‘ دے۔ یعنی اردگان ایسی ایک سیاسی پارٹی جو مذہبی پیکنگ میں ہرگز نہ ہو اور وہ یہاں کی عام عورتوں مردوں پر مشتمل ویسی ہی ایک پارٹی ہو جیسی یہاں کی مین سٹریم پارٹیاں ہیں؛ بس ذرا قدروں کی پابند رہتے ہوئے۔ یہ پارٹی سرے سے کسی دینی نعرے کے ساتھ سیاست میں نہ اترے۔ ہاں یہ دین کےلیے سیاست میں، جہاں تک اس کو حالات اجازت دیتے جائیں، راہ ہموار کرے۔ اور جہاں اس کو حالات اجازت نہ دیں وہاں یہ عام پارٹیوں ایسی ایک پارٹی؛ نہ کسی نعرے سے پیچھے ہٹنے کی نوبت اور نہ کومپرومائز کی کوئی بحث۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی بات بہرحال ختم ہونی چاہئے؛ یہ نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ آپ کے مین سٹریم پارٹیوں کی ٹکر کی ایک پارٹی ہونے میں فی الحقیقت مانع بھی ہے؛ کیونکہ مسئلہ ہماری اپنی خواہشوں کا نہیں سامنے مقابلہ جیتنے کا ہے؛ اور وہاں آپ کو معاشرے کے میکسی مم طبقوں کی جماعت ہی ہونا ہو گا، ایک صاف بےساختہ انداز میں نہ کہ کسی تکلف کے ساتھ۔ کیونکہ یہ تکلف آپ اِس مذہبی پیکنگ کے ساتھ کر بھی لیں، جیسا کہ اس وقت کرنے کی کوشش میں ہیں، لوگ آپ کے ساتھ نہیں کر سکیں گے؛ اور وہ فاصلے جو اِس وقت ہیں برقرار رہیں گے۔ اس لیے؛ آپ کو ’’سیاسی پارٹی‘‘ کا فارمیٹ ہی یکسر مختلف لانا ہو گا اور اس کےلیے چہرے ہی کٹر مذہبی سے ہٹ کر لانا ہوں گے۔ یہ ہے اسلامی سیکٹر کے ہاتھوں لانچ کروائی جانے والی ایک ’’مین سٹریم سیاسی پارٹی‘‘۔ جبکہ ’’اسلامی تحریک‘‘ معاشرے میں اپنی اصل ٹھیٹ شکل و صورت میں اور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار رہے؛ اور وہ البتہ اپنی جدوجہد اور لائحۂ عمل کو ’’انتخابی سیاست‘‘ سے ایک وسیع تر تناظر میں لے۔ وہ دوسرے میدانوں کی طرح ’’سیاست‘‘ پر بھی بھرپور اثرانداز ہو، بغیر اس کے کہ ’’سیاست‘‘ کو اپنے پر ذرہ اثرانداز ہونے دے۔ (اس مبحث کےلیے، ہمارا مضمون ’’کلاسیکل ڈسکورس اور انقلابی ڈسکورس کا فرق‘‘ نظر سے گزار لینا کسی قدر مفید رہے گا)۔ یہ موخر الذکر وہ چیز ہے جو ترکی تجربے میں بھی ہمیں خاصی حد تک مفقود نظر آتی ہے۔ اس بنا پر؛ ترکی تجربہ کچھ وقتی کامیابیاں دینے کے باوجود، اپنے اسلامی لانگ رَن میں اگر خدانخواستہ ناکام رہا یا بہت زیادہ کامیابی نہ دکھا سکا، تو اس کی یہی وجہ ہو گی جو اِس موخر الذکر پوائنٹ میں بیان ہوئی؛ کیونکہ یہ کمی ہمیں بہرحال وہاں نظر آتی ہے؛ یعنی سیاست سے باہر ایک ٹھیٹ اسلامی تحریک کی موجودگی۔ ایسی ایک ٹھیٹ اسلامی پیراڈائم پر کھڑی دینی تحریک البتہ ایک ’’مین اسٹریم سیاسی پارٹی‘‘ میدان میں لانے سے بڑھ کر ہماری نظر میں ضروری ہے۔ اس کے بغیر سیاست میں ہاتھ پیر مارنے کی کوئی کوشش وقتی فائدہ مند ہو بھی جائے، وہ اسلامی سیکٹر کی کوئی لانگ ٹرم انوسٹمنٹ بہرحال نہ کہلا سکے گی اور ہو سکتا ہے آخر میں کوئی بڑی چیز ہاتھ نہ آئے۔ یہ پوائنٹ کسی قدر ہم نے اپنے پانچ برس پرانے ایک مضمون ’’معاشرتی فرنٹ کی تحریکوں خصوصاً جماعت اسلامی کی خدمت میں‘‘ میں واضح کر رکھا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والی ایک نہایت خوش آئند پیش رفت ’’ملی مسلم لیگ‘‘ بھی اگر ان گزارشات کو درخور اعتناء جانے، یا پہلے سے ان کے پاس کچھ اس قسم کا وِژن ہو، تو کیا بعید اللہ ایک بند راستہ پورے اسلامی سیکٹر پر کھول دے۔ دیانت، جذبۂ عمل اور قربانی کی استعداد جس قدر اس وقت آپ کے پاس ہے، بخدا کسی کے پاس نہیں ہے اور نہ دور دور تک اس کا امکان۔ ایک نظر میدان میں لے آئیے تو شاید کوئی آپ کے سامنے کھڑا تک نہ رہ سکے۔ ہم مار کھائیں گے، خدانخواستہ، تو اس جگہ سے۔

*****

تاوقتیکہ اسلامی سیکٹر معاشرے کے ایک عام آدمی (جس کی اکثریت اِس وقت معروف معنوں میں ’غیر مذہبی‘ ہی ہے) کی پارٹی بن سکنے والی کوئی سیاسی پیش رفت میدان میں نہیں لاتا، اور جس کے بغیر ہم یہاں سیاست میں سرگرم امبی شئس ambitious   عنصر کو پیش کرنے کےلیے اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے... میرے خیال میں ہم اپنے سب باصلاحیت لوگوں پر یہ پابندی نہیں لگا سکتے کہ وہ یہاں کی مین سٹریم پارٹیوں میں کھل کر اپنی صلاحیت کے جوہر نہ آزمائیں۔ یا تو آپ سیاست پر پابندی لگا دیں۔ ورنہ سیاست کے وہ کم از کم ڈائنامکس ایک شخص کو ڈھونڈنے دیں جہاں کامیابی کا کچھ نہ کچھ امکان اُسے بہرحال دِکھتا ہو؛ اُس صورت میں جب آپ اس کو وہ ڈائنامکس مہیا کرنے پر آمادہ نہیں۔ سیاست اور کاروبار وغیرہ اشیاء میں کچھ نہ کچھ آؤٹ کم outcome   کی امید رکھنا، اس سرگرمی کے صحتمند طور پر جاری رہنے کےلیے عام آدمی کی ضرورت ہے۔ ناکامی کے قطعی یقین کے ساتھ ایسی کسی سرگرمی کو جاری رکھنا کچھ غیر طبعی رویّوں کو جنم دے سکتا ہے۔ بنا بریں، جب تک اسلامی سیکٹر ایسی کوئی مین سٹریم پیش رفت میدان میں نہیں لاتا (اور جوکہ ناممکنات میں نہیں اگر کچھ اہل علم و بااثر حضرات اس پر غور فرما لیں) یا جب تک وہ معاشرے کے پورے پیندے ہی کو اپنی ایمانی شرطوں پر پورا اترنے والا نہیں بنوا لیتا (جوکہ اقتدار کے بغیر ناممکنات میں ہے)... تب تک میں تو اس حق میں نہیں کہ ہم اپنے ایک دین پسند باصلاحیت آدمی کو اپنی سیاسی استعداد کا کوئی مؤثر مصرف ڈھونڈنے سے منع کرتے چلے جائیں۔ اور اگر منع کر بھی لیں تو آپ کی سنتا کون ہے؟ ہر دو صورت میں ایک بڑی تعداد ایسی رہے گی جو پوٹینشل لی potentially   یہاں کی مین سٹریم (غیر مذہبی) سیاسی پارٹیوں کی روحِ رواں بن سکتی ہے۔ اب بجائے اس کے کہ میں انہیں اس پر فرائضِ دین سے منحرف یا ’راندۂ درگاہ‘ وغیرہ ٹھہراؤں، میں ان سے کہوں گا کہ تم اپنی اِس پوزیشن میں بھی اپنے نبیؐ اور اپنی امت کا کچھ نہ کچھ محاذ ضرور سنبھال لو۔ اور یہ صرف اتنا کام ہو گا جو خوش گوار طور پر ان کے کرنے کا ہو نہ کہ وہ جو ان کو وہاں سے آؤٹ کروا دے؛ کیونکہ اُن کا وہاں سے آؤٹ ہونا اُن سے پہلے میرا نقصان ہے۔ إذا أردتَ أن تُطاع، فاسأل ما يُستَطاع. ایسے ایک وژن کے ساتھ ان کو دینی ایجنڈا کے کچھ اہداف دیے جا سکتے ہیں۔ اس کےلیے اب ایک خاص انداز کا دینی خطاب سامنے لانا ہو گا اور ایک خاص ضرورت کا مذہبی کلچر ڈویلپ کرنا ہو گا (اور ایسا ایک ’’یُسر‘‘[1] پر قائم مذہبی کلچر سامنے لانے کی ضرورت تو، یہاں کے تعلیمی اداروں اور سرکاری و نجی شعبوں میں موجود دین پسند طبقوں کو سامنے رکھتے ہوئے، پہلے سے موجود ہے)۔ کچھ رجالِ علم کو میرا خیال ہے ضرور اِس تہذیبی ہدف کو سر کرنے کےلیے میدان میں اترنا ہو گا۔ ورنہ ہو گا یہی کہ ایک اور میدان، بےپناہ امکانات رکھنے کے باوجود، ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا اور ہم پھر ’گورے‘ کو کوستے رہ جائیں گے۔ اور جب تک ہم اس کے جواز و ضرورت پر شرحِ صدر پائیں تب تک ہمارے حق میں یہ میدان اجڑ چکا اور کسی ایسے مشکل تر میدان میں بدل چکا ہو گا جس کے دلائل کےلیے ہمیں مزید کچھ وقت درکار ہو!

بنا بریں، میں تجویز کرتا ہوں کہ ’’اسلامی سیکٹر‘‘ کو اُن تمام عناصر تک باقاعدہ توسیع شدہ extended   مانا جائے جو اپنے دین، اپنے نبیؐ، اپنی امت اور اپنی تہذیب سے پیار اور اپنے نبی کے دشمنوں سے بیر رکھتے ہیں البتہ اپنی سیاسی سرگرمی کےلیے یہاں کی ایسی پارٹیوں کا حصہ ہیں جو اپنے علی الاعلان نظریات میں مذہبی نہیں تو مذہب دشمن بھی نہیں۔ (غیر اعلانیہ ایجنڈا کے طور پر گو ایک پارٹی کچھ بھی ہو سکتی ہے اور اس کا لیڈر ہر خریدار کے ہاتھ اپنا مول لگوا سکتا ہے؛ اور وہاں البتہ ہمیں اپنے ان دیندار عناصر کے بل پر اثرانداز ہونا اور کم از کم بھی ایک توازن لانا ہے، یا کچھ نہیں تو ایک بڑی پارٹی کا کسی اسلام دشمن ایجنڈا کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے کو مشکل بنانا ہے)۔ اپنے دین، نبیؐ اور امت سے وفادار ان طبقوں کو، جو یہاں سرگرم ہوں، اسلامی سیکٹر کا ایک باضابطہ سیگمنٹ segment  مانا جائے اور دین کے باقاعدہ سپاہیوں میں گنا جائے۔ جس طرح یہاں کے غیراسلامی تعلیمی اداروں میں ہمارے لوگوں کا گھسنا ضروری ہے؛ کہ جہاں آپ کو بہت کچھ ’غیر اسلامی‘ برداشت بھی کرنا پڑتا ہے... اور جس طرح یہاں کے سرکاری و نجی محکموں میں ہمارے باصلاحیت دینداروں کا جانا ضروری ہے؛ اور وہاں پر کیسےکیسے بےدین افسروں کو اپنے اوپر برداشت نہیں کرنا پڑتا اور کہیں تو دیندار اور ایماندار لوگوں کی ترقی ہی ساری ساری زندگی رکی رہتی ہے مگر اس کے باوجود ہم وہاں کی سب غیر اسلامی اشیاء پر صبر ہی کرتے ہیں (اس صبر کےلیے مسلمان کی نیت محض ’نوکری‘ نہ ہونی چاہئے بلکہ اسلامی سیکٹر کو ان شعبوں میں وجود دلانا اور ممکنہ طور پر اوپر پہنچانا بھی آدمی کی نیت ہو تاکہ اس کا ثواب بڑھے)... عین اُسی طرح یہاں کی اِن غیر اسلامی سیاسی پارٹیوں میں بھی نبیؐ کے وفاداروں کا پایا جانا کوئی عیب نہیں۔ معاشرے پر اثرانداز آپ یہاں سے بھی ہوتے ہیں۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہر نئے شعبے کو شرعی ’این او سی‘ دینے میں ہمیں کچھ عشرے لگ جاتے ہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ جہاں بھی جائیں صرف ’نوکری‘ نہ کریں بلکہ اپنی طاقت اور استطاعت کے اندر اندر، اور ایک لمبا چلنے کی پالیسی پر رہتے ہوئے، اپنے نبیؐ کی نصرت کریں؛ جس کےلیے پورا معاشرہ آج میدانِ جنگ ہے خواہ کہیں چلے جائیں آپ دانشمندی کا پابند رہتے ہوئے تہذیب کا یہ معرکہ لڑ سکتے ہیں۔ اور اگر نہ لڑنا چاہیں تو منبر و محراب پر بیٹھے ہوئے اِس جنگ سے غافل ہو سکتے ہیں۔ ایک بڑی پارٹی کے سٹیرنگ پر اثرانداز ہونا، خواہ وہ ایک فیصد کیوں نہ ہو، پورے ملک کی تقدیر پر اثرانداز ہونا ہے۔ اس میدان کو خالی کیونکر چھوڑا جا سکتا ہے، تا وقتیکہ ایسی کسی بڑی پارٹی کو سرے سے پچھاڑ لینے کی کوئی صورت سامنے نہ آ جائے۔

ایسے خدا پرستوں کو جو ان پارٹیوں کو اپنا میدانِ عمل بنائیں، یہ ادراک رکھنا ہے کہ چونکہ اسلامی ایجنڈا کو کچھ مخصوص سانچوں سے نکل کر نصرت دینے کی موثر کوششیں پچھلے ایک عرصے سے نہیں ہو سکیں، لہٰذا بہت کچھ معاملہ یہاں تلپٹ ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارا لبرل حریف ہو سکتا ہے اپنے ایجنڈا کےلیے یہاں بہت کچھ جگہ بنا چکا ہو۔ لیکن وہ ایک بدیسی پودا ہے۔ یہاں کی زمین جس قدر آپ کےلیے سازگار ہو سکتی ہے اُتنی اُس کےلیے نہیں۔ اُس کی سٹرینتھ strength  کسی اور چیز میں ہے اور آپ کی کسی اور چیز میں۔ کرگس کا جہاں اور شاہیں کا جہاں اور۔ تاہم ایک میدان خالی رہنے کے باعث، بہت امکان یہ ہے کہ ان پارٹیوں کی اعلیٰ قیادتیں بھی فی الحال انہی عوامل کو زیادہ اہمیت دیں جو آپ کے حریف کے مہمیز دیے ہوئے ہوں۔ اس کے شواہد دیکھنا ہوں تو حالیہ ختم نبوت ایشو پر دونوں پارٹیوں کا موقع پرست رویہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ان قیادتوں کو اپنے لوگوں میں پائے جانے والے مذہبی جذبات کو مطمئن تو بہرحال کرنا ہے، اور اس پر تو لبرل بھی انہیں چھوٹ دینے کےلیے آمادہ ہے، اور اس پر تو خود مکتب استشراق  orientalist’s desk کو  ابھی اپنا ڈھیروں ’تیزاب‘ کھپانا ہےجوکہ اُس کا ایک لانگ ٹرم پراجیکٹ ہے، اور جوکہ زیادہ تر تعلیم اور ابلاغ کے شعبوں سے متعلق ہے... البتہ اس وقت کےلیے آپ اس ملک میں جو کوئی گزارے لائق بھی اسلامی ایجنڈا متصور کر سکتے ہیں، وہ بھی ان قیادتوں کی کسی ادنیٰ ترین ترجیح میں نہیں آتا۔ آپ کے منہ کو اس کا کچھ لحاظ احترام بھی ہو تو فی الحال یہ اُن کےلیے سوتیلوں کے زمرے میں ہے۔ مگر اس پر دل نہیں چھوڑنا۔ ہماری طاقت جن چیزوں میں ہے، صبر اور محنت سے ان پر کام کیا جائے تو ہم اس سے کچھ بہتر خریداری پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ اس پر ایک عرصہ تک کام ہی ہونا چاہئے۔ کیا بعید اسلامی سیکٹر کو جس غیرمذہبی پیکنگ کی مین سٹریم قیادتیں درکار ہیں وہ بھی اسے کل یہیں سے میسر آ جائیں۔ سماجی صلاحیتیں social skills   کسی فیکٹری یا مدرسے میں تیار نہیں ہوتیں، یہ میدانِ عمل ہی میں آدمی کو تراش تراش کر بنائی جاتی ہیں۔ اور کچھ بھی نہ ہو، میں تو اس کو بھی اسلامی سیکٹر کی ایک انوسٹمنٹ کہوں گا۔ بیک بینچر back-bencher   ہونے پر سمجھوتہ کرنا اور اس کو دینداروں کی قسمت جان کر ’صبر شکر‘ کیے جانا بہرحال ہمارے دین نے نہیں سکھایا؛ جبکہ شرق تا غرب یہ امت ہماری ہے؛ کسی کی جاگیر نہیں۔ کیا قیامت تک چند مذہبی سیٹوں کے ساتھ ہم یہاں کے کسی ’میاں صاحب‘ اور کسی ’خان صاحب‘ کا منہ دیکھا كریں؟ اللهم إني أعوذ بك أن اَذِلَّ أو اُذّلَّ.

يا بني اذهبوا فتحسسوا من يوسف وأخيه ولا تيئسوا من روح الله!

 



[1]   ’’یُسر‘‘ کا مطلب آسانی۔ لوگوں کو تنگی میں نہ پڑنے دینا۔ دین میں کوئی تحریف کیے بغیر لوگوں کو ان کی انگلی پکڑ کر رفتہ رفتہ دین کی طرف بڑھانا اور دین پر چلنے کے اس عمل کو ان کےلیے خوشگوار ہی رکھنا، اس منہج کا حصہ ہے اور ائمۂ سنت و تربیت کا ایک خاص اسلوب۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کشمیر کےلیے چند کلمات
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز