عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, August 17,2019 | 1440, ذوالحجة 15
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
مسلم دنیا پر مسلط جنگیں، نوآبادیاتی عمل کی جزوی بحالی؟
:عنوان

اِس نئے مشن کا اُن مقاصد سے کیا تعلق ہو سکتا ہے جو وہ اول اول ہمارے یہاں پورے کرنے آئے تھے مگر بامرِ مجبوری اپنے اُن خوابوں کو (سن چالیس کے عشرے میں) ادھورا چھوڑ گئے تھے

. احوالامت اسلام :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

مسلم دنیا پر مسلط جنگیں: نوآبادیاتی عمل کی "جزوی" بحالی؟

سلسلۂ مضامین: ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 5

سرد جنگ کے ختم ہوتے ہی (1990ء) کوئی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ملتِ صلیب اپنے لاؤ لشکر سمیت عالم اسلام پر چڑھ آتی ہے۔ (نوّے کی دہائی میں اُن کی افواج جزیرۂ عرب میں لنگر انداز، اس سے چند سال بعد 2001 میں افغانستان پر حملہ آور، پھر اس کے ساتھ ہی عراق پر، کیل کانٹے سے لیس اپنے بی ففٹی ٹو اور ڈیزی کٹر کے ساتھ۔ اور پھر اِن مہمات کو ناکام دیکھتے ہوئے یکے بعد دیگرے کئی مسلم خطے جنگ کی لپیٹ میں لے آئے جاتے ہیں)۔ جبکہ ’’خانہ جنگی‘‘ تو ہمارے اِن مسلم ملکوں میں جگہ جگہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے، کہیں نسلی بنیاد پر تو کہیں مذہبی تشدد پسندی تو کہیں فرقہ وارانہ۔ اِس سارے عمل کے درست پس منظر کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ حالیہ مرحلۂ ’’مابعد سرد جنگ‘‘ (آغاز: 1990ء) سے پہلے کے دو ادوار ’’سرد جنگ‘‘ (1946ء تا 1990ء) اور ’’عالمی جنگوں‘‘ (1910ء تا 1946ء) سے بھی ذرا پیچھے جا کر اُس (eighteen hundreds والے) نوآبادیاتی فنامنا کو اِس حالیہ نقطے کے ساتھ جوڑا جائے اور پھر غور کیا جائے کہ:

1.  اول اول (سترھویں، اٹھارویں اور انیسویں صدی میں) جب وہ عالم اسلام پر حملہ آور ہوئے تھے تب اُن کے کیا مقاصد تھے،

2.  اور پھر ان مقاصد کو ادھورا چھوڑ جانے کے پیچھے اُن کی کیا مجبوریاں تھیں جو وہ ہمیں ’آزاد‘ کر کے اپنے ملکوں کو سدھار گئے۔

اس تجزیہ سے خودبخود ہم پر واضح ہو گا کہ اب اگر ایک بار پھر  اُنہوں نے اپنی جارحیت کا تمام یا بیشتر رخ ہمارے اِس عالم اسلام کی طرف پھیر دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، تو اِس نئے مشن کا اُن مقاصد سے کیا تعلق  ہو سکتا ہے جو وہ اول اول ہمارے یہاں پورے کرنے آئے تھے مگر بامرِ مجبوری اپنے اُن خوابوں کو (سن چالیس کے عشرے میں) ادھورا چھوڑ گئے تھے۔

1800s سیناریو کی جزوی بحالی سے مراد:

’انیسویں صدی eighteen hundreds   کے سیناریو‘ سے ہماری مراد یہ کہ: عالمِ اسلام کے وسائل گورے کے قدموں میں ڈھیر ایک ’خام مال‘ ہو اور یہاں کے انسان اُس کے مخلص مزارعے، مزدور اور ٹیکس کلکٹر، اُس کے تاج کے مخلص وفادار اور اُس کی درازیِ عمر کےلیے ہر دم دعاگو۔ نیز یہاں کی زمینیں اُس کے سٹرٹیجک مفادات کی برآری کا ذریعہ، اُس کے فوجی اڈے، عسکری چھاؤنیاں اور اُس کے بحرے بیڑوں کا ’گیراج‘۔

ویسے تو وہ وقت ہمیشہ کےلیے گزر چکا۔ تاہم 1800s کا وہ سیناریو بڑی کم لاگت کے ساتھ، خدانخواستہ، ایک اور طرح بھی دہرایا جا سکتا ہے: عالم اسلام پر قبضہ کیوں کرو، اور یہاں پر ’جنگ ہائے آزادی‘ ایسی کچھ طویل و عریض آزمائشوں کا بھی سامنا کیوں کرو۔ عالم اسلام کو اپنا ’خام مال‘ اور ’مزارعے‘ اور ’مزدور‘ بنا رکھنے کا اس سے ایک کم خرچ و بالا نشیں طریقہ بھی ہے: یہاں ایک شدید حالتِ عدم استحکام پیدا کر دینے کے بعد معاملہ اس قدر دگرگوں کروا دو کہ بالآخر ایک ایک صوبہ یا ڈویژن کے سائز کے ڈھیروں ملک بن جائیں، جن میں جگہ جگہ وسائل اور پانیوں کے جھگڑے ہوں اور بات بات پر ان کے مابین بندوقیں نکل آیا کریں، جبکہ تم خود ان کے بیچ معاملات کو ’ٹھیک‘ کرانے اور ’ٹھیک‘ رکھنے کےلیے تشریف لایا کرو! (چھوٹے کاشتکاروں کا پانی کبھی پورا نہیں ہوتا؛ اور ان کی لڑائیاں بھی گھر کے دانے پورے کرنے کےلیے ہوتی ہیں، یعنی کچھ بہت ہی ’حقیقی اور بنیادی ضرورت کی‘ لڑائیاں جنہیں آدمی اپنے بھائی کے ساتھ بڑے ہی سچے جذبے کے ساتھ لڑتا؛ اور یوں دشمن کے مقاصد اپنے گھروں کے اندر بڑی اعلیٰ سطح پر پورے کراتا ہے! خدا اس بےبسی اور بےکسی سے ہماری نسلوں کو محفوظ رکھے اور مسلم زمینوں کو چھوٹے چھوٹے قطعے کرنے کی اس ابلیسی مہم کو کبھی منڈھے نہ چڑھنے دےمفلوک الحالی اور ذرائع کی تنگی بھائی کو بھائی کا دشمن کر دیتی ہے، پھر جبکہ ساتھ میں بھائی کو بھائی سے لڑانے کے کچھ اور (مسلکی، لسانی، علاقائی، عصبیتی) اسباب بھی تلاش اور مہیا کر لیے جاتے رہیں۔ خدانخواستہ، خدانخواستہ، بحرہند کے ٹھیکیدار ’سوا اَرَب کے نیوکلیئر بھارت‘ کے پڑوس میں درجنوں چھوٹےچھوٹے بےکس بےسہارا لینڈ لاکڈ  land-locked    مسلم ممالک جو قدم قدم پر بھارت سے اپنا جائز حق لینے کےلیے بھی مغرب کی طرف دیکھیں! ایک مضبوط نیوکلیئر اسرائیل کے گرد درجنوں ’مڈل ایسٹ ممالک‘ جن میں سے کسی ایک کا سائز بھی کویت اور امارات سے بڑا نہ ہو!  ایک نیوکلیئر فرانس کے دست نگر درجنوں شمال افریقی ممالک، جو صبح شام اُس کی بلندیِ اقبال کےلیے دعائیں کریں! ایک مضبوط حبشہ (اتھیوپیا) کے زیرسایہ درجنوں شرق افریقی ممالک، اِفلاس کے مارے اور اندرونی جنگوں کے کھائے ہوئے! علیٰ ھذا القیاس۔  عالم اسلام کو ’خام مال‘ اور ’مزدور‘ و ’مزارعے‘ رکھنے کا  یہ بھی ایک طریقہ ہے جس کو لکھت پڑھت میں لا  رکھنے کےلیے یو۔این کی کوئی نئی ’ترقی یافتہ‘ جُون سامنے لانے کے پروگرام بھی زیرغور آ سکتے ہیں!

اس بنا پر؛ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ استعماری لشکر عالم اسلام پر انیسویں صدی eighteen hundreds   کے قبضوں جیسا کوئی قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بس وہ یہاں کسی مضبوط مسلم قوت کو چھوڑنے کے روادار نہیں خواہ وہ فی الحال کسی غیر شرعی نظام پر ہی قائم کیوں نہ ہو۔ ہماری نظر میں، مسلم ملکوں کے اندر استعمار کی حالیہ فوجی کارروائیاں (اور کئی ایک پراکسی جنگیں) صرف عالم اسلام کی ایک ’’تشکیلِ نو‘‘ a redesigning of the Muslim world   کی خاطر ہیں۔ جس کے بعد ہر خطے میں کوئی مقامی ٹھیکیدار پیدا کر کے ]مثلاً جنوبی ایشیا میں بھارت، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل (کسی حد تک شاید ایران بھی)، شمال افریقی ممالک پر فرانس اور شرق افریقی ممالک پر اتھیوپیا وغیرہ[، باقی ماندہ کنٹرول ’عالمی اداروں‘ کے ذریعے کیا جائے گا، خدانخواستہ، اگر ان کا ہاتھ پڑ گیا۔ مگر بہت امید یہ ہے کہ ہمارا عالمی جہاد (صلیبی، صیہونی اور بھارتی کے خلاف جاری ہماری کشمکش جو کشمیر، فلسطین، افغانستان اور عراق وغیرہ میں ہوتی رہی ہے) اور اس کے کچھ سمجھدار دوست اللہ کی توفیق سے اُن کا یہ منصوبہ سرے چڑھنے نہیں دیں گے۔ عالمِ استعمار کو تاریخ کے اِس موڑ پر اگر ناکام کروا دیا جاتا ہے تو یہ ان شاء اللہ عالم اسلام کی حقیقی آزادی کے حوالے سے تاریخ کا ایک ٹرننگ پوائنٹ turning point   ہو گا۔

ایک مفروضہ کا ازالہ:

تاہم آگے بڑھنے سے پہلے ایک مفروضے پر بات کرتے چلیں جو عالم اسلام پر مسلط حالیہ جنگوں کی تفسیر کرنے میں یہ رخ اختیار کرتا ہے کہ: ملتِ صلیب کی یہ سب لشکر کَشی دراصل یہاں کے کسی ممکنہ ’اسلامی انقلاب‘ یا ’خلافت‘ کو رونما ہونے سے بزور روک دینے کےلیے یکلخت عمل میں لے آئی گئی ہے۔ اِس نظریہ کے لوگوں کے خیال میں، استعماری طاقتوں کو یہاں ایسے کسی ’اسلامی انقلاب‘ کا اندیشہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز ہم پر چڑھ آنے کی ضرورت محسوس نہ کرتیں؛ آخر اُنہی کے دیے ہوئے نظام تو یہاں چل رہے ہیں! اِن حضرات کا کہنا ہے، مغربی طاقتوں کو یہاں ایسی کسی ’اسلامی حکومت‘ آ جانے کی فوری پریشانی نہ ہو تو اِن بڑے سائز کے مسلم ملکوں کے استحکام کےلیے تو وہ (استعماری قوتیں) الٹا پریشان رہتی ہیں اور اپنا پیٹ کاٹ کر اِن کو امدادیں دیتی ہیں؛ پس اِن غیرشرعی نظاموں پر قائم مسلم ملکوں کو اُن استعماری طاقتوں سے کیا خطرہ!

’’خلافت‘‘ بےشک ہم سب کی چاہت اور ہم سب کا اعتقاد ہے، تاہم صورتحال کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھنے کےلیے اِس واہمہ کا ازالہ کسی قدر ضروری ہے..

حق یہ ہے کہ کوئی خلافت یا اسلامی انقلاب ہماری مسلم دنیا میں کہیں ’لبِ بام‘ پہنچا ہوا نہیں تھا جو ہم اِن حالیہ جنگوں کی یہ توجیہ کریں۔ بلکہ غور فرمائیں تو ان حالیہ صلیبی جنگوں سے پیشتر معاملہ اس کے برعکس نوبت کو ضرور پہنچ چکا ہوا تھا۔ یعنی ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی کوششوں پر عالم اسلام کے کئی ایک خطوں میں یہ مایوس کن صورتحال کہ طریق کار کے حوالے سے یہاں ’متبادل‘ کا سوال اٹھ کھڑا ہوا تھا (جس کا کچھ فائدہ بعدازاں عسکریت پسند افکار نے بھی اٹھایا)۔ اکیسویں صدی کا آغاز ہوا تو معاملہ عین اِسی جگہ پر کھڑا تھا (یعنی اسلامی انقلاب کے حوالے سے ایک اتھاہ مایوسی) کہ عالم اسلام پر صلیبی چڑھائی کا یہ نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ہاں ایک مثال ذکر کی جا سکتی ہے جسے شاید بعض لوگ ہمارے اِس تجزیہ کو غلط ٹھہرانے کےلیے پیش کریں: تحریکِ مُلا عمر، جو افغانستان میں نمو پزیر تھی۔ تاہم افغانستان کی اِس اسلامی پیشرفت کی پشت پر جو قوتیں اور جو عوامل اور جو اہداف واضح طور پر کارفرما رہے تھے ان کو نہ تو سرسری لینا درست ہے اور نہ اُس پورے عمل سے کاٹ کر دیکھنا۔ پس 2001 تک کی تحریکِ مُلا عمر اور اس کے مددگاروں (خصوصاً تحریک و مددگاروں کے مابین اُس وقت پائی جانے والی ہم آہنگی) کو سامنے رکھیں تو یہ تصویر بنتی ہی نہیں کہ ملتِ صلیب یہاں کے مسلم ملکوں اور ان میں قائم ’طاغوتی‘ نظاموں کی ان ’اسلامی طاقتوں‘ کے آگے ممکنہ بےبسی کا اندازہ کرتے ہوئے مسلم سرزمینوں پر چڑھ آئی تھی! کم از کم ملا عمر ایسی ایک سمجھدار مصلحت شناس اسلامی پیش رفت کے حوالے سے یہ تصویر پیش کرنا غیر واقعاتی ہے۔ جبکہ ملا عمر کے علاوہ آپ کے پاس کوئی ایسی مثال ہے ہی نہیں جسے پنپتا دیکھ لینے کے بعد استعمار ہمارے ملکوں پر چڑھ آیا ہو۔ (یہ ہم بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے شروع سیناریو سے متعلق بات کر رہے ہیں، ٹی ٹی پی اور داعش وغیرہ آپ کو معلوم ہے اِس چڑھائی کے بعد یا درمیان سامنے آئیں)۔ مُلا عمر یہاں خاص اپنے زورِ بازو سے  برسر اقتدار آئے ہوتے تو چلیے آپ یہ مفروضہ قائم  کر بھی لیتے۔ مگر آپ جانتے ہیں ملا عمر  اپنے کچھ دوستوں (پاکستان و سعودی عرب وغیرہ) کی باقاعدہ مدد اور شاید ’منصوبہ بندی‘ سے آئے تھے، ایک ایسی substantial  مدد اور منصوبہ بندی  جسے آپ یکسر نظرانداز کر کے آگے نہیں بڑھ سکتے۔

غرض ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی یہ ایک ہی مثال (تحریکِ ملا عمر) پورے عالم اسلام کے اندر آپ دے سکتے ہیں، مگر یہ ’’انقلاب‘‘ جن دوست قوتوں کے ہاتھوں مدد پا کر آیا اور اب بھی اُن کے سہارے آگے بڑھ رہا تھا وہ اگر آپ کے ذہن میں ہوں تو یہ مفروضہ غلط ٹھہرتا ہے کہ صلیبی قوتوں کی عالم اسلام پر حالیہ چڑھائی خاص اس لیے تھی کہ یہاں کی ’غیر اسلامی حکومتیں‘ اس ’اسلامی خطرے‘ سے شکست کھا جانے والی ہیں، لہٰذا وہ (استعماری قوتیں) اِن ’غیر شرعی حکومتوں‘ کو لائف سپورٹ دینے کےلیے اس بار ہم پر چڑھ آئی ہیں! ہمارے نزدیک، معاملے کی یہ ایک خاصی سطحی تصویر ہے۔ ’افغانستان‘ سے متعلق یہ غلط فہمی چلیے کسی حد تک بنتی ہے تو بھی عراق پر صلیبیوں کے چڑھ آنے کی آپ کیا تفسیر کریں گے جہاں عالم عرب کی سب سے مضبوط آرمی (بعث نیشلسٹ آرمی) ایک سیکولر حکومت (صدام حکومت) کی صورت پوری طرح قائم تھی (البتہ سیکولر ہونے کے باوجود ایران اور اسرائیل کےلیے بیک وقت سوہانِ روح تھی اور خطے میں مستقبل کے کسی ’توازن‘ کےلیے خطرہ بنتی جا رہی تھی)؟ ہمارے نزدیک، اصل میں یہ استعماری لشکر عالم اسلام کی کچھ پنپتی قوتوں  some growing Muslim powers   کا ’دائمی‘ علاج کر جانے اور یہاں کے کچھ اونچے ٹیلوں کو اپنے اور اپنے علاقائی اتحادیوں کی دستبرد کےلیے ’ہموار‘ کر دینے کےلیے آئے تھے اگرچہ یہ ’ٹیلے‘ فی الوقت سیکولر یا نیم سیکولر یا کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔ یہ جنگ بلاشبہ اِسی سطح کی ہے؛ اس کے سوا اِس جنگ کی کوئی تصویر دیکھنا اپنے آپ کو مغالطوں میں رکھنا ہے، خواہ یہ مغالطے یہاں کی کسی اسٹیبلشمنٹ کو لاحق ہوں یا کسی اسلامی گروپ کو۔ سامنے کی بات ہے، افغانستان کا وہ ’’اسلامی انقلاب‘‘ اپنے جن دوستوں پر سہارا کر کے آ رہا تھا، اور ان کی غیر معمولی مدد سے آگے بڑھ رہا تھا، ان سے الگ کر کے آپ اس پورے معاملے کی توجیہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اس ’’واحد مثال‘‘ کا تو یہ معاملہ رہا۔ اس واحد پیش رفت (تحریکِ ملا عمر) کے علاوہ آپ کا کونسا ’اسلامی انقلاب‘ پورے عالم اسلام کے اندر تھا  جس کا خطرہ بھانپ کر ملتِ صلیب آپ کے ان ملکوں پر چڑھ آئی تھی؟ (اکیسویں صدی کے بالکل آغاز کا سیناریو)۔ لہٰذا ملتِ صلیب کی اِس وحشیت اور بےرحمی کے محرکات آپ کو اِس واہمہ کی بجائے کہیں اور تلاش کرنے ہوں گے۔

بڑی دیر سے ہمارا یہ کہنا رہا ہے کہ عالم اسلام پر ٹھونسی جانے والی اِن نئی جنگوں کا بڑا ہدف یہاں کی اُن قوتوں کو ہلکا اور اُن سوتوں کو خشک کرنا ہے جن سے عالمی جہاد دنیا میں مدد پاتا رہا، یا آئندہ مراحل میں پا سکتا ہے؛ جہاد کا فنامنا خود البتہ اپنی کسی مستقل بالذات حیثیت میں اتنا بڑا (تاحال) نہیں ہے۔ پس عالم اسلام پر ملت صلیب کے چڑھ آنے کی تفسیر ہمارا یہ عالمی جہاد ہے ضرور، تاہم استعمار کے اہداف اسی میں محصور بالکل نہیں ہیں۔ غرض یہ عالمی جہاد (مسلم مقبوضہ خطوں میں جاری اسلامی مزاحمت) دشمن کا ایک براہِ  راست اور اعلانیہ ہدف ضرور ہے، بعنوان ’دہشتگردی‘۔ (جس کا دہشتگردی سے کچھ بھی تعلق نہیں ہے)۔ لیکن اِس ’اعلانیہ ہدف‘ کے پیچھے فی الوقت کچھ ’غیراعلانیہ ہدف‘ بھی اُنہیں کچھ کم نہیں کھٹک رہے؛ اور یہ وہ ’غیر اعلانیہ ہدف‘ ہیں جو نہ صرف ملتِ صلیب کی نظر میں بلکہ حسین حقانی ایسے ہمارے ایک کثیر بکاؤ مال کی نظر میں ’فساد کی اصل جڑ‘ اور دنیا میں ’نان سٹیٹ ایکٹرز کے اصل پرورش کنندہ‘ ہیں، یعنی وہ خطے جہاں سے ہمارا (مسلم مقبوضہ خطوں میں جاری) عالمی جہاد مختلف کامیاب صورتوں میں کچھ نہ کچھ مدد پا رہا ہے۔

یہ بات اب خاصی کھل کر سامنے آگئی ہے کہ صلیبی طاقتیں (مع ان کے صیہونی، فارسی اور بھارتی حلیف) اس وقت عالم اسلام کے کن کن ممالک کو غیرمستحکم destabilize  کرنے، حتیٰ کہ بس چلے تو ٹکڑے کردینے کےلیے دوڑدھوپ فرما رہے ہیں۔ بھارت اور ایران پر نوازشات کی حد ہوتی کسے نظر نہیں آرہی؟ اور جنوبی ایشیا میں ’دہشتگردی‘ کی بابت ایک خالص بھارتی نیریٹو  A pure Indian narrative on ‘terrorism’ in the South Asia  کی تائید میں، پھر من و عن انہی ’بھارتی‘ خطوط پر، امریکی بیانات اور دباؤ بلکہ صاف امریکی دھونس اور بازو مروڑ پالیسیاں بھی اب کسے نظر نہیں آ رہیں؟ (کسی پر پہلے یہ بات اوجھل تھی تو اب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تلملاہٹ دیکھ لے، جس پر پچھلے دنوں ہم ایک مضمون لکھ چکے ہیں)۔ بلوچ علیحدگی پسند جنگجوؤں کی سرپرستی جو بڑے سال چلی، سب کے سامنے ہے، جو کہ اب بھی شاید رک نہیں گئی ہے البتہ اسے ایک شدید ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، وللہ الحمد۔ پھر پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کےلیے امریکی قبضہ کاروں کے زیرسایہ چلنے والی ’کابل انتظامیہ‘ کا روٹ بھی آخر کسے نظر نہیں آ رہا اور اس کی بھارت کے ساتھ گاڑھی چھنتی کس پر اوجھل ہے؟ پھر ملا فضل اللہ وغیرہ ایسے دہشتگر ٹولوں کو وہاں پناہ ملی ہونا، اِس پورے سیناریو میں محض اتفاق!؟ اور کونسی بات اب ڈھکی رہ گئی ہے؟ غرض یہ ایک ہی کہانی تھی جس کی کڑیاں شروع میں شاید آپ سے جُوڑی نہیں جا رہی تھیں، مگر اب یہ ایک لڑی ہر کسی پر عیاں ہے۔ کیا یہ یات غورطلب نہیں کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کو تو اِس تمام عرصہ ’شریعت پرستوں‘ کے دھماکوں کی زد پر رکھ لیا جاتا ہے جبکہ بھارت، اسرائیل اور ایران اس سے تقریباً محفوظ رہتے ہیں؟ اور کوئی اندازہ کرے، اردگان کے الیکشن ہار جانے کےلیے مغربی پریس میں، خصوصاً صیہونی پریس کے اندر، یہاں تک کہ ہمارے اپنے لبرلز کے یہاں، کیسی کیسی بےچینی پائی جاتی ہے! نیز اردوگان کے خلاف بغاوت کی کامیابی کےلیے مغربی حلقوں اور ان کے مقامی ’دوستوں‘ کی بےصبری اور پریشانی! جنرل راحیل شریف کے ایک مجوزہ مسلم فورس کی کمان سنبھالنے پر باہر اور اندر کیساکیسا واویلا نہیں ہوا، باوجود اس کے کہ ابھی وہ کوئی خاص قابل ذکر واقعہ تک نہ تھا! اور اب تو یہ بھی شاید کوئی راز  نہیں رہا کہ افغانستان میں ٹرمپ کے بلبلانے کے پیچھے کیا کیا وقائع کارفرما ہیں۔

خلاصۂ احوال:

عالم اسلام پر مسلط حالیہ جنگیں، خواہ وہ مغربی قوتوں کی براہِ راست جارحیت کی صورت میں ہوں یا بھارت و اسرائیل وغیرہ ایسے ان کے سٹرٹیجک حلیفوں کے ہاتھوں سامنے آنے والی ایک جنگ اٹھاتی war mongering   صورتحال.. یہ سب اصل میں عالم اسلام کو اِس کی حالیہ امید افزا پوزیشن سے محروم کرنے کےلیے ہے، جس پر ’عالمی جنگوں‘ اور ’سرد جنگ‘ کی پیدا کردہ صورتحال سے فائدہ اٹھا کر بعض مسلم ملک پہنچ لینے میں کامیاب ہو گئے ہوئے ہیں۔ اُن کی کوشش ہے کہ وہ عالم اسلام کی ناقابلِ یقین پیش قدمی کے یہ ایک سو سال کسی طرح اِس سے مِنہا  subtract  کروا دیں اور کلی نہ سہی جزوی طور پر ہی وہ ہمارے اِن مسلم خطوں کو انیسویں صدی eighteen hundreds  کی آخری دہائیوں پر واپس پہنچا دیں... اور پھر وہاں سے عالمی جنگوں اور سرد جنگ کے باعث اپنے ’’رک جانے‘‘ والے کام کا از سر نو آغاز کریں! یعنی مسلم دنیا کے حق میں رونما ہونے والے عالمی جنگوں کے خوبصورت نتائج (خودمختار مسلم ملکوں کا نقشۂ عالم پر نمودار ہونا) نیز سرد جنگ کے فراہم کردہ مواقع سے اٹھائے گئے قابل رشک فوائد (کچھ مسلم ملکوں کا ایک قابل ذکر حد تک قوت حاصل کر جانا، نیز ہمارے عالمی اسلامی جہاد کا ظہور) کو وہ کسی طریقے سے اب اَن۔ڈُو undo کر کے صورتحال کو عالمی جنگوں سے پہلے والی صورتحال پر واپس لے جائیں!

پس یہ غیرمعمولی واقعات جو آج ہم دیکھ رہے ہیں اور جنگوں کا یہ ایک لامتناہی سلسلہ جن کا اکھاڑا آج آپ کا عالمِ اسلام بنا ہوا ہے... مغرب کے ’سرد جنگ‘ سے نکل آنے کی کچھ منحوس علامات symptoms    ہیں۔ (تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ مغرب کے دانے تقریباً بِک لیے ہیں؛ چند سال میں یہ بادل شاید مکمل طور پر چھٹ جائیں، جس کےلیے آپ دعائیں دیں اپنے عالمی اسلامی جہاد کو)۔ اِن تین عشروں سے ایک بڑی ترجیح مغرب کے ہاں البتہ یہی رہی ہے کہ: عالم اسلام کے کچھ زیادہ اونچے ہو چکے ٹیلوں کو ’زمین کے برابر‘ لے آیا جائے۔ یہاں کچھ بڑی اکائیوں کو چھوٹے چھوٹے ریزوں میں بدل دیا جائے۔ ’انیسویں صدی‘ eighteen hundreds   کے سیناریو کو ’ضروری حد تک‘ واپس لانا اُن کی نظر میں اس کے بغیر ممکن نہیں۔

(ایک بار پھر واضح کر دیں، عالم اسلام میں ’انیسویں صدی‘ eighteen hundreds   کا سیناریو پورے کا پورا واپس لانا اُن کے ایجنڈا پر ہونا ضروری نہیں۔ یوں بھی ’انجینئرنگ‘ کی مہارتیں دشمن کے یہاں اب پہلے سے بڑھ گئی ہیں اور ’عالمی اداروں‘ کا تجربہ اِس دوران خوب رنگ لا چکا ہے۔ کوئی ’’یو-این‘‘ نما چیز ہی اپنی کسی ترقی یافتہ تر شکل میں آئندہ عشروں کے دوران ایک مفید دریافت ثابت ہو سکتی ہے، خدانخواستہ۔ بس اصل چیز یہ کہ عالم اسلام کو پہلے ایک بار کچھ ہلکا پھلکا کر دیا جائے؛ ہاں اِس گھاٹی سے گزرے بغیر اُن کا کچھ بس چلنے والا نہیں)۔ تاہم مسلمانوں کی سخت جانی اُن کے یہ اکثر تیر ضائع کروا چکی ہے۔ اُن کے آپشن شدید محدود ہو چکے۔ تھوڑا اور صبر ان شاء اللہ معاملے میں خاطرخواہ فرق لا سکتا ہے؛ اور یہی بات آنے والے سالوں کو عالمِ اسلام کے حق میں بےحد زیادہ اہم کر دیتی ہے۔ قربانیاں تو آپ کو یہاں ہر صورت دینا ہیں، بےوقوفیاں البتہ نہ ہوں تو آئندہ عشرہ مسلمانوں کے حق میں انقلاباتِ زمانہ کا مشاہدہ کر سکتا ہے، بتوفیق اللہ تعالیٰ۔

معاملہ کے ساتھ پورا کیسے اترا جا سکتا ہے:

صورتِ موجودہ اگر یہی ہے تو اس کے ساتھ پورا اترنے کا کوئی طریقہ نہیں سوائے ان دو واضح باتوں کے:

1.  اس بات کو یقینی بنانا کہ مسلم مقبوضہ جات میں جاری ہماری اسلامی مزاحمت (عالمی اسلامی جہاد) خوب خوب طاقت پائے، یہاں تک کہ امریکہ اور اس کے حلیف خصوصاً بھارت اور اسرائیل اپنے لگائے ہوئے پھندوں میں اور سے اور پھنستے اور اپنی اس دلدل میں دھنستے چلے جائیں۔ سمجھو یہ پورے عالم اسلام کا دفاع ہے نہ کہ خاص اِن مقبوضہ جات کی اپنی جنگ۔ صورتحال میں جس قدر بھی بہتری آئے گی وہ ان شاءاللہ کشمیر، افغانستان اور فلسطین وغیرہ میں ان ظالموں کو زیادہ سے زیادہ زک پہنچا کر آئے گی۔ لہٰذا تمام ممکنہ قوت اِسی نقطے پر۔

1.  مسلم ملکوں کے داخلی استحکام کو ہر قیمت پر یقینی بنانا اور اِس موقع پر ہر ایسی مُوو کو مایوس کر دینا جو اِس وقت کے کچھ مضبوط مسلم ملکوں میں اندرونی گڑبڑ اٹھاتی نظر آئیں، خواہ فی الوقت وہ کسی بھی نعرے یا عنوان کے تحت ہو۔

سلسلۂ مضامین: ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 5

(جاری ہے)

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
ڈیل آف دی سینچری… مسئلۂ فلسطین کے ساتھ ٹرمپ کی زورآزمائی
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
ڈیل آف سنچری ، فلسطین اور امریکہ
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز