عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, December 6,2019 | 1441, رَبيع الثاني 8
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
کیا برما اکسیویں صدی کا اندلس بننے جا رہا ہے؟
:عنوان

. احوالامت اسلام :کیٹیگری
مہتاب عزيز :مصنف

روہنگیا یا روہنجیا مسلمان آج دنیا کے مظلوم ترین انسان ہیں، اقوام متحدہ بھی انہیں بجا طور پر سب سے زیادہ ستائی جانے والی اقلیت قرار دیتا ہے۔

برما جسے اب میانمار کہا جاتا ہے، تاریخی طور پر برصغیر کا حصہ رہا ہے، مختلف ادوار میں اس کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی آتی رہی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس پر مختلف سلطنتیں قائم ہوتی رہی ہیں۔ برصغیر کے دیگر خطوں پر قبضے کے ساتھ ہی برما پر بھی انگریزوں نے قبضہ کر لیا، موجودہ میانمار کے علاقوں پر انگریزوں کے قبضے کی ابتدا 1826 میں ہوئی جب 'اراکان' اور' تناسرم' کا علاقہ برٹش انڈیا کے زیر قبضہ آیا، برمن وار 1852 میں وسطی برما جبکہ تیسری اینگلو برمن وار 1885 میں بالائی خطے پر قبضے کے ساتھ ہی تمام برما پر انگریزوں کا قبضہ مکمل ہو گیا۔

روہنگیا کا آبائی وطن اراکان بنگال سے متصل ہے، یہاں خلیفہ ہارون رشید کے عہدِ میں مسلم تاجروں کے ذریعہ اسلام پہنچا۔ 1430 میں 'سلیمان شاہ' کے ہاتھوں یہاں پہلی اسلامی حکومت تشکیل پائی، اس خطے پر ساڑھے تین سا سال تک مسلمانوں کی حکومت رہی۔ 1784 میں برما کے بدھسٹ راجہ بودھوپیہ نے اراکان پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا. جس کے خلاف مسلمانوں کی مزاحمت اور بدھ سپاہیوں کے مظالم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حالات کی خرابی کا فائدہ انگریزوں نے اٹھایا اور ابتدا میں اراکان اور پھر پورے برما پر قبضہ کر لیا، برما پر قبضہ کرنے والی برطانوی فوج کے سپاہیوں کی اکثریت بنگالی مسلمانوں کی تھی۔ جبکہ اراکان کے مسلمانوں نے بھی انگریزوں کو نجاعت دھندہ سمجھ کر اُن کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کے دور میں برما کے مسلمانوں کی حالت بہتر رہی، سرکاری ملازمتوں اور کاروبار میں مسلمان نمایاں تھے۔ برصغیر میں مسلمانوں کے تمام رفاعی اداروں اور انجمنوں کو سب سے زیادہ چندہ برما کے دارلحکومت رنگون سے ملا کرتا تھا۔

انگریزوں نے اپنی انتظامی تقسیم کے تحت بنگال اور برما کی حد چٹاگانگ اور اراکان کے درمیان واقعہ دریائے ناف کو بنایا، یوں تاریخ میں پہلی بار یہ خطہ ایک انتظامی یونٹ کے تحت آگیا۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ کے علاوہ یہ برصغیر کا واحد حصہ تھا جہاں بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت تھی۔ اس الگ انتظامی یونٹ میں اراکان کے علاقے کو ایک نیم خود مختار ریاست کا درجہ حاصل تھا، جس کے تمام انتظامی معاملات مقامی حکومت کے ماتحت تھے۔

روس میں سویت انقلاب، چین میں اشتراکی شورش اور جاپان کی جرمنی اور اٹلی سے قربت وہ خاص حالات تھے، جنہوں نے انگریزوں کو انیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے بعد سے تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ان حالات میں برصغیر (ہندوستان) میں بڑھتی ہوئی سیاسی آگاہی اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے چینی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے 1938 میں انگریزوں نے برما کو ہندوستان سے جدا کر کے ایک الگ کالونی کا سٹیٹس دے دیا۔ کیوں کہ برما کی سرحد چین، لاؤس اور تھائی لینڈ سے ملتی ہے۔ جہاں بیک وقت اشتراکی اثرات اور جاپان کی جہاریت کے خدشات لاحق تھے۔ (یہ خدشات دوسری جنگ عظیم میں برما پر جاپانی حملے، اور چین میں اشتراکی حکومت کے قیام کی صورت میں سچ بھی ثابت ہو گئے تھے۔)

یاد رہے برما کی ہندوستان سے علیحدگی کو جواز بنا کر ہی آل انڈیا مسلم لیگ نے 1940 میں ہندوستان کے مسلم اکثریتی خطے پر مشتمل'برما طرز کی' الگ ڈومین تشکیل دیے جانے کی قرارداد پاس کی تھی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب استعماری طاقتوں کو اپنی 'کالونیوں' پر براہ راست قبضہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا تو برطانیہ نے جہاں برصغیر کو پاکستان اور ہندوستان میں تقسیم کر کے اگست 1947 میں آزادی دی، وہیں برما کو جنوری 1948 میں ایک ملک کی حیثیت سے آزاد کر دیا۔ اس سے قبل اراکان کے مسلمانوں کی جانب سے 1945میں برما مسلم کانگریس (BMC) کے نام سے ایک سیاسی تنظیم بنا کر اراکان کی برما سے اعلیحدگی یا پھر اس مسلم اکثریتی خطے کو برما کے بجائے مسلم اکثریتی مشرقی پاکستان میں ضم کرنے کی تحریک شروع کی تھی۔ لیکن نہ تو انگریزوں نے اس پر کان دھرا نہ ہی پاکستان کی نوزائیدہ مملکت نے اس حوالے سے کوئی سرگرمی دیکھائی۔ 
آزادی کے بعد 19500 سے اراکان کے مسلمان تاریخی پس منظر کے حوالے سے اپنے خطے کی برما سے اعلیحدگی کی کوشش کرتے رہے۔ جس کی وجہ سے کبھی حالات زیادہ کشیدہ ہو جاتے اور کبھی کشیدگی میں کمی بھی ہوتی۔ اس سلسلے میں بڑی تبدیلی 1962 میں آئی جب برما میں جنرل 'نی ون' نے "برمی قومیت" کا نعرہ لگا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کیا۔ اس کے فوری بعد مارشل لاء آڈر کے تحت برمی فوج اور سرکاری ملازمتوں سے مسلمانوں کو غدار قرار دے کر نکال دیا گیا۔ اراکان پر فوج کشی کی گئی اور بڑے پیمانے پر مظالم ڈھائے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ 5 لاکھ سے زیادہ اراکانی مسلمانوں نے اس دور میں ہجرت کی، جو بنگلہ دیش، ہندوستان، پاکستان، سعودیہ، تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں آباد ہو گئے۔

1982میں ایک مارشل لا کے ایک ضابظے کے تحت اراکان کے مسلمانوں کو غیر ملکی مہاجر قرار دے کر حق شہریت سے بھی محروم کردیا گیا۔ یوں یہ اپنے ہی آبائی وطن میں غیر ملکی قرار پائے، نئے قانون کے مطابق ان کی لڑکیوں کی شادی کے لیے 25 سال اورلڑکوں کی شادی کے لیے کم ازکم 30 سال عمر مقرر کی گئی، شادی کے لیے بھی سرحدی سیکوریٹی فورسیز سے اجازت نامہ کا حصول ناگزیر قراردیا گیا، تاکہ ان کی آبادی کی شرح میں اضافہ نہ ہوسکے۔ اراکانی مسلمانوں پر سرکاری سکولوں میں پڑھنے، کاروبار کے لیے لائسنز حاصل کرنے یا ملازمت کرنے پر پابندی عاید کر دی گئی۔ ان پر ملک کے اندر سفر کرنے کے لیے بھی پرمٹ کے حصول کی پابندی لگائی گئی۔ تاکہ یہ اپنے حقوق سے آگاہ نہ ہوسکیں اور نہ ہی کسی قسم کی مزاحمت کے قابل رہیں۔ اراکان کا نام تبدیل کر کے 'رکھائین' رکھ دیا گیا تاکہ مسلمانوں کو ان کے شاندار ماضی سے کاٹا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی حکمران فوجی جنتا نے بدھسٹوں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کرنے کے لیے بدھ مت کے مذہبی پیشواوں یعنی مانکوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔ تاکہ عوام کی توجہ فوجی جنتا کی بدعمالیوں سے ہٹی رہے۔ نتیجے میں مسلمان ایک جانب برمی فوج اور دوسری جانب بدھ مذہب کے پروکاروں کے مظالم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس دوران مسلمانوں کو کئی فسادات کا نشانہ بنایا گیا۔ جن میں 1997کے منڈلالی کے فسادات، 2001 میں ٹنگائو کے فسادات، 2012 ء میں راکھینی فسادات، 2013ء میں پورے میانمر میں مسلم کش فسادات، 2014ء میں ایک بار پھر منڈلالی فسادات، 2016ء میں مساجدوں کا جلائو اور رہنگیا کے فسادات اور اب 2017ء میں روہنگیا میں ہونے والے مسلم کش فسادات شامل ہیں۔
2011 میں 1962 سے جاری طویل مارشل لا کا خاتمہ ہو گیا، لیکن جمہوریت کی بحالی سے مسلمانوں کی حالت میں کوئی فرق نہیں پڑ سکا ہے۔ امن کا نوبل انعام پانے والی برما کی وزیر اعظم 'آنک سان سوچی' بدھ مانکوں کے خوف سے مسلمانوں کی بدترین نسل کشی پر لب کھولنے کی ہمت کے قابل بھی نہیں۔ آج صورتحال یہ ہے، ایک لاکھ دس ہزار برمی مسلمان مہاجرین برما۔تھائی لینڈ سرحد پر 9 کیمپوں میں بد حالی کی زندگی گزار رہے ہیں، کئی لاکھ بنگلادیش اور ہندوستان کے کیمپوں میں انتہائی بے بسی کا شکار ہیں۔ جبکہ ان کے آبائی وطن اراکان میں بچے مسلمانوں کے بارے میں انسانی حقوق کی انجمنوں کا کہنا ہے کہ خواتین کا گینگ ریپ، عورتوں بچوں اور مردوں کا قتل، مساجد، سکول اور گھروں کو جلانے کی کاروائیاں فوج خود کر رہی ہے، یا فوج کی سر پرستی میں یہ عمل جاری ہے۔ فوج اور بدھ دہشت گردوں نے صرف 2 ستمبر 2017 کو 2600 سے زیادہ گھر جلائے ہیں۔ لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے محققوں نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ میانمار حکومت کے زیرِ سر پرستی، روہنگیا کی باضابطہ نسل کشی اب آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

بدھ مانک کھلے عام اعلان کر رہےہیں کہ ہم برما سے مسلمانوں کو اُسی طرح مٹا کر دم لیں گے جس طرح انہیں سپین سے مٹایا گیا تھا۔واقعات بتا رہے ہیں کہ اس دعوے کو حقیقت بننے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں ہے۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
ڈیل آف دی سینچری… مسئلۂ فلسطین کے ساتھ ٹرمپ کی زورآزمائی
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
ڈیل آف سنچری ، فلسطین اور امریکہ
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز