عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
حُنَفَاء کا حج و قربانی.. اور ’انتھروپالوجسٹوں‘ کا شرک
:عنوان

اپنےاولمپیا کے "زیوس" کو 2000سال بعد دوبارہ نکال لانےوالےکھنڈرات پرستوں کا بس چلےتو آج وہ ہمیں "ھبل"، "لاۃومناۃ" اور "گندھارا"، "بدھا" اور "سومنات" کےمیلے کروا کےدیں اور ہمارےیہاں بتوں کا پورا کلچر بحال کروادیں

. اصولعبادت . ثقافتعلوم طبعى وسماجى . بازيافتتُراث :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف


حُنَفَاء کا حج و قربانی.. اور ’انتھروپالوجسٹوں‘ کا شرک


’کھنڈر پرستی‘ کی ایک عالمی تحریک جس کا اصل مقصد دنیائے عیسائیت کو اس کے دورِ ما قبل عیسائیت اور دنیائے اسلام کو اس کے دورِ ما قبل اسلام سے جوڑنا ہے؛ گلوب کی تشکیلِ نو میں دھیرے دھیرے بڑھتی آ رہی ہے۔ (یعنی اِس گلوب کی دو عظیم ترین ملتوں کا ابراہیمؑ سے ناطہ توڑ کر اِن کی پرانی اصیل جاہلیت کی جانب لوٹانے کی ایک نظریاتی تہذیبی موومنٹ)۔ دنیائےعیسائیت میں یہ کچھ عظیم الشان کامیابیاں حاصل کر آئی۔ جبکہ دنیائےاسلام میں پچھلے سو سال سے یہ کچھ بھاری انٹیلیکچول مووز کرا چکی ہے۔ یہاں کوئی قابل ذکر کامیابی نہ پانے کے باوجود البتہ ہمت ہارنے پر آمادہ نہیں؛ اور ابھی بھی طریقے طریقے سے ہمارے اذہان پر حملہ آور ہے۔ یہاں کی اقوام کے دلوں میں کبھی ’موہنجودڑو‘ تو کبھی ’راجہ داہر‘ وغیرہ کو زندہ کروانے کی ایک دانشورانہ سعی، جس کے شواہد یہاں آپ کو بآسانی نظر آ جائیں گے، اپنے پیچھے ایک بڑے ثقافتی ایجنڈا کی خبر دیتی ہے۔ شیخ سفر الحوالی اس کو ماڈرن انتھروپالوجسٹ تحریک کا نام دیتے ہیں۔ عالم اسلام میں حج و قربانی کے شعائر کیونکر اِس ایجنڈا کے ابطال کا ذریعہ بنتے اور ہر سال اُن کی امیدوں پر پانی پھیرتے ہیں، یہاں کی اقوام کو کس طرح خواجۂ یثربﷺ کے ساتھ جوڑتے، بتانِ آذری سے اِن کو برگشتہ، ’تیشۂ ابراہیمؑ‘ کو پھر سے اِن کے قلوب میں زندہ اور اپنے مشرک آباء سے اِن کو بیزار کرواتے ہیں، زیرِنظر مضمون میں اس کا کچھ بیان ہے۔

ہمارا حج... عشرہ ذوالحج، قربانی اور ایامِ تشریق کی ہماری یہ تکبیریں... ملتِ ابراہیمؑ کی یاد آوری کا یہ پورا سیزن... بتکدے گرانے اور مورتیوں کی نفرت دلوں میں بٹھانے کے یہ مِلّی اسباق... خدا کی توحید اور عظمت پر مر مٹنے اور قوم قبیلے اور دھرتی کو خدا کی محبت پر قربان کر ڈالنے کے یہ فضائل... ابراہیمؐ کی قربانی اور محمدﷺ کی ہجرت، جنگ اور جہاد کے یہ دل آویز تذکرے، اور پھر ان واقعات کی یاد دلاتے مقامات کی قدم قد زیارت اور وہاں پر اشک گرا کر آنے کا ایک شعوری روحانی عمل... ہر سال... وقت کی ایک ’انتھروپالوجسٹ‘ تحریک کے عالم اسلام میں تمام ایجنڈا کو دریابرد کروا دیتا ہے۔ کوئی تصور کرے، ہمارا یہ وِرد اُن کےلیے کس قدر سوہانِ روح ہے:

لَا إلٰهَ إلا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إلَّا إيَّاهُ، مُخۡلِصِیۡنَ لَهُ الدِّيْنَ، وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُوْن...!

’’نہیں کوئی خدا مگر اللہ۔ ہم نہیں پوجنے کے مگر ایک اُسی کو، پورا دین اور عبادت اُسی ایک کےلیے خالص کرتے ہوئے، چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی برا لگے‘‘۔

(بعض روایات میں ہے، نبیﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ مذکورہ بالا وِرد فرماتے)۔

کرۂ ارض کے چپے چپے سے حُنَفاء کا جذب و کیف کے ساتھ توحید کے اِس قدیمی منبع پر پہنچنا... یہاں؛ لاکھوں انسانوں کا ایک تکبیر پر خدائے واحد کے آگے سجدے میں گر پڑنے کا یہ دل گیر منظر... شیاطینِ جن و انس کو انگاروں پر لوٹاتا ہے۔

اپنے اولمپیا کے ’’زیوس‘‘ [1] کو دو ہزار سال بعد دوبارہ نکال لانے والے ان کھنڈرات پرستوں کا بس چلے... تو آج وہ ہمیں ’’ھُبل‘‘ اور ’’لاۃ‘‘ اور ’’مناۃ‘‘ اور ’’گندھارا‘‘ اور ’’بدھا‘‘ اور ’’سومناتھ‘‘ کے میلے کروا کے دیں، ہمارے بےحال نوجوانوں سے ان پر دھمال ڈلوائیں اور ہمارے یہاں بتوں کا پورا کلچر بحال کروا دیں (جس کی کسی وقت ’کلچر‘ تو کسی وقت ’ٹورزم‘ اور نہ جانے کن کن دلفریب ناموں اور بظاہر بےضرر عنوانات کے تحت کوشش ہو بھی رہی ہے، اور جس کے پیچھے ایک نہایت دُوررَس ایجنڈا اور واضح تہذیبی اہداف کارفرما ہیں)... زمین میں اوندھی پڑی بت پرست تہذیبوں کا احیاء... اِس بار ’پوجا‘ کے نام پر نہیں تو ’ثقافت‘ کے نام پر؛ کہ جاننے والے جانتے ہیں ’کلچر‘ اور ’سوسائٹی‘ بذاتِ خود آج ’پوجا‘ کی ایک بہت بڑی صورت اور بجائےخود ایک معبود ہے!

اِدھر... کوہِ صفا پر چڑھ کر ہر حاجی جس اعلانیہ کا وِرد کرتا ہے وہ ملتِ شرک کو قلوب اور اذہان میں باربار دفن کرواتا ہے:

لا إله إلا الله وحدَه ، أنجز وعدَه ، ونصر عبدَه ، وهزم الأحزاب وحدَه

’’نہیں کوئی عبادت کے لائق ہستی مگر اللہ، وہی یکتا، اُس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا، اپنے بندے (محمدﷺ) کو جیت دلوائی، اور (اس سے دشمنی کرنے والے) سب اتحادی لشکروں کو شکستِ فاش دی، یکتا اُسی نے‘‘۔

غرض توحید کے پھریرے چہار دانگ عالم لہرانے پر فخر کرنے اور بت پرستی کو ہر سُو شکست ہونے کے اس جہانی واقعہ کو اِن شعائر اور مناسک کا ایک باقاعدہ مضمون بنا دیا گیا؛ جس کی خود اِن کے اِس دور اور اِس جہان میں ایک عظیم الشان دلالت ہے:

یہ تہذیبیں ہم نے بڑی محنت اور جان جوکھوں سے ختم کی ہیں۔ ایک طویل جہاد کے بعد ان کو اللہ کے فضل سے نیست و نابود کیا ہے۔ اِن کو موت کے گھاٹ اتارنے میں ہمارے اسلاف کا خون پسینہ لگا ہے۔ اِن پُر رونق و آباد بتکدوں کو ہمارے ’’وَرَأیۡتَ النَاسَ یَدۡخُلُونَ فِی دِینِ اللہِ أفۡوَاجاً‘‘ کے براعظموں پر محیط ایک تاریخی عمل نے ہی بالآخر ویران کیا ہے۔ اِن ملکوں کا محمدﷺ کے دین میں آنا، نصف معمورۂ ارض میں یہ اذانوں کی گونج اور تکبیرات کا شور یہاں مورتیوں اور دیویوں کی منتا ختم کر دینے کے بعد ہی ایک جہانی واقعہ بنا ہے؛ کہ جس کے بعد روئے زمین پر اِس بڑی سطح پر ’’ابراہیمؑ کے رب‘‘ کی عبادت ہونے لگی ہے۔  اِس امت کےلیے اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں۔ ورنہ اس سے پہلے شرک اور بت پرستی کی یہ تہذیبیں زمین میں اوندھی پڑی صرف آسمانی عذاب کے نتیجے میں ہی دیکھی جاتی تھیں۔ مگر تاریخ کے اِس عہد میں خدا نے یہ کام امتِ محمدؐ کے زورِ بازو سے کروایا اور اِن کی تلواروں کو یہ شرف بخشا؛ جس پر ہم جس قدر خدا کا شکر کریں کم ہے۔ اِس سے بڑا اعزاز ہم سے پہلے کسی امت کو ملا ہی نہیں۔ بت پرست تہذیبوں اور مشرک ملتوں سے ہماری اِس بیزاری کے تذکرے ہمارے حج و عمرہ کے اذکار کا جزوِ لاینفک ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے صبح شام کے اذکار میں شامل ہیں۔ بتوں سے ہماری وہ جنگ اور عداوت ہماری عبادت کا حصہ ہے۔ قیامت تک ہم اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ آزمائے گئے ہیں۔ یعنی ان بتوں کو ماننے والے ہمیں مٹانے کےلیے زور لگائیں اور ہم ان کو مٹانے کےلیے۔ اِدھر ہمارے کچھ نابغوں کا زمین میں اوندھی پڑی اِن بت پرست تہذیبوں کو مٹی سے نکال لانا...؟ عالم اسلام کے بہت سے گوشوں میں مختلف عنوانات کے تحت آج اِن کی پروموشن... اور سرپرستی؟؟؟ عبادتِ غیراللہ کے ساتھ سازگاری... اور اس کےلیے نرم گوشہ پیدا کروانا، ’پرستش‘ کے نام پر نہیں تو ’کلچر‘ کے تقدس کے نام؟؟؟ جبکہ دعویٰ ملتِ ابراہیم کا اور محمدﷺ کے مشن پر ایمان رکھنے کا؟؟؟!... سبحان اللہ!

بلاشبہ آج ہمیں ملتِ ابراہیمؑ کے یہ اسباق ازسرنو اپنی نسلوں کو ازبر کروانے ہیں۔ مناسک کے یہ اذکار اور وظائف بلا سوچے سمجھے پڑھنے کے بہرحال نہیں ہیں۔

*****

ہم عالم اسلام پر اللہ کا یہ فضل ہے کہ اپنے تہذیبی وفکری وجود کا آغاز ہم ”اسلام“ سے ہی کرتے ہیں اور اپنی تاریخی شناخت انبیاءِ کرام سے ہی وابستہ رکھتے ہیں۔ نبیِ آخر الزمان ﷺ کی بعثت سے ماقبل عرب زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو صرف اور صرف ’زمانۂ جاہلیت‘ کے عنوان کے تحت۔ خود اِس برصغیر میں اپنے ہندو آباء کے نام تک شاید آج ہمیں یاد نہیں۔ کچھ یاد ہے تو بو بکرؓ و عمرؓ اور عثمانؓ و علیؓ۔ کہیں اپنی جڑیں نظر آتی ہیں تو اُس ملتِ ابراہیمؑ میں جس کا تیشہ (فَجَعَلَھُمۡ جُذَاذًا إلَّا کَبِیۡرًا لَّھُمۡ۔ سورۃ الانبیاء) ہماری تلاوت میں ’’وإذ بَؤّأنَا لِإبۡرَاھِیمَ مَکَانَ الۡبَیۡتِ‘‘ (سورۃ الحج) سے پہلے آتا ہے۔ اپنا ’’آغاز‘‘ کہیں نظر آتا ہے تو محمدﷺ کے برپا کیے ہوئے اِس خالص آسمانی تہذیبی واقعے میں۔

’’حج‘‘ کا انسٹی ٹیوشن اِس ایک یکسر جدا ثقافت کے احیاء میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔

ہم اگر ہند کی اقوام ہیں تو ہندو آباء کے ساتھ ہم  __ بطورِ مسلمان __  اپنا رشتۂ شناخت ہمیشہ کیلئے ختم کرچکے۔ بلکہ ان سب ناطوں کو کالعدم کر لینے پر فخر کرتے ہیں۔ زمزم کا ایک قطرہ ہمیں گنگا وجمنا اور راوی و سندھ کے شمال تا جنوب سے عزیز تر ہے۔ خاکِ بطحاء ہمیشہ کیلئے اب ہماری آنکھ کا سرمہ ہے۔ ’کاغان‘ ہو یا ’مہران‘، ہمارا ایک بے دین سے بے دین بھی خواجۂ یثرب سے تعلق رکھنے کا یہی تقاضا جانتا ہے۔

یہی حال سب کی سب مسلم اقوام کا ہے۔ مسلمانانِ مصر، فراعنہ کی تہذیب کو عذاب کا عنوان دے کر ہی پڑھتے ہیں۔ اسلامیانِ عراق، بابل کی تہذیب کو کھنڈروں کی صورت میں ہی دیکھنے کے روادار ہیں۔ شام اپنے سب ماقبل اسلام رشتے یکسر بھلا چکا۔ افغانستان میں بدھا کے مجسموں کو ڈائنامائٹ سے اڑتے دیکھنا یہاں کے ’باشندوں‘ کو بہت بھلا لگا تھا! مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک اسلام ہی سے رشتہ جوڑ رکھنے پر پورا پورا اتفاق پایا جاتا ہے۔ ”اسلام“ ہی اب ان سب اقوام کا باپ ہے اور اسلام ہی ان کا نسب۔

بے شک وہ یہ دیکھ کر ہم پر بے حد جلتے بھنتے ہیں اور ہمارے اندر کچھ انتھروپالوجسٹ پیدا کرنے کی مسلسل کوشش میں رہے ہیں جو ہمیں ایک نئے سرے سے ہمارا ’نسب‘ پڑھائیں اور ”آسمان“ سے ہمارا رشتہ کاٹ کر از سر نو ’زمین‘ کے ساتھ جوڑ دیں اور ’دھرتی‘ کو اپنی ماتا منوائیں۔ مگر انہیں معلوم ہے دو سو سال تک ہمیں پڑھا لینے کے بعد بھی وہ ہمیں یہ سبق یاد نہ کرا سکے اور ایسے ’لائق‘ شاگرد جو اُن کا پڑھایا ہوا سبق یاد کرلیں ہمارے مابین حد درجہ گنے چنے ہیں اور اس قدر طاقتور ذرائعِ ابلاغ رکھنے کے باوجود ان کی منحنی آواز اذانوں کی اس پنج وقتہ گونج میں یہاں بالکل ہی دب کر رہ جاتی ہے.... اس پر ہم جتنا بھی خدا کا شکر کرسکیں کم ہے۔

البتہ ”ملتِ روم“ کا معاملہ اس سے مختلف ہے، خصوصاً آج کے دور میں جب تاریخ میں اپنی جڑیں تلاش کرنے کی ضرورت قوموں کے مابین حد درجہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ نہ اپنے وجود کا آغاز ”دین“ سے کرتے ہیں اور نہ اپنے ”دورِ ماقبل دین“ کا ذکر ’زمانۂ جاہلیت‘ کے طور پر۔ یہ اس کے متحمل ہی نہیں! بلاشبہہ ’عیسائیت‘ سے اپنی تاریخی وابستگی کو یہ اپنی پہچانوں میں سے ’ایک‘ پہنچان بنا کر رکھتے ہیں اور صلیبی تعصب کا جہاں موقعہ ملے وہاں اس کا بھر پور ثبوت بھی دیتے ہیں، تاہم اپنی تاریخی شناخت کے معاملہ میں ’عیسائیت‘ ان کے ہاں ایک اضافہ  addition  ہے نہ کہ شناخت کی کلی بنیاد۔ اپنے تہذیبی وجود کے معاملہ میں یہ ’عیسائیت‘ کو کوئی ’نقطۂ ابتدا‘ بہر حال نہیں مانتے بلکہ اس باب میں تاریخ کے پردے ہٹاتے ہوئے ’عیسائیت‘ سے ماقبل ادوار میں بھی یہ اسی جذب و کیف کے ساتھ جاتے ہیں جس شوق و سرور کے ساتھ یہ اپنے وجود کی ’مذہبی جہتوں‘ کو کسی وقت زیرِ بحث لاتے ہیں۔

چنانچہ آپ دیکھتے ہیں، یہ اپنے تہذیبی وجود کو یونان کے کھنڈروں میں آج بھی پورے ذوق وشوق کے ساتھ ڈھونڈتے ہیں بلکہ اپنا تاریخی آغاز قریب قریب وہیں سے کراتے ہیں۔ یونان کی دیومالا (خرافات) Greek Mythology میں یہ ’علم وحکمت‘ کے موتی عین اسی عقیدت سے تلاش کرتے ہیں جس طرح علمِ غیب کے باب میں ہمارے یہاں انبیاء کی سچی داستانیں پورے ضبط کے ساتھ نقل ہوتی ہیں! یونانی اور رومانی دیوتاؤں کے نام قریب قریب ان کو اسی طرح یاد ہوتے ہیں (خود ہمارے انگلش لٹریچر ڈیپارٹمنٹوں میں ازبر کرائے جاتے ہیں!) اور قدم قدم پر ان کے حوالے اور استشہادات ان کے ہاں اسی طرح ذکر ہوتے ہیں جس طرح ہمارے ہاں اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ! ہفتے کے دن اور مہینوں کے نام ان کے ہاں آج بھی یونانی اور رومانی خداؤں سے منسوب ہیں۔ بت پرستی  idolatry  پر مبنی بہت سے گریک اور رومن تہوار آج بھی ان کے ہاں پورے جوش وخروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں اور ان کا ایک پوری وابستگی کے ساتھ چرچا ہوتا ہے۔

چنانچہ آج کا مغرب اپنی تاریخِ پیدائش صرف ’یسوع مسیح‘ اور ’کنواری مریم‘ اور ’روح القدس‘ وغیرہ ابواب میں نہیں ڈھونڈتا۔ ان کے فخر و اعزاز کی اکثر بنیادیں بت پرست رومن ایمپائر کے ملبے میں ہی پڑی ہیں بلکہ رومن ایمپائر کی تعمیر میں جس یونانی تہذیب کا اینٹ گارا استعمال ہوا وہ مواد بھی اپنی تہذیبی وعمرانی شناخت کروانے کیلئے ان کے ہاں اتنا ہی کارآمد ہے جتنا کہ ’مذہبی‘ پہنچان کروانے کے لئے سینٹ پال کے دئیے ہوئے چرچ اور صلیب کا مواد۔

یہ وجہ ہے عیسائیت نے بڑی محنت اور جان جوکھوں سے جس اولمپیا کے زیوس دیوتا کے پہاڑ نما بت کو دفن کروا ڈالا تھا، اور بت پرستی کے اس میلے کو ہمیشہ کےلیے کالعدم outlaw   کروا دیا تھا، اور پھر صدیوں کی خاک نے اس کے نشانات تک دنیا سے اوجھل کر دیے تھے... یہ ’انتھروپالوجسٹ‘ اپنی کھدائیاں کرتے کرتے اُس کو تاریخ کے ملبے سے پھر نکال لائے اور پورے ایک پروگرام کے تحت اس کو نہ صرف یورپ کا بلکہ پوری دنیا کا سب سے بڑا میلہ بنا ڈالا۔

یہ کھنڈروں کے پجاری، ہمیں بھی اپنی اسی ’معصوم‘ انتھروپالوجی کی ڈالی پر لگا کر... چاہتے تھے کہ ہم بھی اپنے کسی ’موہنجوداڑو‘ کو پوجیں، ’بابل‘ کے قدیم بت خانوں کی خاک چھانیں، ’فراعنہ‘ اور ’اَہرام‘ کے قصیدے گا گا کر بےحال ہوں، اور ان میں اپنی قومیت و اجتماعیت کے سب حوالے ڈھونڈیں... مگر ہر سال ہماری ’’اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ ، واللہ اکبر اللہ اکبر، وللہ الحمد‘‘ اِن سب لغویات کو بہا کر لے جاتی ہے۔ ہمارے ’’قافلے حجاز‘‘ کے جو مشاعرِ حرم پر ہر سال اپنے آنسو چھڑک کر آتے ہیں ان شیاطین کا سب کیا کرایا غارت کردیتے ہیں۔

فَلِلّٰه الْحَمْد۔

خدایا تیرا لاکھ لاکھ شکر! ہم لاکھ بےحال سہی... ’’آسمان والے‘‘ کی تعظیم اور توحید ’’آسمان والے‘‘ کی شرطوں پر ہمارے سوا آج کون کرتا ہے! ’’خدا کے حق‘‘ پر ہمارے سوا آج جہان میں کون جھگڑتا ہے! دو برسرِ جنگ تہذیبوں کا یہ فنامنا، کہ جس کا مرکزی مضمون خدائے واحد کی عبادت اور باطل معبودوں کا انکار ہو، ہمارے سوا آج کس کے دم سے قائم ہے؟

هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ... سورۂ حج: 19 ’’یہ دو جھگڑنے والے، جن کا جھگڑا اپنے رب کے متعلق ہے‘‘۔

اللهم فَتَقَبَّلۡ..

وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين

إن صلاتي، ونسكي، ومحياي، ومماتي، لله رب العالمين. لاشريك له، وبذلك أمِرتُ، وأنا أول المسلمين.

الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر الله أكبر، ولله الحمد.



[1]     اِس مضمون میں چونکہ اولمپیا کے زیوس کا ایک حوالہ ہے، لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے قارئین اس کی کچھ تفصیل جاننے کےلیے ہمارا یہ ایک دوسرا مضمون ملاحظہ فرما لیں: اولمپکس، تاریخی و مذہبی پس منظر۔ اس سے عالم اسلام میں اس جدید #انتھروپالوجسٹ ایجنڈا کی بابت ہمارا مدعا زیادہ واضح ہو جائے گا۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
سن ہجری کے آغاز پر لکھی گئی ایک خوبصورت تحریر
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کیوں؟
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
وہ کتنا سایہ دار شجر تھا
بازيافت- سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
وہ کتنا سایہ دار شجر تھا   مہتاب عزیز   کیا ہی زندہ انسان تھا جو آج ہم میں نہ رہا۔ اس سفید ریش بوڑھ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز