عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Wednesday, December 12,2018 | 1440, رَبيع الثاني 4
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2013-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
اس سے پہلے کہ کشتی ڈوب جائے
:عنوان

جب بھی اور جہاں بھی ہماری یہ کشتی ڈوبی کیا اسوقت ہمارےیہاں نمازی نہیں پائےجاتےتھے؟روزہ دار ختم ہو گئےتھے؟متقی اور باشرع چہرےناپید ہوگئےتھے؟علماء اور فقہاء نہیں رہےتھے؟خطبےاور وعظ،خانقاہیں اور درس نہیں چل رہےتھے

. باطل :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

دردمندانِ قوم کے نام

اس سے پہلے کہ کشتی ڈوب جائے

ہمارے نبیﷺ نے فرمایا ہے:

مَثَلُ الْقَائِمِ عَلیٰ حُدُوْدِ اللّٰہِ وَالْوَاقِعِ فِیْہَا کَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَہَمُوْا عَلیٰ سَفِیْنَۃٍ فَأصَابَ بَعْضُہُمْ أعْلَاہَا وَبَعْضُہُمْ أسْفَلَہَا، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِیْ أسْفَلِہَا إذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاءِ مَرُّوْا عَلیٰ مَنْ فَوْقَہُمْ، فَقَالُوْا لَوْ أنَّا خَرَقْنَا فِیْ نَصِیْبِنَا خَرْقاً وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا، فَإنْ یَتْرُکُوْہُمْ وَمَا أرَادُوْا ہَلَکُوْا جَمِیْعاً، وَإنْ أَخَذُوْا عَلیٰ أیْدِیْہِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعاً  (صحیح البخاری)

’’اللہ کی حدوں کا پاسبان بن کر رہنے والوں.. اور ان کو توڑ بیٹھنے والوں.. کی مثال (کسی معاشرے کے اندر) یوں ہے جیسے ایک کشتی کے سوار اپنے مابین جگہیں بانٹ لیں؛ کچھ کو کشتی کی بالائی منزل ملے اور کچھ کے حصے میں زیریں۔ نیچے والے جب بھی پانی کے ضروتمند ہوں ان کو اوپر والوں کے بیچ سے گزرنا پڑے۔ تب یہ کہتے ہیں: کیوں نہ ہم اپنے والے حصے میں ایک شگاف کر لیں اور اوپر والوں کو (بار بار) تنگ نہ کریں۔ اب اگر وہ اِن کو اپنے ارادے پر عمل پیرا ہونے کےلیے چھوڑ دیتے ہیں.. تو سب کے سب مرتے ہیں... البتہ اگر وہ اِن کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں.. تو نہ صرف وہ خود بلکہ سب کے سب پار لگتے ہیں‘‘۔

قوم کے دردمندو ! 

ذرا اپنے نبیؐ کے فرمان پر غور کرو...:

ایک قوم کے چند نادان لوگوں کو __ اپنی عام سی حیثیت میں __ معاشرے کے اندر فساد پھیلانے کےلیے چھوٹ مل جائے... تو بھی انجام خطرے میں ہوتا ہے۔

تو پھر جرم اور فساد کی علمبردار پوری ایک مافیا کا.. اپنی باقاعدہ ’’سرکاری حیثیت‘‘ میں.. اور کشتی کا ’’ناخدا‘‘ بن کر.. معاملے کا ’’کنٹرول‘‘ ہی لے لینا، اور وہ بھی ایک ایسی منظم، گمراہ، کرپٹ مافیا...

جو نہ صرف اندرونی سطح پر اپنے بے تحاشا ظلم اور فساد سے اِس کشتی کا پیندا چھلنی کر دینے پر تلی ہوئی ہے 

بلکہ بیرونی سطح پر اِس کی سمت ہی تباہیوں کے بھنور کی جانب کر ڈالتی ہے... 

تو اے معاشرہ کے صالح و دَانا طبقو! یہ ہمارے لیے کس قدر عظیم لمحۂ فکریہ ہونا چاہئے...؟؟؟

*****

ہماری یہ ’’کشتی‘‘ .. جس پر قوم کے نمازی بھی سوار ہیں اور روزہ دار بھی.. سب متقی اور باشرع چہرے بھی.. علماء اور فقہاء بھی.. جہاں تلاوتیں بھی ہو رہی ہیں اور خطبے اور وعظ بھی.. مدرسے بھی چل رہے ہیں اور دروسِ قرآن بھی.. جہاں جدید تعلیم یافتہ، مخلص، محنتی اور باشعور شہریوں کی کمی ہے اور نہ دانشوروں اور ولایت پلٹ ماہرینِ سماج کی.. اساتذہ کی اور نہ انجینئروں اور ڈاکٹروں کی.. ادیبوں کی اور نہ شاعروں کی...

مگر.. اِن سب نیک اعمال کرتے نمازیوں روزہ داروں.. وعظ کرتے خطیبوں.. آگہی نشر کرتے پروفیسروں اور دانشوروں.. ادیبوں اور شاعروں.. اور سماجیات کے ماہروں.. کو اٹھائے ہوئے... ہماری یہ تیز رفتار ’’کشتی‘‘

تباہی کے کس ہولناک بھنور کی جانب بھاگی چلی جا رہی ہے.. اور اپنے طبعی انجام کے کس قدر قریب پہنچ چکی ہے...؟ 

اِس کے طول و عرض میں فساد کے کیا کیا انتظامات ہیں...، اور اس کے پتوار کن مکروہ ہاتھوں نے تھام رکھے ہیں؟

کیا اِس پر ہمیں ابھی تک پریشانی لاحق نہیں ہوئی...؟؟؟

کیا کبھی ہم نے نہیں سوچا... جس وقت بغداد میں تاتاریوں نے ہماری اینٹ سے اینٹ بجائی تھی.. یا جس وقت اندلس میں ہماری آٹھ سو سالہ تاریخ نے اپنا آخری سانس لیا تھا.. یا جس وقت مسلم ہند میں ہمارے اقتدار کا چراغ گل ہوا تھا.. یا جب بھی اور جہاں بھی ہماری یہ کشتی ڈوبی... تو کیا اُس وقت ہمارے یہاں نمازی نہیں پائے جاتے تھے..؟ روزہ دار ختم ہو گئے تھے..؟ متقی اور باشرع چہرے ناپید ہو گئے تھے..؟ علماء اور فقہاء نہیں رہے تھے..؟ خطبے اور وعظ.. خانقاہیں اور درس نہیں چل رہے تھے..؟ ادب اور شاعری نہیں ہو رہی تھی..؟ پڑھے لکھوں کی کمی ہو گئی تھی..؟ شریف، بھلے مانس، محنتی اور اپنے کام سے کام رکھنے والے معزز شہریوں کا کال پڑ گیا تھا...؟

آخر وہ کونسا وقت ہوتا ہے جب خدا کی نصرت اور عنایت ہم سے دستکش ہو جاتی ہے؟

جس وقت اصلاح کا کام ہمارے معاشرے کے اندر موقوف ہو جاتا ہے.. اور جب ’’نیکی‘‘ کا یہ تصور مقبولِ عام ہو جاتا ہے کہ: بس اپنے اپنے اعمال درست کرو اور اُس فساد سے تعرض مت کرو جو اِس کشتی کے پیندے میں شگاف ڈالنے کا موجب بن رہا ہے.. جس وقت ظلم اور فساد کے لشکروں کو معاشرے کے اندر کھلی چھوٹ مل جاتی ہے اور ان کو روکنے ٹوکنے والی آوازیں دھیمی پڑ جاتی ہیں اور کلمۂ حق کہنے والے کہیں کونوں اور گوشوں میں جا کر سو جاتے ہیں یا اپنی انفرادی عبادتوں میں محو ہو جاتے ہیں.. اور ’’کشتی‘‘ میں شگاف کرنے والوں کا کام زوروں پر چلا جاتا ہے... تو یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایک کلمہ گو قوم پر سے آسمان کے پہرے اٹھ جاتے ہیں!

حضرات! معاشرے کے اندر ظلم اور فساد اور عبادتِ غیر اللہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا... اس کشتی کا بھی تحفظ ہے.. اور خود آپ کا بھی.. اور آپ کی آئندہ نسلوں کا بھی۔

*****

خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ  ایک بار منبر پر کھڑے ہوئے، اور بعد از حمد وثناء، فرمانے لگے:

یا أیہا الناس إنکم تقرأون ہٰذہ الآیۃ وتضعونہا علیٰ غیر موضعہا: ( یَا أیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أنْفُسَکُمْ لا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ إذَا اھْتَدَیْتُمْ).. وإنَّا سَمِعْنَا النَّبِیَّ ا یَقُوْلُ: ’’إنَّ النَّاسَ إذَا رَأوْا الظَّالِمَ فَلَمْ یَأخُذُوْا عَلیٰ یَدَیْہِ، أوْشَکَ أن یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ بِعِقَابٍ‘‘۔ ( رواه أحمد، و أبو داود، والترمذی، وابن ماجة، وصححه أحمد شاکر والألبانی، واللفظ لأبی داود)

اے لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو اور اِس کا نہایت غلط اطلاق کرتے ہو: (المائدۃ کی آیت ۱۰۵) ’’اے ایمان والو ! اپنی فکر کرو۔ تم خود اگر راہ راست پر ہو تو کسی کے گمراہ رہنے سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا‘‘ جبکہ ہم نے نبی کو یہ فرماتے سنا: ’’یقیناًلوگ جب ظالم کو دیکھیں اور اس کو اُس کے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن سب کو عقوبت کی لپیٹ میں لے لے‘‘

تو کیا ہم نے غور کیا؟...’’ظالم کو دیکھیں تو اُس کو دونوں ہاتھ پکڑ کر اُس کے ظلم سے روکیں‘‘... کیونکہ سفینہ جب ڈوبتا ہے تو پورے کا پورا ڈوبتا ہے!

قالت زینبُ: فقلتُ: یا رسولَ اللّٰہ أنَھْلَکُ وَفِینا الصَّالِحُون؟ قال: ’’نعم إذا کَثُرَ الخَبَثُ‘‘ (متفق علیه)

ام المومنین زینبؓ (بنت جحش) فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسولؐ! کیا ہم ہلاک ہوں گے درحالیکہ ہمارے مابین صالحین پائے جاتے ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’ہاں جب گند زیادہ ہو جائے‘‘

قوم کے دن پھرنے کے آرزو مندو ! 

اپنے نبیؐ کی بات پر غور کرو... :

أنَھْلَکُ وَفِینَا الصَّالِحُوْنَ؟ کیا صالحین کے ہوتے ہوئے ہم برباد ہونگے؟ قال: ’’نعم إذا کَثُرَ الخَبَثُ‘‘ فرمایا: ’’ہاں جب گند بڑھ جائے‘‘

’’گند‘‘بڑھ جائے... تو وہاں پر صالحین کی نمازیں اور دعائیں... قربانیاں اور روزے... اعتکاف اور عمرے.. حج اور چلے... مسئلے کا علاج نہیں رہتے.. اور قوم کے سر پر منڈلانے والے اُس ’’طبعی انجام‘‘ کو ٹال دینے پر قدرت نہیں رکھتے... جب تک کہ یہ صالح طبقے ’’گند‘‘ صاف کرنے کےلیے ہی میدان میں نہ اتر آئیں...! ’’صفائی‘‘کا یہ عمل... بڑی دیر سے یہاں ’’صالحین‘‘ کا منتظر ہے!!!

*****

آئیے اٹھیں... اور اپنے حصے کا کام انجام دیں:

ایک فورم... جس پر.. ہر طبقے، ہر پیشے ، ہر سماجی حیثیت و پسمنظر، ہر مسلک، ہر فقہ، ہر تنظیم، اور ہر پارٹی کے لوگ.. مل کر:

à   باطل اور ظلم کے خلاف اہل اسلام کی وہ مزاحمت سامنے لائیں... جو :

ý        اپنے معاشرے میں کفر والحاد کی یورش کو روک نہ سکے تو بھی اُس کی راہ میں کچھ بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کر دینے میں کامیاب ہو۔

ý        عالمی استعمار نے ہم پر جو نظامِ ظلم و استحصال مسلط کر رکھا ہے.. کبھی ’جمہوریت‘ اور ’عوام کی نمائندگی‘ اور ’عوامی امنگوں کی ترجمانی‘ کے نام پر.. تو کبھی اپنے چہیتے ڈکٹیٹروں کے ناز نخرے اٹھانے کی صورت میں.. جبکہ پون صدی سے چلا آنے والا یہ نظامِ باربرداری و بردہ فروشی ہمارا سارا خون چوس چکا ہے اور ہمارے وجود سے زندگی کی آخری رمق ختم کر دینے والا ہے... عالمی استعمار کے مقاصد پورا کرنے والے اِس نظامِ استبداد کو اپنے یہاں سے رخصت کرانے کےلیے..

ý        عوامی طاقت کو میدان میں لائے۔

ý        ہماری یہ مزاحمت: نظریاتی بھی ہو۔ سماجی بھی۔ اور سیاسی بھی۔ یہ مزاحمت گلی گلی، محلے محلے، کی سطح پر پائی جائے.. مسجدوں اور منبروں سے پھوٹے.. ابلاغی فورموں سے اپنا پتہ دے... اور بیک وقت عالمی لہجے بھی اختیار کرے۔

ý        تشدد کی راہ سے دور رہتے ہوئے.. یہ ایک ’’عوامی ریلا‘‘ اٹھانے پر ہی اپنا زور صرف کرے...؛ اور جوکہ مسلم دنیا کے متعدد خطوں میں قابل ذکر پیشرفت دکھا چکا ہے۔

à   یہ فورم مسلم صفوں میں پائے جانے والے انتشار اور افتراق کا ایک جرأتمندانہ حل سامنے لائے۔ ایک طرف لسانیت، صوبائیت اور قومیت ایسے رجحانات کے خلاف سرگرم ہو، کیونکہ یہ چیزیں جسدِ مسلم کو تار تار کروانے کےلیے ہی ہمیں مہیا کر رکھی گئی ہیں؛ اور ان سب جاہلی عصبیتوں کے مقابلے میں ’’رشتۂ اسلام‘‘ اور ’’اخوتِ ایمانی‘‘ کو ہی اپنی مضبوط تر شیرازہ بندی کی بنیاد بنائے۔ دوسری جانب ’مذہب‘ کے نام پر کھڑی کی گئی اُن دیواروں کو گرائے جو ہمیں فرقوں اور ٹولوں کے اندر بانٹ چکی ہیں اور جن کے باعث آج ہماری مسجدیں اور نمازیں تک الگ ہوچکی ہیں...! آج ہمیں فرقہ واریت کی اِن سب بنیادوں کو ہی ملیامیٹ کرنا ہو گا۔

à   یہاں ہونے والی کرپشن اور چوری اور لوٹ کھسوٹ کی خبر لے، سماجی ظلم و ناانصافی کے خلاف اٹھے اور قوم کو اٹھائے۔

à   مقامی صنعت کو فروغ دلوانے کےلیے.. نیز مسلم وسائل کو ملٹی نیشنلز (’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ کی فی زمانہ شکل) کی آہنی جکڑ سے آزاد کرانے کے لیے، اور مسلم معاشروں کو خودانحصاری کی راہ دکھانے کے لیے.. نیز یہود وہنود وصلیب کے پنجے میں سسکتی مسلم اقوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے... ’’بائیکاٹ‘‘ کا ہتھیار سامنے لے کر آئے۔

à   گلی گلی محلے محلے کی سطح پر، ’’اپنی مدد آپ‘‘ کے تحت ریلیف اور سماجی خدمت کے کم خرچ بالانشین ماڈل سامنے لائے۔ زکات و صدقات کا اسٹرٹیجک استعمال متعارف کروائے۔ گلی محلے اور مسجد کی سطح پر کواپریٹو اسکیمیں سامنے لے کر آئے۔ سمال انڈسٹری کی قابل عمل صورتیں دے۔ اور مسلم ٹیلنٹ کی سرپرستی کرے۔

حضرات!
آپ کے سامنے آج ظلم بھی ہے، کفر بھی، فساد بھی، عبادتِ غیر اللہ بھی، اور شرائع کی پامالی بھی۔ جبکہ پرسانِ حال کوئی نہیں! اصلاح کاروں کا اٹھنا آج فرض نہیں تو کب ہے؟

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز