عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, May 29,2020 | 1441, شَوّال 5
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2013-04 apniJamhuriat آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
جمہوریت محض ایک انتظامی طریقِ کار نہیں!
:عنوان

بیسویں صدی میں جب استعمار ہمیں پوری ایک صدی تک اپنے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں پڑھا چکا تھا، اور اپنے پیچھے اس تعلیمی ، تربیتی اور ثقافتی نظام کو چلتی حالت میں چھوڑ کرجانے کی پوری پوری تسلی کرچکا تھا...

. باطل :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

فصل 4 کتابچہ: ’’اپنی جمہوریت یہ تو دنیا نہ آخرت‘‘

جمہوریت کے ان بنیادی عناصر پر غور فرمائیے، جوکہ اسلام کے عقیدہ و شریعت کے ساتھ قدم قدم پر متصادم ہیں ؛ آپ پر خودبخود واضح ہوجاتا ہے کہ جمہوریت نرا پرا ایک ’انتظامی ‘ طریق کار نہیں بلکہ یہ ایک باقاعدہ فلسفہ اور نظام ہے۔ اس کی جڑوں میں باقاعدہ ایک عمرانی عقیدہ کار فرما ہے جو کائنات، وجود، زندگی اور مابعد الطبیعیات ایسے ہر ہر مسئلے پر اپنا الگ نکتۂ نظر پیش کرتا ہے۔ ہمیں اگر یہ ’دین ‘ نظر نہیں آتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ تاریخی عوامل نے ہمارے یہاں ’دین‘ اور ’عبادت‘ کا مفہوم سکیڑدیا ہے۔ مغرب کے یہاں اس بات کی پوری گنجائش ہے کہ بعض پہلوؤں سے وہ ’نصرانیت‘ کو اپنا دین رکھے تو بعض پہلوؤں سے ’ڈیموکریسی‘ کو اور بعض پہلوؤں سے ’کیپٹل ازم‘ کو۔ ہندوؤں کو اِسے قبول کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ اجتماعی وسماجی زندگی میں ان کے ہاں ’دین ‘ کا خانہ پہلے سے خالی چلاآتا ہے۔ بلکہ دنیا کی سبھی اقوام ہی دینِ جمہوریت کو اپنائیں (جوکہ وہ اپناچکی ہیں) تو ان کاایسا کرنا بنتا ہے۔ ایک طرف ان کے ہاں اس کی پوری گنجائش، دوسری طرف زمانے کا یہی فیشن۔ بقول شاعر ’رسمِ دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے‘!

یہ سب اقوام پہلے دن سے کوئی جامع دین نہیں رکھتی تھیں۔ ان کے ہاں اس کی پوری گنجائش تھی  کہ ’پوجاپاٹ‘ کے باب میں ان کا دین کچھ ہو، تو ’معاشیات‘ کے باب میں کچھ، اور ’سیاسیات‘ کے باب میں کچھ۔  انسان کو دراصل زندگی کے ہر پہلومیں ’ہدایت‘ کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر پہلو میں وہ جس ہدایت پر چلتا ہے وہ اس کا ’’دین‘‘ ہے۔ اس لحاظ سے؛ ہمارے سوا آج دنیا کی کسی بھی قوم کےلئے بیک وقت ایک سے زیادہ ’’دین‘‘ رکھنا انہونی بات نہیں بلکہ یہ ان کی مجبوری ہے؛ یہ نہ کریں تو کیا کریں۔ ایک ہی دین جب اتنا مکمل نہ ہو کہ وہ انسانی زندگی کے ہر انفرادی و اجتماعی پہلو کو محیط ہو تو متعدد اَدیان کو بیک وقت اپنانے کے سوا کیاچارہ ہے؟ یہ چیز ان کے ہاں ’’تضاد‘‘ میں نہیں آئے گی۔ اِس ’’تضاد‘‘ کا سوال دنیا کی  صرف ایک قوم کے ہاں اٹھے گا اور یہ وہ قوم ہے جس کی کتاب میں جلی حروف کے اندر لکھ رکھا ہے:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

ہونا یہ چاہئے تھا کہ اِن جدید مذاہب کے ساتھ بھی آج ہمارا تعامل عین اِسی ’’الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا‘‘ کی بنیاد پر ہوتا۔ یہ سب نظام جدید دور کے مذاہب ہیں نہ کہ محض انتظامی طریقِ کار۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ پچھلی تین چار صدیوں میں مغرب کے ہاں بہت سے سماجی مذاہب کی پرورش ہوئی ہے۔ یہ چونکہ کلیسا کے بھگوڑے ہیں لہذا اسے مذہبی رنگ دینے سے بچنے کےلئے یہ ’عقیدہ‘ کی جگہ’نظریہ‘ اور ’دین ‘ کی جگہ ’نظام‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔کپٹل ازم ، سوشل ازم ، آزادی فکر، آزادی نسواں، مساوات مردو زن، قومی ریاست (Nation State)، عالمی اخوت (عالمی برادری)، اباحیت، جمہوریت، وطنیت (Patriotism)، انسانی پرستی (Humanism)، سیکولرزم وغیرہ وغیرہ سب جدید دور کے مذاہب ہیں جو ’دھرم‘ کو چرچ میں بند کردینے کے بعد یورپی معاشروں نے پہلے اپنے لئے ایجاد کئے اور پھر پوری دنیا پر اس شریعت کی پیروی لازم کردی۔

ہر باطل مذہب کی طرح ان جدید مذاہب میں بھی بہت سے اچھے اچھے اور اسلام سے مشترک پہلو پائے جاتے ہیں مگر قدیم مذاہب کی طرح ان جدید مذاہب پر بھی ہمیں وقت برباد کرنے کی ضرورت نہ تھی کہ ان میں سے کیا چیزہمیں لینی ہے اور کیا چیز چھوڑنی ہے۔ ہمارے دین کی تعلیم اس بارے میں بہت سادہ اور واضح ہے: ہمیں ان سے کچھ بھی نہیں لینا ، سبھی کچھ چھوڑنا ہے۔ ان میں اگر کوئی خیرہے (اور ظاہر ہے کچھ نہ کچھ خیر ہر باطل میں ہونی ہی چاہیے) تو وہ خیر ہمارے دین میں آپ سے آپ اورپہلے سے موجود ہے ۔ اس کے لئے ہمیں باہر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ خیر ہمیں اپنے ہی دین پر چلتے ہوئے وافرطور پر خود بخود مل جائے گی؛ اس کےلئے  ہمیں مغرب کے کسی نظام یا اصطلاح کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں؟ہم ایک خود کفیل ملت ہیں دوسرے ہمارا حوالہ دیں تو دیں؛ ہم ایک آسمانی امت ہوتے ہوئے اور آسمانی شریعت پاس رکھتے ہوئے زمینی مذاہب کے حوالے کیوں دیں؟ اللہ تعالی ہمیں الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا[1] ایسا اعزاز دے مگر ہم اپنی فکری پہچان کی تلاش میں یورپ کی خاک چھانتے پھریں! اللہ تعالی ہمیں ہمارے دین کا تعارف فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ    مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ    بِأَيْدِي سَفَرَةٍ   كِرَامٍ بَرَرَةٍ  [2] کہہ کر کرائے اور ہم اپنی شناخت تک کےلئے مغرب کے دست نگر ہوں۔ کیا عزت و برتری ایسی نعمت غیروں کا طفیلی (Parasite) بن کر مل سکتی ہے؟ بلاشبہ، دوسروں کے سامان میں اپنی چیزڈھونڈتے پھر نا لاچاری اور مفلسی کی دلیل ہے۔ یہ مفلسی ہمارے دین میں نہیں، ہماری اپنی اختیارکردہ ہے۔

حضرات! کچھ دیر کےلیے ہم ’اسلامی جمہوریت‘ کی تفصیلا ت میں نہیں جاتے... صرف اتنا پوچھ لیتے ہیں کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں خاتم المرسلینﷺ کی امت کو یورپ کی تراشیدہ ایک اصطلاح کی ضرورت کیونکر پڑی؟ جی ہاں،بیسویں صدی میں جب استعمار ہمیں پوری ایک صدی تک اپنے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں پڑھا چکا تھا، ہمارے ہزار وں ذہین دماغوں کو لمبے لمبے کورسوں پر محیط ولایت یاترا کراچکا تھا اور اپنے پیچھے اس تعلیمی ، تربیتی اور ثقافتی نظام کو چلتی حالت میں چھوڑ کرجانے کی پوری پوری تسلی کرچکا تھا... جمہوریت میں اسلام اور اسلام میں جمہوریت اتنی عیاں ہو کر عین اسی مرحلہ پر آخر ہمیں کیوں نظر آئی؟ اسلام کےلئے ایک ’عالمی طور پر معتبر‘ حوالے کی ضرورت ہمیں آج آکر ہی کیوں محسوس ہونے لگی؟ اسلام کےلئے خود اسلام ہی اب کیوں حوالہ نہیں؟

اس سوال پر للہ غور فرمائیے ۔ یہ ہماری گزارش ہے۔



[1]     (المائدۃ: ٣)  آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا، اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند ٹھہرالیا ہے

       اِس آیت کے ضمن میں بخاری میں آتا ہے:

حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ایک یہودی حضرت عمرؓ سے کہنے لگا: اے امیر المومنین تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس کی تم تلاوت کرتے ہو اگر کہیں وہ ہم یہودیوں پر اتری ہوتی تو ہم اس دن کو ہمیشہ کےلئے جشن قرار دے لیتے ۔حضرت عمر نے پوچھا: کونسی آیت؟ یہودی کہنے لگا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ یعنی” آج میں نے تمہارے لئے تمہار ا دین مکمل کردیا ، تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین پسند ٹھہرالیاہے“۔ عمر فرمانے لگے ہمیں وہ(جشن کا) دن بھی یاد ہے اور جگہ بھی جب وہ نبیﷺ پر اتری ۔ وہ جمعے کا دن تھا اور آپؐ میدا نِ عرفات میں کھڑے تھے۔ (بخاری، کتاب الایمان، حدیث رقم 45)

[2]     (سورۃ عبس ١٣۔١٦) ”یہ تو عظمت والے صحیفوں میں درج ہے جو کہ بابرکت ہیں ،بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں، جن کو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھ لکھتے ہیں جو خود بابرکت ومعزز اور پاکباز ہیں“۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
"المورد".. ایک متوازی دین
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ!
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز