عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, September 18,2021 | 1443, صَفَر 10
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
چند مسلم ممالک اتنی سی طاقت بھی کیونکر حاصل کر سکے؟
:عنوان

جس شکار کو مارنے کےلیے صدیاں لگیں اس کو کھانے کےلیے بھی صدیاں چاہئیں تھیں؛ اور ابھی تو صرف ’انفراسٹرکچر‘ ڈالا جا رہا تھا! یعنی تسلی سے یہاں بسنا اور سیر ہو کر کھانا تھا!

. احوالوقائع :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

چند مسلم ممالک اتنی سی طاقت بھی کیونکر حاصل کر سکے؟

تحریر: حامد کمال الدین

عالم اسلام میں جو کچھ ’بڑے سائز‘ کے ملک پائے جاتے ہیں یا کچھ مضبوط فوجوں یا اہم سٹرٹیجک حیثیت کی مالک ریاستیں ہیں، ان کے ساتھ دشمن کی بےرحمی پچھلے سات عشروں کے دوران ایک حد سے نہیں بڑھ پائی... تو اس کی وجہ دشمن کی ایک مجبوری تھی جس کا نام ہے ’سردجنگ‘۔ یہ وہ مجبوری ہے جس نے نصف صدی تک مغربی بلاک کو خطرۂ موت کی سولی پر لٹکائے رکھا اور جس کے باعث مغربی بلاک آپ کے پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب ہی کیا ’افغان جہاد‘ کی بلائیں لینے پر مجبور ہوا رہا تھا بلکہ اس میں اپنی بقاء دیکھنے لگا تھا۔ سو اس کےلیے تو دعائیں دیجئے ’سرد جنگ‘ کو! البتہ یہ مت سمجھئے کہ یہ بڑی بڑی مسلم اکائیاں اپنی اِس ’اسلام سے دُور‘ حالت میں بھی چلیں ان کو قبول تو ہیں۔ ہرگز نہیں۔

تیسری دنیا میں ’’آزادیوں‘‘ کا جو ایک فنامنا بیسویں صدی کے وسط میں دیکھا گیا اور بعدازاں چند مسلم ممالک کے کچھ ترقی کرجانے کی بھی جو ایک صورت بنتی چلی گئی، اس کا دراصل ایک پس منظر ہے: بیسویں صدی یعنی nineteen hundreds    کا نصفِ اول دو ’’عالمی جنگوں‘‘ اور نصفِ دوم پانچ عشروں پر محیط ایک خونخوار گلوبل ’’سرد جنگ‘‘ پر مشتمل ہے۔ یہ دراصل استعمار کے شکنجے میں پوری طرح آچکے اور اب بظاہر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے ’’قابو‘‘ عالم اسلام کی گردن چھڑوانے اور مسلمانوں کو سنبھلنے کا بھرپور موقع دینے کےلیے ایک خالص خدائی تدبیر تھی؛ اس پر شکر کریں تو صرف خدا کا...

مغربی قوتوں کی عالم اسلام پر ایک خونخوار چڑھائی جو اٹھارویں اور انیسویں صدی seventeen&eighteen hundreds   میں ہوئی، بیسویں صدی nineteen hundreds   میں یکلخت پسپا ہوتی ہے، بلکہ ’آزادیوں‘ کی ریل پیل دکھائی دیتی ہے، تو اس سے ان قوتوں کی ’شرافت‘ کے بارے میں کوئی دھوکہ نہ کھانا چاہئے۔ وہ شکار جو اٹھارویں اور انیسویں صدی seventeen&eighteen hundreds  میں مارا گیا تھا، اُس کو تو ایسے مزے لےلے کر کھایا جانا تھا کہ الامان والحفیظ۔ ’کالج یونیورسٹیاں‘ بناتے اور ملکہ وکٹوریہ کے در کو پہنچانے والی ’ریل‘ بچھاتے کچھ دیر لگ گئی تو اس لیے کہ یہاں جلدی ہی کسی بات کی نہیں تھی! جس شکار کو مارنے کےلیے صدیاں لگیں اس کو کھانے کےلیے بھی صدیاں چاہئیں تھیں؛ اور ابھی تو صرف ’انفراسٹرکچر‘ ڈالا جا رہا تھا! یعنی تسلی سے یہاں بسنا اور سیر ہو کر کھانا تھا! لیکن کیا دیکھتے ہیں، چند ہی عشروں میں (بیسویں صدی nineteen hundreds   کا آغاز) ’’عالمی جنگوں‘‘ کا ایک ہولناک کمرتوڑ عذاب (مَن عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ[1] کے مصداق) مسلمانوں کے سینے پر چڑھی بیٹھی استعماری قوتوں کے عین سر پر آپہنچا (قُلْ هُوَ الْقَادِرُعَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ)[2] اور تھوڑے عرصے میں غاصبوں کی کمر توڑ ڈالی۔ اتنی سیانی قومیں خدائی تدبیر کے آگے یوں بےبس؛ اپنے ہاتھ سے (تیسری دنیا کے جذباتی ’فرقوں‘ کی طرح) ایک دوسرے کا یوں گلا کاٹتی چلی گئیں  کہ سارا عالمی سیناریو ہی بدل کر رہ گیا اور وہ ٹوٹی کمر کے ساتھ ’فی الوقت کےلیے‘ شکار کی جان چھوڑ، شرافت و انسانیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے، اپنے گھر سدھار گئیں؛ اور اپنے بڑھاپے کا اندازہ کر کے ’حقوقِ انسانی‘ کا وِرد کرنے لگیں۔ دنوں میں ’یو۔این‘ کھڑی کی گئی۔ بقیہ کہانی پھر سرد جنگ نے پُر کی، جس کی تفصیلات ہمارے سامنے ہیں، اور جس کے بطن سے خدا نے ہمارا عالمی جہاد برآمد کرا ڈالا، جوکہ ابھی سرے نہ لگا تھا کہ شمال مغربی برصغیر کی ایک غیرمعمولی صلاحیتوں کی مالک مسلم قوم کو دنیا "نیوکلیئر پاور" کے طور پر دیکھ رہی تھی!

اتنا ڈراؤنا خواب تو عالمِ صلیب کے یہاں پچھلی تین صدیوں سے کبھی نہ دیکھا گیا ہو گا! مسلمانوں کا ’’عالمی جہاد‘‘ اور مسلمانوں کا ’’نیوکلئیر پاکستان‘‘ خدائی تقدیر کے کچھ خصوصی نشان ہیں، جن کو محض ’اسباب‘ کے تحت بیان کرنا ہم اپنے لیے خاصا دشوار پاتے ہیں۔ (دونوں، اپنی الگ الگ حیثیت میں  __ ایک دُوررَس طور پر __ ’عالمی توازن‘ کو اس کی اوقات پر لانے کا نقطۂ ابتداء، ان شاءاللہ وبفضلہٖ تعالیٰ)۔

ان دونوں (عالمی جہاد کا سامنے آنا اور نیوکلیئر پاکستان کا ظہور) کی تفسیر  explanation  ’سرد جنگ کے فراہم کردہ مواقع‘ کے سوا کسی چیز سے ممکن نہیں؛ اور ’سرد جنگ‘ اپنی پیش رَو ’عالمی جنگوں‘ کی طرح ایک خاص خدائی تدبیر؛ جس نے ’سیانی‘ قوموں کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔

حق یہ ہے کہ ہمارا ’’عالمی جہاد‘‘ اور ہمارا ’’نیوکلئیر پاکستان‘‘ (مجموعی طور پر) سرد جنگ کے بطن سے برآمد ہونے والا اتنا ہی بڑا ایک واقعہ ہے جتنا کہ عالمی جنگوں کے بطن سے برآمد ہونے والا عالم اسلام کی تابڑتوڑ ’آزادیوں‘ ایسا ایک بڑا تاریخی واقعہ۔

پھر اس سے کچھ ہی دیر بعد تقدیر کے بطن سے ایک اور واقعہ ایسا رونما ہوا جو کسی کے سان گمان میں تھا اور نہ آ سکتا تھا۔ اِس واقعہ کو بھی محض ’اسباب‘ کی بنیاد پر تفسیر explain   نہیں کیا جاسکتا؛ اور یہ تھا ’اتاترک کے ترکی‘ کا منظر سے ہٹتے اور اس کی جگہ ’اردگان کے ترکی‘ کا نمودار ہوتے چلے جانا!

(کچھ بعید نہیں اسی فہرست میں ’فہد و عبداللہ کے دَم کشیدہ سعودی عرب‘ کی جگہ خطرات میں کود پڑنے والا ’سلمان کا سعودی عرب‘ بھی آئے، مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ ’مرسی کا مصر‘ بھی اِس فہرست میں آتا آتا رہ گیا؛ ورنہ آنے والے دنوں کی صورت  شاید کوئی اور ہوتی۔ گو پھر بھی ہم ناامید نہیں؛ آج نہیں تو کل ان شاءاللہ ایک واقعہ ہونا ہی ہے۔ پھر تیونس سے نمودار ہونے والی اور لیبیا و مصر سے گزرتی شام تک جا پہنچنے والی ’عرب سپرنگ‘ جوکہ آدھی پونی ’اسلامی سپرنگ‘ بھی تھی وقتی طور پر چاہے ناکام ہو گئی ہو لیکن خطے میں اسرائیل کے ’مستقبل‘ کےلیے پریشان طبقوں کو بہت کچھ بتا گئی: ان بڑے بڑے سائز کے مسلم ملکوں کے یہاں کوئی ٹھوس انفراسٹرکچر یا کوئی مضبوط اکانومی تیار حالت میں چھوڑنا جسے کبھی بھی کوئی عوامی رَو اٹھ کر اپنے زیرِ استعمال لے آئے اور آخر اس کے اندر اِن خطوں کے مسلمانوں کی امنگیں اور جذبے بولنے لگیں، ایک سنگین غلطی ہو گی۔ اِن خطوں کو تو مغرب کی دیوی ’جمہوریت‘ کے درشن کروانا غلط ٹھہرا! نیز جس ’اسلامی جذبہ‘ کو عرب دنیا میں اتنے عشرے بےدردی کے ساتھ کچل کر دیکھ لیا گیا مگر وہ پھر اتنا زندہ ہے کہ یہاں کی کسی بھی عوامی رَو کے کاندھے پر سوار ہو لیتا ہے، اس کا تو کوئی اور ہی پائیدار علاج کرنا ہو گا)۔ ’سرد جنگ‘ کی مجبوری اب نہیں ہے! جس کے بعد عالم اسلام کو ’پتھر کے دور‘ میں دھکیل جانے کےلیے ملتِ صلیب کے یہاں گھنٹیاں بجائی دی گئیں، الا یہ کہ کوئی اور مجبوری ان کے آڑے آ جائے۔ اس مقصد کےلیے روم و فارس کی دوریاں تک ختم کرائی جا چکیں۔ ہمیں فی الحال نہیں معلوم، روس کا بیچ میں آنا یہاں کس درجہ کا گیم چینجر game changer  ہے۔ اتنا واضح ہے کہ روس اس بار خاصی حد تک ایک صلیبی چہرے کے ساتھ ہی میدان میں کودا ہے؛ جس کے ڈھیروں شواہد ہیں۔

یہ ہے مختصراً اس سوال کا جواب کہ چند مسلم ملک اتنی سی طاقت کا حصول بھی اگر کر پائے تو اس کا موقع انہیں کیونکر ملا... اور یہ کہ پچاس کے عشرے سے لے کر اب تک اگر کچھ غیرمعمولی مجبوریاں نہ ہوتیں تو اس کی گنجائش بھی وہ اِن مسلم ملکوں کو دینے والے نہ تھے۔  واللہ غالبٌ علیٰ أمرِہ۔


سلسلۂ مضامین:

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 1

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 2

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 3

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 4


(جاری ہے)



[1]  حدیثِ قدسی: ’’جو شخص میرے کسی دوست کے ساتھ دشمنی کر لے، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا کرتا ہوں‘‘۔

[2]  (الأنعام: 64) ’’ کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے‘‘۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کل جس طرح آپ نے فیصل آباد کے ایک مرحوم کا یوم وفات منایا
تنقیحات-
احوال-
حامد كمال الدين
کل جس طرح آپ نے فیصل آباد کے ایک مرحوم کا یوم وفات "منایا"! حامد کمال الدین قارئین کو شاید ا۔۔۔
‘بندے’ کو غیر متعلقہ رکھنا آپکے "شاٹ" کو زوردار بناتا
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
’بندے‘ کو غیر متعلقہ رکھنا آپ کے "شاٹ" کو زوردار بناتا! حامد کمال الدین لبرلز کے ساتھ اپنے ا۔۔۔
مزاحمتوں کی تاریخ میں کونسی بات نئی ہے؟
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کےلیے یہاں کلک کیجیےمزاحمتوں کی تاریخ میں کونسی بات نئی ہے؟ صلیبی قبضہ کار کے خلاف۔۔۔
یہ "سیزفائر" یا "جان بخشی" کی خوشی نہیں، دانش گرو!
جہاد- مزاحمت
احوال-
حامد كمال الدين
یہ "سیزفائر" یا "جان بخشی" کی خوشی نہیں، دانش گرو! حامد کمال الدین فلسطینی قوم کی خوشیوں پر ۔۔۔
سعودی سکولوں میں "مہابهارت پڑهانے" کی ہوائی!
احوال-
حامد كمال الدين
سعودی سکولوں میں "مہابهارت پڑهانے" کی ہوائی! حامد کمال الدین ایک طرف حالیہ سعودی رہنماؤں کا بوجوہ بن ۔۔۔
کسی کی "نیت" اور "اخلاص" کا ثبوت آنے تک
احوال- تبصرہ و تجزیہ
راہنمائى-
حامد كمال الدين
کسی کی "نیت" اور "اخلاص" کا ثبوت آنے تک! === میڈیا سٹریٹجی کے چند مختصر مباحث  2 حامد کمال۔۔۔
ایک "اِبلاغی چابکدستی" ہم پر حرام نہیں ہے
راہنمائى-
احوال-
حامد كمال الدين
ایک "اِبلاغی چابکدستی" ہم پر حرام نہیں ہے! حامد کمال الدین دین پسندوں کی "میڈیا سٹرٹیجی" کے تعلق سے،۔۔۔
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ
جہاد-
احوال-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
تنقیحات-
احوال-
حامد كمال الدين
کل جس طرح آپ نے فیصل آباد کے ایک مرحوم کا یوم وفات "منایا"! حامد کمال الدین قارئین کو شاید ا۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
’بندے‘ کو غیر متعلقہ رکھنا آپ کے "شاٹ" کو زوردار بناتا! حامد کمال الدین لبرلز کے ساتھ اپنے ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
"حُسینٌ منی & الحسن والحسین سیدا شباب أھل الجنة" صحیح احادیث ہیں؛ ان پر ہمارا ایمان ہے حامد۔۔۔
بازيافت- تاريخ
بازيافت- سيرت
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
ہجری، مصطفوی… گرچہ بت "ہوں" جماعت کی آستینوں میں! حامد کمال الدین ہجرتِ مصطفیﷺ کا 1443و۔۔۔
جہاد- مزاحمت
جہاد- قتال
حامد كمال الدين
صلیبی قبضہ کار کے خلاف چلی آتی ایک مزاحمتی تحریک کے ضمن میں حامد کمال الدین >>دنیا آپ۔۔۔
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
مضمون کا پہلا حصہ پڑھنے کےلیے یہاں کلک کیجیےمزاحمتوں کی تاریخ میں کونسی بات نئی ہے؟ صلیبی قبضہ کار کے خلاف۔۔۔
حامد كمال الدين
8 دینداروں کے معاشرے میں آگے بڑھنے کو، جمہوریت واحد راستہ نہیں تحریر: حامد کمال الدین ۔۔۔
حامد كمال الدين
7 "اقتدار" سے بھی بڑھ کر فی الحال ہمارے پریشان ہونے کی چیز تحریر: حامد کمال الدین مض۔۔۔
حامد كمال الدين
6 جمہوری راستہ… اور اسلامی انقلاب تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ نبوت سے۔۔۔
حامد كمال الدين
5 جمہوریت کو "کلمہ" پڑھانا کیا ضروری ہے؟ تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ ۔۔۔
حامد كمال الدين
4 جمہوریت… اور اسلام کی تفسیرِ نو تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ نبوت سے۔۔۔
حامد كمال الدين
3 جمہوری پیکیج، "کمتر برائی"… یا "آئیڈیل"؟ تحریر: حامد کمال الدین مضمون: خلافتِ نبوت سے عد۔۔۔
حامد كمال الدين
2 جمہوری راستہ اختیار کرنے پر، دینداروں کے یہاں دو انتہائیں تحریر: حامد کمال الدین ۔۔۔
حامد كمال الدين
1 کامل خلافتِ نبوت سے عدولی، ملوکیتی ادوار پر جمہوری فارمیٹ کا قیاس؟ تحریر: حامد ک۔۔۔
حامد كمال الدين
جاہلیت کے سب دستور آج میرے پیر کے نیچے! تحریر: حامد کمال الدین  خطبۂ حجة الوداع، جس کی باز۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نفس کی اطاعت" شرک کب بنتی ہے؟ حامد کمال الدین برصغیر کے فکری رجحانات صوفیت کے زیرِاثر رہے۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ایک "عقیدہ بیسڈ" aqeedah-based بیانیہ جو "اعمال" میں نرمی اور تدریج پر کھڑا ہو حامد ک۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"دلیل ازم" کا ایک ٹپیکل مغالطہ حامد کمال الدین سوال: کیا آپ اس عبارت سے متفق ہیں؟ [ر۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
تاريخ
حامد كمال الدين
سيرت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
قتال
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز