عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, June 27,2019 | 1440, شَوّال 23
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
چند مسلم ممالک اتنی سی طاقت بھی کیونکر حاصل کر سکے؟
:عنوان

جس شکار کو مارنے کےلیے صدیاں لگیں اس کو کھانے کےلیے بھی صدیاں چاہئیں تھیں؛ اور ابھی تو صرف ’انفراسٹرکچر‘ ڈالا جا رہا تھا! یعنی تسلی سے یہاں بسنا اور سیر ہو کر کھانا تھا!

. احوالوقائع :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

چند مسلم ممالک اتنی سی طاقت بھی کیونکر حاصل کر سکے؟

تحریر: حامد کمال الدین

عالم اسلام میں جو کچھ ’بڑے سائز‘ کے ملک پائے جاتے ہیں یا کچھ مضبوط فوجوں یا اہم سٹرٹیجک حیثیت کی مالک ریاستیں ہیں، ان کے ساتھ دشمن کی بےرحمی پچھلے سات عشروں کے دوران ایک حد سے نہیں بڑھ پائی... تو اس کی وجہ دشمن کی ایک مجبوری تھی جس کا نام ہے ’سردجنگ‘۔ یہ وہ مجبوری ہے جس نے نصف صدی تک مغربی بلاک کو خطرۂ موت کی سولی پر لٹکائے رکھا اور جس کے باعث مغربی بلاک آپ کے پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب ہی کیا ’افغان جہاد‘ کی بلائیں لینے پر مجبور ہوا رہا تھا بلکہ اس میں اپنی بقاء دیکھنے لگا تھا۔ سو اس کےلیے تو دعائیں دیجئے ’سرد جنگ‘ کو! البتہ یہ مت سمجھئے کہ یہ بڑی بڑی مسلم اکائیاں اپنی اِس ’اسلام سے دُور‘ حالت میں بھی چلیں ان کو قبول تو ہیں۔ ہرگز نہیں۔

تیسری دنیا میں ’’آزادیوں‘‘ کا جو ایک فنامنا بیسویں صدی کے وسط میں دیکھا گیا اور بعدازاں چند مسلم ممالک کے کچھ ترقی کرجانے کی بھی جو ایک صورت بنتی چلی گئی، اس کا دراصل ایک پس منظر ہے: بیسویں صدی یعنی nineteen hundreds    کا نصفِ اول دو ’’عالمی جنگوں‘‘ اور نصفِ دوم پانچ عشروں پر محیط ایک خونخوار گلوبل ’’سرد جنگ‘‘ پر مشتمل ہے۔ یہ دراصل استعمار کے شکنجے میں پوری طرح آچکے اور اب بظاہر ہمیشہ ہمیشہ کےلیے ’’قابو‘‘ عالم اسلام کی گردن چھڑوانے اور مسلمانوں کو سنبھلنے کا بھرپور موقع دینے کےلیے ایک خالص خدائی تدبیر تھی؛ اس پر شکر کریں تو صرف خدا کا...

مغربی قوتوں کی عالم اسلام پر ایک خونخوار چڑھائی جو اٹھارویں اور انیسویں صدی seventeen&eighteen hundreds   میں ہوئی، بیسویں صدی nineteen hundreds   میں یکلخت پسپا ہوتی ہے، بلکہ ’آزادیوں‘ کی ریل پیل دکھائی دیتی ہے، تو اس سے ان قوتوں کی ’شرافت‘ کے بارے میں کوئی دھوکہ نہ کھانا چاہئے۔ وہ شکار جو اٹھارویں اور انیسویں صدی seventeen&eighteen hundreds  میں مارا گیا تھا، اُس کو تو ایسے مزے لےلے کر کھایا جانا تھا کہ الامان والحفیظ۔ ’کالج یونیورسٹیاں‘ بناتے اور ملکہ وکٹوریہ کے در کو پہنچانے والی ’ریل‘ بچھاتے کچھ دیر لگ گئی تو اس لیے کہ یہاں جلدی ہی کسی بات کی نہیں تھی! جس شکار کو مارنے کےلیے صدیاں لگیں اس کو کھانے کےلیے بھی صدیاں چاہئیں تھیں؛ اور ابھی تو صرف ’انفراسٹرکچر‘ ڈالا جا رہا تھا! یعنی تسلی سے یہاں بسنا اور سیر ہو کر کھانا تھا! لیکن کیا دیکھتے ہیں، چند ہی عشروں میں (بیسویں صدی nineteen hundreds   کا آغاز) ’’عالمی جنگوں‘‘ کا ایک ہولناک کمرتوڑ عذاب (مَن عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ[1] کے مصداق) مسلمانوں کے سینے پر چڑھی بیٹھی استعماری قوتوں کے عین سر پر آپہنچا (قُلْ هُوَ الْقَادِرُعَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ)[2] اور تھوڑے عرصے میں غاصبوں کی کمر توڑ ڈالی۔ اتنی سیانی قومیں خدائی تدبیر کے آگے یوں بےبس؛ اپنے ہاتھ سے (تیسری دنیا کے جذباتی ’فرقوں‘ کی طرح) ایک دوسرے کا یوں گلا کاٹتی چلی گئیں  کہ سارا عالمی سیناریو ہی بدل کر رہ گیا اور وہ ٹوٹی کمر کے ساتھ ’فی الوقت کےلیے‘ شکار کی جان چھوڑ، شرافت و انسانیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے، اپنے گھر سدھار گئیں؛ اور اپنے بڑھاپے کا اندازہ کر کے ’حقوقِ انسانی‘ کا وِرد کرنے لگیں۔ دنوں میں ’یو۔این‘ کھڑی کی گئی۔ بقیہ کہانی پھر سرد جنگ نے پُر کی، جس کی تفصیلات ہمارے سامنے ہیں، اور جس کے بطن سے خدا نے ہمارا عالمی جہاد برآمد کرا ڈالا، جوکہ ابھی سرے نہ لگا تھا کہ شمال مغربی برصغیر کی ایک غیرمعمولی صلاحیتوں کی مالک مسلم قوم کو دنیا "نیوکلیئر پاور" کے طور پر دیکھ رہی تھی!

اتنا ڈراؤنا خواب تو عالمِ صلیب کے یہاں پچھلی تین صدیوں سے کبھی نہ دیکھا گیا ہو گا! مسلمانوں کا ’’عالمی جہاد‘‘ اور مسلمانوں کا ’’نیوکلئیر پاکستان‘‘ خدائی تقدیر کے کچھ خصوصی نشان ہیں، جن کو محض ’اسباب‘ کے تحت بیان کرنا ہم اپنے لیے خاصا دشوار پاتے ہیں۔ (دونوں، اپنی الگ الگ حیثیت میں  __ ایک دُوررَس طور پر __ ’عالمی توازن‘ کو اس کی اوقات پر لانے کا نقطۂ ابتداء، ان شاءاللہ وبفضلہٖ تعالیٰ)۔

ان دونوں (عالمی جہاد کا سامنے آنا اور نیوکلیئر پاکستان کا ظہور) کی تفسیر  explanation  ’سرد جنگ کے فراہم کردہ مواقع‘ کے سوا کسی چیز سے ممکن نہیں؛ اور ’سرد جنگ‘ اپنی پیش رَو ’عالمی جنگوں‘ کی طرح ایک خاص خدائی تدبیر؛ جس نے ’سیانی‘ قوموں کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔

حق یہ ہے کہ ہمارا ’’عالمی جہاد‘‘ اور ہمارا ’’نیوکلئیر پاکستان‘‘ (مجموعی طور پر) سرد جنگ کے بطن سے برآمد ہونے والا اتنا ہی بڑا ایک واقعہ ہے جتنا کہ عالمی جنگوں کے بطن سے برآمد ہونے والا عالم اسلام کی تابڑتوڑ ’آزادیوں‘ ایسا ایک بڑا تاریخی واقعہ۔

پھر اس سے کچھ ہی دیر بعد تقدیر کے بطن سے ایک اور واقعہ ایسا رونما ہوا جو کسی کے سان گمان میں تھا اور نہ آ سکتا تھا۔ اِس واقعہ کو بھی محض ’اسباب‘ کی بنیاد پر تفسیر explain   نہیں کیا جاسکتا؛ اور یہ تھا ’اتاترک کے ترکی‘ کا منظر سے ہٹتے اور اس کی جگہ ’اردگان کے ترکی‘ کا نمودار ہوتے چلے جانا!

(کچھ بعید نہیں اسی فہرست میں ’فہد و عبداللہ کے دَم کشیدہ سعودی عرب‘ کی جگہ خطرات میں کود پڑنے والا ’سلمان کا سعودی عرب‘ بھی آئے، مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ ’مرسی کا مصر‘ بھی اِس فہرست میں آتا آتا رہ گیا؛ ورنہ آنے والے دنوں کی صورت  شاید کوئی اور ہوتی۔ گو پھر بھی ہم ناامید نہیں؛ آج نہیں تو کل ان شاءاللہ ایک واقعہ ہونا ہی ہے۔ پھر تیونس سے نمودار ہونے والی اور لیبیا و مصر سے گزرتی شام تک جا پہنچنے والی ’عرب سپرنگ‘ جوکہ آدھی پونی ’اسلامی سپرنگ‘ بھی تھی وقتی طور پر چاہے ناکام ہو گئی ہو لیکن خطے میں اسرائیل کے ’مستقبل‘ کےلیے پریشان طبقوں کو بہت کچھ بتا گئی: ان بڑے بڑے سائز کے مسلم ملکوں کے یہاں کوئی ٹھوس انفراسٹرکچر یا کوئی مضبوط اکانومی تیار حالت میں چھوڑنا جسے کبھی بھی کوئی عوامی رَو اٹھ کر اپنے زیرِ استعمال لے آئے اور آخر اس کے اندر اِن خطوں کے مسلمانوں کی امنگیں اور جذبے بولنے لگیں، ایک سنگین غلطی ہو گی۔ اِن خطوں کو تو مغرب کی دیوی ’جمہوریت‘ کے درشن کروانا غلط ٹھہرا! نیز جس ’اسلامی جذبہ‘ کو عرب دنیا میں اتنے عشرے بےدردی کے ساتھ کچل کر دیکھ لیا گیا مگر وہ پھر اتنا زندہ ہے کہ یہاں کی کسی بھی عوامی رَو کے کاندھے پر سوار ہو لیتا ہے، اس کا تو کوئی اور ہی پائیدار علاج کرنا ہو گا)۔ ’سرد جنگ‘ کی مجبوری اب نہیں ہے! جس کے بعد عالم اسلام کو ’پتھر کے دور‘ میں دھکیل جانے کےلیے ملتِ صلیب کے یہاں گھنٹیاں بجائی دی گئیں، الا یہ کہ کوئی اور مجبوری ان کے آڑے آ جائے۔ اس مقصد کےلیے روم و فارس کی دوریاں تک ختم کرائی جا چکیں۔ ہمیں فی الحال نہیں معلوم، روس کا بیچ میں آنا یہاں کس درجہ کا گیم چینجر game changer  ہے۔ اتنا واضح ہے کہ روس اس بار خاصی حد تک ایک صلیبی چہرے کے ساتھ ہی میدان میں کودا ہے؛ جس کے ڈھیروں شواہد ہیں۔

یہ ہے مختصراً اس سوال کا جواب کہ چند مسلم ملک اتنی سی طاقت کا حصول بھی اگر کر پائے تو اس کا موقع انہیں کیونکر ملا... اور یہ کہ پچاس کے عشرے سے لے کر اب تک اگر کچھ غیرمعمولی مجبوریاں نہ ہوتیں تو اس کی گنجائش بھی وہ اِن مسلم ملکوں کو دینے والے نہ تھے۔  واللہ غالبٌ علیٰ أمرِہ۔


سلسلۂ مضامین:

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 1

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 2

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 3

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 4


(جاری ہے)



[1]  حدیثِ قدسی: ’’جو شخص میرے کسی دوست کے ساتھ دشمنی کر لے، میں اس کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا کرتا ہوں‘‘۔

[2]  (الأنعام: 64) ’’ کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے‘‘۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ڈیل آف سنچری ، فلسطین اور امریکہ
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کشمیر کےلیے چند کلمات
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام
احوال- امت اسلام
ادارہ
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام  جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت
احوال- امت اسلام
ادارہ
ایرانی اہل السنۃ کی آفیشل ویب سائٹ: قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کیٹیگری
Featured
ادارہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
ادارہ
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز