عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, December 12,2019 | 1441, رَبيع الثاني 14
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
دشمن آپ کے صرف ’آج‘ کو نہیں دیکھتا
:عنوان

ملت صلیب یہاں شخصیات کو نواز سکتی ہے ملکوں کو نہیں؛خواہ یہ شخصیات اس کےلیے سونے کی کیوں نہ ہو جائیں! لاالہ الااللہ پڑھنےوالے ملکوں کو بڑی طاقتیں بنتا چھوڑنا صلیبی کی لغت میں نہیں، سوائے یہ کہ مجبورى ہو

. احوالامت اسلام . جہادقتال :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف
عالم اسلام کے گرد گھیرا، ’پوسٹ کولڈوار‘ سیناریو سمجھنے کی ضرورت3

تحریر: حامد کمال الدین

کچھ بڑی مسلم آبادیاں اور کچھ مضبوط عسکری امکانات کی مالک مسلم ریاستیں اپنے یہاں اسلام نافذ نہ ہونے کے باوجود  اسلام دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتی آئی ہیں۔ البتہ اِس ’’مابعد سرد جنگ دور‘‘ میں یہ   اُن کی جارحیت کا نشانہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اِس دشمنی اور جارحیت کا حوالہ بدستور ’’اسلام‘‘ ہی رہے گا خواہ یہ جارحیت یورپ و امریکہ کی جانب سے ہو یا بھارت و اسرائیل کی جانب سے۔ کچھ دینداروں کےلیے البتہ اس بات کا یقین کرنا مشکل ہے کہ دشمن کی اِس جارحیت کا حوالہ آج بھی اسلام ہو! جب یہاں ’اسلامی نظام‘ نہیں تو کافر اِن ملکوں کی قوت پارہ پارہ کرنے میں بھلا کیوں دلچسپی لے گا، ایک خاص یوٹوپیا میں بسنے والا ہمارا یہ طبقہ اِس طرزِفکر سے باہر آنے پر آمادہ نہیں۔ ’اسلامی نظام‘ کے معاملہ میں یہ ذہن کئی پہلوؤں سے نہ صرف ایک غلو بلکہ خلطِ مبحث کا شکار ہے؛ جس کے باعث ’’شریعت‘‘ ایسے ایک عالی مرتبت عنوان کے تحت اب یہ اشیاء میں بہتری کی بجائے ایک منفیت اور تعطل لانے کا سبب بن رہا ہے۔ اِس لحاظ سے، اندیشہ ہے، ’’شریعت‘‘ کا نام لیوا یہ شدت پسند ذہن مکتبِ استشراق Orientalist’s Desk   کےلیے عالم اسلام میں ایک اچھی دریافت ثابت ہو سکتا ہے۔ کچھ بڑی اور مضبوط مسلم اکائیوں کی صورت میں آج ہمیں اِس جہان کے اندر جو ایک نعمت حاصل ہے، اور جس کے پیچھے مسلمانوں کی ڈیڑھ سو سال کی محنت اور قربانی ہے، اور جس کے دم سے آج بھی ہمارے بہت سے اسلامی مصالح اللہ کے فضل سے محفوظ ہیں اور تھوڑی حکمت اور عقلمندی سے کام لے کر مزید محفوظ کیے جاسکتے ہیں... ہمارے اِس یوٹوپیا ذہن کو البتہ نہ اس کا ادراک ہے اور نہ اس کے تحفظ کےلیے اس کے ہاں کوئی پریشانی۔ بلکہ بعضوں کے خیال میں تو ہمارا اِس نعمت سے محروم ہو جانا اور عالم اسلام کا ’سن اٹھارہ سو کچھ‘ والے پوائنٹ پر واپس جاپہنچنا جہاں مسلم سرزمینیں تاحدِنگاہ اغیار کے قبضے اور تصرف میں ہوتی ہیں، یعنی ایک باقاعدہ غلامی.. وہ عالم اسلام کے اِس حالیہ نیم آزاد سیناریو سے کہیں ’افضل‘ ہے! یہ وہ ذہن ہے جسے اندازہ نہیں کہ یہ چیز اگر خدانخواستہ ہم سے چھن گئی تو صدیوں کے حساب سے ہم پیچھے دھکیلے جا سکتے ہیں (اس کی کچھ وضاحت ہم آگے بھی کرنے کی کوشش کریں گے)۔ دورِ زوال کی اس اجتماعی و قومی صورتحال کو یہ حضرات اپنے    کچھ ’مثالی‘ شرعی معیارات پر ہی جانچیں گے؛ اس سے کم کوئی پیمانہ مسلمانوں کی حالیہ سماجی یا جغرافی پوزیشن کو زیرِ غور لانے کےلیے گویا موجود ہی نہیں!

شرعی معیارات سر آنکھوں پر۔ تاہم معاملے کا نقشہ اگر آپ دشمن کی جہت سے سمجھنا چاہتے ہیں تو حالیہ عالمی اکھاڑپچھاڑ میں مسلمانوں کی اِن جغرافیائی اکائیوں  کی پوزیشن طے کرتے وقت اپنے مخصوص معیارات کی بجائے دشمن کے محرکات کو ہی سامنے رکھنا ہو گا۔ اس وقت کے ’پاکستان‘، ’ترکی‘، ’عراق‘، ’سعودی عرب‘، ’مصر‘، ’سوڈان‘، ’انڈونیشیا‘ اور ’الجزائر‘ وغیرہ کو تھوڑی دیر کےلیے دشمن کی نظر سے دیکھنے کی زحمت فرمالیجیے۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا، ایسی بڑی بڑی مسلم اکائیوں کی دیرپا گنجائش ایک صلیبی ’نیوورلڈ‘ کے اندر کہاں ہے۔ ’’شرعی معیاروں‘‘ کا معاذ اللہ ہمیں انکار نہیں۔ لیکن ان کو لاگو کرنے کا سیاق بالکل اور ہے (جس پر ذرا آگے چل کر ایک قاعدہ ذکر  ہو رہا ہے)۔ اِس چیز کو اگر آپ نظرانداز کریں گے تو معاملے کو الجھا بیٹھیں گے۔ (بلکہ ایک طبقہ اسے الجھا بیٹھا ہے، جس کا خیال ہے وہ معاملے کو شرعی معیاروں پر پرکھ رہا ہے!)۔ ہم ان حضرات سے کہتے ہیں، اپنے ان ’شرعی معیاروں‘ پر آپ کا بوسنیا اور کوسووا بھی یقیناً فیل fail   ہی ہوتا تھا۔ اسلام کی کوئی ایک بھی بات اغلباً آپ کو بوسنیا اور کوسووا میں نوّے کی دہائی کے آغاز میں نظر نہ آتی تھی۔ لیکن اُسی ’دین سے دور‘ بوسنیا اور کوسووا کو آپ ایک نظر صلیبی کی آنکھ سے دیکھیں تو وہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جانے کے قابل ٹھہرتا تھا!

یہ ہے وہ فرق جس پر ہم آپ سے توجہ لینا چاہتے ہیں تاکہ اِس جنگ کے نقشے کو سمجھنے میں غلطی نہ ہو (اور اپنے پیر پر آپ کلہاڑی نہ مار بیٹھیں)۔ آپ نے نوٹ فرمایا: وہی ’اسلام سے کوسوں دور مسلمان‘ بوسنیا اور کوسووا کے اندر گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جانے کے لائق ٹھہرتا ہے۔ وہی ’مغربی میم‘ دکھائی دینے والی آپ کی بوسنوی اور کوسووی خاتون، صلیبی گماشتے کے ہاتھوں غارت کر دی جانے کے قابل قرار پاتی ہے۔ اس لیے کہ اس کے رحم میں پلنے والے نطفے کسی دن اِسی لاالٰہ الا اللہ  کو ’سوچ سمجھ کر‘ بھی پڑھ سکتے ہیں؛ جس سے فرعون کی ’مجوزہ‘ دنیا کی جان جاتی ہے۔ ورنہ کافروں جیسا ہونے میں کیا کسر چھوڑی تھی بوسنیا اور کوسووا کی ہماری اس بیٹی نے؟

تو پھر یہاں سے اندازہ کر لیجئے، کافر کتنی دُور تک دیکھتا ہے، پیچھے بھی اور آگے بھی۔ دوسری جانب ہمارا یہ مسلمان ’شرعی عینک‘ لگا رکھنے کے باوجود کیسا کوتاہ نظر ہے۔  کافر اِس ’بےدین‘ مسلمان کی پشت میں پڑی نسلوں کو لاالہ الا اللہ پڑھتا اور چشم تصور میں یورپ کی طرف بڑھتا دیکھتا ہے تو آج اِسے کسی بڑی جغرافیائی اکائی کے طور پر دیکھنے کا روادار نہیں رہتا۔  ادھر ہمارا تنگ نظر دیندار اِس کی ٹخنوں سے نیچی شلوار یا اس کی ڈاڑھی مُنڈی صورت سے گزرنے پر آمادہ نہیں! یہ اس کے کچھ خلافِ شریعت افعال  دیکھتا یا اسے عقیدہ و عمل کی خرابیوں میں پڑا ہوا یا ایک غیر اسلامی نظام میں گرفتار پاتا ہے تو  اپنی کسی ہمدردی یا مدد و نصرت و اعانت کے قابل نہیں جانتا... اور کیا بعید خود بھی کسی وقت اس کا کام تمام کرنے کی سوچے؛ اور نادانستہ اُس خرانٹ دشمن ہی کا کام آسان کر آئے!

مقصد یہ کہ: اس جنگ کا نقشہ سمجھنے کےلیے آپ یہاں پر ’’مطلوبہ‘‘ تبدیلی و اصلاح کے معیارات نہیں، بلکہ ذرا دیر معاملہ دشمن کی نگاہ سے دیکھ لیجئے۔ بہت ممکن ہے صورتحال اُس سے مختلف نظر آئے جو آپ اِس جنگ کے کسی ایک ہی فیکٹر کو سامنے رکھتے ہوئے معاملہ کی اسیسمنٹ assessment   کرتے رہے تھے۔

یہ بات ایک قاعدے کے طور پر نوٹ ہونی چاہئے کہ:

ý      اپنے شرعی معیارات  آپ زیربحث لائیے یہاں پر درکار اصلاح اور تبدیلی کے مباحث کے دوران۔ جبکہ اس اصلاح اور تبدیلی کا اپنا ایک طریقہ ہے، جس پر ہم کسی الگ سلسلۂ مضامین میں روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

ý      البتہ اِس عالمی اکھاڑے کا نقشہ جانچنا ہو تو... اپنی اِن آج کی جغرافیائی اکائیوں کو اِن کے وسائل، معدنیات، عسکری امکانات اور ڈیموگرافی وغیرہ ایسے عوامل کے ساتھ (جو ’مستقبل‘ کے کسی عالمی نقشے کو تشکیل دینے میں غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہوں) ذرا دیر کےلیے ’’صلیبی‘‘ کی نظر سے دیکھ لیجیے۔ خاص اِس پہلو سے ’’صلیبی‘‘ عالم اسلام کو جس گھیرے میں لے رہا ہے، اسے اپنے سامنے رکھ لیجیے۔ اور پھر یہاں پر چلی جانے والی چالوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

واضح کرتے چلیں، ہماری ان تنقیحات کا مقصد صرف ایک ہے: احیائے اسلام کی کوششوں کو ایک کلیرٹی  clarity  دینا، یہاں پر جاری اصلاحی و دعوتی عمل کو ایک پختگی کی طرف لانا اور عالم اسلام کو درپیش اِس بحران سے نکلنے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا۔ ہمیں پروا نہیں، فی الحال ہماری ان باتوں کو کس قدر تعجب اور حیرانی سے لیا جاتا ہے۔ سن 2007ء میں ہم جو باتیں کررہے تھے  اور ’لال مسجد‘ سے ملحقہ پورے ایک منظرنامے سے خبردار کر رہے تھے، (جس پر ہماری تالیف ’رو بہ زوال امیریکن ایمپائر‘ شاہد ہے)، اُن باتوں کی صداقت سے آج وہ لوگ بھی شاید انکار نہ کر پائیں جو اُس وقت ہماری اُن باتوں کو حیرانی سے سن رہے تھے اور شاید سننا بھی گوارا نہیں کر رہے تھے۔ دینی طبقوں کو اس بات کا واضح ادراک کرنا تھا اور ہے کہ:

مسلمانوں کی ہر بڑی جغرافیائی اکائی   __  خواہ وہ اپنے یہاں قائم ’نظام‘ یا اپنی بستیوں کے اندر نظر آنے والے تہذیبی مظاہر کے معاملہ میں سن 1992ء کے بوسنیا، کوسووا یا البانیہ سے ابتر اور ’غیراسلامی تر‘ کیوں نہ ہو  __   اِس وقت صلیبی منصوبہ ساز اور اُس کے بھارتی/صیہونی اتحادی کی ہِٹ لسٹ پر ہے۔ اور ایسی ہر بڑی مسلم اکائی کے ’کویت‘، ’قطر‘ اور ’برونائی‘ جتنے یا اس سے بھی چھوٹے ٹکڑے کر دینا ایک ’نیا جہان‘ تشکیل کرنے والوں کی ترجیحات میں اِس وقت باقاعدہ شامل ہے۔ اِس خواب کو عملی تعبیر پہنانا آج بےشک اُن کےلیے آسان نہیں (اور ان شاءاللہ کبھی آسان نہ ہو گا)؛ اور فوراً تو شاید ممکن ہی نہیں کیونکہ معاملہ اچھاخاصا اُن کے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے، جس کی کچھ وضاحت ’سرد جنگ‘ کے حوالے سے اگلے مضمون میں آ رہی ہے (’’چند مسلم ممالک اتنی سی طاقت بھی کیونکر حاصل کر سکے‘‘)۔ لہذا اس کےلیے اب انہیں کچھ الجھی ہوئی اور لمبی چالیں چلنا پڑ رہی ہیں۔ جس کے تحت یہاں کے بہت سے اندرونی وبیرونی عوامل کو بیک وقت وہ راہ دکھائی جا رہی ہے جو مسلم دنیا کو چھوٹے چھوٹے لقمے کر دینے پر منتج ہو۔

یہ مت سمجھئے کہ وہ جغرافیائی اکائیاں جو شیاطینِ عالم کے کسی مطلوبہ ’پوسٹ-یو-این-ورلڈ‘ a desired post-UN-world میں فٹ نہیں بیٹھتیں... وہ خاص کوئی ’اردگان کے ترکی‘ یا ’ضیاء الحق کے پاکستان‘ یا ’فیصل کے سعودیہ‘ یا ’عزت بیگووچ کے بوسنیا‘ ایسی مسلم اکائیاں ہی ہوں گی۔ یعنی اردگان یا ضیاء الحق یا فیصل یا بیگووچ ایسی مذہب پسند قیادتیں اگر نہ ہوں تو مسلمانوں کی یہ جغرافیائی اکائیاں بجائےخود تو اپنی تمام تر ڈیموگرافک جہتوں کے ساتھ اُن کو ہضم ہی ہضم ہیں! یہ سوچنا بالکل غلط ہو گا۔ حق یہ ہے کہ ترکی میں اردگان یا پاکستان میں ضیاء الحق یا سعودیہ میں فیصل یا بوسنیا میں بیگووچ ایسا کوئی ’اسلامسٹ‘ اوپر آ جانا دشمن کو ہم پر بےرحم ہو جانے کے کچھ اضافی اسباب فراہم کرتا ہے۔ ورنہ قبول ان کو ’اتاترک‘ کا ترکی بھی بہرحال نہیں ہے۔ ابھی ہم اس کی وجہ بتائیں گے، کیوں۔ (’اتاترک کا ترکی‘ ہم نے اِس ضمن کی بدترین مثال دینے کےلیے قصداً ذکر کیا ہے تاکہ کوئی غموض رہ ہی نہ جائے، بقیہ مثالیں اسی پر قیاس کر لیجئے)۔

’اتاترک کا ترکی‘ ’’خلافت‘‘ کے مقابلے پر ایک نعمتِ غیرمترقبہ ضرور ہو گا۔ (ہم یہاں دشمن کی نظر سے صورتحال کی تصویر دکھا رہے ہیں)۔ تاہم ’’خلافت‘‘ جب ایک بار ختم کی جا چکی تو ضروری نہیں ’اتاترک کا ترکی‘ اپنے اُسی سائز، اُنہی وسائل اور اُنہی عسکری امکانات کے ساتھ  ہمیشہ ہمیشہ کےلیے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہے۔ لِكُلِّ مَقَامٍ مَقَال، وَلِكُلِّ حَادِثٍ حَدِيثٌ! وجہ اس کی واضح ہے: ’اتاترک کے ترکی‘ کو ’اردگان کا ترکی‘ بننے میں آخر دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ چند عشرے؟ تو پھر ایک مضبوط ترکی ’اتاترک‘ کے پاس بھی کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟ الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو۔ اور ہاں مجبوری ہو (مثال: سوویت عفریت کی گرم پانیوں کی طرف پیش قدمی) تو ’ضیاءالحق کے پاکستان‘ کے ساتھ بھی معاملہ کر لینا پڑتا ہے... یہاں تک کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ’اسلامی پاکستان‘ اپنے نیوکلیئر پروگرام کو بھی خاطرخواہ حد تک آگے بڑھا لیتا ہے!

پس مسئلہ مجبوریوں کا ہے۔ کوئی خاص مجبوری نہ ہو تو عالم اسلام میں کوئی ملحد سے ملحد ’’قیادت‘‘ کیوں نہ ہو، بےدین سے بےدین ’’نظام‘‘ کیوں نہ ہو، صلیبی یہاں ایک مسلم ملک کو مضبوط اور توانا چھوڑنے کا ’خطرہ‘ مول لے ہی نہیں سکتا۔ اتاترک بھی ہو، وہ صرف اپنے کفر کی گارنٹی دے سکتا ہے اپنی نسلوں کی نہیں! اس ’مسئلے‘ کا کوئی کرے تو کیا کرے؟ مسلم دنیا کی ’گارنٹی‘ اللہ کے فضل سے کوئی نہیں دے سکتا؛ یہاں تک کہ خود ملحد بھی نہیں! خود اِس (ملحد) کے گھر کب کوئی دیندار پیدا ہو جائے، کیا ضمانت ہے؟ (صلیبی کو ہماری مسجد اور ہماری اذان، یہاں تک کہ اب تو ہماری تبلیغی جماعت اور الہدیٰ ایسی بےضرر چیزیں بری لگتی ہیں کیونکہ یہ مسلم بیداری کےلیے ایک ’نرسری‘ کا درجہ رکھتی ہیں! بڑی بڑی ملحد شخصیات کے گھروں میں آپ نے بڑے بڑے دیندار بچے دیکھ رکھے ہوں گے؛ عالم اسلام کا یہ ایک ’جینوئن‘ مسئلہ ہے؛ آخر اسے کیسے نظرانداز کر دیا جائے!)۔ یہ ملحد اپنی آئندہ نسلوں کی تو کیا ضمانت دے گا، اس بات ہی کی کیا ضمانت کہ خود یہی کل کو تائب نہیں ہو جائے گا اور مرنے سے پہلے خدا کے ساتھ اپنا معاملہ سدھار لینے کےلیے فکرمند نہیں ہو جائے گا! مسلمان ماں کے دودھ میں خدا نے کچھ رکھا ضرور ہے!

اس لحاظ سے؛ خدا نے عالم اسلام کے معاملے کو کچھ لاک lock   لگوا دیے ہیں۔ یہ قدرتی لاک lock    ہیں۔ کوئی مائی کا لال انہیں اَن لاک unlock    نہیں کر سکتا۔ کوئی ضمانتیں یہاں پائی ہی نہیں جاتیں۔ ضمانتیں کہیں ہوں تو دی جائیں! ملتِ صلیب پس یہاں ’شخصیات‘ کو نواز سکتی ہے ’’ملکوں‘‘ کو نہیں؛ خواہ یہ شخصیات اُس کےلیے سونے کی کیوں نہ ہو جائیں!!! لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے ملکوں کو ’’بڑی طاقتیں‘‘ بنتا چھوڑنا صلیبی کی لغت میں نہیں، سوائے یہ کہ مجبوری ہو!

پس کُل کھیل آپ کو اُس کی مجبوریوں کے ساتھ کھیلنا ہوتا ہے۔ اس بات کو ایک کُلی قاعدے کے طور پر لکھ لیجئے۔

 

سلسلۂ مضامین:

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 1

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 2

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 3

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 4


(جاری ہے)


 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
ڈیل آف دی سینچری… مسئلۂ فلسطین کے ساتھ ٹرمپ کی زورآزمائی
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
ڈیل آف سنچری ، فلسطین اور امریکہ
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز