عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
دشمن آپ کے صرف ’آج‘ کو نہیں دیکھتا
:عنوان

ملت صلیب یہاں شخصیات کو نواز سکتی ہے ملکوں کو نہیں؛خواہ یہ شخصیات اس کےلیے سونے کی کیوں نہ ہو جائیں! لاالہ الااللہ پڑھنےوالے ملکوں کو بڑی طاقتیں بنتا چھوڑنا صلیبی کی لغت میں نہیں، سوائے یہ کہ مجبورى ہو

. احوالامت اسلام . جہادقتال :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف
عالم اسلام کے گرد گھیرا، ’پوسٹ کولڈوار‘ سیناریو سمجھنے کی ضرورت3

تحریر: حامد کمال الدین

کچھ بڑی مسلم آبادیاں اور کچھ مضبوط عسکری امکانات کی مالک مسلم ریاستیں اپنے یہاں اسلام نافذ نہ ہونے کے باوجود  اسلام دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتی آئی ہیں۔ البتہ اِس ’’مابعد سرد جنگ دور‘‘ میں یہ   اُن کی جارحیت کا نشانہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اِس دشمنی اور جارحیت کا حوالہ بدستور ’’اسلام‘‘ ہی رہے گا خواہ یہ جارحیت یورپ و امریکہ کی جانب سے ہو یا بھارت و اسرائیل کی جانب سے۔ کچھ دینداروں کےلیے البتہ اس بات کا یقین کرنا مشکل ہے کہ دشمن کی اِس جارحیت کا حوالہ آج بھی اسلام ہو! جب یہاں ’اسلامی نظام‘ نہیں تو کافر اِن ملکوں کی قوت پارہ پارہ کرنے میں بھلا کیوں دلچسپی لے گا، ایک خاص یوٹوپیا میں بسنے والا ہمارا یہ طبقہ اِس طرزِفکر سے باہر آنے پر آمادہ نہیں۔ ’اسلامی نظام‘ کے معاملہ میں یہ ذہن کئی پہلوؤں سے نہ صرف ایک غلو بلکہ خلطِ مبحث کا شکار ہے؛ جس کے باعث ’’شریعت‘‘ ایسے ایک عالی مرتبت عنوان کے تحت اب یہ اشیاء میں بہتری کی بجائے ایک منفیت اور تعطل لانے کا سبب بن رہا ہے۔ اِس لحاظ سے، اندیشہ ہے، ’’شریعت‘‘ کا نام لیوا یہ شدت پسند ذہن مکتبِ استشراق Orientalist’s Desk   کےلیے عالم اسلام میں ایک اچھی دریافت ثابت ہو سکتا ہے۔ کچھ بڑی اور مضبوط مسلم اکائیوں کی صورت میں آج ہمیں اِس جہان کے اندر جو ایک نعمت حاصل ہے، اور جس کے پیچھے مسلمانوں کی ڈیڑھ سو سال کی محنت اور قربانی ہے، اور جس کے دم سے آج بھی ہمارے بہت سے اسلامی مصالح اللہ کے فضل سے محفوظ ہیں اور تھوڑی حکمت اور عقلمندی سے کام لے کر مزید محفوظ کیے جاسکتے ہیں... ہمارے اِس یوٹوپیا ذہن کو البتہ نہ اس کا ادراک ہے اور نہ اس کے تحفظ کےلیے اس کے ہاں کوئی پریشانی۔ بلکہ بعضوں کے خیال میں تو ہمارا اِس نعمت سے محروم ہو جانا اور عالم اسلام کا ’سن اٹھارہ سو کچھ‘ والے پوائنٹ پر واپس جاپہنچنا جہاں مسلم سرزمینیں تاحدِنگاہ اغیار کے قبضے اور تصرف میں ہوتی ہیں، یعنی ایک باقاعدہ غلامی.. وہ عالم اسلام کے اِس حالیہ نیم آزاد سیناریو سے کہیں ’افضل‘ ہے! یہ وہ ذہن ہے جسے اندازہ نہیں کہ یہ چیز اگر خدانخواستہ ہم سے چھن گئی تو صدیوں کے حساب سے ہم پیچھے دھکیلے جا سکتے ہیں (اس کی کچھ وضاحت ہم آگے بھی کرنے کی کوشش کریں گے)۔ دورِ زوال کی اس اجتماعی و قومی صورتحال کو یہ حضرات اپنے    کچھ ’مثالی‘ شرعی معیارات پر ہی جانچیں گے؛ اس سے کم کوئی پیمانہ مسلمانوں کی حالیہ سماجی یا جغرافی پوزیشن کو زیرِ غور لانے کےلیے گویا موجود ہی نہیں!

شرعی معیارات سر آنکھوں پر۔ تاہم معاملے کا نقشہ اگر آپ دشمن کی جہت سے سمجھنا چاہتے ہیں تو حالیہ عالمی اکھاڑپچھاڑ میں مسلمانوں کی اِن جغرافیائی اکائیوں  کی پوزیشن طے کرتے وقت اپنے مخصوص معیارات کی بجائے دشمن کے محرکات کو ہی سامنے رکھنا ہو گا۔ اس وقت کے ’پاکستان‘، ’ترکی‘، ’عراق‘، ’سعودی عرب‘، ’مصر‘، ’سوڈان‘، ’انڈونیشیا‘ اور ’الجزائر‘ وغیرہ کو تھوڑی دیر کےلیے دشمن کی نظر سے دیکھنے کی زحمت فرمالیجیے۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا، ایسی بڑی بڑی مسلم اکائیوں کی دیرپا گنجائش ایک صلیبی ’نیوورلڈ‘ کے اندر کہاں ہے۔ ’’شرعی معیاروں‘‘ کا معاذ اللہ ہمیں انکار نہیں۔ لیکن ان کو لاگو کرنے کا سیاق بالکل اور ہے (جس پر ذرا آگے چل کر ایک قاعدہ ذکر  ہو رہا ہے)۔ اِس چیز کو اگر آپ نظرانداز کریں گے تو معاملے کو الجھا بیٹھیں گے۔ (بلکہ ایک طبقہ اسے الجھا بیٹھا ہے، جس کا خیال ہے وہ معاملے کو شرعی معیاروں پر پرکھ رہا ہے!)۔ ہم ان حضرات سے کہتے ہیں، اپنے ان ’شرعی معیاروں‘ پر آپ کا بوسنیا اور کوسووا بھی یقیناً فیل fail   ہی ہوتا تھا۔ اسلام کی کوئی ایک بھی بات اغلباً آپ کو بوسنیا اور کوسووا میں نوّے کی دہائی کے آغاز میں نظر نہ آتی تھی۔ لیکن اُسی ’دین سے دور‘ بوسنیا اور کوسووا کو آپ ایک نظر صلیبی کی آنکھ سے دیکھیں تو وہ صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جانے کے قابل ٹھہرتا تھا!

یہ ہے وہ فرق جس پر ہم آپ سے توجہ لینا چاہتے ہیں تاکہ اِس جنگ کے نقشے کو سمجھنے میں غلطی نہ ہو (اور اپنے پیر پر آپ کلہاڑی نہ مار بیٹھیں)۔ آپ نے نوٹ فرمایا: وہی ’اسلام سے کوسوں دور مسلمان‘ بوسنیا اور کوسووا کے اندر گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جانے کے لائق ٹھہرتا ہے۔ وہی ’مغربی میم‘ دکھائی دینے والی آپ کی بوسنوی اور کوسووی خاتون، صلیبی گماشتے کے ہاتھوں غارت کر دی جانے کے قابل قرار پاتی ہے۔ اس لیے کہ اس کے رحم میں پلنے والے نطفے کسی دن اِسی لاالٰہ الا اللہ  کو ’سوچ سمجھ کر‘ بھی پڑھ سکتے ہیں؛ جس سے فرعون کی ’مجوزہ‘ دنیا کی جان جاتی ہے۔ ورنہ کافروں جیسا ہونے میں کیا کسر چھوڑی تھی بوسنیا اور کوسووا کی ہماری اس بیٹی نے؟

تو پھر یہاں سے اندازہ کر لیجئے، کافر کتنی دُور تک دیکھتا ہے، پیچھے بھی اور آگے بھی۔ دوسری جانب ہمارا یہ مسلمان ’شرعی عینک‘ لگا رکھنے کے باوجود کیسا کوتاہ نظر ہے۔  کافر اِس ’بےدین‘ مسلمان کی پشت میں پڑی نسلوں کو لاالہ الا اللہ پڑھتا اور چشم تصور میں یورپ کی طرف بڑھتا دیکھتا ہے تو آج اِسے کسی بڑی جغرافیائی اکائی کے طور پر دیکھنے کا روادار نہیں رہتا۔  ادھر ہمارا تنگ نظر دیندار اِس کی ٹخنوں سے نیچی شلوار یا اس کی ڈاڑھی مُنڈی صورت سے گزرنے پر آمادہ نہیں! یہ اس کے کچھ خلافِ شریعت افعال  دیکھتا یا اسے عقیدہ و عمل کی خرابیوں میں پڑا ہوا یا ایک غیر اسلامی نظام میں گرفتار پاتا ہے تو  اپنی کسی ہمدردی یا مدد و نصرت و اعانت کے قابل نہیں جانتا... اور کیا بعید خود بھی کسی وقت اس کا کام تمام کرنے کی سوچے؛ اور نادانستہ اُس خرانٹ دشمن ہی کا کام آسان کر آئے!

مقصد یہ کہ: اس جنگ کا نقشہ سمجھنے کےلیے آپ یہاں پر ’’مطلوبہ‘‘ تبدیلی و اصلاح کے معیارات نہیں، بلکہ ذرا دیر معاملہ دشمن کی نگاہ سے دیکھ لیجئے۔ بہت ممکن ہے صورتحال اُس سے مختلف نظر آئے جو آپ اِس جنگ کے کسی ایک ہی فیکٹر کو سامنے رکھتے ہوئے معاملہ کی اسیسمنٹ assessment   کرتے رہے تھے۔

یہ بات ایک قاعدے کے طور پر نوٹ ہونی چاہئے کہ:

ý      اپنے شرعی معیارات  آپ زیربحث لائیے یہاں پر درکار اصلاح اور تبدیلی کے مباحث کے دوران۔ جبکہ اس اصلاح اور تبدیلی کا اپنا ایک طریقہ ہے، جس پر ہم کسی الگ سلسلۂ مضامین میں روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

ý      البتہ اِس عالمی اکھاڑے کا نقشہ جانچنا ہو تو... اپنی اِن آج کی جغرافیائی اکائیوں کو اِن کے وسائل، معدنیات، عسکری امکانات اور ڈیموگرافی وغیرہ ایسے عوامل کے ساتھ (جو ’مستقبل‘ کے کسی عالمی نقشے کو تشکیل دینے میں غیرمعمولی اہمیت رکھتے ہوں) ذرا دیر کےلیے ’’صلیبی‘‘ کی نظر سے دیکھ لیجیے۔ خاص اِس پہلو سے ’’صلیبی‘‘ عالم اسلام کو جس گھیرے میں لے رہا ہے، اسے اپنے سامنے رکھ لیجیے۔ اور پھر یہاں پر چلی جانے والی چالوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔

واضح کرتے چلیں، ہماری ان تنقیحات کا مقصد صرف ایک ہے: احیائے اسلام کی کوششوں کو ایک کلیرٹی  clarity  دینا، یہاں پر جاری اصلاحی و دعوتی عمل کو ایک پختگی کی طرف لانا اور عالم اسلام کو درپیش اِس بحران سے نکلنے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا۔ ہمیں پروا نہیں، فی الحال ہماری ان باتوں کو کس قدر تعجب اور حیرانی سے لیا جاتا ہے۔ سن 2007ء میں ہم جو باتیں کررہے تھے  اور ’لال مسجد‘ سے ملحقہ پورے ایک منظرنامے سے خبردار کر رہے تھے، (جس پر ہماری تالیف ’رو بہ زوال امیریکن ایمپائر‘ شاہد ہے)، اُن باتوں کی صداقت سے آج وہ لوگ بھی شاید انکار نہ کر پائیں جو اُس وقت ہماری اُن باتوں کو حیرانی سے سن رہے تھے اور شاید سننا بھی گوارا نہیں کر رہے تھے۔ دینی طبقوں کو اس بات کا واضح ادراک کرنا تھا اور ہے کہ:

مسلمانوں کی ہر بڑی جغرافیائی اکائی   __  خواہ وہ اپنے یہاں قائم ’نظام‘ یا اپنی بستیوں کے اندر نظر آنے والے تہذیبی مظاہر کے معاملہ میں سن 1992ء کے بوسنیا، کوسووا یا البانیہ سے ابتر اور ’غیراسلامی تر‘ کیوں نہ ہو  __   اِس وقت صلیبی منصوبہ ساز اور اُس کے بھارتی/صیہونی اتحادی کی ہِٹ لسٹ پر ہے۔ اور ایسی ہر بڑی مسلم اکائی کے ’کویت‘، ’قطر‘ اور ’برونائی‘ جتنے یا اس سے بھی چھوٹے ٹکڑے کر دینا ایک ’نیا جہان‘ تشکیل کرنے والوں کی ترجیحات میں اِس وقت باقاعدہ شامل ہے۔ اِس خواب کو عملی تعبیر پہنانا آج بےشک اُن کےلیے آسان نہیں (اور ان شاءاللہ کبھی آسان نہ ہو گا)؛ اور فوراً تو شاید ممکن ہی نہیں کیونکہ معاملہ اچھاخاصا اُن کے ہاتھ سے نکلا ہوا ہے، جس کی کچھ وضاحت ’سرد جنگ‘ کے حوالے سے اگلے مضمون میں آ رہی ہے (’’چند مسلم ممالک اتنی سی طاقت بھی کیونکر حاصل کر سکے‘‘)۔ لہذا اس کےلیے اب انہیں کچھ الجھی ہوئی اور لمبی چالیں چلنا پڑ رہی ہیں۔ جس کے تحت یہاں کے بہت سے اندرونی وبیرونی عوامل کو بیک وقت وہ راہ دکھائی جا رہی ہے جو مسلم دنیا کو چھوٹے چھوٹے لقمے کر دینے پر منتج ہو۔

یہ مت سمجھئے کہ وہ جغرافیائی اکائیاں جو شیاطینِ عالم کے کسی مطلوبہ ’پوسٹ-یو-این-ورلڈ‘ a desired post-UN-world میں فٹ نہیں بیٹھتیں... وہ خاص کوئی ’اردگان کے ترکی‘ یا ’ضیاء الحق کے پاکستان‘ یا ’فیصل کے سعودیہ‘ یا ’عزت بیگووچ کے بوسنیا‘ ایسی مسلم اکائیاں ہی ہوں گی۔ یعنی اردگان یا ضیاء الحق یا فیصل یا بیگووچ ایسی مذہب پسند قیادتیں اگر نہ ہوں تو مسلمانوں کی یہ جغرافیائی اکائیاں بجائےخود تو اپنی تمام تر ڈیموگرافک جہتوں کے ساتھ اُن کو ہضم ہی ہضم ہیں! یہ سوچنا بالکل غلط ہو گا۔ حق یہ ہے کہ ترکی میں اردگان یا پاکستان میں ضیاء الحق یا سعودیہ میں فیصل یا بوسنیا میں بیگووچ ایسا کوئی ’اسلامسٹ‘ اوپر آ جانا دشمن کو ہم پر بےرحم ہو جانے کے کچھ اضافی اسباب فراہم کرتا ہے۔ ورنہ قبول ان کو ’اتاترک‘ کا ترکی بھی بہرحال نہیں ہے۔ ابھی ہم اس کی وجہ بتائیں گے، کیوں۔ (’اتاترک کا ترکی‘ ہم نے اِس ضمن کی بدترین مثال دینے کےلیے قصداً ذکر کیا ہے تاکہ کوئی غموض رہ ہی نہ جائے، بقیہ مثالیں اسی پر قیاس کر لیجئے)۔

’اتاترک کا ترکی‘ ’’خلافت‘‘ کے مقابلے پر ایک نعمتِ غیرمترقبہ ضرور ہو گا۔ (ہم یہاں دشمن کی نظر سے صورتحال کی تصویر دکھا رہے ہیں)۔ تاہم ’’خلافت‘‘ جب ایک بار ختم کی جا چکی تو ضروری نہیں ’اتاترک کا ترکی‘ اپنے اُسی سائز، اُنہی وسائل اور اُنہی عسکری امکانات کے ساتھ  ہمیشہ ہمیشہ کےلیے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہے۔ لِكُلِّ مَقَامٍ مَقَال، وَلِكُلِّ حَادِثٍ حَدِيثٌ! وجہ اس کی واضح ہے: ’اتاترک کے ترکی‘ کو ’اردگان کا ترکی‘ بننے میں آخر دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ چند عشرے؟ تو پھر ایک مضبوط ترکی ’اتاترک‘ کے پاس بھی کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟ الا یہ کہ کوئی مجبوری ہو۔ اور ہاں مجبوری ہو (مثال: سوویت عفریت کی گرم پانیوں کی طرف پیش قدمی) تو ’ضیاءالحق کے پاکستان‘ کے ساتھ بھی معاملہ کر لینا پڑتا ہے... یہاں تک کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ’اسلامی پاکستان‘ اپنے نیوکلیئر پروگرام کو بھی خاطرخواہ حد تک آگے بڑھا لیتا ہے!

پس مسئلہ مجبوریوں کا ہے۔ کوئی خاص مجبوری نہ ہو تو عالم اسلام میں کوئی ملحد سے ملحد ’’قیادت‘‘ کیوں نہ ہو، بےدین سے بےدین ’’نظام‘‘ کیوں نہ ہو، صلیبی یہاں ایک مسلم ملک کو مضبوط اور توانا چھوڑنے کا ’خطرہ‘ مول لے ہی نہیں سکتا۔ اتاترک بھی ہو، وہ صرف اپنے کفر کی گارنٹی دے سکتا ہے اپنی نسلوں کی نہیں! اس ’مسئلے‘ کا کوئی کرے تو کیا کرے؟ مسلم دنیا کی ’گارنٹی‘ اللہ کے فضل سے کوئی نہیں دے سکتا؛ یہاں تک کہ خود ملحد بھی نہیں! خود اِس (ملحد) کے گھر کب کوئی دیندار پیدا ہو جائے، کیا ضمانت ہے؟ (صلیبی کو ہماری مسجد اور ہماری اذان، یہاں تک کہ اب تو ہماری تبلیغی جماعت اور الہدیٰ ایسی بےضرر چیزیں بری لگتی ہیں کیونکہ یہ مسلم بیداری کےلیے ایک ’نرسری‘ کا درجہ رکھتی ہیں! بڑی بڑی ملحد شخصیات کے گھروں میں آپ نے بڑے بڑے دیندار بچے دیکھ رکھے ہوں گے؛ عالم اسلام کا یہ ایک ’جینوئن‘ مسئلہ ہے؛ آخر اسے کیسے نظرانداز کر دیا جائے!)۔ یہ ملحد اپنی آئندہ نسلوں کی تو کیا ضمانت دے گا، اس بات ہی کی کیا ضمانت کہ خود یہی کل کو تائب نہیں ہو جائے گا اور مرنے سے پہلے خدا کے ساتھ اپنا معاملہ سدھار لینے کےلیے فکرمند نہیں ہو جائے گا! مسلمان ماں کے دودھ میں خدا نے کچھ رکھا ضرور ہے!

اس لحاظ سے؛ خدا نے عالم اسلام کے معاملے کو کچھ لاک lock   لگوا دیے ہیں۔ یہ قدرتی لاک lock    ہیں۔ کوئی مائی کا لال انہیں اَن لاک unlock    نہیں کر سکتا۔ کوئی ضمانتیں یہاں پائی ہی نہیں جاتیں۔ ضمانتیں کہیں ہوں تو دی جائیں! ملتِ صلیب پس یہاں ’شخصیات‘ کو نواز سکتی ہے ’’ملکوں‘‘ کو نہیں؛ خواہ یہ شخصیات اُس کےلیے سونے کی کیوں نہ ہو جائیں!!! لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے ملکوں کو ’’بڑی طاقتیں‘‘ بنتا چھوڑنا صلیبی کی لغت میں نہیں، سوائے یہ کہ مجبوری ہو!

پس کُل کھیل آپ کو اُس کی مجبوریوں کے ساتھ کھیلنا ہوتا ہے۔ اس بات کو ایک کُلی قاعدے کے طور پر لکھ لیجئے۔

 

سلسلۂ مضامین:

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 1

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 2

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 3

 ’’عالم اسلام کے گرد گھیرا؛ پوسٹ کولڈ وار سیناریو سمجھنے کی ضرورت‘‘ 4


(جاری ہے)


 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کشمیر کےلیے چند کلمات
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام
احوال- امت اسلام
ادارہ
قاضی حسین احمدکی وفات پر امارت اسلامی افغانستان کاتعزیتی پیغام  جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت
احوال- امت اسلام
ادارہ
ایرانی اہل السنۃ کی آفیشل ویب سائٹ: قاضی حسین احمد کی وفات پر تعزیت جمع و ترتیب: محمد احمد    ۔۔۔
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا!
جہاد-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا! کل ہمارے یہاں ایک ٹویٹ ہوا تھا: شیعہ سنی تصادم&۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز