عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Wednesday, November 20,2019 | 1441, رَبيع الأوّل 22
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
شرح دعائے قنوت
:عنوان

فيمن هديت.. گویا اِس شخص کی نظر ایک ایسی بھِیڑ پر جا پڑی ہے کہ کسی شہنشاہ کے در سے لوگ بھر بھر کر خیرات پا رہے ہیں تو اِس نے بھی بڑھ کر اپنا کاسہ آگے کر دیا اور لگا مانگنے: اُن کو بھی تو تُو نے دیا ہے مجھے بھی

. مشكوة وحىتوضيح مفہومات . رقائقاذكار و ادعيہ :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف


شرح دعائے قنوت

نوٹ: ’’دعائے قنوت‘‘ ایک ایک جملہ کی علیحدہ شرح کےلیے آپ اس لنک پر جا سکتے ہیں۔


عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوَتْرِ: «اللَّهُمَّ اهۡدِنِي فِيمَن هَدَيتَ وَعَافنِي فِيمَن عَافَيتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَن تَوَلَّيتَ وَبَارِكۡ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْك إنَّه لَا يَذِلُّ مَن وَالَيتَ (وَلَا یَعِزُّ مَنۡ عَادَیتَ)* تَبَارَكتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» )رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي، وقد صححه الألباني في تخريجه على مشكاة المصابيح رقم 1273. * الزيادة من صحيح أبي داود(.

عَلَّمَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ رضي الله عنه أَنْ نَقْرَأَ فِي الْقُنُوتِ: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ، وَلَا نَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي، وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ» (مصنف ابن أبي شيبة رقم 6893. صححه الألباني[i] عن عمر في قنوت الفجر باختلاف بعض اللفظ)

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وَتْرِهِ:[ii] «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ من سخطك وبمعافاتك من عُقُوبَتك وَأَعُوذ بك مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ».  (أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. صححه الألباني في تخريج المشكاة رقم 1276)


حضرت حسن بن علی سے روایت ہے، کہا: سکھائے مجھے رسول اللہﷺ نے یہ کلمات کہ میں یہ بولوں وتر کے قنوت میں:

الٰہا! مجھے ہدایت دے ان (خوش بختوں) میں جنہیں تو نے ہدایت دی۔ مجھے عافیت دے ان میں جنہیں تو نے عافیت دی۔ مجھے اپنا بنالے، ان (خوش نصیبوں) میں جنہیں تو نے اپنا بنایا۔ اور برکت دے مجھے اس سب کچھ میں جو تو نے عطا کیا۔ اور بچا مجھ کو قضائے بد سے۔ کہ فیصلہ ہے سب تیرا، تیرے اوپر کسی کا فیصلہ نہیں۔ نہیں ذلیل ہوتا وہ جسے تو دوست رکھے۔ اور نہیں عزت پاتا وہ جسے تو دشمن جانے۔ بزرگ و برتر ہے تو پروردگارا، تو بلند و بالا ہے۔

سکھایا ہمیں ابن مسعود نے کہ وتر میں ہم پڑھیں:

الٰہا! ہم مدد چاہیں تجھ سے۔ بخشش مانگیں تجھ سے۔ ایمان لائیں تجھ پر۔ خوب سے خوب ثنا کریں تیری۔ ہم نہیں تیرا کفران کرنے کے۔ هم بری و بیزار تیرے آگے بیباک ہونے والوں سے۔ الٰہا! عبادت کریں تو ہم تیری۔ نیازگو ہم تیرے۔ سجدہ ریز تیرے آگے۔ ہماری سب سعی تیری طرف اور سب شتابی تیری جانب۔ امیدوار تیری رحمت کے۔ خائف تیرے عذاب سے۔ بےشک تیرا کڑا عذاب کافروں کو نہیں چھوڑنے والا۔

روایت علی سے، کہا: نبیﷺ اپنے وتر کے آخر میں کہا کرتے تھے:

الٰہا! میں تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں تیری ناراضی سے۔ تیرے درگزر کی پناہ میں آتا ہوں تیری عقوبت سے۔ میں تیری پناہ میں آتا ہوں تجھ ہی سے۔ میری طاقت نہیں کہ تیری ثناء کا احاطہ کروں۔ بس تیری شان وہ جو تو خود اپنی صفت کرے۔

*******

اللَّهُمَّ اهۡدِنِي فِيمَن هَدَيتَ

خدا سے ہدایت کا سوال۔ ابن آدم کی سب سے بڑی مراد۔ معلوم ہوا یہ شخص جو  قادرِ مطلق کے آگے عاجزانہ ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے، سب سے بڑھ کر فکرمند ہے تو اپنے قلب و نظر کےلیے؛ جو ہدایت کا اصل محل ہے۔ ذرا اِس کے ذوق کا اندازہ کرو؛ پہلا سوال ہی خدا سے کیا تو کیا کیا! سبحان اللہ! اِس کی تمام تر انسانیت، تمام تر معقولیت اور تمام تر استقامت و حق پرستی اس بات پر منحصر ہے کہ اِسے درست بات کو سمجھنے، سچ کو جانچنے، اچھائی کو سراہنے، برائی سے گھن کھانے، حق کی حقیقت کو پانے، خیر کے راستوں میں آگے بڑھنے اور حق کا اتباع کرنے کی توفیق کتنی ملتی ہے۔ لہٰذا سب سے پہلا سوال خدا سے یہی کیوں نہ ہو۔ سب سے بڑھ کر خیرات یہ اپنے اِسی قلب و نظر کےلیے کیوں نہ مانگے جو اِس کے وجود کا ظرف ہے۔ خدا سے یہ فریاد کیوں نہ ہو کہ اِس ظرف میں کوئی غلیظ مادہ پڑا نہ رہے، یہاں کسی بدبودار شےء سے اُنس باقی نہ رہے؛ ان سب غلاظتوں سے دھل کر یہ نرا حُسن کا متلاشی اور عمدہ اشیاء کی آماجگاہ بنے اور یہاں سے ایسےایسے اعلیٰ رویے پھوٹ کر آئیں، کہ خدا بھی ان پر راضی ہو اور مخلوق بھی فریفتہ۔

الخلیل[i] شارحِ زاد المستقنع کہتے ہیں: یہاں انسان ہدایتِ علم کا بھی سوال کرتا ہے اور ہدایتِ عمل کا بھی۔

ہدایتِ علم کا مطلب: انسان پر حقیقتِ امر منکشف ہوجانا، حق اور باطل کا فرق کھل جانا۔ زندگی کے ہر موڑ اور ہر دوراہے پر درست سمت کا سائن نظر آ جانا۔

جبکہ ہدایتِ عمل کا مطلب: قلب کا اس حق کو قبول کرنا۔ اس کے آگے سر تسلیم خم ہونا۔ اور اعضاء و جوارح کا اس پر عمل پیرا ہونا۔ ہر ہر موقع پر حق کی قیمت دے سکنا۔

ہدایتِ علم اصلاً خدا دیتا ہے۔ لیکن یہ ہدایت دینے میں مخلوق بھی شامل ہو سکتی ہے۔ مثلاً نبی جو تمہیں ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے۔ (وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۔ سورۃ الشورى 52)۔ تمہارا کوئی استاد یا مرشد جو تمہیں صحیح اور غلط کی تمییز کراتا ہے۔ تاہم ہدایتِ عمل صرف خدا ہی دے سکتا ہے، اُس ایک کے سوا یہ کسی کے بس کی بات نہیں۔ اِس بےبسی کا اندازہ بس یہاں سے کر لو کہ تمہارے سامنے یہ خاتم الانبیاء اپنے سب سے بڑے محسن ابو طالب بن عبد المطلب کو ایمان کا ایک بول بُلوانے کےلیے اپنا پورا زور صرف کر دیتے ہیں مگر اُدھر سے وہ ایک چھوٹا سا بول سامنے آ کر نہیں دے رہا؛ اور آپ کا ایک اتنا پیارا آپؐ کی آنکھوں کے سامنے ایمان کے بغیر جان دے دیتا ہے۔ ہدایت کی اسی دوسری قسم کی نفی غیراللہ سے اِس آیت میں کی گئی ہے: إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ أعْلَمُ بِالمُهْتَدِينَ (القصص: 56) ’’اور تو اپنے پیارے کو ہدایت کرنے والا نہیں، ہاں اللہ جسے چاہے ہدایت کر دے، اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو‘‘۔ پس اِس بےتوجہی سے نکلو اور ذرا دھیان کرو: تم خدا سے کیسی ایک نایاب چیز مانگنے جا رہے ہو۔ ایک ایسی شےء جو جہان میں کسی کے دینے کی نہیں۔ انبیاء بھی اپنے عزیزوں کےلیے بس اِس کی تمنا ہی کر سکے۔ بادشاہوں کے خزانوں میں بھی یہ چیز نہیں ملتی جو اِس وقت تم خدا سے مانگنے لگے ہو۔ اور جو اگر تمہیں نہ ملی تو تم حقیقتاً ہلاک اور برباد ہو۔ اس بربادی کے گڑھے سے تمہیں نکالنے کےلیے اگر وہ مہربان ہاتھ نہ بڑھائے تو دنیا میں تمہارا کوئی پرسانِ حال نہیں، حتیٰ کہ تم خود بھی نہیں؛ چار دن کی زندگی اور پھر دہکتی آگ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے۔ اب ذرا اپنی خوش قسمتی کا اندازہ کرو کہ اُس شانِ کریمی کے مالک سے تم نے کیا چیز مانگ لی ہے! اور اگر تم خدا سے یہ مانگنے میں سچے ہو تو یقین رکھو کہ تمہارے یہ ہاتھ اُس نے اپنے آگے تبھی اٹھنے دیے جب اُس کا تمہیں یہ خیرات دینے کا ارادہ ہوا! ہر کسی کو تو یہ مانگنے کی سعادت نہیں! بلکہ شعور ہی نہیں! یہ تو درود ہو محمد پر اور آپؐ کے آل اور اصحاب پر جن کے دم سے آج تم اِن مسجدوں میں کھڑے، توحید کے واسطے دے دے،اُس کے آگے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہو!

شارحِ زاد المستقنع کہتے ہیں: اول الذکر کو ہدایتِ ارشاد اور ثانی الذکر کو ہدایتِ توفیق بھی کہا جاتا ہے۔

خوب جان لو: پہلی قسم ہدایت کی وہ ہے جو فرعون اور ابوجہل و ابولہب کو بھی ملی تھی؛ مگر یہ اکیلی اُن کےلیے فائدہ مند نہ ہوئی۔ جبکہ دوسری قسم ہدایت کی وہ ہے جو ابوبکرؓ و عمرؓ اور بلالؓ و سلمانؓ کو ملی اور ان کے نصیب ہرے کر ڈالے۔ چنانچہ شارحِ زاد المستقنع کے بقول: پہلی کو ہم ہدایتِ عامہ کہتے ہیں اور دوسری کو ہدایتِ خاصہ۔ یعنی وہ چیز جو خواص کو نصیب ہوتی ہے۔ اپنوں کے سوا خدا کسی کو اس کے پاس پھٹکنے نہیں دیتا؛ ہاں اپنوں کو بھر بھر دیتا ہے! تو پھر اپنی قسمت کا اندازہ کرو اِن ہاتھوں میں، جو خدا کے آگے اٹھے ہوئے ہیں، اگر یہ خیرات پڑ گئی تو تمہارا شمار کن دولتمندوں میں ہونے والا ہے! بس ذرا توجہ اور اِنابت اور گھگھیاہٹ۔

فِیمَنۡ ھَدَیتَ

یعنی ہدایت بھی ویسی جو تو نے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کو بخشی۔

ابن عثیمینؒ کہتے ہیں: یہ توسُّل کے باب سے ہے۔ یعنی کسی کو ہدایت یافتہ دیکھا تو خدا کو اُس کی اسی صفت کا واسطہ دے ڈالا جس کی بدولت وہ (دوسرے) اُس کے در سے دولتِ ہدایت پاتے رہے۔ گویا اِس شخص کی نظر ایک ایسی بھِیڑ پر جا پڑی ہے کہ کسی شہنشاہ کے در سے لوگ بھر بھر کر خیرات پا رہے ہیں تو اِس نے بھی بڑھ کر اپنا کاسہ آگے کر دیا اور لگا مانگنے: اُن کو بھی تو تُو نے دیا ہے مجھے بھی دے ڈال۔ مجھے اِس در کا پتہ چل گیا جہاں سے لوگ لَد لَد کر نکلے؛ تو یہ ایک میں بھی ہوں؛ دیکھ یہ میرا ہاتھ پھیلا ہے؛ اِس کو بھی خالی مت لوٹا! پس تصور کرلو، اِس دعاء میں مانگنے اور وسیلہ دینے کا کیا اعلیٰ اسلوب سکھایا گیا ہے۔

وَعَافنِي فِيمَنۡ عَافَيتَ

عافیت کا مطلب بچت ہو جانا۔ خلاصی ہو جانا۔

جان رکھو: خداشناس لوگوں کی دعاؤں میں بہت سے اسلوب اختیار کیے جاتے ہیں۔ کسی وقت خدا سے بڑابڑاکچھ مانگ لیا جاتا ہے: اُس کی جنت، اُس کی قربت، اُس کا دیدار اور نہ جانے کیا کچھ۔ البتہ ان اسالیب میں ایک اسلوب یہ ہے کہ مانگنے میں بھی آدمی انکساری کی حد کر دے۔ اس موقع پر اِس کی کل طلب یہ ہو جاتی ہے کہ مالک اِس کو کچھ نہ کہے۔ اِس چیز کا نام ہے عافیت۔ یعنی مالک اس سے بازپرس نہ کرے۔ جو کچھ اِس کو دیا اس کا سوال نہ کرے۔ جو کچھ گناہ اِس سے ہوئے مالک ان کا ذکر ہی نہ کرے؛ گویا وہ کبھی ہوئے ہی نہیں! یہ تو خوش قسمتی کی حد ہوئی؛ اِس سے بڑھ کر آخر یہ کیا مانگے! اِس سے اوپر گویا اِس کی آنکھ ہی نہیں اٹھتی۔ اِس سے آگے اِس کی زبان ہی نہیں کھلتی۔ اس کی منتہائےتمنا بس یہ ہو جاتی ہے۔ اِس اسلوب میں مالک کی ایک ایسی تعظیم ہے اور اُس کے آگے ذلت اور لاچاری کا ایک ایسا اظہار ہے جو مالک کی رحمت کو بےتحاشا آواز دے لاتا ہے۔ ہاں یہ البتہ اِسے معلوم ہے کہ جس عبد پر مالک مہربان ہو جائے اور بازپرس سے اس کی خلاصی کر دے تو اس کے وارےنیارے پھر کیسے ہوتے ہیں! پس وہ ساری چیزیں اور وہ سارے ٹھاٹھ اِسے معلوم تو ہیں جو ایک بخشش پا لینے والے شخص کو خدا کے ہاں ملنے والے ہیں، لیکن اِس کی جان جا رہی ہے کہ وہ بخشش نام کی نعمت ہی سب سے پہلے اِس کو مل پاتی ہے یا نہیں۔ پس اِسی بخشش میں سب کچھ ہے اور اگر یہ بخشش نہیں تو وہ بربادی کے گڑھے بھی منہ کھولے اِس کو صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے مشکل مقام سے بخیریت گزر لیں تو بات ہے! خدایا بس یہاں سے گزار دے! تو گویا اُس اصل چیز پر اِس کی نظر جا پڑی ہے جو اِس تمام سعادت کا راز ہے اور باقی سب کچھ اس کے بعد اور اس کے تابع ہے۔ تو یہاں؛ یہ دنیا و مافیہا کو بھول کر خدا سے وہ ایک چیز مانگنے لگا جس کے ملنے میں سب کچھ ملتا ہے؛ اور جس کے بغیر سب اندھیرا ہے۔

پس یہ ایک کمال معنیٰ ہے۔ اس کے مانگنے میں ہی سب کچھ ہے۔ ترمذی کی حدیث میں فرمایا: ما سُئِلَ اللهُ شيئًا أحبَّ إليه مِن أن يُسأَلَ العافيةَ ’’اللہ سے مانگی جانے والی چیزوں میں کوئی چیز اللہ کو اس سے بڑھ کر پیاری نہ ہوگی کہ اُس سے عافیت کا سوال کیا جائے‘‘۔ ترمذی ہی کی ایک اور حدیث ہے: فإن أحدا لم يعط بعد اليقين خيرا من العافية ’’یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں جو کسی کو نصیب ہو‘‘۔ ترمذی میں حضرت عباس سے روایت ہے، کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے کچھ سکھائیے جو میں اللہ سے مانگوں۔ فرمایا: سَلِ اللهَ العافيةَ ’’اللہ سے عافیت کا سوال کرو‘‘۔ کچھ دن بعد میں پھر حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول مجھے کچھ سکھائیے جو میں اللہ سے مانگوں۔ فرمایا: اے عباس! اے رسول اللہؐ کے چچا! اللہ سے عافیت کا سوال کرو دنیا اور آخرت میں۔ 

جان رکھو! عافیت ایک وسیع مضمون ہے۔ کسی وقت اس کا تعلق عواقب consequences سے ہو گا تو کسی وقت موجبات causes سے۔ لہٰذا عافیت کا تعلق دنیا سے بھی ہو گا اور آخرت سے بھی۔ دنیا میں آزمائشوں سے بچ جانا یا اگر آزمائشیں پڑیں تو نعمتِ خداوندی سے ان میں سرخرو رہنا خودبخود اس بات کا موجب ہو گا کہ آخرت میں خلاصی ہو جائے۔ پس ہر وہ چیز جس پر صبر کرنا پڑے اور اس پر آدمی کا قدم ڈگمگا سکتا ہو دنیا میں آدمی اس سے خدا کی عافیت مانگتا ہے۔ یعنی نہ بوجھ پڑے اور نہ اس کےلیے جوابدہ ہونا پڑے۔ یوں خدا کے آگے اپنی کمزوری پیش کرنا اور اپنے آپ کو اُس کی آزمائش کے قابل نہ جاننا عاجزی کی ایک نہایت خوب ادا ہے۔ تابعی امام مطرف بن عبد اللہؒ  کا قول ہے: لأن أُعَافىٰ فأشكر أحَبُّ إليَّ مِن أن أُبتَلىٰ فأصبر ’’میں عافیت میں رہوں اور اس پر شکر کیے جاؤں، مجھے کہیں زیادہ عزیز ہے اس سے کہ میں آزمائش میں پڑوں اور اس پر صبر کروں‘‘۔

شارح زاد المستقنع کہتے ہیں: خدا سے عافیت مانگنا:

o            دین کے معاملہ میں بھی ہے،

o            دنیا کے معاملہ میں بھی،

o            اور آخرت کے معاملہ بھی

مزید فرماتے ہیں: اس میں آدمی:

o            قلوب کے امراض سے بچنے کی درخواست بھی کرتا ہے، اور جوکہ اِس حدیث کا اصل مقصود ہے،

o            اور بدن کے امراض سے بھی۔

رسول اللہ کے سکھائے ہوئے کلمات وعافنی فیمن عافیت میں ان سب اشیاء سے تحفظ آ جاتا ہے۔

ابن عثیمینؒ اسی حدیث کی شرح میں کہتے ہیں: قلوب کے روگ دو قسم ہیں: ایک شبہات اور دوسرے شہوات۔ یعنی ایک عقائد اور نظریات کے فتنے جنہیں ایک بیمار دل پینے لگتا ہے اور اس کج فکری کے باعث دل میں ٹیڑھ آتا چلا جاتا ہے۔ دوسرا اعمال کے فتنے اور گناہوں کی کشش جو آدمی کو بربادیوں کی طرف لیے چلتی ہے اور آدمی عبدیت کی حالت سے باہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ قنوت میں آدمی ان دونوں قسم کے روگوں سے بچا رہنے کی دعا کرتا ہے اور اس بات کا سوالی ہوتا ہے کہ یہ قلب اپنی اس اصل حالت پر رہے جہاں یہ صرف خدا کا طلبگار ہوتا، صرف اُسی کی چاہت کرتا اور صرف اُسی سے ڈر کر رہتا ہے۔

وَتَوَلَّنِي فِيمَن تَوَلَّيتَ

اس میں یہ سب معانی آتے ہیں: میرا سہارا بن۔ مجھے سنبھال۔ میرے سب امور اپنے ذمہ لے لے۔ مجھے رُلنے نہ دے۔ میرا پشتیبان بن۔ مجھے اپنوں میں شامل کر لے۔ اپنے گروہ کا بنا لے۔ میرا دوست اور مددگار ہو جا۔ مجھے مقرَّب کر لے۔

خوب جان لو: ولایت ایک وسیع لفظ ہے جس کے تحت قربت و نصرت کے ان گنت معانی آتے ہیں۔ اوپر جو کچھ بیان ہوا وہ سب اس کے اصل معنیٰ کو قریب کرنے کےلیے ہے۔ پورا مفہوم شاید اتنے لفظوں میں بھی ادا نہ ہوا ہو۔ شارح زاد المستقنع کہتے ہیں:

ولایت سے مقصود دو میں سے کوئی ایک امر ہوتا ہے:

o            قرب اور اپنائیت۔ فُلانٌ يَلِيْكَ کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ تمہارے قریب ہے یا تمہارا قریبی ہے۔

o            جتھہ ہونا۔ جس میں مددگار ہونا، پشتیبان ہونا، عنایت، حفاظت اور سنبھالنے ایسے معانی آتے ہیں۔

نیز فرماتے ہیں:

شرع کے الفاظ میں وارد ولایت دو قسم پر ہے:

o            ولایتِ عامہ۔ یہ تمام مخلوق کو حاصل ہے۔ اس معنیٰ میں اللہ سب کا ولی اور مولیٰ ہے۔ ابن عثیمین کہتے ہیں: یہ آیت اِسی معنىٰ پر ہے: ثُمَّ رُدُّواْ إِلَى اللَّهِ مَوْلاَهُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ (الأنعام: 26) ’’پھر (یہ سب) لوٹائے جاتے اللہ ان کے مولائے حقیقی کی طرف۔ خبردار فیصلے کا سب اختیار ایک اُسی کا۔ اور وہ سب سے تیز ہے حساب کرنے میں‘‘۔

o            ولایتِ خاصہ: یہ صرف مومنوں کو حاصل ہوتی ہے۔ فرمایا: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُواْ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ’’اللہ ولی ہے مومنوں کا، نکال لاتا ہے ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف‘‘۔ یہ ہے وہ ولایت جس کا تم قنوت کے اندر سوال کرتے ہو۔ کہ خدا تمہیں اپنوں میں شمار کر لے اور تمہارے معاملات کو اُس طرح سے اپنے ہاتھ میں لے لے جس طرح وہ اپنے خاص بندوں کے معاملات کو لیتا ہے۔

اس کے بعد فرماتے ہیں: کسی وقت ہم ایک تیسری ولایت بھی بیان کرتے ہیں، اور وہ ہے:

o            ولایتِ خاصۃ الخاصۃ: یعنی یہ خدا کی وہ نصرت اور عنایت ہے جو اہل ایمان میں سے بھی خدا کے ان خاص الخاص بندوں کو نصیب ہوتی ہے جو اپنے اعمال کے ذریعے اس کے بہت قریب ہو جاتے ہیں اور گناہوں سے بےحد دور رہتے ہیں۔ ان کو ہم خصوصی طور پر اولیاء اللہ کہتے ہیں۔

تو اَب اندازہ کرلو تم خدا سے کیسی عظیم شےء مانگ رہے ہو۔ خدا کی ولایت مل جائے تو سوچو پیچھے کیا رہ گیا۔ اور اگر یہ نہ ملے تو کیسے بےسہارا ہو۔ یہ وہ نعمت ہے کہ اس کے بعد آدمی ہفت اقلیم سے بےنیاز ہو جاتا اور پورے جہان سے بھڑ جاتا ہے۔ جس کا خدا ہو اس کو بھلا کیا کمی! یہ تھی وہ چیز جو اُحُد کے میدان میں ابوسفیان کی جے ’’لَنَا عُزّیٰ وَلَا عُزّیٰ لَکُم‘‘ کے مقابلے پر بول اٹھی تھی: ’’اللہُ مَولانا وَلَا مَولیٰ لَکُم‘‘۔ اور پھر چند سال نہ گزرے کہ اس مولیٰ کے لشکر صرف جزیرۂ عرب نہیں بلکہ ایشیا اور افریقہ سے لے کر یورپ تک پر چڑھائی کر رہے تھے! اور جو آخرت میں خدا کے ان اولیاء کے استقبال ہونے والے ہیں وہ تو رشکِ خلائق ہوں گے! یعنی دنیا بھی اور آخرت بھی۔ خدا کی ولایت مانگنے سے بڑھ کر پُرلطف چیز فی الحقیقت کوئی نہ ہوگی!

*****

دعاء کے یہ جو تین بند اوپر گزرے، ان میں مسلسل ایک ہی اسلوب اختیار کیا گیا: فيمن هديت. فيمن عافيت. فيمن تولَّيت. اس پر ہم پیچھے کچھ بات کر آئے ہیں۔ دراصل یہاں رشک کا ایک انداز بھی سکھایا گیا ہے؛ جو بےساختہ دعاء میں ڈھل گیا ہے۔ یعنی کسی کو دیکھ کر اُس جیسا ہونے اور ویسی ہی نعمت خدا سے پانے کی تمنا کرو تو وہ کس قسم کے لوگ ہونے چاہئیں؟ وہ لوگ جنہیں ہدایت ملی۔ جنہیں عافیت نصیب ہے۔ اور جن کو خدا کی ولایت حاصل ہے۔ ایسوں پر آدمی کی نظر جا ٹکے؛ اور ان سے ہٹنے کا نام نہ لے۔ خوش قسمت جانے تو بس ایسوں کو۔ ہاں یہ ہیں وہ چیزیں جن میں آدمی اپنے نیچے والوں کو ہرگزر مت دیکھے بلکہ اوپر ہی اوپر دیکھے۔ اور بےتاب ہو ہو کر خدا سے سوال کرے کہ میں بھی تیری عنایت سے ایسی ہی دولت سے مالامال ہو جاؤں۔ نیز اِس اسلوب میں خدا کے انعام کا اعلیٰ تصور ہے۔ یعنی یوں تو تیری ہر دَین ہی کمال ہے؛ اور کسی کو ملی تو تیرے ہی دینے سے ملی؛ مگر کچھ لوگوں پر تو تُو نے دَین کی حد ہی کر دی: دیکھ تو نے کچھ لوگوں کو کیسی کیسی ہدایت دی۔ دین و دنیا میں ان کو کیسی کیسی عافیت بخش رکھی ہے۔ اور کیسی کیسی ولایت دی۔ تو خدایا میرا حصہ؟

علاوہ ازیں، ابن عثیمینؒ کہتے ہیں: یہاں آدمی خدا کو اِس بات کا بھی واسطہ دیتا ہے کہ وہ جو اِن نعمتوں سے مالامال ہوئے وہ بھی کوئی اپنے پاس سے تھوڑی لے آئے؛ تیرے ہی دینے سے ہوئے۔  تو پھر جب ملتا تیرے دینے سے ہے تو تجھ سے مانگتا میں بھی ہوں!

*****

وَبَارِكۡ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ

اور برکت دے مجھے اس سب کچھ میں جو تو نے دیا۔

شارحِ زاد المستقنع کہتے ہیں: برکت کا معروف معنیٰ ہے: بڑھوتری اور اضافہ۔ یعنی اور سے اور دے۔ مگر اس کا جو ایک اور خوبصورت معنیٰ بیان ہوا ہے وہ یہ کہ: ایک چیز میں الٰہی خزانہ سے ایسی خیر پڑ جانا کہ وہ نفع ہی نفع دے اور اس میں خمیازے کا اندیشہ جاتا رہے۔

ابن عثیمین کہتے ہیں: ’’برکت‘‘ میں نعمت کے باقی رہنے کا معنیٰ بھی آتا ہے۔ نیز فرماتے ہیں: تم نے دیکھا ہوگا کہ کسی کو بہت تھوڑا ملا اور اس نے اسی میں بہت مزے کی گزاری۔ دوسری جانب، کسی کو بہت زیادہ ملا لیکن اس سے محظوظ ہونے کا ڈھنگ نہیں یا اس سے فائدہ پانے کی کوئی صورت نہیں۔ مال تھا تو وہ وبال۔ اولاد تھی تو وہ نافرمان اور ذہن کی اذیت۔ حتیٰ کہ تم دیکھو گے ایک آدمی کو علم کی کمی نہیں لیکن حرکتیں وہی جاہلوں والی، اخلاق وہی گنواروں جیسے۔ علم کا فائدہ نہ خود کو نہ کسی اور کو۔ اوپر سے علم کا گھمنڈ۔ جبکہ کچھ لوگوں کو علم ملنا شریعت کے نشر و احیاء کا ذریعہ بنتا ہے اور خود ان کا وجود خیر کے اعلیٰ ثمرات سے لد جاتا ہے۔ وغیرہ۔ اسے کہیں گے ایک چیز میں برکت یا بےبرکتی ہونا۔

دنیا میں ہر انسان کو ہزاروں نعمتیں حاصل ہیں۔ زندگی، صحت، جوانی، حسن، مال، اولاد، گھر بار، رشتے، محبتیں، ہزارہا آسائشیں۔ لیکن اگر اس میں خدا کا حق ادا نہ ہو پایا تو ہر نعمت بالآخر عذاب بن جانے والی ہے۔ کیونکہ وہ خدا کی دی ہوئی تھی، آدمی کی اپنی نہ تھی۔ پس اصل نعمت تو وہ ہوئی جو آخر تک نعمت رہے اور کسی مرحلہ پر عذاب نہ بنے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ کی چیز پر ریجھ نہیں جاتا۔ یہ اس میں خدا سے خیر کا سوالی ہے اور جانتا ہے خیر اس کے پاس نہیں خدا کے ہاتھ میں ہے۔ محض چیزوں کا ملنا اِس کو مسحور نہیں کرتا کہ جانتا ہے بڑے بڑے نعمتوں والے آخر میں الٹے لٹکائے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ سوالی ہے کہ خدایا جو ملے اس میں تیری برکت ساتھ ہو۔ یہ تیرا وہ دینا نہ ہو جو ان لوگوں کو ملتا ہے جنہیں تو نے دھکا دے دیا لیکن پھر بھی دنیا میں تو ان کو کھِلاکھِلا کر فربہ کرتا ہے؛ اور جوکہ تیرے پکڑنے کا ایک خوفناک انداز ہے۔ خدایا مجھے تو جو عطا ہو اس میں خیر ضرور ہو۔

یہاں شارحِ زاد المستقنع کہتے ہیں: یہ بات نظر میں رہے کہ یہاں حدیث کے الفاظ میں عموم ہے؛ یعنی عطائےخداوندی کو یہاں کسی چیز میں قید نہیں کیا گیا۔ پس اس میں علم، ایمان، نیکی وغیرہ بھی آتی ہے اور مال دولت، روزی اور اولاد وغیرہ بھی۔ غرض ہر وہ خیر جو آدمی کو خدا کی جانب سے ملتی ہے، اس میں خیر و برکت مانگی جاتی ہے۔

اور بلاشبہ ایسا ہی ہے۔ نیکی اور علم بھی وہ چیز نہیں جو ہر کسی کو راس آئے۔ یہ بھی بہت سوں کےلیے وبالِ جان بنتی ہے۔ پس ہر چیز ہی آدمی کو ملے تو اس میں برکت ساتھ ملے۔ پس دیکھو کس خوبصورت انداز میں خدا سے مانگنا سکھایا۔ یعنی ایک چیز میں دو چیزیں مانگ لیں۔ عطا بھی اور اس کے اندر خدا کی تائید و برکت بھی۔ خدا سے مانگو تو چیز پوری مانگو! آدھی اُس سے کیا مانگنی!  پس اِس دعاء میں اظہارِ فاقہ کے ساتھ ساتھ ایک اظہارِ انکساری بھی ہوا ہے۔ یعنی ایک بار خدا کا دینا زبان پر آیا، دوسری بار ایک ملی ہوئی چیز میں بھی خدا کا احسان اور عنایت مانگی گئی۔ عبودیت کا ایسا اظہار محمد کے سوا کون سکھا سکتا ہے!

وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ

اور بچا مجھے قضائے بد سے۔

یہاں علماء نے کہا: یہاں قضاء بمعنیٰ مَقضِی ہے۔ یعنی قضاء میں جو بات آئی نہ کہ بجائےخود قضاء۔ اس لیے کہ خدا کا قضاء کرنا اچھا ہی اچھا ہے اس میں کچھ بد نہیں۔ ہاں قضاء میں جو آیا اس میں اچھا بھی ہے اور برا بھی۔ اچھا مثلاً تندرستی، روزی، بارانی آسودگی، ہدایت اور نصرت وغیرہ۔ برا مثلاً بیماری، قحط، افلاس، گمراہی وغیرہ۔ پس اچھا یا برا ہونا بندے کے حوالے سے ہوتا ہے خدا کے حوالے سے نہیں۔ خدا کا ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنا بہرصورت اچھا ہی ہوتا ہے اس میں بد ہونے کا سوال نہیں۔ حدیث ’’والشَّرُّ لَیۡسَ إلَیۡکَ‘‘ کا بھی یہی مفہوم ہے یعنی شر کی نسبت تیری طرف نہیں۔ مقصد یہ کہ خدایا میرے حصے میں جو آئے وہ خیر ہو، شر سے بچائیو۔

خوب جان لو: دعاء انبیاء کی سنت ہے۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ دعاء قضاء کو ٹالتی ہے اور بداعمالی انسان کے رزق کو کم کرواتی ہے۔ جس طرح دوا دارو وغیرہ ایک تقدیر کو دوسری تقدیر سے بدلنے کے مادی اسباب ہوئے اور خود شریعت نے انہیں اختیار کرنے کی تلقین کر دی، اسی طرح دعاء اور ذکر وغیرہ ایک تقدیر کو دوسری تقدیر سے بدلنے کے روحانی اسباب ہوئے اور شریعت نے انہیں اختیار کرنے کی اس سے کہیں بڑھ کر تلقین کر رکھی ہے۔ عقلاء کے ہاں جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ دوا دارو کا کیا فائدہ اور زہر کھانے کا کیا نقصان کہ جب تقدیر طے ہے... اسی طرح یہ کہنا غلط ہے کہ دعاء کرنے کا کیا فائدہ اور دعاء سے غفلت و اعراض کا کیا نقصان جب جو ہونا ہے وہ تو پہلے سے طے ہے۔ قضائے قدیم کو دعاء نہ کرنے کی بنیاد بنانا گمراہوں کا طریقہ ہے۔ خوب جان لو خدا پر وقت اور زمانے کا گزر نہیں۔ جو دعاء تم ابھی ہاتھ اٹھا کر اُس کے حضور کر رہے ہو، تمہارا یہ گڑگڑانا اور گھگھیانا اُس وقت بھی اتنا ہی اُس کے سامنے تھا جب اُس کی تقدیر کا قلم چل رہا تھا جتنا کہ اب جب یہ واقعہ ہو رہا ہے۔ تقدیر کا ’پہلے‘ ہونا اور دعاء کا ’بعد میں‘ ہونا تمہارے حساب سے ہے نہ کہ اُس کے حساب سے۔ لہٰذا انبیاء کی بات پر بھروسہ کرو: اُس سے رو رو کر التجاء کرو کہ ہر وہ فیصلہ جو تمہارے حق میں برا ہے وہ محض اپنے فضل اور احسان سے تمہیں اس سے بچا لے۔ یقین رکھو، تمہاری یہ دعاء قبول ہونے والی نہ ہوتی تو انبیاء کبھی تمہیں اِس گریہ زاری کی تلقین نہ کرتے۔ اب خود بتاؤ اس سے بڑھ کر کیا چیز تھی جو انبیاء تمہیں لا دیتے! تصور کرلو، یہ ناتوانی کے ہاتھ اُس کے آگے اٹھا لو تو قسمت کے فیصلے اپنے حق میں کروا لو۔ ذرا روؤ اور اپنا نام جہنمیوں سے باہر کروا لو اور جنتیوں میں لکھوا لو۔ کوئی چیز ایسی ہے ہی نہیں جو تم اس وجہ سے نہ مانگو کہ اس کے فیصلے تو ہو چکے اب میں کیا مانگوں۔ وجہ وہی کہ ’ہو چکے‘ اور ’ہوں گے‘ تمہارے حساب سے ہے اُس کے حساب سے نہیں۔ تم بس مانگو!

فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْك

کیونکہ فیصلے تیرے ہیں، تیرے اوپر کسی کا فیصلہ نہیں۔

یہ اعلیٰ ترین وسیلہ ہے جو خدا کو دیا جاتا ہے۔ جان رکھو! اختیار اور فیصلہ خدائی کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ اس (اختیار اور فیصلہ) میں غیراللہ کی مکمل نفی اور خدا کےلیے اس کا کامل اِثبات توحید کا مرکزی ترین مضمون ہے۔ مشیئت، فیصلہ، قضاء اور تصرف ہی سمجھو اصل میں خدائی ہے۔ اور خدا کو اس کی خدائی اور بادشاہی کا واسطہ دینا بندے کا ایک بہت خوب وسیلہ۔ اِس معنیٰ میں بندہ اُس کے یہاں ہرگز بےوسیلہ نہیں؛ بلکہ اِس دولت کا سراغ پا لینے کے بعد یہ دنیا کاطاقتور ترین اور  ثروت مند ترین شخص ہے! دعاء میں اس سے پہلے جو بات ہوئی تھی وہ خدا سے اپنے حق میں ایک فیصلہ کروانے کی تھی؛ اور وہ بھی اِس درجے میں کہ وہ ایک قضائے بد ہی سے اِس کی خلاصی کر دے (وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیۡتَ)۔ بندہ لاچارِ محض؛ جبکہ فیصلہ خالص خدا کی اپنی مرضی؛ اِدھر بندے کا کسی صورت گزارا نہیں جب تک کہ وہ (فیصلۂ خداوند) اِس کے حق میں نہ ہو جائے۔ ایسی بڑی درخواست اب ایک بڑے وسیلے کی متقاضی تھی۔ وسیلہ اِس بنجارے کے پاس کہاں سے آنے لگا! یہ رہا فقیرِ محض؛ مگر مانگتا اتنی بڑی چیز ہے۔ یہاں یہ خدا کو کیا پیش کرے؟ اب یہاں یہ اپنے عاجز اور بےبس ہونے کو ہی اور خدا کا اختیار و شہنشاہی تسلیم کرنے کو ہی اپنا وسیلہ بنا کر اُس کے آگے پیش کر دیتا ہے۔ کہ تجھ سے اپنے حق میں ایک فیصلہ چاہا ہے؛ اس وجہ سے نہیں کہ میرا یا کسی کا تجھ پر کوئی زور ہے۔ تیرے آگے کسی کی نہیں چلتی۔ تو جو کرے گا محض اپنی مرضی اور اپنی حکمت سے کرے گا۔ تو پھر تیری اِس شان اور سطوَت کا وِرد کرنا ہی مجھ بندے وسیلہ ہوا؛ پس تُو میرا یہ واسطہ اور یہ منت قبول فرما اور قسمت کے فیصلے خالص اپنی مہربانی سے میرے حق میں کر دے۔ اور خدا مہربان اِس کا یہ ’ترلہ‘ قبول فرما لیتا ہے؛ کیونکہ خدا کو بھی اِس کے یہاں ’’عبدیت‘‘ کے سوا کچھ مطلوب نہ تھا؛ اُس بےنیاز کو اِس کے یہاں اور کچھ بھی نہیں دیکھنا تھا! یوں ایسی بڑی درخواست (وَقِنِی شَرَّ مَا قَضَیۡتَ) اِس کے حق میں نمٹا دی جاتی ہے۔ یقین رکھو، ایسی عظیم اور بظاہر انہونی درخواست پوری ہونے کا امکان نہ ہوتا تو اُس کا رسول تمہیں درخواست کا یہ ڈھنگ کبھی نہ سکھاتا! تو پھر اب زور لگا دو اور درخواست میں پورا دل ڈال دو؛ موقع ہے تو دیر کیسی!


إنه لَا يَذِلُّ مَن وَالَيتَ وَلَا یَعِزُّ مَنۡ عَادَیتَ

یہ بھی توسُّل ہے۔ جوکہ عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔ یعنی خدا کی شان بیان کرنے کو اپنا سہارا بنانا۔ مخلوق میں کوئی خدا کا دوست تو کوئی خدا کا دشمن۔ اب کون بدبخت ہے جو خدا کی دشمنی مول لے۔ اور کون نادان ہے جو خدا سے اس کی دوستی کا سوال نہ کرے۔ پس ان دو جملوں میں ایک طلب تو ہے مگر اس کا اسلوب بیانیہ ہے۔ خدایا تیری دشمنی سہنا کسی کا بس نہیں۔ اور تیرا دوست ہونا کوئی چھوٹا اعزاز نہیں۔ مقصد یہ کہ مجھے اپنے دوستوں میں کر لے اور اپنے دشمنوں میں نہ رہنے دے۔ نیز اس میں خدا سے جڑنے کا لطف بیان ہوا کہ ایسے شخص کو کوئی آنچ نہیں۔ اور خدا سے مخاصمت کی نحوست بیان ہوئی کہ ایسا شخص کبھی اونچا نہیں ہو سکتا۔ غرض عزت اور ذلت کا اصل سرچشمہ متعین ہوا۔ عزت کی تلاش ہے تو وہ خدا سے دوستی کرنے اور وفاداری نبھانے میں ملے گی۔ اور ذلیل وہ ہے جسے خدا اپنا دشمن کہہ دے۔

یہاں ابن حجرؒ و دیگر بعض ائمہ نے بیان کیا: خدا اپنے اولیاء پر، ان کے درجات بلند کرنے کےلیے، جو آزمائشیں کسی وقت ڈالتا اور پھر ان میں پورا اترنے کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وقتی طور پر اپنے کچھ دشمنوں کو ان پر مسلط کر دیتا ہے، حتیٰ کہ انبیاء تک پر زمانے کے اوباش سنگ زنی کرتے، ان کے سر پر خاک انڈیلتے، ان پر آوازے کستے اور ان کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے ہیں... یہ اللہ کے اِن ولیوں کے حق میں ذلت نہیں بلکہ اگر یہ اس پر ڈٹ جائیں تو اِن کے بلندیِ درجات کا ذریعہ ہے۔ ذلت یہ اس وقت ہو گی جب یہ اُن سے دب جائیں اور ان کے آگے سر نیچا کر لیں۔ مگر خدا جس کو دوست رکھے اس کا سر نیچا نہیں ہونے دیتا۔ دعاء میں آدمی دراصل اِسی بات کا سوال کرتا ہے کہ اِسے خدا کی ایسی دوستی نصیب ہو۔ دوسری جانب فرعونوں اور نمرودوں کو دنیا میں بڑا بڑا کروفر ملا ہے جبکہ خدا اِن کو اپنا دشمن رکھتا ہے۔ یہ دراصل عزت نہیں۔ عزت وہ ہے جو حق پرستوں کے دل میں کسی کےلیے ہو؛ مال کے پجاری جس کے آگے جھکتے ہوں اُسے عزت دار نہیں کہیں گے۔ یہ دراصل مفاد کی پوجا ہوتی ہے نہ کہ ان کی اپنی تکریم۔ پس یہاں عزت اور ذلت کے حقیقی معیار سامنے آئے اور خدا سے اِن حقیقی معیاروں merit پر عزت پانے اور ذلت سے بچنے کی درخواست ہوئی۔ اور اصل: خدا کی صفات کا واسطہ؛ کہ یہ سب چیزیں اُسی سے ملتی ہیں۔

یہاں خدا کی اِس صفت کا اقرار ہوا کہ اپنے دوستوں کو بےسہارا چھوڑنا اُس کی شان کے منافی ہے۔ وہ لازماً اپنے دوستوں کی مدد کو آتا ہے۔ نیز یہ بھی اُس کی شان کے منافی ہے کہ اُس کا دشمن عزت و سربلندی پائے۔ گو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دنیا کو دارالامتحان ہی نہ رہنے دے؛ جس میں اُس کے دوستوں کو آزمایا جانا بھی آتا ہے اور دشمنوں کو ڈھیل ملنا بھی۔ یہ وجہ ہے کہ بعض اہل علم نے کہا: اِس عزت اور ذلت کے ظہور کا اصل تعلق آخرت سے ہے؛ دنیا بہرحال دارِآزمائش ہے۔ اور یہ کل چار دن تو ہیں۔

تَبَارَكتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ

’’تو بزرگ و برتر ہے، پروردگارا،  بلند و بالا ہے‘‘۔

اس کا خصوصی تعلق پچھلے جملے سے ہے۔ یعنی تیری ہمسری کرنا کسی کا بس نہیں۔ تیری دشمنی کر کے کوئی جینے کا نہیں اور تیری دوستی کر کے کوئی مرنے کا نہیں۔

یوں دعاء کا اختتام خدا کی تعریف پر ہو رہا ہے۔ خدا کی بڑائی کرنا، خدا سے جو کچھ مانگا گیا تھا اس کی قبولیت کا وسیلہ ہے اور بجائے خود اُس کی حمد، یعنی عبادت۔ ثناء پر آگے کچھ بات آ رہی ہے۔

*****

اس دعاء کے اختتام پر شیخ البانیؒ کچھ دیگر احادیث کی بنا پر ایک مزید جملہ کے گاہےبگاہے اضافہ کو درست قرار دیتے ہیں:

لَا مَنۡجَا مِنۡكَ إلَّا إلَيْكَ         ("قيام الليل" مؤلفه الألباني ص 31)

نہیں تجھ سے بچ کر جانے کی کوئی جا، مگر تیری ہی طرف۔

یہ ہے آخر حد تک خدا کے قابو میں ہونے کا تصور۔ اُس سے چھوٹ کر جا کہاں سکتے ہیں! ہمہ دم اُس کے قبضۂ قدرت میں ہونے کا احساس۔ جس سے اُس کے آگے سرنڈر surrender ہونے کے تمام تر رویے پھوٹیں گے؛ اور جوکہ سرتاسر عبدیت ہے۔ ایک ایسی بےبسی ہے کہ آدمی ہر سہارے سے آخری حد تک ناامید ہو جاتا ہے اور خدا کی پکڑ سے بچنے کا امکان اس کے یہاں ختم ہی ہو کر رہ جاتا ہے۔ یوں ایک بار دنیا اندھیر ہو جانے کے بعد جب اُس کو خدا کا سہارا نظر آتا ہے تو گویا ہفت اقلیم ہاتھ آگئے۔ ایک ایسا روزن کھلا کہ سب ہول اور اندھیرے جاتے رہے۔ پس یہ خوف اور امید کا سنگم ہوا۔ خوف خدا کی بہت بڑی عبادت۔ امید خدا کی ایک اور بہت بڑی عبادت۔ یہاں یہ دونوں ایک دوسری میں آ ملیں؛ اور عبادت کی اصل ہیئت سامنے آ گئی۔ عبدیت کا یہی اصل مقام ہے۔ نہ خالی ڈرنے والا خدا کا حقیقی عبد اور نہ خالی امید رکھنے والا۔ ہاں یہ دونوں مل جائیں تو اصل بات ہے۔

دوسری دعاء:

اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ

اے اللہ ہم تجھ سے مدد مانگنے والے۔

یعنی خدایا ہم خود کچھ نہیں ہیں۔ نہ ہماری کوئی حیثیت۔ نہ کوئی اوقات۔ نہ کوئی طاقت اور نہ قدرت۔ ہم ہیں تہی دست۔ کچھ پاس نہیں۔ پار لگنا ہے۔ محض تیری رحمت پر نظر ہے۔

جان رکھو: استعانت میں عبادت کے کچھ نفیس ترین معانی آتے ہیں۔ ابن تیمیہ کہتے ہیں: میں نے قرآن پر بہت غور کیا، اس سے اہم تر مقام کوئی نہ پایا: إیاک نعبد و إیاک نستعین۔ یعنی ’’ہم تیری ہی عبادت کریں اور تجھ ہی سے مدد مانگیں‘‘۔ پس اس سے اوپر کوئی بات نہیں کہ آدمی واحد خدا تعالیٰ کی عبادت کا دم بھرے اور اس پر طاقت اور قدرت پانے کےلیے بھی خود اُسی کی اِعانت کا سوالی ہو۔ گویا یہاں فقر کی انتہا ہو گئی۔ انسان اپنے ہر ملکہ سے دستبردار ہو گیا۔ بےشک اِس کی مانگ بہت بڑی ہے: خدا کی عبادت کرنا۔ خدا کو راضی کرنا۔ خدا کے تقاضے بر لانا۔ جبکہ یہ ہے تہی دامن۔ اتنی بڑی مراد یہ کہاں سے پوری کر لائے گا؟ کہتا ہے یہ بھی تجھ ہی سے مانگوں گا اور کیا ہے جو تیرے پاس سے نہیں ملتا۔ ہاں تو مدد کرے تو کیا ہے جو میں نہ کر پاؤں۔ نماز، زکات، جہاد، اقامتِ حق، خدا کے دشمنوں کو زیر و زبر کر ڈالنا، غرض عبادت اور اطاعتِ خداوندی کے یہ سب ابواب خدا کی مدد مانگ کر، اور اس کی نصرت و اِعانت پر بھروسہ کر کے اللہ کے فضل سے سب کیے جائیں گے۔ یعنی ویسے ہم کسی قابل نہیں مگر تیرا کرم اور عنایت ہو تو کوئی فرض اور کوئی مطلوب چھوٹنے والا نہیں۔ اور مانگنا تجھ سے ضرور ہے۔ پس دیکھ لو عبادت اور انکساری کے کتنے معانی اِسی ایک جملے میں آگئے۔

وَنَسْتَغْفِرُكَ

ہم تجھ سے بخشش مانگنے والے۔

وہ بہترین الفاظ جو خطا کے پتلے کو خدائے بےنیاز کے آگے کہنا زیب ہیں۔ ایسا تو کبھی ہو نہیں سکتا کہ انسان سے گناہ نہ ہو۔ خدا نے ہی اِس کی یہ سرشت نہیں بنائی۔ یہاں تک کہہ دیا کہ بالفرض اگر یہ اِس سرشت پر نہ رہے تو خدا بھی اِس کو یہاں نہ رہنے دے اور اس کی جگہ ایسی مخلوق لے آئے جو گناہ کر بیٹھے گی اور پھر اس پر خدا سے معافیاں مانگا کرے گی۔ بس یہی چیز بندے میں خدا کو بہت پسند ہے۔ اور جان رکھو: خدا کے سوا کوئی نہیں جو انسان سے گناہ کے اثر کو ختم کردے؛ پس خدا ہی وہ ذات ہے جس سے قصوروں کی بخشش مانگی جائے۔ یہ بخشش مانگنا پس انسان کے حق میں اپنی سرشت کا اعتراف بھی ہوا، خدا کی شانِ بےنیازی کا اقرار بھی، معاف نہ ہونے کی صورت میں اپنے برباد ہونے کی دُہائی بھی، کرم کے اصل محل کی پہچان بھی۔ اور ذلت کا اظہار بھی؛ یعنی یہ بندہ جوابدہ اور وہ آقا پکڑ لینے والا... اور یوں متعدد وجوہ سے توحید کا اِثبات۔ ذرا تصور کرو گناہ ایسی غلاظت اِس عمل کے نتیجے میں انسان سے دھل جائے! استغفار بلاشبہ ایسا ہی ایک مُصَفِّی detergent ہے جو برے سے برا داغ دھو کر رکھ دے۔ اور یہ تو تمہیں معلوم ہے وہ واحد چیز جو ابن آدم کو خدا کی قربت کے لائق نہیں رہنے دیتی وہ گناہوں کی گندگی ہے۔ اور یہاں وہ نسخہ ہے جو اُس کے اپنے ہی جناب سے آدم کو القاء ہوا: خدایا! اپنی جان پر ظلم کر بیٹھا، تو نے اگر معاف نہ کیا تو میں کہیں کا نہیں۔ بس اِس ربر سے ہر خطا مٹا دی جاتی ہے اور اِس لوح کا اُجلاپن دید کے لائق ہوتا جاتا ہے۔

خوب جان رکھو! استغفار کوئی ایسا عمل نہیں جو محض فاسقوں اور فاجروں کے کرنے کا ہو! بس یوں سمجھو، جتنا کوئی خدا کا عارف اتنا وہ خدا سے بخشش مانگنے والا۔ یہ خدا کو جاننے والوں کا توشہ ہے۔ نیکی اگر حقیقی ہو تو وہ تو خدا کے آگے تمہاری کمر دہری کروا دیتی ہے؛ تمہاری ہر خوبی تمہاری نظر سے روپوش ہو جاتی ہے اور نگاہ صرف اُس کی بخشش پر جا ٹکتی ہے۔ تو یہ وجہ ہے کہ دیکھنے والوں نے سیدالبشرﷺ کو ایک ہی مجلس میں سو سو بار سے اوپر استغفار کرتے ہوئے نوٹ کیا۔ بِاَبِی ھو وأمیﷺ۔

وَنُؤْمِنُ بِكَ

ہم تجھ پر ایمان رکھنے والے۔

خدا پر ایمان لانے اور اُس کی منادی کو لبیک کہنے کو ہی اُس کے آگے اپنا وسیلہ بنانا۔ ’بارِالٰہا دیکھ ہم تیرے ماننے والے ہیں‘، قرآن میں متعدد مقامات پر اس ایک ادا کو خدا کی رحمت کو آواز دینے کا مقدمہ اور ذریعہ بنایا گیا ہے۔  اور یہ قطعی طور پر ایسی بات ہے جسے بندے کی زبان سے سن کر خدا اس پر مہربان ہو جاتا اور اس کی مراد پوری کر دیتا ہے۔

وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ

ہم تیری خوب سے خوب تعریف کریں۔

جان رکھو: بندے کے پاس خدا کو دینے کےلیے کچھ نہیں سوائے اپنی تہی دامنی کے اظہار اور اُس کی شان اور تونگری کے اقرار کے۔ ہاں اُس مہربان کی یہ ایک سے بڑھ کر ایک تعریف کرتا ہے۔ جو اعلیٰ سے اعلیٰ الفاظ اِس کی لغت میں ہیں یہ انہیں اُس کےلیے خاص کرتا ہے۔ ولِلّهِ الْمَثَلُ الأعْلى وهو العزيز الحكيم۔ شکر اور ستائش کے سوا کچھ اُس کو پیش کرنے کےلیے اِس کے پاس نہیں۔

اور یہ بھی جان لو کہ دنیا کا ہر مذہب خدا کی تنقیص پر قائم ہے اگرچہ وہ خدا کی ستائش کا دعویدار کیوں نہ ہو، سوائے اسلام کے جوکہ انبیاء کا دین ہے اور مستند ذرائع سے انسانوں کے پاس پہنچا ہے۔ ہاں اسلام وہ واحد دین ہے جس کا الہیات کا سب بیان درحقیقت خدا کی شان اور خدا کے کمال کا بیان ہے۔ یہ وہ امت ہے جو کوئی ایک بھی ایسی بات زبان پر لانے کی نہیں جو خدا کے شایان نہ ہو۔ کسی گمراہ ملت کی کوئی بات جو وہ خدا کی بابت بولتی ہے، بامرمجبوری کبھی نقل کرنی ہی پڑے تو ’’العیاذ باللہ‘‘ یا ’’سبحانہٗ وتعالیٰ‘‘ ایسے الفاظ کئی کئی بار یہاں زبان سے بےساختہ نکل جاتے ہیں۔ خدا کی بابت تنقیص کی کوئی عبارت سن کر اِن کے جسم میں جھرجھری آ جاتی ہے۔ خدا کی بابت اچھے سے اچھے پیرائے جو انسانی لغت میں پائے جا سکتے ہوں وہ اِنہی کی زبان پر بستے ہیں۔ اُس کی ثناءخوانی سے برگزیدہ تر عمل اِن کے ہاں کوئی نہیں۔ خدا کا ایسا ادب کہیں ہے تو وہ اِس امتِ توحید کے ہاں۔ تو پھر کس کے پاس اس سے بڑھ کر کوئی وسیلہ اُس کے آگے پیش کرنے کو ہوگا! ایسی اعلیٰ چیز! یہ نہ پیش کریں تو کیا پیش کریں! اِس سے اوپر ہے کیا؟!

(وَنَشۡکُرُکَ) وَلَا نَكْفُرُكَ

اوپر ثناخوانی کی بات ہوئی۔ یہاں شکرگزاری کی۔ اور عبدیت کا بیان مکمل ہونے لگا۔ یعنی ایک طرف منعم کی تعریف میں رطب اللساں۔ دوسری طرف اُس کے احسان کے آگے دبے ہوئے۔

جان رکھو: بندگی اصل میں شکرگزاری ہے۔ عبادت کی حقیقت ہے: خدا کی ممنونیت۔ اس کی اصل ہے: اپنی حالتِ فقر کا ادراک؛ یعنی میرا اپنا تو کچھ ہے ہی نہیں۔ جو شخص نعمت پر اپنا حق جانے گا کبھی شکر نہ کرے گا۔ ہاں جو اِس کو اپنا حق نہ جانے وہ شکر سے کبھی سر نہ اٹھائے گا۔ جس کی نظر اپنے استحقاق پر گئی شکوہ اسی زبان پر آئے گا۔ پس عبدیت شکر ہوئی اور ناشکری کفر۔ تو خدایا ہم وہ نہیں جو تیرا کفران کریں۔ نعمتیں کرنا تو تیری صفت ہے؛ اور ان کا تو کوئی حدوحساب ہی نہیں۔ ہاں ہم وہ نہیں جو اِسے اپنا حق جانیں۔ ایک ایک نعمت میں ہماری نظر بس تیرے احسان پر اور تیرے احسان تک جاتی ہے۔ سو تیری شان کا یہ اعتراف اور اپنی ممنونیت کا یہ بیان، نیز اپنی وفا کا یہ اقرار تیرے حضور ہمارا ایک اور وسیلہ ہوا اور بجائےخود عبادت اور اظہارِ نیاز۔

وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ

لغت میں فجور یا فجر پھٹنے کو کہتے ہیں۔  فاجر اُس آدمی کو کہیں گے جسے خدا کی کوئی شرم نہ رہے۔ جو خدا کے سامنے بےباک ہو جائے اور معصیت کے کام کھلےعام کرتا پھرے۔

’’خلع‘‘ اتار دینے کو کہتے ہیں۔ یعنی جس شخص نے خدا کے آگے اپنی شرم اور اپنا باک ختم کر لیا ہے، ہم اس کی ہر حیثیت ختم کر دیتے ہیں۔ ’’ترک‘‘  کا مطلب ناطہ توڑ لینا۔ یعنی نہ صرف وہ ہمارے یہاں معزول و بےحیثیت ہے بلکہ ہمارا اس سے قطع تعلق ہے۔

یہ ہے خدا کےلیے اظہارِ وفاداری:  فُجار سے بیزاری۔ خدا کے دشمنوں سے دشمنی۔ جوکہ خدا کی دوستی اور ولایت پانے کا ایک باقاعدہ تقاضا ہے۔ یہاں عبادت محض پوجاپاٹ نہیں بلکہ یہ خدا کےلیے دوستی و دشمنی کرنے تک جاتی ہے۔ پانچویں صدی ہجری کے ایک حنبلی فقیہ ابوالوفاء ابن عقیلؒ  کا ایک قول مشہور ہے: ’’اگر کسی عہد میں تم دیکھنا چاہو کہ لوگوں کے ہاں اسلام کی فی الواقع کیا حیثیت ہے، تو وہاں مساجد کے دروازوں پر لگی بھیڑ کو مت دیکھنا، لبیک اللھم لبیک کہنے والوں کے شور پر بھی مت جانا، بلکہ دیکھنا یہ کہ شریعت کے دشمنوں سے ان کی نبھتی کیسی ہے۔ یہاں المعری اور ابن الراوندی (اپنے دور کے دو بڑے زندیق) برسوں شعر و نثر میں کفر بکتے رہے، پھر بھی ان کی قبروں کا احترام ہوتا اور ان کی تصانیف کی مانگ برقرار رہی۔ یہ دلیل ہے تو اس بات پر کہ قلوب میں دین (کی چنگاری) سرد ہو چکی‘‘ الآداب الشرعية والمنح المرعية، لابن مفلح ج 1 ص 237۔ (ابن عقیل آج کی لبرل زبانوں کو سنتے تو ہمارے دور کے ’صالحین‘ کی بابت کیا کہتے!)  پس خدا کےلیے غیرت اور حمیت رکھنا خدا کی محبت پانے کےلیے باقاعدہ ایک وسیلہ ہے جسے اِس دعاء میں خدا کے آگے پیش کیا گیا ہے۔ تعجب کرو تو ان نمازیوں پر جو روزانہ رات کو وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ کا وِرد کر کے سوتے ہیں لیکن ان کا  دن خدا کے نافرمانوں کے ہاں تقرب پانے میں صرف ہوتا ہے اور جن کی زندگی شریعت کو پس پشت ڈال رکھنے والوں کو منتخب کرانے اور اونچے اونچے عہدوں پر پہنچانے میں گزرتی ہے!

اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي، وَنَسْجُدُ،

خدایا ہم تیرے سوا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے نہیں۔ تیرے سوا کسی کےآگے جھکنے والے نہیں۔ کسی کے آگے اظہارِ ذلت کرنے والے نہیں۔ تیرے سوا کسی کی عبادت کا دم نہیں بھرتے۔ ’’وفا‘‘ کا اظہار اب یہ صورت دھارتا ہے: خدا کو پلٹ پلٹ کر یہ بتانا کہ ہم تیرے ہیں۔ عبادت اور بندگی پر ہر کسی کے حق کی نفی کرتے ہیں اور اسے تیرے لیے خاص کرتے ہیں۔ مومن اس بات کو خدا کے آگے اپنا وسیلہ بنانے میں ایک خاص لذت محسوس کرتا ہے۔

وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ،

’’سعی‘‘ کسی کی طرف دوڑ لگانے کو کہتے ہیں۔ ’’حفد‘‘ کا مطلب تیز تیز قدم اٹھانا، بھاگے چلے آنا۔ ابن قتیبہ کہتے ہیں: ’’حَفَدۃ‘‘ کا لفظ اُن خادموں اور کنیزوں پر بولا جاتا ہے جو مالک کا اشارہ پاتے ہی بھاگے چلے آتے ہیں۔ غریب الحدیث لابن قتیبۃ ج 1 ص 170۔  یعنی ہرکارے۔ سیوا میں لگے ہوئے۔ گویا نسعىٰ وہ بھاگنا جو اپنی ضرورت کو ہو۔ اور نحفِد وہ بھاگنا جو مالک کی طلب پر ہو۔ یہ دونوں تصویریں ایک ہی عمل کی ہوئیں اور وہ ہے بندگی، خدا کے راستے میں دوڑ دھوپ۔ جو ہماری اپنی تڑپ بھی ہے اور خود مالک کی مانگ بھی۔ اور یہ خوش نصیبی کی انتہا ہے کہ: یہ عبادت اندر سے اٹھنے والی صدا بھی ہو اور عرش سے آنے والی ندا بھی؛ (نورٌ علیٰ نور) اور یہی اِس عمل کا نقطۂ توازن! پس یہ عبدیت کا ایک بےساختہ بیان ہوا اور قربت کا ایک دلگیر وسیلہ۔

وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ،

خدا کی رحمت کی امید اور خدا کے عذاب کا خوف، عبادت کی اصل حقیقت ہے۔ سو اختتامِ دعاء پر وہ پوری حقیقت زبان پر آگئی۔ رحمت پر یوں نظر کہ آدمی کا کوئی اور سہارا ہی نہیں۔ اور عذاب سے یوں سہما ہوا کہ یہ اس کی زد میں آیا کہ آیا۔ پیچھے خدا کی طرف بھاگنے کا ذکر ہوا۔ اب اس بھاگنے کا وصف بیان ہوا: ایک قدم طمع اور امید میں۔ دوسرا قدم خوف اور ہیبت سے۔ نفسِ انسانی کا اس حالت میں خدا کی طرف بھاگنا اور لپکنا عبادت کہلاتا ہے۔ اپنے خوف اور امید کا یہ بیان ہی خدا کے عذاب سے اُس کی پناہ میں آنے اور اس کی رحمت کی درخواست منہ پر لانے کا ایک پیرایہ بنا۔

إِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ

خدایا تیرا عذاب ایک خوفناک حقیقت ہے؛ کوئی مذاق نہیں۔ یہاں تو زمین آسمان اور پہاڑ تھرتھر کانپتے ہیں؛ ہم کس باغ کی مولی۔ ہم تو تیری بندگی کے حصار میں  پناہ پانے آ گئے  اور بس تیرے آسرے پر جیتے ہیں۔ حیرت ہے تو ان نڈر جاہلوں پر جو تیرے ساتھ کفر کرنے اور تیری کتابوں کو جھٹلانے، تیرے نبیوں کو رد کرنے اور تیرے احکام اور قوانین کو ٹھکرانے پر آمادہ ہیں۔ خدایا ہم تو تیرے اُس عذاب سے خائف ہوئے جو ایسے دیدہ دلیروں کو چھوڑنے والا نہیں۔ خدایا ہم تو تیری وعید سے بہت ڈرتے ہیں پس ہم پر تو تُو مہربانی ہی فرما؛ ہم تو تیرا عذاب نہیں سہنے کے۔ یعنی خدا سے ڈرنا اور اِس ڈر کا اُس کے آگے ذکر کرنا بھی آدمی کا ایک وسیلہ ہوا۔

تیسری دعاء:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ من سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنۡ عُقُوبَتِك، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ

استعاذۃ بجائےخود عبادت ہے۔ یعنی اسباب سے بالاتر قوت کی مالک ہستی کی پناہ میں آنا، اپنے آپ کو اُس کی حفاظت میں دینا، اُس کی حفاظت مل جانے کو اپنے بچاؤ کی ضمانت جاننا۔ یہ دراصل اُس کی قوت اور اقتدار کی دھاک ماننا ہے کہ اُس کے پناہ یافتہ کا دنیا کی کوئی قوت بال بیکا نہیں کر سکتی اور اُس کے تحفظ میں اِس کا انگ انگ سلامت ہے۔ یہاں دنیا میں تم دیکھو گے، چھوٹےچھوٹے سردار اور وڈیرے کسی کو پناہ دینے میں ایک بڑائی پاتے ہیں۔ یہ اپنے لیے باعثِ عار جانتے ہیں کہ اِن کے کسی کو پناہ دے دینے کے بعد کوئی اس کا بال بیکا کر جائے۔ پس کسی کو پناہ دینا بڑائی کا ایک عظیم مظہر ہے۔ اِس کے اندر ایک ایسی تعظیم ہے جو کسی دوسری بات میں نہیں۔

نیز یہ کسی ہستی کے آگے اپنی ذلت اور بےچارگی کا اظہار ہے؛ کیونکہ بےچارگی نہ ہوتی تو کسی کی پناہ میں جانے کا سوال نہ اٹھتا۔

تو یہ ہوا آغاز اِس دعاء کا: عبادت بصورتِ استعاذۃ۔

آگے خدا کی صفات و افعال کا ذکر ہے... اور اس سے آگے چل کر خدا کی ذات کا۔

بِرِضَاكَ من سَخَطِكَ

ذرا اس شادیِ مرگ کا اندازہ کرو جب خدا کسی سے راضی ہو جائے! یہاں چھوٹےچھوٹے افسروں کے چہرے پر خیرمقدمی مسرت پاکر آدمی خوشی سے بےحال ہوتا ہے۔ بادشاہوں کی ایک خوش دل مسکراہٹ پانے کے برسوں خواب دیکھے اور ہزاروں جتن کیے جاتے ہیں۔ اور اگر کبھی یہ خواب پورا ہو تو خوشی کی تاب لانا مشکل ہوتا ہے۔ تصور کرو، کائنات کا بادشاہ جہانِ خلد میں کسی پر راضی ہو جائے!

اور اب ذرا اندازہ کرو، کائنات کا بادشاہ جہانِ ابد میں کسی پر ناراض ہو۔ آسمان اس پر گر پڑے، یا زمین اس کے تلے شق ہو جائے، یہ اس کےلیے چھوٹا واقعہ ہوگا بہ نسبت اس کے کہ پروردگارِ عالم کے غضب کا سامنا ہو۔ کون ہے جو اس سے پناہ نہ چاہے!

اب چونکہ یہ انبیاء کا متبع اور خدا کا عارف ہے تو یہاں یہ دو کام کرتا ہے:

o        یہ اُسے بروقت آواز دے لیتا ہے۔ آج جب اِس کی سنی جاتی ہے۔ کل جب یہ خدا کے قہر اور عقوبت کو اپنے سامنے ہی دیکھ لے تو اُس سے بھاگنا محال ہو گا۔ یہ سب کہانی تو مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ کے گرد گھومتی ہے۔ یعنی انبیاء کے بتائے پر بھروسہ۔

o        یہ خدا کی ناراضی سے بھاگا تو سیدھا اُس کی رضا کی طرف۔ اور اس کے پہلو میں جاچھپا۔ جانتا ہے، پناہ کہیں اور نہیں۔ خدا سے ڈرو تو خدا ہی کی طرف بھاگو۔ اُس کے سوا کہیں ادھرادھر مت دیکھو۔ یہاں کوئی ہے ہی نہیں جو اُس کے آگے کام آئے۔

یہ ہوا استعاذہ: عبادت بھی حفاظت بھی۔ اُس سے فریاد کرنا اور اُس کے ہاں پناہ پانا ہی اُس کو پوجنا ہوا!

وَبِمُعَافَاتِكَ مِنۡ عُقُوبَتِك

معافاۃ کا مطلب: جا چھوڑ دیا۔ چلو معاف کیا۔ درگزر۔

اس لفظ کی لذت وہی جانے جو اُس لمحے کا تصور کر سکے: روزِقیامت آدمی جب خدا کے سامنے کھڑا تھرتھر کانپتا ہو کہ کیا معلوم فیصلہ آج کیا ہو، کہ اُدھر سے ارشاد ہو: جاؤ بخش دیا! یقین کرو، تمہاری زندگی میں اس سے بڑا کوئی واقعہ نہ ہوگا۔

عقوبت کا مطلب سزا۔ پاداش۔

تو یہ خدا کا عارف خدا کی عقوبت سے آج ہی ڈر گیا اور اس سے ڈر کر خدا کی معافاۃ میں پناہ ڈھونڈنے لگا۔ یہاں اِس کو اگر جگہ مل گئی تو سوچو کون اِسے پکڑ سکتا ہے!

اوپر خدا کی خفگی اور رضا کا ذکر ہوا۔ نیز خدا کی عقوبت اور درگزر کا تذکرہ ہوا۔ علماء نے کہا: ان میں سے ایک ایک بات کے موجبات ہیں۔ یعنی کچھ مخصوص اشیاء خدا کی خفگی کا موجب ہوں گی تو کچھ مخصوص اشیاء اس کے مقابلے پر خدا کی رضا کا موجب۔ یہی معاملہ خدا کی عقوبت اور خدا کے درگزر کا ہے۔ پس کسی چیز سے بھاگنے کا مطلب خود اس سے ڈرنا بھی ہوگا تو اس کے موجبات سے بھاگنا بھی۔ دوسری جانب کسی چیز میں پناہ لینے کا مطلب اس میں رغبت اور اس میں اپنے لیے سہارا تلاش کرنا بھی ہوگا تو خود اس کے موجبات کی طرف لپکنا بھی۔ گویا یہاں آدمی خدا کی خفگی اور عقوبت کے اسباب سے بچنے کی بھی دعاء کرتا ہے اور خدا کی رضا اور معافاۃ کا ذریعہ بننے والے سب امور کے حصول کےلیے بھی دعاگو ہوتا ہے۔

مناوی﷫ کہتے ہیں: پہلے مالک کی رضا میں پناہ لی۔ پھر اُس کی معافاۃ میں۔ اِس احتمال کے تحت کہ خود اپنے حق کے معاملہ میں وہ اِس سے راضی ہو بھی تو کسی دوسرے کے حق پر اِس کو نہ پکڑ لے۔ لہٰذاایک بار رضا کی اوٹ لی اور ایک بار معافاۃ کی۔  (التیسیر بشرح الجامع الصغیر ج 1 ص 220)

وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ،

ابن جوزی﷫ کہتے ہیں: پیچھے خدا کی اُن صفات یا اُن افعال کا ذکر ہوا جو ایک دوسرے کے مقابلے پر ہیں: یعنی خفگی کے مقابلے پر رضا۔ عقوبت کے مقابلے پر معافاۃ۔ ظاہر ہے ایسے امور کی فہرست طویل ہے۔ لہٰذا اختصار کر دیا گیا اور سیدھا یہی کہہ دیا گیا کہ خدایا تیری پناہ تجھی سے۔ مراد یہ کہ تیرے یہاں سے صادر ہونے والے وہ سب افعال جن سے میں ڈرتا اور ہول کھاتا ہوں اُن سے میں آج ہی بھاگ کر تیری پناہ میں آتا ہوں اور تیرے ہاں سے صادر ہونے والے اُن امور کو اپنی ڈھال بناتا ہوں جو میرے لیے سہارے اور امید کا درجہ رکھتے ہیں۔                                  (المشکل مِن حدیث الصحیحین مؤلفہ ابن جوزی ج 4 ص 398)

لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ

ابن عبدالبرؒ شرحِ حدیث کے تحت امام مالک﷫ کا قول لاتے ہیں: میں نہ تیری نعمتوں کا شمار کر پاؤں۔ نہ تیرے کرم کی وسعت کا اندازہ اور نہ ان اشیاء کے بیان سے کبھی تیری تعریف کا حق ہی ادا کر پاؤں، چاہے تیری ثناء کرنے میں اپنا پورا زور کیوں نہ صرف کر لوں۔ نیز کہتے ہیں: { أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ’’تو جیسے اپنی تعریف خود کرے‘‘} دلیل ہوئی اس بات پر کہ کوئی تعریف کرنے والا اُس تعریف کو نہیں پہنچ سکتا جو خدا اپنی بابت خود فرمائے۔ پس جو شخص خدا کا ایسا وصف کرے جو خدا نے اپنی بابت خود نہیں بولا تو وہ خدا کی بابت بغیر علم بولا، جس سے بڑا ظلم کوئی نہیں۔ جبکہ اُس ذاتِ کبریاء کی بابت ہمیں معلوم ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ’’کوئی اس کی مثل نہیں‘‘۔ یہاں اندازے کیا کریں گے؛ اُس کا وصف کرنے کےلیے تو خود اُسی کے پاس سے آیا ہوا علم درکار ہے۔ (الاستذکار مؤلفہ ابن عبدالبر ج 2 ص 531)

نووی﷫ شرحِ حدیث میں کہتے ہیں: یعنی میں اپنی بےبسی کا اعتراف کرتا ہوں کہ تیری تعریف کا حق ادا کروں۔ ہو بھی کیسے جب صفاتِ خداوندی کی کوئی انتہاء نہیں۔ ثناء تو اُس کی صفت کو جاننے کے تابع ہوئی۔ جب ایک ہی صفت کا احاطہ نہ ہو، پھر اُس کی صفات کا بھی کوئی شمار نہ ہو، تو ثناء کیسے ہو۔                                                      (شرح مسلم ج 4 ص 204)

سیوطیؒ فضیل بن عیاض﷫ کا قول لاتے ہیں: یہاں خدا کے عارف کی بس ہو گئی۔ جیسے ہی اِس کی نظر اُس کی صفاتِ جلال، اُس کے کمالِ ذات، اُس کی صمدیت، قدوسیت، عظمت، کبریاء اور جبروت پر پڑی، خیرہ ہو کر رہ گئی، اور یہ لگا بےبسی میں کہنے: میں تیری تعریف کیا کروں تو خود ہی اپنی جو تعریف فرما دے۔ دراصل یہ وہ مقام ہے جہاں اِس کی عقل، فکر، ادراک، دانائی سب جواب دے گئی اور اِس نے اُس کی تعریف سے اپنے عاجز ہونے کو ہی اُس کی تعریف کا پیرایہ بنا لیا۔ انسان کے حق میں درحقیقت یہ علم کی انتہا ہے۔ صدیقِ اکبر کا ایک قول ہے: ادراک سے عاجز ہونے کا ادراک ہی اصل ادراک ہے۔ سیوطیؒ یہاں ابن اثیر﷫ کا کلام بھی نقل کرتے ہیں:  پہلے اِس کی نظر افعال و صفاتِ خداوندی پر گئی یعنی اُس کا عقوبت دینا، اُس کا درگزر فرمانا، اُس کا قہر اور اُس کی رضا۔ ذرا اور قریب ہوا تو صفات سے ذات پر چلا گیا، تب بولا: أَعُوذُ بِكَ مِنْكَ۔ اس قرب میں سوائے ثناء کے کچھ نہ سوجھا مگر خیال آیا کہ میرا تو دامن خالی ہے کہاں میں اور کہاں تیری ثناء، تب بولا لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ ۔ لیکن پھر دیکھا کہ اُس کی ثناء میں کچھ تو کہنا ہے، تو بولا: أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ۔ یوں کچھ بھی نہ کہا اور سب کچھ کہہ گیا!             (حاشیۃ السیوطی علىٰ سنن النسائی ج 1 ص 103)

ملا علی قاری﷫ کہتے ہیں: یہاں چند افعال یا صفات جمالِ خداوندی کی بیان ہوئیں جیسے رضا اور معافاۃ۔ اور چند افعال یا صفات جلالِ خداوندی کی، جیسے قہر اور عقوبت۔ اور آخر ذاتِ خداوندی ہی کی پناہ لے لی۔ یہ دراصل وہی مضمون ہے جو قرآن میں اِن الفاظ کے تحت بیان ہوا: فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ’’تو بھاگ پڑو اللہ کی طرف‘‘۔ نیز وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ’’اور اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے‘‘۔ نیز وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا ’’سب سے کٹ کر اُسی کے ہو رہو‘‘۔ یعنی تمہاری نظر سے اُس کے سوا سب کچھ روپوش ہو گیا ہو اور بس تم اُس کے سہارے جینے لگو۔ غالباً یہ وہ راز ہے کہ توحید کا یہ مضمون (مقامِ فردیت) صلاۃِ وتر (جس میں یکتائی کا ایک معنىٰ ہے) کے آخر میں لایا گیا۔ اِس دعاء میں توحیدِ افعال بھی ہے، توحیدِ صفات بھی اور توحید ذات بھی۔                                      (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح ج 3 ص 952)

*****

رمضان سے متعلق سلف کا ایک معمول ذکر کرتے چلیں:

مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ؛ أَنَّهُ سَمِعَ الْأَعْرَجَ يَقُولُ: مَا أَدْرَكْتُ النَّاسَ إِلاَّ وَهُمْ يَلْعَنُونَ الْكَفَرَةَ فِي رَمَضَانَ.  (الموطأ رقم 381، باب ما جاء فی قیام رمضان)

(امام) مالک بروایت داود بن الحصین، کہا: میں نے سنا الاعرج کو کہتے ہوئے: میں نے ہوش سنبھالا تو لوگوں کو رمضان میں کافروں پر لعن کرتے ہوئے ہی پایا۔

اس اثر کے تحت موطأ کے مشہور شارح الباجیؒ لکھتے ہیں:

يُرِيدُ بِالنَّاسِ الصَّحَابَةَ وَمَعْنَى ذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقْنُتُونَ فِي رَمَضَانَ بِلَعْنِ الْكَفَرَةِ وَمَحَلُّ قُنُوتِهِمْ الْوِتْرُ               (المنتقىٰ شرح الموطأ، ج 1 ص 210)

’’لوگوں‘‘ سے مراد ہے: صحابہؓ۔ معنیٰ یہ کہ وہ لوگ رمضان کے دوران قنوت میں کافروں پر لعن کرتے تھے۔ اور اُن کے اِس قنوت کا محل وتر ہوتا۔

نیز اہل ایمان کےلیے دعائے مغفرت۔ اور رسول اللہﷺ پر درود و سلام۔

اِس سلسلہ میں صحابہ سے جو صیغہ مروی ہوا وہ یہ ہے:

وَكَانُوا يَلْعَنُونَ الْكَفَرَةَ فِي النِّصْفِ: اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَلَا يُؤْمِنُونَ بِوَعْدِكَ، وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ، وَأَلْقِ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، إِلَهَ الْحَقِّ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَدْعُو لِلْمُسْلِمِينَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ خَيْرٍ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ (صحیح ابن خزیمۃ رقم 1100، استشھد بہ الألبانی فی "قيام رمضان" ص 32)

ان (صحابہ) کا دستور تھا: آدھا رمضان گزر جانے کے بعد وہ کافروں پر لعن کرتے: ’’اے اللہ کافروں کو مار، جو تیرے راستے سے روکتے ہیں، تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں، تیرے وعدووعید پر یقین نہیں رکھتے۔ خدایا ان کی وحدت کو پارہ پارہ کر۔ ان کے دلوں میں رعب بٹھا دے۔ ان پر اپنی سزا اور عذاب نازل فرما۔ اے الٰہِ برحق‘‘۔ اس کے بعد (امام) نبیﷺ پر درود بھیجتا، مسلمانوں کےلیے مقدور بھر دعائےخیر کرتا۔ پھر اہل ایمان کےلیے استغفار کرتا۔

اختتامِ دعاء پر، شیخ البانی اپنی کتاب صفۃ صلاۃ النبیؐ میں اس بات کو ثابت مانتے ہیں کہ دورِ عمرؓ کے بعض ائمۂ تراویح رسول اللہﷺ پر درود بھی بھیجا کرتے تھے۔ اِس ضمن میں وہ ابوحلیمہ معاذ القاریؓ (ایک چھوٹی عمر کے صحابی جنہیں حضرت عمرؓ نے تراویح کا امام بنایا تھا) نیز اُبی بن کعبؓ  کا نام لیتے ہیں۔ (أصل صفۃ صلاۃ النبی ص 975)۔ پس اصحابِ رسول اللہﷺ سے اِس کا ثبوت ہونے کے باعث، اس کو بدعت کہنا درست نہ ہو گا۔

ختم شد[ii]

وصلى اللہ على النبی وآلہ۔



[i]   فقہ حنبلی کی مشہور کتاب زاد المستقنع فی اختصار المقنع۔ اس کے کئی شارح ہیں۔ یہاں اس کے ایک شارح احمد بن محمد بن حسن بن ابراھیم الخلیل کی شرح سے ہم نے یہاں کچھ استفادہ کیا ہے۔ یہ کتاب شرح الخلیل کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔

[ii]   نوٹ کر لیا جائے: ائمۂ سنت کے جو اقوال یہاں بیان ہوئے، یہ ہمارے اپنے الفاظ میں ان کا مفہوم ہے۔ لفظی یا بامحاورہ ترجمہ کی پابندی نہیں کی گئی۔



[i]   إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، ج 2 ص 171.  "قيام الليل" ص 32. مؤلفھما الألباني

[ii]   فقہ حنبلی کی کتب میں یہ دعاء قنوتِ وتر ہی کی دعاؤں میں مذکور ہوئی ہے (مثلاً دیکھئے  المحرر فی الفقہ علىٰ مذھب الإمام أحمد بن حنبل ج 1 ص 89،  نیز  الإقناع فی مذھب الإمام احمد بن حنبل ج 1 ص 145)۔ تاہم احناف کے ہاں اس کا محل وتر کی نماز ختم کرنے پر ہے (دیکھئے  مرقاۃ المفاتیح ج 3 ص 952

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
اناڑی ہاتھ درایت
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
ابن عباس : تفسیر قرآن چار پہلوؤں سے
مشكوة وحى- علوم قرآن
حامد كمال الدين
22 ابن عباس﷠: تفسیر قرآن چار پہلوؤں ۔۔۔
غصہ مت کرو
مشكوة وحى-
مریم عزیز
17 حدیثِ نبوی ’’غصہ مت کرو‘‘ ار۔۔۔
اللہ کے کلام سے۔ اپریل 2014
مشكوة وحى-
ادارہ
إنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَ۔۔۔
قنوتِ وتر۔ مسنون دعاؤں کے متن
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
قنوتِ وتر مسنون دعاؤں کے متن ترتیب: حامد کمال الدین نوٹ: دعاء یا اس کے ترجمہ میں جس جملے کی شرح ۔۔۔
قنوت میں دشمنان دین پر تبرا، اہل دین کےلیے دعائےخیر اور نبیﷺ پر درود
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 23 رمضانی قنوتِ وتر میں دشمنانِ دین پر تبرا، اہل دین کےلیے د۔۔۔
لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ (شرح قنوت 22
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 22 لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَل۔۔۔
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ (شرح قنوت 21
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 21 وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ "میں تیری پناہ میں آتا ہوں تجھ ۔۔۔
وَبِمُعَافَاتِكَ مِنۡ عُقُوبَتِك (شرح قنوت 20
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 20 وَبِمُعَافَاتِكَ مِنۡ عُقُوبَتِك "تیرے درگزر کی پناہ ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ