عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, May 19,2019 | 1440, رَمَضان 13
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-06 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
تفسیر نہیں، تدبر!
:عنوان

تدبر ایک غایت ہے۔ جبکہ تفسیر ایک ذریعہ۔ یعنی تفسیر کا مقصد ہے کہ وہ آپ کو قرآن مجید میں موجود علم اور عمل تک پہنچائے۔ جبکہ تدبر بذاتِ خود اُس ’’عمل‘‘ میں آتا ہے جو تفسیر سے مقصود ہے۔

. رقائق :کیٹیگری
ابن علی :مصنف

تفسیر نہیں، تدبر!

ابن علی

ایک ہے قرآنِ مجید کی تفسیر۔ ایک ہے قرآنِ مجید پر تدبر۔ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ’’تفسیری عمل‘‘ آپ ایک ہی بار کرتے ہیں۔ یا اپنے علم کو تازہ کرنے کےلیے کبھی کبھار اس کو دہرا لیتے ہیں۔ لیکن ’’تدبر‘‘ آپ بار بار کرتے ہیں۔ یہ عمل ہر لحظہ جاری رہتا ہے۔ زیادہ لوگ ’’تفسیر‘‘ اور ’’تدبر‘‘ کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں؛ ظاہر ہے ان حضرات کے ہاں ’’تدبر‘‘ کی نوبت کم ہی آئے گی اور یہ کچھ علمی نکات وغیرہ میں گم رہنا ہی کل کام جانیں گے۔

تفسیر اور تدبر میں کیا فرق ہے؟ قرآنی علوم کے ماہر ڈاکٹر محمد الربیعہ اس کے تحت مندرجہ ذیل نکات بیان کرتے ہیں:

1۔           تفسیر کا مطلب ہے آیت کے معنیٰ کو کھولنا۔ جبکہ تدبر کا عمل اس کے بعد شروع ہوتا ہے، یعنی آیت میں جو بات کہی گئی اس کے مقصود پر غور کرنا۔ اس میں جن اشیاء کی جانب اشارے ہوئے ہیں ان کا اندازہ کرنا۔ ان پر یقین پیدا کرنا اور ان کو دل میں اتارنا۔

2۔           تفسیر میں آپ کی غرض آیت کا معنیٰ جاننے سے ہوتی ہے۔ جبکہ تدبر کی غرض اس معنیٰ سے فائدہ لینا، اس پر ایمان کی صورت میں، عمل اور سلوک کی صورت میں۔

3۔           تدبر کا حکم سب لوگوں کو ہوا ہے۔ کہ وہ قرآن سے ہدایت اور فائدہ لیں۔ یہ وجہ ہے کہ ابتداءً  کفار کو یہ بات کہی گئی کہ آخر وہ قرآن مجید میں تدبر کیوں نہیں کرتے۔ تدبر میں لوگ درجہ بدرجہ تقسیم ہوں گے تو اس کی بنیاد یہ ہوگی کہ کسی شخص میں علم کے ساتھ ساتھ کلام سے ’’اثر لینے‘‘ کی قوت کتنی ہے اور کلام کے ساتھ اس کا تفاعل interaction  کس درجہ کا ہے۔ جبکہ تفسیر میں لوگوں کی درجہ بندی اس بنیاد پر ہوگی کہ اس کی علمی استعداد کیسی ہے۔ نیز اس کو قرآن کے معانی جاننے کی ضرورت کس درجہ کی ہے۔ ابن عباس﷛ نے تفسیر کے چار درجے بتائے ہیں: ایک تفسیر کا وہ پہلو جس میں کسی شخص کا کوئی عذر نہیں (یعنی وہ سب کو سمجھ آتی ہے؛ ’’تدبر‘‘ کا بھی سب سے زیادہ تعلق قرآن کے اسی حصے سے ہے؛ یہی چیز نصیحت لینے سے متعلق ہے؛ اور یہ چیز کافروں سے بھی مطلوب تھی، ظاہر ہے کافروں کو ان آیات کی تفسیر موقع پر کرکے نہیں دی جاتی تھی؛ وجہ یہی کہ یہ قرآنی کلام کا وہ پہلو ہے جو ہر کسی کو سمجھ آتا ہے)۔ تفسیر کا ایک پہلو وہ جسے پانے کےلیے عربی زبان کے دقائق معلوم ہونا ضروری ہیں۔ ایک تفسیر وہ جو علماء ہی کے کرنے کی ہے (خواہ عربی آپ کو کتنی ہی آتی ہو؛ یہ چیز آپ کو مدرسۂ صحابہ سے ہی ملے گی)۔ پھر ایک تفسیر وہ جو صرف اللہ کو معلوم ہے۔

4۔           تدبر کےلیے شرط کوئی نہیں۔ ہر کسی کو یہ کرنا ہے۔ ہاں جس آیت پر تدبر کرنا ہو اس کا معنیٰ پہلے سمجھ لینا چاہئے۔ نیز قصد و ارادہ کا خالص ہونا ضروری ہے۔ تبھی فرمایا: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآَنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ’’یقیناً ہم نے قرآن کو آسان کر رکھا ہے؛ تو کیا ہے کوئی جو اس سے نصیحت لے‘‘۔ البتہ مفسر ہونے کےلیے باقاعدہ شروط ہیں، کیونکہ تفسیر خدا پر ایک بات کرنے کے مترادف ہے، لہٰذا وہ ہر کسی کے کرنے کی نہیں۔ یہ وجہ ہے کہ سلف قرآن کی تفسیر میں بات کرنے سے بہت بچتے تھے کہ یہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل علم کے ہاں کہا جاتا ہے: تدبر کے معاملہ میں آدمی کا کوئی عذر نہیں۔ ہاں تفسیر کے معاملہ میں اس کا عذر ہے۔

5۔           تدبر ایک غایت ہے۔ جبکہ تفسیر ایک ذریعہ۔ یعنی تفسیر کا مقصد ہے کہ وہ آپ کو قرآن مجید میں موجود علم اور عمل تک پہنچائے۔ جبکہ تدبر بذاتِ خود اُس ’’عمل‘‘ میں آتا ہے جو تفسیر سے مقصود ہے۔

مفهوم التدبرفي ضوء القرآن والسنة وأقوال السلف وأحوالهم

http://almoslim.net/spfiles/tadabbur/paper4.htm 

ابن قیم فرماتے ہیں:

وتدبر الْكَلَام ان ينظر فِي اوله وَآخره ثمَّ يُعِيد نظره مره بعد مرّة وَلِهَذَا جَاءَ على بِنَاء التفعل (مفتاح دار السعادۃ: 1: 183)

کلام پر تدبر کا مطلب ہے: اس کے اول و آخر کو بنظر غائر دیکھنا اور پھر بار بار اس میں نظر دوڑانا۔ یہ وجہ ہے کہ یہ باب تفعُّل سے بنا ہے (یعنی اس میں کوشش اور تکرار کو دخل ہے)۔

مراکش کے ایک عالم شیخ فرید الانصاری﷫ کہتے ہیں: تدبر دراصل ما بعد تفسیر ایک عمل ہے۔ آدمی کو جتنا سا سمجھ آیا ہو اس پر اسے خوب غور و خوض کرنا ہوتا ہے۔ یہ چیز ایک عالم سے بھی مطلوب ہے، ایک انجینئر سے بھی، ڈاکٹر سے بھی، پروفیسر سے بھی، کسان سے بھی، مزدور سے بھی، لوہار سے بھی، ترکھان سے بھی اور تاجر سے۔ بلکہ قرآن کی بابت یہ مطالبہ تو ایک کافر تک کے آگے رکھا جاتا ہے خواہ وہ کوئی انگریز ہو یا فرانسیسی یا چینی؛ اور اس کےلیے انگریزی یا فرانسیسی یا چینی میں ترجمۂ قرآن  کا سہارا لیا جاتا ہے۔ رہ گئی تفسیر تو وہ صرف علماء کا کام ہے۔

قرآن مجید میں تدبر اور تفکر قریب قریب ایک ہی معنیٰ میں آتے ہیں؛ گو یہ کلی طور پر مترادف نہیں۔ تفکر خاصی حد تک ایک عقلی عمل ہے؛ اور قرآنِ مجید کے معاملہ میں بلاشبہ آدمی سے مطلوب ہے۔ البتہ تدبر میں وجدانی پہلو بھی آجاتے ہیں۔ قرآن مجید کی ایک اور اصطلاح ’’تذکّر‘‘ بھی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو تفکر اور تدبر کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے مرکزی و بنیادی مضمون اس قدر سادہ ہیں کہ ان کےلیے کسی لمبے چوڑے بیان اور تفسیر کی ضرورت نہیں۔ قرآن مجید سے نصیحت لینا اور سمجھ اور شعور کی غذا لینا کسی طویل و عریض عمل پر موقوف نہیں۔ قرآنِ مجید کے اپنے بقول اس کےلیے ایک زندہ و بیدار دل ہونا چاہئے اور ایک توجہ کے ساتھ سننے والے کان:

فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ          (ق: 37)

جو شخص دلِ (آگاہ) رکھتا ہے یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لئے اس میں نصیحت ہے۔

قرآنِ مجید اور نبیﷺ کی دعوت پر غور وفکر کا مطالبہ دیکھئے کس طرح کفار کے سامنے رکھا جاتا ہے:

قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلاَّ نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ! (سبأ: 46)

اے نبیؐ، اِن سے کہو کہ "میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جنون کی ہو؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے"۔

اس موضوع پر ابن قیم﷫ نے مفتاح دار السعادۃ میں بہت خوبصورت کلام کر رکھا ہے۔ اسی سے متصل؛ شیخ فرید الانصاریؒ اور محمد بن عبد اللہ الربیعہ﷿ نے اپنی تصانیف میں اس موضوع پر جو لکھا، اس سے ہم سنت اور سلف کے یہاں تفکر اور تدبر کے کچھ نمونے ملاحظہ کر سکتے ہیں:

ü        سنن نسائی و ابن ماجہ میں حضرت ابو ذر غفاری﷛ سے روایت آتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے رات کا قیام فرمایا تو صبح تک ایک ہی آیت پڑھتے چلے گئے: إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ  ’’اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں۔ اور اگر تو ان کو معاف کرے تو تو ہی زبردست اور دانا ہے‘‘۔

ü        ابن ابی ملیکہ﷫ کہتے ہیں: مجھے مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے ابن عباس﷛ کی صحبت کا موقع ملا۔ جب آدھی رات گزر جاتی تو قیام شروع کردیتے۔ ان سے پوچھا گیا: تو ابن عباسؓ کی قراءت کیسی تھی؟ بولے: آپؓ نے وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ والی آیت پڑھی۔ بس پھر کیا تھا۔ آپؓ رک رک کر پڑھتے جاتے اور روتے جاتے۔ رونے کی آواز سینے میں گھٹی جاتی اور یوں گہری آواز آتی جیسے چولہے پر چڑھی ہنڈیا کے کھولنے کی آواز ہوتی ہے۔

ü        عباد بن حمزہ﷫ سے روایت ہے، کہا میں (اپنی پردادی) اسماء بنت ابی بکر﷠ کے ہاں داخل ہوا جبکہ وہ یہ آیت پڑھ رہی تھیں  فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ ’’تب اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں جھلسنے کے عذاب سے بچا لیا‘‘۔ میں ان (اسماء﷞) کے پاس کھڑا ہو گیاجبکہ وہ (اس سے) خدا کی پناہ مانگتی اور دعاء کرتی جاتی تھیں۔ (اس دوران) میں بازار گیا اور اپنا کوئی کام انجام دے کر واپس آیا، جبکہ وہ ابھی اس آیت کی تلاوت کر رہی تھیں، ساتھ پناہ مانگتی اور دعاء کرتی جاتی تھیں۔

ü        تمیم داری﷛ کے بارے میں آتا ہے: انہوں نے رات کا قیام کیا اور پوری رات ایک ہی آیت پڑھ پڑھ کر گزار دی: أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ  (الجاثیہ: 21) ’’بدکاریاں کرنے والے کیا یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم انہیں بھی ویسا ہی رکھیں گے جیسے وہ لوگ جو ایمان اور اعمالِ صالحہ کرتے رہے؛ دونوں کا جینا بھی ایک سا اور مرنا بھی؟ بہت برا ہے جو یہ حکم لگاتے ہیں‘‘۔یعنی کلام کا اثر لینا اور اس کی گہرائی کا اندازہ کرنا۔ نیز ایک پُر اثر کلام میں کھو جانا۔

ü        تفسیر طبری میں آتا ہے: عبد اللہ بن مسعود﷛ نے آیت پڑھی:  تَلۡفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ (المؤمنون: 104) ’’آگ ان کے چہرے جھلسا دے گی اور ان کے منہ بری طرح بنے ہوں گے‘‘۔ تب عبد اللہ بن مسعودؓ بولے: کیا تم نے سری جلائی ہوئی دیکھی ہے، جب ہونٹ سکڑ کر پیچھے جا لگتے ہیں اور دانت نکل کر باہر کو آجاتے ہیں؟ گویا یہاں ابن مسعود﷛ آگ میں جلنے کے اس منظر کو اپنے روزمرہ دیکھے ہوئے مشاہدات کے ساتھ جوڑتے ہیں؛ کہ دوزخ میں جلتے ہوئے آدمی کیا سے کیا ہو جاتا ہوگا۔ یعنی قرآن کی بتلائی ہوئی اشیاء کو چشمِ تصور سے دیکھنے تک چلے جانا اور پھر یہاں سے ڈھیروں عبرت اور نصیحت لے کر نکلنا۔

ü        کتاب الإصابة في تمييز الصحابة میں ابن حجر عسقلانی﷫ عبد اللہ بن عمر﷠ کی سوانح میں لکھتے ہیں: جب آپؓ سورۃ الحدید کی یہ آیت پڑھتے أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ ’’کیا اہل ایمان کےلیے وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں‘‘ تو آپؓ رونے لگتے یہاں تک کہ رونے کے ہاتھوں بےقابو ہو جاتے‘‘۔ وجہ یہ کہ آیت میں ایک طرح کی سرزنش ہے کہ اہل ایمان ایسے کیوں ہونے لگے کہ خدا کی یاد پر یہ ٹس سے مس نہ ہوں۔ غرض آیت کے معنیٰ کے ساتھ اپنی حالت کا ربط پیدا کرنا۔

ü        روایات میں آتا ہے: ابو طلحہ﷛ نے سورۃ توبہ کی یہ آیت پڑھی: انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً ’’جہاد کےلیے نکلو، ہلکے یا بوجھل‘‘۔ تو بولے: ہمارا رب ہمیں جہاد کےلیے بلاتا ہے؛ جوانی میں بھی، بڑھاپے میں بھی۔ میرے بیٹو میری تیاری کرو۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ابو طلحہ﷛ عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔ بیٹوں نے کہا: آپ نے رسول اللہﷺ اور ابوبکر و عمر﷠ کی معیت میں کوئی کم جہاد تو نہیں کیا۔ اب ہم آپ کی طرف سے جہاد کرتے ہیں۔ بولے: نہیں میری تیاری کرو۔ چنانچہ آپؓ سمندری جہاد پر روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ بحری جہاز میں ہی موت پائی۔ تب آپؓ کو دفن کرنے کےلیے جہازوں کو دور دور تک کوئی جزیرہ نہ مل رہا تھا۔ سات دن بعد خشکی پر جہاز لگا تو آپؓ کو دفنایا گیا مگر میت ویسی کی ویسی تھی۔ غرض قرآن پڑھتے ہوئے اپنے آپ کو خدائی مطالبوں کے آگے پیش کرنا۔

ü        حسن بصری﷫ کے بارے میں آتا ہے: آپ نے قیامِ لیل شروع کیا تو اس آیت سے آگے گزر ہی نہ سکے؛ ساری رات اسی کو دہراتے گزار دی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ  (النحل: 18) ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو کبھی شمار نہ کر پاؤ۔  حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا ہی غفورٌ رحیم ہے‘‘۔گویا کلام سے گھائل ہی ہو گئے!

ü        امام قرطبی﷫ سورۃ الکہف کی آیت وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَا وَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لاَ يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلاَ كَبِيرَةً إِلاَّ أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلاَ يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا ’’اور نامہٴ اعمال لا دھرا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا، اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:  فضیل بن عیاض﷫ یہ آیت پڑھتے تو کہتے: وائے بربادی۔ ڈر کر بھاگ لو اللہ کی طرف؛ یہاں تو کبائر سے بھی پہلے صغائر شامت لے آئے‘‘۔ یہ اس لیے کہ آیت میں صغیرہ گناہوں کا ذکر پہلے آیا ہے اور کبیرہ گناہوں کا بعد میں۔ چنانچہ یہاں وہ صغیرہ گناہوں کی ہلاکت خیزی کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔

ü        زہد کے ائمہ میں سے ایک امام سلیمان الدارانی﷫ کہتے ہیں: میں ایک آیت پڑھتا ہوں تو چار چار پانچ پانچ راتیں اسی میں گزار دیتا ہوں۔ اگر میں خود یہ سلسلہ ختم نہ کروں تو اس آیت کو چھوڑ کر آگے چل ہی نہ سکوں۔

ü        بیہقی﷫ نے شعب الایمان میں، اپنے وقت کے عظیم واعظ مالک بن دینار﷫ کا واقعہ بیان کیا: آپؒ نے یہ آیت پڑھی: وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ’’اور میں نہیں چاہتا کہ جس امر سے میں تمہیں منع کروں خود اس کو کرنے لگوں‘‘ تو بولے: تو کیا مجھے کل روزِ قیامت سچا واعظ گنا جائے گا یا جھوٹا واعظ؟ یعنی وہ مضمونِ آیت کو اپنے اوپر چسپاں کر کے دیکھنے میں لگے ہیں۔

ü        ابن قیم لکھتے ہیں: سلف کا یہ معمول تھا کہ وہ ایک ایک آیت میں ہی پوری پوری رات گزار لیا کرتے تھے۔

از مفتاح دار السعادۃ مؤلفہ ابن القیمؒ ھذہ رسالات القرآن فمن یتلقاھا، مؤلفہ فرید الانصاریؒ۔ الرسالۃ الرابعۃ: حول مفھوم التدبر، نیز مقالہ  مفهوم التدبرفي ضوء القرآن والسنة وأقوال السلف وأحوالهم مؤلفہ محمد الربیعہ۔

ایک آیت کو پلٹ پلٹ کر پڑھنے کی بابت غزالی﷫ کہتے ہیں: اگر آیت پر آدمی کا فکر و مراقبہ ایک بار پڑھنے سے انجام نہ پاتا ہو اور اس کو دہرا دہرا کر پڑھنے سے ہی یہ مقصد حاصل ہوتا ہو تو چاہئے کہ دہرا دہرا کر پڑھ لے، سوائے یہ کہ وہ کسی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو؛ کیونکہ امام اگر اس سے گزر کر اگلی آیت پڑھنے لگا اور وہ اسی پہلی آیت کی بابت سوچ بچار کرتا رہا تو یہ بےادبی میں آئے گا۔

شیخ محمد الربیعہ کہتے ہیں: قرآن میں اس مضمون کی سب آیات دراصل ایک ہی بڑے مضمون کو ادا کرتی ہیں، اور وہ ہے ’’تدبر‘‘ کی صورت میں قرآن کے مقصود کو پانا اور قرآنی خطاب کے ساتھ ایک زندہ انداز کا تفاعل اختیار کرنا:

*     { إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ } [ يونس 67].

*     { إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ }[الرعد :3]

*     { إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ } [ الرعد 4]

*     { إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ }[الحجر 75]

*     { إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِأُولِي النُّهَى }[طه 54]

*     { إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ } [ الروم 22]

*     { أَفَلَا تَعْقِلُونَ } [ البقرة 44]

*     { أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ } [ الأنعام 50]

*     { أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ } [ الأنعام 80]

*     { أَفَلَا تَذَكَّرُونَ } [ يونس3]

*     { أَفَلَا تُبْصِرُونَ } [ القصص 72]

نیز کہتے ہیں: یہ قرآنی خطاب بھی دراصل تدبر کرنے والوں ہی کی ایک حالت کا بیان ہے:

اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ                                 (الزمر: 23)

خدا نے نہایت اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں (یعنی) کتاب (جس کی آیتیں باہم) ملتی جلتی (ہیں) اور دہرائی جاتی (ہیں) جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے بدن کے (اس سے) رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور دل نرم (ہو کر) خدا کی یاد کی طرف (متوجہ) ہوجاتے ہیں۔ یہی خدا کی ہدایت ہے وہ اس سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جس کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ۔

نیز لکھتے ہیں: اسی آیت سے معلوم ہوا، خدا کے کلام میں تدبر خدا کی تعظیم اور اس کی ہیبت دل پر محسوس کیے بغیر ممکن نہیں۔ اس پر غزالی﷫ کا بھی ایک قول لے کر آتے ہیں: قرآن پڑھنے والے کو چاہئے، قرآن کو ہاتھ لگاتے وقت اُس ہستی کی عظمت اور جبروت کا تصور کرے جو اِن کلمات کے ذریعے اس وقت تم سے ہم کلام ہے۔ نیز یہ کہ جو کلام یہ پڑھنے جا رہا ہے وہ کسی بشر کا کلام نہیں؛ نہ کسی عام شخص جیسا اُس کا کلام  اورنہ کسی عام مضمون جیسا اس کلام کا مضمون۔

نیز سلف کے کچھ آثار لاتے ہیں:

ü        عبد اللہ بن مسعود ﷛ کہتے ہیں: قرآن کو یوں مت بھگتاؤ جس طرح اشعار بھگتائے جاتے ہیں اور نہ اس کو یوں بکھیرو جیسے ردی کھجور لا دھری جاتی ہے۔ اس کے عجائب پر رک جایا کرو، اور اس کے ساتھ قلوب کو جنبش دیا کرو۔

ü        سلف میں سے کسی کا قول ہے: میں رات کو کوئی سورت پڑھنا شروع کرتا ہوں، تو مجھے اس میں ملنے والا کوئی ایک ہی معنیٰ روک لیتا ہےجس کے باعث میں صبح تک بھی وہ سورت ختم نہیں کر پاتا۔

ü        حضرت عمر﷛ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے سورۃ البقرۃ پڑھنے میں بارہ سال لگائے۔ آپؓ کے فرزند عبد اللہ﷛ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ نے سورۃ البقرۃ ختم کرنے میں آٹھ سال لگائے۔

ü        حسن بصری﷫ کا قول ہے: تم رات کو قیام کرنے والے لوگوں نے قرآن مجید کو ایک روٹین کی چیز بنا لیا ہے۔ حالانکہ تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ اسے اس طرح لیتے گویا وہ خدا کی جانب سے آیا ہوا ایک ایک خط کھولتے ہیں۔ تب اُن کی راتیں اس پر غور و فکر میں گزرتیں اور ان کے دن اس کے نفاذ میں۔

ü        ابن قدامہ﷫ کہتے ہیں: قرآن پڑھنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنے اوپر یہ احساس طاری کرے کہ قرآن کا سب خطاب اور وعید ایک اسی کےلیے ہے۔

ابن قیم﷫ کہتے ہیں: اگر تم قرآن سے فائدہ پانے کے خواہشمند ہو تو قرآن پڑھتے یا سنتے وقت دلجمع ہو جایا کرو، ہمہ تن گوش ہو جایا کرو، اور اس کے آگے یوں حاضر باش ہو جایا کرو گویا اللہ مالک الملک خاص تم سے ہی مخاطب ہے۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
قنوتِ وتر۔ مسنون دعاؤں کے متن
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
قنوتِ وتر مسنون دعاؤں کے متن ترتیب: حامد کمال الدین نوٹ: دعاء یا اس کے ترجمہ میں جس جملے کی شرح ۔۔۔
قنوت میں دشمنان دین پر تبرا، اہل دین کےلیے دعائےخیر اور نبیﷺ پر درود
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 23 رمضانی قنوتِ وتر میں دشمنانِ دین پر تبرا، اہل دین کےلیے د۔۔۔
لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ (شرح قنوت 22
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 22 لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَل۔۔۔
وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ (شرح قنوت 21
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 21 وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ "میں تیری پناہ میں آتا ہوں تجھ ۔۔۔
وَبِمُعَافَاتِكَ مِنۡ عُقُوبَتِك (شرح قنوت 20
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 20 وَبِمُعَافَاتِكَ مِنۡ عُقُوبَتِك "تیرے درگزر کی پناہ ۔۔۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ (شرح قنوت 19
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 19 اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ "ال۔۔۔
وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ (شرح قنوت 18
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 18 وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ، وَنَخْشَى عَذَابَكَ "امیدوار&nb۔۔۔
وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ (شرح قنوت 17
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 17 وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ "ہماری سب سعی تیری طرف ۔۔۔
اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي، وَنَسْجُدُ (شرح قنوت 16
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت تحریر: حامد کمال الدین 16 اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي، وَنَسْجُدُ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز