عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, December 13,2018 | 1440, رَبيع الثاني 5
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2013-01 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ایقاظ اِس آگ کو بجھانے کیلئے آواز اٹھاتا چلا آ رہا ہے
:عنوان

. اداریہ :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

یہ جنگ جہاد کی ہمدرد قوتوں کو نشانہ بنانے اور اسلامی بیداری کا پھل کچا تڑوا دینےکیلئے ہمارے گھروں میں لائی جارہی ہے

ایقاظ کا یہ موقف کوئی آج سے نہیں۔ پچھلے نصف عشرے سے... پورے تسلسل کے ساتھ... یہ بات نہ صرف یہاں کے ’مذہبی‘ طبقوں کے گوش گزار کی جارہی ہے بلکہ اُن ’غیرمذہبی‘ طبقوں کے سامنے بھی رکھی جارہی ہے جن کو اس خطے کا امن اور استحکام عزیز ہوسکتاہے۔ یہ کشتی خدانخواستہ ڈوبتی ہے، اور صلیبی قوتیں اپنی یہ منحوس جنگ ہمارے اِن شہروں اور بستیوں میں منتقل کروا دینے میں کامیاب ہوتی ہیں...  تو سب کے حق میں یہ ایک جان لیوا سانحہ ہوگا۔ اتنی سی سمجھداری حالیہ مرحلہ میں یہاں کے ہرطبقہ سے مطلوب ہے کہ وہ صورتحال کی اس سنگینی کا ادراک کرے۔ وقت آگیا ہے کہ خطرے کے اِس منبع کی ایک بار پھر نشاندہی ہو اور آنے والے دنوں میں خطے میں موجود صلیبی قوتوں کے کچھ ممکنہ ڈرامائی پینتروں سے متنبہ رہا جائے۔ ملک کو داخلی جنگ کی جانب دھکیلنے والے اقدامات خواہ یہاں کے کسی بھی فریق کی جانب سے ہوں، ہمارے ان شہروں اور بستیوں میں جنگ کا بھڑک اٹھنا صلیب کے کچھ دیرینہ مقاصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جس کی بڑی ذمہ داری یقیناً اس صورتحال کو پیدا کرنے میں پہل کرنے والے فریق پر ہے تاہم اِس کی قیمت سبھی کو دینا ہوگی۔ (گو ایک ’فریق‘ یہاں پر ایسا بھی ہے جو عرف عام میں بلیک واٹر کے نام سے جانا جاتا ہے اور جوکہ ہمیں سبوتاژ کرنے کےلیے مسلسل اپنا راستہ بنارہا ہے اور جس کی نظر میں یہاں کے سرکاری اہداف بھی ہیں اور غیرسرکاری بھی، اسلامی بھی اور غیراسلامی بھی، سنی بھی اور شیعہ بھی، خصوصاً یہاں پر پائے جانے والے جہاد کے ہمدرد طبقے، اگرچہ یہ ’فریق‘ اپنے آپ کو مختلف پردوں اور لیبلز کے پیچھے چھپا رہا ہو)۔  خدا ہم سب کو اپنی عافیت میں رکھے اور ہمارے اِس خطے کو خونریزی سے حفظ وامان بخشے۔

ہمیں اپنی یہ بات ازسرنو دہرانے  کی ضرورت کیوں محسوس ہورہی ہے؟

امریکی زخمی ناگ، جو ایک عرصے سے اپنا زہر پاکستان کی سرزمین میں انڈیلنا چاہتا ہے... اپنے صدارتی انتخابات کے سرے لگنے کے انتظار میں اپنے کئی ایک خطرناک منصوبے موخر کیے آرہا تھا۔ وہ ہمارے اس پورے خطے کو جنگ کے شعلوں کی نذر کردینے کےلیے عرصے سے بےچین ہے۔ ری پبلکن کا صدر آتا تو بھی وہ انہی خطوط پر آگے بڑھتا، کیونکہ اِن امور میں اُن کے مابین کوئی اختلاف نہیں، پھر بھی نئے صدر کو معاملے کو ہاتھ میں لینے اور صورتحال کو پوری طرح سمجھنے میں کچھ وقت لگتا،  اور اِس معاملہ میں اُس کا تذبذب بھی کچھ زیادہ ہوتا... لیکن ایک پہلے سے چلے آنے والے صدر کو کسی نئی محنت یا نئے ہوم ورک کی ضرورت نہیں۔ علاوہ ازیں دوسری بار منتخب ہولینے کے بعد مزید کوئی الیکشن جیتنے یا ہارنے کی فکر بھی اب اس کو پریشان کرنے والی نہیں جوکہ ایک امریکی صدر کےلیے بہرحال ایک دردِسر ہوتا ہے، لہٰذا اوباما اپنے کریہہ منصوبے زیادہ یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ انجام دینے کی پوزیشن میں ہے۔ صدارتی انتخاب کے پیش نظر بہت سے سٹرٹیجک منصوبے اُن کے ہاں موخر ضرور کردیے جاتے ہیں، مگر الیکشن کے سرے لگنے کے ساتھ ہی اُن کی شیطانی زنبیل سے بہت کچھ نکل آتا ہے۔ الیکشن کے نتیجے میں انتقالِ اقتدار ہونا ہو تو کچھ سٹرٹیجک معاملات مزید کچھ تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، تاہم پہلے والا صدر ہی دوبارہ حلف اٹھانے والا ہو تو سمجھو کہ وہ بہت کچھ جو خاص اس انتظار میں موخر تھا اس کے باہر آنے میں اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔

نومبر کے پہلے ہفتے میں ایک اور خطرناک پیش رفت ہوچکی ہے جو ’ملالہ‘ پر رونے کے دوران ہماری توجہ تک نہیں لے سکی۔ یہ ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ’’حقانی نیٹ ورک‘‘ کے خلاف قرارداد پاس ہوکر آنا۔ کسے معلوم نہیں کہ جناب جلال الدین حقانی جوکہ افغان جہاد کا ایک سربرآوردہ نام ہیں واضح طور پر اور کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنے آپ کو ملا عمر سے وابستہ مجاہدینِ اسلام میں شامل کرتے ہیں جوکہ سرزمین افغانستان میں امریکی تسلط کے خلاف مصروفِ جہاد ہیں۔ تو پھر ’’حقانی نیٹ ورک‘‘ کے خلاف سلامتی کونسل کی ایک عدد ’قرارداد‘ کو آج کےلیے بچا رکھنا چہ مطلب؟ حقانی نیٹ ورک ملا عمر کے زیرسرکردگی افغانستان میں کب جہاد نہیں کرتا تھا جو آج اس کے بارے میں سلامتی کونسل اپنا حتمی ’انکشاف‘ اور پھر اس کی بنیاد پر اپنی ’تادیبی قرارداد‘ سامنے لا رہی ہے؟!! کیا واقعتاً اتنے سال سلامتی کونسل پر ’’حقانی نیٹ ورک‘‘ کی حقیقت نہیں کھل پائی تھی اور آج جاکر اس کی ’دہشت گردی‘ یکدم طشت ازبام ہوگئی ہے؟!! خود امریکہ بہادر 2012 ؁ء کے ستمبر میں جا کر حقانی نیٹ ورک پر اپنی ’پابندیوں‘ کا اعلان کرتا ہے، اتنے سال تک وہ بھی ’حقانی نیٹ ورک‘ کو اور اس کے ایک عشرہ سے جاری جہاد کو ’نظرانداز‘ کرتا آرہا ہے اور اس سارا عرصہ صرف ’طالبانِ ملا عمر‘ کو ہی اپنی نظرکرم کا مستحق ٹھہرارکھتا ہے! اور اب جاکر ستمبر میں امریکہ ’’حقانی نیٹ ورک‘‘ پر پابندیوں کا اعلان کرڈالتا ہے  تو اس کی پیروی میں نومبر کا پہلا ہفتہ نہیں گزرنے پاتا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے ’انسانی بنیادوں پر‘ جلال الدین نیٹ ورک کے ’ظلم وبربریت‘ کے خلاف قرارداد نکل آتی ہے، کہ یہ شخص اپنی سرزمین پر قابض افواج کے خلاف  ’دہشت گردی‘ اور ’خونریزی‘ کا مرتکب ہے! اس  سارے کام کےلیے خاص یہ ٹائمنگ؟ آخر کیا ہونے جارہا ہے؟

اس سے پہلے پاکستان میں مبینہ طور پر کشمیری جہاد سے وابستہ بعض تنظیمات اور شخصیات پر بھی سلامتی کونسل کے ’شرعی فورم‘ سے فتویٰ صادر کرایا جاتا ہے۔ جس کے بعد امریکہ بہادر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے ’احترام‘ میں اور اُن پر عملدرآمد کے جذبے سے سرشار ہوکر سروں کی قیمت تک لگانے چل پڑتا ہے۔ پھر انہیں بیچ میں چھوڑ کر حقانی نیٹ ورک کی جانب رخ کرلیتا ہے... اور بظاہر ’قراردادیں‘ پاس کرنے پر اکتفا کیے جارہا ہے! آخر کیوں نہ مانا جائے کہ دراصل یہ کسی آنے والے مرحلے کےلیے ایک طرح کا ہوم ورک تھا جو خاصی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا گیا ہے۔  یہ سب واقعات اسی ایک اندیشے کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی دشمن کے مکروہ عزائم یہ ہیں کہ وہ اپنی جنگ کو اب سرحد کے اِس پار لےآئے۔

ادھر عالمی شہرت یافتہ سابق سفیر حسین حقانی باہر بیٹھ کر جو بیانات داغتے آرہے ہیں، خود انہی پر غور کرلیا جائے تو وہ آنکھیں کھول دینے کےلیے کافی ہے۔

پاکستان میں جنگ کا سماں پیدا کرنے پر صلیبی دشمن کی جانب سے بڑے عرصے سے کوشش ہورہی ہے۔ جلتی پر تیل چھڑکنے کا عمل کئی ایک انداز میں تیز کردینے کےلیے اب وہ اور بھی سرگرم ہوا چاہتا ہے۔ افغان جہاد کےلیے ہمدردی رکھنے والے سبھی طبقوں کے ساتھ ہم دلی محبت رکھتے ہیں۔ ہمیں عقل کل ہونے کا دعویٰ نہیں، مگر سن دو ہزار سات سے ہم اس اندیشے کی جانب ان کی توجہ مبذول کراتے آئے ہیں کہ اِس جنگ کو پاکستان کی جانب بڑھانا دشمن کا ایک دیرینہ ہدف ہے اور یہ ہمارے اِس مسلم خطے کے بہت سے مفادات کو نقصان پہنچانے پر منتج ہوسکتا ہے لہٰذا کل کوشش اور توجہ اس بات پر رہنی چاہئے کہ یہ جنگ افغانستان کے دائرہ سے باہر نہ نکلنے پائے۔

یہاں ہوشیار ہوجانے کی ایک اور جہت ہے  اور اس سے بھی صلیبی بھارتی دشمن کو ہمیں ایک لامتناہی خونریزی میں جھونک دینے کا موقعہ ہاتھ آسکتا ہے، اور وہ وہاں سے اپنے مفادات کےلیے بہت سا راستہ بنا سکتا ہے۔ یہ ہے ’شیعہ سنی‘ کے مابین تصادم جس کی ہزارہا طریقے سے کوششیں ہورہی ہیں۔ عالم اسلام میں شام سے لےکر لبنان اور عراق تک بےشک یہ ایک گھناؤنا کردار ہمارے سامنے ہے، البتہ ہم ایقاظ میں اس شر کی بابت جو کچھ لکھتے ہیں وہ صرف اس لیے کہ ہماری اہلسنت قوتیں کسی رافضی چقمہ کا شکار نہ ہوجائیں اور امت کے مفادات کے معاملے میں ان پر کوئی اعتماد نہ کربیٹھیں۔ رافضیت سے امت کو آگاہ کرنے کی بابت ہمارے باشعور علماء کی ساری محنت صرف اور صرف اسی غرض سے رہی ہے کہ امت کہیں اس کے زرق برق نعروں کے جھانسے میں نہ آجائے۔  اللہ کا شکر ہے کم از کم عالم عرب میں ہمارے ان علماء کی وہ محنت بڑی حد  تک رنگ لاچکی ہے اور اب حال یہ ہے کہ قرضاوی صاحب جیسے لوگ، یہاں تک کہ مصر کے اخوان، رافضی ہلال کے خطرے سے اقوامِ عرب کو ہوشیار کرنے میں مصروف ہیں۔ تاہم رافضیت سے متعلق ہمارے علماء و مشائخ کی یہ سب تعلیمی وابلاغی محنت اس لیے ہرگز نہیں کہ مسلم خطوں میں شیعہ سنی فسادات کو قبول کیا جائے۔ یہ بات نہایت واضح ہوجانی چاہئے۔ کسی گروہ کے خون کو مباح کرنا خدا کی شریعت میں ایک بہت بڑی جرأت ہے۔ نصوصِ شریعت اس موضوع پر نہایت خوف دلاتی ہیں۔ علماء اس سے شدید متنبہ کرتے ہیں۔ خدا کی بارگاہ میں خون کا حساب دینا آسان نہیں۔ قتلِ ناحق ایک کافر تک کا ہو تو خدا کے ہاں جوابدہ ہونا ہوگا کجا یہ کہ اہل قبلہ کا خون یوں حلال کرلیا جائے۔ کہاں ہیں وہ اعلیٰ سطح کے علماء جنہوں نے لاکھوں کروڑوں پر مشتمل ایک گروہ کا خون مباح کردینے کا فتویٰ دیا ہو؟  پس اول تو یہ خونریزی شرعاً حرام ہے۔ پھر یہ ہمارے خلاف دشمن کا ایک بہت بڑا ہتھیار ہے اور اس کے ذریعے سے وہ ہمارے جہاد افغانستان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا چاہتا ہے جیساکہ اس سے پہلے وہ شیعہ سنی تصادم کروا کر عراق میں ہمارے جہاد پر ایک کاری ضرب لگا چکا ہے۔

کچھ عرصہ پیشتر اس سلسلہ میں ہم سوشل میڈیا پر یہ پیغام نشر کرچکے ہیں جوکہ انٹرنیٹ سے منسلک ہمارے قارئین کی نظر سے یقیناً گزر چکا ہوگا، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مجلہ ایقاظ کے قارئین بھی اس سے مطلع ہوجائیں۔ خصوصاً شیعہ سنی تصادم کی خطرناکی اور نقصان دہی  سے متعلق امارتِ اسلامی افغانستان کے ترجمان نے اپنے اردو ویب سائٹ پر جو بیان دے رکھا ہے، ہمارے قارئین اگر اس اب تک مطلع نہیں تو یہ ان کے پڑھنے اور پھیلانے کی چیز ہے۔ ملاحظہ ہو، ہمارا یہ نوٹ جو سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا:

رافضی خطرے سے متنبہ رہنا اور ان کے کسی جھانسے میں آنے سے خبردار کرنا، جوکہ ایقاظ ایک مستقل موضوع ہے، اپنی جگہ ضروری ہے۔۔۔ تاہم یہ بیان اپنی جگہ ضروری ہے کہ شیعہ سنی تصادم فی الوقت اسلام کی کوئی بھی خدمت نہیں۔ نہ صرف اسلام کی خدمت نہیں، بلکہ حالیہ مرحلے میں یہ بیرونی قوتوں کے ہاتھ میں ایک بہت بڑا ہتھیار ہے جسے وہ ہمارے خلاف بےتحاشا برتنا چاہتا ہے بلکہ بہت سے خطوں میں وہ ہمارے خلاف اس کی افادیت آزما چکا ہے۔ ہمارے افغان طالبان بھائی اس خطرے سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ امت کو بھی اس سے منتبہ کرتے ہیں۔ ان کے ترجمان کے انٹریو سے ایک قیمتی اقتباس:

سوال: شیعہ سنی اختلافات کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس بارے میں امارت اسلامیہ کی پالیسی کیا ہے ؟

جواب: شیعہ سنی کے درمیان لڑائی اور اختلافات پیدا کرنا اور ان کو گرمانا مسلمانوں کے مفاد میں نہیں ، امت مسلمہ کو اس وقت کفر کے یلغار کا سامنا ہے۔ اگر اس زمانے میں بھی کوئی اسلامی ملک کے اندر جھگڑے،فسادپیداکرتا ہے اور گھر گھر دشمنی کی فضا بناتاہے تو واضح طورپر کہدوں کہ یہ عمل مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں ۔ ایسے واقعات سےصرف کفار ہی کو فائدہ ہوگا ۔ آپ جانتے ہیں کہ قریبی تمام اسلامی ممالک میں اہل سنت اور اہل تشیع مشترکہ زندگی گذارتے ہیں ۔ اگر ان کے درمیان جنگ شروع ہوجائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ تمام اسلامی دنیا کے ممالک میں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی ۔ اور ایسی جنگ جس کا کوئی انجام بھی نہ ہوگا ۔ انجام اس لیے نہ ہوگا کہ کثرت کے باعث کسی فریق کے لیے دوسرے فریق کاختم کردینا اور مٹاکے رکھ دینا ناممکن ہوگا ۔ اس لیے یہ ایک بے پایاں جنگ ہوگی جس کے عواقب انتہائی خطرناک ہوں گے ۔ آج امت مسلمہ میں مکمل طورپر اتحاد کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے سنیوں اور اہل تشیع کو خاص غور وفکر کی ضرورت ہے ۔ اب امارت اسلامیہ کی واضح پالیسی کی بنیاد پر کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیتا کہ کسی شخص کو صرف اس لیے کہ وہ شیعہ ہے اس پرحملہ آور ہو اور اسے قتل کرے ۔ امارت اسلامیہ امت مسلمہ کی اتحاد کے لیے سرگرم عمل ہے ۔ ساری امت مسلمہ کو اس آگ کی فکر کرنی چاہیے جو کافروں نے جلائی ہے جس میں بلاتفریق سارے مسلمان خاکستر ہورہے ہیں ۔

ذبیح اللہ مجاہد۔ ترجمان امارتِ اسلامیہ افغانستان

یہ انٹرویو، امارت افغانستان کی آفیشل ویب سائٹ پر آج کی ڈیٹ (30 جنوری 2013؁ء) تک موجود ہے۔ اس کا ویب لیک ذیل میں دیا جارہا ہے:

http://www.shahamat-urdu.com/index.php?option=com_content&view=article&id=19152%3A2012-12-11-10-40-05&catid=15%3A2012-10-31-16-52-52&Itemid=33  

اس کے علاوہ ایک اور نوٹ جو کوئٹہ میں ہزارہ افراد پر گزرنے والے روح فرسا واقعہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہمارے یہاں سے نشر ہوا:

ہوشیار باش!

شیعہ سنی کے نام پر خونریزی۔۔۔ عالم اسلام میں استعماری قبضہ کاروں کا بہت بڑا ہتھیار ہے۔

اس سے پہلے وہ عراق میں ’شیعہ سنی‘ کی خونریزی کروا کر وہاں مجاہدین کے مشن پر ایک کاری وار کرچکے۔ انکل سام اب ہمارے اس خطے کے درپے ہے۔ ایک طرف بھارت کو ششکارا جارہا ہے، دوسری طرف بلیک واٹر نے ماردھاڑ کا بازار گرم کررکھا ہے، تیسری طرف ’کینیڈین‘ انقلاب کی نوید ہے۔ یاد رکھیے؛ ہر جذباتی ہڑبونگ اس وقت یہاں دشمن کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع دینے کا ذریعہ ہوسکتی ہے۔ ملک میں ہونے والا خونریزی کا ہر واقعہ قابل مذمت ہے۔

ملک میں بھڑکتی چلی جانے والی اس آگ پر قابو پانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کوئی انسان جو اپنے گھر کو شعلوں کی نذر ہوتا دیکھے خاموش بیٹھا نہیں رہ سکتا، کم از دُہائی ضرور دیتا ہے۔ مسلمان بالاَولیٰ اس پر لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ عالمی استعمار جس کا افغانستان میں پورا زور لگ چکا ہے، ان شاء اللہ ناکام ہونے والا ہے۔ ہمارے جذبوں کو غلط رخ دینا اور ہمیں اپنی بپتا ڈلوا دینا دراصل اس کے خطے میں اپنی بقا کے حق میں ہاتھ پیر مارنے کی ایک کوشش ہے۔ وہ ہمارا ازلی وابدی دشمن ہے، دوست بھی ہوتا تو ہم اس کے منصوبے سرے لگانے کی خاطر اپنا گھر جلانے کے روادار نہ ہوتے!

اس سلسلہ میں ایقاظ میں وقتاً فوقتاً شائع ہونے والی تحریریں ایک ضمیمہ کی صورت میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں، ملاحظہ فرمانا چاہیں تو اس پتہ پر جاسکتے ہیں:

http://www.eeqaz.com/main/articles/js/home.htm

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
تصورِ دین کی سلامتی آج کا سب سے بڑا چیلنج
اداریہ-
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
                   بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ، والصل۔۔۔
تحریکی عمل کو جو پختگی درکار ہے
اداریہ-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
ہمارے مضمون ’’درمیانی مرحلے کے بعض احکام‘‘ اور اس سے چل نکلنے والے سلسلۂ کلام پر تنقید، احتجاج اور تبصروں ک۔۔۔
جب برصغیر کے احناف اور اہلحدیث ایک جماعت تھے
اداریہ-
حامد كمال الدين
                   بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ، وا۔۔۔
لبرلزم : آزادی مگر کس سے؟
اداریہ-
حامد كمال الدين
حریتِ فکر یا حریتِ کفر؟ 5 پیچھے بیان ہو چکا، لبرلزم کی تعریفات میں جانا ایک نصابی عمل academic work&nb۔۔۔
لبرلزم... ایک عالمی اژدہا
اداریہ-
حامد كمال الدين
حریتِ فکر یا حریتِ کفر؟ 3 اس پر ہم اگلی کسی نشست میں بات کریں گے کہ علمی طور پر ’’لبرلزم‘‘ ایک بےحد م۔۔۔
لبرلزم سارا برا نہیں!
اداریہ-
حامد كمال الدين
حریتِ فکر یا حریتِ کفر؟ 2 کسی عقیدے یا نظریے کو ہمیشہ اس کی کلیت totality  کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ی۔۔۔
حریتِ فکر.. یا حریتِ کفر؟
اداریہ-
حامد كمال الدين
بسم اللہ الرحمن الرحیم. الحمد للہ، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسول اللہ أمَّا بَعْدُ سال 2016ء کے دوران ہمارا۔۔۔
لبرلزم کا مقابلہ اسلامِ مجمل سے
اداریہ-
حامد كمال الدين
v\:* {behavior:url(#default#VML);} o\:* {behavior:url(#default#VML);} w\:* {behavior:url(#default#VML);}۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز