عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, November 20,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 11
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
کمزور قوموں کے جہاد پر ’شریعت‘ کے حوالے سے شدت پسندوں کا ایک اعتراض
:عنوان

تاہم کچھ شرعی غایتیں ایسی ہیں کہ جن کو ایک غیر معمولی صورتحال کے اندر موخر بہرحال نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دین کے دشمنوں سے مسلم عزتوں ابلاشبہ اسلامی شریعت کا قیام مسلم معاشروں کے بنیادی ترین فرائض میں سے ایک ہے۔

. تنقیحات . جہادمزاحمت :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف


جہادِ نکایہ.. ’’جہاد‘‘ کی ایک باقاعدہ صورت ہے


کمزور قوموں کے جہاد پر ’شریعت‘ کے حوالے سے شدت پسندوں کے ایک اعتراض کا جائزہ

عالم اسلام کے بعض خطوں میں جہاں معاصر جہاد اِس پوزیشن میں نہیں کہ کافر کو پچھاڑ دینے کی صورت میں بلا تاخیر وہاں پر اسلامی شریعت کی عملداری ہو جائے.... ہمارے بعض مخلص دینی حلقوں کی جانب سے سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہاں تو آپکو کامیابی مل بھی جائے تو "اسلامی نظام" آتا نظر نہیں آ رہا۔ جب ایسا ہے تو پھر اسکو "جہاد" کہنا یا اس کیلئے خون دینا جائز کس طرح ہو سکتا ہے؟

بلاشبہ اسلامی شریعت کا قیام مسلم معاشروں کے بنیادی ترین فرائض میں سے ایک ہے۔ یہ بات بھی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ "اعلائے کلمۃ اللہ" اپنے انتہائی معنیٰ میں خدا کی ایک ایک بات کو قائم اور نافذ اور جاری و ساری کروا دینا ہے اور اس کے بغیر کسی بھی ملک کی صورتحال "ویکون الدین کلُّہ للہ" کی مصداق قرار نہیں پاسکتی۔

اِس میں بھی شک نہیں کہ "شریعت" کے بغیر مسلم معاشروں کا ہماری پوری تاریخ میں کبھی تصور تک نہیں رہا۔ بدترین سے بدترین حالات میں بھی شریعت کی عملداری اپنے یہاں محل نظر نہ بننے دی گئی۔ چنانچہ اس قسم کے سوالات آج اگر ہمارے نوجوانو ںکے ذہنوں میں اٹھ رہے ہیں اور وہ "جہاد" کو "شریعت کی عملداری" کے ساتھ براہِ راست جوڑتے ہیں تو یہ ایک نہایت طبعی بات ہے۔

تاہم کچھ شرعی غایتیں ایسی ہیں کہ جن کو ایک غیر معمولی صورتحال کے اندر موخر بہرحال نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دین کے دشمنوں سے مسلم عزتوں اور آبروؤں کا تحفظ بجائے خود مطلوب ہے اور ایسی کوئی صورتحال بجائے خود قتال کی متقاضی ہو سکتی ہے۔ اب مثلاً بھارت کے صوبہ گجرات میں اسلام کے ساتھ ہزار ہزار سالہ بغض رکھنے والے ہندو درندے مسلم عصمتوں کو تار تار کرنے چل پڑتے ہیں اور نہتے مسلمانوں کو __ محض بغض ِ دینی کے زیر تحریک __ گاجر مولی کی طرح کاٹنے لگتے ہیں.... تو یہاں ہم یہ نہیں دیکھیں گے کہ اگر کافر کو ہم کوئی نکایہ (گہری چوٹ) پہنچا لیں تو بھی یہاں تو شریعت قائم ہونے کی کوئی صورت ہی نظر نہیں آرہی لہٰذا یہاں پر کوئی جہادی اقدام 'جائز' کیونکر ہو سکتا ہے! اور جب "قیامِ شریعت" کی __ بھارت کے صوبہ گجرات کے اندر __ کوئی ایسی واضح صورت ہی نظر نہیں آرہی، تو پھر یہاں اِن مظلوم نہتے مسلمانوں کے ساتھ جو بیتتی ہے بیتتی رہے، ہمارے لئے تو ان بنجاروں کیلئے کوئی جہادی اقدام کرنا از روئے شریعت ہی نادرست ہے! آپ کو یاد ہو گا بوسنیا میں جس وقت صربی درندے مسلمانوں کے گھروں پر چڑھ آئے تھے، اُ س وقت بھی صورتحال کچھ ایسے ہی فوری اقدام کی متقاضی تھی۔ علیٰ ہٰذا القیاس۔

بعض لوگ اِس واضح جہادی صورتحال کو "من قُتِل دون مالہ" ایسی ایک عام سی صورتحال کے ساتھ خلط کرتے ہیں، یہاں تک کہ وہ معاصر جہاد کے بیشتر یا سب محاذوں کو 'قتالِ حریت' سے بڑھ کر کوئی نام دینے کے روادار نہیں۔

جہاں تک "من قُتِل دون مالہ" ایسی ایک عمومی صورتحال کا تعلق ہے تو اُس میں تو مدمقابل ایک مسلمان بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی لئے ہم دیکھتے ہیں یہ حدیث "جہاد" کے سیاق میں کتب حدیث کے اندر بالعموم ذکر نہیں ہوئی۔ امام بخاری اِس حدیث کو کتاب المظالم میں لے کر آتے ہیں۔ مسلم، کتاب الایمان میں۔ ترمذی، کتاب الدیات میں۔ ابو داود، کتاب السنۃ (باب قتال اللصوص) میں۔ نسائی، کتاب تحریم الدم میں۔ اور ابن ماجہ، کتاب الحدود میں۔ ہمارے علم کی حد تک کوئی محدث نہیں جو اس حدیث کو "جہاد" کے باب میں لے کر آیا ہو۔ چنانچہ باوجود اس بات کے کہ یہ حدیث آپ کو اپنی سرزمین، اپنے جان و مال، اپنی عزت و آبرو اور اپنے قوم قبیلے کے دفاع کیلئے قتال کی اجازت دیتی ہے اور اس میں موت پا لینے کی صورت میں آپ کو شہادت کا اعزاز بخشتی ہے.... پھر بھی آج ہمارے مجاہدین کا وہ جہاد جو وہ خطۂ بلقان یا کشمیر و ہند وغیرہ میں کرتے رہے ہیں، اِس محض "جان و مال کے تحفظ" سے بڑھ کر ایک چیز ہے۔

جہاں پر مسئلہ صرف اتنا ہی ہے کہ آپ کے مال یا جائیداد پر کسی کا دل آ گیا ہے یا اُس نے انسانی دوافعِ نفس کے تحت آپ کی عزت و آبرو پر ہاتھ ڈال دیا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی کافر ہے یا ظلم پر آمادہ کوئی مسلمان.... تو یہاں تو آپ کا لڑنا "من قُتِل دون مالہ" کے ضمن میں ہی آتا ہے۔ البتہ جہاں مسئلہ عداوتِ دینی کا ہے، وہاں مسئلہ خالی 'جان مال' سے اوپر اٹھ کر "اسلامی مصالح" کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے اور "کفر و اسلام کے مابین ہونے والی جنگ" کے ساتھ ملحق ہے، جس کیلئے ہماری شرعی اصطلاح میں "فی سبیل اللہ" کا لفظ رائج ہے۔

اب مثال کے طور پر.... جہاں صربیا کے کینہ بھرے صلیبی، ہمارے بوسنیا کے مسلمانوں سے پچھلے پانچ پانچ سو سال کے بدلے نکالنے جا رہے ہوں، خلافت عثمانیہ کا وہ پورا پانچ سو سالہ قرض بوسنیا کی ہماری اِن معصوم بچیوں پر اتارنے جا رہے ہوں؛ وہاں مسئلہ صاف صاف عداوتِ دینی کا ہے۔ وہاں یہ جنگ دو ملتوں کے اُسی گھمسان کا تسلسل ہے جو بڑے عرصے تک ہماری ایک نہایت اچھی پوزیشن کے ساتھ چلتا رہا تھا (ہماری خلافت موجود اور ہماری شریعت قائم تھی) ۔ آج ہم عالم اسلام کے اُس پورے سیناریو کو فوری طور پر بحال کرنے کی پوزیشن میں نہیں؛ بوسنیا یا کوسووا میں کافر کو پچھاڑ کر بھی ہم وہاں پر شریعت قائم کر دینے کی پوزیشن میں نہیں، یا حتیٰ کہ یہ کہہ لیجئے کہ بوسنیا کی یہی بچیاں فی الوقت کوئی بہت زیادہ پابند شریعت نہیں اور مسئلہ (پابندیِ شریعت کے حوالے سے) یہاں ایک طویل تعلیمی و اصلاحی عمل کا متقاضی ہے؛ کیونکہ کمیونسٹ راج کی پون صدی نے ان کے سب تہذیبی خدوخال مسخ کر ڈالے ہیں.... غرض بوسنیا یا کوسوا میں آج اگر پابندیِ شریعت کا گراف بہت اچھا نہیں، تو بھی صلیبیوں کے ساتھ ان کی جنگ یا ان پر صلیبیوں کے اِن ہوش ربا مظالم کے ڈانڈے اُس عداوت دینی کے اندر پیوست ہیں جس کا "دو ملتوں کی اِس جنگ" میں پورا ایک پس منظر بھی ہے اور پیش منظر بھی؛ اس کا پورا ایک ماضی بھی ہے اور ایک مستقبل بھی.... تو یہاں یہ چیز عین اُس جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ ملحق ہے جو زمین پر خدا کے کلمہ کو بلند اور "الذین کفروا" کے کلمہ کو پست کرنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ "اقامتِ شریعت" کو اس عمل کی معراج کہئے، مگر کچھ غیر معمولی وغیر طبعی مراحل کے دوران اِس کے اندر بہت سے ہنگامی موڑ بھی آ سکتے ہیں۔ اور جہاں ایسے موڑ درپیش ہوں وہاں جہادی جماعتوں سے نفاذِ شریعت کے 'روڈمیپ' طلب نہیں کئے جائیں گے۔

پس جہاں جہاں مسئلہ عداوتِ دینی کا ہے، جہاں جہاں کچھ بے سہارا و پسماندہ مسلم بستیاں اپنے "مسلمان" ہونے کی قیمت دے رہی ہیں، اور خاص اِس وجہ سے صلیبی بھیڑیوں یا ہندو درندوں کی چیر پھاڑ کا شکار ہو رہی ہیں، وہاں وہاں "کفر و اسلام کی جنگ" کا ہی ایک نہایت واضح و صریح معنیٰ پایا جاتا ہے نہ کہ محض "دون مالہ" کا ایک عام سا معنیٰ۔

کیا آپ تصور نہیں کر رہے کہ ہم اگر اِن بے حیلہ و بے سہارا مسلمانوں کو آج اُن کے حال پر چھوڑ دیں اور کفار ان کی عصمتوں اور آبروؤں پر ضیافتیں اڑائیں تو اِس میں دین ِ محمد کی کیسی تذلیل ہے اور دشمنانِ دین و ملت کی کیسی چڑھ ہے؟ پھر اتنا ہی نہیں، ایسی بہت سی ضعیف و بے بس مسلم آبادیاں اس کے نتیجے میں ارتداد کی راہ پر بھی نکل سکتی ہیں اور ان کے بچے کفر کے شعائر کو ظاہر کرنے میں ہی اپنی عافیت دیکھنے لگ سکتے ہیں۔ پس یہ مسئلہ "دون مالہ" تک کہاں محدود رہا؟ یہاں تو ایک ملت (اُس مخصوص خطے کی حد تک) خدانخواستہ نیست و نابود ہو رہی ہے اور دوسری ملت اُس کے ملبے پر اپنی عظمت کے مینار اٹھانے میں مصروف ہے۔ یہ تو مال اور آبرو سے بھی پہلے "دین" کا تحفظ ہے۔ بلکہ یہاں جس مال، جس جان اور جس آبرو کے تحفظ کا سوال اٹھا ہے ، اس خاص صورتحال میں، اور اُن ملعونوں کے مدمقابل جو اِس نہتے مسلمان کی جان کے اِس وجہ سے درپے ہیں کہ یہ مسلمان ہے، اور اِس دوشیزہ کی عصمت دری اِس وجہ سے کرنے جا رہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی آبرو ہے.... یہ جان، یہ مال اور یہ آبرو تو اب اِن انسانوں کی نہیں؛ بلکہ یہ جان مال آبرو تو اِس سیناریو کے اندر "اسلام" کی ہے۔ جہاں "اسلام" ہی کی عزت داؤ پر لگی ہو وہاں "دون مالہ" کا معنیٰ تو بہت ہیچ ہو جاتا ہے۔

در اصل جو لوگ اس کو "قتالِ حریت" سے بڑھ کر کوئی نام دینے کے روادار نہیں اور "جہاد فی سبیل اللہ" کا تو اس حوالہ سے لفظ تک بولنے کی اجازت نہیں دیتے.... ان میں سے بہت سے حضرات شاید فقہ اسلامی کے اندر "قتالِ دفع" اور "قتالِ نکایہ" ایسی اصطلاحات سے واقف ہی نہیں۔ ان کے خیال میں کسی قتال کے فوری نتیجے کے طور پر اُس متعلقہ خطہ کے اندر اگر "اسلامی نظام" قائم ہونے نہیں جا رہا تو وہ قتالِ جاہلی ہے اور اگر ایسے کسی عمل کیلئے کھینچ تان کر کوئی گنجائش شریعت کے اندر نکالی ہی جا سکتی ہے تو وہ "دون مالہ" والی ہے! حالانکہ "دون مالہ" میں مسئلہ کا خالصتاً ایک شخصی اعتبار ہوتا ہے؛ اسلام کا براہِ راست مفاد، اسلام کی براہِ راست عزت و آبرو اور اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل ایک براہِ راست انداز میں اُس کے ساتھ منسلک نہیں ہوتا۔ جبکہ آپ دیکھتے ہیں، یہاں معاملہ اور ہے۔ کسی خطہ کے اندر اگر ایک ہزار سال سے دین ِ محمد اور دین ِ ہندوس کے درمیان جنگ نے سینکڑوں موڑ مڑے ہوں اور آنے والے کچھ مرحلوں میں اِس کے اندر کچھ نہایت شدید موڑ آنے والے ہوں تو وہاں کے انسان اور ان کی عزتیں اور آبروئیں تو کیا، وہاں کا تو پتہ پتہ اِس جنگ کے آئندہ مرحلوں کے حوالوں سے relevant ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اِس  پورے عمل  میں کسی ایک ہی پہلو کا اعتبار کرنا، بے شک وہ کتنا ہی برگزیدہ اور شان والا ہو (مانند اسلامی نظام کے قیام کی کوئی واضح و تیار صورت)، اور باقی پہلوؤں کو اِس پوری equation سے خارج کر دینا بہرحال  درست نہیں۔ چیزیں کسی وقت اپنے فوری اہداف کے ساتھ جوڑی جاتی ہیں اور کسی وقت اپنے حتمی اہداف کے ساتھ؛ اور فقہاءکا بیان کردہ قاعدہ "ال أمور بمقاصدہا" ہردو صورت میں لاگو ہوتا ہے۔

اسلامی مصالح کے تحفظ کے حوالے سے یہاں یہ چیز بھی واضح کر دی جائے کہ.... قوموں کے ایک دوسرے کے مقابلے پر چھا جانے یا مٹ جانے کے جو کوئی سائنٹفک عوامل ہیں ان میں ایک نہایت اہم عامل "ڈیموگرافی" ہے۔ ہماری اپنی نظر میں مسلم قوموں کی حالیہ صورتحال خواہ کیسی ہی تشویشنا ک ہو؛ مغرب اِس کو "مسلم ڈیموگرافی کا بم" کہتا ہے۔ دراصل یہ ہمارا بہت بڑا پوٹنشل ہے جس کے دم سے ہم مستقبل میں عالمی توازن کو اپنے حق میں پلٹ سکتے ہیں۔ لہٰذا اِس وقت مسلمانوں کی جو جو آبادیاں ہیں، اور ان کے جو جو قدرتی ومعدنی و انسانی وسائل ہیں، اُن کی ایک ایک چیز کو کافروں کے ہاتھ میں جانے سے بچانا، ان میں سے کسی ایک بھی چیز کی ہیئت کافروں کے حق میں نہ بدلنے دینا، مسلمانوں کے حق میں اگر یہ بہتر نہیں ہوتی تو بھی اس کو اِس موجودہ حالت سے بدتر نہ ہونے دینا.... یہ سب اسلام کے دور رس مصالح ہیں؛ جن کا امتوں کے اِس ٹکرؤ میں نہایت شدید اعتبار رکھا جاتا ہے؛ کیونکہ یہ جنگ کوئی سال دو سال کیلئے نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہے۔ اسلام کے اِن دوررس مصالح کے تحفظ کیلئے اگر آپ کو کافروں کے ساتھ دست بدست لڑنا پڑتا ہے؛ اِن اسلامی مصالح میں سے کسی ایک بھی چیز کو آپ اگر کافر کے جبڑوں سے چھین لانے کی پوزیشن میں ہیں.... تو بلاشبہ یہ جہاد ہی کے باب میں آتا ہے۔ کیونکہ جہاد ہے ہی ملتِ کفر کو پست کرنا اور ملتِ اسلام کو غالب و بالاتر کرنا۔ اِس عمل کا کوئی حصہ فوری اثرات کا حامل ہو سکتا ہے اور کوئی حصہ دوررس اثرات کا۔

ایک تصویر اگر بے حد بڑی ہے اور معاملہ آپ کے بس سے باہر ہے تو آپ اِس کے بعض حصے بنا دیجئے؛ یہ کوئی عشرے دو عشرے کا کھیل تو ہے نہیں؛ اس کے کچھ نشیب و فراز آپ کی نسلیں اور صدیاں لے سکتے ہیں؛ جیسے جیسے اس کے کچھ دوسرے حصے سامنے آتے چلے گئے؛ اور جس پر نہ جانے کچھ دوسرے لوگوں کا کتنا زور لگنے والا ہے؛ ویسے ویسے اِس تصویر کے خوبصورت خدوخال آپ سے آپ واضح ہوتے چلے جائیں گے۔ مگر کوتاہ نظری کے باعث ہمارے بہت سے لوگ آپ کے ہاتھوں تصویر کا 'ایک' ہی حصہ بنتا دیکھ کر بول اٹھتے ہیں کہ یہ کیا، ہمیں تو کچھ 'نظر' آنا چاہیے! جبکہ ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تصویر کے چھوٹے چھوٹے حصے جب تک نہیں بنیں گے تب تک پوری تصویر سامنے آ کیسے سکتی ہے؟

اب یہ سمجھنا کسی وقت عام آدمی کے بس سے باہر ہو جاتا ہے کہ ایک معاملہ کہیں پر اگر ہمارے حق میں نہیں بیٹھ رہا تو ہم اُس کو کافر کے حق میں بھی نہیں بیٹھنے دے رہے۔ یا یہ کہ ہمارے اور کفار کے مابین باعث تنازعہ کوئی نہایت اسٹرٹیجک چیز ہمارے حق میں بہتر نہیں ہو رہی تو بھی ہم اُس کو اِس سے بدتر حالت میں نہیں جانے دے رہے، یا حتی کہ اِس پر بھی اگر ہمارا بس نہیں تو ہم اُس کو اتنا خراب نہیں ہونے دے رہے جتنا کہ کافر چاہتا ہے؛ اور یقینا کسی وقت محض اتنا سا نتیجہ برآمد کرنے کیلئے بھی ہمارا ڈھیروں زور صرف ہو رہا ہوتا ہے.... تو یہاں پر ایک سطحی ذہن عدم تشفی ظاہر کر سکتا ہے؛ خصوصاً جبکہ اُسکے یہاں جہادی عمل کی کامیابی کے حوالے سے "محمد بن قاسم" اور "طارق بن زیاد" سے کم کسی پیشرفت کا تصور ہی نہ ہو!

ہرگز نہ بھولنا چاہیے کہ ہم ایک طویل خوابِ خرگوش سے بیدار ہو رہے ہیں بلکہ ہماری اکثریت اب بھی بیدار ہونے پر تیار نہیں ہے۔ استعمار کے دو سو سالہ شکنجے سے نکل کر اپنے پیروں پر کھڑے ہونا اور بطورِ قوم اپنی تاریخی ڈگر پر چڑھ آنا کوئی چھوٹا چیلنج نہیں ہے۔ سامنے اتنے بڑے بڑے کافر پہاڑ کھڑے ہیں کہ کسی وقت آپ ان کو طرح دیں گے، کسی وقت کوئی سرنگ ڈھونڈیں گے، اور کسی وقت ان کے اندر ڈائنامائٹ لگائیں گے ۔ کہیں پر جنگ کریں گے تو کہیں پر ہدنہ۔ کہیں پر دھاوا بولیں گے تو کہیں پر اپنا آپ بچا لینے کو ہی پیشرفت جانیں گے۔ کہیں پر کوئی ایک پوزیشن اختیار کریں گے تو کہیں پر دوسری۔ کہیں پر آپ بر سر زمین پائے جائیں گے تو کہیں پر زیر زمین۔ جہاں ایک جماعت پوری نہیں اترتی وہاں کوئی دوسری جماعت پورا اترنے کی کوشش کرے گی۔ ایک خطے میں کسی ایک گروپ کا ہاتھ نہیں پڑتا تو کسی دوسرے کا ہاتھ پڑ سکتا ہے۔ یہاں بصیرت اور معاملہ فہمی کی ایک نہایت اعلیٰ سطح درکار ہے۔

اِن بہت سے شرعی اعتبارات کو نہ جاننے کے باعث، خصوصاً دور رس اہداف کے اعتبار سے نابلد ہونے کے باعث.... یہاں کے اچھے اچھے دینداروں سے آپ کو کسی کسی وقت ٹھٹھہ اور مذاق تک سننے کو ملتا ہے۔ ہم نے بہت سے شعلہ بیان خطیبوں اور ایمان پر محنت کرانے والے واعظوں کو بوسنیا اور کوسووا کی مسلم خواتین کے لباس کو زیربحث لاتے ہوئے سنا ہے کہ 'دیکھا، دینداری کی تو یہ حالت ہے، اور آپ وہاں پر جہاد کیلئے چل پڑے ہوئے ہیں!'۔ فلسطین کے وہ حصے جو پچھلے ستر سال سے اسرائیل کا حصہ بنا دیے گئے ہیں اور ایک بدترین قسم کی ذہن سازی کے عمل سے گزارے گئے ہیں، وہاں مسلمان اگر سڑکوں پر نکل آتے ہیں، اور جن کو سڑکوں پر نکال لانا جہادی عمل کو کامیابی دلانے کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، بلکہ کسی کو کیا معلوم ان مسلم آبادیوں کو سڑکوں پر نکال لانے کے پیچھے جہادی قوتوں کی کس قدر محنت ہوئی ہے؛ اسی طرح کشمیر میں اگر عام آبادیوں کو سڑکوں پر نکال لانے میں بمشکل تمام کامیابی پا لی جاتی ہے.... تو ہمارے اِن سطحی واعظوں کی نظر وہاں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی 'جین' پر جا کر رک جاتی ہے؛ پلک جھپکتے میں فلسطین کے جہاد کو بھی فارغ کر دیا جاتا ہے اور کشمیر کے جہاد کو بھی! گویا اِس سے عمیق تر اعتبارات و غایات تو دین کے اندر پائی ہی نہیں جا سکتیں! عین اسی طرح ناموسِ رسالت کے مسئلہ پر اسلامی مصالح کا تقاضا ہے کہ پورے کے پورے مسلم معاشرے باہر نکل پڑیں اور مسئلہ صرف یہاں کے "دینی حلیہ" رکھنے والے ایک چھوٹے سے طبقے تک محدود نہ رہے، بلکہ پوری مسلم اسٹریٹ اِس پر کھولتی ہوئی نظر آنے لگے اور پوری قوم غصے سے آگ بگولہ دیکھی جائے۔ مگر یہاں ہم نے کچھ دینداروں کو اپنے وعظوں میں لوگوں کو اِس پر 'شرم' دلاتے تک دیکھا ہے کہ 'چہرے سے اس نبی کی سنت کو روزانہ منڈوا کر پھینکتے ہو، اور اب اُسی نبی کا نام لینے سڑک پر نکل آئے ہو'!.... ہماری نظر میں، یہ 'دینی حمیت' کی ہرگز کوئی قسم نہیں ہے اور نہ ہی یہ وعظ اور اصلاح کا کوئی طریقہ ہے؛ اِس کو سوائے کم نظری بلکہ کورچشمی کے کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ دور رس اسلامی مصالح کا جس قدر خون ہمارے یہاں اِس ذہنیت نے کیا ہے اُتنا کسی نے نہ کیا ہو گا۔

 

 ’’معاصر جہاد‘‘ پر حملہ آور فتنوں کے حوالہ سے ہمارا خصوصی ضمیمہ

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
کشمیر کےلیے چند کلمات
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا!
جہاد-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا! کل ہمارے یہاں ایک ٹویٹ ہوا تھا: شیعہ سنی تصادم&۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
کچھ ہمارے مضمون ’’درمیانی مرحلے کے بعض احکام‘‘ کے حوالے سے
تنقیحات-
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات کچھ ہمارے مضمون ’’درمیانی مرحلے کے بعض احکام‘‘ کے حوالے سے اپریل 2013 کے ایقاظ میں شائع ہون۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز