عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, October 17,2019 | 1441, صَفَر 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2006-07 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
’عقیدہ‘ سے ’اخلاق‘ اور ’تہذیب‘ تک
:عنوان

اُس علیم اور حکیم کو دیکھئے .... ہمیشگی کے جہان کی بات آتی ہے تو ’قلم وقرطاس‘ انسان کے اپنے ہی ہاتھ میں تھما دیتا ہے کہ لو آپ اپنی شکل تجویز کر لو اور اپنی دائمی صورت کی نقشہ گری یہیں دارِ عمل سے کرجاؤ

. اصولاخلاق :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

عقیدہ‘ سے ’اخلاق‘ اور ’تہذیب‘ تک

 

حامد کمال الدین

مسند احمد میں سعد بن ہشام سے روایت ہے:

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر دریافت کیا:

اُم المومنین! رسول اللہﷺ کے خلق کی بابت بیان فرمائیے گا۔

فرمانے لگیں: کان خلقہ القرآن (قرآن ہی آپ کا خُلُق تھا) کیا تم قرآن میں اللہ کا یہ ارشادنہیں پڑھتے: وإنک لعلی خلق عظیم؟

بخاری الادب المفرد باب من دعا ﷲ ان یحسن خلقہ میں اور بیہقی شعب الایمان باب ”حب النبی“ میں الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ اس معنی کی ایک حدیث یزید بن بابنوس سے بیان کرتے ہیں کہ: ہم عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاں گئے اور دریافت کیا: ام المومنین! رسول اللہﷺ کا خُلُق کیا تھا؟ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جواب دیا: ”قرآن ہی آپ کا خُلُق تھا۔ کیا تم نے سورہ المومنون (کی یہ آیات نہیں پڑھیں):

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ   الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ   وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ   وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ   وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ   إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ   فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاء ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ   وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ   وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ   أُوْلَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ 

  عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہنے لگیں: ”رسول اللہﷺ  کا خُلق یہی تو تھا“۔ شُعَب الایمان کی ایک روایت میں ہے کہ میں سورہ المومنون کی تلاوت کرتے ہوئے دسویں آیت پر پہنچا تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بولیں: “بس یہی کچھ آپﷺ کا خلق تھا“۔

شُعَب الایمان کی ایک روایت میں ابوالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ کے اسی سوال پر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ جواب نقل ہوا ہے: کان خلقہ القرآن یرضی لِرِضَاہ ویسخط لسخطہ ”قرآن ہی آپ کا خلق تھا۔ جو قرآن کی رضا وہ آپﷺ کی رضا۔ جو قرآن کو ناگوار وہ آپﷺ کو“۔

××××××××××××

یہاں کچھ دیر ہم ”خُلُق“ کے معنی پر رکیں گے اور پھر عقیدہ کی کچھ تہذیبی جہتوں کا ذکر کریں گے۔

اسلامی تراث کی بعض اصلاحات ایسی ہیں جو بیک وقت ایک وسیع تر مفہوم رکھتی ہیں تو ایک مخصوص تر مفہوم بھی۔ عمومی استعمال میں کسی وقت اس کا کوئی ایک مفہوم معروف ہو گیا ہوتا ہے تو کسی وقت دوسرا۔ مگر کہیں پر یہ ہر دو پہلو سے مراد ہوتا ہے لفظ خُلُق کا بھی یہی معاملہ ہے۔

الجزائر کا دارالحکومت بھی اتفاق سے الجزائر ہی کہلاتا ہے۔ یہ اس سیاق میں ہمارے لیے ایک اچھی مثال ہو سکتی ہے: اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ ’الجزائر‘ سے باہر بھی ایک متعین سرحد تک ’الجزائر‘ ہی پایا جاتا ہے!

اسی قاعدہ کی ایک مثال لفظ ’عبادت‘ ہے ....

عبادت کا شریعت میں ایک وسیع مفہوم ہے جس میں نماز روزہ ہی کی طرح معاملات اور خانگی وسماجی زندگی کے سب امور آجاتے ہیں اور جو کہ ایک درست مفہوم ہے اور جس کے نظرانداز کر دیے جانے کے باعث لوگ اب معاشرے میں عموماً ’مذہبی‘ و ’غیر مذہبی‘ کی تقسیم کرنے لگے ہیں اور جس کے باعث ’اللہ لوگ‘ ہونے کی ایک خاص فضیلت ذہنو ں میں پرورش پا گئی ہے دوسری طرف سیکولرزم کی گمراہی بھی اسی حقیقت کے نظرانداز ہوجانے سے ایک مقوی غذا پاتی ہے .... جبکہ لفظ ’عبادت‘ کا ایک مخصوص تر مفہوم ہے جس کی رو سے امورِ دین کو ___ سہولت مبحث کےلیے ___ اور شاید کچھ دیگر اعتبارات کے تحت بھی ___ ’عبادات‘ اور ’معاملات‘ میں تقسیم کر لیا جاتا ہے اور اس مخصوص تر مفہوم کی رو سے ’عبادات‘ کا اطلاق ان خاص حالتوں اور کیفیتوں پر کیا جاتا ہے جو خدا کا تقرب پانے کےلیے شعور کی ایک خاص توجہ کے ساتھ اور خدا کی تعظیم اور اپنی حاجت مندی کی تعبیر میں ایک خاص اہتمام کے ساتھ انسان پر گزرتی ہیں مثلاً دُعا، نماز، ذبیحہ، نذر اور طواف وغیرہ۔

ایک طویل رکود اور جمود کے بعد اب جب سے حقیقتِ دین کی تفہیم ذرا عام ہونے لگی ہے اور دین کے کچھ بنیادی موضوعات لوگوں کے زیربحث آنے لگے ہیں، یہ بحثیں چل نکلی ہیں کہ فقہائے اسلام کا دین کو ’عبادات‘ اور ’معاملات‘ میں تقسیم کر لینا آیا صحیح بھی ہے یا نہیں اور یہ کہ یہ تقسیم ’عبادت‘ کا مفہوم سکیڑنے کے عمل میں آیا مُمد تو نہیں؟ ادھر یہ بحثیں ہیں تو دوسری جانب کچھ بیمار ذہن ’دین‘ کو ’معاملات‘ اور ’کارہائے دنیا‘ سے بے دخل کر دینے کےلیے فقہاءکی اس تقسیم کو ایک ایسی ’دلیل‘ کے طور پر دیکھتے اور پیش کرتے ہیں جو شاید اجماع سے بھی بڑھ کر ان کے ہاں شرف پاتی ہے (’اجماع‘ کا کوئی شرف ان کے ہاں ہے یا نہیں، خدا معلوم) اور یوں ’اموال واولاد‘ سمیت امور زندگی اور کارہائے معاشرہ کو شریعت کے تابع لانے کی دعوت جو کہ موجودہ دور میں ’حاکمیت‘ کے نام سے معروف ہوئی ہے ان لوگوں کو محض ایک ’فکری مغالطہ‘ نظر آتا ہے جو بعض ’انتہا پسندوں‘ کے ذہن میں بے سبب کہیں سے آسمایا ہے اور بے ’وقت‘ لوگوں کو پریشان کئے جا رہا ہے!

معاملہ یہ ہے کہ نہ فقہائے اسلام اپنے اس اصطلاحی استعمال اور اس مبحثی تقسیم میں غلط ہیں اور نہ آج کے گمراہ ’دین‘ اور ’عبادت‘ کے مفہوم کو انسانی زندگی کے ایک بڑے حصے سے بےدخل کرنے (اور دراصل انسانی زندگی کے اس حصے میں عبادت غیر اللہ کا چلن کروانے) کےلیے فقہاءکی اصطلاحی تقسیم کو بنیاد بنانے میں حق بجانب۔

معاملہ صرف اتنا ہے کہ ایک لفظ کا بیک وقت ایک وسیع مفہوم ہو سکتا ہے اور ایک مخصوص تر مفہوم۔ اور اس معاملہ میں حَکَم arbiter وہی لوگ اور وہی مراجع ہوتے ہیں جنہوں نے یہ اصلاحات وضع کی ہوں نہ کہ ’دوسرے‘ لوگ۔

شرک کا ___ مثلاً ___ ایک وسیع تر مفہوم ہے جس میں شرک اکبر بھی آتا ہے اور شرک اصغر بھی۔ گو مطلق استعمال ہو تو علماءعقیدہ کے ہاں اس سے شرک اکبر مراد ہوتا ہے۔ لفظ کفر کا معاملہ بھی ہوبہو ایسا ہے۔

یہی معاملہ ’ظلم‘ اور ’فسق‘ کا ہے۔ گو ’شرک‘ اور ’کفر‘ کے برعکس مطلق سیاق میں آئیں تو ’ظلم اصغر‘ اور ’فسق اصغر‘ مراد ہوتا ہے مگر کسی وقت ان الفاظ کا ایک وسیع تر مطلب بھی مراد ہو سکتا ہے جس کی رو سے یہ اصغر اور اکبر دونوں کو شامل ہو۔

یہ بہرحال یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔

اس وضاحت کے بعد، اب آتے ہیں لفظ خُلُق پر۔

خُلُق کا ایک وسیع مطلب ہے جس میں انسان کے سب ظاہری وباطنی اعمال آجاتے ہیں اور ایک اس کا محدود مطلب جس میں انسان کا ”لوگوں کے ساتھ پیش آنا“ اور ”مخلوق کے ساتھ برتاؤ کرنا“ آتا ہے۔ مذکورۃ الصدر (روایتِ عائشہؓ) میں یہ دونوں مفہوم بیک وقت مراد نظر آتے ہیں جس کے قرائن روایت کے الفاظ ہی سے واضح ہیں .... گو اس کا وسیع تر مفہوم کا تاثر یہاں اغلب ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کا المومنون کی پہلی پانچ یا دس آیات پڑھ کر رسول اللہ کے خُلُق کی نشاندہی کرنا اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔ ان آیات میں سب سے پہلے ایمان آتا ہے پھر نماز کا خشوع، پھر لغو سے اعراض، پھر زکوٰۃ کا فعل، پھر عفت کی حفاظت، پھر امانت اور ذمہ داری کا پاس۔ پھر ایفائے عہد اور پھر نماز کی رکھوالی۔

مزید برآں، قرآن ہی کا رسول اللہﷺ کی پسند وناپسند اور آپ کا ذوق بن جانا بھی ’خُلُق‘ کی اسی وسیع تر جہت پر دلالت کرتا ہے۔

پھر اُم المومنین رضی اللہ تعالی عنہ سورہ القلم کی آیت وانک لعلی خلق عظیم کا حوالہ دیتی ہیں .... اس کے تحت بھی مفسرین نے ’خُلُق‘ کے مخصوص تر مفہوم سے پہلے اس کا وسیع تر مفہوم ہی بیان کیا ہے۔ مثلاً ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ آیت کی ابتدا یہاں سے کرتے ہیں:

عوفی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں وانک لعلی خلق عظیم (سے مراد ہے) آپﷺ ایک عظیم الشان دین (طرز زندگی وبندگی) پر ہیں، جو کہ اسلام ہے۔ ایسا ہی قول مجاہد، ابو مالک، سدی اور ربیع بن انس کا ہے اور یہی قول ضحاک اور ابن زید کا ہے“۔[1]

اس کے بعد ابن کثیر دیگر اقوال سلف بیان کرتے ہیں جن میں ”خُلُق‘ کا مخصوص تر مفہوم بھی وضاحت سے مذکور ہوا ہے۔ پھر عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا والی مذکورۃ الصدر حدیث اور کچھ دیگر احادیث لائے ہیں۔ آخر میں بھی ابن کثیر اپنی تعلیق دیتے ہیں:

قرآن کا، اس کے تمام تر امر ونہی سمیت ایک بے ساختہ اظہار بن جانا آپﷺ کےلیے طبیعت اور مزاج کا درجہ اختیار کرگیا اور انسانی امورِ جبلت تو آپﷺ کی سیرت میں متروک ہی ہو کر رہ گئے تھے۔ پس قرآن کا جو کوئی تقاضا تھا آپ سے آپ وہ آپﷺ کا عمل تھا اور قرآن جس بات سے روکے وہ آپﷺ کے ہاں متروک۔ یہ آپﷺ کی ان عظیم طبعی صفات پر مستزاد تھا جو خدا نے آپﷺ کو ویسے ہی وافر بخش رکھی تھیں۔ یعنی آپﷺ کی طبعی عفت، حیا، سخاوت، دلیری، عفو ودرگزر، بردباری اور ہر اچھا انسانی وصف“۔

طبری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، ابن زید رحمۃ اللہ علیہ اور ضحاک رحمۃ اللہ علیہ سے ’خُلُق‘ کا مطلب ’دین‘ بیان کیا ہے۔

قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: لغت میں خُلُق کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خود پر کوئی خاص طرز عمل یا اسلوب و رویہ حاوی کرلے۔ یوں کہ وہ طرز عمل اور رویہ بالآخر اس کا اسی طرح حصہ بن جائے جیسے کہ اس کی پیدائشی ساخت۔

قرطبی کا، اس آیت کے ضمن میں، ایک اور حوالہ بھی لائق توجہ ہے: جنید رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: ”رسول اللہﷺ کے ’خُلق‘ کو ’عظیم‘ کہا گیا ہے اس لئے کہ آپﷺ کا عزم وحوصلہ ’خدا‘ سے کم کسی منزل پہ قناعت نہ کرتا تھا“۔

×××××××××××××××××××

سچ یہ ہے کہ عربی ایک بے انتہاءخوبصورت زبان ہے۔ ’خَلق‘ اور ’خُلُق‘ دراصل انسان کے وجود کی دو جہتیں ہیں۔ اول الذکر ’تخلیق‘ اور ’پیدائش‘ کےلیے مستعمل ہے اور ثانی الذکر ’سیرت‘ اور ’کردار وعمل‘ کےلیے۔[2]  رُوٹ دونو ں کا ایک ہے۔ خَلق (خ کی زبر کے ساتھ) سے مراد ہے انسان کا چہرہ مہرہ، ڈیل ڈول، شکل وشباہت اور نقوش وغیرہ (مضغۃ مخلقۃ وغیر مخلقۃ الحج: 5) اور خُلُق سے مراد وہ اسلوب اور انداز اور طریق تعامل ہے جو انسان اپنی مرضی اور اختیار سے اپنے لئے زندگی میں اپناتا ہے۔ یعنی ایک اس کی جسمانی زندگی ہے تو ایک اس کی معنوی زندگی۔ اول الذکر اگر وہ چیز ہے جو انسان کے اندر خدا ’پیدا‘ کرتا ہے اور اس کا ’پیدا‘ کرنا خدا کے ہی اختیار میں ہے تو ثانی الذکر وہ چیز جو انسان آپ اپنے اندر ’پیدا‘ کرتا ہے۔ اول الذکر پہلو سے، ’پیدا‘ کرنے اور ’صورت دینے‘ والا خدا ہے اور اس میں کسی پر کوئی ملامت ہے اور نہ سرزنش۔ کوئی گورا ہے یا کالا، لمبا ہے یا کوتاہ، خوبصورت ہے یا بدصورت اس کا اپنا اس میں کوئی دخل ہی نہیں۔ البتہ دوسرے پہلو سے، اپنے آپ کو ’پیدا کرنے‘ اور ’صورت دینے‘ والا بڑی حد تک انسان خود ہے اور اس پر تحسین یا مذمت خود اسی کو جاتی ہے۔ یہ ہدایت وضلالت میں انتخاب کرنے کا میدان ہے اور ادب وتہذیب اختیار کرنے یا نہ کرنے کا۔

 پس جس پہلو سے انسان اپنے آپ کو آپ ’بناتا‘ ہے اور ’بناتے‘ رہنے کی اس کے پاس زندگی زندگی گنجائش رہتی ہے خُلُق کہلاتا ہے جس کی جمع اَخلاق[3] ہے۔ البتہ جس پہلو سے انسان دُنیا میں ’بنا بنایا‘ آتا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی لے آنے کی اس کے اپنے پاس کوئی گنجائش نہیں ہوتی خَلق کہلاتا ہے۔ دونوں کا مطلب ’ساخت‘ figure   ہے مگر ایک مادی وجسمانی ہے تو ایک شعوری و روحانی۔ البتہ ’ساخت‘ کا تصور جب دنیوی اور اخروی جہتوں میں بڑھتا ہے تو اس کو کچھ اور ہی معانی مل جاتے ہیں۔

ایک مسنون دُعا میں یہ دونوں جہتیں آمنے سامنے لے آئی جاتی ہیں کیونکہ وہ ایک موقع ہی ’آمنے سامنے‘ کا ہوتا ہے....

آدمی آئینے کے سامنے کھڑا ہو تو وہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب پوری کائنات سے نگاہ ہٹ کر اس کا اپنا سراپا ہی اس کے سامنے آجاتا ہے۔ آئینے کے روبرو کھڑا اپنی جسمانی صورت پر انسان کسی پہلو سے اتراتا ہے تو کسی پہلو سے کچھ ’حسرتیں‘ تازہ کرتا ہے۔ یہاں ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کے شعور کو حسن وبدصورتی کی ایک اور جہت سے بھی آشنا کرایا جائے۔ حسن وبدصورتی کی یہ وہ جہت ہے جس کے دیکھنے کو ’آئینہ‘ بھی کم ہی کہیں میسر آتا ہے؛ اور جو کہ ’انسان‘ کے پریشان ہونے کی اصل بات ہے؛ کیونکہ یہ تصویر تو جو آئینے میں اب اس کے سامنے ہے اچھی یا بُری چند سالوں کے اندر اپنے سب ’نقوش‘ سمیت مٹ جانے اور مٹی میں مل جانے والی ہے جبکہ اس کی دوسری تصویر ایک ایسی امر صورت کہ مٹی اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے؛ اور اتنی اہم کہ اس کی تسلی کر لینے کے بعد ہی اسے دارالمتقین میں جگہ ملنے والی ہے کہ جہاں ’بدصورتوں‘ کو پاس پھٹکنے تک نہیں دیا جاتا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کو بنانے کےلیے ’برش‘ شروع زندگانی سے اس کے اپنے ہی ہاتھ میں رہا ہے۔ اب اِس کےلیے اصل طعنہ تو وہی کوڑھ پن اور وہی بدصورتی ہو سکتی ہے جو اِس کی اپنی بنائی ہوئی شکل میں پائی جائے اور جس پر جگ ہنسائی اس دن ہوگی جب سارا جگ اکٹھا ہوگا اور جب لوگوں کے خود اپنی ہی اختیار کی ہوئی ’شکلوں‘ پر مبنی ’نتیجے‘ نکلیں گے۔

اس چھوٹی سی وقتی سی مختصر دُنیا میں بھی .... ذرا تصور کیجئے اپنی شکل وصورت، رنگ وروپ، حلیہ اور قسمت ’بنانے‘ کا تمام تر اختیار اگر یہاں لوگوں کے اپنے ہی پاس ہوتا! خدایا!!! صورت کا نقص تب کتنا بڑا عیب کہلاتا! معیوب صورتوں کو ڈوب مرنے کا ہر طرف سے ’مشورہ‘ ملتا۔ ہر شخص سب سے پہلا کام شاید یہ کرتا کہ اپنی صورت کا وہ بھدا پن جس پر وہ آئینے کے سامنے اپنے سراپے کے ساتھ گھنٹوں ’مفاہمت‘ کرتا ہے ایک لمحے سے پہلے اتار پھینکتا اور دُنیا یہاں ایک ایسا ’مقابلہ حسن‘ دیکھتی کہ اس کا تصور بھی ویسے محال ہے۔ ابھی جب لوگوں کا اپنی جسمانی شکل وصورت اور قدوقامت پر ذرہ اختیار نہیں اور سب ایک دوسرے کی یہ ’مجبوری‘ بخوبی جانتے ہیں، اب بھی لوگ ایک دوسرے کو بخش دینے پر بہت کم راضی ہوتے ہیں! اس معاملہ میں مکمل بےبس ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو کہتے ہیں: اپنی شکل دیکھی ہے‘!  اب بھی، کہ جہاں یہ سب بےبس ہیں، صورتحال یہ ہے کہ بہت سے مرد وخواتین جمالِ صورت کی پریشانی میں گھلے جاتے ہیں۔ رنگت میں معمولی ترین فرق لے آنے کےلیے ہزاروں پاپڑ بیل سکتے ہیں جبکہ ’آرزو وانتظار‘ کے یہ کل ’چار دن‘ ہیں .... وہ بھی ’اگر‘ ہیں ....

اب اگر انسان کو اپنی صورت آپ بنانے کا اختیار ہو جائے اور وہ بھی ایک دائمی جہان میں اور خلد کی زندگی میں جہاں ’آرزو‘ نہ ’انتظار‘ .... تو وہاں بدصورت پھرنے کا روادار پھر کون ہو؟ لیکن ادھر اس علیم اور حکیم کو دیکھئے .... ہمیشگی کے جہان کی بات آتی ہے تو ’قلم وقرطاس‘ انسان کے اپنے ہی ہاتھ میں تھما دیتا ہے کہ لو آپ اپنی شکل تجویز کر لو اور اپنی دائمی صورت کی نقشہ گری یہیں دارِ عمل سے کرجاؤ۔

اپنی صورت پر بھلا کس کو اختیار؟‘ یہ بے بسی خاص اِسی جہان محدود کا واقعہ ہے۔ اگلے جہان کا تو اصل چیلنج ہی یہ ہے کہ وہاں ہر کسی کو اس کی اپنی ہی اختیار کردہ صورت وہئیت ملنے والی ہے! خدایا خیر!!

پس یہ ’مقابلہ حسن‘ تو یہاں بالفعل اس وقت ہو رہا ہے اور پورے زور وشور سے منعقد ہے مگر وائے حسرت، حُسن کا کوئی جتنا بڑا پجاری وہ یہاں اتنی ہی بڑی مات کھا کر جاتا ہے۔ پر جو یہاں آکر سب سے پہلے حسن کے خالق کا ہی پتہ دریافت کرے اور حسن کی بجائے حسن کو وجود دینے والے کی ہی پوجا کرکے جائے اس کو پھر خالق بھی ملتا ہے اور حسن بھی۔ یہ وہ خوش بخت ہے جو اُس معبود کو ہی ہدیہ تحسین پیش کر لینے کا سلیقہ اور برتہ رکھتا ہے جس نے ہستی میں نہ صرف حسن پیدا کیا بلکہ انسان کو اس حسن کے سراہ لینے کا ملکہ بھی ودیعت کیا۔ یہ جب اُس ذات کو سجدہ کر لیتا ہے اور اُسی کی پاکی اور تسبیح، تو یہ اعزاز مل جانے کے بعد پھر کس چیز کی کمی!!؟

للذین اَحسنوا الحسنی وزیادہ ولا یرھق وجوھم قترولا ذلۃ اولئک اصحاب الجنۃ ھم فیہا خالدون۔ والذین کسبوا السیئات جزاءسیئۃ بمثلہا وترھقہم ذلۃ مالہم من اﷲ من عاصم کانما اغشیت وجوھہم قطعا من اللیل مظلما اولئک اَصحاب النار ھم فیہا خالدون (یونس: 26)

جن لوگوں نے یہاں (سوچ اور کردار کا) حُسن پیدا کرلیا ان کا بدلہ بھی کیا ہی حسین ہے اور ’وہ‘ بھی جو اس سے بڑھ کر ہے۔ ان کی صورتوں پہ کالک آئے گی اور نہ ان پر ذلت برسے گی۔ وہ بہشت کے مکین ہیں کہ جہاں وہ جاوداں ہو رہنے والے ہیں۔

پر وہ جن کی کمائی برائیاں اور بدکاریاں رہیں، سو جیسی ان کی برائی ویسا ان کا بدلہ۔ ان پر ذلت ہی ذلت برسے گی۔ کوئی ان کو خدا سے بچا کر نہ دے گا۔ ان کی صورتیں کیا ہوں گی گویا رات کے سیاہ پردے اوپر سے اوپر اُن پر تان دیے گئے۔ یہ دوزخ کے اصحاب ہیں جہاں سے کبھی ان کی جان نہ چھوٹے“۔

یہ ہے خَلق اور خُلُق کے مابین’’ جزاء از جنس عمل‘‘۔ جس چیز کو ’ساری عمر‘ مانگا اسی سے ’ساری عمر‘ محروم رہنے کا عذاب .... سوائے ان کے جن کا معبود سچا تھا!!! کیا کوئی حسن کے پجاریوں کو بتا سکے گا!!؟

یہ ہے ’خَلق‘ اور ’خُلق‘ میں بیک وقت وہ لفظی اور معنوی مناسبت جو شاید عربی زبان میں ہی ادا ہو سکتی تھی۔

اللھم حسَّنتَ خَلۡقِی فحسِّن خُلُقی (مسند ابی یعلی: مسند عبداﷲ بن مسعود حدیث نمبر 5075، صحیح ابن حبان کتاب الرقائق، باب الادعیہ 9359، والبہیقی فی شعب الایمان عن عائشہ: اللہم احسنت خلقی فاحسن خلقی: 8543)

خدایا! جس طرح تو نے مجھے صورت کا حسن دیا ویسے ہی مجھے سیرت کا حسن دے“۔

×××××××××××××××××

اسلامی عقیدہ، جو کہ بعثت انبیاءکے مقصد سے آشنائی پانے کا نام ہے اور وجود میں خدائی منصوبہ کے رازوں سے آگاہی پا لینے کا، جب اختیار کیا جاتا ہے تو وہ انسان کے ایک نئے جنم کا اعلان ہوتا ہے۔

کذلک الایمان اذا خالطت بشاشتہ القلوب

یہ کوئی ’اعمال‘ کے ڈھیر لگا دینے کا پروگرام نہیں ہوتا۔ یہ ’ورد‘ اور ’وظیفوں‘ کی ریاضت نہیں۔ ایمان کوئی ’تنظیمی‘ عمل نہیں۔ یہ کوئی ’مناظرانہ‘ سرگرمی نہیں۔ ’دلائل‘ لاکھڑے کرنے کا نام نہیں۔ ’علمی نکتے‘ بیان کرنے کرانے کا شغل نہیں۔ ’ایمان‘ ایک حُسن ہے جو نفس میں عقیدہ کے حقائق جاگزیں ہو جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ خدا کی صفات سے لو پانے کا ایک فطری انعکاس ہے۔ خدا کی تعظیم وتکبیر اور تسبیح وتمجید اور توحید وتقدیس کا وہ نبوی سلیقہ ہے جو انسان کی ہستی کو ملائکہ سے ایک نسبت دے جاتا ہے۔ خدا کے ماسوا ہستیوں کی بڑائی اور پرستش سے بے زار ہو جانے کی وہ پاکیزگی ہے اور اس کامل بے عیب ذات کو تنہا مقصود اور یکتا معبود بنا لینے کی وہ لطافت جو انسان کو ملتی ہے تو پھر اس کے وجود میں ہر پہلو سے بولتی ہے اور یہ تو معلوم ہے کہ انسانی وجود کرۂ ارض پر ہزارہا پہلوؤں سے اپنا پتہ دیتا اور اپنے آثار چھوڑتا ہے۔ باطن کی خوبی ظاہر میں بھی آپ سے آپ جھلکتی ہے۔ یہاں تک کہ افکار واعمال، طرز بودوباش اور اسلوب تعامل ہر ہر معاملہ میں ___ زندگی کے سب ہنگاموں میں شریک رہتے ہوئے اور یہاں کی سب ناہمواریوں سے گزرتے ہوئے بھی ___ اس کی ذات حسن اور پاکیزگی کی آماجگاہ رہتی ہے۔ یہ اپنے نفس کے شر سے خدا کی پناہ میں آتا ہے تو ماحول کی آلائش سے صاف ہونے کی بھی سعی کرتا ہے۔ نماز کے عمل سے گزر کر اپنا آپ اُجلا کرتا ہے۔ زکوٰۃ کی راہ سے نفس کی میل اتارتا ہے۔ استغفار سے اپنا باطن دھوتا ہے۔ دُعا اور ذکر سے اس کو نکھارتا ہے اور سنوارتا ہے۔ صداقت سے اپنی خوبی اور اچھائی بڑھاتا ہے.... اس کا ایک امتحان البتہ یہ بھی ہے کہ یہ زمین کی خارجی خوبصورتی میں کتنا اضافہ کرکے آتا ہے۔ یعنی ’اخلاق‘ اور ’تہذیب‘ کی راہ سے یہ اپنے آپ کا کیسا ’اظہار‘ کرتا ہے اور گرد وپیش کے ساتھ کیونکر پیش آتا ہے۔

ایمان‘ خدا سے ملنے کی ایک تیاری ہے جس میں آدمی کو سماج کے عین بیچ سے گزارا جانا ہوتا ہے ورنہ محض ’مراسم بندگی‘ کی اگر بات ہو تو یہ امتحان ’عالم ارواح‘ میں یا کسی اور جہان میں بھی ہو جاتا! کئی کروڑ اسی جیسے انسانوں سے بس اس دُنیا میں لاکر ہی اس سے یہ امتحان لیا جانا یہی معنی رکھتا ہے کہ اس امتحان کے نقشے کی ابتداء’بندے اور خدا‘ کے اس تعلق میں کئی اور جہتیں بھی مختلف حیثیتوں میں کارفرما ہوں... اور یہ کہ ان سب جہتوں سے ہی اور ان سب حیثیتوں میں ہی انسان برابر حُسن اور اجالا کرتا جائے۔

انا جعلنا ما علی الارض زینۃً لہا لنبلوھم ایہم احسن عملاً۔ وانا لجاعلون ما علیھا صعیداً جرزاً (الکہف: 7، 8)

روئے زمین پر جو کچھ ہے اسے ہم نے زمین کی رونق بنایا ہے اس لئے کہ اس کو ہم لوگوں کی آزمائش بنا ڈالیں کہ کون سب سے بڑھ کر عمل میں حسن پیدا کر پاتا ہے۔ پھر آخرکار اس سب کو ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں“۔

ماحول میں ’انسان‘ کی روشنی ہونا بھی پس اس امتحان کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس روشنی کو پھوٹنا تو ’درون‘ سے ہے مگر ’نمودار‘ ہوکر رہنا ہے۔

ایمان‘ ایک ایسی قندیل ہے جس میں آگ اندر جلتی ہے تو روشنی باہر ہر طرف ہونے لگتی ہے (کمشکوٰۃ فیھا مصباح) نہ آگ بجھے اور نہ روشنی چھپے۔ (یکاد زیتھا یضیءولولم تمسسہ نار) انسان کی فطرت میں خدا نے دراصل ایک جوہر رکھ چھوڑا ہے جس کو علم نبوت کے لمس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر یہ وہ روشنی کرتا ہے کہ آسمان تک جائے اور زمین تو اس سے خوب ہی روشن ہو۔ شرط یہ ہے کہ نہ یہ انسانی جوہر کسی وقت مسخ ہو اور نہ نبوت سے لیا جانے والا علم شوائب زدہ۔ (یہدی اﷲ لِنورہ من یَشاءواﷲ بکل شیءعلیم).

×××××××××××

چنانچہ خُلق اپنے وسیع معنی میں ایک عقیدہ کا ہی انسان کی سیرت اور کردار اور سلوک میں جھلکنا ہے .... اچھے معنی میں ہو یا بُرے معنی میں۔

عقیدہ سے فکر اور ثقافت تک‘ کے عنوان کے تحت اس سے پہلے ہم عقیدہ کی فکری جانب پر کچھ روشنی ڈال آئے ہیں۔ اس سے پہلے کے بعض مضامین میں ’عقیدہ‘ کے بعض قلبی، شعوری اور وجدانی جوانب پر کچھ بات کر آئے ہیں۔ خدا کے ہاں سے نازل ہونے والی اس حقیقت، اس روح اور اس نور کے انسان کی دُنیا میں رونما ہونے کی ایک جہت اب یہ ہے جو کہ خُلق، سیرت، کردار، رویہ، اسلوب، اطوار، تعامل اور سلوک کہلاتی ہے۔ ’عقیدہ‘ کو ایمان بننے کےلیے یہ سب جہتیں درکار رہتی ہیں۔ ان سب پہلوؤں سے ہی ’عمل‘ اور ’باعث عمل‘ کی درستی ہو جائے تو اس دین کو دُنیا میں اس کا ایک مطلوبہ انسان لے کر دیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک اس عقیدہ کے سماج اور معاشرے میں اتر آنے کی بات ہے .... تو ’عقیدہ‘ ایک بار جب شعور اور وجدان میں ’ایمان‘ بن کر موجزن ہو جاتا ہے تو ایک طرف پھر وہ ’فکر‘ کے راستے ’ثقافت‘ میں ڈھلتا ہے تو دوسری طرف ’سیرت‘ اور ’کردار‘ اور ’اخلاق‘ کے راستے ’تہذیب‘ میں۔ کسی دور میں اسلامی ثقافت اور تہذیب کا صحیح معنوں کے اندر وجود میں آنا (نہ کہ ورثے کی صورت محض ’اوراق‘ کے اندر محفوظ رہنا) پس کلیتاً اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ اسلامی عقیدہ کو فکر اور اخلاق کی ’زبان‘ ملے۔ ’اسلامی تہذیب‘ کے کسی دور میں پنپنے اور دُنیا کے اندر نشوونما پانے کے فکرمندوں کو ہمیشہ اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ یہ عقیدہ فکر اور اخلاق کے راستے اپنے عہد اور زمانے کے ساتھ کہاں تک اور کس سطح کے مکالمہ اورمعاملہ کر پایا ہے اور یہ کہ ’ماحول‘ اور ’سماج‘ میں ’عقیدہ‘ کے شہود میں آنے کو اس دور کی ’مسلم عقل‘ اور ’مسلم کردار‘ کہاں تک ایک موثر ذریعہ medium بن پائے؟

یہ چیز اصل ہے۔ اس کے عمل میں آنے کو درحقیقت ایک بڑا ہی جہاد درکار ہوتا ہے۔ جہاد دراصل اسی کے ہی راستے میں ہوتا ہے یعنی ’عقیدہ‘ کا نفس اورمعاشرے کے اندر پیر رکھوانے اور پیر جمانے کی راہ میں۔

اس لحاظ سے ’جہاد‘، ’عقیدہ‘ کے ساتھ ہی وجود میں آتا ہے کیونکہ عقیدہ کو ’نفس‘ میں جیت دلوانے کےلیے نفس کے خلاف جہاد درکار ہوتا ہے اور ’دُنیا‘ میں جیت دلوانے کےلیے ’دُنیا‘ کے ساتھ .... جبکہ شیطان کے ساتھ واسطہ یہاں بھی پڑا رہتا ہے اور وہاں بھی۔ مگر یہ اس لحاظ سے عقیدہ سے متاخر ہے کہ سب سے پہلے عقیدہ کو ہی اپنی تمام تر جہتوں سے روپذیر اور پھر رونما ہونا ہوتا ہے۔ جہاد کو اسے صرف راستہ دلوانا ہوتا ہے نفس میں بھی اور معاشرے میں بھی۔ اس لحاظ سے جہاد کو عقیدہ کا ’راستہ‘ بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عقیدہ کے ظہور پذیر ہونے کا ’راستہ‘ انسانی فکر وشعور ہے یا پھر انسانی سیرت وکردار اور پھر فکر اور سیرت کے جملہ انسانی مظاہر۔ جس کے بعض مراحل میں اس عقیدہ کو سماجی رحجانات اور اجتماعی سرگرمی کے سب یا بیشتر مظاہر پر بھی تسلط حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ تمام تر راستہ چلنا البتہ اپنے عمومی معنی میں ’جہاد‘ کہلاتا ہے۔

اس باب میں الفاظ اور پیرائے اہم نہیں۔ نہ یہ ہمارا یہاں مقصد ہے۔ کلمات اور تعبیرات کا اختلاف اس معاملہ میں ضرر رساں نہیں اور اس کی پوری گنجائش ہے۔ لہٰذا ’الفاظ‘ اور ’تعریفات‘ کی حد تک دقیق نظری سے لکھنا اس وقت ہمارے پیش نظر نہیں۔ البتہ یہ نہایت ضروری ہے کہ یہ عقیدہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہی نہیں راستےmedium اور غایت scope کے اعتبار سے بھی پوری طرح واضح ہو جائے۔ اس پہلو سے ’دعوت‘ بذات خود کوئی منہج نہیں۔ خود ’دعوت‘ کا کوئی منہج ہونا چاہیے۔ یہی معاملہ تبلیغ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، قِتال وغیرہ کا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چیز بذات خود ’راستہ‘ ہو سکتی ہے اور نہ ’غایت‘۔ یہ سب چیزیں دراصل معاشرے کے اندر محنت اور کوشش اور جدوجہد کی صورتیں ہیں۔ ’دعوت‘ کی بابت دیکھنے کی اصل چیز تو دعوت کا ’مضمون‘ (Content) ہے کہ وہ کس پائے کا ہے اور کس قدر زرخیز وتوانا rich ہے اور یہ کہ کہاں تک وہ عقیدہ کے حقائق کا شعوری، واقعاتی، اخلاقی اور تہذیبی وسماجی ترجمہ ہے۔ پھر یہ تو سب سے آخر میں دیکھا جائے گا کہ وہ (دعوت) کن منا بر forums سے دی گئی، آیا جرائد ومجلات، یا ٹی وی اور ریڈیو، یا مساجد کے اجتماعات و خطبات، یا تعلیمی ادارے اور سیمینار، یا گلیوں بازاروں اور سڑکوں پارکوں کے اکٹھ یا میدان ہائے کارزار سے نشتر ہونے والے پیغام .... جن میں سے ہر ایک کی اپنی اہمیت ہو سکتی ہے اور کوئی بھی فورم شاید نظر انداز ہونے کے قابل نہیں البتہ یہ واضح ہونا سب سے ضروری ہے کہ دعوت کا مضمون ایک چیز ہے (اور سب سے اہم ہے) پھر انسانی تلقی human reception کے کن کن جوانب کو اس کی زد میں لانے کا اس میں انتظام ہے، ایک دوسری چیز اور پھر اس کے لئے کون کون سے مِنبر[4] استعمال ہو رہے ہیں اور پھر یہ کہ اس پر میری اور آپ کی کس قدر محنت ہو رہی ہے (یا بالکل نہیں ہو رہی!؟) ایک تیسری چیز۔

××××××××××××××

علمِ اخلاق کی ’تفصیلات‘ اس وقت ہمارا موضوع نہیں البتہ اس کے شمول اور وسعت کی جانب اشارہ کر دینا ضرور ہمارے پیش نظر ہے۔

اخلاق‘ کی بابت ہمارے نصابوں میں بے شک ایک تلقین پائی جاتی ہے۔ بلکہ ہر ملک کے نصاب میں پائی جاتی ہے اور بلاشبہ انبیاءکی چھوڑی ہوئی تعلیم کے ساتھ خال خال کہیں اس کا ایک اشتراک بھی ہوسکتا ہے مگر ان دونوں کے اصل مضمون content اور پھر اس تک پہنچنے کی جہت aproach میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

ذرائع ابلاغ کے ’روحانی صفحات‘ اور ’مذہبی نشریات‘ کا معاملہ بھی ان جاہلی نصابوں سے کچھ مختلف نہیں .... بلکہ کچھ زیادہ ہی بُرا ہے۔

البتہ زیادہ پریشان کن بات ہماری اپنی مساجد اور منابر سے نشر ہونے والے پیغام کی ہے جس میں کبھی ’اخلاق‘ کی تعلیم ہو بھی تو وہ زیادہ تر ’میل جول‘ اور ’تعلقات‘ کے معاملے میں ایک ’شریف‘ اور ’بھلا مانس‘ آدمی بن کر رہنے سے بڑھ کر کسی خاص مضمون پر مشتمل نہیں ہوتی۔

اخلاق‘ کا جو تصور البتہ ہمیں ’اصول سنت‘ میں ملتا ہے اس کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ اس کی اصل بنیاد، جس میں یہ سب جاہلی نصابوں اور مناہج سے ممیز ٹھہرتا ہے ’تہذیبِ نفس‘ ہے۔ علومِ سلف میں یہ موضوع شاید سب سے زیادہ جگہ گھیرتا ہے۔

تہذیب‘ کی اس ’سلفی‘ بنیاد کے واضح نہ ہونے کے باعث ہی لوگ شاید اس امر کی طرف توجہ نہیں دے پاتے کہ کیوں ہر بڑا محدث اور مولف اپنے ترکہ میں عموماً ایک عدد کتاب الزھد، چھوڑ کر جاتا رہا ہے۔ اس نام سے گو زیادہ مشہور عبداللہ بن المبارک، احمد بن حنبل، بیہقی، ابن ابی عاصم، وکیع، ابو حاتم، الرازی، احمد بن بشر اور ابن تیمیہ کی تالیفیات رہی ہیں مگر اس عنوان سے بے شمار ائمہ نے کوئی نہ کوئی علمی یادگار چھوڑی ہے۔ حدیث کی بیشتر کتب مانند کتبِ ستہ ودیگر کی ہر تصنیف میں آپ ’’کتاب الزہد‘‘ یا ’’کتاب الادب‘‘ وغیرہ نام سے ابواب کا ایک پورا مجموعہ دیکھتے ہیں۔ امام بخاری ”الادب المفرد“ کے عنوان سے الگ ”جزء“ تالیف کرتے ہیں.... وجہ یہی کہ ’تہذیبِ نفس‘ اہلسنت کے خاص امتیازات اور خصائص میں شمار ہوتی ہے۔ قرونِ اولی کا مسلمان یونہی اقوام عالم کا امام نہیں ہو گیا تھا!

آئیے ذرا ایک نظر صحیح مسلم کے چند پاروں (کتب) کے سارے نہیں چیدہ چیدہ ابواب کے صرف عناوین پر ہی ڈالیں اور دیکھیں کہ ہماری دولت مندی کا اندازہ دُنیا کا کوئی نصاب ساز کیونکر کر سکتا ہے۔ یہ محض اس ’گردوں‘ کی ایک تصویر دیکھنے کی کوشش ہے نہ کہ تفاصیل میں جانے کا بیان!

کتاب الزہد والرقائق:

====

*    اس بات کا بیان کہ: ظلم کرکے تباہ ہو جانے والوں کی بستیوں سے مت گزرو سوائے یہ کہ تم وہاں سے گزرتے وقت گریہ زار ہو۔

*    بیوہ، مسکین اور یتیم کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان۔

*    اس شخص کا بیان جو اپنے عمل (کے مقصود) میں خدا کے غیر کو شریک کر بیٹھے۔

*    اس حقیقت کا بیان کہ کسی وقت کوئی ایک کلمہ بول لینے سے بھی آدمی جہنم میں جا پڑتا ہے۔

*    اس شخص کی سزا جو بھلائی کا حکم دے مگر خود اس پر عمل پیرا نہ ہو یا جو بُرائی سے روکے اور خود اس کا مرتکب ہو۔

*    خدا نے آدمی کا پردہ رکھ لیا ہے تو اس کو چاک کر دینے کی ممانعت۔

*    چھینک لینے والے کو پرمسرت کلمات کہنا اور ’جمائی‘ لینے کی کراہت۔

*    مومن ایک بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا۔

*    مومن ہر حال میں ہی خوب رہتا ہے۔

*    کسی کی حد سے بڑھ کر تعریف کرنے سے، جبکہ اس کے فتنہ میں پڑ جانے کا ڈر ہو، ممانعت۔

*    چیز پیش کرتے وقت بڑے کو چھوٹے کی نسبت مقدم رکھنے کا بیان۔

کتاب البِرّ والصِّلۃ والآداب:

===

*    والدین کے ساتھ صلہ رحمی اور خدمت کو نفلی نماز وغیرہ پر مقدم رکھنے کا بیان۔

*    اس آدمی کی خدمت جو ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک کو پالے اور پھر اس کی خدمت کرکے جنت نہ لے۔

*    اس بات کی خوبی کا بیان کہ آدمی ماں باپ کے دوستوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرے۔

*    صلہ رحمی کی فضیلت اور قطع رحمی کی حرمت۔

*    ایک دوسرے سے حسد کرنے، بغض رکھنے اور تعلق قطع کر لینے کی حرمت۔

*    بلاشرعی عذر تین روز سے زیادہ تعلق توڑ رکھنے کو حرام ثابت کرنے کا بیان۔

*    اس بات کے حرام ہونے کا بیان کہ آدمی بدگمانی کرے یا جاسوسی یا نقصان پہنچانے کی غرض سے دوسرے کو پیچھے کرے یا اس کی بولی پر چڑھ کر بولی دے وغیرہ وغیرہ۔

*    مسلمان پر ظلم کرنے یا اس کو بے یارومددگار چھوڑ دینے یا اسے یا اس کی جان یا اس کے مال یا اس کی آبرو کو حقیر جاننے کی حرمت۔

*    مریض کی تیمارداری کو خوب جاننے کا بیان۔

*    گالی گلوچ کی ممانعت۔

*    معاف کر دینے اور تواضع اختیار کر رکھنے کا استحباب۔

*    چغلی کو حرام جاننے کا بیان۔

*    جس آدمی کی بدزبانی سے لوگ بچ کر رہتے ہوں اس کے ساتھ لحاظ سے رہ لینے کا جواز!

*    نرم خوئی کو اچھا جاننے کا بیان۔

*    جانور کو گالی اور لعن طعن کرنے سے ممانعت!

*    دوغلے آدمی کو کریہہ اور اس کے فعل کو حرام جاننے کا بیان۔

*    لگائی بجھائی کو حرام سمجھنے کا بیان۔

*    جھوٹ کا قبیح ہونا اور سچ کا خوب ہونا۔

*    اس آدمی کی فضیلت جو طیش میں خود پر قابو رکھے اور اس بات کا بیان کہ طیش کو کیونکر وضع کیا جائے۔

*    چہرے پرمارنے کی ممانعت۔

*    اس آدمی کےلیے شدید ترین وعید جو کسی کو ناحق سزا دے۔

*    مسجد، بازار یا کسی ایسی جگہ پر کسی کو اسلحے کے ساتھ دیکھے تو اسے کیسے سمجھائے۔

*    مسلمان کی جانب اسلحہ سے اشارہ کر دینے تک کی ممانعت!

*    راستے سے اذیت دور کرنے کی فضیلت۔

*    بلی یا کسی غیر موذی جانور کو اذیت دینے کی حرمت۔

*    کسی انسان کو خدا کی رحمت سے مایوسی میں ڈال دینے سے ممانعت!

*    کمزوروں اور ناتوانوں کو افضل جاننے کا بیان!

*    پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کیا جانے کی تاکید۔

*    خندہ پیشانی سے ملنے کا استحباب۔

*    معاملہ ناجائز نہ ہو تو (حقدار ضرورتمند کےلیے) سفارش کر دینے کا استحباب۔

*    اچھے لوگوں کی ہمنشینی اختیار کرنے اور بُروں کی صحبت سے دُور رہنے کا استحباب۔

*    بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت۔

کتاب الآداب:

===

*    اس بات کی کراہت کہ بچے کا نام رکھتے وقت بُرے لفظ کا انتخاب کیا جائے۔

*    نومولود کو گھٹی دینے کےلیے کسی نیک شخص کے پاس اٹھا کر لے جانے کا استحباب۔

*    اس بات کا جواز اور استحباب کہ آدمی کسی دوسرے کے بچے کو بھی ازراہ شفقت ’بیٹا‘ کہہ لے!

*    اجازت لینے کا بیان۔

*    کسی دوسرے کے گھر پہ نظر ڈالنے کی حرمت۔

*    اچانک نظر پڑ جانے کا بیان!

کتاب السلام:

===

*    سوار کا پیدل کو سلام کہنا اور تھوڑوں کا زیادہ کو۔

*    چھوٹے بچوں کوسلام کہنے کا استحباب۔

*    غیر عورت کے ساتھ خلوت میں پائے جانے کی حرمت۔

*    اس آدمی کےلیے کیا کہنا مستحب ہے جو کسی عورت کے ساتھ کہیں خلوت میں پایا جائے جبکہ وہ اس کی اپنی بیوی ہو!

*    اس بات کا بیان کہ آدمی مجلس میں جگہ خالی پائے تو وہاں بیٹھے ورنہ پیچھے جا کر بیٹھے!

*    کسی پہلے سے بیٹھے آدمی کو اس کی مجاز جگہ سے اٹھا کر بیٹھنے کی حرمت۔

*    اس بات کا بیان کہ کوئی شخص مجلس سے نکل کر واپس آئے تو اپنی پہلے والی جگہ پر بیٹھنے کا اسی کو سب سے بڑھ کر حق ہے۔

*    راستے میں کسی غیر عورت کو تھکاوٹ سے چور دیکھے تو اس کو سواری پر پیچھے جگہ دے دینے کا جواز۔

*    دو آدمیوں کا تیسرے کو اکیلا چھوڑکر، بغیر اس کی رضامندی، آپس میں سرگوشی کرنے کی ممانعت۔

کتب الاشربۃ:

===

*    اس بات کا استحباب کہ گٹھلی کھجوروں کے طشت میں ہی نہ رکھ دی جائے! اور اس بات کا استحباب کہ مہمان (اختتام طعام پر) میزبان کےلیے دُعائیہ کلمات کہے! اور اس بات کا استحباب کہ مہمان کوئی نیک آدمی ہو تو گھر والے اس سے دُعا کی درخواست کریں اور یہ کہ وہ ان کی درخواست قبول کرلے!

*    اکٹھے کھا رہے ہوں تو ایک ساتھ دو کھجوریں یا دو لقمے اٹھا لینے کی ممانعت!

*    لہسن کھانے کا جواز اور یہ کہ جس کو معزز لوگوں کے ساتھ شریک گفتگو ہونا ہو وہ البتہ اس کو کھانے سے پرہیز کرے۔

*    مہمان کے اکرام اور اس کو اپنے پر مقدم رکھنے کا بیان۔

*    تھوڑے کھانے میں دوسروں کو شریک کر لینے کی فضیلت اور یہ کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کو کفایت کرتا ہے!

*    مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں بھرتا ہے!

*    کھانے میں عیب نہ نکالنے کا بیان۔

*    برتن کے اندر سانس لینے کی کراہت اور اس بات کا استحباب کہ آدمی مشروب کی تین سانسیں کرے!

*    کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے، برتن صاف کرنے اور گرا ہوا لقمہ بھی اٹھا کر کھا لینے کا استحباب۔

*    مہمان کے ساتھ کوئی بن بلایا دوست ہو تو وہ کیا کرے اور اس بات کا استحاب کہ وہ میزبان سے اپنے ساتھی کےلیے اجازت لے۔

کتاب اللباس والزینۃ:

===

*    خوردونوش کےلیے سونے چاندی کے ظروف زیراستعمال لانے کی حرمت۔

*    ضرورت سے زائد بستر اور لباس وغیرہ رکھنے کی کراہت۔

*    اپنی پوشاک میں اترانے اور ٹھاٹھ سے چلنے کی حرمت۔

*    جوتے وغیرہ پہن کر رکھنے کا استحباب۔

*    جوتا پہنتے وقت دایاں پیر پہلے اور اتارتے وقت بایاں پہلے کا استحباب۔

*    جانور کو منہ پر مارنے کی ممانعت[5] جانور کو منہ پر داغنے کی ممانعت۔

*    آدھا سر منڈوانے کی کراہت۔

*    گلیوں میں بیٹھک جمانے کی ممانعت اور (اگر بیٹھیں تو) راستے کو اس کا حق دینے کی تاکید!

*    ایسا لباس پہننے کی ممانعت جس سے آدمی لوگوں کو اپنی حیثیت کی بابت دھوکا دے لے اور اس بات کی ممانعت کہ آدمی اپنے آپ کو اپنی اوقات سے بڑھ کر ظاہر کرے۔

××××××××××××××××

شہزادوں کو بھی کبھی کسی نے اس طریقے سے پروٹوکول نہ سکھائے ہوں گے؟

یہ ’نقطے‘ محض ایک ’تصویر‘ بنانے کےلیے ہیں اور یہ صرف حدیث کی ایک ہی کتاب کے چند پاروں سے لئے گئے ہیں۔

’خُلُق‘ چونکہ انسانی وجود کی لافانی اور جاودانی جہت ہے اور یہ انسان کی وہ اخروی ’شکل وشباہت‘ ہے جس پر اپنے حسن پہ ستائش پانا بھی اس کا حق بنتا ہے اور اپنی بدشکلی پر برا کہلوانا بھی.... دیکھیے رسول اللہ تہجد کے ابتدائیہ میں کیونکر اور کس طرح خوبصورت تمہید کے ساتھ لب پہ یہ دُعا لاتے ہیں:

عن علی بن ابی طالب عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم انہ کان اذا قام الی الصلاۃ قال:

”انِیّ وجھت وجھی للذی فطر السماوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین انَّ صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی ﷲ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا من المسلمین اللھم انت الملک لا الہ الا انت انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی واعترفت بذنبی فاغفرلی ذنوبی جمیعاً انہ لا یغفر الذنوب الاّ انت واھدنی لاحسن الاخلاق لا یھدیٰ باَحسنھا الا انت واصرف عنی سئیھا لا یصرف عنی سئیھا الا انت لبیک وسعدیک والخیر کلہ فی یدیک والشر لیس الیک انا بک والیک تبارکت وتعالیت استغفرک واتوب الیک“ (صحیح مسلم: کتاب صلاۃ المسافرین وقصرھا باب الدعاءفی صلاۃ اللیل وقیامہ، حدیث: 1290)

علی رضی اللہ تعالی عنہ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ رات کو قیام میں کھڑے ہوئے تو گویا ہوئے:

میں نے اپنا رخ سارے کا سارا پھیر دیا اس ذات کی سمت جس نے وجود دیا آسمانوں کو اور زمین کو ___ اسی ایک کی طرف یکسو ہو کر ___ اور میں ہرگز مشرکوں میں سے نہیں۔ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اورمیرا مرنا درحقیقت اللہ رب العالمین کےلیے ہے کہ (اس میں) کوئی اس کا شریک نہیں۔ میں مامور ہوں اس بات کا اور میں ہوا سر خم کر دینے والوں میں۔ خدایا تو بادشاہ، نہیں لائق بندگی کوئی سوائے تیرے۔ تو میرا مالک پروردگار ہے میں تیرابندہ غلام۔ مجھ سے ہی ظلم ہوا ہے اپنی جان پر۔ میں نے اپنا قصور مانا۔ پس بخش دے مجھے میرے سارے کے سارے قصور۔ کوئی نہیں جو قصور معاف کرے ایک تیرے سوا۔ مجھے اعلیٰ ترین خوبیوں سے متصف کر کوئی نہیں جو اعلیٰ خوبیاں بخش دے سوائے تیرے۔ معیوب خصلتیں مجھ سے دور کردے کوئی نہیں جو معیوب خصلتوں سے جان چھڑا دے سوائے تیرے۔ لبیک وسعدیک۔ بھلائی ساری کی ساری تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ شر کو نسبت تجھ سے نہیں۔ میں تیرے سہارے ہوں اور تیری ہی جانب یک رخ۔ تو بابرکت۔ تو بلند وبالا۔ تجھ ہی سے بخشش کا سوالی ہوں اور تیرے ہی در کا تائب“۔

××××××××××××

ہمارے ایک مخصوص طبقے کے ہاں یہ تاثر بہت عام ہے کہ ’صحیح راستے‘ اور ’حق‘ پر پائے جانے کےلیے کسی جماعت کا اصل امتیاز بس ’عقیدہ‘ ہونا چاہیے۔ اس اپروچ کی سطحیت حد سے زیادہ ہے اور عموماً یہ اپروچ ’موقف بیان کرتے رہنے‘ سے بڑھ کر کسی سمت نہیں جاتی۔

اس سے بڑی زیادتی البتہ یہ ہے کہ آدمی رسولوں کی بابت بھی قریب قریب کچھ ایسا ہی گمان رکھے۔ گویا رسولوں کی عوامی سرگرمی بھی اگر کوئی تھی تو وہ اپنے موقف کی ’وضاحتیں‘ کرنا تھا اور کچھ ’عقائد‘ اور ’اعمال‘ کی تصحیح کرا دینا!

انبیاءخدا کے ہاں سے جس ’حقیقت‘، جس ’روح‘ اور جس ’نور‘ کو لے آکر آتے تھے وہ ایک بڑی ہی ہمہ جہت چیز تھی۔ اس کو تصور میں لانے کےلیے سطحیت سے نکل آنا اور اپنے پیشگی مقدمات اور گروہی تاثرات سے آزاد ہو لینا اس ’حقیقت‘، اس ’روح‘ اور اس ’نور‘ کا اپنا ہی حق ہے۔

چنانچہ انبیاءسے انسانوں کو جو روشنی ملتی تھی وہ بے شمار جہتوں میں انسانی تلقّی کی دنیا میں بیک وقت بڑھتی اور پھیلتی تھی۔ ان کے ایک ہی جملے میں عقیدہ، ایمان، عبادت، شریعت، تہذیب، اخلاق، فہم، فکر، علم، عقل، تاریخ، معاشرہ، سماج، شعور، آگہی، عمل، جہاد، دُنیا، آخرت.... نہ جانے کیا کیا جہتیں بول رہی ہوتی تھیں۔ ان پر تو ایک نگاہ ڈال لینے سے ہی اور ان کے ساتھ تو چند گھڑیاں گزار لینے سے ہی.... اور ان کو تو چلتے ہوئے ایک نظر دیکھ لینے سے ہی آدمی کے ’تصورات‘ سرتاپیر بدل جاتے تھے۔ اور یہ بات محض ہم ’صوفیانہ‘ اور ’تبرکانہ‘ انداز میں نہیں کررہے.... حقیقتاً ’تبدیلی‘ کی ایسی ایسی جہتیں اور ایسے دور رس پیغام ان کی نگاہوں سے اور حتی کہ ان کے سکوت سے نشر ہوتے تھے کہ آدمی دم بخود رہ جائے۔

یہ ایک بے انتہا اہم مقدمہ ہے جو کتب اور روایات کی وساطت، علم نبوت سے فیضاب ہونے کےلیے پیش نظر رہنا ضروری ہے۔ اس کا روپوش ہونا ہی اس سطحیت کا پیش خیمہ ہے جس کا ہمارا آج کا تحریکی اور دعوتی عمل عموماً شکار ہے۔

فہم‘ کے ابتدائی مرحلے ہمارا آج کا تحریکی اور دعوتی ذہن بے انتہا تیزی کے ساتھ پھلانگ جاتا ہے اور پھر ’کرنے کا کام‘ مانگتا ہے جو کہ ان بنیادوں کو یوں ’کود کر‘ گزر جانے کے باعث دیا ہی نہیں جا سکتا سوائے یہ کہ وہ ’کرنے کا کام‘ تو ہو مگر کہیں ’پہنچنے‘ کا کام نہ رہے!

نبوت سے لی جانے والی نصوص ’کارِ انبیاء‘ کی بابت دراصل ایک پوری ’تصویر‘ بنانے کےلیے ہیں۔ اس تصویر کا کم از کم ایک ہیولیٰ بھی ذہن میں بن گیا ہو تو پھر ہر نص اس تصویر کی ایک پختہ اور باقاعدہ جہت بن جاتی ہے اور یوں ’ایمان‘ اور ’عمل‘ کی یہ تصویر انسان کے پردۂ تصور پر واضح بھی ہوتی جاتی ہے اور گہری بھی۔ اس کا مقدمہ البتہ وہی پیشگی تصور ہے جو انسان کو نبوت سے ملنے والے ’علم‘ اور ’نور‘ کی بابت رکھنا ہوتا ہے۔ تب انسان ورثہ نبوت میں وہ کچھ پڑھتا ہے جس کی طرف ویسے اس کی نگاہ نہ جا پاتی۔

چنانچہ یہ سوال کہ رسول اللہ کے پیش نظر کام اور مشن کیا تھا، اگر آج کے عمومی تحریکی ذہن کو سامنے رکھ کر اس کا جواب ڈھونڈیں توبے حد سطحی نتائج دیکھ سکتے ہیں:

*   رسول اللہﷺ نے مکہ میں دعوت دی، مدینہ میں جہاد کیا، بات ختم .... اس سے بڑھ کر ’پتہ کرنے‘ کی اس میں کیا بات ہے“؟!

^    مکہ میں جہاد کیوں نہ کیا؟ سادہ جواب: ”طاقت نہیں تھی“!! یعنی ’طاقت‘ ہوتی تو وہاں بھی ’جہاد‘ ہی ہوتا اور ’دعوت‘ زیادہ سے زیادہ ’الٹی میٹم‘ کی ہم معنیٰ چیز ہوتی!؟ کیا ’دعوت‘ کی اس سے علاوہ کچھ اور جہت بھی ہے؟ اور کیا جہاد کی اس سے بڑھ کر کچھ اور اہمیت بھی ہے؟

*   رسول اللہﷺ نے مکہ میں اسلامی حکومت کا نقشہ پیش کیا، اس کی تیاری اور اس کے لئے مواقع کی تلاش میں لگے رہے، مدینہ میں اس کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو گئے“!

^   یعنی ’مکہ‘ میں ’مدینہ‘ کے ہی تمام تر نقشے بنتے رہے ’مکہ‘ کا اپنا کیا واقعتا کوئی ’نقشہ‘ نہیں!؟؟ ’مکہ‘ میں جو ہوا اس کی مستقل بالذات کوئی حیثیت نہیں!؟

غرض کتب سیرت اور ’ذخیرۂ نصوص‘ سے خواہ وہ کوئی سی بھی ہو، تیزی کے ساتھ گزر جانا اور ’عمل‘ کی بھی اس میں ایک سطحی اور گروہی سی ہی صورت بنا سکنا، چاہے اس پر عملدرآمد کرنے اور کروانے میں کتنی بھی سنجیدگی بلکہ ’’سختی‘‘ ہو .... اور یوں دین کے کسی بہت چھوٹے سے جزو کو کل سے بھی بڑا کر دینا.... ایک ناکافی نظر سے دیکھی اور سمجھی جانے والی چیز کو حرف آخر اور دین کی کلی تفسیر کا درجہ دے لینا اور اسی کو صلائے عام کا موضوع بنانا ہماری دعوتی دُنیا کا ایک عام مظہر ہے۔

*   ابھی ’تکفیرِ حکام‘ اور ’مخالفت ِنظام‘ ایک پوری دعوت ہے!

*   خلافت‘ ایک پوری (full fledge) دعوت ہے!

*   بعض فرقوں اور جماعتوں کا تعاقب ’عمل‘کا ایک جامع پرگرام ہے!

*   دین کا ابھی کتنا کچھ اور پڑا ہے جس کی بنیاد پر ’دعوتیں‘ کھڑی کی جاسکتی ہیں؟! چلیے یہ عمل اگر ’تقسیم شعبہ جات‘ کے طور پر ہو، جیسا کہ اس سے پہلے اپنے ایک مضمون میں ہم کہہ آئے،  تو شاید کسی قدر قابل قبول ہوتا۔ تب یہ سب ایک دوسرے کو مکمل کرنے کےلیے ہوتے نہ کہ ایک دوسرے کو ’نامکمل‘ ثابت کرنے کےلیے۔ مگر یہ سب کچھ تو دین کی ایک ’باقاعدہ‘ اور ’مکمل‘ تفسیر کی کوشش کے طور پر ہو رہا ہے، جو کہ ایک توجہ طلب امر ہے۔

اہلسنت کے ’اصول‘ اور ’خصائص‘ کا استیعاب کرانا ہمارے تحریکی عمل کی ایک بڑی ضرورت ہے۔

××××××××××××××

علم‘، ’فہم‘ اور ’فکر‘ کے ساتھ ساتھ ’سلوک‘، ’طرز عمل‘ اور ’شخصیت‘ وہ دوسری بڑی جہت ہے جو ’صحیح راستے‘ اور ’حق‘ پر پائے جانے والے لوگوں کو دُنیا میں اپنا ظہور کرنے کےلیے درکار ہوتی ہے اور اہم بات یہ کہ یہ بھی ”امتیاز“ کے طور پر ہی درکار ہوتی ہے.... اور یہ آخری بات حد درجہ غور طلب ہے۔

یہ دُنیا کچھ یوں بنائی گئی ہے کہ ہر طبقہ اور ہر فرد یہاں محض اپنے ’تخصص‘ اور اپنی ’اَسناد‘ credentials سے ہی نہیں پہچانا جاتا بلکہ توقع یہ بھی کی جاتی ہے کہ اُس کا وہ ’تخصص‘ اور اس کی وہ ’اَسناد‘ اُس کے لہجے اور اسلوب میں ہی بونے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ خاص طبقے اپنے سلوکی خصائص، کو اپنے اندر باقی رکھنے اور اپنی آئندہ نسلوں کو منتقل کرنے کا خاص انتظام کرتے ہیں۔

شاہی خاندان کے بچوں کو اپنی نشست وبرخاست میں ایک خاص اسلوب رکھنے کی تربیت دینے پر اتالیق مقرر ہوتے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ ایک ’شہزادہ‘ بے سروسامانی کی حالت میں بھی دیکھنے کے انداز سے ہی پہچان میں آجائے اور یہ کہ وہ خاموش بھی ہو تو اس کی ایک خاص شان ہو اور اس میں ایک خاص اعتماد اور ایک بڑائی پائی جائے۔

بڑے خاندانوں‘ کے بچے اپنے اسلوب اور انداز سے پہچان لئے جاتے ہیں۔

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کے، دیکھنے سے ہی، پہچان میں آجانے کی توقع ہوتی ہے۔ ایسا نہ ہو تو بعض اوقات دیکھنے والے کو ’مایوسی‘ بھی ہوتی ہے۔

ایک اُوت آدمی خاموش بھی ہو تو چھپانہیں رہتا۔

غلام لوگ اور ان کے بچے ایک نظر میں ہی پہچانے جاتے ہیں۔

وغیرہ وغیرہ۔

مگر یہ معاشی اور طبقاتی تقسیم کی بات ہے اور محض مثال کےلیے مذکور ہوتی ہے۔ البتہ افکار اور مذاہب بھی انسان کے اندر اپنے اپنے انداز سے یہی کام کرتے ہیں۔ ’عقیدہ‘ اور ’فکر‘ اور ’دینی کام‘ کی بابت یہ ایک بہت توجہ طلب امر ہے۔

البتہ یہ ایک طبعی امر بھی ہے، اس سے مفر ممکن نہیں ....

بعض لوگ محض ’سلام‘ ہی کریں تو آپ ان کی ’تنظیمی وابستگی‘ کی بابت بتا سکتے ہیں۔ ان کے ’حال چال‘ اور ’علیک سلیک‘ میں ہی آپ کو ’داخل تنظیم‘ کرنے کا ایک پورا اسلوب بول رہا ہوتا ہے!

بھائی‘ کا لفظ جو سب مسلمانوں کے ہاں ہی بے تکلف مستعمل ہے البتہ جب ایک ’تنظیمی تربیت‘ سے گزرے ہوئے شخص سے سننے کو ملتا ہے تو اس کا ایک خاص ’تلفظ‘ محسوس کئے بغیر آپ نہیں رہتے! ’معانقہ‘ کی تاب لانا تو ظاہر ہے کتنا ہمت طلب ہوگا!

مناظرے‘ پر مبنی عقیدہ رکھنے والے لوگ اپنے الگ انداز میں پہچانے جاتے ہیں۔

لوگوں کے پیچھے ’نماز‘ نہ پڑھنے والے، جب ’نماز‘ نہیں بھی پڑھ رہے ہوتے تب بھی اپنا خاص تاثر دے لیتے ہیں!

گوشہ نشین اور چلہ کش لوگ اپنے علیحدہ خدوخال رکھتے ہیں۔

کالجوں‘ اور ’دینی مدارس‘ میں زیرتعلیم لڑکوں یا لڑکیوں کو آپ دیکھنے میں ہی ممیز کرلیتے ہیں۔

مختلف رنگوں کے پٹکے اور کرتے وغیرہ بعض مذہبی طبقوں کےلیے محض ایک اضافی تعارف ہیں۔ ان کے بغیر بھی آدمی کی پہچان ہونے میں شاید کچھ ایسی دشواری نہیں آئے!

یہاں کمیونسٹوں کے چہروں کے اپنے ملامح features   ہوا کرتے تھے۔ عیسائی مشنری اپنی چال ڈھال سے پہچانے جاتے ہیں۔ کٹر یہودی اپنی سیاہ ٹوپی اور لباس نہ بھی پہنے ہوئے ہوں نگاہوں کے زاویوں سے ہی شناخت ہو جاتے ہیں۔ ہندو اور بدھ بھی اس قاعدے سے مستثنیٰ نہیں۔

انبیاءکے دین کی حقیقت سے محروم، رفاہ عامہ کا کام کرنے والے یا اخلاق کا مظاہرہ کرنے والے اپنا ایک الگ اسلوب رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسا پھول ہوتا ہے جو سائز میں چاہے معمول سے بھی بڑا ہو، خوشبو سے تقریباً خالی ہوتا ہے۔

یہ سب ایک طبعی واقعہ ہے۔ ’تصنع‘ بھی اس میں کچھ خاص فرق نہیں لا سکتی۔

انسانی دُنیا عجب تنوع کی دُنیا ہے۔ ایک تو چیزوں کا اپنا تنوع پھر ان کے رکھنے اور دھرنے میں ایک عجیب وغریب تنوع! یوں انسان ’اشیاء‘ سے بھی پہچانا جاتا ہے اور اشیاءکو ’لینے‘ اور ’رکھنے‘ کے ذوق سے بھی۔

قیمتی ونادار اشیاءرکھنے کےلیے لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ اور مہنگے سے مہنگے طاق خریدنے میں بھی شاہ خرچی کی پرواہ نہیں کرتے۔

اسلام مادی اشیاءکے بارے میں جہاں اصناعتِ مال کو معیوب ٹھہراتا ہے وہاں معنوی اشیاءکے معاملے میں نہایت بلند ذوقی اور حتی کہ ’شاہ خرچی‘ کا قائل ہے۔ ’اشیاء‘ کا بیش قیمت ہونا تو ویسے ہی یہاں طے ہے ان کو ’لینے‘ اور ’دھرنے‘ اور معاشرے میں ان کا ایک ’جائز مظاہرہ‘ کرنے میں بھی ایک بے تصنع مگر اعلیٰ اور بیش بہا ’اسلوب‘ کا تقاضا ہوتا ہے۔ اس میدان میں ہر کسی کو اپنی ہمت کے جوہر دکھانے ہیں۔ ’تکاثر‘ اور ’بہتات‘ یہاں معیوب نہیں، بلکہ نہایت مستحسن ہے!

اب سوال یہ ہے کہ آسمان سے انسان کی ہدایت اور تہذیب کو اگر ایک گراں مایہ چیز اترتی ہے اور خاص فرشتوں کے ہاتھ دے کر بھیجی جاتی ہے تو زمین میں اس کے ’دھرنے‘ اور ’مظاہرہ‘ کرنے کو کس انداز کی شخصیت درکار ہوگی!

یہی وجہ ہے کہ لوگ انبیاءسے ’عقیدہ‘ بعد میں لیتے تھے اور سیرت وشخصیت کا تاثر پہلے۔ انبیاءکی شخصیت میں کوئی ایسی چیز رکھ دی گئی تھی کہ ان کو دیکھ کر ہی اور ان سے ’عقیدہ‘ کی دعوت سننے سے پہلے ہی انسان کا دل کہنے لگتا کہ یہ کوئی عام سا انسان نہیں (ان ھذا الا ملک کریم!!) حُسن کی ایسی ایسی جہتیں اُن کی سیرت اور شخصیت سے پھوٹتی تھیں اور بلند خیالی، بلند نگاہی اور بلند ذوقی، وقار اور حلم وبردباری کے ایسے ایسے خوبصورت پیغام ان کے اسلوب سے نشر ہوتے تھے اور کچھ ایسی تمکنت اور ہیبت ان کے پیکر سے مترشح تھی کہ ان کو ایک نظر دیکھ لینا زندگی کا ایک منفرد ترین واقعہ کہلائے۔

جسمانی طور پر بھی انبیاءسب سے حسین صورت پر پیدا کئے جاتے تھے۔ خاندان اور سماجی مرتبے کے معاملے میں بھی خدا ان کےلیے بہترین جگہ چنتا تھا۔ ذہانت میں بھی کوئی ان کا ثانی نہ ہوتا تھا۔ پھر جب ساتھ میں یہ ذوق اور اسلوب کی رعنائی اور شخصیت کی وجاہت اور سبھا کی خوشبو بھی انتہا درجے کی ہو.... یعنی خَلق اور خُلُق دونوں جہتوں سے انسانی حقیقت نشر ہو او یہ بھی یوں کہ وہ وقت کی آواز نظر آئے اور ’فطرت‘ کی صدا تو پھر اس کے کیا کہنے!!

اﷲ اعلم حیث یجعل رسالتہ (الآنعام: 124)

خدا خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں ’دھرے‘!!

یہی وجہ ہے کہ ”کان خلقہ القرآن“ ایک ایسی نایاب وبرجستہ تصویر ہے جو حاملِ رسالتﷺ کے حوالے سے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عبقریت ہی ہمیں اتار کردے سکتی تھی۔

خیر انبیاءکی بات تو انبیاءکے ساتھ خاص ہے۔ ان کے ذمہ جو کام تھا وہ کسی اور شخص کے بس کی بات نہیں۔ مگر ’دین‘ کی بابت وہ ایک ایسا معیار بھی ہیں جس کو قائم رکھنے کی اپنی سی کوشش کرنا بہرحال ہم پر لازم۔

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ’مکارم اخلاق‘ کو اہلسنت کے خصائص میں باقاعدہ درج کیا ہوا ملتا ہے؟ یعنی جس طرح محض یہ کافی نہیں کہ آپ کا ’عقیدہ‘ درست ہو حتی کہ آپ ’عقیدہ‘ کی دعوت بھی دے لیتے ہوں جب تک کہ وہ آپ کا امتیاز نہیں بن جاتا، عین اسی طرح مکارمِ اخلاق کا ایک تو پایا جانا ضروری ہے، جو کہ آسان کام نہیں، پھر یہ ضروری ہے کہ وہ آپ کا ایک امتیاز اور ایک باقاعدہ ’حوالہ‘ بن جائیں۔

بلاشبہ یہ ایک کٹھن چڑھائی ہے اور خدا ہی جانتا ہے اس معاملہ میں ہم میں سے کس کا کیا حال ہے۔

منہج اہلسنت کی یہ ایک غیر معمولی جہت ہے۔

چنانچہ جہاں ’عقیدہ کا امتیاز‘ اہلسنت نے انبیاءسے وراثت میں لیا ہے تو اس کو ایک خاص قرینے سے سجانے کےلیے ’ظروف‘ بھی اہلسنت نے وہیں سے لئے ہیں!

سنار سے جب آپ کوئی بیش قیمت زیور خرید کر لاتے ہیں تو وہ اس کو کسی ’شاپنگ بیگ‘ میں ٹھونس کر آپ کو نہیں تھما دیتا!

ترکاریوں کے ڈالنے کےلیے جو تھیلے استعمال ہوتے ہیں وہ جواہرات کےلیے کبھی بھی مستعمل نہیں رہے!

خالص وحی کو انسانی پیکروں میں جھلکنے کےلیے جو خوبصورت ظروف درکار رہتے ہیں ان کو ’مکارمِ اخلاق‘ کہا جاتا ہے اور یہ بھی انبیاءکی وراثت کا باقاعدہ حصہ ہیں۔ ہمارے نبی نے تو یہ ورثہ ہمارے لئے بدرجہء اتم چھوڑا ہے۔

بُعثت لاتمم مَکارم الاخلاق (مسند احمد عن ابی ھریرہ حدیث 8595)

لوگ ائمہ سنت کے پاس آآکر صرف ’عقیدہ‘ اور ’فتاویٰ‘ اور ’مرویات‘ لے کر ہی نہیں جاتے تھے بلکہ اپنے باطن کی دُنیا بھی تبدیل کروا کر جاتے اور ادب واخلاق، قرینہ وسلیقہ اور تزکیہ وسلوک کی بھی اُن کے ہاں سے جھولیاں بھر کر جاتے۔

بعد ازاں اس عمل میں جو خلا پیدا ہوا تو ’مسندِ حدیثِ افتاء‘ کا متبادل رفتہ رفتہ ’درگاہ‘ بننے لگی۔ اس سے بڑا حادثہ اس اُمت کی تاریخ میں شاید کوئی اور پیش نہ آیا ہو۔

وہ دور جو ہمارے لئے مثال ہے، شرعی نص کی رُو سے بھی اور تاریخی شہادت کی بنا پر بھی، وہاں اس ’جنس‘ کی بھی ائمۂ سنت کے ہاں ہی فراوانی تھی....

حسن بصری، سعید بن المسیب، سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی، عبداللہ بن المبارک، ابو حنیفہ، مالک بن انس، سفیان ثوری، شافعی، اوزاعی، احمد بن حنبل وغیرہم وغیرہم.... صرف ’حدیث‘ اور ’علم‘ کے امام نہیں تھے، ادب، اخلاق، سلوک اور تہذیب میں بھی مرجعِ خلائق تھے۔ ان کی مجلس میں کچھ وقت گزار لینے والے اپنے سلیقے اور اسلوب سے پہچانے جاتے تھے۔ جتنا چرچہ ان کے علم اور فہم کا ہے اس سے زیادہ نہیں تو اتنا ہی چرچہ ان کے وقار اور ادبی خوبیوں کا رہا ہے۔

امام شافعی کی سوانح میں یہ بات مذکور ملتی ہے کہ آپ کی والدہ، جو کہ نہایت باصلاحیت، دیانتدار اور جہاندیدہ خاتون تھیں، یہ معلوم ہونے پر کہ ان کے فرزند کو اس کم سنی میں امام مالک کے روبرو ’مجلس حدیث‘ میں بیٹھنے کی اجازت مل گئی ہے پہلے تو خوشی سے بے حال ہوئیں پھر فرزند سے مخاطب ہو کر کہنے لگیں: ”بیٹا، مالک وہ امام ہیں جن سے لوگ ان کے علم سے بھی پہلے ان کا وقار سیکھتے ہیں۔ تمہیں بھی یہ موقعہ مل گیا ہے تو پہلے ان سے وقار اور تمکنت اور اوصاف کمال ہی سیکھ کر آنا“۔

حوصلہ، وسیع الظرفی، خندہ پیشانی، برداشت، سنجیدگی، متانت، خوش اسلوبی، ٹھہراؤ، حسنِ تکلم، خوبیِ تلفظ، لہجے کا درست ہونا، بے ساختگی.... پھر ایثار، حفظ مراتب، قربانی، بے لوثی، عفت، عزتِ نفس، تواضع، بے پروائی اور احترامِ آدمیت کا بیک وقت ایک امتزاج پایا جانا.... عالی ظرفی، لوگوں کی خیر خواہی میں آخری درجے تک چلے جانا، لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خوبی کی قدر کرنا، بڑی بڑی ناروا باتوں سے یوں صرف نظر کر جانا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، واقعیت پسندی، برائی کو اچھائی بنا کر لوٹانا اور اچھائی کا جواب تو بہت ہی بڑھ کر اچھائی سے دینا.... دلیری، بہادری، جفاکشی، سخت کوشی، مجاہدہ.... نرم خوئی، سوز، گداز، شفقت.... واضح، دو ٹوک اور فیصلہ کن ہونا.... عدل، احسان اور ایتاءذی القربی، رشتوں کا پاس، حسنِ عہد، وفا.... معاملہ فہمی، خود اعتمادی.... صبر، شکر، تعلیم، ہدایت، اخلاص.... ’باہر‘ سے بڑھ کر ’گھر‘ میں اچھا ہونا اور ان دونوں سے بڑھ کر ’باطن‘ میں اچھا ہونا، سہل الحصول اور سہل الوصول ہونا.... اصول پسندی، نظم، توازن، ضابطوں کی پاسداری.... گہرائی، گیرائی، عدم سطحیت، علمی رویے.... راستبازی، دیانت، خدا خوفی.... قناعت، زہد، آخرت طلبی.... سب کچھ مکارم اخلاق میں آتا ہے اور اس ناطے سے ہم اہلسنت کی پہچان ہونا چاہیے۔

منہج اہلسنت کے ایک مختصر تعارف کےلیے مجموع فتاوی ابن تیمیہ سے ماخوذ ایک تالیف اہل السنۃ والجماعۃ۔ معالم الانطلاقہ الکبری جس کا اُردو ترجمہ ’اہلسنت فکر وتحریک‘ کچھ عرصہ پیشتر ہم کر چکے ہیں، میں اہلسنت کے امتیازات پر دس فصلیں قائم کی گئی ہیں جن میں سے فصل سوئم ”اخلاق وسلوک کی بابت اہلسنت کے خصائص“ کے عنوان سے دی گئی ہے.... جو کہ یہ واضح کر دینے کےلیے کافی ہے کہ آج اگر اہلسنت کی روش زندہ ہوتی ہے تو اس میں سلیقہ واسلوب اور اخلاق وسلوک کی جہت کس قدر اہم ہوگی۔ کتاب کی اس فصل سے چند اقتباسات یہاں نقل کردینامناسب معلوم ہوتا ہے:

 اہلسنت خیر الناس للناس

===

جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اہلسنت والجماعت ہی علمی وعملی ہر دو جانب میں ورثہ نبوت کے حامل ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سنت نبوی کے عملی پہلوؤں میں سب سے نمایاں اخلاقی پہلو ہی ہے۔ بنا بریں رحمت وشفقت، لوگوں کی خیر واہی، ان کو دعوت وتبلیغ اور ان کی ایذاؤں پر برداشت ایسے اخلاق نبوی ہی وہ سرچشمہ ہیں جس سے اہلسنت کے خصائل اخلاق وسلوک کے سوتے پھوٹتے ہیں اور یہ پہلو بھی میزان حق میں اس علمی ورثے اور استے سے کم نہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل ورحمت سے کام لیتے ہوئے اس فرقہ ناجیہ کو امتیاز بخشا ہے۔

رسول اکرمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور جہانوں کےلیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ چنانچہ جہاں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو علم، ہدایت اور عقلی ونقلی دلائل وبراہین دے کر بھیجا ہے وہیں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو لوگوں سے احسان، رحمت وشفقت بلا عوض وصلہ اور (دعوت میں) ان کی ایذاؤں پر صبر وبرداشت دے کر معبوث کیا ہے، اللہ نے آپﷺ کو علم بھی دیا ہے اور کرم اور رحم بھی۔ چنانچہ آپﷺ علم ومحبت کے پیکر، ہادی، کریم، محسن، حلیم وبردبار اور خندہ پیشاں تھے....

بنا بریں آپﷺ علم بھی سکھاتے، ہدایت بھی پھیلاتے اور دلوں کی اصلاح کرکے ان کو دُنیا وآخرت کی بھلائی کے راستے پر گامزن بھی کرتے، پھر اس سب محنت کے باوجود کوئی معاوضہ یا صلہ نہ لیتے۔ یہ تمام انبیاءکرام علہیم السلام کی خوبی ہے.... یہی آپﷺ کے متبعین کا راستہ ہے.... اور یہی آپﷺ کی اُمت کا امتیاز ہے کہ ارشاد خدواندی ہے کنتم خیر امَّۃ اخرجت للناس ”کہ تم بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کےلیے نکالا گیا ہے“ ابوہریرہؓ اس کی توضیح میں بیان کرتے ہیں کہ ”تم لوگوں میں افضل ترین ہو اور لوگوں کے لئے ہو، تم ان کو جنت میں داخل کرنے کےلیے گھیر گھیر کر لاتے ہو۔ ”چنانچہ یہ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اپنی جانیں اور مال قربان کرتے ہیں، سب مخلوق کی اصلاح اور نفع کے لئے، جبکہ وہ لاعلمی کی بنا پر اس کو ناپسند کرتے ہیں۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں:

حمد وثنا ہے اللہ عزوجل کےلیے جس نے ہر زمانے میں رسولوں کی غیر موجودگی میں بھی اہل علم کی باقیات ایسے لوگ رکھے ہیں جو گمراہوں کو ہدایت کی راہ پر ڈالتے ہیں، ان کی ایذاؤں پر صبر کرتے ہیں، اللہ کی کتاب کے ساتھ مُردوں کو زندگی بخشتے ہیں اور اندھوں کو بینائی فراہم کرتے ہیں۔ ابلیس کے کتنے ایسے شکار ہیں جن کو انہوں نے نئی زندگی بخشی، کتنے گمراہ وسرگرداں ہیں جن کو ہدایت پر گامزن کیا۔ جو یہ لوگوں کو دیتے ہیں وہ کس قدر اچھا اور خوب تر ہے اور جو (صلے میں) لوگ ان کو دیتے ہیں وہ کس قدر بُرا اور بدتر ہے.... اللہ تعالیٰ کو بلند اخلاق اور اعلیٰ ظرفی پسند ہے اور اخلاقی گراوٹ اور رذالت سخت ناپسند ہے، اسے اپنے بندوں میں بوقت شبہات عقابی نگاہیں اور بوقت شہوات عقل کامل نہایت پسند ہے بلکہ بقول بعض اللہ کو شجاعت اور بہادری پسند ہے چاہے سانپوں کو مار کے کیوں نہ ہو، اسے دل کھلا پسند ہے چاہے مٹھی بھر کھجوروں کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو“۔ (ج 16، ص 313۔317)

 جملہ تعلقات میں کتاب اور سنت کی امامت

===

اہلسنت والجماعت اپنے جملہ تعلقات، سلوک و رویے اور اخلاقیات میں کتاب اور سنت کی امام میں چلتے ہیں چاہے انہیں آپس میں ایک دوسرے سے پیش آنا ہو یا دوسروں سے۔

اہلسنت، بوقت آزمائش صبر، بوقت سکون وخوشحالی شکر اور بوقت قضا وقدر راضی برضائے الٰہی رہنے کا حکم دیتے ہیں، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال کی دعوت دیتے ہیں نبی اکرمﷺ کے اس قول پر اعتقاد رکھتے ہیں (اکمل المومنین ایمانا احسنھم خلقاً) کہ سب سے کامل ایمان والا مومن سب سے بہتر اخلاق والا ہے۔ ان باتوں کو نہایت قابل ثواب سجھتے ہیں کہ آدمی جو اس سے ناطہ توڑے وہ اس سے بھی جوڑے، جو اسے محروم رکھے وہ اسے بھی دے اور جس نے اس پر ظلم کیا ہو اس کو بھی معاف کردے، والدین کے ساتھ احسان، صلہ رحمی، حسن ہمسائیگی، یتیموں، مساکین اور ابن السبیل کے ساتھ احسان اور غلاموں سے رفق وشفقت، ان سب باتوں کا حکم کرتے ہیں، فخر، تکبر، بغی اور مخلوق پر ناحق ظلم وتعدی سے روکتے ہیں، بلند اخلاقی کا حکم دیتے اور رذیل اور پستہ اخلاق سے منع کرتے ہیں۔ ایسے اور اس قسم کے جملہ امور میں جو کچھ وہ کہتے یا کرتے ہیں ان سب میں دراصل وہ کتاب اور سنت کی ہی اتباع کرتے ہیں“۔ (ج 3 ص 158)۔ (اہلسنت فکر تحریک ص 119 تا 121)

 تالیفِ قلوب اور اجتماعِ کلمہ

===

اہلسنت والجماعت ہمیشہ اجتماعیت ”جماعت“ کی شیرازہ بندی، جملہ مسلمانوں کی خیر خواہی کرنے، زیادتی کرنے والے کی زیادتی اور غلطی کرنے والی کی غلطی سے عفوودرگزر کرنے، اسے راستی کی طرف دعوت اور اس کےلیے ہدایت، راستی وبھلائی اور مغفرت کی دعاءایسے دائرے میں رہتے ہوئے (دینی وتحریکی) کام کرتے ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ ”دین“ کی وحدت واجتماعیت کی عظیم الشان بنیادوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے دلوں کی تالیف شیرازہ بندی کی جائے، ان کے کلمہ کو جمع رکھا اور ان کے مابین اندرونی طور پر صلح وصفائی اور پیار ومحبت کی فضا پیدا کی جائے۔ اللہ عزوجل کا حکم ہے (فاتقوا اﷲ وأصلحوا ذاتَ بینکم) ”کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور آپس کی صلح واصلاح کرتے رہو“.... اس طرح کی اور بے شمار نصوص ملتی ہیں جن میں ”جماعت“ و اکٹھ، اجتماعیت اور شیرازہ بندی پر زور دیا گیا ہے اور تفرقہ واختلاف سے منع کیا گیا ہے اس ”اصل عظیم“ کے حاملین ”اہل الجماعۃ“ ہیں“۔ (مجموعہ فتاوی ج 28 ص 50 (اہلسنت فکر وتحریک ص 129)

دوسروں‘ کے ساتھ ایک تعامل ہمارا ہوتا ہے اور ایک تعامل سلف کا تھا۔ تہذیبی رویوں کی ذرا ایک تصویر دیکھیے:

===

بطور مثال امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ہی کو لے لیں جن کا واسطہ ان جہمیوں سے پڑا تھا جو انہیں خلق قرآن کے مذہب پر آمادہ کرتے تھے، صفات الٰہی کے منکر تھے اور اس بنا پر ان کو اور دیگر علماءوقت کو سزا وابتلاءسے دوچار کرتے تھے ان مومنین اور مومنات کو تازینہ وزنداں کی اذیت دیتے جو جہمیت کو قبول کرنے میں ان کی آواز میں آواز ملانے سے گریز کرتے تھے بلکہ پھانسیاں بھی دیتے، معزولیاں بھی کرتے، دانا پانی بھی بند کرتے، گواہی بھی رد کرتے اور ان کو دشمن کے ہاتھ سے چھڑانے کی بھی ضرورت محسوس نہ کرتے، جیسا کہ اس دور میں جہمیہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے والی اور قاضی کے درجے کے اولی الامر ہر اس شخص کو کافر کہتے تھے جو جہمی مذہب اختیار نہیں کرتا تھا اور خلق قرآن کے قائل ہو کے نفی صفات میں ان کا ہم مذہب نہیں ہوتا تھا، جو حکم کافروں پر لگاتے تھے وہی ان پر لگاتے تھے .... جبکہ یہ تو معلوم ہے کہ یہ جہمیت کی غلط ترین شکل ہے کیونکہ اس مذہب کی طرف دعوت دینا اس کا اپنی حد تک قائل ہونے سے کہیں سنگین ہے اور اس مذہب کا قائل ہونے والے کو انعام واکرام سے نوازنا اور انکار کرنے والے کو سزا دینا، صرف اس کی دعوت سے کہیں زیادہ سنگین ہے اور پھر اس کے مخالف کو سزائے قتل دینا خالی زدوکوب کرنے سے کہیں سنگین اور شدید تر ہے۔

’’تاہم امام احمد رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ اور دیگر ایسے لوگوں کےلیے جنہوں نے ان پر کوڑے برسائے تھے اور قید کئے رکھا تھا دُعا بھی کرتے تھے اور استغفار بھی۔ ان پر جو ظلم روا رکھا تھا اور کفریہ مذہب ٹھونسنے کےلیے جو تشدد کرتے رہے اس سے بھی ان کو بری کردیا....“ مجموع فتاوی ج 12 ص 288 (اہلسنت فکر وتحریک ص 242)

تہذیبی رویوں‘ کی بابت، اس ضمن میں، کچھ باتیں بھی کہی جانا ہیں۔ اس کےلیے ایک اور نشست درکار ہوگی۔




[1]    دیکھیے تفسیر ابن کثیر (بہ ذیل سورہ القلم آیت 4)

[2]    دیکھیے لسان العرب (بہ ذیل خلق)

[3]    الف کی زبر کے ساتھ۔ الف کی زیر کے ساتھ یہ جمع نہیں رہتا بلکہ باب افعال سے مصدر اخلاق بنتا ہے جو کہ بالکل ایک اور معنی رکھتا ہے یعنی کسی چیز کو برت کر پرانا اوربوسیدہ کرلینا۔

[4]    یہ لفظ ہم اکثر استعمال کریں گے۔ غلط العوام میں اس کو انگریزی کے لفظ ممبر کے ساتھ خلط کر دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے رکن۔ یہ البتہ عربی کا لفظ ہے میم کی پوری زیر اور نون کے ساتھ منبر جس کا مطلب ہے آواز اٹھانے کا ذریعہ یا ٹھکانہ، نبرۃ عربی میں صدا یا لہجے کےلیے مستعمل ہے۔

[5]    وہ والدین اور ’اساتذہ‘ توجہ کریں جو اپنی ’اولاد‘ کومارنے کےلیے سب سے ’آرام دہ‘ جگہ اپنے ’نونہال‘ کا ’چہرہ‘ پاتے ہیں!

Print Article
  اصول اہل سنت
  سلف
  زہد
  ادب
  تہذیب
  اخلاق
  عقیدہ
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين