عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, September 24,2020 | 1442, صَفَر 6
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
قدروں کا نوحہ
:عنوان

یہ وہ دور تھا جب کسی لڑکےاور لڑکی میں محبت کا معاملہ اگر کبھی ہو جاتا __ اور وہ بھی ایسی محبت جسےآج کےادب میں ’معصوم‘ کہا جاتا ہے __ تو وہ حیا سے مر جانےکی بات ہوتی۔ اپنےتعلق کو آخری حد تک چھپانے کی ضرورت محسوس نہ کرنے والی لڑکی حد درجہ نیچ جانی جاتی تھی!

. Featured . ثقافتمعاشرہ . متفرق :کیٹیگری
محمد قطب :مصنف

محمد قطبؒ



اخلاق باختگی کا ایک طوفان کچھ زخموں کو ہرا کر جاتا ہے، گو یہ سال بھر مندمل نہیں ہوتے۔

خود فلمی دنیا کے ایک سوانح نگار جن کے مضامین روزنامہ جنگ میں قسط وار چھپتے رہے، چند عشرے پرانے معاشرے کی ایک تصویر دکھاتے ہوئے لکھ گئے ہیں: ہندوستان میں جب نیا نیا تھیٹر اور سٹیج آیا تو عورت کا کردار ادا کرنے کےلیے یہاں کوئی دخترِ حوا آمادہ نہ ہوتی تھی۔ مسلمان تو مسلمان ہندو عورتوں نے اس پر تیار ہو کر نہ دیا کہ پبلک میں مردوں کے سامنے لہک لہک کر کوئی حرکت کریں گی۔ یہاں تک کہ بازارِ حسن سے رجوع کیا گیا۔ وہ بھی نہ مانیں۔ (جی ہاں بازارِ حسن کی عورتیں)۔ کہنے لگیں بند کوٹھے میں جو ہوتا ہے وہ اور بات ہے، کھلے عام مردوں کے سامنے؟ یہ ہم سے نہ ہو گا۔ کہنے لگے، آخر ایک عرصے تک عورت کا کردار ادا کرنے کےلیے بعض زنانی شکل کے مردوں سے کام لیا جاتا جو عورتوں کا بھیس بھر کر سٹیج پر آتے اور کہانی میں ذرا رنگ بھرتے! ’سماج‘ جس چیز کا نام ہے حضرات وہ چند عشرے پیشتر خود ہمارے ہندوستان میں ’حیاء‘ کے اس درجے پر کھڑی تھی، اور جبکہ یہ ہمارے تاریخی اسلامی معاشرے کے محض کچھ کھنڈرات تھے۔ جبکہ آج شریف زادیوں سے پوچھ کر دیکھئے گا کون اس ’رتبۂ بلند‘ سے پیچھے رہنا چاہتی ہے! انا للہ وانا الیہ راجعون۔

عالم اسلام میں قدروں کا ایک نوحہ آئیے استاذ محمد قطب سے بھی سنتے ہیں۔ گو یہ محض ایک اقتباس ہے اور اصل تحریر کا سیاق کچھ اور ہے۔                

                                                (ادارہ ایقاظ)

******

زیادہ نہیں، آج سے صرف آٹھ نو عشرے پہلے کی ایک تصویر جب مغرب زدگی کے اس عمل نے عوامی اور معاشرتی سطح پر ابھی یہ سب گل نہیں کھلائے تھے جو بعد میں دیکھنے میں آئے...

یہ وہ دور تھا جب برہنہ ہونا ابھی صرف بڑے خاندانوں کی بیگمات تک محدود تھا۔ متوسط طبقے کی خواتین اس برہنگی سے ابھی بڑی شرم محسوس کرتی تھیں۔ گو اخبارات وجرائد میں تصویروں اور خبروں اور افسانوں کی صورت میں یہ سب کچھ دیکھ دیکھ کر اور پڑھ پڑھ کر ان میں بھی بڑی خاموشی سے اس چیز کی خواہش کروٹ ضرور لینے لگی تھی۔ یہ تو تھی متوسط اور خاصی حد تک پڑھے لکھے طبقے کی بات۔ پھر جہاں تک عام گلی محلے کی بیٹیوں کا معاملہ تھا وہ تو اس برہنگی سے ہول کھاتی تھیں اور اس بات کو انتہائی لچر جانتی تھیں۔

یہ وہ دور تھا جب کسی لڑکے اور لڑکی میں محبت کا معاملہ اگر کبھی ہو جاتا تھا ___اور وہ بھی ایسی محبت جسے آج کے ادب میں ’معصوم‘ کہا جاتا ہے___ تو وہ حیا سے مر جانے کی بات ہوتی تھی۔ اپنے تعلق کو آخری حد تک چھپانے کی ضرورت محسوس نہ کرنے والی لڑکی حد درجہ نیچ جانی جاتی تھی! یہ وہ دور تھا جب کتب اور جرائد میں مغربی فکر مغربی شخصیات کے نام سے ہی پھیلایا اور شائع کیا جاتا تھا اور فحش ادب لکھنے والے اگر مقامی ہوتے بھی تھے تو وہ اسے اپنے فرضی نام سے شائع کرنا مناسب سمجھتے تھے۔ تھیٹر، سینما، ریڈیو سب کچھ تھا، یہ سب کچھ اس فکری یلغار کو آگے بڑھانے میں مدد بھی دیتا تھا مگر اس صنعت نے مقامی سطح پر ابھی بہت زیادہ وہ ترقی نہیں کی تھی اور اس کی تاثیر بھی ابھی بالکل ابتدائی قسم کی تھی۔

مختصر یہ کہ معاشرے کے ظاہری بگاڑ میں ابھی وہ شدید تیزی نہیں آئی تھی جو اس سے کچھ دیر بعد دیکھنے میں آئی۔ پھر خاص طور پر اس نے جو آخری زقند بھری وہ تو سب کچھ ہوا ہی دوسری جنگ عظیم کے بعد۔

یہ تو تھا اس بگاڑ کے بیرونی مظاہر کا معاملہ۔ دوسری جانب ہماری ’مشرقی روایات‘ ___کم از کم ظاہری حد تک___ ہنوز قائم تھیں اور دیکھنے والے کو یہ فریب دینے کیلئے کافی تھیں کہ ہماری یہ روایات اس فکری یلغار کے سامنے جس طرح اس سے نصف صدی پہلے کھڑی تھیں ویسے ہی نصف صدی بعد بھی کھڑی رہ جائیں گی۔ یہ فریب ہوتا بھی کیوں نہ لوگوں کی بڑی تعداد ابھی نمازی تھی۔ حتی کہ بڑے دارالحکومتوں میں بھی جو کہ اس فکری یلغار کا گڑھ ہوا کرتے تھے لوگ مسجدوں میں بڑی تعداد میں آتے تھے۔ رمضان میں چھوٹے بڑے سب روزے رکھتے۔ بے روزہ بھی کسی کے سامنے کھانے پینے کی جرات نہ کرتا۔ شادی ہمیشہ والدین کی جان پہچان سے بلکہ انہی کے ہاتھوں انجام پاتی۔ خاندانی روابط قابل رشک تھے۔ یہ وہ دور تھا جب خاندان کے سربراہ کی سنی جاتی اور گھر کے بڑوں کی مانی جاتی تھی۔ بچے بچیاں جوان ہو کر بھی روایات سے نہیں نکلتے تھے۔ اگر کوئی اپنی خاندانی اور معاشرتی روایات سے پیر باہر رکھتا تو لوگ کم از کم بھی اس سے منہ پھیر لینے اور اس کو شدید برا جاننے کی ضرورت محسوس کرتے۔ ابھی یہ شہروں کا حال تھا۔ دیہات میں تو جیسے ابھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ نسلوں سے جو طرز زندگی چلا آتا رہا دیہات میں ابھی وہ من وعن باقی تھا۔ دیہات کے لوگ ’شہروں کی بے راہ روی‘ سے گھن کھاتے تھے اور ’پرانا زمانہ‘ گزر جانے پر حسرت سے آہ بھرتے تھے۔

ایسے مظاہر کو بادی النظر دیکھنے والے سے بہت سے حقائق روپوش رہ سکتے تھے!

کوئی تھوڑی دیر سے نہیں، عرصہ دراز سے اسلام واقعی روایات کا ایک مجموعہ بنا کر رکھ دیا گیا تھا۔ یہ روایات اسلام کی حقیقی روح سے خالی تھیں۔ یوں بھی قوموں کی زندگی میں ایک خاص مرحلے میں جا کر روایات سے وابستگی اس نوبت کو پہنچ جاتی ہے کہ دیکھنے والے کو پہلی نظر میں یہ لگتا ہے کہ لوگ واقعی دین کی حقیقت پر قائم ہیں۔ لیکن روایات اگر کسی شعوری بنیاد پر قائم نہیں تو کچھ عرصے بعد یہ ایک ایسے درخت کی طرح سوکھنا اور سکڑنا شروع ہو جاتی ہیں جسے جڑوں سے غذا ملنا بند ہو گیا ہو۔ روایات اور مظاہر بھی ایک ایسا ہی درخت ہے جسے فکر اور شعور کی غذا کافی مقدار میں نہ ملے تو ایک طرف یہ سوکھنا اور سخت لکڑی بننا شروع ہو جاتا ہے تو دوسری طرف اسے اپنا پورا پھیلاؤ برقرار رکھنے میں بھی شدید دشواری پیش آتی ہے۔ پھر بھی روایات کے اس درخت کا بھرم صدیوں تک رہ سکتا ہے اگر معاشرے میں نیچے کی سطح پر کوئی زوردار بھونچال یا فضا میں کوئی طوفان نہ آجائے۔ اب ایک ایسے درخت کا کھڑا رہنا یا کھڑا نہ رہنا بہت اہم سوال نہیں رہ جاتا جس کا ڈھ جانا بہرحال ٹھہر گیا ہو۔ اس درخت کو تو آخرکار مٹی خود کھا جاتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ کسی اور فکر کی یلغار کی شدت اسے ’وقت‘ سے پہلے گرا دیتی ہے۔

عالم اسلام کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ عالم اسلام پر مغرب کی فکری یلغار کے جو ہتھوڑے برسے اور جو کہ بڑی شدت اور بڑی بے رحمی سے برسائے گئے، ان کا ہدف ہماری یہاں کی روایات نہیں بلکہ ان کا اصل ہدف درحقیقت اسلام تھا۔ روایات کے پیچھے وہ دراصل اسلام کو ملیامیٹ کر دینا چاہتے تھے۔ ان کے پیچھے واقعی اسلام اپنی روح کے ساتھ ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی مگر خالی روایات ان ضربوں کا بھلا کہاں تک مقابلہ کرتیں جو بڑی منصوبہ بندی سے اور ایک لگاتار انداز میں اور بہت ہی بے دردی کے ساتھ سو سال تک برسائی جاتی رہیں۔

ساٹھ ستر سال میں یہ منظر نامہ حیران کن حد تک تبدیل ہو گیا۔ یہاں تک کہ وہ قوم جو ان شہروں اور ان دیہات میں ساٹھ ستر سال پہلے بستی تھی، گویا وہ سب کی سب کہیں کو سدھار گئی اور اس کی جگہ گویا یہاں کوئی اور قوم آبسی ہے جن کے آپس میں صرف نام ملتے ہیں۔ پرانے جسے ’بے راہ روی‘ کہتے تھے وہ یہاں ’ترقی پسندی‘ اور ’روشن خیالی‘ بن کر ہر طرف پھیل گئی۔ زہریلے سانپ کا زہر جس طرح جسم میں پھیلتا ہے اسی تیزی سے یہ زہر معاشرے میں ہر طرف پھیل گیا۔ اب وہ وقت نہیں جب برہنگی بڑے خاندانوں کی بیگمات کا خاصہ سمجھا جائے۔ متوسط طبقے کی بیٹیاں بھی اب کسی سے پیچھے نہیں۔ حتی کہ رفتہ رفتہ یہ آفت اب دیہات کو اپنی لپیٹ میں لینے لگی ہے!

لڑکوں اور لڑکیوں میں ’معصوم‘ ہی نہیں ’غیر معصوم‘ تعلقات بھی معمول کی چیز ہو چکے بلکہ کسی نوجوان کا اس ’معمول‘ سے بچ رہنا آج حیرانی کا باعث جانا جاتا ہے! خاندان ٹوٹ پھوٹ چکا۔ خاندان کے سربراہ کا دورِ اقتدار ختم ہوا۔ بڑوں کی ماننا ماضی کا قصہ کہلایا۔ لڑکے اور لڑکیاں اپنے معاملات اب خود بہتر جاننے لگے ہیں اور والدین کو ’دخل در معقولات‘ کی بہت کم اجازت ہے۔ ’دین‘ اور ’مذہب‘ عموماً جمود اور بند ذہنیت کی علامت سمجھا جانے لگا۔ دیندار ہونا پسماندگی کا نشان اور زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا سبب جانا گیا۔ نقش کہن پہ اَڑنا آدمی کے ان پڑھ ہونے کی دلیل بنا اور کسی بھی اعلیٰ قدر پر جم جانا جمود اور کم عقلی جانا گیا اور کہا یہ گیا کہ یہ زمانہ جمود کا نہیں ارتقاءکا ہے۔

ساٹھ ستر سال میں یہ سب کچھ تبدیل ہوگیا۔ قدروں کے حوالے سے قوم کی اس اجتماعی خودکشی بھلا کیا نام دیا گیا؟ معاملے کی یہ جہت بھی نہایت دلچسپ ہے۔ قوم کی اس اجتماعی تنزلی کو علم اور ارتقاء کا نام دیا گیا۔ یعنی ’’تعلیم‘‘ اور ’’ترقی‘‘۔ جو شخص اس پیکیج کا خریدار نہیں یا اس کی رَو میں سرپٹ بھاگنے پر آمادہ نہیں وہ دراصل یہاں ’’تعلیم‘‘ اور ’’ترقی‘‘ کا دشمن ہے۔ بعینہٖ انہی الفاظ کے ساتھ سو سال تک یہ چورن بیچا گیا۔

 اصل کام اس تعلیمی اور ابلاغی نظام نے کیا جو اس یلغار کو دلوں اور دماغوں میں گہرا گھر کر گیا اور جس کے نتیجے میں بڑی تدریج کے ساتھ ہر نئی نسل فکری اور عملی طور پر اسلام سے دور ہونے اور مغرب کے نئے ’دین‘ کو اپنانے میں پہلی نسل سے دو ہاتھ آگے ہوجاتی رہی۔

(محمد قطب کی ایک طویل تحریر سے اقتباس۔ ماخوذ از ’’دعوت کا منہج کیا ہو‘‘)

۔۔۔

ایقاظ کا خصوصی ضمیمہ ’’ویلنٹائن.. مردار تہذیب کی دستک‘‘ اس لنک سے

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
لبرل معاشروں میں "ریپ" ایک شور مچانے کی چیز نہ کہ ختم کرنے کی
Featured-
حامد كمال الدين
لبرل معاشروں میں "ریپ" ایک شور مچانے کی چیز نہ کہ ختم کرنے کی حامد کمال الدین بنتِ حوّا کی ع۔۔۔
خلافتِ راشدہ کے بعد کے اسلامی ادوار، متوازن سوچ کی ضرورت
Featured-
حامد كمال الدين
خلافتِ راشدہ کے بعد کے اسلامی ادوار، متوازن سوچ کی ضرورت حامد کمال الدین مثالی صرف خلافت۔۔۔
ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی حامد کمال الدین ذیل میں میری ۔۔۔
"المورد".. ایک متوازی دین
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
"اقوالِ سلف" کا ایک متناقض اطلاق: نظام ڈیموکریسی اور احکام خلافت کے!
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
پطرس کے "کتے" کے بعد!
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
حامد كمال الدين
لبرل معاشروں میں "ریپ" ایک شور مچانے کی چیز نہ کہ ختم کرنے کی حامد کمال الدین بنتِ حوّا کی ع۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
خلافتِ راشدہ کے بعد کے اسلامی ادوار، متوازن سوچ کی ضرورت حامد کمال الدین مثالی صرف خلافت۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
عاشوراء کا روزہ   فقہ اکیلےدسویں محرم کا روزہ رکھنا (نویں کا ساتھ نہ ملانا) بالکل جائ۔۔۔
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی حامد کمال الدین ذیل میں میری ۔۔۔
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
جہاد- تحريك
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
تحريك
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز