عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, September 19,2019 | 1441, مُحَرَّم 19
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
مسئلے کا عقائدی پہلو
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

مسئلے کا عقائدی پہلو

   

غیب صرف خدا جانتا ہے مگر وہ اپنی مرضی سے اپنے کسی بندے کو بھی غیب کی کسی بات پر مطلع فرما دیتا ہے۔ خدا کے ایسا کرنے میں اس کی بے پناہ حکمتیں کارفرما ہوتی ہیں۔

کسی مخلوق کے، غیب کی کسی خبر سے مطلع ہونے کا، سب سے بڑا ذریعہ وحی کہلاتا ہے جو کہ انبیاءکے ساتھ خاص ہے، اللہ کا ان سب پر درود وسلام ہو۔ غیب کی خبر کا دوسرا ذریعہ سچا خواب ہے جو کہ انبیاءکے حق میں تو وحی ہی ہوتا ہے البتہ دوسروں کے حق میں بشارت (خوش خبری) یا نذارت (بدخبری)کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ دوسرا ذریعہ یعنی سچا خواب ایک مومن کو بھی حاصل ہو سکتا ہے اور ایک کافر کو بھی۔ سچا خواب ایک نیکو کارکو بھی آسکتا ہے اور ایک بدکار کو بھی۔ اس کے بعد کچھ اور ذرائع آتے ہیں مثلاً تحدیث، الہام اور فراست۔

ہر وہ بات جو مستقبل کی پیش گوئی سے تعلق رکھتی ہو، اس کے تعین کیلئے دو چیزیں لازم ہیں: ایک یہ کہ وہ خبر یا روایت صحیح ہو اور پایہ ثبوت کو پہنچتی ہو۔

دوسری یہ کہ اس کا درست مطلب لیا گیا ہو۔

اقوام عالم کو دیکھا جائے تو ملاحم (احادیث میں مذکور آخری زمانے میں ہونے والی ہولناک اور عظیم ترین جنگیں، جن کا اہلِ کتاب کے ہاں ہرمجدون کے نام سے ذکر ہوتا ہے) اور مستقبل کے ان دیکھے واقعات کا سب سے زیادہ تذکرہ آپ اہل کتاب ہی کے ہاں پائیں گے۔ حتی کہ اہل کتاب کے ہاں اس موضوع پر پائی جانے والی روایات کی اس بہتات نے زمانہ قدیم سے مسلمانوں کے ایک گروہ کو بھی مشغول کئے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ علماءاس واقعہ، کہ اہل حجاز وعراق کی بہ نسبت اہل شام ومصر کے ہاں روایت حدیث کم ہوئی ہے، کا یہ سبب بیان کرتے ہیں کہ اہل شام ومصر دراصل ملاحم اور سیر کی روایات میں زیادہ مشغول رہے۔ اس موضوع پر کعب الاحبار سے بہت سے عجائب مروی ہیں، جن کے یہاں ذکر کی گنجائش نہیں۔

ان پیش گوئیوں کی بابت اہل کتاب کا جو مصدر ہے وہ ہے ان کی مقدس کتابیں اور پھر ان کتب میں آنے والی نصوص کی وہ شروحات اور تفسیریں جو ان کے ہاں قدیم سے ہوتی آئی ہیں۔ خصوصاً اہل کتاب کے ہاں رموز اور اعداد پر بہت زیادہ سہارا کیا جاتا ہے اور یہ بات ان کے مقدس صحیفوں اور ان صحیفوں کی شروحات میں بکثرت دیکھنے میں آئی ہے۔

اب چونکہ مستقبل کی تصویر دیکھ لینے کا انسان میں ایک طبعی تجسس پایا جاتا ہے اس لئے اہل کتاب کی تاریخ میں کوئی زمانہ ایسا نہیں رہا جب ان کے ہاں پیشین گوئیوں پر بحث وتمحیص کا سلسلہ کبھی رکنے میں آیا ہو۔ یہ بات صرف ان کی مذہبی اور لاہوتی شخصیات پر ہی موقوف نہ رہی بلکہ سبھی طبقے اس موضوع میں دلچسپی لیتے رہے۔ سیکولر دانشور تک اس انداز فکر سے الگ نہ رہے۔ مشہور سائنسدان بھی آپ کو مقدس پیشین گوئیوں پر بحث کرتے نظر آئیں گے۔ ماضی میں اس کی مثال آئزک نیوٹن ہے تو موجودہ دور میں کمپیوٹر، شماریات اور ریاضیات کے بڑے بڑے پروفیسر۔ اس موضوع پر ان لوگوں کی تصنیفات شمار سے باہر ہیں۔ ہمارے مصادر میں آگے چل کر ان کا کچھ تذکرہ بھی آپ دیکھیں گے۔

تاریخ میں چونکہ یہود کا شیرازہ بار بار بکھرتا رہا ہے، یہ بار بار دنیا میں دربدر ہوتے رہے، قید اور جلاوطنی کا کوڑا ان پر ان گنت مرتبہ برسا اور رومانیوں کے ہاتھوں تو ان پر قہر ٹوٹنے کی کوئی حد ہی نہ رہی.... لہٰذا ان تلخ حقائق کو اس ذہنیت کے پیدا کرنے میں شدید طور پر دخل رہا ہے کہ اہل کتاب کے ہاں ایک نجات دہندہ کا بکثرت ذکر ہونے لگے، یہاں تک کہ اس کے لئے پیشین گوئیاں گھڑی جانے لگیں یا پھر پہلے سے موجود کسی مذہبی نص کی من پسند تاویل کی جانے لگے۔ اس سلسلے میں ان کے ہاں جو سب سے برا کام ہوا وہ یہ کہ آسمانی کتب میں پائی جانے والی بشارتوں اور پیشین گوئیوں کی کچھ اس انداز سے تحریف کی جانے لگی کہ یہ بشارتیں اور پیشین گوئیاں کسی نہ کسی طرح بس اسی دور پر فٹ ہو جائیں جس میں ان پیشین گوئیوں کی تفیسر کی جا رہی ہو۔ ہر تفسیر کرنے والے نے اپنے ہی دور اور اپنی قوم کی اسی خاص موجودہ حالت پر ان سب غیبی خبروں کو فٹ کر دینا چاہا جس میں وہ خود آنکھ کھول چکا تھا۔ یہاں سے ان تاویلات اور تفسیرات میں اختلاف اور تعارض کا سلسلہ شروع ہوا۔ غیبی خبروں کو ہر کوئی اپنے انداز سے اور اپنے ہی دور پر فٹ کرنے لگے تو اختلاف اور تعارض کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا۔ تاویلات کا یہ اختلاف اس اختلاف پر مستزاد تھا جو مذاہب اور فرقہ جات کی صورت میں پایا گیا۔ تاویلات کی اس کھینچا تانی میں اکثر نے جو سب سے بڑا جرم کیا وہ یہ کہ نبی آخر الزمان اور آپ کی امت کی بابت پائی جانے والی پیشین گوئیوں کو مسخ اور تحریف زدہ کرکے رکھ دیا ۔ دور دراز کی تاویلیں کرکے نبی آخر الزمان سے متعلق پیشین گوئی سے مراد یہود کے اس مسیح منتظر کو قرار دیا گیا جسے بادشاہ ِامن کا نام دیا جاتا ہے.... یا پھر اس سے مراد مطلق مسیح کو قرار دے دیا گیا۔

پھر اس پر بھی مستزاد یہ ہے کہ ایک ہی صحیفے کے متعدد اور مختلف نسخے پائے گئے۔ اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ یہ صحیفے ترجمہ در ترجمہ کی بھینٹ چڑھائے گئے۔ جبکہ تفسیرات کی بھرمار اور تاویلات کا انبار ایک الگ درد سر تھا.... نوبت باینجا رسید کہ ان تہ در تہ مسخ شدہ حقائق کو تحریفات اور تاویلات کے اس ملبے تلے سے نکال لانا اب ایک ایسا کام بن گیا جو کسی جان جوکھوں سے کم نہیں، بلکہ یوں کہیے کہ وحی محفوظ (قرآن اور سنت) سے مدد لئے بغیر ناممکن بھی ہے۔

آسمانی صحیفوں میں پائی جانے والی پیشین گوئیوں سے متعلق نصوص کی ہر دور میں مفیدِ مطلب تاویلات کرنے کی جس ڈگر پر اہل کتاب پڑ چکے تھے اس سے ان نصوص پر تاویلات کی اس قدر گرد ڈال دی گئی کہ اہل کتاب اس موضوع پر خود بھی یقین سے محروم ہو گئے۔ اب ان نصوص کی بابت اتنا کچھ کہہ لیا گیا ہے کہ یہ لوگ خود بھی اب یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اب یہ اپنے ہی پیدا کئے ہوئے اندھیروں میں یوں بھٹک گئے ہیں کہ یقین تک پہنچنے کا ان کے پاس کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ سوائے اس ایک یقینی ذریعے کے، جس سے یہ لوگ خائف ہیں!

بہرحال اہل کتاب کے ہاں مستقبل کی جو پیش گوئیاں پائی جاتی ہیں ان کی بابت ہمارا وہی موقف ہے جس کاحکم ہماری شریعت نے ہمیں ان کی عام روایات اور اخبار کے قبول کرنے کی بابت دیا ہے۔ ہماری شریعت کی رو سے اہل کتاب کی روایت کردہ پیشین گوئیاں تین طرح کی ہو سکتی ہیں:

پیشین گوئیوں کی ایک قسم وہ جو قطعی باطل ہے: یہ وہ پیشین گوئیاں ہیں جو انہوں نے اپنے پاس سے گھڑ لی ہیں، یا نصوص کو ان کے اصل لفظ یا معنی سے ہٹا کر تحریف کر دی ہے۔ مثلاً ان کا یہ دعوی کہ نبی آخر الزمان داؤد کی نسل سے ہو گا اور یہ کہ مسیح موعود یہودی ہو گا یا ان کا اسلام اور رسول اسلام کی بابت پیشین گوئی کو مسخ کر دینا وغیرہ۔ غرض اس قسم میں ان کی وہ تمام پیشین گوئیاں آتی ہیں جو وحی محفوظ (کتاب اور سنت صحیحہ) سے متصادم ہیں۔

پیشین گوئیوں کی دوسری قسم جو قطعی حق ہیں ،ایسی پیشین گوئیوں کی آگے دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

(الف) ان کی وہ پیشین گوئیاں جن کی وحی محفوظ نے صراحت کے ساتھ تصدیق کی ہے۔ مثلاً ختم نبوت کی بابت ان کی پیش گوئی، نزول مسیح کے متعلق پیش گوئی، آخری زمانے میں مسیح دجال کے ظاہر ہونے اور اہل کفر واہل ایمان کے مابین ہونے والی ملاحم کبری (بہت بڑی بڑی جنگیں) وغیرہ کی بابت ان کی پیشین گوئی، اس طرح کی پیشین گوئیوں کے سلسلے میں ان اہل کتاب سے کوئی اختلاف ہو سکتا ہے تو وہ ان نصوص کی تفصیل اور تفسیر کی حد تک ہی ہو سکتا ہے۔

(ب) اہل کتاب کی وہ پیشین گوئیاںجن کی حقائق اور واقعات سے ہیتصدیق ہو جائے۔ مثلاً امام بخاری مشہور صحابی رسول جریر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، جریر فرماتے ہیں:

میں یمن میں تھا، وہاں دو آدمیوں سے میری ملاقات ہوئی۔ ایک کا نام ذوکلاع تھا اور دوسرے کا ذوعمرو۔ میں ان کو رسول اللہ کے بارے میں بتانے لگا۔ تب ذو عمرو مجھ سے کہنے لگا تم اپنے جن صاحب کی بات کر رہے ہو، اگر یہ سچ ہے، تو ان کی اجل کو آئے آج تین روز گزر گئے ہیں۔ تب یہ دونوں آدمی میرے ساتھ ہو لئے۔ راستے میں ہمیں مدینہ کی طرف سے آنے والا ایک قافلہ دکھائی دیا۔ ہم نے ان سے احوال دریافت کیا تو انہوں نے ہمیں خبر دی کہ رسول اللہ وفات پا گئے ہیں۔ آپ کے بعد ابوبکر کو خلیفہ بنا لیا گیا ہے اور لوگ بخیر وعافیت ہیں۔ تب یہ دونوں مجھ سے کہنے لگے اپنے ان صاحب کو کہہ دینا کہ ہم آئے تھے اور اگر اللہ نے چاہا تو اب پھر کبھی آئیں گے۔ یہ کہہ کر وہ یمن کو لوٹ گئے ۔ میں نے ابوبکر کو وہ بات بتائی۔ ابوبکر کہنے لگے: تم ان کو ہمارے پاس لے کر کیوں نہ آئے؟ اس کے بعد ذوعمرو سے پھر میری ایک ملاقات ہوئی تو وہ مجھ سے کہنے لگا: تمہارا مجھ پر ایک حق اکرام ہے لہٰذا میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔ تم عرب لوگ بڑے اچھے رہو گے جب تک تمہارا یہ وطیرہ رہا کہ ایک امیر کے مرنے کے بعد تم مشورے سے ایک دوسرے امیر کو اپنے اوپر مقرر کر لیا کرو.... تاآنکہ لوگ بزور شمشیر بادشاہ بننے لگیں، بادشاہوں کی طرح غضب ناک ہونے لگیں اور بادشاہوں کی طرح ہی ناز اٹھوانے لگیں۔

(صحیح بخاری، کتاب المغازی - حدیث نمبر 4359 بترتیب فتح الباری)

پیشین گوئیوں کی ایک تیسری قسم ایسی ہے کہ جس کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں اور نہ تکذیب، یہ وہ پیشین گوئیاں ہیں جو پہلی دونوں اقسام میں نہیں آتیں۔ اہل کتاب کی اخبار کی یہی وہ قسم ہے جس پر رسول اللہ کی اس حدیث کا اطلاق ہوتا ہے:

لا تصدقوا اھل الکتاب ولا تکذبوھم (البخاری: کتاب التفسیر: حدیث رقم: 3385)

کہ اہل کتاب کی باتوں کی نہ تو تصدیق کرو اور نہ تکذیب۔

مثال کے طور پر اہل کتاب کی وہ پیشین گوئی جو ایک آشوری (Assyrian) شخص کی بابت آتی ہے۔ یا وہ پیشین گوئی جو یروشلم کی منحوس تباہی کے پیش خیمہ کے متعلق ہے اور ایسی ہی دوسری بشارتیں جو زمینی حقائق سے تعلق رکھتی ہیں۔

اس بات سے، کہ اہل کتاب کی دی ہوئی ایسی خبر کی ہم نہ تصدیق کریں اور نہ تکذیب، مراد یہ ہے کہ ہم اسے اعتقاد اور وحی کے درجے میں نہ مانیں۔ البتہ اسے ایک رائے یا ایک ایسی تاریخی روایت کے طور پر لیا جانا ممکن ہے جس کے غلط یا درست ہونے اور جس میں کسی تبدیلی یا اضافہ ہونے کا امکان ساتھ تسلیم کیا جائے۔ یعنی یہ احادیث مبارکہ میںجو ممانعت اور عدم ممانعت کاتذکرہ ہے اس کا یہ مقصد قطعاًنہیں ہے کہ اہل کتاب کے قدیم زمانے سے چلے آئے تصورات یا بشارتیں سرے سے زیر بحث ہی نہ لائی جائیں بلکہ اس ممانعت کا مقصد یہ ہے کہ کچھ شروط اور قیود کا تابع رکھ کر ہی ان کو زیر بحث لایا جائے اور ان کو ظن وتخمین اور احتمال کے درجے سے زیادہ حیثیت نہ دی جائے۔

آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ آج تقریباً پوری دنیا ہی جہاں ذرائع ابلاغ کی وساطت سے فلسطین کی سرزمین پر رونما ہونے والے حالیہ واقعات پر نظریں جمائے بیٹھی ہے تو وہیں دوسری طرف امریکہ اور بعض دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کسی اور ہی چیز میں گم ہے۔ یہاں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے بھی زیادہ کسی اور ہی جنس کا بازار گرم ہے۔ یہ پیشین گوئیوں اور کہانتوں (مذہبی ٹامک ٹوئیوں) کا بازار ہے جس میں روز بروز تیزی آرہی ہے۔ اس بازار کی سب سپلائی جہاں سے ہوتی ہے وہ ہے عہدنامہءقدیم (اولڈ ٹیسٹامنٹ) اور عہد نامہءجدید(نیو ٹیسٹامنٹ) کے مذہبی صحیفے اور ان کی شروحات۔ اس بازار کے تاجر ہیں بنیاد پرست اور بائبل پر حرف بہ حرف چلنے والے کاہن، اور یہاں کے گاہک معاشرے کے تقریباً سبھی طبقے ہیں جو وائٹ ہاؤس اور پنٹاگون کے پالیسی سازوں سے لے کر گلی محلے کی سطح تک ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ مقدس پیشینگوئیوں پر ایمان رکھنے والے یہ طبقے مختلف گروہوں پر مشتمل ہیں: ان میں سے کوئی مسیح کا منتظر ہے! کوئی دجال کے نکلنے کا! کوئی ہر مجدون Armageddon کے جنگی سلسلوں کے شروع ہونے کیلئے بے صبرا ہو رہا ہے! اور کوئی ___ انتفاضہ کے ظہور پذیر ہونے اور امن منصوبے کے بیٹھ جانے کے بعد ___ اب دولت اسرائیل کے خاتمہ کی پیشین گوئی کر رہا ہے!

یہ آخری بات ایسی ہے کہ اس سے ہم کو بھی کچھ سروکار ہے! کیونکہ اسرائیلی اقتدار کا خاتمہ موجودہ حقائق کا سب سے بڑا اور جلد تقاضا ہے اور یہ پیشگوئیوں کی نسبت دراصل واقعات میں شمار ہونے کے زیادہ قابل ہے اور یہ خاص اس غیب سے متعلق نہیں جو قرب قیامت رونما ہونے والے واقعات پر مشتمل ہے اور جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔

چنانچہ جہاں تک موجودہ اسرائیلی ریاست کے خاتمہ کا تعلق ہے تو اس کی بابت اہل کتاب کے ہاں پائی جانے والی پیشین گوئیوں پر مبنی نتائج کی روشنی میں جو بات کہی جا سکتی ہے قریب قریب اسی نتیجے تک ایک اسٹریٹجک اور ایک سیکولر مطالعے کی روشنی میں بھی بآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔

البتہ ان پیشین گوئیوں میں جو دلچسپ اور فیصلہ کن عنصر پایا جاتا ہے اور جس کا کہ کسی واقعاتی مطالعے کے دوران تعین نہیں ہو سکتا وہ یہ کہ ان توراتی پیشینگوئیوں کی رو سے اس بات کا تعین بھی کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی تباہی کو کل کتنے سال لگیں گے۔ اب جب اس بات کا حوالہ خود ان کے ہی مذہبی صحیفوں سے دیا جائے گا تو پھر تورات اور انجیلوں پر ایمان رکھنے والوں کیلئے یہ بات ایک باقاعدہ عقیدہ کا درجہ رکھے گی نہ کہ محض ایک رائے یا کسی سیاسی مبصر کا اندازہ اور اجتہاد! یہی وہ بات ہے جس سے ہم امید کر سکتے ہیں کہ اہل کتاب کی ایک کثیر تعداد اس حقیقت سے فائدہ اٹھا سکتی ہے جس کی نقاب کشائی ہم اس کتاب میں کرنے جا رہے ہیں۔

پھر چونکہ صہیونیت کا عیسائی پاٹ موجودہ زمانے کی ایک ایسی تحریک ہے جو انسانیت کیلئے آج سب سے بڑا خطرہ ہے! اور پھر جبکہ وہ اساس جس پر اس تباہ کن تحریک (صہیونی عیسائیوں)کے سب عقائد اور ان کے سب جہنمی منصوبے قائم ہیں وہ دولت اسرائیل کے قیام کی بابت ان (صہیونی عیسائیوں) کے ہاں پائی جانے والی ایک مذہبی پیشین گوئی پر مشتمل ہے اور جس کی رو سے بیت المقدس پر اسرائیلی ریاست کا قیام کروانا، یہ تحریک (صہیونی عیسائی) اپنا مذہبی فریضہ سمجھتی ہے.... لہٰذا دنیا میں آج ہر وہ شخص جو کرہ ارض پر امن اور انصاف کی فرمانروائی ہو جانے کا آرزو مند ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ایسی مذہبی پیشین گوئیوں کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرے جو اس وقت دنیا کا امن تباہ کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ زمین کو امن وانصاف کا گہوراہ بنانے کے خواہشمند ہر انسان پر آج یہ فرض ہے کہ وہ ہر ایسے شخص کی طرف اپنا دست تعاون دراز کرے جو عقلی اور منطقی دلائل کی بنیاد پر ان (صہیونی عیسائیوں) کی ان فکری بنیادوں کا بودا پن ثابت کرے جن پر ان کی یہ بنیاد پرستی قائم ہے۔ ان کی ان فکری بنیادوں کو اس سے پہلے پہلے تہس نہس کر دینا ضروری ہے جب وہ امن عالم کو تہس نہس کر کے رکھ دیں اور ہمارے اس مضطرب زمینی سیارچے کو آگ کا دہکتا ہوا الاؤ بنا کر!!

اس خطرے سے دنیا کو جس قدر جلدی جگا دیا جائے اتنا بہتر ہے اور اس مقصد کیلئے ہمیں دنیا کے ہر انسان کا تعاون درکار ہے!

تاریخ کے اس موڑ پر ہم یہاں ایک ایسی نازک واقعاتی صورتحال کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں دنیا کے بہت سے عقلمند یہ خطرہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکے کہ آج یورپ یا روس جیسے ایٹمی ملکوں میں کوئی بھی دہشت گرد تنظیم اگر بر سر اقتدار آ جاتی ہے تو وہ پوری دنیا کے امن کیلئے ایک بھیانک خطرہ بن سکتی ہے.... جب ایسا ہے تو پھر ہم ایک ایسی بڑی تحریک سے کیونکر غافل رہ سکتے ہیں جو دنیا کے طاقتور ترین ملک کے ایک تہائی عوام کے عقل وذہن کو پوری طرح اپنے قبضے میں لے چکی ہے اور اس ملک پر مکمل اقتدار حاصل کرنے کیلئے اپنے پورے جوش وخروش کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہی ہے.... اس تحریک سے پھر کیونکر بے خبر رہا جا سکتا ہے جو اپنی پوری طاقت اور توانائی کو بروئے کار لا کر دنیا کے اس سب سے بڑے دہشت گرد ٹولے کیلئے زیادہ سے زیادہ عوامی تائید حاصل کر رہی ہے جس کا نام دولت صہیون ہے!؟؟

ہم امیدوار ہیں کہ امریکہ اور دیگر ممالک کے عقلمند اگر حقائق کو پرکھنے کا اپنا فرض پورا کر لیتے ہیں تو ضرور بضرور وہ ہوش مندی کا دامن تھامنے کی ضرورت محسوس کریں گے اور اس کے نتیجے میں مغربی معاشروں کے بہت سے فریب خوردہ اور بے خبری کا شکار لوگ بیدار ہو سکیں گے۔

مغربی معاشروں پر صہیونی عیسائیوں کے مذہبی مفروضات کا بطلان واضح کرنے اور ان کے مذہبی پیشین گوئیوں کے من گھڑت مفہومات کا پول کھولنے کے اس عمل میں دنیا کے سب لوگوں کے ساتھ اگر ہم تعاون کرتے ہیں تو ایسا کرتے ہوئے ہم اپنے اس فرض کی ادائیگی سے عہدہ برا ہوتے ہیں جو ہمیں سکھاتا ہے کہ باطل کا مقابلہ حق کی قوت سے، جارحیت کا مقابلہ انصاف سے کام لیتے ہوئے اور دہشت گردی کا مقابلہ دلیل کی قوت سے کیا جائے۔ یہ دین اسلام کے بڑے مقاصد میں سے ایک ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں پیغمبر رحمت ، رسولِ امن وآشتی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے کہا ہے:

وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین (الانیباء:107)

اے محمد ! ہم نے تم کو سب دنیا کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز