عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, December 13,2018 | 1440, رَبيع الثاني 5
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ایک کروڑ افریقیوں کو مار آؤ، کوئی تمہیں ہٹلر نہیں کہے گا!
:عنوان

اگر آپ دس ملین سے زیادہ افریقی انسانوں کو قتل کر دیں کوئی بھی آپ کو ہٹلر کے مشابہہ نہیں قرار دے گا۔ نہ ہی آپ برائی اور شر کے ہم نام ہوں گے اور نہ ہی آپ کی شکل سے دہشت یا کراہت ۔ ۔ٹپکے گی، حتیٰ کہ دکھ کا تاثر بھی نہیں چھوڑے گی

. متفرق . متفرق :کیٹیگری
ادارہ :مصنف

عالمی میڈیا سے استفادہ: سارہ اقبال


اس تصویر کو اچھی طرح دیکھیے۔ کیا آپ اسے پہچان پائے؟

لوگوں کی اکثریت نہ اسے پہچانتی ہے اور نہ انہوں نے اس کے بارے میں کبھی سنا۔

مگر لازم تو یہ تھا کہ آپ اسے پہچانتے ہوتے اور اس کے بارے میں ویسے ہی احساسات رکھتے جیسے ہٹلر اور موسولینی کے بارے میں  رکھتے ہیں۔ حیران مت ہوئیے، اس شخص نے ایک کروڑ سے زائد انسان قتل کر رکھے ہیں!

اس کا نام  Leopold 2 ہے, جو بلجیم کا بادشاہ تھا۔

اس شخص نے  مملکت بلجیم  پر 1885 سے 1909 کے دوران حکومت کی۔ ایشیا اور افریقہ میں کئی ناکام استعماری کوششوں کے بعد افریقی ملک کانگو congo  کو اپنے ہدف کے طور پر چنا۔ اس سلسلے میں پہلا بنیادی اقدام   کونگو کو خریدنا اور اس کے باشندوں کو غلام بنانا تھا۔

اس وقت اس علاقے کا رقبہ  بلجیم کے رقبہ سے 72 گنا زیادہ تھا۔

وہاں کے باشندے لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ leopold نے دھوکے کے ساتھ ان سے ایک اتفاق نامے پر دستخط کر والیے جس میں کہا گیا تھا:

"ماہانہ کپڑوں کے ایک ایک جوڑے کے مقابلے میں جو ذیل کے دستخط کنندہ تمام قبائلی سرداروں کو پیش کیے جائیں گے، جس کے ساتھ پوشاک کا ایک ایک خصوصی تحفہ بھی ہو گا،  قبائل کے سردار  برضا و رغبت اور از خود اپنی جملہ اراضی سے اپنے، اپنے ورثاء اور اپنی تاابد آئندہ نسلوں کے تمام حقوق سے سوسائٹی (جس کا سربراہ لیوپولڈ تھا) کے حق میں دستبردار ہوتے ہیں..... اور اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ جب وہ ان سے مزدوروں کا مطالبہ کرے یہ انہیں فراہم کریں گے یا اس کے علاوہ  جب  بھی کسی منصوبے، رفاہی یا فوجی مہمات کا سوسائٹی اس اراضی کے کسی بھی علاقہ میں اعلان کرے گی(تو یہ افرادی قوت کے ساتھ اس کی مدد کریں گے)......  ملک کے تمام راستے اور آبی گزرگاہیں، نیز ان پر مالیہ لگانے کا حق، جانوروں اور مچھلیوں کے شکار، معدنیات،جنگلات وغیرہ سے متعلقہ تمام حقوق سوسائٹی کی ملکیت ہونگے۔"    

ہم نہ ہی اپنے تعلیمی اداروں میں اس لیوپولڈ کے بارے میں کچھ پڑھتے ہیں اور نہ میڈیا میں اس کے بارے میں کچھ سنتے ہیں۔ (دوسری جنگ عظیم میں سامنے آنے والی ہولوکاسٹ ایسی) ظلم و بربریت کی زبان زد عام کہانیوں میں اس شخص کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں۔ حالانکہ افریقہ میں استعمار، لوگوں کو غلام بنانے، اور وسیع پیمانے کے ذبح عام واقعات کی جو ایک تاریخ ہے، یہ شخص اس (تاریخ) کا ایک نہایت قابل ذکر نام ہے  جو کہ دنیا کے ـ"white man"  کے تصور سے ٹکراتی ہے۔

 leopld نے اس وقت اس ملک کو دولت کے ایک بہت بڑے سرچشمے کے طور پر دیکھا۔اس زمانے میں ہوا بھرے ٹائروں اور گاڑی کے پہیوں کی جانب دنیا کا نیا نیا رجحان ہوا تھا۔ جس سے ربڑ کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ربڑ کے درخت کے حوالے سے ایک بنیادی معلومات یہ ہے کہ اس  کی پیداوار حاصل کرنے کے لئے درخت کو اگانے کے بعد کم ازکم پندرہ سال درکار ہوتے ہیں۔

اس لحاظ سے کانگو کی سرزمین ایک مثالی چناؤ تھا کیونکہ وہاں پر بارش بھرے جنگلات اور ربڑ کے خودرَو درختوں کی بہتات تھی۔

دولت اکٹھی کرنے کےلیے لیوپولڈ کا طریقہ بہت وحشیانہ تھا۔ اس کے فوجی افریقہ کے اس خطے میں جسے لیوپولڈ نے ( Congo Free Estate) کا نام دیا تھا افریقیوں کی بستیوں میں جا گھستے۔وہ وہاں کی عورتوں کو رہن رکھ لیتے تھے تاکہ ان کے مردوں کو مجبور کریں کہ وہ جنگلوں میں جاکر ربڑ کا رس نکال نکال کر لائیں اور جب وہ ایک جگہ کے درخت کو فارغ کر لیتے تو ان کو جنگل میں آگے سے آگے جانے پر مجبور کرتے۔

سستی سے کام لینے کی بڑی سخت سزا تھی۔

leopold نے کرائے کے سپاہیوں کی خدمات حاصل کیں تاکہ وہ کام کے دوران ’’غلاموں‘‘ کی نگرانی کریں۔اور جب ’’غلام‘‘ مقررہ ہدف سر نہ کر پاتے تو یہ سپاہی  ان کو کوڑوں سے مارتے۔ کبھی کبھی اتنا مارتے کہ موت کے منہ میں پہنچا دیتے یا ان کے ہاتھ مکمل طور پر کاٹ دیتے۔اور جو کوئی اس تشدد سے نہ بھی مرتا وہ کام کی مشقت کے بوجھ سے مر جاتا کہ اتنے لمبے دورانیہ تک بغیر کھائے پئے کام کرنا (موت کا سبب بنتا)۔

جہاں تک ان یرغمالی عورتوں کا معاملہ ہے تو وہ بھی محفوظ نہیں تھیں۔ بلکہ مختلف قسم کی اذیتیں دی جاتیں کوڑوں سے مارنا،،زنا بالجبر،بھوکا رکھنا وغیرہ۔ غرض ہر وہ کوشش جو موت کے دھانے پر لے جائے وہ ان کے ساتھ کی گئی۔

یہ سب کا سب ان دلائل کے پردے تلے ہورہا تھا جو leopold نےکونگو میں  استعمار کو ترویج دینے کے لئے پیش کئے تھے،فلاحی کاموں  اور عیسائی مذہب کو پھیلانے سے آغاز کیا اور لوگوں کو غلام بنا کر ان کو منڈیوں میں فروخت کرنے پر (یہ سلسلہ) آ رکا۔

مگر leopold کی یہ بےرحم مہمات لوگوں کی موت کا براہ راست واحد سبب نہ تھیں۔ ہوا یوں کہ جب صحیح سلامت مردوں کو زبردستی بیگار پر لے لیا جاتا تو وہ بستیوں کے  عورتوں،بوڑھوں ،بچوں اور کمزور مردوں کے لئے مناسب مقدار میں خوراک نہ مہیا کر سکتے۔ تو وہ بھوک اور فاقوں کی وجہ سے بلکتے۔ جس کی وجہ سے کئی وبائیں اور امراض پھوٹ پڑے جنہوں نے لاکھوں زندگیوں کو متاثر کیا مثلا چیچک اور ٹی بی کی بیماریاں وغیرہ۔

۱۹۰۵ میں مارک ٹوین جو کہ مشہور مزاح نگار امریکی مصنف ہے اس نے اس کے بارے میں اس عنوان سے ایک لمبی عبارت لکھی :

“King Leopold’s soliloquy ,A defense of his Congo rule”

اس میں اس نے بادشاہ کی خونی سرگرمیوں کی خوب خبر لی اور اس نے افریقہ کی سرزمین پر جو زیادتیاں کر رکھی تھیں ان پر شدید طنز کیا۔ اس نے leopold کی ہی زبانی ان مظالم کو یوں بیان کیا:

"جس وقت وہ لوگ بھوک،بیماری،مایوسی اور کسی وقفے اور آرام کے بغیر مشقت اور بیگار کرنے کی وجہ سے اپنی ڈیوٹیاں پوری کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر جنگلوں میں چلے جاتے ہیں تاکہ میری سزا سے بچ سکیں۔تب میری کالی فوج ان کا پیچھا کرتی اور ان کو ذبح کرتی ہے،ان کی عورتوں کو رہن رکھنے کے بعد بستیوں کو آگ لگا دیتی ہے۔وہ ہر چیز پر کہتے ’میں کیسے ایک پوری قوم کو کوڑوں سے مار سکتا ہوں ؛ایک قوم جواس کائنات میں  دوستوں سے محروم ہے تو میں ان کی زندگی کا وجود ختم کر دیتا ہوں محض اپنی تسکین کے لئے ہر طریقے سے ان لوگوں کو قتل کرتا ہوں۔"

مارک ٹوین کی یہ عبارت اس لنک سے دیکھی جا سکتی ہے۔

مگر آپ یہ عبارت کہیں بھی نہیں پڑھیں گے باوجود اسکے کہ مارک ٹوین عالمی مصنف ہے۔ اور نہ ہی اس کے بارے میں امریک طالب علموں سے سنیں گے حالانکہ مارک ٹوین کی عبارات امریکی سلیبس میں بہت مشہور ہیں سوائے سیاسی تحریروں کے۔۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر آپ دس ملین سے زیادہ افریقی انسانوں کو قتل کر دیں کوئی بھی آپ کو ہٹلر کے مشابہہ نہیں قرار دے گا ۔نہ ہی آپ برائی اور شر کے ہم نام ہوں گے اور نہ ہی آپ کی شکل سے دہشت یا کراہت ٹپکے گی، حتیٰ کہ دکھ کا تاثر بھی نہیں چھوڑے گی۔ کوئی بھی آپ کے ہاتھوں ذبح ہونے والوں کے بارے میں بات نہیں کرے گا اور تاریخ کو آپ کا نام تک یاد نہیں رہے گا!

  اس سلسلہ میں ایک ڈاکومینٹری بھی دیکھی جا سکتی ہے: Congo White King, Red Rubber, Black Death   ’’کانگو، گورا بادشاہ، لال ربر اور کالی موت‘‘۔

(انگریزی سے ایک مضمون کا خلاصہ)

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
پطرس کے "کتے" کے بعد!
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
انٹرویو ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس
متفرق-
عائشہ جاوید
انٹرویو ڈاکٹر جعفر شیخ ادریس ترجمہ: سلیمان واثق نظرثانی: عائشہ جاوید سوڈانی نژاد ایک عالم ج۔۔۔
السلام علیکم اپریل 2014
متفرق-
عائشہ جاوید
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ قارئین کرام !مسلم دنیا اس وقت مصائب وآلام کی جن تند و تیز لہروں۔۔۔
’جدید بیانیہ‘ کے رد پر ایقاظ کا خصوصی شمارہ
متفرق-
ادارہ
السلام علیکم قارئین کرام! مارچ+اپریل 2015 کا ایقاظ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اِس خصوصی اشاعت میں دو شمارے یکجا ۔۔۔
ناموس رسالت اور ہمارے دیسی لبرلز دانشورانہ منافقت یا منافقانہ دانشوری؟
متفرق-
ابو زید
ناموس رسالت اور ہمارے دیسی لبرلز دانشورانہ منافقت یا منافقانہ دانشوری؟   ابوزید abuz۔۔۔
جہاد کا قائم مقام.. پاکستان بھارت کا میچ!
متفرق-
ادارہ
جہاد کا قائم مقام.. پاکستان بھارت کا میچ! عامرہ احسان کرکٹ کا میدان..... پاکستان بھارت کا میچ..... فضا نعرہ۔۔۔
السلام عليكم شمارہ 1999
متفرق-
ادارہ
دعا ہے آپ ايمان اور صحت كى بہترين حالت ميں زندگى بسر كررہے ہوں ! قارئين كرام! ہر وہ چيز جو چھپ كر لوگوں۔۔۔
ویلنٹائن پر ایک انگریزی جریدے کا ’پول‘
متفرق-
حامد كمال الدين
’ویلنٹائن‘ وغیرہ اشیاء چند عشرے پیشتر یہاں کسی نگاہِ غلط انداز کے قابل بھی شاید نہیں تھیں۔ ان کا خالی ذکر ہو۔۔۔
قدروں کا نوحہ
ثقافت- معاشرہ
متفرق-
محمد قطب
محمد قطبؒ اخلاق باختگی کا ایک طوفان کچھ زخموں کو ہرا کر جاتا ہے، گو یہ سال بھر مندمل نہیں ہوتے۔ ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز