عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, December 8,2019 | 1441, رَبيع الثاني 10
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Fehm_deen_masdar_2nd آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
طائفہ منصورہ.. وہ ’’بڑا دائرہ‘‘ پھر تشکیل پاتا ہے
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ

أما بعد 

 

مقدمہطائفہ منصورہ

 

 

وہ ’’بڑا دائرہ‘‘ پھر تشکیل پاتا ہے!

 

ایک زوردار تحریکی عمل مسلم برصغیر کے وجود میں تسلسل کے ساتھ کروٹیں لے رہا ہے۔ یہ جوش اور ولولہ اپنا ظہور کرانے کو عرصہ سے بے چین ہے مگر کچھ بے ڈھب رکاوٹیں ہیں جو اِس کا راستہ مسدود کئے بیٹھی ہیں۔ یہ بے رحم رکاوٹیں زیادہ تر یہاں کے مسلکی و غیر مسلکی رجحانات کی پیدا کردہ ہیں اور رفتہ رفتہ ناقابل عبور دیواریں بنتی جا رہی ہیں۔ اپنے تحریکی عمل کی راہ میں آج یہ دیواریں حائل نہ ہوتیں تو عمل اور فاعلیت کا جو اٹوٹ جذبہ ہمارے ’’نوجواں مسلم‘‘ میں موجزن ہے، ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ۔۔۔ تہذیبوں کے اِس تصادم اور نظریات کے اِس گھمسان میں ہمارا نوجوان آج اِس بری طرح مار نہ کھا رہا ہوتا۔ نہ صرف یہ، بلکہ نظریاتی میدان میں وہ ایک کامیاب ترین پیش قدمی بھی کر رہا ہوتا۔

ہماری نظر میں، یہ کچھ خاصی بے تکی رکاوٹیں ہیں اور بلا وجہ ہماری اسلامی پیش قدمی کی راہ میں لے آئی گئی ہیں۔ نہ ان کا تعلق ہمارے دین سے ہے اور نہ ہمارے دین کی ساخت میں ایسی رکاوٹوں اور الجھنوں کیلئے کوئی گنجائش چھوڑی گئی ہے۔ یہ محض کچھ گرد ہے جو صدیوں کے ایک عمل نے اِس پر ڈال رکھی ہے، اور جس کو ہٹائے بغیر چارہ نہیں رہ گیا ہے۔ ذرا محنت کر کے اگر اِن رکاوٹوں کو اپنے اِس ’’کارواں‘‘ کی راہ سے ہٹا دیا جاتا ہے تو ایک ایسی عظیم شاہراہ خودبخود آپ کے سامنے آ جاتی ہے.. اور یہاں کے سب موحد طبقوں سے مل کر ایک ایسا زوردار دھارا آپ سے آپ یہاں پر تشکیل پا جاتا ہے.. جو اللہ کے فضل سے جاہلیت کا سب جھاڑ جھنکاڑ بہا لے جانے والا ہے۔

اِن بے ہنگم رکاوٹوں میں سے ایک بڑی رکاوٹ: یہاں کا فکری انتشار اور منہجی بے سمتی ہے، اور اِسی کا سد باب ہماری اِس کتاب کا موضوع۔۔۔ :

دین سمجھنے کیلئے ہمارا یہ نوجوان یا تو ’مسلکوں‘ کے پاس جاتا ہے جو بالعموم اِس کو اُس دنگل کا حصہ بناتے ہیں جو ہمارے برصغیر میں ڈیڑھ سو سال سے خاصی بے حسی کے ساتھ ہمارے اپنے ہی مابین لڑا جا رہا ہے اور جوکہ ہماری توانائیوں کو نچوڑ نچوڑ کر ضائع کرواتا چلا آیا ہے۔۔۔ اور وہ بھی اُس دور میں جب بدیسی استعمار ہمارے سروں پر مسلط تھا اور کفر کی نظریاتی و ثقافتی یلغار ہمارے گھر کی رہی سہی بنیادیں ہلا رہی تھی اور جس نے بالآخر اِس گھر کی کوئی ایک بھی چیز سلامت نہیں رہنے دی ہے۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں، یہ دنگل اُسی جوش و خروش اور اُسی جذبۂ ثواب کے ساتھ جاری ہے!

اور یا پھر۔۔۔ اِس نوجوان کا واسطہ اسلام کی اُس ’غیر مسلکی‘ تفسیر کے ساتھ پڑتا ہے جس کی رُو سے دین کا ہر مسئلہ بلکہ دین کا ہر عقیدہ، ’نکتۂ نظر‘ قسم کی چیز ہے۔ اور جس میں ہر کوئی ’رائے‘ رکھنے کا مجاز ہے؛ اور ’رائے‘ سے آگے کچھ نہیں! چنانچہ یہاں کے وہ دینی طبقے جو ’مسالک‘ سے اب ایک طرح کی بیزاری ظاہر کرنے لگے ہیں، (اور یہ بھی اب کوئی کم مقبول فیشن نہیں)، ان کے یہاں آپ کو ایک مخصوص طرزِ تعامل نظر آتا ہے۔ جس کی رُو سے: دین کے ایک مسئلہ میں زیادہ سے زیادہ، ’رائے‘ رکھ لی جائے گی! دین میں جس درجہ کا بھی اختلاف ہو، اُس کے بالمقابل ’رواداری‘ اختیار کروائی جائے گی۔۔۔! ’منحرف‘ یا ’گمراہ‘ ایسے لفظ کا تو استعمال ہی اِس طبقہ کے نزدیک منع ہے اور ’’مبتدع‘‘ ایسی ڈراؤنی اصطلاح کو تو اپنی اسلامی لغت سے کھرچ ہی دینا چاہیے، بے لحاظ اِس سے کہ دین کا وہ کیا ناگزیر مفہوم ہے جس کو ادا کرنے کیلئے یہ اصطلاح ائمۂ سنت کے ہاں مستعمل رہی، اور بے پروا اِس سے کہ کیسی ہی خطرناک گمراہیاں اور کیسی ہی تباہ کن بدعات ہمارے اپنے زمانے میں کیوں نہ پائی جا رہی ہوں! دین کا سب سے بڑا فرض گویا کوئی ہے تو وہ رواداری ہے، توحید کا درجہ بھی شاید اس کے بعد آتا ہو!

اور یا پھر۔۔۔ ہمارے اِس نوجوان کو ’جدت پسندوں‘ کے پاس جانا ہوتا ہے جوکہ ہے ہی یہاں پر استشراق کا کاشت کیا ہوا پودا، اور جوکہ اِس کو اسلام کے اُس پرانے اصیل تصور ہی سے برگشتہ کرا دینے کیلئے ہماری زمین میں بویا گیا ہے۔

چنانچہ.. جدت پسندوں کی روش کا تو ذکر ہی کیا، اور جوکہ اِن میں خطرناک ترین ہے۔۔۔ پہلی دو انتہائیں بھی کچھ کم تشویشناک نہیں:

۔ ایک انتہا پر یہ حال ہے کہ: کوئی شخص اگر کسی ایک بھی مسئلہ میں آپ والے ’مسلک حقہ‘ پر نہیں تو وہ منحرف ہے اور اُس پر اپنے اُس انحراف سے تائب ہو کر آپ والے ’مسلک حقہ‘ کی طرف لوٹ آنا فرض۔۔۔! نماز وہ جو ’آپ والی‘ مسجد میں ہو اور عبادت وہ جو ’آپ والے‘ طریقے پر ہو!۔۔۔ (’مسلکی‘ اپروچ!)

۔ تو دوسری انتہا پر یہ حال ہے کہ: دین کے چھوٹے مسئلے ہوں یا بڑے، فروع ہوں اور چاہے اصول، ’رائے‘ سے بڑھ کر کسی چیزکے متحمل نہیں! خاص اپنی تحقیق اور مطالعہ سے، ہر شخص یہاں ’رائے‘ اختیار کرے گا! اور چونکہ ہر شخص کو ’رائے‘ رکھنی ہے لہٰذا دین کے ہر ہر مسئلے اور ہر ہر شعبے میں ’اختلاف‘ کیلئے بھی آدمی کو غیرمعمولی طور پر دل کھلا رکھنا ہے! (’غیر مسلکی‘ اپروچ!)

اِن دو انتہاؤں کے بیچ، راہِ وسط کہاں ہے؟ اِس ’مسلکی‘ اپروچ اور اُس ’غیر مسلکی‘ اپروچ سے ہٹ کر، ایک ’’اصولی‘‘ طریقِ فکر کیا ہے؟ ۔۔۔ بڑی حد تک، جواب نہ دارد!

یہاں پر، ہمارے اِس نوجوان کے سامنے سب راستے گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ دین کے اصول اور فروع کی بابت ایک مستند اور متوازن فہم اس کو شاید ہی کہیں سے ملتا ہو۔ اِس کو یہ تو معلوم ہے کہ دین، اللہ کی کتاب سے لینا ہے اور اُس کے رسولؐ کی سنت سے لینا ہے، (کہ اس کے بغیر آدمی نجات کا امیدوار ہو ہی نہیں سکتا)، مگر کتاب اور سنت سے دین لینا کس طرح ہے؟ یعنی دین کو کیونکر سمجھنا ہے، اور تاریخی طور پر اس کے فہم کے مستند ترین مراجع ہماری تاریخ کے کونسے ادوار اور کونسے طبقے ہیں؟ اہل اتباع کے مابین یگانگت uniformity اور تنوع diversity برقرار رکھنے کیلئے درست ترین پیمانے کیا ہیں اور کہاں سے دستیاب ہوتے ہیں؟ دین کا فہم لینے کے اِس عمل میں کہاں کہاں وہ مقامات ہیں جہاں فراخ دلی سے کام لینا ہے اور ’’اختلاف‘‘ و ’’تعددِ مدارس‘‘ کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا ہے.. اور کہاں کہاں وہ مقامات ہیں جہاں پر ’’اختلاف‘‘ کو ناقابل برداشت اور باعثِ تفرقہ وباعثِ ہلاکت جاننا ہے اور جہاں اختلاف ہونے پر ائمۂ سنت کے چہرے لال پیلے ہو جاتے رہے ہیں۔۔۔ یہ راہنمائی قریب قریب مفقود ہے۔

ایسے میں، دین کی ایک متوازن اور ٹھوس صورت سامنے آئے تو کیونکر؟

*****

’’کارواں‘‘ کی راہ سے یہ گرد ہٹانا.. اور اِن بے ہنگم رکاوٹوں سے اس کی راہ کو صاف کر دینا.. تاکہ جہانِ نو کے اندر پیش قدمی کیلئے ہمارے نوجوان کو ایک کھلی شاہراہ دستیاب ہو، ہم سب کا فریضہ ہے۔

اِس مبارک عمل میں اپنا ناچیز حصہ ڈالنے کیلئے.. ادارہ ایقاظ نے ایک سلسلۂ مطبوعات کا اجراء کیا ہے؛ جس کے متعدد حصے اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔

یہ کتاب جو اِس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔۔۔، اپنے اس حالیہ بحران سے بحث کرتی ہے جس کو ہم نے یہاں پائے جانے والے ’’فکری انتشار اور منہجی بے سمتی‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کتاب کا موضوع: یہاں کے ایک نہایت دیرینہ و جان لیوا مسئلہ کا حل ہے۔۔۔:

’’دین کا مصدر‘‘ تو اللہ کا شکر ہے یہاں کے کسی بھی پڑھے لکھے شخص پر اوجھل نہیں ہے، اور سوائے روافض یا جدت پسندوں وغیرہ کے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ قرآن کی آیات یا رسول اللہ ا کی ایک ایک قولی یا فعلی یا تقریری حدیث کسی بھی معنیٰ میں اور کسی بھی لحاظ سے ہر ذی نفس کے حق میں حجت absolute evidence اور ملزم binding نہیں۔ یہ ہم پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ دین کے اِس اصل پر ہم آج بھی متفق ویکجا ہیں۔ اپنے انحطاط و پسماندگی کے اِس دور میں بھی ’’دین کا مصدر‘‘ ہم پر پوری طرح واضح ہے۔ اب اگر ’’فہم کا مصدر‘‘ بھی واضح ہو جائے تو ہمیں اس ’’مصدرِ دین‘‘ سے ’’راہنمائی لینے کا صحیح ترین طریقہ‘‘ بھی مل جاتا ہے اور ہم اِفراط و تفریط اور باہمی رسہ کشی ایسے اِن سب تکلیف دہ رجحانات کا شکار ہونے سے بھی محفوظ ہو جاتے ہیں.. نیز ہم افکار کے اُس جمعہ بازار سے بھی چھٹکارا پا لیتے ہیں جوکہ بڑی دیر سے ہم پر ہجوم کئے ہوئے ہے اور جوکہ ہمارے تحریکی عمل میں مطلوبہ زور اور بلاخیزی لے آنے میں بری طرح مانع ہے اور جس کے ہوتے ہوئے ایک ’’قافلہ‘‘ کا رواں دواں ہونا ممکن نہیں۔ یہیں سے؛ ہمیں اپنی ’’وحدت‘‘ کیلئے بھی ایک درست ترین بنیاد فراہم ہو جاتی ہے اور اپنے ’’تعددِ مدارس‘‘ کیلئے صحیح دائرہ کی بھی ایک بہترین نشان دہی ہو جاتی ہے۔

آپ اتفاق کریں گے، یہ وضوح اور یہ دلجمعی اور یہ یکسوئی ہمارے اِس راستے میں پیر جما کر چلنے کیلئے ناگزیر ہے۔

*****

قارئین کا ایک طبقہ ایسا ہو سکتا ہے جو اِس موضوع کو محض فقہی اور تفسیری پہلوؤں سے ہی دیکھنا چاہے، جبکہ ہماری گفتگو میں اِن اشیاء کو تحریکی موضوعات کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے۔ یہ کتاب اساساً یہاں کی ایک تحریکی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ہے؛ بحث کو اس کے فقہی و تفسیری جوانب تک محدود رکھا جاتا تو کتاب کا ایک بڑا مقصد پورا ہونے سے رہ جاتا۔

اور جہاں تک اِس ’’باعثِ تحریر‘‘ کا تعلق ہے۔۔۔ تو یہی ایک تالیف نہیں، ہماری جملہ تحریری محنت کا ہدف یہاں تحریکی عمل کو ایک نظریاتی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ اِس لکھنے لکھانے سے ہمارے پیش نظر یہاں کی علمی دنیا میں کوئی اضافہ کرنا ہے اور نہ ہم اِس اہل۔ مسلم ہند کے اندر ’’جہادِ کبیر‘‘ کا راستہ صاف کرنا اِس دور کا ایک اہم فریضہ ہے اور ہماری یہ ناچیز محنت اِسی عمل میں حصہ ڈالنے کی اپنی سی ایک کوشش۔

اللّٰہم أرِنا الحقَّ حقاً وارزقنا اتباعہ، وأرِنا الباطلَ باطلاً وارزقنا اجتنابہ۔

حامد کمال الدین

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز