عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Monday, January 30,2023 | 1444, رَجَب 7
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
نيوايئر.. حمیتِ دینی پامال کرنے کا موسم
:عنوان

بدکاریوں کی رات۔ زناکاریوں کی رات۔ شرابیں چلنے کی رات۔ خدایا ایک مسلم ملک میں یہ سارا شور شرابہ، کیا کافر یہاں اتنے ہو گئے ہیں؟ نہیں یہ مسلمان ہیں! بدکاری، شرابیں، کافروں کے تہوار کی یہ ساری رونق فرزندانِ اسلام کے دم سے ہے! ہوٹلوں میں جاؤ، جگہ نہیں ملتی..

. باطل :کیٹیگری
ابن علی :مصنف

فضیلت مآب ابو اسحاق الحوینی

اردو استفادہ: ابن علی

شیخ ابو اسحاق الحوینی مصر کے ایک بڑے عالم، مفتی اور محدث ہیں۔ محدثِ عصر شیخ ناصر الدین البانیؒ کے خاص شاگردوں میں آتے ہیں۔ چوٹی کے عرب خطیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ زیر نظر عبارت ان کے ایک خطبہ بہ عنوان ’’الوَلاءُ لِمَن؟‘‘ سے ماخوذ ہے۔ اردو استفادہ کے دوران یہاں ’برصغیر‘ کی مناسبت سے اس میں تصرف کیا گیا ہے البتہ خطبے کی روح جوں کی توں قائم رکھنے کی کوشش ہوئی ہے۔



معزز حضرات!

حمیتِ دینی (عقیدہ ’’ولاء و براء‘‘) دراصل اس چیز کا نام ہے کہ یہ شخص اللہ رب العزت کے ساتھ ایک واضح وابستگی رکھتا ہے؛ اِس عقیدہ کی رُو سے مسلمان کی دوستی اور دشمنی کا محور خدا کی ذات ہو جاتی ہے... ہمارے دشمنوں نے جب یہ جانا تو وہ سب سے بڑھ کر ہمارے اِسی عقیدہ کے درپے ہوئے اور اِسی کو بے جان کر دینے کی ٹھانی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہاں عجیب و غریب اصطلاحات کا ڈھیر لگ گیا؛ ایسی اصطلاحات جن کو ہماری اِس امتِ توحید نے آج تک کبھی نہیں جپا تھا: ’انسانی اخوت‘... اور ’عالمی برادری‘... اور نہ جانے کیاکیا! اور تو اور، بڑےبڑے مولوی حضرات یہ بولی بولنے لگے: ’ہمارے عیسائی بھائی‘! ’ہمارے غیر مسلم بھائی‘! خبردار رہو؛ یہ اپنے ایمان کو داغ لگانے کے مترادف ہے۔ یہ عقیدہ ’’الولاء والبراء‘‘ کی پامالی ہے۔ یہ جن کو تم ’بھائی‘ کہتے ہو، اللہ عزوجل ان کو ’’کافر‘‘ کہتا ہے۔ ایک مولوی صاحب بولتے ہیں: ’ہمارے وطن کے بھائی، ہماری عیسائی برادری‘! دوسرے بولے: ’ہمارے ہندو بھائی‘ اور ’ہمارے سکھ بھائی‘! سنو! یہ حرام ہے؛ تمہارا پرودگار ان کو کافر کہہ چکا ہے۔ جس کو اللہ کافر کہے اور ذلیل قرار دے، تمہارے لیے روا نہیں کہ تم اس کی تکریم کرو۔

اِس حمیتِ دینی (عقیدہ ’’ولاء وبراء‘‘) کو پامال ہوتا دیکھنا ہو تو اپنے امپورٹ اور ایکسپورٹ سے منسلک تاجروں کو دیکھو، کہ یہ کسی کسی وقت اُن کافروں کو کیسا احترام دیتے ہیں۔ کس طرح اُن کے آگے بچھے جاتے ہیں۔ جب تک کافر کرسی پر رونق افروز نہ ہوجائے ہمارا یہ فرزند اسلام نشست سنبھالنے کا روادار نہ ہوگا! اُس کے آگے پیچھے یوں دوڑا پھرے گا گویا ایں سعادت دوبارہ نیست! وہ کوئی کفر بک دے، اِس کا مہمان رہتے ہوئے حرام کاری کرے، شرابیں پئے، مجال ہے جو اِس کی مسکراہٹیں ختم ہونے میں آئیں اور اُس کے روبرو اِس کی ’خندہ پیشانی‘ میں کوئی فرق آئے! اور خدا کی خاطر غضب ناک ہونا تو گویا اِس نے کبھی سنا اور نہ جانا!

اِس حمیتِ دینی (عقیدہ ’’ولاء وبراء‘‘) کو پامال ہوتا دیکھنا چاہو تو اس وقت دیکھو جب کسی یونیورسٹی میں کوئی نامور مستشرق تقریر فرمانے آیا ہو؛ تم پہلی بار اپنے بڑے بڑے دانشور جغادریوں کے ہوش اڑے دیکھو گے؛ اور اُس کے لیے اِنہیں ایسے ایسے القاب استعمال کرتا اور اُس کی شان میں ایسے ایسے قلابے ملاتا دیکھو گے کہ تھرڈ ورلڈ کی پوری اوقات اِس ایک ’دانشور‘ کے رویے میں نظر آجائے! مجھے آج تک یاد ہے جب جان پالکٹر جو کہ ایک وجودی Existentialist دہریہ ہے، اپنی داشتہ کے ہمراہ جامع ازھر میں ’خطاب‘ فرمانے آیا؛ اُس وقت میں جامعہ الاَزھر میں تھا اور میں نے وہاں پر عجب حال دیکھا تھا۔

الاَزھر میں ہی میرا اپنا چشم دید واقعہ ہے، جہاں کافر سیاحوں کا سیر کے لیے آنا ایک معمول ہے۔ جس طرح اِدھر آپ کی فیصل مسجد اور بادشاہی مسجد وغیرہ کو ’سیرگاہ‘ کا درجہ دے رکھا گیا ہے اور جس کے باعث یہاں کافر مردوں اور عورتوں کا ’سیر‘ کی غرض سے آنا جانا ہردم لگا رہتا ہے۔ مسجدانتظامیہ نے ایک خاکروب کو چند دوپٹے تھما رکھے تھے کہ غیر ملکی سیاح عورتوں کو، جو یہاں ’سیر‘ کرنے اور مسجد کا تقدس اپنے پیروں تلے روندنے آتی ہیں، ننگے سر دیکھو تو ایک عدد دوپٹہ پیش کرو ! انتظامیہ کے ’تقویٰ‘ اور ’خداخوفی‘ کی داد دیتے چلئے؛ سر کے کچھ حصے پر پارچہ نما کوئی چیز ہونا لازم ہے ورنہ مسجد کی بے حرمتی ہو سکتی ہے! کیا دیکھتا ہوں، ایک عورت جو مِنی سکرٹ پہنے ہوئے ہے؛ آدھی آدھی رانیں برہنہ کررکھی ہیں، خاکروب کا دیا ہوا دوپٹہ ’انجوائے‘ کرتی مسجد میں ہر طرف بھاگی پھرتی ہے! ادھر اسی حلیہ کی ایک برہنہ عورت خاکروب سے دوپٹہ پکڑنے پر آمادہ نہیں! میں خاکروب اور اس عورت کی تکرار سننے کے لیے ذرا رک گیا۔ خاکروب کو اپنی ’ڈیوٹی‘ پوری کرنی ہے؛ یہ اُس کو دوپٹہ پکڑا رہا ہے۔ جبکہ مِنی سکرٹ میں ’ملبوس‘ یہ عورت دوپٹے کے بغیر ہی مسجد کی سیر کرآنے پر مصر ہے! پھر جانتے ہو کیا ہوا؟ عورت اپنے پرس سے ایک پاونڈ کا نوٹ نکالتی ہے اور خاکروب کے ہاتھ پر دھر دیتی ہے؛ جس پر خاکروب خاموشی سے اپنا مطالبہ واپس لے لیتا ہے! صرف ایک پاؤنڈ لگا مسجد کی حیثیت خاک میں ملانے پر! یہ ہو رہا ہے خدا کے گھروں میں! فِیْ بُیُوتٍ أذِنَ اللّٰہُ أن تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فَیہَا اسْمُہ (سورہ نور آیت 36) ’’ اُن گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے‘‘! ذرا میرے ساتھ غور کرتے چلئے ؛ جامع مسجد ازھر میں یا آپ کی فیصل مسجد اور بادشاہی مسجد میں کفار کا آنا بھلا کس غرض سے ہے؟ کیا اِن مقامات پر ’’مسجد‘‘ کے احکام لگنا موقوف کردیا گیا ہے؟ اب یہ مسجدیں نہیں رہیں؟ خدا کی تعظیم اور کبریائی کےلیے مخصوص جگہیں نہیں ہیں؟  کیا یہ عجائب گھر ہے؟ سیرگاہ ہے؟ نہیں، یہ اللہ کا گھر ہے جس کا یہ حشر ہو رہا ہے۔ ہم بھی کہتے ہیں کافر مسجد میں داخل ہو سکتا ہے مگر صرف کسی ایسی غرض سے جو اللہ کے گھر کے شایان ہو، نہ کہ اس کو ’سیرگاہ‘ سمجھ کر۔ کافر یہاں کوئی سوال پوچھنے کے لیے آنا چاہیں، مسلمانوں سے کسی معاملہ میں رجوع کے لیے آنا چاہیں، یا کسی اور معقول غرض کے لیے آنا چاہیں؛ ضرور آئیں۔ سو بار آئیں۔ مرد آئیں۔ عورتیں آئیں۔ ہم کبھی اعتراض نہیں کریں گے۔ کفار یقیناًنبیﷺ کے پاس مسجد میں ہی حاضر ہوا کر تے تھے، مگر کفار کے نبیﷺ کے پاس وہاں حاضر ہونے میں بھی مسجد کی ایک ہیبت اور شان قائم ہوتی تھی۔ البتہ مسجد کو ’تماشے کی جگہ‘ بنانے والے ہمارے یہ آج کے مسلمان ہیں جو اپنے دین کے مسلمات کو مسلسل روندتے چلے آرہے ہیں۔ اسلام کے یہ سپوت آج مسجدوں سے ’’سیاحت‘‘ کی کمائی کریں گے اور اگر برہنہ عورتوں کو یہاں آنے سے روکا گیا تو سیاحوں کا رخ اِدھر کو نہیں رہے گا! اف خدایا! آج ہم کس دور میں ہیں!

آج یہاں ایسے ایسے ’مفسر‘ پائے جانے لگے ہیں کہ ان کی تفسیر کو دیکھ کر آدمی لرز اٹھتا ہے۔ اخبارات میں ۱۹۷۴ ؁ء سے میں ایک دانشور کے کالم پڑھتا آرہا ہوں جو اپنا پورا زور اِس بات پر صرف کر رہا ہے کہ یہود اور نصاریٰ اور مجوس اور مسلمین سب کو اہل جنت ثابت کر دے! اِس سال بھی اُس نے ’ثابت‘ کیا ہے کہ مسلمان، یہودی، عیسائی، مجوسی اور صابی سب جنتی ہیں؛ کیونکہ اس کا فہم قرآن یہی کہتا ہے! ایسے لوگ آج دانشور ہیں؛ بڑے بڑے اسٹیج، بڑے بڑے چینل، بڑے بڑے اخبار، بڑے بڑے فورم اِنہی کے لیے مختص ہیں، خواہ یہ ہمارے مسلمات کے بخئے ادھیڑ کر رکھ دیں اور ہمارے عقیدہ کا ستیاناس کر دیں؛ کیونکہ حریتِ اظہار اِسی کا نام ہے!

کفار کے تہواروں میں شرکت کے مسئلہ کو نرم کر دینا ضروری ہو چکا ہے! بھائی تنگ نظر اور متعصب کیوں بنو؛ دین اور عقیدہ کو ملیامیٹ کردو۔ سب سے زیادہ شست باندھ کر تیر چلاؤ تو عقیدہ ’’الولاء والبراء‘‘ پر؛ کیونکہ یہی اِس سارے مسئلے کی اصل جڑ ہے۔ کفار کے تہواروں پر اژدھام کرنے والے یہ کون ہیں؟ مسلمان! موحد! یہ مسلمان ملک ہے کوئی مغربی ملک نہیں؛ ایسٹر پر جدھر دیکھیں آپ کو مسلمان نظر آئیں گے! یہی کیا، آپ کو یہاں پوری پوری داڑھیوں والے نظر آئیں گے! پابندِ نقاب خواتین ملیں گی! ماشاء اللہ پوری فیملی ایسٹر کی سیر کو نکلی ہوئی ہے؛ سڑکوں اور پارکوں میں تل دھرنے کو جگہ نہیں! (قبطی عیسائیوں کے ہاں باغات میں نکل کر نسیم صبح سے لطف اندوز ہونا اور خاص کھانوں پر مشتمل ایک ناشتہ کرکے آنا ایسٹر کے ’مناسک‘ میں گنا جاتا ہے)۔ جی ہاں آج ایسٹر ہے! پوری پوری داڑھیوں والوں اور نقاب اوڑ رکھنے والیوں کو آج یہ بھی یاد نہیں کہ عالمی صنف بندی میں اِن کے لیے جو خانہ مخصوص ہے اس کا نام ’دہشت گرد‘ ہے؟ اِن کو یہ بھی یاد نہیں کہ پوری دنیا میں آج جو بھی جنگ کھڑی کی جا رہی ہے وہ دراصل اِنہی کے خلاف ہے؟ آج ایسی کوئی بات یاد رکھنے کا دن نہیں؛ کافروں کی تماشاگاہیں بھرنے کا دن ہے!

اور یہ ہیپی نیو ایئر کی رات ہے۔ بدکاریوں کی رات۔ زناکاریوں کی رات۔ شرابیں چلنے کی رات۔ خدایا ایک مسلم ملک میں یہ سارا شور شرابہ، کیا کافر یہاں اتنے ہو گئے ہیں؟ نہیں یہ مسلمان ہیں! بدکاری، شرابیں، کافروں کے تہوار کی یہ ساری رونق فرزندانِ اسلام کے دم سے ہے! ہوٹلوں میں جاؤ، جگہ نہیں ملتی؛ سارے ہوٹل بک ہیں! کمرہ پانے کے لیے ’تعلقات‘ اور ’ذرائع‘ کام میں لائے جا رہے ہیں، پیسوں کی پروا نہیں جتنے مرضی لے لیں، اس رات کسی اچھے ہوٹل میں کمرہ ملنا چاہیے! چھپنے چھپانے کی احتیاج نہیں؛ سب کچھ ’معمول‘ کی بات ہے۔ ایک آزاد خودمختار مسلمان ملک میں یہ سب کون کر رہا ہے؟ یہی، مسلمان!

ہاں ابھی یہ گلہ باقی ہے کہ جب اسرائیل ہمیں جوتے مارتا ہے اور جب ہندو ہماری لکھوکھا فوج کو ’سرنڈر‘ کرواتا ہے... تو آخر خدا کہاں ہوتا ہے وہ ہماری مدد اور نصرت کو کیوں نہیں آتا!!! میں کہتا ہوں روئے زمین پر ایسی قوم کا باقی رہ جانا ہی کیا کم معجزہ ہے جو فتح و شادمانی نہ ملنے کے شکوے بھی ہونے لگے!!! پوچھتے ہو ترقی اور کامرانی کیوں نہیں ملی! یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ زمین ہمارے نیچے دھنسا کیوں نہیں دی گئی!!! کیا کبھی قرآن نہیں پڑھا؟ کبھی اپنے نبیؐ کے ارشادات نہیں سنے؟ ہمیں تو اپنے دین میں اِس بات سے روک دیا جاتا ہے کہ ہم اُن تباہ شدہ قوموں کے مسکنوں میں سکونت اختیار کریں جنہوں نے کبھی کسی زمانے میں ظلم کیا تھا اور پھر ان پر خدا کا عذاب اترآیا تھا؛ حالانکہ زمین ساری خدا کی ہے۔ زمین کی سب پاکی اور ناپاکی اس کے باشندوں کے دم سے ہے ۔ زمین ازخود ناپاک نہیں ہوتی اس پر رہنے والے اس کو ناپاک کرتے ہیں۔ زمین ازخود دارالکفر نہیں ہوتی اس کے باشندے اپنے عقائد اور اعمال سے اس کو دارالکفر کردیتے ہیں۔ یہی مکہ ہے جو خدا کا پسندیدہ ترین بقعۂ زمین ہے مگر پھر بھی یہ کچھ دیر دارالکفر رہنے کے بعد جاکر دارالاسلام بنتا ہے۔ چنانچہ آج کا دارالکفر کل کا دارالاسلام ہوسکتا ہے اور کل کا دارالاسلام آج کا دار الکفر۔ ایمان وکفر کے مسئلہ سے زمین بیچاری کا کیا تعلق؟ اس کے باوجود، خدا ہمیں منع کرتا ہے کہ ’’مَسَاکِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘‘ کے باشندے بن کر رہیں، حالانکہ زمین ساری اللہ کی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ مسئلہ عقیدہ ’’الولاء والبراء‘‘ میں داخل ہے۔ ان بستیوں میں ظالموں کے کرتوتوں کی باقیات دیکھنا  صبح شام قلوب کو متاثر کرتا ہے۔ ایسی جگہیں جہاں پر خدا کا قہر اترا وہ ہماری نگاہ میں معمول کی چیز ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ’ابوالہول‘، ’اہرام‘ اور ’بادشاہی قلعہ‘ ایسی سیرگاہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تبوک کے سفر کے دوران نبیﷺ حِجر کے علاقہ میں دیارِ ثمود کے پاس سے گزرے تو چہرہ مبارک ڈھانپ لیا۔ سواری کو تیز کر لیا۔ اور اصحابؓ سے فرمایا: إذَا مَرَرْتُمْ بِدِیَارِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَأسْرِعُوْا؛ خَشْیَۃَ أنْ یُصِیْبَکُمْ مَا أصَابَہُمْ ’’جب تم ظالموں کے دیار سے گزرو تو تیز ہو جاؤ، اس ڈر سے کہ تمہیں بھی وہ چیز نہ آلے جس نے اُن کو آلیا تھا‘‘۔ کیا تم نے غور کیا؟ یہ کافر مرا پڑا ہے اور تمہیں ہدایت کی جارہی ہے کہ یہاں تیزی سے گزر جاؤ اور اس والے انجامِ بد سے خدا کی پناہ مانگو۔ تو پھر زندہ کافر سے دوستی اور بغل گیری چہ معنیٰ! وہ کافر جو خود تمہارے سامنے کفر کررہا ہے اس کے ساتھ البتہ تمہاری خوب خوب دوستی نبھے؟! یہ تمہارے نبیﷺ ہیں جو تمہیں خبردار فرما رہے ہیں: مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِکِیْنَ فَہُوَ مِنْہُمْ ’’جو شخص مشرکوں کے ساتھ رہن سہن رکھے وہ انہی میں سے ہے‘‘۔ کیا نبیﷺ کی یہ تنبیہ کافی نہیں؟


Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
رواداری کی رَو… اہلسنت میں "علی مولا علی مولا" کروانے کے رجحانات
تنقیحات-
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
رواداری کی رَو… اہلسنت میں "علی مولا علی مولا" کروانے کے رجحانات حامد کمال الدین رواداری کی ایک م۔۔۔
ہجری، مصطفوی… گرچہ بت "ہوں" جماعت کی آستینوں میں
بازيافت- تاريخ
بازيافت- سيرت
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
ہجری، مصطفوی… گرچہ بت "ہوں" جماعت کی آستینوں میں! حامد کمال الدین ہجرتِ مصطفیﷺ کا 1443و۔۔۔
لبرل معاشروں میں "ریپ" ایک شور مچانے کی چیز نہ کہ ختم کرنے کی
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
لبرل معاشروں میں "ریپ" ایک شور مچانے کی چیز نہ کہ ختم کرنے کی حامد کمال الدین بنتِ حوّا کی ع۔۔۔
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
"المورد".. ایک متوازی دین
باطل- فرقے
ديگر
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ!
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
"اقوالِ سلف" کا ایک متناقض اطلاق: نظام ڈیموکریسی اور احکام خلافت کے!
تنقیحات-
باطل- نظام
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
حامد كمال الدين
رافضہ، مسئلہ اہلسنت کے آفیشل موقف کا ہے تحریر: حامد کمال الدین مسئلہ "آپ" کے موقف کا نہیں ہے صاحب،۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
رافضہ کی تکفیر و عدم تکفیر، ہر دو اہل سنت کا قول ہیں تحریر: حامد کمال الدین ہمارے یہاں کی مذہبی (سن۔۔۔
تنقیحات-
اصول- منہج
Featured-
حامد كمال الدين
گھر بیٹھ رہنے کا ’آپشن‘… اور ابن تیمیہؒ کا ایک فتویٰ اردو استفادہ: حامد کمال الدین از مجموع فتاوى ا۔۔۔
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ایک نظامِ قائمہ کے ساتھ تعامل ہمارا اور ’اسلامی جمہوری‘ ذہن کا فرق تحریر: حامد کمال الدین س: ۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
عہد کا پیغمبر تحریر: حامد کمال الدین یہ شخصیت نظرانداز ہونے والی نہیں! آپ مشرق کے باشندے ہیں یا ۔۔۔
Featured-
تنقیحات-
راہنمائى-
حامد كمال الدين
مابین "مسلک پرستی" و "مسالک بیزاری" تحریر: حامد کمال الدین میری ایک پوسٹ میں "مسالک بیزار" طبقوں ۔۔۔
احوال- تبصرہ و تجزیہ
حامد كمال الدين
یہاں کی سیاسی ہاؤ ہو میں ’حصہ لینے‘ سے متعلق ہماری پوزیشن حامد کمال الدین ہماری ایک پوسٹ پر آنے وا۔۔۔
تنقیحات-
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
رواداری کی رَو… اہلسنت میں "علی مولا علی مولا" کروانے کے رجحانات حامد کمال الدین رواداری کی ایک م۔۔۔
Featured-
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
بربہاریؒ ولالکائیؒ نہیں؛ مسئلہ ایک مدرسہ کے تسلسل کا ہے تحریر: حامد کمال الدین خدا لگتی بات کہنا عل۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلام کے انفرادی شعائر بھی اس وقت کافر کے نشانے پر ہیں تحریر: حامد کمال الدین گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔
Featured-
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
ایک بڑے شر کے مقابلے پر تحریر: حامد کمال الدین اپنے اس معزز قاری کو بےشک میں جانتا نہیں۔ لیکن سوال۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اہل فساد میں سے کسی کے مرنے پر "اہل صلاح" کا آپس میں فساد کرنا! تحریر: حامد کمال الدین کچھ ایسے لوگ ۔۔۔
احوال-
جہاد- مزاحمت
حامد كمال الدين
یاسین ملک… ہمتوں کو مہمیز دیتا ایک حوالہ تحریر: حامد کمال الدین یاسین ملک تم نے کسر نہیں چھوڑی؛&nb۔۔۔
راہنمائى-
احوال-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ایک کافر ماحول میں "رائےعامہ" کی راہداری ادا کرنے والے مسلمان تحریر: حامد کمال الدین چند ہفتے پیشتر۔۔۔
احوال- تبصرہ و تجزیہ
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
ایک خوش الحان کاریزمیٹک نوجوان کا ملک کی ایک مین سٹریم پارٹی کا رخ کرنا تحریر: حامد کمال الدین کوئی ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سوویت دور کے افغان جہاد متعلق سفرالحوالی کی پوزیشن حامد کمال الدین "المسلمون والحضارة الغربية" سے ۔۔۔
تنقیحات-
دانيال حقيقت جو
فيمنيزم كى جيت‘منشيات كى زيادتى سے خواتين كى موت ميں تين گُناہ اضافہایک روایتی مسلم معاشرے میں ایک عام پچاس سا۔۔۔
تنقیحات-
دانيال حقيقت جو
جب اسلام پر حملے کرنے والے ملحدوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور صیہونیوں کی طرف نظر کریں تو ان کا بنیادی اعتراض یہ ہوت۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
تبصرہ و تجزیہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
حامد كمال الدين
تاريخ
حامد كمال الدين
سيرت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
قتال
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز