عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, June 6,2020 | 1441, شَوّال 13
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-02 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
شاتمِ رسول کی سزا کا سٹیٹس
:عنوان

قانون ناموسِ رسالت... مسئلہ ’فقہی بحث‘ سے بڑا ہے

. باطلفرقے :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

انون ناموسِ رسالت... مسئلہ ’فقہی بحث‘ سے بڑا ہے ) 2/4

شاتمِ رسول کی سزا کا سٹیٹس

صاف بات ہے، عوام الناس کی سطح پر تو ہم اس بات کو سرے سے متنازعہ نہیں ہونے دیں گے۔

فقہاء کا علمی اختلاف عامۃ الناس کے سامنے کبھی بھی لا کر نہیں دھرا جاتا۔

جو لوگ اِس وقت یہ شغل فرما رہے ہیں، اور کسی خاص ایجنڈا پر مامور ٹی وی کیمروں کی دستیابی پا کر، صبح شام  عامۃ الناس کو دلیلیں ’سمجھانے‘ کی لگن میں ہیں، اور اِس شبانہ روز محنت سے لوگوں کا اعتماد اپنے علماء پر سے ختم کرواتے چلے جا رہے ہیں... ایک ادنیٰ شعور رکھنے والا آدمی بھی جان سکتا ہے یہ حضرات، دانستہ یا نادانستہ، کن طبقوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ اپنے تئیں بےشک عالم خیال کرتے ہوں، لیکن اگر یہ واقعی کوئی تعمیری جذبہ رکھتے ہیں، تو ضرور جانتے ہوں گے کہ علمی دلائل  کو جانچنا اور ان کے درست استخراج کی بابت کوئی رائے قائم کرنا ایک ایسا دقیق اور اعلیٰ پائے کا کام ہے کہ عوام الناس بیچارے اس کا فیصلہ کر ہی نہیں سکتے۔ وہ اِس کے اَدَوَات tools  ہی نہیں رکھتے۔ بےشک یہ دانشوری کی کوئی اعلیٰ قسم سمجھی جاتی ہو، ہماری نظر میں یہ صاف تخریب کاری اور مجمع بازی ہے۔

 وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ

ان مسائل میں؛ کیا یہی جاتا ہے کہ عوام الناس کو اپنے اپنے اعتماد کے علماء کے اختیار کردہ مسائل و فتاوى پر چلنے کےلیے چھوڑ دیا جائے۔

عوام کی سطح پر ایک نزاع صرف اُس وقت اٹھایا جاتا ہے جب عوام الناس کو ان کے اعتماد کے ’اہل علم‘ کی جانب سے کسی ایسی راہ پر ڈال دیا گیا ہو جو اسلام سے ایک صاف انحراف ہو اور وہ  فقہائے اسلام کے کسی ایک بھی معروف گروہ کی رائے نہ رہی ہو۔ ورنہ فقہاء کی معروف آراء پر چلنے والوں کو آپ اُن کے مسلک سے ہٹانے لگیں گے تو ایسے مسئلے تو ہزاروں لاکھوں ہیں جن میں تعددِ آراء ممکن ہے۔ کیا ہر فریق کے اہل علم ایسے ہر ہر مسئلہ پر  دوسرے فریق کے ’عوام الناس‘ کو اُن کے معتمَد اہل علم کی راہ سے ہٹانے چل پڑیں گے؟ اور کیا امت کو قیامت تک یہی دنگل کرنا ہے؟ کوئی تعمیری کام تو انجام نہیں دینا؟!

خدا را! عوام الناس کا اعتماد اپنے اہل علم پر سے مت اٹھوائیے؛ باہر جو بھیڑیے ان کو نگلنے کےلیے بیٹھے ہیں  وہ شاید آپ کی اِسی مہم کے سرے لگنے کے منتظر ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ شاتم رسول کےلیے سزائے موت کیا فقہاء کے کسی معتبر قابل ذکر فریق کی رائے نہیں ہے؟ بےشک یہ اجماعی نہ ہو مگر فقہاء کی ایک بڑی جماعت اِسی رائے پر ہے۔ خصوصاً آخری صدیوں کے فقہاء میں تو ابن تیمیہؒ  کی اختیار کردہ یہ رائے اس قدر مقبول ہوئی، اور ’’الصارم المسلول علىٰ شاتم الرسول‘‘ کے اَدِلّہ کو ان کے ہاں کچھ پزیرائی حاصل ہوئی، کہ بعض لوگوں نے اس کو اجماع کے قریب قریب تک قرار دیا ہے۔  لیکن آپ اس کو اجماع نہ کہیں، یہ فقہاء کی ایک بڑی تعداد کی رائے ضرور ہے۔

 پس عوام الناس کی سطح پر تو اس پر بےچینی پھیلانے کی کوئی تُک ہی نہیں ہے؛ خصوصاً اس لیے کہ یہاں پائے جانے والے سبھی مسالک کے علماء وفقہاء اس وقت ایک بات پر متفق اور یک آواز ہیں۔ دیوبندی، اہلحدیث، بریلوی کوئی ایک بھی اس رائے سے ہٹا ہوا نہیں۔ حتیٰ کہ (میرے علم کی حد تک) شیعہ کی طرف سے اس سے ہٹ کر رائے نہیں لائی گئی۔ یعنی سب نے ایک بات پر اتفاق کیا ہے۔ ایسا بھاری بھرکم اتفاق بجائےخود قابل ذکر اور واجب شکر ہے۔ جبکہ اس سے پہلے؛ وہ بات فقہاء کی ایک کثیر تعداد کی رائے رہی ہے؛ کوئی یکلخت سامنے آجانے والا ڈھکوسلہ نہیں ہے۔ تو پھر یہ لوگ کون ہیں جو اس کے خلاف شور اٹھا رہے ہیں، اور ان کی جڑیں کہاں ہیں؟

اس پر عوام الناس میں بےچینی اور بداعتمادی پیدا کرنا ہمارے نزدیک فساد کی ہی ایک صورت ہے۔

پھر ان مدعیانِ دانش کی طرف سے، اس مسئلہ پر، لوگوں کو بار بار ’’ابوحنیفہؒ‘ کے نام پر جذباتی کرنا بھی ایک غیر علمی رویہ ہے۔ یہی نکتہ ور ہیں جو یہاں کے علمائے احناف کو ’’ابوحنیفہؒ کےلیے تعصب‘‘ کا طعنہ دینے سے بھی نہیں ٹلیں گے، مگر جب وقت کے یہ فقہائے احناف ایک مسئلہ میں ’’قولِ ابو حنیفہؒ‘ سے نکلیں گے تو وہاں یہ ’’ابو حنیفہؒ کے قول کو چھوڑنے‘‘ کا کوسنہ بھی دیں گے!!! اس لیے کہ یہ علمائے احناف ’’ابو حنیفہؒ کے قول‘‘ کو وہاں نہیں چھوڑتے جہاں یہ ’صاحبانِ دانش‘ ان کو چھڑوانا چاہتے ہیں! لہٰذا وہاں؛ ان علمائےاحناف کے پاس ’’قولِ امامؒ‘‘ کو چھوڑنے کی نہ کوئی دلیل ہوتی ہے اور نہ کوئی علمی بنیاد! یعنی ’’ابوحنیفہ‘‘ کی جگہ اِن دانشوروں کو رکھ دیں تو نہ تعصب نہ جمود! لیکن ’’ابو حنیفہ‘‘ کی جگہ پر اگر ’’ابو حنیفہ‘‘ ہی ہوں، اکیسویں صدی کا کوئی ساہیوال گجرانوالہ کا ’نابغہ‘ نہ ہو، تو نہ ابو حنیفہؒ کے قول کو اختیار کرکے آپ جمود اور تعصب کے طعنے سے بچنے والے ہیں اور نہ اس کو چھوڑ کر! یعنی ایک اہل آدمی کا مذہب اختیار کرنا تو بندذہنی ہے، تاہم ایک نااہل آدمی کا مذہب اختیار کرنا زمانہ فہمی اور  روشن خیالی؛ اس لیے کہ سب ’حق شناس‘ کیمرے آج اِس پر نصب ہیں!

غرض عامۃ الناس کی سطح پر تو ہم ان بحثوں کو اٹھانا ہی شر کا دروازہ کھولنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

رہ گیا طلبۂ علم کی سطح پر، جبکہ ایقاظ زیادہ تر اسی طبقے کو سامنے رکھ کر اپنی تحریرات تیار کرتا ہے، اور صرف اِسی پہلو سے یہ بات یہاں پر کی جا رہی ہے... تو ان پختہ فکر اصحاب کے سامنے یہ بات آجانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ امام ابو حنیفہ سمیت بعض اہل علم کی رائے ابوحنیفہ﷫ سمیت بعض اہل علم کی رائے یہ رہی ہے کہ: ذمی کوشاتم ہونے کی صورت میں سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ البتہ ہمارے اِس خطہ کے علمائے احناف نے بہت سارے علمی اعتبارات کو سامنے رکھتے ہوئے اِس مسئلہ پر کچھ دیگر ائمہ کے اقوال کو اختیار کیا ہے؛ جو اصولاً نہ غلط ہے اور نہ باعثِ حرج۔ نیز یہ کہ جو فقہاء شاتم رسول کی سزائے موت کے قائل ہیں، ایک تو وہ اسے نبیﷺ کا مخصوص حق سمجھتے ہیں، جس کو نبیﷺ خود ہی معاف کریں تو کریں۔ دوسرا، اس کو فساد فی الارض کے تحت لاتے ہیں جس میں سزائے موت تک جایا جا سکتا ہے، جس کا سورۃ المائدۃ میں ذکر ہے۔ مگر اصل میں اس کی بنیاد اِن فقہاء کے نزدیک وہ کثیر وقائع ہیں جن میں صحابہؓ کے ہاتھوں شاتم رسول قتل کیے جاتے رہے، اور دربارِ رسالت سے اس پر ستائش ہوتی رہی۔ ان وقائع کو ابن تیمیہؒ کی شہرہ آفاق تصنیف ’’الصارم المسلول‘‘ سے دیکھا جا سکتا ہے؛ جو اِس وقت اردو میں بھی دستیاب ہے۔ ’’سیاست‘‘ کے باب سے بہرحال فقہاء نے یہ سزا تجویز نہیں کی۔اس کی اصولی بنیادیں وہ قرآن سے بتاتے ہیں کہ شانِ رسالت کے خلاف عمداً اختیار کی جانے والی بدزبانی اور گستاخی  کو قرآن میں کس طرح لیا گیا ہے۔ پھر اس کی عملی بنیادیں سنت سے لیتے ہیں، جو وقائع کی صورت میں پیش آئے اور جن کا ایک اچھا خاصا اکاؤنٹ ’’الصارم المسلول‘‘ سے دستیاب ہے۔ اس کے بعد فقہاء کا ان نصوص کو سمجھنا اور اس سے اخدِ مسائل کرنا ہے، فقہاء کے ان استدلالات کا ایک اچھا اکاؤنٹ بھی آپ کو اس کتاب سے مل جاتا ہے؛ یہاں ان وجوہِ استدلال کی تفصیل میں جانے کی گنجائش نہیں۔

ناموسِ رسالت کے قانون کو مملکتِ خداداد پاکستان کی تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر چھیڑنا تو ایک نہایت خوفناک راستے پر چل دینے کے مترادف ہوگا، جیسا کہ آگے چل کر ہم اس پر کچھ بات کریں گے۔ لہٰذا اس کو تو ہاتھ بھی نہ لگانا چاہئے۔  البتہ اس قانون کا ایک سقم جس کااکثر تذکرہ کیا جاتا ہے، اس طرح دور کیا جا سکتا ہے کہ ایک چھوٹے سے اضافی قانون کے ذ ریعے،  توہین رسالت کی ایف آئی آر کاٹنے کےلیے یہاں کسی ایسی کمیٹی کا این او سی لازمی ٹھہرا دیا جائے جس میں تمام مسالک کے علماء کی نمائندگی ہو۔ اس طریقے سے؛ ایک مسلک کے کسی جذباتی آدمی کا دوسرے مسلک کے کسی آدمی کے خلاف ’’قانون ناموسِ رسالت‘‘ کا ناحق سہارا لینا خودبخود خارج از امکان ہو جاتا ہے۔  یہ بآسانی ہو سکتا ہے۔ اس مسئلہ کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور اس اتنی سی بات کو خود اِس قانون ہی کو ختم کرنے کےلیے ایک ’وجہ‘ قرار دینا فنکاری کے سوا کچھ نہیں۔

(مضمون کا اگلا حصہ: ’’شاتم رسول کو سزائے موت، کس سطح پر؟‘‘)

 

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے
Featured-
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
"المورد".. ایک متوازی دین
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ!
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز