عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, September 24,2019 | 1441, مُحَرَّم 24
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ممکنہ پاک بھارت جنگ اور جدت پسند بیانیہ کی اگلی قسط
:عنوان

کشمیر کےان مظلوم مسلمانوں کی صدا پر کان دھریے جو70سال سےہندو کےظلم تلےکراہ رہےہیں۔اب تو بخدا یہ معاملہ دیکھنا بس سےباہر ہے۔ سلام کیجئے اس قوم کے صبر اور حوصلہ کو جو ہندو کےنیچے رہنےسے مسلسل انکاری ہے اور اس کو مسلم شناخت کا ایک ملک بنارکھنےپر ہی مصر ہے

:کیٹیگری
ابن علی :مصنف

جب تاتاری عالم اسلام پر حملہ آور ہوئے... تو مجھے یقین ہے اُس وقت کے جدت پسندوں نے ’اسلام کا اس جنگ سے کوئی تعلق نہ ہونا‘ ضرور ثابت کیا ہو گا۔ ان کے فتویٰ کو عالم اسلام میں پزیرائی ملے بغیر بھی ہرگز نہ رہی ہوگی۔ پھر اس کے شواہد تو ملے ہی ہیں کہ وقت کے کچھ ’مسلم فقہاء‘ اُس دوران ہلاکو کے ہم رکاب تھے جو اغلباً اپنے اُس عہد میں ’سیکولرزم‘ کے حق ہونے کی شہادت دینے اٹھے ہوں گے۔ لوگ ان پر رافضیت کا شبہ کر بیٹھے۔ ان ’فقہاء‘ کے بہت سے پیروکاروں نے مسلم زبانوں اور لہجوں پر عبور رکھنے کے باعث مسلم خطوں کے سٹرٹیجک راز تاتاریوں کو حاصل کر کے دیے اور کچھ خطیر مہمات بھی ان کےلیے انجام دی تھیں۔ کہا جاتا ہے خلیفہ اور اس کے اہل خانہ بھی ان میں سے بعض کی نشاندہی پر گرفتار ہوئے تھے۔ اگر وہ ہلاکو سے اس بات کی تنخواہ لیتے تھے تو یہ ایک ’پروفیشنل سروس‘ تھی، دین کو اس سے کیا؟ یہ اُس طرف ہو گئے تو کیا، اِدھر کے لوگ کیا تنخواہ پر نہیں لڑتے؟! یہ تو تنخواہ کا مسئلہ ہے، خواہ اِدھر سے لیں یا اُدھر سے، اس کو دین کا مسئلہ آپ نے کیسے بنا دیا! ہاں اگر وہ نیشن سٹیٹ کے احکام توڑ بیٹھے ہوں تو ضرور یہ دین کا مسئلہ ہے، کیونکہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا  کہ مسلمانوں پر حملہ آور لشکروں میں شمولیت کرنے والے سب مسلمانوں نے اُس فوج کو جائن کرنے سے پہلے وہاں کی شہریت حاصل کی تھی۔ (محض خیرسگالی میں کوئی مدد کر دینے پر البتہ جدت پسند فقہ میں دو قول پائے جاتے ہیں!)۔ بس یہ ایک ہی پہلو کہ بہت سے لوگ حصولِ شہریت کے بغیر ہی جنگ میں شامل ہوئے ہوں، قابل اعتراض ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مسلم آبادیوں پر حملہ آور ہونا فی نفسہٖ تو گناہ نہیں۔ اذانوں کے دیس کو تاراج کرنا بجائےخود تو قابل مواخذہ نہیں۔ موجب اعتراض چیز دین کی نگاہ میں صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ حملہ آور ریاست کی شہریت رکھے بغیر اور محض دوستی اور خیرسگالی میں تو آیا کسی نے یہ کام نہیں کر لیا؟ (جس طرح کچھ مفتی حضرات نے ویزہ ویلڈ valid   رہے بغیر کر لیے گئے حج کو باطل ٹھہرایا ہے، اور بلاشبہ کچھ اعمال ادائےشرط کے بغیر انجام پائیں تو باطل ٹھہرتے ہیں!)۔

پس مسئلہ کسی مسلم بستی پر حملہ آور ہلاکو یا مودی کے ہم رکاب ہونے کا نہیں اور نہ پانچ لاکھ کشمیریوں کے خون کا ہے اور نہ مسجدوں کے دیس کو خون میں نہلانے یا صفحۂ ہستی سے ختم کر ڈالنے کا یا جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی ایک ابھرتی ہوئی (ایٹمی) قوت کو خدانخواستہ ریزہ ریزہ کر کے عالم اسلام کے شرقی نصف حصے میں مسلمانوں کو ان کے سب سے بڑے سہارے سے محروم (بلکہ یتیم) کر ڈالنے (اور اس کے نتیجے میں امتِ اسلام کے اٹھنے کی کوششوں کو سو سال پیچھے دھکیل دینے) کا ہے۔ ایسے سب اعتبارات مسئلہ کو دیکھنے کے معاملہ میں سراسر لغو ہیں۔ مسئلے کی ’شرعی مناط‘ صرف اور صرف نیشن سٹیٹ کے احکام ہیں!  ان کو توڑا گیا تو شریعت مداخلت کےلیے میدان میں آئے گی، ورنہ مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں۔ آپ ایک ’’اسلام آباد‘‘ کی بات کرتے ہیں، ہم کہتے ہیں ’’اسلام بول‘‘ کیوں نہ ہو! بلکہ نیشن سٹیٹ کے احکامِ مقدسہ کی پابندی برقرار ہو تو ’’حجاز شریف‘‘ کی استثنا بھی شاید ہی کسی دلیل سے ہو سکتی ہو! آپ اگر ایک پیشہ ور پائلٹ ہیں تو جائیے ایسے کسی بھی مسلم شہر کو ’فلیٹ‘ کر آئیے اور احساسِ گناہ کا شائبہ تک پاس نہ آنے دیجئے، ایک نہایت معتبر فتویٰ آپ کو آخر تک حاصل ہے!

اغلب یہ ہے کہ عالم اسلام میں بہت بار یہ ایکش ری پلے ہوا ہو...

جس وقت صلیبی اپنے نیزے بھالے اٹھائے بلادِ اسلام کو تاراج کرتے آ رہے تھے، ضرور اس وقت کچھ ’محققین‘ ایسے ہوں گے جو اس قتال کو دین سے نہ جوڑنے کے حق میں زبردست علمی دلائل دے رہے ہوں اور اس جنگ کے ’معاشی محرکات‘ پر سیرحاصل گفتگو فرما رہے ہوں۔ بلکہ ’بیت المقدس پر مسلمانوں کا کوئی حق نہ ہونے‘ والی تحقیق اس موقع پر کچھ اور بھی جوش سے پیش ہونے لگی ہو، کچھ توقف ہو گا تو بس یہ کہ بیت المقدس بجائے عیسائیوں کے یہودیوں کو پیش کیا جاتا تو بزعم خویش (سورۃ المائدۃ کی ایک آیت میں وارد) قرآنی حکم کی روح زیادہ صحیح طور پر پوری ہوتی! (حالانکہ پردۂ غیب میں یہ فضیلت ہمارے آج کے جدت پسندوں کے حق میں لکھ رکھی ہوئی تھی، اُنہیں اُس دور میں یہ کیسے مل سکتی تھی اور اُس وقت بھلا وہ یہودی کہاں سے لاتے؟!)۔

پانچویں، چھٹی و مابعد صدیوں میں مسلمانوں کا وہ عظیم جہاد، جس کے نتیجے میں ہند میں شہروں کے شہر  بتوں سے خالی ہو کر مسجدوں اور قرآن کی درس گاہوں میں ڈھلے اور دیویوں کی بجائے یہاں خالص اللہ کی عبادت ہونے لگی اور ہر جانب محمدﷺ کا کلمہ پڑھا جانے لگا، فداہ ابی و امی... خاصا مشکل ہے اُس وقت کچھ نکتہ ور یہ نکتہ اٹھانا بھول گئے ہوں کہ آج نہ تو صحابہ کا دور ہے اور نہ  ہند کو فتح کرنے کی مہم پر روانہ ہونے والی فوج کوئی صحابہ یا فرشتوں پر مشتمل، لہٰذا دین اور مذہب سے اس جنگ کا کیا تعلق ہو سکتا ہے، پس اس کے معاشی محرکات اور اس کی سیاسی وتزویراتی جہتوں ہی کا اعتبار کرو، اس کے تہذیبی یا عقائدی جوانب پر توجہ مرکوز کرنا درست نہیں۔ البتہ ان کے روکنے سمجھانے کے باوجود جب یہ شہروں کے شہر اسلام کے مفتوح ہو گئے اور اذانوں کی گونج یہاں ہر طرف سنائی دینے لگی تو ایسے بہت سے نکتہ ور اپنے اُن اشکالات اور شبہات کو اٹھا کر اِن مفتوحہ شہروں میں آ بیٹھے ہوں گے تاکہ خلقِ خدا جو اس جہاد کے نتیجے میں خیر سے اسلام میں داخل ہو ہی گئی ہے اب کہیں ’حقیقی اسلام‘ سے ناواقف نہ رہ جائے اور مولویوں کی تحریک پر یا بادشاہوں کے ساتھ لگ کر آگے کسی ملک کو اذانوں کے دیس میں ڈھالنے نہ چل دے۔ اور پھر ’حقیقی اسلام‘ کے وہ دروس شروع ہو گئے ہوں گے جو ہند کو اسلام کا گڑھ بنا دینے پر منتج ہونے والی جنگ کا ’مذہب سے کوئی تعلق نہ ہونے‘ کی دلیلوں سے لبریز ہے!

میرا خیال ہے ایسے لوگ ہمیشہ سے ہم میں رہے ہیں، کچھ مخصوص عوامل نے آج ان کی آواز کچھ غیرمعمولی طور پر اونچی کرا دی، تو اور بات ہے۔ ہمارا کوئی دَور ایسی آوازوں سے خالی نہیں رہا۔ آپ خاطر جمع رکھیے۔ اِس وقت صرف کشمیر کے ان مظلوم مسلمانوں کی صدا پر کان دھریے جو ستر سال سے ہندو کے ظلم تلے کراہ رہے ہیں، اور اب تو بخدا یہ معاملہ دیکھنا بس سے باہر ہے۔ سلام کیجئے اس قوم کے صبر اور حوصلہ کو جو ہندو کے نیچے رہنے سے مسلسل انکاری ہے اور اس کو مسلم شناخت کا ایک ملک بنا رکھنے پر ہی مُصر ہے۔ سبھی کو معلوم ہے، کشمیری مظلوموں کا یہ کیس ہی جنوب ایشیا کے ان دو ملکوں کے مابین اس تلخی کا سبب چلا آرہا ہے اور اس نزاع میں ریڑھ کی ہڈی سن 48 سے لے کر آج تک یہی ایک مسئلہ ہے۔ خواہ ظاہر میں اس پاک بھارت کشیدگی پر جو بھی رنگ آئیں مگر اس کی تہہ میں پچھلے سات عشروں سے یہی ایک مسئلہ بول رہا ہے،  یعنی کشمیر کا مسئلہ جوکہ اسلامی پیمانوں پر بھی اور انسانی پیمانوں پر بھی، ہر پہلو سے ہماری ہمدردی اور نصرت کا حق رکھتا ہے، اور جس کےلیے ہمارے اِن اسلامی نکتہ وروں کی زبان سے شاید ہی کبھی کوئی کلمۂ خیر بولا گیا ہو۔ اُن مجبور و مقہور مسلمانوں کےلیے اِن کے لہجوں میں شاید ہی کبھی دکھ اور پریشانی ٹپک کر آئی ہو۔  کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جدت پسند فتوے کسی وقت لبرل اور سیکولر کیس کو ’مذہبی دلیلوں‘ کے سہارے سے محروم رہنے دیں؟ کسی موقع پر اپنا یہ ’اسلامی کردار‘ ادا کرنا بھول جائیں؟  حضرات یہ وقت ہے قوم کے لہجوں میں ایک زوردار یکسوئی لانے کا۔ دشمن ہماری یکجہتی دیکھ کر ہی ان شاءاللہ پیچھے ہٹے گا۔ اپنی یہ یکجہتی اس موقع پر دشمن کو ضرور دکھائیے اور اِدھراُدھر کے فتووں میں ہرگز مت آئیے۔ ہم اللہ کے فضل سے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کر رہے۔ جس صاحبِ نظر کو کشمیر میں بھارتی زیادتی، ظلم، بربریت اور وحشت نظر نہیں آ رہی اس کےلیے بصیرت اور بصارت ہر دو کی دعاء کیجئے۔ وہ اپنے فکر و نظریہ میں کسی شرابِ افرنگ سے بری طرح مدہوش ہے، ورنہ صورتِ واقعہ ہرگز پیچیدہ نہیں۔ کشمیر میں  بھارت کا ظالم ہونا اظہر من الشمس ہے۔ یہ مظلوم کشمیری دین میں ہمارے بھائی ہیں اور ان کی نصرت ہمارا دینی فرض۔ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ  ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ  وہ(کسی کے ظلم کےلیے) اس کو بےیارومددگار چھوڑتا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم)۔ پھر حملوں کی باتیں بھی ہماری طرف سے نہیں بھارت کی طرف سے ہو رہی ہیں۔ بھارت کی جانب سے ایسی کسی جارحیت کی صورت میں اگر ہمیں لڑنا پڑتا ہے تو اپنے دین، عقیدے اور اسلامی مفاد سے اس کا تعلق کیوں نہیں؟

 وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا                                                                                                                 (النساء: 75)

’’بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راه میں اور ان ناتواں مردوں، عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کےلئے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خود اپنے پاس سے حمایتی مقرر کر دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا‘‘۔             (ترجمہ جوناگڑھی)

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز