عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, September 19,2019 | 1441, مُحَرَّم 19
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ابن تیمیہؒ کی تقریر: ملوکیت ہماری امت میں جائز نہیں
:عنوان

ہماری اس امت کے حق میں خلافتِ نبوت ہی کو فرض ٹھہرایا گیا ہے، جس پر ابن تیمیہؒ کے نزدیک یہ حدیث نص ہے: ’’علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین، عضوا علیھا بالنواجذ‘‘۔ چنانچہ خلفائے راشدین کا طریقہ ہی اس امت کے حق میں لازم ٹھہرایا گیا ہے۔

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

ملوکیت (بادشاہت) سے متعلق بعض فضلاء وقتاً فوقتاً یہ نکتہ اٹھاتے ہیں کہ قرآن مجید میں یوسف، داؤد اور سلیمان علیہم السلام ایسے انبیاء کو بادشاہت ملنے کا ذکر ہوا ہے۔ ستائش کے ایک نہایت واضح سیاق میں طالوت کو وقت کے نبی کے ہاتھوں بادشاہ بنانے کا ذکر ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کو خدا کی نعمتیں یاد کروانے کے دوران یہ بیان آیا ہے کہ اللہ نے تمہیں بادشاہتیں عطا کیں۔ تاریخی طور پر بھی بنی اسرائیل کے ہاں بادشاہتوں کا سلسلہ معروف ہے، درحالیکہ ان سب ادوار میں انبیاء ان کے ہاں تسلسل سے پائے گئے، بلکہ انبیاء کے ہاتھوں ان کے معاملات چلائے جاتے رہے۔ لہٰذا ملوکیت (بادشاہت) میں کیا قباحت ہے؟ بلکہ کچھ لوگ تو خلافت اور ملوکیت میں کوئی بڑا فرق کرنے کے بھی قائل نہیں۔ ان کے خیال میں یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں، صورت کا تھوڑا فرق ہے۔

کچھ عرصہ پیشتر مجھے امام ابن تیمیہ کی تالیف ’’خلافت و ملوکیت‘‘ اردو میں ترجمہ کرنے کا موقع ملا، جو تاحال طباعت کے مراحل سے گزر نہیں سکا۔  اس میں ابن تیمیہ نے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ ملوکیت (بادشاہت) کا ہماری اِس امت کے حق میں کیا حکم ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس اشکال کے معاملہ میں ابن تیمیہ کا جواب چند نکات میں مختصر کر دیا جائے۔

ابن تیمیہ کی تقریر کی رُو سے:

o    ’’خلافتِ نبوت‘‘ اور ’’مُلک‘‘ (جس کو ہم اردو میں ’’ملوکیت‘‘ کہہ دیتے ہیں، یعنی بادشاہت) دو الگ الگ چیزیں ہیں، اور یہ بات نص سے ثابت ہے۔ چنانچہ حدیث میں آپﷺ نے خلافتِ نبوت کے تیس سال تک رہنے کی پیش گوئی فرمائی، اور تیس سال کے بعد مُلک یعنی بادشاہت آ جانے کا ذکر فرمایا۔ پس ثابت ہوا یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں، ایک نہیں۔ بلکہ ابن تیمیہ کے بقول، یہ نبوی پیش گوئی جن احادیث میں وارد ہوئی، ان میں سے بعض روایات کے اندر معاملہ کے ’’خلافتِ نبوت‘‘ سے ’’ملوکیت‘‘ پر چلا جانے پر نبیﷺ کا کچھ اظہارِ تشویش فرمانا بھی ملتا ہے۔

o    ہماری اس امت کے حق میں ’’خلافتِ نبوت‘‘ ہی واجب ہے جبکہ ’’ملوکیت‘‘ ناحق۔

o    یہاں ابن تیمیہ احادیث سے استدلال کرتے ہوئے خود نبی کی دو قسمیں ذکر کرتے ہیں: ’’نبیِ مَلِک‘‘، جیسے داود اور سلیمان علیہما السلام وغیرہ۔ اور ’’رسولِ عبد‘‘ جیسے ہمارے نبیﷺ۔ چنانچہ فرماتے ہیں: (حدیث میں) ہمارے نبیﷺ کو باقاعدہ یہ چناؤ دیا گیا کہ چاہو تو ’’نبیِ ملک‘‘ بن جاؤ اور چاہو تو ’’رسولِ عبد‘‘۔ یہاں جبریل نے آپﷺ کو مشورہ دیا کہ اپنے پروردگار کے آگے تواضع اختیار کیجئے اور ’’رسولِ عبد‘‘ ہونا مانگ لیجئے، سو آپﷺ نے اپنے لیے یہی مانگا۔ ابن تیمیہ کے نزدیک: ’’رسولِ عبد‘‘ درجے اور اجر میں ’’نبیِ ملک‘‘ سے اوپر ہوتا ہے۔ چنانچہ نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمدﷺ درجے میں یوسف، داود و سلیمان علیہم السلام سے اوپر ہیں۔

o    رہ گیا پچھلی امتوں میں بادشاہتوں کا ذکر، تو یہ حق ہے۔ مگر ہماری اس امت کے حق میں خلافتِ نبوت ہی کو فرض ٹھہرایا گیا ہے، جس پر ابن تیمیہؒ کے نزدیک یہ حدیث نص ہے: ’’علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین، عضوا علیھا بالنواجذ‘‘۔ چنانچہ خلفائے راشدین کا طریقہ ہی اس امت کے حق میں لازم ٹھہرایا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ وہی ہے جو تیس سال تک رہا۔ نہ کہ وہ جو اس کے بعد آیا۔

o    خلافتِ نبوت (خلفائےراشدین کے طریقہ) پر قائم رہنا، اگرچہ فرائض میں سے ایک فرض ہے۔ تاہم اس فرض کا چھوٹ جانا ابن تیمیہ کے نزدیک دو صورتوں میں ہو سکتا ہے:

1)       قدرت رکھتے ہوئے ایسا کرنا، جوکہ ظلم اور گناہ ہو گا۔

2)      البتہ کسی وقت معاملہ بس سے باہر ہونا اور چار و ناچار اس کی صورت پیش آ جانا۔ امت کے بہت سے صلحاء کے حق میں ابن تیمیہ اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ متعدد سماجی فیکٹر ایسے ہو سکتے ہیں جو ان کےلیے گنجائش نہیں چھوڑتے (جبکہ معاملات کو معطل کرنا ممکن نہیں ہوتا)۔ (کچھ دوسرے مقامات پر) ابن تیمیہ حضرت معاویہؓ کی بادشاہت کو بھی اس زمرے میں رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ ابن تیمیہ بعض ایسی احادیث کا بھی ذکر کرتے ہیں جس میں ’’خلافتِ نبوت‘‘ کے بعد ’’ملکٌ ورحمۃٌ‘‘ کی پیش گوئی کا ذکر ہے (مثلاً البانی کے سلسلۂ احادیثِ صحیحہ میں ابن عباس کی یہ روایت رقم 3270: أولُ هذا الأمرِ نبوةٌ ورحمةٌ، ثمَّ يكونُ خلافةٌ ورحمةٌ، ثمّ يكون مُلكاً ورحمةً، ثمّ يتكادمون عليه تكادُم الحُمُرِ ’’اس معاملہ کا آغاز ہے نبوت اور رحمت۔ پھر یہ ہو جائے گا خلافت اور رحمت۔ پھر یہ ہو جائے گا بادشاہت اور رحمت۔ پھر وہ اس پر یوں منہ مارنے لگیں جیسے گدھے منہ مارتے ہیں‘‘)۔ ابن تیمیہؒ کے نزدیک  ’’ملکٌ ورحمۃٌ‘‘ کے یہ الفاظ حضرت معاویہؓ کی بادشاہت پر لازماً لاگو ہوتے ہیں۔

o    خلفائے راشدین کے بعد کے حکمرانوں پر لفظ خلیفہ کا اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ گو یہ خلفائے انبیاء نہیں بلکہ بادشاہ ہیں۔ ان پر لفظ خلیفہ بولنے کا جواز صحیحین کی اس حدیث سے ملتا ہے«كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ» قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ» ’’بنی اسرائیل کا معاملہ یوں رہا کہ انبیاء ان کو چلاتے رہے، جیسے ہی کوئی نبی فوت ہوتا ایک دوسرا نبی اس کا جانشین بن جاتا۔ بےشک اب میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ہاں خلفاء ہوں سو وہ بہت ہوں گے۔ صحابہؓ نے عرض کی: تو آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ فرمایا: جس کی پہلے بیعت ہو بس اسی کی بیعت نبھاتے رہو۔ تم ان کو ان کا حق دیتے رہو، کیونکہ اللہ نے ان کی رعیت میں جو کچھ دیا، اس کی بابت ان سے وہ خود سوال کر لینے والا ہے‘‘۔یہاں ابن تیمیہ کہتے ہیں: خلفائے راشدین کل چار ہوئے۔ جبکہ نبیﷺ فرماتے ہیں کہ خلفاء آپﷺ کی امت میں بہت ہوں گے۔ لہٰذا بعد والوں کو لفظ خلفاء کے تحت ایک درجے میں ذکر کر لیا جانے کی گنجائش ہے۔ مزید اس کی دلیل ابن تیمیہ کے نزدیک یہ ہے کہ اسی  حدیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ جس کی پہلے بیعت ہو گئی ہو بس اسی کی وفاداری نبھاتے رہنا۔ جس میں اشارہ ملتا ہے کہ کوئی ایسے واقعات بھی ہوں گے کہ ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے دوسرے خلیفہ کی بیعت ہونے لگی ہو۔ جبکہ خلفائے راشدین کے عہد میں ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے کبھی کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہیں ہوئی، لہٰذا آپﷺ کا یہ اشارہ خلفائے راشدین کے بعد کے عہد پر ہی منطبق ہو گا۔ لہٰذا ان (بعد کے حکمرانوں پر) اس حدیث کی رُو سے لفظ خلیفہ کا اطلاق کر لینا ایک درجے میں درست ہو گا۔ نیز ابن تیمیہ کے نزدیک اسی حدیث سے ان کی اطاعت کا وجوب بھی نکلتا ہے: ’’تم ان کو ان کا حق دیتے رہو، کیونکہ اللہ نے ان کی رعیت میں جو کچھ دیا، اس کی بابت ان سے وہ خود سوال کر لینے والا ہے‘‘۔

جو لوگ عربی عبارت خود پڑھ سکتے ہوں، وہ ابن تیمیہ کے بیان کردہ اس مبحث کو دیکھنے کےلیے اس لنک سے رجوع فرما سکتے ہیں:

http://shamela.ws/browse.php/book-7289#page-16461

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
جدال
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز