عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 15,2019 | 1441, رَبيع الأوّل 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-10 Mafhoomat آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
’’مفہوم‘‘: تہذیب و تعمیرِ ارض
:عنوان

تمدن اور زمین کی آبادکاری جو لاالٰہ الا اللہ سے براہِ راست جڑی ہو بلکہ لاالٰہ الا اللہ سے پھوٹتی ہو، اور اللہ کے نازل کردہ منہج کی صورت اپنا ظہور کرتی ہو۔

. اصولمبادى فہم :کیٹیگری
محمد قطب :مصنف

 

مفہوم: ’’تہذیب و تعمیرِ ارض‘‘

 

’’چند تصحیح طلب مفہومات‘‘ فصل 5

’’تہذیب وتعمیرِ ارض‘‘

’’هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا‘‘[1]

تمدن…: ’’ہدایت یافتہ انسان‘‘ کی اجتماعی سرگرمی

جس وقت امت میں یہ انحرافات اکٹھے ہوئے:

1.     لا الٰہ الا اللہ سے اس کے حقیقی تقاضے الگ کردیے گئے اور اس کو ایک خالی خولی ’کلمہ‘ بنادیا گیا جس کو زبان سے ادا کردینا ہی کفایت کرجائے؛ نہ حقیقت میں اس کی کوئی دلالت اور نہ واقع میں اس کی کوئی شہادت۔

2.     ’’عبادت‘‘ چند شعائرِ عبادت کے اندر محصور کردی گئی۔

3.     ’’قضاء و قدر‘‘ ایک نری سلبیت ، کاہلی اور اسباب اختیار کرنے سے گریز کا دوسرا نام ہو کر رہ گیا۔ اِس عنوان کے تحت زمین میں انسانی فاعلیت اور انسان کے ایجابی کردار کو اسلامی تصور سے منہا کر ڈالا گیا۔

4.     ’’دنیا‘‘ اور ’’آخرت‘‘ ایک دوسرے کی ضد ٹھہرا دی گئیں، اور پھر دیندار ہونے کےلیے ’’دنیا‘‘ کے ترک کی قیمت پر ’’آخرت‘‘ کو اپنانا ٹھہرا۔

 

یہ سب انحرافات جب امت کی زندگی میں مجتمع ہوئے، تو پھر کیا عجب… عمرانی عمل کی بابت بھی امت کے تصورات کچھ سے کچھ ہوجائیں اور ’’زمین کی آبادکاری‘‘ نظرانداز کردی جائے!

’’عمرانِ ارضی‘‘ سے متعلق اسلام کی پہلی نسلوں کے تصورات دراصل اسلامی مشن کی روح لیے ہوئے تھے۔ دینِ اسلام کی ہر بات کی طرح… ہمارا یہ تصورِ عمران بھی ایک منفردترین تصور تھا۔

اسلام نے جس وقت دنیا میں ظہور کیا… تب یہ حال تھا کہ:

1.     کئی ایک جاہلیتوں نے تمدن کے ’’روحانی‘‘ پہلوؤں پر ہی کل زور دے رکھا تھا۔ تمدن کے ’دنیوی‘ پہلو ان کی نگاہ سے روپوش؛ زمین کی مادی ترقی و آبادکاری ان کی توجہ سے یکسر محروم، کیونکہ ان اشیاء کا تعلق ان کے خیال میں ‘‘حِسیات’’ اور ‘‘جسد کی ضرورتوں’’ سے تھاجبکہ ‘‘جسد’’ ان کی نگاہ میں ملعون، حقیراور غلاظت کا منبع تھا

2.     دوسری جانب کچھ جاہلیتیں ایسی تھیں جن کا کل زور تمدن کے مادی پہلوؤں پر تھا، ‘‘روح’’ ان کی توجہ سے محروم تھی۔ ‘‘آخرت’’کا تصور ان کےلیے شدید اجنبی تھا۔ اِن اشیاء کا تعلق اُن کی نظر میں آدمی کی ‘ذاتی زندگی’ سے تو ہوسکتا تھا ‘واقعاتی ومعاشرتی عمل’ سے البتہ ان کو کیا علاقہ!؟ اکثر لوگوں کے ہاں تو روحانیات اور اخلاقیات ‘‘تمدن’’ کے راستے کی رکاوٹیں باور ہوتی تھیں! یہاں کل محنت ‘‘حسیات’’ اور ‘‘مادیات’’ پر تھی۔ سب تخلیقی قوتیں، سب پیداواری توانائیاں اسی مادی ترقی کی نذر تھیں۔ ‘‘قدریں’’ ، ‘‘معیارات’’، ‘‘اصول’’ ایسی کسی بات سے ان کو سروکار نہ تھا۔

 

اسلام جوکہ خداوندِ لطیف و خبیر کی وحی ہے، وہ ہستی جو انسان کی خالق ہے اور اس کے احوال و احتیاجات سے آگاہ، جو یہ جانتی ہے کہ اس انسان کےلیے کیا نفع مند ہے اور کیا نقصان دہ، کونسی چیز اس کو درست رکھتی ہے اور کونسی چیز اس کی فلاح کا موجب… اسلام جوکہ حیاتِ انسانی کےلیے ایک دقیق و کامل منہج ہے اور جس میں ‘‘انسان’’کا کوئی ایک بھی پہلو نظرانداز نہیں ہوا ہے؛ جس میں ‘‘انسان’’ کے کسی ایک گوشے نے دوسرے کے قربان ہوجانے کی قیمت پر توجہ نہیں پائی، اور جوکہ عین اُس فطرت کو آسودہ کرتا ہے جس پر خدا نے انسان کو پیدا فرمایا ہے:

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ                                                                                   (ص 71-72)

جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بناؤں گا۔ پھر جب میں اسے ٹھیک بنالوں اور اس میں اپنی طرف کی روح پھونکوں تو تم اس کے لیے سجدے میں گرنا۔

جہاں یہ ‘‘انسان’’ ایک مربوط اکائی ہے؛ اس کے اندر ‘‘نفخۂ روح’’ اور ‘‘مشتِ خاک’’ آپس میں یوں گُندھ چکے کہ نہ روح کو مٹی سے الگ کیا جاسکتا ہے اور نہ مٹی کو روح سے۔ اِس کو ‘‘زندہ’’ دیکھنے کا مطلب ہے کہ اس کے اِن دو عناصر کو آپ الگ الگ دیکھنے کی کوشش نہ کریں؛ ‘‘انسان’’ کو جب بھی لیں ان دو اجزاء کے ‘‘معجون’’ کے طور پر لیں…

جہاں ‘‘انسان’’ ایک باہم مربوط و ہم آہنگ اکائی ہے… وہاں خدا کا نازل کردہ منہج وہ مربوط و ہم آہنگ اکائی ہے جو اِس ‘‘پورے انسان’’ کو سامنے رکھ کر اِس کےلیے لائحۂ عمل تشکیل کرتی ہے۔

اسلامی منہجِ حیات کا کمال نہ صرف یہ ہے کہ یہاں ایک چیز کو نہایت دِقت اور باریکی کے ساتھ لیا جاتا ہے… بلکہ یہ بھی ہے کہ یہاں اشیاء کو پوری وسعت اور گیرائی کے ساتھ لیا جاتا ہے؛ انسانی وجود یا انسانی زندگی کا کوئی ایک بھی گوشہ اس میں نظرانداز نہیں ہوا ہوتا۔ مختصراً:

1.     ‘‘انسانی وجود’’ یا ‘‘انسانی زندگی’’ کے سب جوانب کو سامنے رکھا گیا ہوتا ہے۔

2.     ان سب کو علیحدہ علیحدہ نہیں، بلکہ یکجا دیکھا گیا ہوتا ہے، اور یہ ایک مربوط اکائی ہوتی ہے۔

3.     پھر ان کو جوڑنے پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ ان میں ایک کمال توازن رکھا گیا ہوتا ہے؛ یوں معاملہ کسی ایک جانب کو لڑھکنے نہیں دیا جاتا۔

یہ ہے اسلام کی عظمت۔ اور یہ ہے جاہلی مناہج کے مقابلے پر اسلام کا امتیاز۔ وہ مناہج کسی صحیح اعتقاد اور کسی خدائی ہدایت کے بغیر ‘‘انسان’’کا مطالعہ کرتے اور اس کےلیے ‘‘راستہ’’ تجویز کرتے ہیں۔ جبکہ اسلام وہ خدائی نور ہے جس سے نہ صرف ‘‘پورا انسان’’ دریافت ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے پورے زمینی سفر میں ’’ہدایت‘‘ سے فیضیاب رہتا ہے؛ جس کی بنیادوہی ‘‘لا الٰہ الا اللہ’’ ہوتی ہے:

أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْماً لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ                           (المائدة 50)

تو کیا یہ جاہلیت کا دستور چاہتے ہیں؟ یقین والوں کےلیے اللہ سے بہتر بھلا کون دستور دینے والا ہے؟

اب یہ ‘‘خدائی دستور’’ صرف چوری اور زنا وغیرہ ایسی حدوں پر مشتمل نہیں۔ بعینہٖ جس طرح ‘جاہلی دستور’ اُن چند قوانین پر مشتمل نہیں جو عدالتوں میں رائج ہیں۔ ‘‘ٖخدائی دستور’’ ایک وسیع چیز ہے جو انسان کی پوری زندگی کو محیط ہے؛ اس میں وہ امور بھی آتے ہیں جن کا تعلق عدالتوں سے ہے اور وہ امور بھی جن کا تعلق عدالتوں سے نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ انسان کے ظاہری اعمال اور پوشیدہ نیتوں تک کو محیط ہے۔ اسی طرح ‘جاہلی دستور’ اُن چند قوانین میں محصور نہیں جو فوجداری یا دیوانی مقدموں سے متعلق ہوں یا جو ٹریڈ اور کامرس سے بحث کرتے ہوں، وغیرہ۔ یہ بھی زندگی کے مختلف معاملات کو نظم ونسق دینے، ادارے کھڑے کرنے، افکار اور تصورات دینے، حتیٰ کہ رویوں اور احساسات کو سمت دینے تک جاتا ہے؛ اور یہ سب کچھ لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد سے بے نیاز اور خدائی منہج سے بیگانہ رہ کر ہوتا ہے۔

اِس بنا پر… زمین کا عمرانی عمل… یعنی تمدن اور زمین کی آبادکاری جو لاالٰہ الا اللہ سے براہِ راست جڑی ہو بلکہ لاالٰہ الا اللہ سے پھوٹتی ہو، اور اللہ کے نازل کردہ منہج کی صورت اپنا ظہور کرتی ہو اور روئے زمین پر انسان کی کامل سرگرمی کو وہ آسمانی جہت دیتی ہو جو خدا کو مطلوب ہے… ایک مسلمان کا بہت بڑا امتحان ہے۔ اس کا ‘‘تصورِ اسلام’’ اِس کسوٹی پر بھی یقیناً جانچا جائے گا۔

*****

‘‘عمران’’کا اسلامی تصور وہی ہے جو اسلام میں ‘‘عبادت’’کا تصور ہے…

یہ اُسی غایت میں شامل ہے جو زمین میں انسانی وجود کے ساتھ وابستہ ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْأِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ                                         (الذاريات 56)

اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں

یعنی خود یہ ‘‘عبادت’’ ہی ‘‘عمران’’ کی غایت ہوئی… اور پھر یہ ‘‘عبادت’’ ہی ‘‘عمران’’ کی کسوٹی…

وجودِ انسانی کی غایت کو پورا کرانا، یعنی خدائے وحدۂ لاشریک کی عبادت… وہ چیز ہے جس کے پورا ہونے کی صورت میں خودبخود ایک صالح ‘‘عمران’’ اور ‘‘تمدن’’ وجود میں آتا ہے۔ پھر اِس ‘‘عمران’’ اور ‘‘تمدن’’ کو جانچنے کےلیے کسوٹی بھی یہی ہے کہ اِس میں خدائے لاشریک کی ‘‘عبادت’’ کہاں تک ہورہی ہے۔ اِسی سے معلوم کیا جائےگا کہ ‘‘عمرانی عمل’’ کہیں پر اوپر جارہا یا نیچے آرہا ہے، درست راہ پر ہے یا ٹیڑھا ہوچکا ہے؟

دراصل ‘‘وجودِ انسانی کی غایت’’ کی بابت جیسے ہی آپ کا زاویۂ نگاہ بدلتا ہے ویسے ہی ‘‘تہذیب و عمران’’ کی بابت آپ کا زاویۂ نگاہ بدل جاتا ہے، اور ویسے ہی ‘‘تاریخ’’ کی بابت بھی آپ کا زاویۂ نگاہ بدل جاتا ہے۔

چنانچہ جس وقت ‘‘وجودِ انسانی کی غایت’’ یہ ہو کہ کسی مطلق وجود میں فنا ہونا ہے (ہندو ‘‘نروان’’Nirvana کا تصور)، یعنی روح کی نجات جو ذات کی فنا سے حاصل ہوتی ہے اور مہاآتما کے ساتھ یکجا ہونے سے انجام پاتی ہے… اُس وقت ‘‘تہذیب’’ یہی ہوگی کہ ‘‘جسد’’ کو نظرانداز کرنے کی صورت میں ‘‘روح’’ کی تکمیل کی جائے اور زمین کی مادی آبادکاری کو ایک گھٹیا نظر سے دیکھا جائے۔

اور جس وقت ‘‘وجودِ انسانی کی غایت’’‘بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست’ ہو، متاعِ ارضی سے زیادہ سے زیادہ لذت یاب ہوناہو، بغیر اس کے کہ متاعِ ارضی سے یہ استفادہ کچھ اعلیٰ قدروں کا پابند کیا گیا ہو، اس کے ساتھ حلال و حرام کا کوئی برگزیدہ تصور ہو، خیر وشر، فضیلت اور رذیلت، پاکیزگی اور گھٹیاپن کا تعین کرنے سے متعلق کوئی اعلیٰ معیارات ہوں… جس وقت ‘‘وجودِ انسانی کی غایت’’ یہی حِسی آسودگی ہو، اُس وقت یہاں کی مادی تعمیر و ترقی ہی ‘‘تہذیب’’ ہوگی۔ اِسی حیاتِ فانی کو زیادہ سے زیادہ دلکش بنانا، یہاں آسائشوں کی بھرمار کرنا، یہاں کی لذتوں سے سیر ہونے کی ہزارہا صورتیں ہوں تو بھی جی نہ بھرنا اور ‘ھل من مزید’ کی ایک غیراختتام پذیر خواہش پالنا… نیز ‘دوسروں’ کو اپنے دام میں لانے اور اپنے قابو میں رکھنے کے نئےنئے ہتھکنڈے ایجاد کرنا تاکہ زمین میں پائی جانے والی ‘‘متاع’’ کا زیادہ سے زیادہ حصہ آپ ہی ہڑپ کریں اور ‘دوسروں’ کو اس کے پاس نہ آنے دیں، ‘دوسروں’ کو مغلوب اور مقہور کرنے کےلیے طرح طرح کے شکنجے ایجاد کرنا، خواہ وہ مادی قوت سے ہو، یا عسکری قوت سے، یا سیاسی قوت سے، یا اقتصادی قوت سے، یا سائنس اور ٹیکنالوجی کے زور پر، یا ان سب ذرائع کو اختیار کرکے… یہ عمل تہذیب و عمران کا مرکزی نقطہ بن جائے گا…

ہاں البتہ جس وقت ‘‘وجودِ انسانی کی غایت’’ اللہ لاشریک کی عبادت ہو، اور ‘‘عبادت’’ بھی اُس وسیع معنیٰ کے ساتھ جو پوری زندگی پر محیط ہو،[2]… اُس وقت ‘‘تہذیب و عمران’’ کا مفہوم نہ یہ رہے گا نہ وہ۔ اُس وقت ‘‘تاریخ’’ کو بھی آپ بالکل ایک اور نظر سے دیکھیں گے۔ کیونکہ جس بنیاد پر ‘‘انسان’’ کی زمینی سرگرمی جانچی جانی اور اس کی روئیداد پڑھی جانی ہے وہ اب بالکل کچھ اور ہوگئی ہے۔ اب بنیاد یہ ہوگئی ہے کہ انسان نے یہاں پر اپنے وجود کی غایت کو کس حد تک پورا کیا ہے؛ اپنے وجود کی ‘‘حقیقی غایت’’ پوری کرنے میں اُس نے کیا ترقی پائی اور کیا پسماندگی؟

مسلمان… ’’تہذیب‘‘کا صورت گر

اِس سے پیشتر، ‘‘عبادت’’ کے مفہوم میں ہم یہ بیان کرآئے ہیں کہ خدائی رحمت کا اپنا یہ اقتضاء ٹھہرا کہ اُس نے انسان کی طبعی سرگرمی کے ہی جملہ میدانوں کو اُس ‘‘عبادت’’ میں سمو دیا جو روئے زمین پر انسان سے مطلوب ہے۔ اس میں انسان کا جسمانی نشاط بھی آتا ہے، عقلی بھی اور روحانی بھی۔ اِن سب میدانوں میں انسان اگر ‘‘خدارُخ’’ ہے، اور ایک ایک بات میں ہدایت وہ خدا سے لیتا ہے، تو بلاشبہ وہ خدا کی عبادت کرتا ہے۔ روئے زمین پر انسان سے خدا کا کل مطالبہ یہی ہے؛ اور ایسا کرکے انسان یقیناً اپنے وجود کی غایت پوری کرنے لگتا ہے۔

اب اِس ہدایت یافتہ انسان کی یہ ‘‘پوری زمینی سرگرمی’’ اُس صالح عمران کا نقشہ پیش کرتی ہےجو زمین میں بنی نوعِ انسان سے مطلوب ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں کے اندر سامنے آنے والی انسانی سرگرمی کو ہی دنیا ‘‘تہذیب’’ کے نام سے جانتی ہے۔ البتہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ سرگرمی کس بنیاد سے پھوٹتی اور کس محور پر کھڑی ہوتی ہے۔

اب یہاں؛ انسانی جسد، یا انسانی عقل، یا انسانی روح کی ہر سرگرمی ‘‘تہذیب’’ کہلانے کے لائق نہیں رہتی، بلکہ ‘‘تہذیب’’ یہ تب بنتی ہے جب یہ ایک ‘‘بامقصد’’ اور ایک ‘‘ہدایت یافتہ’’ سرگرمی ہو… صرف اِسی صورت میں یہ انسانی وجود کی غایت کو پورا کرانے کا ذریعہ بنے گی۔

اب یہاں حقیقی تہذیب کا سوال کھڑا ہوجاتا ہے…

زمین میں چلنا پھرنا یا یہاں پر کھدائیاں کرتے پھرنا ‘‘تہذیب’’ کیونکر ہوگیا، جب تک کہ یہ ’چلنا پھرنا‘ یا زمین میں ’نقب زنی‘ کرنا کسی اعلیٰ مقصد سے نہ جڑا ہوا ہو؟ مثلاً آپ زمین میں انسانی منفعت کی اشیاء دریافت کرنا چاہتے ہیں، زمین میں پوشیدہ خزانے نکالنا یا ان سے مصنوعات حاصل کرنا چاہتے ہیں؛ کیونکہ ‘‘انسانی منفعت’’ اور ‘‘زندگی کی غایت’’ ہی سے متعلق آپ کچھ برگزیدہ تصورات اور کچھ اعلیٰ تصورات رکھتے ہیں۔

اسی طرح آپ کی عقلی و روحانی سرگرمی ہے۔ اس کو بھی ہم ‘‘تہذیب’’ تب کہیں گے جب یہ کسی اعلیٰ تصور اور کسی ہدایت یافتہ ہدف سے وابستہ ہو اور اس سے وجودِ انسانی کی غایت پوری ہوتی ہو۔ نہ یہ کہ وجودِ انسانی کی غایت ہی ‘‘آپ کی’’ کسی عقلی وروحانی سرگرمی سے تجویز ہوتی ہو!

اس لیے؛ ہم پورے وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ جاہلیت نے یہ جو بڑے بڑے کارنامے زمین پر انجام دیے ہیں، خواہ یہ مادی جہان کے یادگاری نشانات ہوں، یا فکری جہان کے کارنامے، یا روحانی جہان کے کوئی حیرت انگیز ریکارڈ… یہ ہمارے لیے کسی حقیقی تہذیب کی تشکیل نہیں کرتے، اگرچہ ان پر ہونے والی محنت، مہارت اور عرق ریزی ہمیں دنگ کرکے کیوں نہ رکھ دے اور بادی النظر ہماری نگاہوں کو خیرہ کیوں نہ کردے۔ اِس میں ‘‘تہذیب’’ کا بنیادی عنصر ہی مفقود ہے، اور وہ یہ کہ ‘‘انسان’’ نامی مخلوق کی ہر سرگرمی اور ہر کارنامہ یہاں پر انسانی وجود کی غایت پوری کرانے کا ذریعہ ہو، نہ یہ کہ انسانی وجود کی غایت ہی اس کی اِن سرگرمیوں سے متعین ہو۔

انسانی وجود کے روحانی جوانب پر ہی اکتفا کرنا، اور اس کے حِسی ومادی جوانب کو نظرانداز کردینا، نیز روحانی اعمال کو اس کی حِسی ومادی سرگرمی سے الگ تھلگ کردینا وہ چیز نہیں جس سے انسانی وجود کی غایت کامل طور پر پوری ہو۔ نہ ہی حِسی ومادی جوانب پر اکتفا کرنا اور روحانی گوشوں کو نظرانداز کردینا، نیز ان کو روحانی پہلوؤں سے الگ تھلگ کردینا وہ چیز ہے جس سے انسانی وجود کی غایت پوری ہو۔ ہردو کا نتیجہ ایک تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ بنابریں؛ یہ دونوں رویے کسی حقیقی تہذیب کا مفہوم ادا نہیں کرتے۔ اِس کےلیے مجازی طور اگر ہم ‘‘تہذیب’’ کا لفظ بولیں گے تو اِس کےلیے ہم ‘‘جاہلی’’کا لاحقہ ضرور لگائیں گے۔

اِس چیز سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آپ اِن دونوں گوشوں (روحانی و مادی) کا بہ یک وقت بندوبست کرلیں جبکہ روحانیت و مادیت کا یہ اجتماع کسی صحیح بنیاد پر نہ رکھا گیا ہو۔ بہت سی جاہلیتوں نے اِن ہردو میدان میں پورا اترنے کی کوشش بھی کردیکھی ہے۔ روحانیت اور مادیت کا اکٹھا ملغوبہ بھی آزمایا جاچکا ہے۔ مثلاً فراعنہ کی جاہلیت جس میں مادی جہان اس کے روحانی جہان سے جڑا ہوا تھا اور جس کی بنیاد فرعون کی الوہیت تھی (مختلف دیوتاؤں کے ساتھ اس کا نسب جوڑتے ہوئے)۔ یوں وہ مادی وروحانی ہردو ‘‘پرستش’’ کا محل ٹھہرا دیا گیا تھا۔ لہٰذا روحانیت اور مادیت کے کوئی ایسے جوڑ بھی یہاں ‘‘حقیقی تہذیب’’ پیش کرنے سے قاصر ہوں گے جس کی بنیاد خدائے لاشریک کی عبادت اور اس کی نازل کردہ ہدایت نہ ہو۔ مادیت اور روحانیت کو الگ الگ ہی نہیں؛ اِن ہردو کا بہ یک وقت بندوبست کرلینے سے بھی ایک جاہلیت جاہلیت ہی رہے گی۔ اِسکو ہم مجازی طور پر ‘‘تہذیب’’ کہیں گے تو اسکے ساتھ ‘‘جاہلی’’کا اضافہ ضرور کریں گے۔

حقیقی تہذیب یہ ہے کہ انسانی وجود کی غایت یہاں ایک نہایت درست بنیاد پر انجام پائے اور جوکہ خدا کے اپنے کلام میں بیان ہوئی ہے: (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْأِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ‘‘اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لیے بنائے کہ میری بندگی کریں’’)، نیز (قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ .. ‘‘کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے’’)۔ اسلامی مفہوم کی رُو سے یہ انسان کی ہر بامقصد سرگرمی کو محیط ہے:

  • اسلامی مفہوم میں ‘‘صلاۃ’’ اور ‘‘نُسُک’’ تہذیب کا بنیادی جزو ہے نہ کہ ‘‘تہذیب’’ سے خارج کوئی چیز۔ تاہم ‘‘صلاۃ’’ اور ‘‘نُسُک’’ اپنے حقیقی مفہوم اور حقیقی تقاضوں کے ساتھ۔
  • شریعت کا قیام، عدالتوں اور محکموں کے اندر حکم بما انزل اللہ (خدائی دستور کا نفاذ)، جوکہ لاالٰہ الا اللہ کا براہِ راست تقاضا ہے ‘‘تہذیب’’کا جزوِ اصیل ہے۔
  • خدائی نقشے پر زمین میں عدل و انصاف کا قیام، جوکہ اِس امت کے برپا ہونے کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد ہے، اور جس کی امانت خدائی تنزیل نے اِس کو واشگاف الفاظ میں اٹھوا رکھی ہے: }(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيّاً أَوْ فَقِيراً فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيراً(النساء 135)‘‘ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے‘‘) نیز (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى(المائدة 8)‘‘ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے‘‘){ یہ خدائی نقشے پر زمین میں عدل و انصاف کا قیام ‘‘تہذیب’’ کا جزوِ لاینفک ہے۔
  • پوری انسانی زندگی ہی کو ایک ایسے نقشے پر استوار کرنا، جس میں کوئی سرگرمی چھوٹی ہوئی نہ ہو… پوری انسانی زندگی کو ایک ایسی اخلاقی بنیاد پر قائم کرنا جس کا محور خدا کا تقویٰ اور خدا کی خشیت ہو… سیاست ہو تو وہ اخلاقی نظم پر قائم ہو اور جس میں راعی کا سیادت کرنا اور رعیت کا سمع و طاعت کرنا خدائی شریعت کا پابند ہو، اللہ اور رسول کےلیے نصیحت و خیرخواہی، امربالمعروف ونہی عن المنکر، نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرنا اور گناہ و زیادتی کے کاموں میں ہرگز تعاون نہ کرنا، شوریٰ سے متعلق خدائی احکامات کی پابندی وغیرہ ایسے سیاستِ شرعیہ کے ابواب کا عملی عکاس ہو… معیشت ہو تو وہ کسی اخلاقی پائے پر کھڑی ہو، خدا کے حلال کردہ کی پابند، خدا کے حرام کردہ مانند سود، اجارہ داری، فریب کاری، چوری، غبن، نوسربازی، لوٹ کھسوٹ، مزدور کا حق ہڑپ کرجانے، لوگوں کے حقوق ہضم کرجانے ایسے امور کو معاشرے سے مٹانے والی، نیز کو مال کو زکاۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کی راہ سے پاک کرنے والی، اور مال کو عیاشی، اسراف، بدکاری اور فخر وتکبر ایسی راہوں میں خرچ کرنے کیروادار نہ ہوسماجی رشتے ہوں تو وہ کسی اخلاقی بنیاد پر قائم ہوں، جہاں پورا معاشرہ باہمی محبت اور یگانگت کا نقشہ پیش کرتا ہو، ایک دوسرے کا دکھ سکھ بانٹتا اور باہمی کفالت کا اعلیٰ نقشہ پیش کرتا ہو، خیر اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر تعاون ہوتا ہو، ایک دوسرے کا مال، جان، آبرو حرام ٹھہرائی جاتی ہو، ایک دوسرے سے درگزر کی جاتی ہو، اور لوگ ایک دوسرے کےلیے اپنی راحت اور اپنے جذبات کی قربانی کرتے ہوں، جہاں ایک دوسرے کی تحقیر نہ کی جاتی ہو، پھبتیاں اور طعنے نہ چلتے ہوں، غیبت، نمیمت کا بازار گرم نہ ہو، ایک دوسرے کا ننگ اور عیب ڈھونڈنے کی سرگرمیاں نہ ہوں… خاندان ہو تو وہ کسی اخلاقی بنیاد پر قائم ہو… مرد وزن کے تعلقات ہوں تو کسی اخلاقی بنیاد پر قائم ہوں… پوری انسانی زندگی کو ایسی اخلاقی بنیاد پر قائم کرنا اسلامی مفہوم کی رُو سے ‘‘تہذیب’’ کا جزوِ اصیل ہے۔
  • معاہدوں پر پورا اترنا، خواہ وہ افراد کے معاہدے ہوں یا قوموں اور قبیلوں کے معاہدے… اسلامی مفہوم کی رُو سے ‘‘تہذیب’’ کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔
  • علم کی جستجو کرنا… خواہ وہ خدا کے نازل کردہ دین اور اس کے احکام کو جاننے سے متعلق ہو، یا کائنات کے اندر کارفرما خدائی سنتوں اور مادہ کو ودیعت کیے گئے خواص کو جاننے سے متعلق ہو جوکہ انسان کےلیے آسمان اور زمین میں خدا کی مسخر کردہ قوتوں کو قابو میں لانے اور اس سے زمین کی صالح آبادکاری کرنے میں ممد ہوتا ہے، اور خواہ وہ انسانی زندگی میں کارفرما خدائی سنتوں کو جاننے سے متعلق ہو جو کہ زمین میں ایک صالح معاشرہ بسانے میں کارآمد ہے، اور خواہ وہ انسانی تاریخ کو جاننے سے متعلق ہو جس میں ہدایت اور ضلالت کے ادوار کو دیکھا جاتا اور پھر ان سے کچھ نہایت کارآمد اسباق کشید کیے جاتے ہیں اور جوکہ ہدایت یافتہ نظر پانے میں ایک بہت بڑا اثر رکھتے ہیں… علم کی یہ جستجو کرنا، کہ جس میں علم کے سب فروع آتے ہیں، اسلامی مفہوم کی رُو سے ‘‘تہذیب’’ کا ایک نہایت قابل ذکر حصہ ہے۔
  • ادب اور فن کو کچھ صاف ستھری پاکیزہ بنیادوں پر کھڑا کرنا… کائنات اور انسان میں پنہاں جمال کو ایک تعبیر دینا اور پھر اس تعبیر میں جمال پیدا کرنا… ادب اور فن کو اس بات کا ذریعہ نہ بننے دینا کہ یہ بےحیائی کی تزئین کا کام دے جبکہ بےحیائی بجائےخود قبیح ہے نہ کہ زینت۔ انسان کا وہ لمحہ جب وہ کسی کمزوری یا گراوٹ کا شکار ہو، انسان کے اُس لمحے کو ہی لے اڑنا اور اسی کو انسان کےلیے مزین اور آراستہ کرنے کی کوشش کرنا بلکہ یہ باور کرانے کی کوشش کرنا کہ ‘‘انسان’’ اصل میں یہ ہے، جوکہ جاہلی ادب اور جاہلی آرٹ کا ایک عظیم خاصہ ہے حالانکہ انسان کی کمزوری یا گراوٹ کا لمحہ ‘‘نشر کرنے’’ کا نہیں ہوتا اور نہ ہی مزین وآراستہ کرکے دکھانے کا ہوتا ہے، بلکہ یہ غفلت کا لمحہ ہوتا ہے کہ اس لمحے انسان اپنے وجود کی غایت سے بیگانہ ہوگیا ہوتا ہے، یا کم از کم یہ کہ مقصدِ وجود کو پورا کرنے میں یہاں وہ تقصیر کر گیا ہوتا ہے… ادب اور فن کو ایسے ابنارمل رویوں سے پاک کرنا… انحراف اور بدفعلی کو مزین کرکے پیش نہ کرنا، کیونکہ یہ انسان کو ‘‘زینت’’ دینے والی کوئی چیز نہیں بلکہ یہ وہ بدنمائی ہے جس سے جمال اِبا کرتا ہے، شیطان کی پرستش کو ایک سے بڑھ کر ایک رنگ میں پیش کرنے اور خواہشات کی عبادت کو زندگی کا اصل راز بناکر پیش کرنے والے ادب کی جگہ ایسا ادب لانا جو اس چیز کی کراہت محسوس کروائے اور انسان کے مقام سے گری ہوئی چیز کے طور پر سامنے لائے… ادب اور فن کو ایسی اعلیٰ اخلاقی قدریں پہنانا اسلامی مفہوم کی رُو سے بلاشبہ ‘‘تہذیب’’ کا ایک بڑا مظہر ہے۔[3]

یہ اور اس طرح کے دیگر بہت سے امور … اسلامی مفہوم کی رُو سے ‘‘تہذیب’’ میں آتے ہیں۔

‘‘تہذیب’’ کے مادی پہلو کو نظرانداز کرنا بھی ہمارے دین کا سبق نہیں۔

انسان اگر خدا کی عبادت کےلیے وجود میں لائی جانے والی مخلوق ہے، جبکہ اس کی عبادت فرشتوں والی عبادت بہرحال نہیں ہے… تو پھر زمین کی آبادکاری نہ صرف ‘‘عبادت’’ کے اُس وسیع مفہوم میں شامل ہے ، بلکہ یہ ‘‘زمین کی جانشینی’’ (خلافت) کو رو بہ عمل لانے کی بھی ایک صورت ہے۔

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً                                      (البقرة 30)

پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ “میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں”

هُوَ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا                                                   (ھود 61)

اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی نے اس زمین میں تمہیں آباد کیا۔

اب اگر ایک جانب ہم زمین میں لاالٰہ الا اللہ کے قیام، شرک کی بیخ کنی، توحید کے غلبہ، خدائی عدل کے قیام، اور ایمانی اخلاق کی سربلندی کو ‘‘زمین کی آبادکاری’’ ہی کا حصہ مانتے ہیں؛ کیونکہ زمین کی آبادکاری ایمان کی ایسی ہی کسی چھتری کی ضروتمند ہے جہاں اِسے انحراف، فساد اور شر سے مکمل تحفظ حاصل ہو… تو اِس ‘‘آبادکاری’’کا دوسرا رخ یہ ہوگا کہ یہاں ایک صحتمند مادی سرگرمی انجام پائے، جس میں آپ کو یہ ضروت بھی پیش آئے گی کہ آسمان اور زمین میں انسان کےلیے مسخر کردی جانے والی طاقتوں کو انسانی منفعت کے کام میں لایا جائے اور یہ کام اُس نقشے پر انجام دیا جائے جو زمین اور انسان کو پیدا کرنے والی ذات نے اپنی جناب سے پاس کررکھا ہے۔

‘‘تعمیرِارض’’ کے اِس حصے کےلیے بھی کچھ نہ کچھ ذہنی و جسمانی جہد درکار ہوگی۔ اِس کےلیے؛ مادہ کے خواص دریافت کرنے کی احتیاج آپ کو بھی ہوسکتی ہے۔ کائنات کے اندر کارفرما خدائی سنتوں (جن کو معاصر جاہلیت ‘قوانینِ طبیعت’laws of the nature کا نام دیتی ہے)[4]کا اکتشاف آپ کو بھی درکار ہوسکتا ہے۔ پھر ان حاصل شدہ معلومات کو فزکس، کیمیا، طب، انجینئرنگ اور دیگر معارف کے اندر عملی استعمال کی شکل دینا بھی اِس مہم کو انجام دینے کےلیے ضروری ہوسکتا ہے۔

معاصر جاہلیت جہاں تعمیرِ ارض کے اِن جوانب کو ہی ‘‘تہذیب’’ یا ‘‘تہذیب کا اہم ترین حصہ’’ باور کرتی ہے، اور اِسی کو انسانی تخلیق وکمال کا اہم ترین میدان مانتی ہے… وہاں مطالعہ و تسخیرِ کائنات کے اِس عمل کو ‘‘تہذیب’’ میں جگہ دینے کےلیے اسلام ایک ہی بنیادی شرط عائد کرےگا اور وہ یہ کہ یہ ساری سرگرمی خدا کی عبادت پر قائم اور خدا کے منہج کی پابند ہو، اور خدائی تقاضوں کو کسی ایک لمحہ کےلیے بھی نظرانداز نہ کرتی ہو۔

کائنات کی پوشیدہ قوتوں اور توانائیوں کو انسانی منفعت کےعمل میں جوتنا اور اس کےلیے تحقیق و جستجو، اپنی تمام تر اہمیت و ضرورت کے باوجود، یہاں مطلوب انسانی سرگرمی کا اہم ترین حصہ بہرحال نہیں۔ انسان چاند پر پہنچ جائے یا مریخ کو ہاتھ لگا آئے، ‘‘عمرانی’’ عمل میں یہ اہم نہیں۔ اہم تر بات یہ ہے کہ ایسے عمل کے پیچھے کونسی غایت اور کونسی قدر کارفرما ہے، یہ کس اسلوب سے انجام پا رہا ہے، اور یہ کس منہج اور کس شریعت اور کن ترجیحات کا پابند رکھا گیا ہے۔

البتہ جس وقت ہم ‘‘اہم تر’’کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے کچھ اذہان ‘متبادل’ سمجھ بیٹھتے ہیں! یعنی ان کا خیال ہے کہ اِن ‘‘قدروں’’ (جنہیں ہم ‘‘اہم تر’’ یا ‘‘بنیادی تر’’ کہہ رہے ہیں) کو ہم اِس مادی ترقی وپیش قدمی کے متبادل کے طور پر پیش کررہے ہیں! حالانکہ کوئی عقلمند کبھی بھی ‘‘اخلاقیات’’ کو ‘‘مادیات’’ کا متبادل نہیں کہے گا۔ ہم ‘‘اخلاقیات’’ کو ‘‘مادیات’’ کی بنیاد کہتے ہیں جوکہ اپنی حیثیت و اولویت میں اہم تر ہیں۔ ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ معدوں میں روٹی ہی پڑے تو ان کی بھوک مٹے گی؛ ‘‘اخلاق’’ کو ہم روٹی کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کرتے! کاروں، طیاروں اور ٹرینوں میں تیل ہی پڑے تو وہ چلیں گی، اخلاق اور قدروں سے ہم یہ کام لینے کی بات نہیں کررہے! توپیں، ٹینک، اور میزائل آلات اور فیکٹریوں کے بغیر تیار نہیں ہوپائیں گے؛ ‘‘اخلاق’’ سے ہم ان کے متبادل کا کام لینے کی تجویز نہیں دے رہے!

یہ ایک بدیہی حقیقت ہے جس کا بیان میں آنا ضروری نہیں۔ لیکن اسی کے مقابلے کی ایک بدیہی حقیقت اور بھی ہے اور وہ بھی اتنی ہی اہم ہے اگرچہ جاہلیتیں اس میں ہمارے ساتھ کتنی ہی بحث کریں، خصوصاً معاصر جاہلیت۔ یہ بدیہی حقیقت یہ ہے کہ روٹی، ایندھن، کارخانے، آلات، مشینیں، کاریں، ریل گاڑیاں، میزائل، ٹینک اور توپیں تنہا وہ چیز نہیں جو ‘‘تہذیب’’ کو جنم دے سکیں۔ نہ یہ چیزیں ‘‘مہذب انسان’’ کی خالق ہوسکتی ہیں۔ نہ یہ حقیقی معنیٰ میں کوئی ‘‘تعمیرِارض’’ ہے۔ کیونکہ یہ سب چیزیں، کسی حقیقی ‘‘قدروں’’ کے بغیر تباہی اور بربادی کا ہی پیش خیمہ ہیں۔

یہ ہے وہ بات جسے معاصر جاہلیت مان کر دینے کی نہیں۔ یا جسے یہ سننا نہیں چاہتی، باوجود اس کے کہ پوری تاریخ اِسی پر شاہد ہے، بلکہ خود معاصر جاہلیت ہی اس کو نظرانداز کرنے کے باعث تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے اور دن بدن اپنے اس حتمی انجام سے قریب تر ہورہی ہے، بلکہ اس کا بہت سا وبال ایک عرصے سے چکھ بھی رہی ہے۔

انسان، خواہ مادی طور پر جتنی بھی پیداوار اور ترقی کرچکا ہو، ایسی قدروں سے محروم ہوکر جو اس کو ‘‘انسان’’ بنائیں اور ‘‘جانور’’ سے ممیز کریں، زمین کے پاتال میں جاگرتا ہے۔ معاصر جاہلیت اِس حقیقت کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔

اِس (معاصر جاہلیت) کے پاس معلومات کا وہ ذخیر ہے جو اس سے پہلے کسی کے پاس نہ ہوگا۔ پیداوار اور مصنوعات کے وہ ڈھیر ہیں جو اِس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہ دیکھے گئے ہوں گے۔ مادی حوالوں سے ایسی ایسی ایجادات، ایسی ایسی سہولیات جن کا تاریخ میں اس پہلے تصور نہ کیا گیا ہوگا۔ ایک بٹن دبائیے اور دیکھیے کیا کیا کرشمے آپ کو مبہوت کرتے ہیں۔ ایک اشارے سے آپ ایک دیوہیکل آلے کو حرکت میں لےآتے ہیں جس کے نتیجے میں یکلخت ہزارہا فنکشنز متحرک ہوجاتے ہیں۔ ایک ‘کلِک’ میں آپ ہزارہا میل دور بیٹھے جو خبر چاہیں سنیں یا اس کا ‘لائیو’ مشاہدہ کریں۔ ایسے ایسے انتظام کہ آپ چاند یا شاید مریخ پر جا چڑھیں…

ہاں… مگر ‘‘انسان’’ کہاں ہے؟!

‘‘انسان’’ کو ڈھونڈنے نکلئے، وہ کہیں رقص گاہوں میں لاپتہ ملتا ہے تو کہیں شراب خانوں میں۔ وہ کہیں گھٹیا جنس میں لتھڑا ہوا نالیوں کا کیڑا ہے، تو کہیں مجرم گینگ بن کر بےگناہوں کا امن چین برباد کرتا ہے، کہیں وہ ڈیپریشن کے ہسپتالوں میں پڑا اعصابی دوائیوں کے ڈھیر پھانکتا نظر آتا ہے، تو کہیں نفسیاتی معالجوں کے گرد ہجوم کیے ملتا ہے، تو کہیں بےمقصدیت کے ہاتھوں برباد و بےخانما، زیاں کار، مایوس، اِس تہذیب کا مجسم نوحہ نظر آتا ہے۔

معاملہ چند کیسز کا ہوتا تو ہم ہرگز یہ بات نہ کرتے؛ ‘چند کیسز’ تو بھلا کہاں نہیں ہوتے۔ اوپر جو مصائب ذکر ہوئے، درست ہے کہ ایسے کچھ نہ کچھ مظاہر تو ہر معاشرے ہی کے اندر پائے جاسکتے ہیں خواہ وہ معاشرہ کیسی ہی اعلیٰ قدروں پر یقین کیوں نہ رکھتا ہو۔ ایسی ‘چند مثالیں’ یقیناً دنیا کے کسی بھی معاشرے سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ البتہ یہاں ہم جن مصائب کی بات کررہے ہیں وہ حیران کن حد کو پہنچے نظر آتے ہیں۔ اس کے اعداد وشمار پریشان کن بلکہ ہول ناک ہیں۔ یہ یہاں باقاعدہ سوشل فنامنا کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ اکیسویں صدی کی جاہلیت کے ‘امتیازی نشانات’ کی صورت یہاں آپ کا استقبال کرتے ہیں!

*****

یہ ہے اسلامی مفہوم کی رُو سے ‘‘تہذیب’’۔ اُس انسان کی تہذیب جسے زمین کی جانشینی (خلافت) سونپی گئی ہے۔ جس کی تخلیق میں مشتِ خاک بھی بولتی ہے اور خدا کی جانب سے پھونکا ہوا نفخۂ روح بھی۔ یہ ڈاروِن کا پیش کردہ حیوان نہیں، جو اپنی ساخت کی رُو سے قدروں، اخلاقی اصولوں اور مقدس تصورات کا بوجھ اٹھانے سے اِبا کرتا ہے۔ نہ یہ وہ خودساختہ خدا ہے جو دیوتاؤں کو ہٹا کر خدائی کا دعویدار ہو بیٹھا ہے اور اس کی اپنی ہی خواہش اور ھویٰ اب دنیا کی سب سے بڑی شریعت ہے اور جوکہ اپنے تکبر اور سرکشی سے درحقیقت خدائے رب العالمین کے خلاف برسر بغاوت ہے۔

یہ ہے وہ اساس جس پر اسلامی تہذیب استوار ہوئی تھی اور جوکہ تاریخ کا منفردترین عمرانی عمل ثابت ہوئی۔

وہ منفردترین عمرانی عمل جس نے اپنا آغاز کیا تو اتنی عظیم اور کثیر قدروں کے ساتھ جس کی مثال تاریخ کا کوئی عمرانی عمل پیش نہیں کرسکتا… اور اس قدر کم مادی مظاہر کے ساتھ جس کی مثال دنیا کا کوئی عمرانی عمل پیش نہیں کرسکتا۔

تاریخ انسانی کی دہلیز پر اسلامی پیش قدمی ہوتی ہے تو اس کے پاس مادی اسباب بھلا کیا ہیں؟ چند خیمے، مٹی کے کچے گھر، کھجور کے کچھ باغات، اکا دکا گھوڑے، اونٹ اور بھیڑبکریاں، ناکافی تیر اور تلواریں… اور مقابلے پر سپرپاورز! ہاں اِس کی کل قوت اس کا عقیدہ، اِس کی شریعت اور اِس کی اخلاقی قدریں تھیں، جن کے مقابلے پر وہ سپرپاورز البتہ تہی دامن نکلیں!

یہ تاریخ کا ایک عظیم ترین معجزہ ہے جو عقلمندوں سے ڈھیروں غوروفکر چاہتا ہے!

اِتنی سی مادی طاقت کے بل بوتے پر اِس قدر بڑی تہذیب کھڑی کردینا، کیا کسی کے تصور کرنے کی ہے! پھر یہ سب سے بڑی تہذیب ہی نہیں سب سے حسین اور سب سے منفرد تہذیب ثابت ہوئی! ہاں مگر اس کے پیچھے ‘‘قدروں’’ کا وہ عظیم خزانہ دیکھئے تو اس کی پوری تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ کچھ حقیقی قدریں تھیں جو ان کے ‘‘ایمان’’کا حصہ تھیں، نہ کہ کھوکھلے نعرے اور دکھاوے کی چکاچوند عبارتیں جن کا عمل سے کوئی تعلق نہ ہو۔ مادی ساز وسامان کی کمی کی تلافی کرنے کےلیے ان کے پاس اعلیٰ قدروں کی بہتات تھی جو زمیں میں ‘‘خیر أمۃٍ أخرجت للناس’’ کو جنم دے رہی تھی!

باوجود اس کے کہ اِس تہذیب نے بھی بعدازاں وہ سب کچھ ہاتھ میں کیا جو دنیا کی کسی بھی تہذیب کے پاس ہوتا ہے، تاہم اِس کی ‘‘پیدائش’’ اِسی حالت میں ہوئی تھی؛ یعنی مادی لحاظ سے آخری درحے کی بےسروسامانی جبکہ قدروں کے معاملہ میں کمال دولتمندی اور فراوانی۔ بعد میں اس کو جو بھی حاصل ہوا… پھر بھی اس کی وہ ابتدائی تصویر، جوکہ ایک منفردترین تصویر ہے، ہم سے ڈھیروں توجہ اور غوروفکر چاہتی ہے۔ یہاں سے ہمیں اپنے اس سوال کا بھی جواب ملتا ہے کہ کسی تہذیب کے ہاں اگر کسی وجہ سے کمی رہ ہی جائے تو وہ کمی کونسے گوشے کے اندر بآسانی برداشت ہوسکتی ہے۔ تہذیب کے ان دونوں جوانب (مادی و اخلاقی) میں سے کونسے جانب میں پایا جانے والا نقص کم ضرررساں ہے۔ ان میں کونسا جانب قوی تر ہو تو وہ اس کے کمزور تر جانب کا بھرم رکھ سکتا ہے۔

اسلامی تہذیب کا یہ حسین تجربہ – بہ مقابلہ معاصر جاہلیت – اس سوال کا نہایت زبردست جواب دیتا ہے۔ اسلامی تہذیب میں قدروں کا جو وسیع و عظیم ذخیرہ پایا گیا وہ مسلمانوں کے ہاں مادی کمی کی تلافی کرنے میں پوری طرح کامیاب رہا۔ قدروں کے اِس عظیم الشان ذخیرے اور اس پر عمل پیرا ہونے نے تاریخ انسانی کی سب سے عظیم وبرگزیدہ نسل برپا کروائی۔ البتہ مادی ترقی وآسائش کا یہ عظیم ذخیرہ جو معاصر جاہلیت کو حاصل ہے اس کے ہاں پائے جانے والے روحانی و اخلاقی افلاس کی ہرگز کوئی تلافی نہ کرسکا اور اس نے تاریخ انسانی کی بدترین نسلوں کو جنم دیا۔

البتہ ‘‘پیدائش’’کے وقت والی وہ حالت جو اسلامی تہذیب کو ابتدا میں درپیش تھی اس کی حتمی حالت نہ تھی… اور نہ اس کو ہمیشہ ایسا رہنا تھا۔

یہ ہونہار بروا تاریخ میں جیسے جیسے سر اٹھاتی گئی ویسے ویسے دنیا کے سب علوم اور فنون کو اپنے اندر ضم کرتی گئی۔ اِس کے اعلیٰ دماغوں نے بہت تھوڑی دیر میں یونانی اور لاطینی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔ ہر اُس زبان نے جس میں دانش اور آگہی کا کوئی ذخیرہ تھا اس کے ہاں اپنے خزانے ڈھیر کردیے۔ علوم و فنون تراجم کی صورت میں بےتحاشا نقل ہوئے۔ پھر کچھ دیر بعد خود اس نے بھی علم و فن کے اندر بیش بہا اضافے کرنا شروع کیے۔ ‘‘تجریبی منہج’’experimental method خود اِسی کا اکتشاف ہے، جس پر بعدازاں یورپ کی تمام تر سائنسی ترقی کا انحصار رہا اور جسے وہ مسلم جامعات میں آ آ کر حاصل کرتے رہے تھے۔

یہ ہونہار بروا تھوڑی دیر میں عمرانی نظم و نسق میں بھی اپنی مثال آپ ہوگئی۔ خلفاء نے جو شہر بسائے، یا پہلے سے آباد شہروں کی جو اصلاح اور تنظیمِ نو کی، مسلم آغوش میں صدیوں یہاں زراعت، صنعت و حرفت، تخلیق اورعلم وفن نے جو جو اٹھکیلیاں کیں، نظم و نسق، قضاء، احتساب، تعلیم، اوقاف، طب، جنگی مشینری، آلاتِ حرب، جنگی تکنیک و تنظیم، دیوانِ مظالم، دیوانِ انشاء وغیرہ وغیرہ… ایسے امور میں اسلامی تہذیب کے جو یادگار نشانات دیکھنے کو ملتے ہیں، وہ سب عقول کو دنگ کرتے ہیں۔

یہی ہونہار بروا علم وجستجو کی شمعیں اٹھا کر آگے بڑھتی ہے۔ زمین کے بہت سے پوشیدہ راز اِسی کے ہاتھوں دنیا پر منکشف ہوتے ہیں۔ جغرافیہ کے ایسے ایسے نقشے اور ایسے ایسے اکتشافات جنہیں دنیا آج بھی مسلم جہازرانوں کی نسبت سے جانتی ہے اور جن سے کام لے کر یورپ کی بحری مطالعاتی تحریک نے ‘کامیابی’ کے جھنڈے گاڑ کر دکھائے خواہ وہ واسکوڈےگاما کے کارنامے ہوں یا کولمبس کے یا میگلن کے۔

اِسی ہونہار بروا نے تاریخ انسانی کے عظیم ترین مفکر پیدا کیے۔ دانش کے ایسے ایسے گڑھ اور علم کے ایسے ایسے شہر جن پر آج تک دنیا رشک کرتی ہے کہ علوم اور افکار میں ایسی اصالت، ایسی غزارتِ علمی اور ایسی گہرائی اور ایسی بےساختگی یہاں دیکھنے کو ملتی ہے جو اور کہیں نہیں پائی گئی۔

اِسی ہونہار بروا نے فنون کے اندر بھی یادگاریں کھڑی کیں۔ خواہ وہ ادب کے اندر ہو یا طرزِ تعمیر کے اندر یا جمالیات کے کسی اور میدان میں۔

لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی اور سب سے عظیم امتیاز یہ رہا کہ یہ تمام تر عمرانی پیش قدمی جو اِس کے ہاتھوں ہوتی ہے آسمانی عقیدے کے سائے میں رہ کر ہوتی ہے۔ بلکہ آسمانی تصور سے ساخت پاچکے عمل اور کردار کے جلو میں رہ کر ہوتی ہے۔ زمین میں یہ جو یادگاریں کھڑی کرتی ہے وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان سے بیگانہ رہ کر نہیں ہوتیں۔ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان اِس کی قدروں، اِس کے اخلاق اور اِس کے اصولوں میں برابر بولتا ہے۔ نہ ایمان اِس کی مادی بہبود کے راستے کی رکاوٹ بنتا ہے اور نہ مادی بہبود اِس کے ایمان کے آڑے آتی ہے۔

تعیشات… تہذیب نہیں بلکہ تہذیب کا گھن ہے

یہ بھی درست ہے کہ ہمارے اسلامی تہذیبی عمرانی عمل کو تھوڑا آگے چل کر ‘‘تعیش’’ کا گھن لگنا شروع ہوگیا۔ امت کا زوال اور پسپائی اِسی کا شاخسانہ ٹھہرا…

انسانی ہستی اور انسانی زندگی کی یہ الجھن اپنی جگہ ہے، جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں پھر بھی یہاں ہم اس کا تھوڑا سا ذکر کریں گے:

امتوں اور جماعتوں کے یہاں آغاز کے وقت عزیمت جوان ہوتی ہے۔ ہمت، طاقت اور توانائی شباب پر ہوتی ہے۔ ایک جماعت نے ابتدا میں کچھ مشکل ترین اوقات اور چیلنجز کے ساتھ الجھ کر وہ قوت اور ہمت پائی ہوتی ہے جو اس کو تاریخ کا کوئی واقعہ بناتی ہے۔ البتہ چند نسلوں بعد، کہ جب بہت سی چوٹیاں سر ہوچکی ہوتی ہیں، بہت سے چیلنجز پر قابو پایا جا چکا ہوتا ہے اور معاملات کو ایک استحکام حاصل ہوچکا ہوتا ہے تو آسودگی اور راحت کی جانب میلان ہونے لگتا ہے۔ جو کچھ ہوچکا اس پر اطمینان اس کی آئندہ نسلوں کو لوریاں اور تھپکیاں دینے لگتا ہے۔ تن آسانی اور تعیش کی جانب رخ ہونے لگتا ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں جب اس کے ہاں مال دولت کی بہتات ہوچکی ہو اور جوکہ عام طور پر مادی غلبے کے ساتھ وہاں پر حاصل ہوچکی ہوتی ہے۔

تعیش کے آتے ہی البتہ زوال کا عمل شروع ہوجاتا ہے…

اُدھر خطرات سر اٹھانے لگتے ہیں اِدھر امت تعیش میں مست ہوتی ہے۔ متاعِ ارضی میں دل یوں کھُب جاتے ہیں اور فانی آسائشوں کے یوں رسیا ہوجاتے ہیں کہ خطرات کی آہٹ دور سے تو کیا جب وہ دروازوں پر دست دیتے ہیں تو بھی سنائی نہیں دیتی۔پہلے سے چلا آتا استحکام اور طاقت اِس صورتحال پر خاصی دیر پردہ ڈالے رکھتی ہے اور وہ اسی ‘ظاہر’ پر تسلی رکھتی ہے کہ ‘ہنوز دلی دور است’!

تعیشات میں پڑنے والوں کی بابت جو ایک خدائی سنت ہے وہ برابر عمل کرتی چلی جاتی ہے:

وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيـراً                                                                                    (الاسراء 16)

جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے پُرتعیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں

یہ خدائی سنتیں کسی کی رُو رعایت نہیں کرتیں، چاہے لوگوں کو ‘خدائی طرفداری’ کی بابت کیسا کیسا زعم کیوں نہ ہو!

وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمْ بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ ..                                                                            (المائدۃ 18)

یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ان سے پوچھو، پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟ در حقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کیے ہیں

امتِ مسلمہ میں جس وقت تعیش کی ہوائیں چلیں اور دنیا میں جی لگانے کا رجحان بڑھا، تو وہ خدائی سنت امتِ مسلمہ کی طرفداری کرنے کی بھی روادار نہ ہوئی؛ یہ خدائی سنتیں بہرحال نہ بدلتی ہیں اور نہ ٹلتی ہیں:

.. فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلاً وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلاً                    (فاطر 43)

تم ہرگز اللہ کے دستور کو بدلتا نہ پاؤ گے اور ہرگز اللہ کے قانون کو ٹلتا نہ پاؤ گے

البتہ یہاں معاملہ یک نہ شد دو شد والا تھا…

ایک جانب وہ تباہ کن تعیش اور دنیاداری۔ دوسری جانب اس کے ردِ عمل میں وہ سلبیت اور دنیابیزاری جو نیک لوگوں کو حجروں اور خانقاہوں کے اندر گم کردینے لگی۔ یہ وہ متصوفانہ رجحانات تھے جو تعمیرِارض سے ایک گونہ نفور رکھتے ہیں، مادی قوت کے اسباب کو ہاتھ میں کرنا ان کے ہاں بالعموم پذیرائی نہیں پاتا اور وہ دنیا کو اس انداز میں دیکھتے ہیں کہ یہ ہے ہی ملعون کیونکہ یہ لوگوں کو آخرت سے غافل کرتی ہے۔

اِس لحاظ سے معاملہ دہری رفتار سے نیچے جانے لگا:

یہاں کے ‘‘روحانی اعمال’’ بھی بالعموم امت کو نیچے کی طرف ہی لےجارہے تھے اور ‘‘مادی اعمال’’ بھی۔ زمین کی صالح آبادکاری ہردو طرف موقوف تھی:

1.     امت کی اصل قوت جس چیز میں پنہاں تھی وہ اِس کے اصول، اِس کی قدریں، اِس کے اخلاقی معیارات اور اِس کے برگزیدہ تصورات ونیک اعمال تھے، جو حد سے بڑھے ہوئے تعیش کی نذر ہورہے تھے۔

2.     امت کے ہاں ایک اور قوت زمین میں اِس کی صالح مادی سرگرمی تھی جس کو خانقاہی عمل کا گھن لگ گیا تھا۔

ہردو پہلو سے یہ عمارت کھوکھلی ہونے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں امت کی یہ داخلی کمزوری امت کے ازلی دشمنوں کو زوروشور کے ساتھ اپنے یہاں دعوت دے رہی تھی اور وہ مشرق و مغرب ہر جانب سے ہم پر ٹوٹ پڑنے پر آمادہ ہوئے اور اس دین کا کام تمام کردینے کی ٹھانی۔

زمین کا فساد… تہذیب کا مرکز جب ’’مسلمان‘‘ نہ رہا

اِس کے نتیجے میں مسلم پسپائی ہر ہر میدان میں ہونے لگی:

فکر و دانش کے میدان میں، ادب و فن کے میدان میں، سیاست، معیشت اور جنگ کے میدان میں، صنعت و حرفت اور زراعت کے میدان میں، اخلاق اور سلوک کے میدان میں… اور ان سب میں سرفہرست، صحیح عقیدہ رکھنے کے میدان میں۔ بڑی دیر ہوئی، نہ ‘‘عبادت’’کا مفہوم ہمارے یہاں صحیح رہا تھا اور نہ ‘‘لا الٰہ الا اللہ’’ کا مفہوم۔

بڑی صدیاں ہم پر یہی حال گزرا۔ عالم اسلام اُن عظیم ترین بلندیوں سے لڑھکتا ہوا مسلسل نیچے آتا رہا۔ ہر نئے دن کے ساتھ یہ کچھ مزید نیچے سرک آتا۔ اُدھر ہمارے دشمن اسی حساب سے طاقتور ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ وہ دفاع کی بجائے حملہ آوری کی پوزیشن میں آگئے۔ تب وہ عالم اسلام کے وسیع وعریض خطوں کی کتربیونت کرنے لگے۔ ہر تھوڑی دیر بعد وہ ہمارا کوئی خطہ ہتھیالیتے، وہاں کے مسلم باشندوں کو ذلت اور غلامی کی بیڑیاں پہناتے اور اسلام کا نام و نشان وہاں سے مٹانے کےلیے اپناپورازور صرف کردیتے۔ رفتہ رفتہ پورا عالم اسلام اُن کے قبضے میں چلا گیا۔

تب جا کر عالم اسلام کی آنکھ کھلی… جبکہ عالم اسلام کی ہر چیز پستی کی آخری حد کو چھو رہی تھی، اور عالم اسلام پوری طرح دشمن کی مٹھی میں تھا۔

یہ انحطاط صدیوں سے چلے آنے والے انحراف کا ایک قدرتی وطبعی نتیجہ تھا۔

سب سے پہلے؛ وہ کھوکھلاپن جو ‘‘لاالٰہ الا اللہ’’ کے مفہوم میں سرایت کرگیا تھا، وہ کھوکھلاپن جو ‘‘عبادت’’ کے مفہوم کے اندر آچکا تھا، وہ سلبیت اور کاہلی جو ‘‘قضاء وقدر’’ کے نام پر ہمارے یہاں گھر کرچکی تھی اور جس نے بڑی دیر سے عالم اسلام کو دنیا کا ‘‘مردِبیمار’’ بنا رکھا رکھا، قوت (جو دشمن کو خوفزدہ کرے) کے سوتوں پر حاوی ہونے کو بےکار اور کمتر جاننے کی ذہنیت جو دنیابیزاری پر مبنی دینی رویّوں کے دم سے ہمارے دینی حلقوں میں پرورش پانے لگی تھی… اِس انحطاط کے پیچھے ایک بڑا محرک رہا۔

وہ داخلی خلا جو مسلم پسپائی نے عالم اسلام کے اندر پیدا کردیا تھا اور جوکہ صدیوں پیچھے جاتا ہے اور جس میں اسلامی مفہومات کا مسخ ہوجانا سرفہرست ہے… جتنا بڑا یہ خلا تھا، آنکھ کھلنے پر اُتنی ہی ہولناک صورت ہمارا سامنا کرنے لگی۔ اس ‘آنکھ کھلنے’ سے بہت سوں کے تو اوسان ہی خطا ہوگئے اور وہ اِس ہزیمت کو بقیہ زمانے کےلیے اب ایک ناقابل تبدیل واقعہ جان کر شعوری طور پر اسے قبول کرنے لگے، یہاں تک کہ اس کو ‘قبول کرنے’ کی تحریک چلانے لگے، بلکہ ان کی ایک تعداد اِس شکست خوردہ ذہنیت کی بنیاد پر اسلام ہی کی ایک تفسیرنو کی ضرورت محسوس کرنےلگی۔ بہت تھوڑے لوگ رہے جن کا رجوع اِس دین کے حقیقی مصادر کی جانب ہوا اور وہ اپنے اردگرد میں اس دین کے داعی اور عامل بن کر اٹھے۔ اکثریت البتہ اِس ہزیمت کی بنیاد پر نئے اصولِ دین وضع کرنے چل دی!

اِس بیرونی یلغار کے نتیجے میں نئے فکری انحرافات باقاعدہ لشکروں کی صورت میں ہم پر حملہ آور ہوئے۔ان نئے مفہومات میں ‘‘دنیا کے ہنگاموں میں مسلمان کا شریک ہونا’’ سب سے بڑھ کر باعثِ نزاع رہا، اور جوکہ ہماری اِس فصل کے موضوع ‘‘تعمیرِارض’’ کے ساتھ براہِ راست متعلق ہے۔

ایک بڑی تعداد تو یہاں آج ان مسلمانوں کی پائی جاتی ہے جو، افکار کی اِس بیرونی یلغار کے زیراثر، یہ سمجھنے لگی کہ ہماری اِس پسپائی اور پسماندگی کا اصل سبب ہمارا مسلمان ہونا ہے!

کیسا عجیب وہم ہے! جس دور کا مسلمان اسلام سے سب سے بڑھ کر دور ہوا، اُسی دور کے مسلمان کو باور کرایا جارہا ہے کہ اس کی پسماندگی کا سبب اس کا مسلمان ہونا ہے!   اس مسلمان کو تو یہ سمجھانا چاہئے تھا کہ تمہاری اس ذلت کا سبب تمہارااسلام سے دور ہونا ہے!

اِس وہم کا شکار ہوجانے کے بعد حل ڈھونڈنے نکلیں تو ظاہر ہے وہ اسلام میں تو نہ ڈھونڈا جائے گا۔ صرف ایک ہی چیز رہ جاتی ہے جس میں حل ڈھونڈا جاسکتا ہے: مغربی تہذیب اور مغربی اصول؛ جس کا صحیح نام ہمارے نزدیک ‘‘معاصر جاہلیت’’ ہے۔

اب یہ معاصر جاہلیت اپنے اسباق کا اجراء کرتی ہے: ‘‘تہذیب’’کا مطلب ہے مادی ترقی۔ سائنسی برتری۔ ٹیکنالوجی۔ ‘‘تہذیب’’کا مطلب ہے مادی آسائشیں جو انسان کے کاندھے سے کچھ بوجھ اتار کر آلات کو اٹھوا دیں، اور جو انسان کے جسم میں اٹھنے والی دردوں کو ٹیکوں اور سوئیوں سے خاموش کروادیں!

معاصر جاہلیت کا درس جاری ہے، جو زبانِ قال سے کھل کر نہ سہی زبان حال سے على الاعلان ہوتا ہے: قدروں کی بات کرنا، اخلاق اور اصولوں کو لے بیٹھنا اور عقائد ونظریات کو پیٹنا سب بکواس ہے، چھوڑو ان باتوں کو اور اپنے ‘حقیقی مسائل’ کو توجہ دو!

یہ پےدرپے درس سننے کے بعد مسلمان نسلیں ‘‘مہذب’’ ہونے لگتی ہیں۔ ان کو اپنے اوپر سے اب اُس ساری پسماندگی کی گرد جھاڑنی ہے جو ‘‘اخلاق’’، ‘‘اقدار’’ اور ‘‘عقائد’’ کی صورت میں ان پر پڑتی رہی ہے۔ ‘‘تہذیب’’کا یہ سفر عالم اسلام میں جس قدر موخر ہوا ہے، وہ صدیوں کی لیٹ اب برسوں میں نکالنی ہوگی… یعنی سب کچھ درہم برہم۔

ترقی کے سب نقشے اب مغرب سے الہام ہوں گے، خدائی منہج کب کا متروک ہوا!

آپ دیکھتے ہیں، ایک بڑے ہی مردنی سے انداز میں یہ مادی قوت کے بعض اسباب اختیار کرنے کی تھوڑی سی کوشش ضرور کرتے ہیں، لیکن مغربی تعیش میں سرتاپیر ڈوبے ہوئے۔ ویسا ہی رہن سن، ویسی ہی تن آسانی، گاڑیوں اور طیاروں کے بغیر شاید ہل کر دینے کےلیے تیار نہیں، امپورٹڈ منرل واٹر کے بغیر جن کی پیاس بجھنے کی نہیں، شراب اور جوئے کے بغیر جن کا دن نہیں گزرتا اور ‘روشن خیالی’ کے زیرعنوان حرام کاری اور بدکاری کا بازار گرم رہتا ہے۔

اخلاقی مفاسد جو محتاجِ بیان نہیں، رذائل جن کے ہاتھوں یہ ذرہ بھر پریشان نہیں، بلکہ شاید ان پر فخر ہو۔

نتیجۂ کار؟ مادی ترقی، معیشت کی بہتری، ٹیکنالوجی کا حصول اور معیارِ زندگی میں پیش رفت کے وہ سہانے نعرے ابھی تک نعرے چلے آتے ہیں، روٹی کے خواب ابھی تک خواب ہیں… البتہ وہ اخلاقی رذائل اور وہ سماجی غلاظتیں جو مغرب سے ‘فیض یاب’ ہونے سے حاصل ہوئیں وہ اب یہاں کی چیختی دھاڑتی حقیقتیں ہیں!

اس سے عملی اسباق کشید کریں تو بھلا کیا نتیجہ نکلے گا؟ یہی کہ… دراصل ہمارے یہاں کمی تھی تو اِن اخلاقی رذائل ہی کی۔ نایابی تھی تو درحقیت ان تہذیبی غلاظتوں کی جو مغرب کا حلقہ بگوش ہونے سے پہلے ہمارے یہاں مفقود تھیں، اِس لچرپن کا نہ ہونا جو اب جا کر ہمیں مغرب سے عطا ہوا،   ہماری پستی اور افلاس کا اصل سبب تھا! بلکہ اب بھی کچھ پستی اور افلاس ابھی باقی ہے اور روٹی کا فقدان ہے تو اس لیے کہ شرم، حیا اور اخلاق معاشرے میں ابھی کچھ باقی ہے!

‘دیں ہاتھ سے دے کر’، روٹی اور ترقی اور خوشحالی کا تعاقب اور کامیابی و سرخروئی کا سفر! کیا واقعتاً آپ مغرب کی پیروی اختیار کرکے اِس ذلت سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ آئیے ذرا ایک معاصر مغربی مورخ آرنلڈ ٹوئن بی سے اتاترک کے ترکی کی بابت اس کے خیالات سنیں:

‘‘ترکوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ انہوں نے اپنا دستور تبدیل کردیا (اور جوکہ دستوری اصلاحات کے حوالے سے نسبتاً ایک آسان چیز ہے)، بلکہ اس نومولود جمہوریۂ ترکی نے دین اسلام کے پاسبان ‘‘خلیفہ’’ کو بھی اس کے منصب سے ہٹا دیا، بلکہ اس کے منصب ‘‘خلافت’’ کو ہی ختم کردیا۔ مذہبی شخصیات کا اثر ورسوخ ختم کریا۔ مذہبی تنظیموں کو ختم کردیا۔ مسلم خاتون کے سر سے حجاب اتار دیا۔ حجاب سے وابستہ ہر چیز ختم کردی۔ مردوں کو ایسے ہیٹ پہننے کا جبراً پابند کیا جنہیں پہن کر نماز ایسے مراسم عبادت ادا نہ کئے جاسکیں، خصوصاً سجدہ نہ کیا جاسکے۔ شریعتِ اسلامیہ کی بساط لپیٹ دی۔ اس کی جگہ دیوانی میں سوئٹزرلینڈ کا قانون ترکی میں ترجمہ کرکے جاری کردیا اور فوجداری میں اٹلی کا قانون چلا دیا۔ اور یہ دونوں قانون اپنے پارلیمنٹ سے پاس کرکے نافذ کیے۔ عربی رسم الخط کو لاطینی حروف سے بدل دیا۔ جس سے عثمانی دور کے ادبی ورثہ کا بڑا حصہ دریابرد ہوگیا…

ایک مغربی مبصر کو اس لیاقت کا اندازہ کرنا چاہئے۔ کسی طنز اور چوٹ کی گنجائش نہیں۔ ہمارے ترک مقلدین نے اپنے پورے ملک اور اس کے باشندوں کو ‘‘بدلنے’’ کی اِس کوشش سے جو چیز ثابت کی ہے وہ ویسی ہی ایک کوشش ہے جو ہمارے ہاں اُس وقت ہوئی تھی جب ہم (مغرب) کی اسلام سے پہلے پہل شناسائی ہوئی تھی۔ ہم ان پر تنقید کرتے تھے۔ آج کچھ تاخیر سے سہی، مگر وہ عین ویسی ہی ایک کوشش کررہے ہیں اور عین ہم جیسا ایک مغربی معاشرہ اور مغربی ملک نظر آنا چاہتے ہیں۔

اس عمل سے ہم ان کا مقصد اور جذبہ تو یقیناً سمجھتے ہیں، لیکن یہ سوال پوچھے بغیر پھر بھی نہیں رہ سکتے کہ اپنے اِس ہدف کو پانے کےلیے اتنی ڈھیر ساری مشقت اور اتنی بڑی کشمکش کی کیا کوئی ضرورت تھی؟

وہ حمیت سے بھرا ہوا روایتی ترک مسلمان جو ہمیں بغض بھری نظروں سے گھورتا اور ہمیں ‘کمتر فرنگی ملحد’ کے طور پر جانتا تھا یقیناً ہمیں پسند نہیں تھا۔ وہ (پچھلے زمانے کا) ترک بےشک ہمیں نہیں بھاتا تھا جو ہمیں دیکھ کر ‘الحمد للہ ‘کہا کرتا تھا کہ شکر ہے خدا نے اُسے ہم جیسا نہیں کردیا۔ یہ ترک جو اپنے آپ کو کسی اور ہی مٹی کا سمجھتا تھا اور زمین پر تو کبھی اس کا پاؤں ہی نہیں لگتا تھا، ہماری کوشش رہی کہ ہم ذرا اس کا نخرہ نیچے لے آئیں۔ ہم نے اُس مٹی کو ہی جس کا ‘‘وہ’’ بنا ہوا تھا خود اس کی اپنی نظر میں اس قدر قابل تحقیر بنا دیا۔ یہاں تک کہ اب ہم اس کے سب نفسیاتی ہتھیار ایک ایک کرکے تباہ کرچکے۔ ہم اس کے یہاں یہ انقلاب برپا کرچکے جن کا اب وہ آپ سے آپ خریدار ہے اور جسے ہم بچشمِ سر دیکھ رہے ہیں۔

آج جب ہماری اس مسلسل تحریک اور سرپرستی کے نتیجے میں ترک اس قدر بدل چکا، یہاں تک کہ اب وہ ہر اُس چیز کا متلاشی ہے جس کو اختیار کرکے کسی طرح وہ ہمارے جیسا نظر آئے اور مغربی معاشروں کا چربہ مانا جائے… تو اب خود ہمیں ہی یہ دیکھ کر تنگی ہونے لگی ہے، بلکہ غصہ اور بیزاری ہونے لگی ہے۔ آج کا ترک بجا طور پر یہ گلہ کر سکتا ہے کہ وہ جو بھی کرلے ہماری نظر میں وہ قصوروار ہی رہتا ہے! بلکہ وہ ہماری کتابِ مقدس (بائبل) کی یہ نص بھی ہمیں گا کر سنا سکتا ہے کہ ‘‘ہم نے تمہارے لیے بانسری بجائی اور تم نہ ناچے۔ ہم نے ماتم کیا اور تم نہ روئے’’[5]۔

یہ چیز ان نقالوں کی دو کمزوریوں سے پردہ اٹھاتی ہے:

1.     یہ کہ (ترکوں میں) نقالی کی یہ تحریک محض لکیر کی فقیر ہے اور کسی تخلیقی عمل کی عکاس نہیں۔ اس لیے فرض کریں یہ کامیاب ہوبھی جائے تو یہ کچھ مشینی مصنوعات میں اضافہ کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

2.     بفرض محال اس تحریک کے کامیاب ہونے کا کوئی حیرت انگیز واقعہ رونما ہوبھی جائے، تو اس میں وہاں کی ایلیٹ کےلیے ہی کچھ مواقع نکلیں گے۔ البتہ اکثریت کا انجام وہی پرولتاریا والا ہوگا جو اپنے لیڈروں کے استحصال کا شکار ہوتی ہے۔[6]

دیکھ لیجئے کیسا صلیبی بغض ہے اور کس طرح ترک سیکولرز پر پھبتیاں کَسی جارہی ہیں! سچ ہے جس انسان کی نظر میں خود اپنا آپ معتبر نہ رہے وہ دوسروں سے کیا عزت کروائے گا؟ ایسے لوگ انسانیت کےلیے تو کیاخود اپنی قوم کےلیے کوئی حقیقی چیز پیش نہ کرسکیں گے۔

آج بھی اگر یہ لوگ مسلمان بن جانے پر آمادہ ہوں تو یہ اکیسویں صدی کی جاہلیت کے مقابلے پر انسانیت کو بہت کچھ پیش کرسکتے ہیں۔

بھائی تمہاری ترقی اور خوشحالی پر اسلام نے کونسی قدغن لگائی ہے؟ جتنی چاہو ترقی کرلو، لیکن اسکو خدائی منہج پر استوار کرلو، تاکہ یہ درحقیقت ‘‘تہذیب’’ کہلانے کے لائق ہو۔

سائنس اور ٹیکنالوجی جہاں سے چاہو حاصل کرلو، لیکن اُس ‘‘انسان’’کا بندوبست پہلے کرلو جو ان سب اشیاء کو کسی برگزیدہ ہدف کےلیے ہاتھ لگانا جانتا ہو۔

یعنی… اُس ‘‘انسان’’کا بندوبست پہلے ہو، جس کےلیے یہ سب پاپڑ بیلے جائیں گے۔

دنیا کے سامنے پیش کرنے کےلیے ‘‘انسان’’کا جو نمونہ آج آپ اپنے پاس رکھتے ہیں، فرض کرلیں وہ یہ سب اشیاء حاصل کرلیتا ہے اور یہ سب قوتیں اس کےلیے مسخر ہوجاتی ہیں جو اِس ترقی اور شادابی سے آپ کا مطمح نظر ہے… تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان اشیاء کو اپنی خواہشات کی پرستش کا ذریعہ بنائے گا؟ وہ ان کے ذریعے دنیا کا پجاری بنے گا اور انہیں آخرت کو بھلانے کا ذریعہ بنائے گا؟ وہ ان بےتحاشا امکانات کے ذریعے جو اسے سائنس اور ٹیکنالوجی پر دسترس سے مہیا ہوں گے، خدائے لاشریک کی بجائے شیطان کی عبادت کرےگا؟

اگر آپ ایسا ہی ‘‘انسان’’ فی الوقت اپنے پاس رکھتے ہیں تو زمانے میں اسکو عزت دلوانا کسی ‘سائنس’ کے بس کی بات نہ ہوگی۔ ایسے مسلمان انسانیت کو تو اس ضیاع اور بےمقصدیت سے کیا نجات دلوائیں گے، اپنے آپکوذلت کے طوق سے چھٹکارانہدلوائیں گے۔

ہاں اگر آپ ایسے ‘‘انسان’’ کا بندوبست کرلیتے ہیں جو اپنے ہاتھ میں آنے والے ان سب امکانات کو خدائے واحد کی عبادت میں جوت دینے والا ہو، جو خدائی منہج کو قائم کرنے والا ہو، خدائی شریعت کو زمین میں واپس لانے والا ہو، عدل و انصاف کے ربانی ضابطوں کو پھر سے یہاں سکۂ رائج الوقت بنادینے والا ہو، اِس دیوالیہ ہوچکی دنیا میں اخلاق اور اعلیٰ اسلامی قدروں کا علم اٹھا کر چلنے والا ہو، یہاں کی سیاست، معیشت، سماجی رشتوں، خانگی ناطوں، مرد و زن کے تعلقات، ادب، فن ، فکر ہر چیز کو اُنہی اخلاقی بنیادوں پر ازسرنو کھڑا کرنے والا ہو جو اسلامی تہذیب کا خاصہ رہا ہے… بالفاظِ دیگر وہ مسلمان جو زمین میں اپنے وجود کی غایت سے آگاہ ہو، اور اس کو روپذیر کرانے کےلیے سرگرم ہو… تو ضرور ایسا مسلمان نہ صرف عالم اسلام بلکہ پورے عالم انسانیت کا نجات دہندہ ہے۔ اس مسلمان کے پاس زمین آسمان کی دولت آجائے تو اس میں خیر ہی خیر ہے۔

حضرات اس ‘‘مسلمان’’ کی بحالی ہی اس وقت کا سب سے اہم محاذ ہے۔ زمین کی جانشینی درحقیقت ایسے ہی مسلمان کا حق ہے اور اسی سے خدا کا وعدہ ہے:

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئاً                                                             (النور 55)

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُـمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُـوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُـونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً                                                                                                                 (البقرۃ 143)

ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول (ﷺ) تم پر گواه ہوجائیں                                                            (ترجمہ جوناگڑھی)

الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ                                                                    (الحج 41)

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کرینگے، زکوٰۃ دینگے، معروف کا حکم دینگے اور منکر سے منع کرینگے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

*****

جوابات تلاش کیجئے

برائے اعادہ / امتحانی جائزہ / سٹڈی سرکل

تمدن…: ’’ہدایت یافتہ انسان‘‘ کی اجتماعی سرگرمی

2.     اسلام سے پہلے ’’تمدن‘‘ جن دو انتہاؤں کے مابین فساد زدہ ہورہا تھا، اسلام نے اس کو کیونکر توازن عطا کیا۔

3.     جہاں ’’انسان‘‘ ایک باہم مربوط و ہم آہنگ اکائی ہے… وہاں خدا کا نازل کردہ منہج وہ مربوط و ہم آہنگ اکائی ہے جو اِس ‘‘پورے انسان’’ کو سامنےرکھ کر اسکےلیے ہدایت تجویز کرتی ہے۔ ’’عمران‘‘ کی اس اسلامی بنیاد کی توضیح کیجئے۔

4.     اسلام میں ’’عبادت‘‘ ہی ’’عمران‘‘ کی غایت اور ’’عبادت‘‘ ہی ’’عمران‘‘کا محور ہے، وضاحت کیجئے۔

مسلمان… ’’تہذیب‘‘ کا صورت گر

5.     مجرد ’’سرگرمی‘‘ خواہ وہ مادی ہو یا روحانی ’’تہذیب‘‘ نہیں کہلاتی جب تک وہ ’’ہدایت‘‘ پر نہ کھڑی ہو؛ لہٰذا جاہلی دنیا کے بیشتر مادی و روحانی کارنامے انسانی درماندگی اور تباہی کا پیش خیمہ رہے ہیں۔ روحانی و مادی کو محض ’جوڑ‘ لینا بھی اس مسئلہ کا حل نہیں جب تک ’جوڑ‘ کا وہ نسخہ علم کے آسمانی منبع سے حاصل نہ کیا گیا ہو۔عمران کے اس اسلامی تصور کو واضح کیجئے۔

6.     ان مقدمات کے بعد محمد قطب اسلامی تہذیب کے جو چیدہ چیدہ مظاہر بیان کرتے ہیں ان کا تذکرہ کیجئے۔

7.     وہ بہت سی سرگرمیاں جو زمینی عمل میں مادی انسان انجام دیتا ہے ’’خلافتِ ارضی‘‘ کی رو سے مسلمان بھی انجام دے گا۔ اِس ظاہری اشتراک کے پیچھے جو اصل بعد المشرقین پایا جاتا ہے اس کی نشاندہی کیجئے۔

8.     ’’عمرانی سرگرمی‘‘ فی ذاتہ کچھ نہیں، بلکہ جاہلیت ہے۔ اصل چیز اس عمرانی سرگرمی کی ’’غایت‘‘ ہے جو انبیاء سے ملتی ہے۔ مگر ہمارے یہ بات کہنے سے کچھ لوگ سادہ لوحی اور کچھ لوگ بدنیتی سے یہ معنیٰ لیتے ہیں کہ انبیاء کی دی ہوئی چیز اس عمرانی سرگرمی کا ’’متبادل‘‘ ہے نہ کہ ’’عمرانی عمل کو جہت دینے والی چیز‘‘۔ یہاں سے دینداروں کی ایک بڑی تعداد بھی ایک خلط مبحث کا شکار ہوئی ہے اور روزبروز اذہان کو الجھا رہی ہے۔ محمدقطب کے بیان کردہ اس اہم ترین مبحث کو بنیاد بناتے ہوئے اس معاملہ کی عقدہ کشائی کیجئے۔

9.     مغربی جاہلیت انسان کا ’’قتل‘‘کرتی ہے باقی ہر چیز ’’بناتی‘‘ ہے۔ اسلامی تہذیب دراصل ’’انسان‘‘ کی خالق ہے اور پھر اپنے پیداکردہ ’’انسان‘‘ کو ہی زمین میں سرگرم دیکھنا چاہتی ہے۔ اس حوالہ سے دونوں تہذیبوں کی ’’اصل ترجیحات‘‘کا موازنہ کیجئے۔

10. اسلامی تہذیب کا ابتداء میں ہر قسم کے مادی اسباب سے تہی دست ہونا مگر تہذیبی معانی سے سرتاسر لبریز ہونا اپنے اندر کیا عظیم دلالتیں رکھتا ہے اور اسلامی تہذیب کی اصل حقیقت کو کیونکر بیان کرتا ہے؟

تعیشات… تہذیب نہیں بلکہ تہذیب کا گھن ہے

1.     تعیش اور زوال میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اس میں ہمارے لیے کیا اسباق ہیں؟ حالیہ پستی سے نکلنے کے حوالے سے اِس قاعدہ کی کیادلالت ہے؟

2.     مسلم معاشروں پر حملہ آور تعیش جو زوال کا سبب بننے لگا تھا، اس کے رد عمل کے طور پر جو متصوفانہ رجحانات آئے اور ان سے ’’کارزارِ حیات‘‘ سے متعلق دین کے نام پر ایک سلبیت جنم لینے لگی، محمدقطب کے نزدیک یہ مسلم زوال کے حوالے سے ’’یک نہ شد دو شد‘‘ والا معاملہ تھا اور اب یہ زوال دونی رفتار سے بڑھنے لگا۔ اس مقدمہ کی وضاحت کیجئے۔

زمین کا فساد… تہذیب کا مرکز جب ’’مسلمان‘‘ نہ رہا

3.     مسلم انحطاط صدیوں سے چلے آنے والے انحراف کا ایک قدرتی وطبعی نتیجہ تھا، محمد قطب اس کے کچھ اہم اہم عوامل مختصر ذکر کرتے ہیں۔ ان کا تذکرہ کیجئے۔

4.     حالیہ ہزیمت کو ’شعوری طور پر قبول کرنے‘ کی جو تحریکیں عالم اسلام میں اٹھیں ان میں سے کئی ایک نے اِس شکست خوردہ ذہنیت کی بنیاد پر دین اسلام ہی کی ایک تفسیر نو کی ضرورت محسوس کی، جوکہ محمد قطب کے نزدیک اِس پستی کی آخری حد ہے۔ ان تحریکوں کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

5.     ان ’’مابعد زوال‘‘ فتنوں میں ایک ذہنیت جو تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے یہ ہے کہ ہماری اِس پسپائی اور پسماندگی کا اصل سبب ہمارا مسلمان ہونا ہے! اس کے بعد معاصر جاہلیت کے تمام اسباق لینا شروع ہوتا ہے۔ محمد قطب اس ذہنیت کا کس طرح تجزیہ کرتے اور اس کو کس طرح خطاب کرتے ہیں؟

6.     ’’ترقی‘‘ و ’’ٖخوشحالی‘‘ کےلیے مغرب کے پیچھے بھاگنے والے طبقوں کو محمدقطب دوسو سالہ تجربہ کی روشنی میں ایک آئینہ دکھاتے ہیں اور اسی میں ان کی مستقبل کی تصویر بھی سامنے لاتے ہیں۔ اس سے آپ کیا نتائج کشید کرتے ہیں؟

7.     ہمارے یہاں کے یورپ کے نقال خود یورپ میں کس گھٹیا نظر سے دیکھے جاتے ہیں، ٹوئن بی کے ’ماڈرن ترکی ‘ پر کسی گئی پھبتیوں سے آپ مقلدینِ مغرب کی کیا تصویر بناتے ہیں؟

8.     مسلمان کی ترقی مسلم امت کے وجود کی غایت کے تابع ہے۔ وضاحت کریں۔

 [1]] ھود 61[’’وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا… اُسی نے اس زمین میں تم کو آباد کیا‘‘۔

[2]ملاحظہ فرمائیے اس کتاب کی فصل ‘‘عبادت کا مفہوم’’۔

[3]اس موضوع پر دیکھیے ہماری تالیف: ‘‘منھج الفن الإسلامی’’۔

[4]جس کی وجہ اس کا خدا کے ساتھ کفر کرنا اور ‘‘نیچر’’ کی خدائی ماننا اور ‘‘طبیعت’’کا پرستار بننا ہے۔

[5]بائبل کی یہ عبارت لوقا باب 7 جملہ 32 سے لی گئی ہے۔         (مترجم)

[6]ٹوئن بی کی کتاب ‘‘Islam, the West and the Future’’ کے عربی ترجمہ سے ماخوذ۔

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين