عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, June 5,2020 | 1441, شَوّال 12
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-10 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
آج کا ’’آئین‘‘ محض انتظامی شیڈولز کا نام نہیں ہے
:عنوان

:کیٹیگری
عرفان شكور :مصنف

آج کا ’’آئین‘‘ محض انتظامی شیڈولز کا نام نہیں ہے

ذیلی مبحث 1: تعلیق 19[1]

آج کا ’’آئین‘‘

محض انتظامی شیڈولزschedules کا نام نہیں ہے!

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ:

وہ چیز جسے انسان ساختہ ’آئین‘ یا ’کانسٹی ٹیوشن‘ کہا جاتا ہے، وہ صرف اُن اقوام کی ضرورت ہوسکتی تھی جن کے پاس ’’شریعت‘‘ نہیں ہے۔ ’’شریعت‘‘ کے ہوتے ہوئے ’آئین‘ اور ’کانسٹی ٹیوشن‘ کی ضرورت جپنے والے وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو ’’شریعت‘‘ کے معنیٰ سے ناواقف ہیں۔ ’’شریعت‘‘ کا اپنا مطلب ’’دستور‘‘، ’’آئین‘‘ اور ’’قانون‘‘ کے سوا آخر کیا ہے؟

تو یہاں عموماً ایک اشکال پیش کر دیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ:

جناب آپ سمجھے نہیں کہ ’’آئین‘‘ہوتا کیا ہے۔ آپ آئین پڑھکر دیکھیں، اس میں مرکزاورصوبوں کے مابین تعلقاتِ کار کا بیان ہوتا ہے۔ وزارتوں کی تقسیم، بجٹ اور آڈٹ سے متعلقہ امور، افسروں کی بھرتی،عدالتوں کا نظامِ کار، افواج کی تشکیل اور سپہ سالاروں کی تعیناتی، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کی تنظیم۔ غرض ایسی بےشمار اشیاء ہوتی ہیں۔ یہاں آپ کیسے کہہ دیتے ہیں کہ شریعت کے ہوتے ہوئے انسان ساختہ آئین کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ کیا مرکز اور صوبوں کے مابین تعلقاتِ کار،وزارتوں کی تقسیم، بجٹ، آڈٹ اور عدالتوں کا نظامِ کار وغیرہ ایسی اشیاء کی تفصیلات شریعت نے انسانوں پر چھوڑ نہیں دی ہیں؟ ان معاملات میں شریعت کی نصوص کو ہی کافی قرار دینا کیا عجیب مذاق ہے؟

ہماراجواب:

بلاشبہ ’آئین‘ میں انتظامی امور سے متعلقہ اشیاء بھی ہوتی ہیں۔ اور اِن معاملات کی حد تک، ظاہر ہے ایک فاتر العقل شخص ہی یہ کہے گا کہ وزارتوں اور محکموں کی تقسیم و درجہ بندی، یا مرکز اور صوبوں کے مابین وسائل کی تقسیم یا تعلقاتِ کار یا افسروں کی بھرتی یا نظام العمل وغیرہ ایسی اشیاء کی تفصیلات لازماً آیتوں اور حدیثوں میں ہی تلاش کی جائیں! یہ اِشکال جن طبقوں کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے ان حضرات کو ہم کہیں گے کہ دراصل آپ نہیں سمجھے کہ ’’شریعت‘‘ کیا ہوتی ہے یا شاید آپ جاننا نہیں چاہتے کہ آپ کے ’آئین‘ پر ہمارا اصل اعتراض ہے کیا۔

آئین کا ایک حصہ بےشک وہی ہے جس کا مذکورہ بالا اِشکال میں ذکر ہوا۔ سلطنت کے انتظامی ڈھانچے سے متعلقہ اصول و ضوابط پر دستاویزات بنانے اور رکھنے پر شریعت اور اہل شریعت کو بھلا کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ شریعت نے اِن امور کو جب چھوڑ ہی انسانوں پر دیا ہے تو پھر انسانوں کے ان اشیاء کو طے کرنے، اپنے پاس لکھ رکھنے، اور بوقت ضرورت ان میں کوئی ترمیم کرلینے پر شریعت کو کیوں کوئی اعتراض ہونے لگا؟ ’’آئین‘‘ کے یہ انتظامی جوانب administrative aspects یہ دوتہائی اکثریت سے طے کریں یا سادہ اکثریت سے؛ یہاں ہمارا کوئی اعتراض نہیں۔

البتہ آئین کے اِس حصے کو دکھا کر ’’آئین‘‘ کے اُس پورے تصور کو ہضم کروانے کی کوشش کرنا جو جدید دنیا کے اندر معروف ہے، کسی شعبدہ بازی سے کم نہیں۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ایک قوم کی اجتماعی زندگی کے اکثر راہنما اصول اس کے ’’کانسٹی ٹیوشن‘‘ کے اندر سموئے ہوتے ہیں۔ اختیارات کا پورا نقشہ ’’کانسٹی ٹیوشن‘‘ کے اندر دے دیا گیا ہوتا ہے۔ ’’اختیارات‘‘ کے اسی نقشے کی روشنی میں خالق اور اس کے نازل کردہ احکام کا ’’آئینی‘‘ اسٹیٹس اور ان کی پابند کُن binding یا غیرپابندکُن  non-binding حیثیت بھی خودبخود متعین ہوجاتی ہے۔ ’’پابندیوں‘‘ اور ’’آزادیوں‘‘ کا پورا نقشہ درحقیقت دستورِ مملکت ہی سے نکالا جانا ہوتا ہے۔آئینی مباحث کا یہ وہ ایریا   area ہے جو درحقیقت شرائع کے طے کرنے کا ہے۔ اِس ایریا میں شرائع کو حاکم بن کر رہنا ہوتا ہے اور اس سے متعلقہ تمام احکام صرف اور صرف شریعت کے الفاظ اور دلالتوں سے ہی لیے جانے ہوتے ہیں نیزشریعت ہی کو اِن احکام کے معاملہ میں ’’حوالہ ‘‘ reference رہنا ہوتا ہے۔ ہم موحدین کی سب بحث اور ہمارا سب نزاع دراصل دستور کے اِن جوانب سے ہوتا ہے۔

پس ہمارا یہ کہنا دراصل اِن حوالوں سے تھا کہ ’’آئین‘‘ وضع کرنے کی ضرورت اُن اقوام کو ہی ہو سکتی ہے جو ’’شریعت‘‘ سے تہی دامن ہیں۔

رہ گیا خالص انتظامی عمل administrative side of enacting a constitutional document تو شریعت کے تابع رہتے ہوئے subject to the Shariah یہ آپ جتنے مرضی اور جیسے مرضی بنائیں، اہل شریعت کو اس پر ہرگز کوئی اعتراض نہ ہوگا (’’آپ‘‘ سے مراد: امت کے اہل حل و عقد)۔ حیرت کی بات البتہ یہ ہے کہ آپ کے آئین کے نہ تو اصولی جوانب اور نہ ہی انتظامی جوانب کچھ بھی subject to the Shariah قرار نہیں دے رکھا گیا۔ ’’قانون‘‘ کے حوالے سے تو ایک بےضرر سا تکلف کرلیا گیا کہ قانون کتاب و سنت کی تعلیمات کے منافی نہ بنایا جائے گا (گو آئین کےاسی چیپٹر میں آگے جاکر اس کےلیے ڈھیر سارے چور دروازے رکھ لیے گئے)۔ اور گو ’’قانون‘‘ کے معاملے میں بھی یہ خوئے بندگانہ اختیار نہ کی گئی کہ خود کتاب و سنت کی تعلیمات ہی کو قانون مانا جائے اور نصوصِ کتاب و سنت سے ہی سب احکام اخذ کیے جائیں (اس پر بات کسی اور مقام پر ہوگی)۔ تاہم ’’آئین‘‘ کے معاملہ میں تو رسماً بھی کوئی ایسا تکلف نہیں کیا گیا۔

[1]بسلسلہ تعلیق 19 ’’شریعت بذاتِ خود دستور ہے‘‘۔ حاشیہ 4

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
Featured-
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز