عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 22,2019 | 1441, رَبيع الأوّل 24
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2016-82 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
خودکش حملے، لبرلز اور جنت کی حور کے طعنے
:عنوان

سیکولرزم کو ماننے والے اور ملحدین حقیقت میں اس گھناؤنے جرم کو ختم کرنا بالکل نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ اس دہشت گردی کو بہانہ بنا کر مسلمانوں پر اپنے عقائد کو ترک کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جائے یا انہیں ان کے عقائد پر شرمندہ کیا جائے۔

. احوال :کیٹیگری
ذيشان وڑائچ :مصنف

خودکش حملے، لبرلز اور جنت کی حور کے طعنے

ذی شان وڑائچ

جب بھی کوئی دہشت گرد خودکش حملہ کر کے بے گناہ عوام کو قتل کرتا ہے تو ملحدین اور سیکولروں کی طرف سے طعنے دیے جاتے ہیں کہ دیکھو ایک شخص نے حوروں کے لالچ میں اتنے سارے لوگوں کو قتل کردیا۔ گویا حوروں پر اعتقاد بھی اس صورتحال کو پیدا کرنے کا بجائےخود ایک سبب ہے! اس طرح کی حرکت کر کے یہ لوگ حوروں کے وجود کو تسلیم کرنے والے، یعنی تمام مسلمانوں کو قاتل کے سائڈ میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ یعنی اب بے چارہ مسلمان حوروں کے وجود کے جواز میں کچھ بھی کہے گا تو وہ قاتل کی حمایت کرتا محسوس ہوگا۔ اس لئے خاموش رہتے ہی بنتی ہے۔

یہاں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ سیکولرزم کو ماننے والے اور ملحدین حقیقت میں اس گھناؤنے جرم کو ختم کرنا بالکل نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ اس دہشت گردی کو بہانہ بنا کر مسلمانوں پر اپنے عقائد کو ترک کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جائے یا انہیں ان کے عقائد پر شرمندہ کیا جائے۔ 

ایک دہشت گرد عام لوگوں کو قتل کرنے کے معاملے میں حوروں کے لالچ سے پہلے اپنے نزدیک اس قتل عام کے لئے ایک اخلاقی یا شرعی جواز پیدا کر چکا ہوتا ہے۔ اور اگر اس کے اندر حور کا لالچ ہے بھی تو وہ اس لئے حور کی توقع رکھتا ہے کیوں کہ وہ اپنے غلط عمل کو صحیح سمجھنے کے لئے اپنے پاس ایک غلط مقدمہ رکھ چکا ہوتا ہے۔

یعنی اس قسم کے گھناؤنے عمل کو کرنے کے دو محرک ہوتے ہیں۔ 

۱۔ ایسے عمل کے لئے ایک مزعومہ اخلاقی مقدمہ اور منطقی جواز۔

۲۔ اپنے تئین ایک مقصد کے لئے قربانی کے اجر کی امید، یعنی جنت اور حوروں کا لالچ۔ 

پہلا محرک منطقی اور دوسرا محرک motivational ہے۔ 

دوسرا محرک قطعی طور پر اس بات کا فیصلہ نہیں کرتا کہ کونسا عمل صحیح ہے یا کونسا غلط۔ دوسرا محرک صرف اس عمل کی طرف ابھارتا ہے جس کو پہلے ہی سے عقل اور اخلاقیات کے اعتبار سے صحیح سمجھا جا چکا ہوتا ہے۔ انسان فطری طور پر اس چیز کی طرف مائل ہوتا ہے اور اس چیز پر قربانی دینے پر تیار ہوجاتا ہے جس کو وہ اخلاقی اور منطقی طور پر صحیح سمجھتا ہے۔ اور یہ دوسرا محرک اس صحیح چیز پر عمل کرنے اور اس  کے لئے قربانی دینے کے جذبے کو مہمیز دیتا ہے۔ 

بالفاظ دیگر دوسرے محرک کو مؤثر ہونے کے لئے پہلے محرک کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن پہلا محرک فی نفسہ مؤثر ہے۔ 

یہ دوسرا محرک بہت سارے ایسے کام کو بھی ابھارتا ہے جس پر متوازن فکر والے مسلمان کیا بلکہ سیکولرزم کے داعی بھی متفق ہوں گے۔ اس اعتبار سے دوسرا محرک ایک ایسی عظیم قوت ہے جس سے انسان دنیاوی مفادات سے لاپرواہ ہو کر خیر کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دیتا ہے۔ لیکن چونکہ آج کے دور میں عالمی سیکولر طاقتوں کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے کچھ مسلمانوں نے مسلم اور غیر مسلم عوام کے قتل ناحق کے لئے ایک غلط مقدمہ گھڑ لیا اس لئے ممکن ہے کہ یہ دوسرا motivational محرک بھی غلط طریقے سے استعمال ہورہا ہو۔ 

مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت اور تمام معروف علماء اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے کسی عمل کا کوئی اخلاقی مقدمہ یا منطقی جواز موجود نہیں ہے جس میں مسلمان کیا غیر مسلم عوام کو نشانہ بنایا جائے۔ یعنی اس کے جواز کے نہ ہونے کے معاملے میں سیکولرز اور مسلمان علماء متفق ہیں۔ اور اگر یہ سیکولرز واقعی میں چاہتے ہیں کہ اس ظلم کو ختم کرنے میں اپنا حصہ ڈالیں تو ان کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ مسلمان علماء کے حوالے سے واضح کرتے کہ یہ قاتل دہشت گرد مسلمان علماء کی آراء کے خلاف جا رہے ہیں۔ 

لیکن نہیں، ایسے کرنے کی صورت میں سیکولرزم کی انفرادیت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اور اگر ’خدانخواستہ‘ یہ خود کش حملے بند ہوجائیں تو پھر سیکولرزم کی طلب مارکیٹ میں کم ہونے کا خطرہ ہے اس لئے جب تک یہ خودکش حملے ہوتے رہیں گے سیکولرزم کی ڈیمانڈ مارکیٹ میں باقی رہے گی اور مسلمانوں کو اپنے دین و ایمان پر طعنے دینے کے موقعے ملتے رہیں گے۔ 

اس کے لئے آسان سا طریقہ یہ نکلا کہ اس قتل کے اصل محرک کو چھیڑا نہ جائے اور بس مسلمانوں کو جنت اور حوروں پر بھر پور طعنہ دیتے رہیں۔ اس طرح یہ خودکش قاتل اور بے چارے عام مسلمان اپنے علماء سمیت ایک ہی پارٹی نظر آئیں گے۔ بے چارے اسلامی ذہن والوں کے لئے کوئی موقعہ ہی نہیں ملے گا کہ وہ ان جرائم کے اصل مقدمے کا کھل کر رد کر سکیں۔ اور اگر کر بھی دیں تو نقار خانے میں طوطی کی طرح کسی کو سنائی ہی نہ دیں۔ جب اس قسم کے گھناؤنے قتلِ عام اور حوروں کے لالچ کو ہی ملادیا جائے تو شرم کے مارے چپ رہنے اور اپنے عقیدے پر شرمندہ شرمندہ سے ہونے کے علاوہ کیا ہی کیا جاسکتا ہے۔

یہ سیکولرزم کے حامی اور خودکش حملہ آور حقیقت میں تو دو انتہائیں ہیں، لیکن یہ دونوں انتہائیں ایک دوسرے کے لئے جواز بھی فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح سے یہ دونوں متوازن فکر رکھنے والے مسلمانوں کے خلاف ایک دوسرے کی موافقت کرتے ہیں۔ 

متوازی فکر رکھنے والے مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ سیکولروں کے طعنوں کی پروا  نہ کرتے ہوئے کھل کر میدان میں آئیں۔ یہ غلط مقدمہ بہرحال اسلام کو ہی استعمال کر کے پیش کیا جارہا ہے۔ اس لئے علماء کی طرف سے کھل کر اس (اسلام کا نام لے کر دہشت گردی کو جواز دینے والے مقدمہ) کی مخالفت ہونی چاہئے۔

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
ڈیل آف دی سینچری… مسئلۂ فلسطین کے ساتھ ٹرمپ کی زورآزمائی
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
ڈیل آف سنچری ، فلسطین اور امریکہ
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
طیب اردگان امیر المؤمنین نہیں ہیں، غلط توقعات وابستہ نہ رکھیں۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز