عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 15,2019 | 1441, رَبيع الأوّل 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Mafhoomat آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
مرجئہ کے ‘دلائل’!
:عنوان

. اصولمبادى فہم :کیٹیگری
محمد قطب :مصنف
مفاھیم ینبغی أن تصحح فصل اول

مفہوم لا الٰہ الا اللہ

مرجئہ کے دلائل!

 

حامد کمال الدین

ان لوگوں کی کیا دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ تصدیق اور اقرار ہی ایمان میں کل مطلوبِ ہے اور یہ کہ اعمال بلندیِ درجات کا سبب تو ضرور ہیں لیکن اگر نہ پائے جائیں تو بھی تصدیق اور اقرار کے ہوتے ہوئے ‘‘ایمان’’ پورا موجود ہے؟

ظاہر ہے یہ مرجئہ اور ان کے ہم نواؤں کا قول ہے۔ تاریخ کا ذرا مطالعہ کرلیں تو آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ قول جوکہ اسلام کی روح سے صاف متصادم ہے کب اور کہاں سے اسلام میں داخل ہوا۔ یہ بیج قدیم مرجئہ کے ڈالے ہوئے ہیں جس سے جدید مرجئہ آج اپنی کاشتکاری میں مدد پاتے ہیں؛ اور اب یہ اسلام میں ‘مسلمان’ کی ایک ایسی فصل کاشت کرچکے ہیں جو نہ کسی آسمانی کتاب میں آپ کو مل سکتی ہے اور نہ کسی رسول کے ہاں ۔ اسلام بغیر فرائض! اور اگر آپ کہنا چاہیں تو اسلام بغیر اسلام!

قدیم یا جدید مرجئہ نے کہاں سے یہ مسئلہ لیا کہ ‘‘ایمان’’ ثابت ہوجانے کے لیے دنیا میں صرف اقرارِ لسانی درکار ہے اور آخرت میں اقرارِ لسانی اور تصدیقِ قلبی؟

۱۔مسئلہ لاالٰہ الا اللہ پر اس قدر زور؟

۲۔ مابین ‘‘ایمان’’ و ‘ارجاء’

۳۔ ‘‘شہادت’’ نہ کہ محض ‘اقرارٌ باللسان وتصدیقٌ بالقلب’!

۴۔ اگر محض ‘تصدیقٌ بالقلب واقرارٌ باللسان’ ہی لاالٰہ پر ‘‘ایمان’’ ہوتا!

۵۔ مرجئہ کے ‘دلائل’!

ان کی پہلی دلیل انکے خیال میں ایمان کا لغوی مطلب ہے۔ ایمان کا مطلب ‘تصدیق’ ہے۔ نیز یہ کہ ‘‘عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ’’ قرآنی آیات میں ‘‘آمَنُوۡا’’ پر معطوف آتا ہے، یعنی دونوں کے درمیان ‘‘وَ’’ آتا ہے اور ‘‘وَ’’ کا اقتضا ہے کہ اس سے پہلے اور بعد کے الفاظ میں مغایرت ہو۔ پس ایمان ایک شےء ہوئی اور عملِ صالحات ایک اور شےء۔ دونوں ایک دوسرے کی جنس سے ہیں اور نہ ایک دوسرے میں داخل۔

شرعی اصطلاحات کی محض لغوی تفسیر! مرجئہ کی اصل الجھن تو یہیں سے شروع ہوجاتی ہے۔

قرآن نے کچھ الفاظ کو باقاعدہ اصطلاح کے طور پر اپنے کچھ خاص مفہومات اور تصورات کو ادا کرنے کا ذریعہ بنایا ہے، جیسے ایمان، صلاۃ، زکاۃ وغیرہ… تو اس کا لغوی عموم ایک حد تک ہی درخوراعتنا رہتا ہے، لغت کے ایک لفظ کو اسلام جب اپنے کسی خاص مفہوم کے لیے استعمال کرلیتا ہے تو اُس لفظ کو لغت سے زائد تر ایک مفہوم بھی اس کے ساتھ ہی مل جاتا ہے، جس کے بعد اُس کا لغوی معنیٰ اس سے اسلام کی کل مراد متعین کرنے کے لیے فیصلہ کن نہیں رہ جاتا۔

اب مثلاً صلاۃ ہے، جس کا لغوی مفہوم ہے دعاء۔ تو کیا اسلامی اصطلاحی استعمال میں ہم صلاۃ کو مجرد دعاء کے معنیٰ میں لینا شروع کردیں گے؟ یعنی بس دعاء؛ خواہ وہ ‘دعاء’ اس معروف قیام، رکوع، سجود، تلاوت، طہارت، دخولِ وقت، استقبالِ قبلہ اور دیگر ضوابط کی پابند ہیئت سے ہٹ کر ہی کیوں نہ ہو؟

اسی طرح… ‘‘ایمان’’ لغت میں تصدیق ہے، مگر وہ شرعی اصطلاح میں ‘‘تصدیق’’ کی ایک خاص ہیئت ہے جو اپنے خاص شروط اور مطالبات رکھتی ہے؛ جس میں محبت، خشوع، انابت، خشیت، اذعان، تسلیم، خدا کی بات کو ہر ہر معاملے میں اٹل ماننا ، اس کے رواکردہ کو ہی اپنے لیے روا رکھنا اور اس کے حرام کردہ کو ہی اپنے لیے ناروا رکھنا، نیز اپنے عمل اور جوارح سے اس بات کا ثبوت دینا، عملی رویے میں اخلاقیاتِ لاالٰہ الا اللہ کی پابندی کرنا سب ‘‘ایمان’’ میں آتا ہے:

ایمان والے تو بس وہ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں تو وه آیتیں ان کے ایمان کو اور زیاده کردیتی ہیں اور وه لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وه اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں؛ ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔ (الأنفال 2 4)

سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔ (النساء 65)

اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تم ہو ایمان رکھتے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر

یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو: اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ لغویات سے دور رہتے ہیں۔ زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر (محفوظ نہ رکھنے میں) وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔ اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔ اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ وہ وارث ہیں۔ جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (المومنون 1-10 )

یہ سب کچھ اِس ‘تصدیق’ کے ساتھ جڑا ہوا ہے؛ اور جب یہ لفظ ایک باقاعدہ قرآنی اصطلاح بن گئی ہے تو خالی لغت پر اکتفاء کرتے ہوئے اس کا معنیٰ متعین کردینا درست نہیں رہتا؛ بعینہٖ جس طرح صلوٰۃ اور زکوٰۃ اور دیگر اسلامی اصطلاحات کا معنیٰ ومفہوم متعین کرتے ہوئے مجرد لغت کو نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ اُن اضافی معانی کو ساتھ شامل رکھا جائے گا جو ان کے اصطلاحی مفہوم نے ان کو بخش دیے ہوتے ہیں۔

رہ گیا یہ استدلال کہ ‘‘عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ’’ کا لفظ ‘‘آمَنُوۡا’’ پر معطوف آتا ہے، یعنی دونوں کے درمیان ‘‘وَ’’ آتا ہے اور ‘‘وَ’’ کا اقتضا ہے کہ اس سے پہلے اور بعد کے الفاظ میں مغایرت ہو… تو یہ بھی اتنا ہی بودا اور بے بنیاد استدلال ہے جتنا کہ اس سے پہلے والا استدلال (ایک اصطلاح کی محض لغت کی بنیاد پر گرہ کشائی کرنا)۔

قرآن کی یہ آیت پڑھ لیجئے: (مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلّهِ وَمَلآئِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللّهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِرِينَ (البقرۃ: 98) ‘‘جو ہوا دشمن اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور رسولوں کا اور جبرائیل کا اور میکائیل کا تو پھر اللہ ایسے کافروں کا دشمن ہے’’) اب کون نہیں جانتا کہ جبرائیل اور میکائیل ملائکہ میں سے ہی ہیں اور ملائکہ کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا، پھر بھی یہ دونوں اس پر معطوف آتے ہیں۔ یہاں ‘‘وَ’’ سے آخر کونسی مغایرت آگئی ہے؟ یہ ایک معلوم قاعدہ ہے کہ جزء اپنے کل پر معطوف آسکتا ہے اور ایک خاص اپنے عام پر معطوف آسکتا ہے؛ قرآن میں یہ بلاغی اسالیب معروف ہیں۔

الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ (غافر 7) ‘‘وہ جو عرش کو اٹھانے والے ہیں اور جو اس کے گرداگرد ہیں، تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں’’

یہاں ایمان معطوف ہے تسبیح پر جوکہ مقتضیاتِ ایمان میں سے ہے، کیونکہ کل مؤخر، جزء مقدم پر عطف ہوسکتا ہے اور اس سے بہت سے بلاغی معانی ثابت ہوتے ہیں۔ اس کو اقترانِ احتواء کہتے ہیں یعنی ایک کا دوسرے پر مشتمل ہونا، پھر بھی دوسرے کا پہلے پر معطوف ہونا؛ اور یہ ‘‘مشتمل’’ ہونا کل اور جزء کی ترتیب سے بھی ہوسکتا ہے اور عموم و خصوص کی ترتیب سے بھی۔

‘‘ایمان’’ اور ‘‘عمل صالحات’’ کے مابین واوِ عطف سے دونوں کی مغایرت پر استدلال کرنا اور یہ نکتہ کشید کرنا کہ ایک دوسرے کے معنیٰ ومفہوم میں آ ہی نہیں سکتا، بوجوہ باطل ہے۔کئی آیات ایسی ہیں جہاں یہ دونوں ایک دوسرے پر معطوف نہیں آتے بلکہ ایک دوسرے سے متصل ہیں۔

(کتاب میں یہاں قرآن مجید سے اس کے کچھ شواہد دیے گئے ہیں)

سب آیات اِس دلالت میں واضح ہیں کہ ایمان اور عمل صالحات کو اٹوٹ نہ جاننے اور دخولِ جنت کے لیے خالی تصدیق اور اقرار کو کافی جاننے والا یہ ارجائی مذہب سراسر باطل ہے۔

*****

مرجئہ نے ‘‘معصیت’’سے بھی استدلال کرنے کی کوشش کی ہے…

علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ جوارح میں واقع ہوجانے والی معصیت آدمی کو ایمان سے خارج نہیں کرتی۔ یہاں سے مرجئہ نے عمارت کھڑی کرلی کہ دیکھا ایمان ایک قائم بخود حقیقت ہے جو عمل سے ہٹ کر کوئی چیز ہے ؛ ورنہ لازم تھا کہ معصیت کے مرتکب سے ایمان کی صفت ہی زائل تصور ہوتی اور اسکو مومن سمجھنا ہی موقوف ہوتا!

یہ بھی ویسا ہی ایک مغالطہ ہے۔ معصیت بلاشبہ آدمی کو ایمان سے خارج نہیں کرتی؛ مگر یہ ایمان پر اثرانداز ضرور ہوتی ہے!

معصیت کا انسان کی حالت پر اثرانداز ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کو ثابت کرنے پر زور لگانا زائد ازضرورت ہے۔ہمارے لیے رسول اللہﷺ کا بیان کافی ہے؛ وہ ہستی ﷺ جو حقیقتِ ایمان سے سب سے بڑھ کر واقف ہیں اور قلبِ بشری سے متعلقہ حقائق سے سب سے بڑھ کر آگاہ:

إن العبد إذا أخطأ خطيئـة نكتت في قلبه نكتة ، فإذا هو نزع واستغفر وتاب صقل قلبه ، وإن عاد زيد فيها حتى تعلو قلبه ، وهو الران الذي ذكره الله تعالى : ‘‘كَلَّا بَلۡ رَانَ عَلٰى قُلُوبِهِـمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُـوۡنَ . كَلَّا إنَّهُـمۡ عَن رَّبِّهِمۡ يَوۡمَئِذٍ لَّمَحۡجُوۡبُـوۡن ، ثُمَّ إنَّهُـمۡ لَصَالُوا الۡجَحِيۡم’’ (رواہ مسلم ومالک فی الموطأ)

بندہ جب ایک گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک دھبہ لگ جاتا ہے۔ اگر تو وہ اس سے تائب ہوجائے اور استغفار کرلے اور خدا کی جانب لوٹ آئے تو اس کا دل اجلا ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر وہ اسی میں آگے بڑھے تو وہ دھبہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے پورےدل پر چھا جاتا ہے؛ اور یہ وہ زنگ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے:كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ. كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ ،ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِيمِ‘‘ ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے۔ پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے’’

اب اس پر تو سب متفق ہیں کہ دل ہی ایمان کا محل ہے… تو ایک دل جو سیاہ ہے اس کا اور ایک ایسے دل کا جس کی سفیدی قائم ہے معاملہ ایک برابر کیسے ہوسکتا ہے؟

اور یہی تو وہ بات ہے جو علماء (اہلسنت) نے کہی ہے: کہ ایمان نیکیوں سے بڑھتا ہے اور گناہوں سے گھٹتا ہے۔ اب یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ دل اپنی اُس حالت میں جب ایمان بڑھ رہا ہو اور اُس حالت میں جب ایمان گھٹ رہا ہو، ایک سا ہو!

پھر اس کے ساتھ ساتھ، معصیت کا یہ دائرہ کتنا ہی کھلا کیوں نہ، لازم ہے کہ اس کی کچھ حدود مانی جائیں۔ یہ حدود ظاہر ہے ہم اپنے پاس سے نہیں وضع نہیں کرلیں گےبلکہ یہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہؐ سے ہی مستنبط ہوں گی…

لہٰذا معصیت ایک چیز ہے اور استحلال (اُس معصیت کو روا کرلینا) اور چیز۔ اور جہاں تک اِس استحلال (معصیت کے عمل کو روا کرلینا) کا تعلق ہے تو وہ بلاشبہ ایمان سے خارج کرنے والا ہے چاہے آدمی گناہ کا وہ فعل نہ بھی کرتا ہو۔

اس استعمال کے حوالے سے…:

مجرد ‘‘معصیت’’ میں وہ افعال نہیں آتے جو ‘‘اصلِ ایمان’’ کو ڈھانے والے ہوں۔ جبکہ تشریع بغیر ما انزل اللہ (غیر اسلامی شرائع کو آئین بنادینا) نواقضِ ایمان میں سے ہیں؛ یعنی یہ اُن افعال میں سے ہے جو اصلِ ایمان ہی کو ڈھا دیتے ہیں۔

نیز… یہ چیز بھی مجرد ‘‘معصیت’’ میں نہیں آتی کہ آدمی لاالٰہ الا اللہ کے سب کے سب تقاضوں کو مکمل خیرباد کہہ چکا ہو۔ اعراض کی یہ حالت مجرد ‘‘معصیت’’ کی نسبت سنگین تر ہے۔

*****

پھر مرجئہ اس بات سے استدلال کرتے ہیں کہ اسلام میں داخلے کے لیے شہادتین بول دینے کے سوا کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے؛ اور شہادتین بولنے کے ساتھ ہی وہ شخض مسلمان شمار ہونے لگتا اور اُس پر مسلمان والے سبب ظاہری احکام لگ جاتے، جبکہ اُس کا حساب اللہ پر چھوڑ دیا جاتا۔
ایک نہایت کام کی بات کی ہے، مگر اس سے ایک نہایت غلط بات ثابت کی جارہی ہے۔ مطالباتِ لاالٰہ الا اللہ کی بابت اس سے بڑھ کر غلط فہمی اور غلط گوئی کوئی نہ ہوگی…

اس میں کیا شک ہے کہ جو شخص رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوکر یہ اعلان کردیتا: ‘‘میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدؐ اٍس کے رسول ہیں’’ (یا اس کی ہم معنیٰ عبارت) تو بلاتاخیر وہ مسلمان شمار ہوتا ، اگرچہ اُس نے یہ الفاظ ازراہِ نفاق ہی کیوں نہ بولے ہوں۔

تاہم… اُسکا یہ ‘‘گواہی’’ دینا ایک ملت کو خیرباد کہہ آنے اور دوسری ملت کو اختیار کرلینے کا واضح اعلان ہوتا۔ ‘‘گواہی’’ دینے کی یہ جہت مرجئہ گول کرگئے، جبکہ وہ پورے جزیرۂ عرب پر واضح تھی، اور ماحول میں اس کی دلالت نہایت معلوم تھی، اور لگے یہ ثابت کرنے کہ ‘دیکھا، دو لفظ بول دینے پر آدمی مسلمان مان تو لیا جاتا تھا’!!!

ایک ایسی عظیم بات… مگر مرجئہ کو کیا سوجھی، یہ اس سے استدلال کرنے چل پڑے کہ یہ تو دو لفظوں کی مار ہے! اسلام کا وہ سرٹیفکیٹ دو کلمات بول دینے پر مکمل ترین انداز میں آدمی کو دے دیا جاتا تھا (اور کیا شک ہے کہ واقعتاً دے دیا جاتا تھا!) اور موقع پر اُس سے کسی اور چیز کا مطالبہ نہ کیا جاتا، بلکہ اُس کا حساب خدا پر چھوڑ دیا جاتا۔

مرجئہ وہ اصل بات گول کرگئےجوکہ ‘‘شہادتِ’’ کی اصل دلالت ہے؛ یعنی کفر کی ملت سے برأت، اور اللہ کی غلامی اور محمدﷺ کی تابعداری کا واضح دو ٹوک اعلان…

اور جو چیز اس معاملے میں فیصلہ کن ہے وہ ہے یہ مسئلہ کہ: ایک ایسا آدمی جو بدستور لا الٰہ الا اللہ پڑھتا ہے، اگر ارتداد کا مرتکب ہوجائے…؟

اب یہ شخص لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ تو پڑھتا ہے؛ مگر صاف بات ہے کہ لا الہ الا اللہ کے کسی مدلول یا کسی مقتضیٰ کا انکار کرنے لگا ہے؛ مثلاً نماز کا منکر ہوگیا ہے، روزے کا منکر ہوگیا، یا کہتا ہے کہ میں زکات یا حج کو نہیں مانتا، یا مرجئہ کی تعریفِ استحلال کو پورا کرتے ہوئے وہ حاکمیتِ شریعت کو رد کرگیا ہے… مگر ‘‘کلمہ’’ وہ برابر پڑھتا ہے… تو کیا اس کو مرتد نہیں کہیں گے؟ اور اُس کی سزا دنیا میں قتل اور آخرت میں دائمی جہنم نہیں ہے؟

کیا یہ عجیب نہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک آدمی کی سزا قتل رکھے اور آخرت میں دائمی جہنم، ایک ایسی بات پر جو اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہی نہیں ہے؟!
تو کیا یہ ثابت نہ ہوا کہ أشهد أن لا اله الا الله واشهد أن محمدا رسول الله کسی ‘‘حقیقت’’ کا اعلان ہے نہ کہ دو لفظ۔ ورنہ اگر یہ محض دو لفظ ہیں، تو جہاں اس حقیقت کو توڑ دیا گیا وہاں (خود مرجئہ کے ہاں بھی) یہ دو لفظ کیوں کام نہ آئے؟

پس یہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کچھ التزامات (ذمہ داریوں) کا ہی اقرار ہے۔ لہٰذا ایسے اقرار کا اعتبار کیوں نہ کیا جائے ۔۔۔ الا یہ کہ اُس کا اُس اقرار کو صریح حد تک توڑ دینا پایۂ ثبوت کو پہنچ لے مانند ارتکابِ نواقضِ لا الٰہ۔

بنابریں… آدمی کے أشہد أن لا اله الا الله واشہد أن محمدا رسول الله بولنے میں ہی یہ بات ضمناً شامل ہے کہ ‘‘خدا کی جانب سے آنے والی ہر چیز مجھ کو قبول ہے اور اس کی اتاری ہوئی شریعت میری زندگی کا واحد دستور ہے’’۔ اور جب یہ بات اُس کے ‘‘اقرارِ لاالٰہ’’ میں شامل ہے تو جیسے ہی وہ اپنے اِس حلف سے پھرے گا اور شریعتِ خداوندی کے ماسوا کسی چیز کو اپنا آئین بنائے گا تو اُس کا وہ ‘‘اقرارِ لاالٰہ’’ ہی کالعدم مانا جائے گا۔ اب اُس کا وہ ‘‘اقرارِ لاالٰہ’’ اُس کے حق میں نہیں بلکہ اُس کے خلاف حجت ٹھہرے گا۔

پس مرجئہ کی یہ دلیل صرف اس صورت میں معتبر ہوگی اگر اِس کو معنیٰ اور دلالت سے خالی ایک کلمہ مان لیا جائے… ظاہر ہے ‘‘لاالٰہ الا اللہ’’ کی بابت اس سے بڑھ کر کوئی بات بیہودہ اور لغو نہیں ہو سکتی۔

مرجئہ دراصل اِس ‘‘لا الٰہ الا اللہ’’ کو کافی جاننے کے مسئلہ کو اُس فضا اور اُس ماحول سے الگ تھلگ کرکے لیتے ہیں جس میں ایک شخص کا ‘‘لاالٰہ الا اللہ’’ کہہ دینا اپنی زندگی کی سمت تبدیل کرلینے کے حوالے سے واقعتاً ایک نہایت کافی اعلان تھا۔ اور یہیں سے یہ لوگ امت کو بڑی بڑی گمراہیاں پیدا کر کے دیتے ہیں…

اس میں ادنیٰ شک نہیں کہ ‘‘لاالٰہ الا اللہ’’ رسول اللہﷺ کی پوری دعوت کا عنوان ہے اور اِس لاالٰہ الا اللہ کو قبول کرلینا دراصل رسول اللہﷺ کی پوری دعوت کو قبول کرلینا اور اپنے آپ کو رسول اللہﷺ کی اطاعت اور فرماں برداری میں دے دینا۔ ‘‘اسلام’’ کی بابت یہ واضح ترین حقیقت مرجئہ پر واضح ہوجائے تو یہ پورا مسئلہ ختم ہوجاتا ہے…

جس دن سے محمدﷺ کے ہاتھوں کرۂ ارض پر مسلم معاشرہ اپنی ایک مستقل بالذات حیثیت میں قائم ہوا ہے… اُس دن سے یہ دین، یہ ملت، یہ امت، یہ معاشرہ اپنی ایک معلوم صورت، اپنی ایک معلوم ساخت، اور اپنا ایک معلوم دستور رکھتا ہے۔ کوئی فرضی اور وہمی چیز نہیں جو کتابوں اور بحثوں میں ڈھونڈی جائے! یہ ایک معلوم دعوت ہے۔ ایک معلوم معاشرہ ہے۔ ایک معلوم مطالبہ اور معلوم تقاضا ہے۔ ‘‘انسان سے محمدﷺ کا مطالبہ’’ کسی ایک دن اوجھل نہیں ہوا۔ ‘‘لا الٰہ الا اللہ’’ اس کا محض عنوان ہے۔ کوئی ایک شخص دنیا میں ایسا نہیں، نہ دورِ نبوی میں اور نہ آج تک، جو ‘‘لاالٰہ الا اللہ’’ کے اِس دروازے کے پیچھے کسی عمارت کے وجود سے لاعلم ہو۔ یہ صرف مرجئہ کی جدلیات ہیں جو ‘‘دروازے’’ کے پیچھے ‘‘عمارت’’ کو گول کرجاتی ہیں اور ‘بحثوں’ کی نوبت لے آتی ہیں؛ ورنہ عقول اور بدیہیات یہ قبول کرنے سے ہی ابا کرتی ہیں کہ ایک ‘‘دروازہ’’ لازماً کسی ‘‘احاطے’’ میں نہ کھلے۔ مرجئہ ہمیں ایک ایسے دروازے کی خبر دینے پر بضد ہیں جس کے پیچھے کوئی چاردیواری اور نہ کوئی حدود اور نہ قیود! ایک چوپٹ دنیا؛ جس کی جانب ان کی ‘کلمہ گوئی’ کا یہ دروازہ کھلتا ہے! محمدﷺ کی لائی ہوئی دعوت، عالمِ انسان سے آپؐ کا مطالبہ، آپؐ کا قائم کردہ معاشرہ، اور اس معاشرے کا دستور اور آئین اس سے کہیں واضح اور کہیں برگزیدہ ہے کہ یہ ‘دو لفظوں’ کی مار ہو؛ جس کے پیچھے نہ کوئی حقیقت، نہ دلالت، نہ عہد، نہ التزام، نہ واجبات اور نہ فرائض اور نہ پابندی! دورِنبوت سے آج تک ہر کسی کو محمد ﷺ کے دین میں آنے کا یہ مطلب پیشگی معلوم ہے کہ یہ ایک پورا دین ہے؛ اور یہ کہ جو شخص آپؐ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے اُس کو دن میں پانچ بار خدا کے سامنے سجدہ ریز ہونا ہے، رمضان کے تیس دن صبح سے شام تک خدا کی تعظیم میں بھوک پیاس سہنا ہے۔ اپنے مال کا ایک حصہ نکال کر ہر سال خدا کی راہ میں پیش کرنا ہے، اور حسب استطاعت زندگی میں ایک بار خدا کے گھر کا طواف کرکے آنا ہے، خدا کے نازل کردہ احکام کو اور اس کے ٹھہرائے ہوئے حلال اور حرام کو اپنے لیے آئین ماننا ہے اور حق وباطل اور درست نادرست اور روا وناروا کی بابت خدا جو فرمادے یا اُس کا رسول جو فرمادے اُس کو حتمی وآخری تسلیم کرنا ہے۔ دینِ محمدؐ کی بابت ہر کس و ناکس پیشگی جانتا ہے کہ یہاں اِن باتوں کی پابندی ہے؛ اور اس کے ‘‘مسلمان’’ ہونے کا آپ سے آپ یہ مطلب ہوگا کہ وہ ان باتوں کا پابند ہے۔ اب یہ سب جانتے ہوئے… وہ اِس میں داخل ہونے کا اعلان کرتا ہے: أشهد أن لا اله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله۔ بتائیے یہاں کیا ابہام باقی ہے؟ حتیٰ کہ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس دین سے پھرجانے اور اس کے نواقض کا ارتکاب کرلینے کی سزا قتل ہے، پھر بھی وہ لاالٰہ الا اللہ کہہ کر اس دین کو قبول کرتا ہے؛ اور جبکہ اُسے معلوم ہے کہ محمدﷺ کے ہاتھوں یہ دین زمین میں عملاً قائم ہوچکا ہے اور اس کے ہاتھ میں وہ تلوار آچکی ہے جو اس دین سے مرتد ہوجانے اور اس کے نواقض کا ارتکاب کرلینے والے کا سرقلم کردے۔ یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے وہ اپنے آپ کو اس دین میں آنے کے لیے پیش کرتا ہے۔ جبکہ مرجئہ کے خیال میں اُس نے تو کسی بات کی پابندی ہی اختیار نہیں کی صرف دو لفظ بولے ہیں اور ہم نے تو محض ان دو لفظوں کی وجہ سے (نہ کہ ان دو لفظوں کے زیرعنوان ایک حقیقت کو قبول کرلینے اور اس کی پابندی کا قلادہ گردن میں ڈال لینے کے باعث) ہم نے اس کو مسلمان اور صاحبِ ‘‘کامل ایمان’’ مان لیا ہے!حالانکہ اس آدمی نے ایک ایسے دین کو قبول کرکے جس کی عائد کردہ پابندیوں کا اس کو پیشگی علم ہے اور جوکہ زمین پر بالفعل قائم ہے اور اپنے فرائض و محرمات کو بزور لاگو کروانے اور اپنے نواقض کے مرتکب کا (توبہ کا موقع دے دینے کے بعد) سر قلم کردینے کے لیے تلوار پاس رکھتا ہے… اس کی پابندیوں کو اور اس کی شریعت کی حتمی حیثیت اور اس کے دستور کی حاکمیت کو قطعی طور پر قبول کرلیا ہے؛ اس کا أشهد أن لا اله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله کہنا تو اِس پوری حقیقت کا محض ایک اظہار ہے! پھر بھی کوئی کہے کہ أشهد أن لا اله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله کہنے میں ‘‘شریعت کا دستور نہ توڑنے کی پابندی’’ کہاں ہے… تو اس کی سمجھ کا ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

ہم یہ وہ بات کررہے ہیں جو دینِ محمدؐ کی بابت ایک معلوم حقیقت ہے اور ہرکس و ناکس اس سے واقف ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک عام آدمی دین کے بہت سے فروعی احکام سے جاہل نہیں ہوسکتا۔ بے شک اسلام کے بہت سے احکام ایسے ہیں جو صرف اس دین کے فقہاء کو ہی معلوم ہیں۔ مگر وہ چیز جس سے کوئی شخص جاہل نہیں ہوسکتا وہ یہ کہ خدا کے ہاں سے نازل ہونے والی شریعت کی پابندی اِس امت کا دین اور دستور ہے اور ہر ہر شخص اس کا مخاطب اور پابند، اور یہ کہ اِس پابندی کا قلادہ گلے میں ڈلنا  أشهد أن لا اله الا الله وأشهد أن محمدا رسول الله کہنے کا براہِ راست مقتضا اور مفہوم ہے۔

اسی لیے تو مطالباتِ لا الٰہ الا اللہ کے بیان پر ہم اس قدر زور دیتے ہیں!

ایک آدمی کو اسلام میں داخل کرواتے وقت صرف لا الٰہ الا اللہ پڑھوایا جاتا تھا اور عین اس موقع پر اس سے یہ عہد نہیں لیا جاتا تھا کہ وہ نماز پڑھے گا، روزہ رکھے گا، زکات دے گا، حج کرے گا، شریعت کو اپنا دستور مانے گا، اور اللہ و رسولؐ کے فرمائے کی حتمی حیثیت تسلیم کرے گا… اس لیے کہ یہ سب کچھ ‘‘معلوم من الدین بالضرورۃ’’ ہوچکا تھا (یعنی وہ امور جن کا دینِ اسلام میں سے ہونا ایک معلوم واقعہ ہے)۔ ‘‘معلوم من الدین بالضرورۃ’’ کی یہ اصطلاح علمائے عقیدہ کی زبان پر آئی ہی اس لیے ہے۔ ‘‘تعلیم’’ کا وہ ابتدائی مرحلہ جو رسول اللہ ﷺ نے آغازِ دعوت میں گزارا، اس نے یہی تو کام کیا تھا کہ لا الٰہ الا اللہ کسی معلوم حقیقت کا عنوان ہو نہ کہ محض دو لفظ۔ اب قیامت تک کے لیے اس کی یہ شان بن گئی ہے کہ یہ اپنے پیچھے ایک دین، ایک عقیدے، ایک ملت، ایک معاشرے، ایک دستور، اور فرائض ومحرمات کے پورے ایک پیکیج کی خبر دے، جس کی کسی بات کو توڑنا کفر ہوگا تو کسی بات کو توڑنا فسق اور کسی بات کو توڑنا محض گناہ۔ یہ ہے ‘‘معلوم من الدین بالضرورۃ’’۔ اور تو اور، منافق جانتا ہے کہ رسول اللہﷺ کا وہ کم از کم مطالبہ جس کو پورا کرنے پر آدمی کی جان بخشی ہوتی ہے وہ محض دو کلمے بہرحال نہیں ہیں! یہ ‘‘دو کلمے’’ ایک ضابطے میں آنے کا نام ہیں اور اِن ‘‘دو کلموں’’ کا یہ تعارف کروانے کے لیے ہی آپؐ کی یہ ساری محنت ہوئی تھی۔

کیا یہ بات غور طلب نہیں کہ دین کے قائم کردہ اس معاشرے میں… مومن اور منافق کے مابین فرق کرنے والی اصل بات یہ نہیں کہ ایک نماز پڑھتا ہے اور دوسرا نماز نہیں پڑھتا۔ ایک شریعت کو اپنا دستور مانتا ہے اور دوسرا شریعت کو اپنا دستور نہیں مانتا۔ کیونکہ نماز نہ پڑھ کر، اور شریعت کے سوا کسی چیز کو اپنا دستور مان کر تو وہ ظاہر میں بھی مسلمان نہیں رہتا۔ پس اِن دونوں میں فرق کرنے کی بنیاد رسول اللہﷺ کے قائم کردہ معاشرے میں یہ سرے سے نہیں۔ یہ نہیں کریں گے تو پھر تو تلوار ہے؛ اور یہ وہ آدمی نہیں جس کا حساب ایک مسلم معاشرے میں اللہ پر اور یومِ آخرت پر چھوڑا جائے گا۔ پانچ وقت خدا کے آگے سجدہ ریز ہونا اور خدا کی شریعت کو اپنا دستور اور آئین ماننا، یہ تو مسلم بھی کرے گا اور منافق بھی۔ ہاں فرق دونوں میں یہ ہے، اور یہ بات فیصلہ کن ہے، کہ ایک یہ کام کرے گا ایمان، تصدیق، اطاعت اور تقربِ خداوندی کے جذبے سے، جبکہ دوسرا یہی کام کرے گا منافقت سے اور اپنی جان بچانے کے لیے۔

اسلام کا سرٹیفکیٹ جس ‘‘ظاہر’’ پر ملتا ہے، اور جس پر مسلم معاشرے میں آدمی کی جان بخشی ہوتی ہے، وہ ‘‘ظاہر’’ نہیں جس میں نہ ‘‘نماز’’ اور نہ ‘‘التزامِ دستورِ شریعت’’۔ ایسے ‘‘ظاہر’’ کے لیے تو مسلم معاشرے میں ‘‘تلوار’’ ہے نہ کہ حقوقِ مسلمانی؛ اور بہت ظالم ہے وہ شخص جو ایسے ‘‘ظاہر’’ کو خدا پر چھوڑنے کو ‘‘وحسابه على الله’’ سے استدلال کرنے پر زور لگاتا ہے۔

تیرہ صدیوں تک یہ امت ایسے ہی اسلام سے واقف رہی ہے جس میں ایک منافق تک کو کچھ قاعدوں اور ضابطوں کا پابند رہ کر دکھانا ہوتا ہے۔

*****

پھر یہ واقعۂ اسامہ بن زیدؓ سے استدلال کرتے ہیں، جب انہوں نے دورانِ جہاد ایک آدمی کو اُس وقت قتل کردیا جب اُن کی تلوار نے اُسے پوری طرح زیر کرلیا تھا، اور جس پر رسول اللہﷺ اُن پر شدید غضب ناک ہوئے، یہاں تک کہ آپؐ بار بار دہراتے جارہے تھے ‘‘کیا اُس کے لا الٰہ الا اللہ کہہ دینے کے بعد تم نے اُس کو قتل کرڈالا؟’’ اور اسامہؓ کا یہ عذر تسلیم نہیں کیا کہ اُس نے محض تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھا تھا نہ کہ ایمانی طور پر، یہاں تک کہ آپؐ نے فرمایا: ‘‘کیا تو نے اُس کا دل نہ چیر لیا کہ دیکھ لیتا کہ واقعتاً اُس نے کلمہ پڑھا یا نہیں’’۔

اس واقعہ سے بے شمار اشیاء ثابت ہوتی ہیں سوائے اُس بات کے جو مرجئہ اس سے ثابت کرنا چاہتے ہیں…

اِن کی اس بات میں ضرور کوئی وزن ہوتا اگر اسلام میں منافق کے کوئی احکام ہی نہ ہوتے!

اُس شخص کی بابت، جو اسامہؓ کی تلوار سے قتل ہوگیا اور جس پر رسول اللہﷺ غضبناک ہوئے، بدترین احتمال یہی ہوسکتا ہے کہ اس نے دل سے نہیں بلکہ اوپر اوپر سے یہ کلمہ پڑھ لیا ہو، تاکہ وہ اپنی جان بچالے۔ منافق جس کو شریعت میں چھوڑ دینے کا حکم ہے، آخر یہی تو کرتا ہے! لیکن یہی منافق، جب نماز کا وقت ہوجائے تو اپنی وہی جان بچانے کے لیے جو اس کو پیاری ہے نماز بھی پڑھتا ہے! اپنی اسی پیاری جان کو بچانے کے لیے وہ شریعت کی رِٹ بھی تسلیم کرتا ہے! اب یہ کام وہ اپنی جان بچانے کیلئے کرے یا خدا کی خوشنودی کیلئے، ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے (یہ ہے ‘‘وحسابه على الله’’ کا صحیح معنیٰ)۔ ہم اُس سے جس چیز کی پابندی کرانے کے مکلف ہیں وہ اُس نے کردی ہے، اس میں مرجئہ کے مذہب کو ثابت کرنے والی دلیل کہاں ہے؟

آدمی کا لا الٰہ الا اللہ کہہ دینا موقع پر اس سے تلوار کو رفع کرادیتا ہے، یہ بات طے ہے، لیکن کیا اسلام کا سرٹیفکیٹ پانے کیلئے اُسکو زندگی میں بس یہی کارروائی کرنی ہےاور کچھ اور دیکھاجانا باقی نہیں ہے؟ اصل البتاس واقعۂ اسامہؓ میں یہاں پیدا کرکے دیا جاتا ہے۔

یعنی… معرکہ میں اُس نے لا الٰہ الا اللہ خواہ جان بچانے کے لیے ادا کیا ہو؛ یہاں پر واقعتاً اس کو چھوڑ دینا ہی بنتا ہے، لیکن اس کے بعد اگر وہ احکامِ اسلام کی وہ کم از کم پابندی نہیں کرتا جوکہ ایک مسلم معاشرے میں بہرحال طلب کی جاتی ہے… تو بھی کیا اُس کے ساتھ مسلمان والا معاملہ کیا جائے گا؟ مثلاً… نماز کا وقت آگیا ہے مگر وہ نمازیوں کی صف میں آکھڑا ہونے کا روادار نہیں، کیا تب بھی اُس کو چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ اُس نے ‘‘لا الٰہ الا اللہ’’ تو پڑھ لیا ہے!!؟

پس یہ تو اس کو ایک موقع دینا ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کی صورت میں اُس نے جو دعویٰ کیا ہے، عمل کی کم از کم حد اختیار کر کے وہ اپنے اِس دعویٰ میں سچا ہونے کا ثبوت دے لے (ظاہری ثبوت کم از کم دے؛ باطنی ثبوت کا معاملہ خدا کے ساتھ)۔ اب اگر وہ لاالٰہ الااللہ کا طلب کردہ کوئی ایک بھی عمل کرنے کا روادار نہیں، تو اس کے لیے ہمارے پاس ارتداد کی حد ہے نہ کہ اسکی کلمہ گوئی کے اعتبار میں اسکے جان اور مال کی عصمت۔

پس قاعدہ یہ ہوا کہ لا الٰہ الا اللہ ادا کردینے کی صورت میں جو شخص بھی ہمارے سامنے اسلام کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیتا ہے ہم اس کو جان ومال کی امان دیتے ہوئے پورا موقع دیں کہ وہ اپنے دعوائے ایمان کو – عمل کی کم از کم سطح پر – ثابت کرلے… تاوقتیکہ ہم یہ نہ دیکھ لیں کہ یہ شخص لا الٰہ الااللہ کے طلب کردہ ‘‘عمل’’ کی کم از کم حد کو بھی پورا نہیں کررہا؛ جس کے بعد اُ س کے خلاف بحقِ شریعت کارروائی ہوگی؛ اور جس میں سزائے موت تک ہوسکتی ہے۔ اِس واقعۂ اسامہ میں مذہبِ مرجئہ کے لیے دلیل کہاں ہے؟

*****

پھر یہ اس لونڈی کے واقعہ سے دلیل لیتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ اُس سے پوچھتے ہیں: ‘‘اللہ کہاں ہے؟’’ تو وہ آسمان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پھر آپؐ پوچھتے ہیں: ‘‘میں کون ہوں؟’’ تو وہ جواب دیتی ہے: ‘‘اللہ کے رسول’’۔ تب آپؐ فرماتے ہیں: اسکو آزاد کردو یہ مومنہ ہے’’۔ مرجئہ یہاں یہ نکتہ پیش کرتے ہیں کہ ‘‘ایمان’’ کو ثابت کرنے کیلئے شہادتین کو بول دینے سے بڑھ کر کوئی چیز مطلوب ہوتی تو رسول اللہﷺ اُس لونڈی کے حق میں ایمان کی گواہی نہ دیتے، پس ثابت ہوا کہ یہ دو کلمے بول دینا آدمی کا ایمان ثابت کردینے کے لیے بہت کافی ہے!

یہ وہ سب سے بڑی دلیل ہے جو قدیم اور جدید مرجئہ اپنے مذہب کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں جو کل مطلوب ہے وہ ان دو کلموں کو بول دینا ہے، اور آخرت کے حوالے سے کل مطلوب: ان کو بول دینے کے ساتھ دل سے سچا جاننا۔

جبکہ ہمارے علماء قدیم زمانے سے ان کے اس استدلال کا رد کرتے آئے ہیں…

اس کے جواب کے لیے چاہے ہم امام شاطبیؒ کے اصول کو بنیاد بنائیں جو کہتے ہیں کہ عینی واقعات نص کو بے اثر کردینے کے لیے بنیاد ہی نہیں بنائے جاتے؛ کیونکہ نص اپنی دلالت میں کہیں زیادہ قوی اور محکم ہوتی ہے۔ ایک واقعہ اپنے آپ میں صحیح ہوتا ہے لیکن نص کے مقابلے میں وہ قاعدہ دینے کے لیے بنیاد نہیں بنایا جاتا … اور چاہے امام ابن تیمیہؒ کے جواب کو بنیاد بنایا جائے(۱۴) اور وہ یہ کہ: ادائے شہادتین کو دنیوی امور سے متعلقہ فوری اجرائے احکام کیلئے تو ایک کافی بنیاد مانا جائیگا، جبکہ ‘‘آزاد کرنا’’ دنیوی احکام میں ہی آتا ہے، تاہم ایمان کے ثبوت کیلئے یہ کافی نہیں…

اصل قضیہ ایک ہے، اور وہ یہ کہ جو شخص آپ کے سامنے لاالٰہ الا اللہ کی شہادت دےرہا ہے اس کی بابت لازماً یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ اُس نے مطالباتِ لا الٰہ الا اللہ کا پابند ہونا اختیار کرلیا ہے، اور موقع پر تو اس کے سوا کوئی اور چیز فرض کی ہی نہیں جاتی، کیونکہ یہ ضروریات دین (معلوم من الدین بالضرورۃ) میں سے ہے، اور چونکہ ہم نے اس کی بابت فرض کرلیا ہے کہ آج سے وہ اسلام کا پابند ہے، تو اس لیے آج سے اس کو اسلام کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل ہوگیا ہے؛ یعنی اُس ضمنی پیمان کے موجب جو اُس کے لاالٰہ الا اللہ بول دینے سے آپ سے آپ لازم آگیا ہے۔ ہاں اب اگر وہ اِس پابندی سے پھر جاتا ہے، اور پابندی کی وہ کم از کم سطح بھی برقرار نہیں رکھتا جوکہ ہرکلمہ گو سے لازماً طلب کی جاتی ہے، تو تب اگرچہ وہ زبان سے لا الٰہ الا اللہ کہتا ہو وہ اسلام سے مرتد قرار پائے گا اور اس پر یہ حکم لگ جانے سے اُس کو یہ چیز بھی نہیں بچائے گی کہ وہ کہے ‘مجھے پتہ نہیں تھا’!

*****

نیز مرجئہ اس حدیث سے حجت پکڑتے ہیں: من قال لا إله إلا الله دخل الجنة ‘‘جس نے کہہ دیا لا الٰہ الا اللہ وہ جنت میں جائے گا’’، یا اسی معنیٰ کی کچھ احادیث۔

ان احادیث کے حوالے سے یہ وضاحت تو غیرضروری ہے کہ یہ نصوص اُس وقت کہی گئیں جب اسلام کا آغاز تھا اور فرائض ابھی نازل نہیں ہوئے تھے؛ اگرچہ بعض علماء نے ان احادیث کی یہی توجیہ کی ہے…

(یہاں بعض علماء کے اقوال سے استشہاد ہے، جس کے لیے کتاب سے رجوع کیا جاسکتا ہے)

ہاں یہ بنیادی حقائق بیان کردینے کے بعد ہم یہ کہیں گے: خدا کا وہ فضل و بخشش اپنی جگہ جو کسی چیز کا پابند نہیں۔ آخر وہ وقت آئے گا جب وہ دوزخ سے ایسے شخص تک کو نکال لے گا جو لاالٰہ الا اللہ کہتا تھا اور اس کے دل میں ذرہ بھر خیر موجود تھی؛ اور یہ خالصتاً خدا کی مرضی اور اختیار ہے۔ کوئی گناہگار ابتدا میں بخشا جائے گا، کوئی عذاب بھگت کر نکلے گا اور تب جنت میں داخل ہوگا، خاص اللہ کے فضل سے، نیز رسول اللہﷺ کی شفاعت سے، جن لوگوں کے حق میں آپؐ شفاعت فرمانا پسند کریں۔ مگر کیا یہ وہ چیز ہے جس کو معیار بنا کر آدمی آخرت کی تیاری کرے؟!

شفاعت تو دراصل اللہ کے فضل اور رحمت کی ایک صورت ہے، اور ہمیں اس کی خبر دی گئی ہے تو اس لیے کہ ہم کسی حال میں بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجائیں… مگر اس سے مرجئہ کا بتایا ہوا وہ اسلام کب سے ثابت ہوگیا جس میں نہ فرائض ہیں اور نہ ذمہ داریاں، نہ حدود اور نہ قیود؟

یہ ہے دراصل مرجئہ کا دیا ہوا تصورِ اسلام:

» دنیا میں: غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيل. وہ خس وخاشاک جسے قومیں اپنے پاؤں تلے روندتی پھریں اور مرجئہ پھر بھی اِنہیں تسلیاں دلائیں کہ تمہارا ایمان تو بالکل صحیح ہے!

» اور آخرت میں: وہ درجہ جہاں ‘آخر تو ایک دن دوزخ سے نکل آئیں گے’!

ذرا تصور کریں اگر پورا معاشرہ مرجئہ کے دیے ہوئے تصورِ ایمان پر قائم ہو! پورا معاشرہ اپاہجوں پر مشتمل! مرجئہ کے تصورِ دین پر قائم معاشرہ کیا دشمنانِ اسلام کا ایک بھی وحشیانہ تھپیڑا سہ سکے گا؟!

یقیناً یہ برحق ہے کہ ایک تناور درخت پر بھی کچھ پتے ایسے ہوتے ہیں جو زرد اور مرجھا چکے ہوں۔ بعض شاخیں تک ایسی ہوسکتی ہیں جو خشک اور بے جان ہوں، اس کے باجود وہ درخت اپنا بہترین پھل اور بہترین سایہ دے رہا ہوتا ہے۔ لیکن اس درخت کے بارے میں آپ کیا کہیں گے جس کا ہر پتہ اور ہر شاخ اِس فکر میں ہو کہ وہ اپنے صحیح سلامت ہونے کی دلیل اس بات سے دے کہ وہ اس سوکھے بوسیدہ درخت کے ساتھ لٹک تو رہا ہے! کیا ایسے درخت کو موت اور فنا سے کوئی چیز بچاسکتی ہے؟

*****

البتہ ہمارا اصل سروکار اُس پیشرفت سے ہے جو مرجئہ جدید کے ہاتھوں انجام پائی!

(جاری ہے)

(۱۴) شاطبیؒ و ابن تیمیہؒ کے اقوال کتاب میں ملاحظہ ملاحظہ فرمائیے۔
Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز