عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Tuesday, September 24,2019 | 1441, مُحَرَّم 24
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2010-10 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
روحِ محمد (ﷺ) اِس کے بدن سے نکال دو!
:عنوان

:کیٹیگری
ادارہ :مصنف

 
لطائف
روحِ محمد (ﷺ) اِس کے بدن سے نکال دو!
ڈاکٹر محمود احمد غازی

 
چچ نامے میں لکھا ہے کہ محمد بن قاسم کے آنے سے پہلے ہندوستان کا جو حکمران تھا، اس کو کسی نجومی نے مشورہ دیا کہ تم فلاں لغواور غیر اخلاقی حرکت کرو تو بادشاہت پر قائم رہو گے۔ پرانی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ جو شخص فلاں غیر اخلاقی حرکت کرے گا وہ بادشاہت حاصل کرے گا۔ یہاں نجومی نے بادشاہ کو ایک بہت مکروہ اخلاقی حرکت کا سبق دیا کہ تم اگر یہ حرکت کر گذرو گے تو تمہاری حکومت قائم رہے گی۔ بادشاہ نے کہا کہ یہ تو بڑا مشکل کام ہے۔ میں اگر ایسی حرکت کروں گا تو لوگ کیا کہیں گے۔ نجومی یا وزیر نے جواباً کہا کہ لوگ کچھ نہیں کہیں گے۔ لیکن بادشاہ کو تامل تھا ۔ اس نے کہا کہ نہیں لوگ بہت سخت ردعمل کا اظہار کریں گے۔ کہا گیا کہ اچھا ایک دن انتظار کریں۔ مشورہ دینے والے وزیر بدھیمن نے ایک بھیڑ منگوائی جس کے بال بہت بڑے بڑے تھے۔ اس کے بالوں میں ایک خاص مصالحہ لگایا جس سے بال بہت لمبے ہو گئے اور اس کی کمر ہاتھی کے سائز کی ہو گئی۔ بادشاہ سے کہا گیا کہ اس بھیڑ کو شہر میں لوگوں کو دکھانے کے لیے نکالیں۔ چنانچہ اس عجیب و غریب بھیڑ کو دیکھنے کے لیے پورا شہر امڈ آیا۔ سارے شہر میں ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ پورے شہر میں چرچا ہو گیا کہ ایک عجیب طرح کی بھیڑ آئی ہے جو ہاتھی کے سائز کی ہے۔ تمام دن سب لوگ اسی موضوع پر بات کرتے رہے۔ شہر میں اور کوئی کام نہیں ہوا۔ بازار بند ہو گئے۔ دوسرے دن پھر بھیڑکو شہر کی گلیوں میں پھرانے کے لیے نکالا تو آدھے لوگ آئے۔ تیسرے دن کوئی نہیں آیا۔ جس وزیر نے یہ مشورہ دیا تھا اس کا نام بدھیمن تھا۔ بدھیمن نے کہا کہ آپ کے ساتھ بھی یہی ہو گا۔ پہلے دن لوگ بہت تذکرہ کریں گے۔ دوسرے دن تھوڑا سا ذکر کریں گے۔ تیسرے دن کچھ نہیں کہیں گے۔
شاید اہلِ مغرب نے بدھیمن نجومی کا مشورہ پڑھا ہوا ہے۔ وہ وقتاً فوقتاً اس طرح کی بھیڑیں نکالتے رہتے ہیں۔ توہینِ رسالت کے جو واقعات وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں یہ کوئی اتفاقی واقعات نہیں۔ یہ واقعات بڑے غور و خوض اور سوچ سمجھ کر کیے جاتے ہیں۔ جو قومیں دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔ جو دنیا کی رگ رگ سے واقف ہیں۔ جو مسلمانوں کے اندونی احساسات کا پتہ چلانے کے لیے ادارے بناتے ہیں۔ اس کام پر کروڑوں روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے آئندہ عزائم کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں۔ ان کو یہ ضرور معلوم ہو گاکہ ذاتِ رسالتِ مآب کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہے۔ اس طرح کے واقعات جب ایک ایک کرکے پیش آتے جائیں گے تو جو مسلمانوں کے اندر کے جذبات ہیں وہ نکلتے جائیں گے۔ایک مرحلہ خدانخواستہ ایسا آسکتا ہے اور ان کا اندازہ یہی ہے کہ ایسا مرحلہ آنے والا ہے کہ توہینِ رسالت کا ارتکاب ہو اور مسلمان کسی ردعمل کا اظہار نہ کریں۔ جب وہ مرحلہ خدانخواستہ آجائے تو پھر وہ اگلے مرحلے کا آغاز کریں گے جس میں اس وابستگی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے جو اقدامات انہوں نے سوچ رکھے ہیں وہ کریں گے۔
اس سب کے ساتھ ساتھ گزشتہ دو سو برس سے یہ کام بھی ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کی توجہات کو ایسے غیر عملی مسائل میں اُلجھا دیا جائے جو مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم بھی کرتے رہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی قوتِ عمل کو بھی ختم کرتے رہیں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ سیرت کے بارے میں بعض ایسے سوالات جو مسلمانوں میں کبھی نہیں اُٹھے تھے۔ انیسویں صدی میں اٹھے۔ آخر انیسویں صدی میں کیا نئی بات ہوئی تھی۔ انیسویں صدی ہی میں وہ مسائل کیوں اٹھائے گئے۔ وجہ صرف ایک ہی سمجھ میں آتی ہے۔ یہ مسائل مسلمانوں میں اس لیے اٹھ سکے کہ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی حاکم ہو گئی تھی۔ اس لیے اُٹھے کہ ہندوؤں میں سے بہت سے طبقات کو انگریزیوں نے کھڑا کرکے اس کام پر مامور کر دیا تھا کہ مسلمانوں کے عقائد پر حملے کریں۔ یہ آریہ سماجی اور برہمو سماجی از خود تو کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ یہ کسی خاص ہدف کی خاطر کھڑے کردیے گئے تھے۔ یہ مسلمانوں پر حملے کرنے پر انیسویں ہی میں کیوں آمادہ ہوئے۔ اس لیے کہ کسی نے ان کو آمادہ کیا تھا ورنہ یہ حملے بہت پہلے بھی ہوسکتے تھے ۔ مسلمانوں پر دورِ زوال کئی بار آیا۔ برصغیر میں کئی بار مسلمان سیاسی طور پر کمزور ہوئے اور کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ مسلمانوں کی حکومت یہاں ختم ہوتے ہوتے رہ گئی ۔ لیکن کبھی اس طرح کی تحریکات اور اعتراضات نہیں اُٹھائے گئے جو انگریزوں کے آنے کے بعد اٹھائے گئے ۔ اس لیے قوی امکان یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب واقعات اور مظاہر ایک منصوبے کا حصّہ تھے جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی وابستگی کمزور کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
(از محاضراتِ سیرت۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی، ص 723-725 )
 
Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز