عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, December 7,2019 | 1441, رَبيع الثاني 9
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Muslim_Hasti آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
سماجی جہتیں : سَلَفیت ہر پہلو سے قدیم ہونا نہیں !
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

سَلَفیت ہر پہلو سے قدیم ہونا نہیں !

سماجی جہتیں

 

 

”عصریت“ اس شخصیت کی ایک اور اہم جہت ہے....

اپنے دور کے ساتھ ایک مؤثر، زوردار، صحت مند، با مقصد اور پیدآور تفاعل an effectual, dynamic, healthy, purposeful and prolific interaction کرنا ”مسلم شخصیت“ کا ایک نہایت اہم وصف بھی ہے اور زمین پر اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کے لئے اِس کی ایک بنیادی ترین ضرورت بھی ....

یہ ایک ایسی ڈائنامک شخصیت ہے جو اپنے زمانے کو بہت کچھ دے رہی ہوتی ہے تو بیک وقت بہت کچھ اس سے لے رہی ہوتی ہے۔ بہت کچھ اِس کے پاس زمانے کو دینے کیلئے ہوتا ہے اور بہت کچھ زمانے سے لینے کیلئے.... کہ اِس ’لین اور دین‘ transaction کیلئے یہ ایک ایسی زبردست صالح بنیاد اپنے پاس رکھتی ہے، جوکہ ِاس کو انسانی دنیا کا نہایت منفرد واقعہ بناد ے، بلکہ تو رشکِ خلائق۔

اِس کے لئے ’عقیدہ‘ اور ’حقائقِ دین‘ جس چیز کا نام ہے وہ وہ نہیں جو اِس کو زمانے سے ’غائب‘ کردے اور ’ماضی‘ میں کہیں روپوش کرادے، چاہے وہ ماضی اِس کے لئے کتنا ہی درخشاں کیوں نہ ہو اور بے شک وہ دور سلف کا دور کیوں نہ ہو۔’عقیدہ‘ اور ’حقائقِ دین‘ اس کے لئے جس چیز کا نام ہے وہ وہ ہے جو اِ س کو اس زمین کے اندر بھی ایک زبردست بلکہ تو مرکزی ترین کردار ادا کرنے کے قابل بنائے اور آخرت کے لامتناہی جہان میں بھی بہترین مرتبہ ومقام دلوائے۔ یہ عقیدہ اس کو دو جہان کی سرخروئی و سروَری دلانے آیا ہے، اور یہ ”حیاتِ طیبہ“ جو اِ س کو اپنے اِس عقیدہ پر آنے سے دستیاب ہوتی ہے یہاں سے شروع ہوتی ہے اور آخرت تک پہنچتی ہے....

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ(1)

’عقیدہ سے وجود پایا ہونا‘ اِس کیلئے ایک ایسی اہلیت کا نام بھی ہے جس سے یہ زمانے کو نہایت صالح اشیاءاور رجحانات دے سکے اور جس سے یہ زمانے کی دنیا و آخرت، ہر دو امر میں ، زمانے کے لئے نہایت مفید اور کارآمد ہستی ثابت ہو.... جبکہ وہ بہت کچھ جو زمانے کے انسان کے پاس پایا گیا ہو، خصوصا وہ علوم اور فنون اور وہ سب صلاحیتیں اور قابلیتیں جو انسانی عقل و شعور کی نشو ونما میں مددگار اور انسانی بہبود کے معاملہ میں کار آمد ہوں ، ان صلاحیتوں اور قابلیتوں کو یہ اپنی متاعِ گم شدہ جانے....

جس کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اِس کا عقیدہ اِس کو ایک ایسی وسیع و دور رس ’نظر‘ دے چکا ہو جس سے یہ اپنے ماحول اور اپنی دنیا کے ساتھ اس ’صحت مند تبادلۂ اشیاء‘ پر پوری پوری قدرت پائے.... ’عقیدہ‘ اس کو وہ گہری بصیرت عطا کرچکا ہو جس کی بدولت وہ سب ’چینل‘ اس کی نظر میں ہوں جو اپنے اور زمانے کے مابین اس کو لازماً کھلے رکھنے ہیں اور جن کا ’بند‘ کیا جانا اِس کے اور زمانے کے، ہر دو کے مفاد میں نہیں ۔ کیونکہ اِن کے بند ہونے سے ’مسلمان‘ اور ’زمانے‘ کا وہ تفاعل دھیما پڑتا ہے جس کا جاری رہنا زمین پر زندگی کی بقاءکے لئے حد درجہ لازم ہے۔ بلکہ ان کا بند ہونا اس قدر نقصان دہ ہے کہ مسلمان زمانے میں رہتے ہوئے بلکہ کروڑوں میں ہوتے ہوئے ’غائب‘ ہوتا ہے!

وہ کیسی عجیب دنیا ہے جس میں مسلمان صرف ’مسجدوں ‘، ’مدرسوں ‘ اور ’کانفرنسوں ‘ و ’پروگراموں ‘ میں ہی ’سنائی‘ دے رہا ہو، اور وہ بھی بڑی حد تک ’مذہبی‘ معنوں میں ہی یا پھر اپنے خلاف دنیا کی زیادتیوں پر ’احتجاج‘ کرنے اور زیادہ ہوا تو قتال کی صدا بلند کرنے کے لئے ہی.... جبکہ وقت کے ’معاشرے‘ اور ’سماجی دھارے‘، اس ’مسلم آواز‘ کے معاملہ میں آخری حد تک سنسان نظر آتے ہوں !

بلکہ.... یہ کہ وقت کے ’سماجی دھاروں ‘ اور ’معاشرتی رجحانوں ‘ کے اندر ’مسلمان‘ بھی بولے، وہ اہلیت ہی یہ بہت عرصہ سے کھو چکا ہو!

بلکہ یہ ’سماجی دھارے‘ اور زمانے کے یہ ’فکری و نظریاتی فیشن‘ ہیں کیا بلا، اور یہ وجود میں آتے کیسے ہیں ، اور یہ ایک بے قابو طوفان کی صورت دھار کیسے لیتے ہیں ، اور ایسے طوفان اس کے گلی محلوں میں وہ ’غیر‘ ہی کیوں اٹھا جاتے ہیں آخر خود یہ اپنی دنیا میں ویسا ایک صالح طوفان کیوں نہیں اٹھا پاتا، جیسا کہ اپنی تاریخ کی ابتدا میں اِس نے اپنی تہذیبی صلاحیت سے کام لے کر عالم میں ایک زورآور ترین طوفان برپا کیا بھی تھا، اور جس کی بدولت مکہ کے ایامِ محکومی میں بھی یہ ذہنوں اور دلوں پر چھا جانے اور عقول کو مفتوح کرلینے والی ایک دل کش حقیقت بن گیا تھا؟.... سب سے پہلے تو یہی اِس پر واضح نہ ہو، اور یہ بدیسی تہذیبوں کے ایک کے بعد ایک اٹھنے والے جھکڑ کے آگے اپنے گھر کے کواڑ ہی اٹھ کر بار بار بند کرنے کے سوا، اس مسئلہ کا کوئی ’حل‘ نہ پاتا ہو!

اس طرزِ تفکیر کے نتیجے میں اِس کے اِس معرکۂ خیر وشر کا خود بخود یہ نقشہ بنے گا، بلکہ نیکی کا یہ اعلیٰ تصور جانا جائے گا، کہ دنیا ہمیشہ ’عمل‘ کرے گی اور یہ ہمیشہ اس سے اپنا ’بچاؤ‘! یہ ’بچ‘ جائے تو یہ ’جیتا‘ اور دنیا کا کوئی وار چل جائے، اِس پر نہیں تو اس کے بھائی بندوں پر، بیٹوں پر نہیں تو پوتوں پوتیوں پر، اور وار تو وار ہے خالی جاتا ہے تو کبھی چل بھی جاتا ہے، اور ہوتا تو بہر حال یہ ’چلنے‘ ہی کے لئے ہے، تو یہ دنیا کی جیت ہوئی!.... یعنی ایک ایسی تہذیبی جنگ جس میں وار چلے تو دنیا کا نہ چلے تو دنیا کا، اور جس میں ’بچ رہنا‘ ہی اپنے حق میں کامیابی و سرخروئی کا پیمانہ ہو!!!

کیا ایک ایسی تہذیبی جنگ بھی ہمیں دیکھنا تھی جس میں مسلمان صرف ’بچتا‘ پھر رہا ہو!.... ”مسلمان“ جو تہذیبوں کا خالق رہا ہے، قلوب کا فاتح، عقول کو مغلوب اور مقہور کر رکھنے والا، شعور کو غذا دینے والا اور فطرت سے خطاب کرنے والا!!!

اور جب کہ معاملہ یہ ہو کہ جس جنگ میں ہم یوں ’قلعہ بند‘ ہو کر لڑنے کی تدبیر پر عمل پیرا ہوں وہ جنگ ہو ہی ہمارا اصل میدان نہ کہ ’اُن‘ کایا حتی کہ دنیا کی کسی بھی اور قوم کا! یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہمارے ہزار سال شاہد ہیں اور جس کا نظارہ دنیا کو ہم نے تاتاریوں سے ہار جانے کے باوجود کرایا اور صلیبیوں سے شکست پر شکست کھاتے چلے جانے کے باوجود اپنی تہذیبی برتری کی اس جہت کو ہم پھر بھی نمایاں کرکے رہے تھے....

٭٭٭٭٭

پھر مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ یہ جو آسمانی ہدایت سے محروم دنیا ہے، ہم اس کے کسی ’وار‘ سے آیا بچ پاتے ہیں یا نہیں ۔ یہ اس معاملہ کی صرف ایک جہت ہے نہ کہ کل جہت۔ درست ہے کہ بعض جہتوں سے یہ ہم پر ’وار‘ بھی کرتی ہے اور کرے گی، کہ یہ اصل ہدایت سے تہی دست ہے، مگر کئی فنکشن اس ’دنیا‘ کے ابھی اور بھی ہیں جن کا ہم پر روپوش رہنا درست نہ ہوگا۔

عقل اور دانش دراصل پوری انسانیت کے اندر بکھیر دی گئی ہے اور ہر ابن آدم کو ہی اس سے کچھ حصہ دیا گیا ہے۔ پھر اس کی ترقی و افزودگی انسانی جہد کا نتیجہ بنا دی گئی ہے جس کے اندر کافر کیا مسلمان، ہر قوم ہر معاشرہ اور ہر قبیلہ اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ انسان زمین پر اپنے اس عمرانی سفر میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور اس کو ’روک‘ دینا اسلام کا تقاضا نہیں بلکہ اسلام کا تقاضا ہے تو وہ صرف یہ کہ یہ عالمِ انسان کی اس تہذیبی پیش رفت کو اپنے ڈھب پر لے آئے اور اس کی ’جہت‘ پر اثرانداز ہونے کے لئے اس امت کو ایک صالح سرگرمی سونپے....

.... اور یہیں سے زمین میں اسلامی کردار کی ایک زبر دست فکری اور ثقافتی جہت تشکیل پاتی ہے اور دنیا کے ساتھ اس کے رشتہ کی ایک منفرد ترین نوعیت بھی۔

چنانچہ ایک خاص معنیٰ میں زمین پر انسانی سفر کو آگے بڑھانے اور اس کے ہر ہر موڑ کو حد درجہ دل چسپ بنانے کے لئے، بے شمار پہلوؤں سے، پوری دنیا کی عقول اور قوائے دانش ہی کو ایک ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ انسانیت کے اس مجموعی سفر میں صرف صالحین کو ہی نہیں پایا جانا، ورنہ یہ فرشتوں کا جہان ہوتا جس میں حق کے سوا کسی چیز کی گنجائش ہی نہیں ۔ اس میں صرف بدکاروں کو بھی نہیں پایا جانا، ورنہ یہ شیاطین کا جہان ہوتا جس میں حق نام کو نہ ہونا چاہیے۔ یہ انسان کا جہان ہے، جس میں کردار ہر ایک کو ادا کرنا ہے اور لازما ادا کرنا ہے، البتہ اس کی مجموعی جہت پر حاوی ہونے کے لئے ہر ایک کو زور لگانے کی بھی کھلی دعوت ہے اور ہر ایک کو ہی اپنے انسانی قویٰ اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے نتیجہ میں __ کچھ خاص حدود کا پابند رہتے ہوئے __ کامیابی کی امید دلائی گئی ہے۔ البتہ اس کشمکش کا اصل میدان انسانی عقل ہے اور انسانی سماج اور انسانی رویے اور انسانی رجحانات اور انسانی نشاط کے کثیر النوع مظاہر۔

٭٭٭٭٭

یقینا اس کشمکش کے ’نتائج‘ پر اثرانداز ہونے کے معاملہ میں ’دھونس‘ بھی میدان میں آجاتی ہے اور یہ انسانی سرشت کا حصہ ہے جبکہ انسان ہدایت سے دور ہو، إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا(2).... اور بے ہدایت و بے قاعدہ انسان کی اس سرکشی اور طغیانی کے پیش نظر جوکہ ہر حد سے گزر جانا اپنے لئے روا جانتی ہے اور اگر اس کو نکیل ڈال رکھنے میں سستی ہو جائے تو کسی وقت یہ دنیا کے اندر ایک بڑی ہڑبونگ کا سبب بنتی ہے.... شریعت نے امتِ اسلام کے لئے بلاشبہہ قتال بھی مشروع ٹھہرا دیا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کا حکم باقی رکھا ہے، اس لئے کہ اکثر یہ کشمکش عقل اور فطرت اور حجت کے دائرہ سے نکل کر دھونس اور زبردستی اور سرکشی کا رخ دھار لیتی ہے اور اس لئے کہ لاتوں کے بھوت بھی بہرحال اسی دنیا میں پائے جاتے ہیں جن کے لئے باتوں کی زبان لایعنی ہوتی ہے اور کسی وقت تو ’لغو‘ کے درجے میں شمار ہوسکتی ہے، اور ایسے سرکشوں کے باعث دنیا کو اس کا کھویا ہوا توازن واپس دلانے کے لئے زور اور قوت کا استعمال کرنا بجا طور پر صالحین کا فرض ہوجاتا ہے، جیسا کہ ایک بہت بڑی سطح پر آج اس وقت فرض ہو بھی چکا ہے اور بڑی دیر سے خدا ترس وحق پرست مجاہدین کا منتظر: وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (3) ....

جبکہ شریعت، انسانی حقائق اور انسانی وقائع کے ساتھ ایک ٹھیک ٹھیک معاملہ کرانے کے لئے آئی ہے نہ کہ اپنے پیروکاروں کو ’بھینس کے آگے بین بجانے‘ ایسے غیر فطری رویوں کا مکلف ٹھہرانے اور نہ ان کو اس بات کا پابند کرنے کہ ہر قسم کے عدوان پر مُصِر اور ہر حد سے تجاوز کرجانے پر بضد بد طینت شیاطین کو ہمیشہ یہ الفاظ ہی کے سُر سنایا کریں اور طاقت کے نشہ میں دھت باطل کو جو حق اور اہل حق کو تہس نہس کردینے کے سوا کسی اور سرگرمی سے واقف ہی نہ رہ گیا ہو، اس سے بڑھ کر کوئی ’اذیت‘ دینے کے روادار نہ ہوں کہ ’اخلاق‘ کی اپیلوں سے ہی اس کی سمع خراشی ہو تو ہو اور امن و چین کے ’فضائل‘ سے ہی یہ اس کی راحت میں کبھی مخل ہوسکیں تو ہوں ....!!!

اب چونکہ ”قتال“ بھی اس مسئلے کی باقاعدہ ایک جہت بن جاتی ہے، اور یہ ایک برحق جہت ہے، یہی وجہ ہے کہ قیامت تک اس کا باقی رہنا اصول اہلسنت میں باقاعدہ طور پر شامل ہے، کہ اس امت کا عالمی کردار قیامت تک کے لئے باقی ہے، یوں قتال کو منسوخ یا اس کو زمانۂ نبوت کے ساتھ خاص ٹھہرانے والے اہلِ اھواءہو سکتے ہیں نہ کہ اہل سنت.... لہٰذا یہ جہت بھی اختصار کے ساتھ مذکور ہوجانا یہیں ضروری تھا۔

٭٭٭٭٭

تاہم یہ واضح ہے کہ مسئلے کی خاص یہ جہت __ یعنی قتال __ معاملے کو ایک خاص معمول پر لانے اور رکھنے کے لئے ہے۔ البتہ خود یہ ’معمول‘ ہے کیا اور اس کے اندر ’کام‘ کرنے اور ’سرگرم‘ ہونے اور رہنے کے کیا تقاضے ہیں ؟؟؟ یعنی اس عمومی معنیٰ میں ، انسانی زندگی پر اثر انداز ہونے کے کیا طریقے اور کیا صورتیں اور کیا ذریعے ہوسکتے ہیں ؟؟؟ اصل سوال اس بحث میں فی الوقت یہ ہے اور ہماری اس حالیہ گفتگو کا موضوع بھی درحقیقت یہ ہے۔

اس سوال کے جواب میں شاید آپ کہیں کہ جہاں اور جب قتال ضروری نہ ہو یا ضروری تو ہو مگر ممکن نہ ہو، وہاں ’دعوت‘ کے ذریعے انسانی زندگی پر اثر انداز ہوا جائے گا۔ ایک لحاظ سے یہ جواب درست ہے۔ مگر اس کا ابہام حد سے زیادہے۔ عام مفہوم میں ’دعوت‘ جس چیز کا نام ہے وہ ایک میکانکی سے انداز میں ’عقیدے کی کچھ عبارتیں ‘ تبدیل کروانے سے عبارت ہے یا کچھ مخصوص ’اعمال‘ کروالینے یا کچھ ’امتیازی مسائل‘ منوا لینے سے، اس سے ”زندگی کا دھارا“ بھلا کیونکر تبدیل ہونے لگا!!!!!؟؟؟؟؟

’دعوت‘ دراصل ایک بہت وسیع معنیٰ کی حامل اصطلاح ہے۔ ابھی جس چیز کو ہم نے ’انسانی زندگی پر اثر انداز ہونا‘ کہا ہے یہ ہی تو اصل میں ’دعوت‘ ہے، نہ کہ لوگوں کو چند ’اعتقادات‘کا قائل کروا لینا یا ان سے چند ’اعمال‘ کروانے لگنا، جوکہ ’دعوت‘ کا ایک بے حد ناقص اور محدود مفہوم ہے اور جس کا ذہنوں کے اندر سکڑ جانا، ہم جانتے ہیں ، بہت سے تاریخی عوامل کا مرہونِ منت ہے، خصوصاً دعوتِ انبیاءکی حقیقت کا ایک بڑی سطح پر ذہنوں سے اوجھل ہوجانا۔ چنانچہ ’انسانی زندگی پر اثرانداز ہونا‘ ہی درحقیقت ”دعوت“ ہے، حتی کہ ’قتال‘ تک اسی کے مراحل میں سے ایک ’مرحلہ‘ یا ایک ’صورت‘ ہوسکتی ہے، لہٰذا دعوت اس عمل کا ’ذریعہ‘ نہیں ، کیونکہ خود اِس عمل ہی کا دوسرا نام دعوت ہے، پس لامحالہ ہمیں ان ذریعوں medias کا تعین کرنا ہوگا جو اس ’عمل‘ کو انجام دینے کے لئے ہمیں دراصل درکار ہوں گے....

جیسا کہ ہم کہہ آئے ہیں اس عمل کا اصل میدان __ قلوب کے علاوہ __ انسانی عقل ہے اور انسانی سماج اور انسانی رویے اور انسانی رجحانات اور انسانی نشاط کے کثیر النوع مظاہر(4)۔ آپ کی اصل اہلیت اور اصل صلاحیت درحقیقت یہاں دیکھی جائے گی کہ اس کو آپ کہاں تک متاثر کرسکتے ہیں ، اس کو دینے کے لئے آپ کے پاس کیا ہے اور اس سے کچھ لے سکنے کی آپ کے پاس کیا صورت؟ اور یہاں پر انسانی عقول کے ثمرات کا جو ایک تبادلہ trade ہوتا ہے، اور جوکہ دنیا کے اندر کسی وقت رکنے میں نہیں آتا، اس میں آپ خاص اپنے ’اصولوں ‘ سے کام لے کر کہاں تک پورا اتر سکتے ہیں ؟

رسول اللہ ﷺ نے جو تحریک کھڑی کی تھی یقینا اس میں ’دعوت‘ بھی تھی اور ’قتال‘ بھی، ’ہجرت‘ بھی اور ’جہاد‘ بھی اور ’نظام‘ بھی اور ’حکومت‘ بھی.... مگر درحقیقت اس کے اندر جو روح تھی وہ اس کی وہ اہلیت تھی جو ’قلوب اور عقول کو متاثر کر لینے‘ اور پھر خصوصاً ’قلوب اور عقول کو کرنے کا بہت سا کام دے سکنے‘ سے عبارت ہے اور زمانے کے ساتھ ایک نہایت عمدہ تفاعل کر لینے اور __ ایک بہترین بنیاد پر آکر __ماحول کو بہت کچھ دینے اور پھر ماحول سے بہت کچھ ’نکلوا‘ لینے کی نہایت صالح اور پیدآور صلاحیت پارکھنے سے۔

سچ تو یہ ہے کہ ’قیادت‘ کی آپ تعریف کرنا چاہیں تو وہ بھی یہی بنتی ہے۔ ہماری اصطلاح میں اس کو ’امامت‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے یہ اَبعاد diamensions ہم پر واضح ہوجائیں تو ’دنیا کی امامت‘ بلا شبہہ ہمارا ہی منصب ہے، کیونکہ دنیا کی سب اقوام واجناس کے ذہن وخرد کے ساتھ بہترین بنیاد پر ایک تبادلۂ ثمرات trade of fruits کرلینا اور اس عمل کی بہترین نسبت تناسب کا پتہ رکھنا ہمارے ہی لئے ممکن ہے ، اور یہ نعمت درحقیقت ہمارے ہی عقیدے کی دین ہے۔

یقینا کسی تہذیب کی پیش قدمی کے دوران ہر قسم کی صورتحال پیش آتی ہے اور ایسے ہر ہر مرحلے سے ہمت و پامردی اور دانشمندی کے ساتھ گزرنا اس سے بلا شبہہ مطلوب ہوتا ہے، وہ امن ہو یا جنگ، ہجرت ہو یا قتال، حکومت ہو یا استضعاف سب کچھ ’حالات‘ اور ’صورتحال‘ سے متعلق ہے.... البتہ یہ تعین کر رکھنا بے حد ضروری ہے، اور یہی ہماری اس گفتگو کا مقصد بھی، کہ تہذیب کا اصل میدان ہے یہی، یعنی انسانی عقل وادراک، انسانی شعور، سماجی رجحانات اور بنی نوع انسان کا عمرانی نشاط۔ یہ بہرحال واضح رہنا چاہیے کہ آپ کے عمل کا اصل میدان یہی ہوگااور کچھ کر دکھانے کا اصل چیلنج بھی آپ کو یہیں درپیش ہوگا۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ قتال و ہجرت و جہاد وغیرہ، بصورتِ کامیابی، آپ کو جو چیز فراہم کریں گے وہ عمل کا یہ ’میدان‘ ہی ہے اور آپ کا اصل امتحان ہونا ہے تو پھر بھی یہیں پر ہونا ہے!

یہی وجہ ہے کہ اس میدان کا ہی اصل تعین نہ ہو تو تیر و شمشیر کی جنگ میں جیت جانے کے باوجود اس میدان میں آپ پھر ہار جاتے ہیں جیسا کہ مغلوب مسلمانوں کے مقابلے میں غالب تاتاریوں کے ساتھ ہوا، اور یونانی مفتوحین کے مقابلے میں رومی فاتحین کے ساتھ ہوا تھا۔

٭٭٭٭٭

ان چند جملہ ہائے معترضہ کے بعد ہم وہیں پر واپس آجاتے ہیں ....

انسان کا عمرانی سفر ہر دور میں کچھ خاص عوامل کے زیر اثر ایک نیا موڑ کاٹ رہا ہوتا ہے، جن سے آپ لاتعلق رہیں گے تو اس کی قیمت آپ کو اور آپ کی نسلوں کو ’پسماندگی‘ اور ’ناتوانی‘ کی صورت میں دینا پڑے گی۔

بنی نوع انسان کی سماجی صلاحیتیں ہر لمحے کچھ نہ کچھ پیدا کررہی ہوتی ہیں ۔ ہر ایک اس میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ البتہ ایک اجتماعی معنیٰ میں انسانی عقل ودانش کا یہ رس اور یہ نچوڑ پوری انسانیت کی ملکیت ہوتا ہے اور لمحہ بہ لمحہ یہاں معاشروں کی ضرورت رہتا ہے۔ اس سے جو چیز لی جانے والی ہو اس کے لینے میں تاخیر ہوجانا کسی وقت ایک بڑے نقصان کا باعث بنتا ہے اور اس میں تعطل کا آنا ایک بڑے عدم توازن کا پیش خیمہ۔ صرف ’سائنسی ایجادات‘ اور ’الکٹرانکس کے سازوسامان‘ یا ’ہتھیاروں کے حصول‘ کے معاملے میں نہیں ، جیسا کہ ہمارے بعض دیندار طبقے اب کہیں جاکر اس حد تک ’وسیع النظر‘ ہوجانے پر ’آمادہ‘ بھی نظر آتے ہیں ! بلکہ حقیقت یہ ہے کہ علمی وفکری وسماجی پہلوؤں سے بھی یہ ضرورت برقرار رہتی ہے۔ گو یہ سچ ہے کہ ’مادی اشیائ‘ کے معاملہ میں یہ لین دین بہت آسان ہے، اور ’بلیک مارکیٹ‘ بھی ایسے کسی بحران کا ایک حل ہے، البتہ عقلی وفکری و سماجی میدانوں میں یہ ’تبادلۂ مصنوعات‘ بے حد مشکل اور چیلنج کن، کیونکہ اس میں ’لین‘ کے لئے ’دین‘ کی ایک بھاری اہلیت مطلوب ہے بلکہ تو ’لین‘ ہی کے لئے پہلے ایک ’نظر‘ درکار ہے!

پس ہدایت سے تہی دست انسانیت کے ہاں صرف وہی چیز نہیں پائی جاتی جس سے آپ کو ’بچ‘ کر رہنا ہے، جیسا کہ اپنے یہاں پائی جانے والی ایک ’قلعہ بند‘ ذہنیت کے حوالے سے ہم پیچھے کچھ بات کر آئے ہیں ....

اس انسانی دنیا کے ساتھ پورا اترنا ایک کثیر جہت معاملہ ہے۔ بہت پہلوؤں سے آپ کو اس سے بچنا ہے، وگرنہ آپ کی دنیا و آخرت سب جاسکتی ہے۔ بہت پہلوؤں سے آپ کو اس سے خاصا کچھ لینا ہے، وگرنہ آپ بہت پیچھے رہ جائیں گے اور ’زمانے‘کو آوازیں دے دے کر تھک جائیں گے تاآنکہ آپ کو لگے کا کہ یہ ’قیامت کی چال‘ چل گیا ہے، حالانکہ بیٹھے صرف آپ رہے تھے زمانہ تو بس اپنی رفتار چلتا ہے! بہت پہلوؤں سے آپ کو اسے بہت کچھ دینا ہے، وگرنہ آپ اور آپ کے بچے یہاں فکری وسماجی و تہذیبی معنیٰ میں دنیا کی ایک غیر پیدآور non-productive صنف اور ’صارفین‘ کا ایک قابل ترس گروہ a passive segment of consumers ہوکر رہ جائیں گے، اور ’سیلاب‘ کا سب پانی آپ کے گھر آنے لگے گا اور ہر چند سال بعد آپ کو گھر ’اونچے‘ کرانے کی ضرورت درپیش ہوگی اور ایک ایک درز بھی سو سو بار موندنا پڑے گی....!

پس یہ اپنی وہ دنیا ہے جس سے آپ کو بچنا بھی ہے، جس میں آپ کو رہنا بھی ہے، جس سے بہت کچھ آپ کو لینا بھی ہے اور جسے بہت کچھ آپ کو دینا بھی ہے.... اور اس سارے عمل میں آپ کو اس سے ایک اتصال communication تو بہر حال رکھنا ہے۔ اس اتصال کی ایک خاص فریکونسی frequency برابر آپ کی ضرورت رہے گی جس کو ایک پورے تسلسل کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مؤثر tune up کرتے رہنا پڑے گا۔آپ اِسے سمجھیں گے اور اِسے آپ کو سمجھنا ہوگا۔ اپنے دور اور زمانے کو ’سمجھنا‘ زمانے کو اپنی بات ’سمجھانے‘ کیلئے ایک پیشگی شرط رہے گی۔ یہاں یکطرفہ One Way ٹریفک آپ نہیں چلا سکتے! آپ کا زمانہ آپ کو آگے بڑھنے کی راہ دینے کیلئے کیا کیا امکانات اپنی کوکھ میں رکھتا ہے؟ اور کیا کیا امکانات اپنی دانشمندی اور فاعلیت سے کام لے کر خود آپ کو یہاں پیدا کرنا ہیں ؟اور یہ کہ آپ کا یہ دور جیسا ہے ویسا بنا کیسے اور اس کے ایسا بن جانے میں کیا کیا عوامل کارفرما رہے اور ابھی تک کار فرما ہیں ؟ اپنے دور کی ان سب رمزوں کو سمجھنا اور جاننا ’زمانہ فہمی‘ کا ہی ایک باقاعدہ حصہ ہے۔

’آپ کے پاس وحی ہے اور اس سے بڑھ کر کسی کے پاس کیا ہوسکتا ہے‘، یہ بات سو فیصد درست ہونے کے باوجود، اِس امر سے آپ کو کفایت نہیں کرے گی کہ اپنے دور کے اندر خود آپ ہی کا ایک کردار ہو۔ وحی آپ کو یہ کردار ادا کرنے میں ’مدد‘ ضرور دے گی بلکہ وہ ہے ہی آپ کو اس میں مدد دینے کے لئے، مگر ’کردار‘ یہ بہرحال ’آپ‘ ہی کا ہوگا۔

پس یہ وحی تو وحی ہے اور یہ جو ہے ہمیشہ ویسی ہی رہے گی۔ نہ اس میں کسی وقت کوئی کمی آئے گی اور نہ بیشی اور نہ کوئی بھی تبدیلی۔ یہاں کوئی ’تبدیلی‘ آئے گی اور ’زمانے‘ کو کچھ فرق پڑے گا تو وہ ’آپ‘ کے دم سے پڑے گا۔ یعنی آپ وحی اور زمانے کے مابین ایک نقطۂ اتصال بنیں گے۔ پس ایک جانب آپ کو ضرورت ہے کہ ”وحی“ سے آپ کا علمی وفکری وجود جنم پائے، نہ کہ ’محدثاتِ امور‘ سے ۔ دوسری طرف آپ کو ضرورت ہوگی کہ ’سماج‘ سے اتصال کی ایک صحیح ترین فریکونسی تک آپ کو رسائی ہو، نہ یہ کہ زمانے سے کٹے رہنے میں آپ اپنا ’امتیاز‘ دیکھیں ۔نہ اِ س سے کوئی چارہ ہوگا اور نہ اُس سے۔ ہاں یہ سب عوامل اکٹھے ہوں تو زمین پر ایک صالح تہذیب کی پرورش ہونے لگنا یقینی ہے۔

آسمان سے ”وحی“ کی صورت میں ہمارے لئے صرف وہ چیز اتری ہے جو دنیا میں کہیں پائی ہی نہیں جاسکتی اور جس تک دنیا کے کسی بڑے سے بڑے نابغہ اور کسی عظیم سے عظیم عبقری کی رسائی نہیں ۔ البتہ وہ بہت کچھ بلکہ سب کچھ جس کی پیداوار اس زمین پر ہوتی ہے اور وہ اپنے وجود میں آنے کے لئے انسانی عقل وخرد ہی کے راستے چاہتی ہے وہ سب کچھ ہمیں یہیں زمین پر ہی تلاش کرنا ہے....

اور تو اور، مقاصدِ شریعت کا فہم و استیعاب بھی صحیح طور پر ہمیں سماج کے ساتھ اتصال کے دوران ملے گا.... ’دنیا‘ کے ساتھ معاملہ کرنے سے ہم پر ”وحی“ کے بھی وہ بہت سے جوانب آشکار ہوں گے جو ایک عمرانی عمل سے دور رہتے ہوئے ہم پر واضح ہی نہ ہو پائیں ۔ پس ”وحی“ کا فہم بھی ایک بڑی حد تک ہمارے ’معاشرے‘ میں پائے جانے پر منحصر ہے۔ مروجہ معنوں میں ’درس و تدریس‘ اس کی صرف ایک جہت ہے، جوکہ اپنی جگہ بے حد ضروری ہے اور ابتدائی طور پر تو یہی مطلوب ہے۔ البتہ وحی کے بہت سے اشارے اور مضامین ہمیں معاشرے کے اندر رہتے ہوئے ہی سمجھ آئیں گے اور اس کے بہت سے جوانب اور اس کے کئی ایک پس منظر ہم پر سماج کے وسط میں رہتے ہوئے ہی منکشف ہوں گے۔ وجہ یہ کہ ”وحی“ دراصل عمرانی عمل ہی کو راستے دکھانے آتی ہے نہ کہ صرف اور صرف اس لئے کہ ہم اس کی نصوص کا ’حفظ‘ کریں یا محض اس کی روایات کی ’تخریج‘!

٭٭٭٭٭

رسول اللہ ﷺ نے جس انسان کے ہاتھ میں وحی دی تھی وہ اپنے دور سے واقف انسان تھا اور اس کا دور اس سے واقف۔ لہٰذا اس انسان کو یہ سمجھنے میں کچھ خاص دِقت پیش نہ آئی کہ یہ وحی اُس کی اِس دنیا میں کیا کیا پیش رفت کرانا چاہتی ہے اور یہ کہ نصوصِ وحی کے اشارے اور کنائے اُس کے اِس ماحول اور گردوپیش میں کس کس طرف کو جارہے ہیں ۔

ایسے زمانہ شناس اور دنیا آگاہ(5) انسانوں سے ہی آپ کی ابتدائی جماعت تشکیل پائی تھی، نہ کہ معروف معنوں میں ’مذہبی شخصیات‘ سے یا کسی ’زاویہ نشین‘ پس منظر سے۔ یہ ’دنیا آگاہ‘ ہی جب ’خدا آگاہ‘ بنائے گئے، اور وہ بھی ایک نہایت سادہ، فطری اور بے ساختہ انداز میں ، تو ماحول ان کا ایک وزن محسوس کرنے لگا....
رسول اللہ ﷺ کے گرد پائے جانے والے اکثر افراد، سماجی پہلوؤں سے بھی زبردست پس منظر لے کر آئے تھے اور کمال کی صلاحیتوں کے مالک لوگ تھے اور جوکہ اسلام میں آنے سے پہلے ہی ایک بھر پور قسم کے سماجی عمل سے گزر رہے تھے ۔ اسلام نے بھی ان کی اس سماجی اہلیت کو زنگ نہیں لگنے دیا بلکہ اِس کو صرف ایک جہت دی جوکہ کمال کی جہت تھی، اور پھر یہیں سے اسلامی حقیقت نے دنیا کے اندر اپنا قدم جما لینے کا ایک زبردست موقعہ پایا اور پھر تو اللہ کے فضل سے معاملہ آگے سے آگے ہی بڑھتا چلا گیا۔

رسول اللہ ﷺ کی برپا کردہ اس تبدیلی کا مطالعہ کرنے کی جہاں اور بے شمار جہتیں ہیں وہاں اس کے اندر کام کرنے والی ایک کمال کی ”سماجی نظر“ بھی واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہے اور لکھنے والوں نے اس پر بڑے بڑے تھیسس لکھے ہیں ۔ ہر قوم اور ہر خطے کے اندر چوٹی کے باصلاحیت افراد کو اپنے ڈھب پر لا کر، کمال کامیابی کے ساتھ، دعوت کی سماجی ومعاشرتی توسیع کرائی گئی۔ سماجی و خاندانی بندھنوں کے ساتھ ساتھ، ادب وشعر کے جو کوئی اعلیٰ اعلیٰ سے امکانات دستیاب ہوسکتے تھے اور جوکہ وقت کا نہایت مؤثر میڈیا تھا،بھر پور طور پر بروئے کار لائے گئے اور ذہنی برتری کی یہ جنگ بھی باقاعدہ اور پورا زور لگا کر لڑی گئی۔ اسی کے نتیجے میں ، بجا طور پر، اصحابِ دعوت کی علمی وادبی و فکری دھاک ماحول پر بٹھائی گئی۔ ماحول میں رُلنے والے ہیرے تراش لینے کی زبردست مہارت سامنے لائی گئی، یہاں تک کہ باصلاحیت لوگ اپنے قدر دانوں کے متلاشی ہوں تو اسلامی قیادتوں سے بہتر کسی اور کو نہ پائیں .... غرض ایک کمال کی نظر تھی جو وحی کے حقائق میں غوطہ زن ہونا ہی نہ جانتی تھی بلکہ سماجی افق پر بھی بہت دور دور تک دیکھنے کی قدرت بخشی گئی تھی.... ایسے ہی امکانات کو بروئے کار لاکر بہت تھوڑی مدت میں سب کے سب سماجی دھارے اپنے ہاتھ میں لے لئے گئے!

عشرہ مبشرہؓ سب چوٹی کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے روشن دماغ حوصلہ مند پر اعتماد نوجوان تھے اور قریش کے اندر ان کو ایک نہایت معزز مقام حاصل رہا تھا۔ جبکہ خود قریش، عرب میں قلب کی حیثیت رکھتے تھے، اور بعد ازاں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ آئندہ قیادتیں صرف قریش سے ہوں گی، اسی سماجی حقیقت کا ایک بیان تھا جس کا کہ شریعت باقاعدہ اعتبار کرتی ہے۔ عرب معاشرے کو قیادت اور سیادت کئی معنوں میں قریش کے یہاں سے میسر آتی رہی تھی اور سیاسی وسماجی وادبی رجحانات صادر کرنے میں بھی اس کی ایک حیثیت تھی۔ مکہ خود عرب کا مرکز تھا اور عرب تہذیب کی پرورش کا ایک بڑا مرجع اور قرآن کے الفاظ میں بستیوں کی ماں .... ”ام القریٰ“! خود نبی ﷺ کا اس ام القریٰ کے اندر آنکھ کھولنا، ’عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب‘ ایسا عظیم الشان نسب رکھنا کہ ایک عرب جسے سنتا رہ جائے، اور عرب کے اس پایہ تخت کے اخص الخاص گھرانے میں پروان چڑھ کر عرب میں جانا جانا، اسلامی حقیقت کی سماجی جہتوں کی جانب اشارہ کرنے میں ایک واضح دلالت رکھتا ہے۔ عشرہ مبشرہ سب کے سب ”ام القریٰ“ کے ان لوگوں میں شمار ہوسکتے ہیں جو اپنے دور اور اپنے ماحول میں سب سے پڑھے لکھے مانے جاتے ہوں ۔ پھر عشرہ مبشرہ کے علاوہ بھی، ابتدا ہی میں آپ کو ملنے والی ایک کثیر تعداد ایسی تھی جو اپنے دور اور ماحول کے لحاظ سے کسی نہ کسی معنیٰ میں ایک قائدانہ پس منظر سے آئی تھی، گو رسول اللہ ﷺ کو ہر شخص ہی کا اسلام لانا حد سے بڑھ کر عزیز تھا۔

وحی نے ان افراد کے حاصل ہونے پر پھر اپنے معجزے دکھائے، کہ یہ وحی ہے ہی ایک معجزہ! رسول اللہ ﷺ نے اس وحی کی بنیاد پر ان افراد کی پھر جو تربیت کی وہ الگ سے انسانی تاریخ کا قابل ذکر ترین معجزہ ہے، کہ رسول اللہ ﷺ مبعوث ہی معجزات کے ساتھ ہوئے ہیں !.... اور بلاشبہہ آپ کے وہ بہت سے اصحابؓ بھی جو کسی بڑے خاندانی یا سماجی پس منظر سے نہ آئے تھے، کئی اور پہلوؤں سے حیران کن خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے اور پھر اسلام کے اس جوہر شناس و جوہر تراش ماحول میں وہ بھی چوٹی کے مقامات کو پہنچے اور جلد ہی بڑے بڑے خاندانوں پر فوقیت پا گئے، کہ یہاں فضیلت پانے کے اپنے ہی معیار ہیں ! گو اس کا سہرا بھی بجا طور پر اس ماحول کو جاتا ہے جو گویا ایک اکیڈیمی ہے جہاں غریب وپسماندہ گھرانوں کے بچوں کو بھی بلا امتیاز داخلہ ملتا ہے البتہ جب وہ اس سے فارغ ہوکر نکلتے ہیں تو وہ بھی امیروں ہی کی طرح شاہانہ آداب و رموز سے واقف ہوتے ہیں ، اور کسی وقت تو اپنی صلاحیت یا اپنی محنت کے بل پر ان سے بھی کہیں آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ ’اداروں ‘ کی کارکردگی تو بہرحال یونہی جانچی جاتی ہے!!!

البتہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ سماجی حقائق کے ساتھ معاملہ کرنے میں اسلام کی ابتدائی تحریک کے اندر کمال کی ایک واقعیت اور فاعلیت پائی گئی تھی۔ جیسا کہ ہم نے کہا آسمان سے صرف وہ چیز اترتی ہے جو زمین پر پائی ہی نہیں جاسکتی۔ البتہ جو چیز زمین پر پیدا ہوتی ہے وہ زمین پر ہی تلاش کی جائے گی۔ یہ توازن اور یہ رشتہ جو آسمانی اشراق اور انسانی جوہر کے مابین رکھا جانا ہے، رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی اٹھان میں ہمیں بدرجۂ اتم نظر آتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان دیکھئے اس معنیٰ پر دلالت میں کس قدر واضح ہے، بلکہ تو سوال کرنے والے اور بار بار اپنے سوال کا تعین کرنے والے صحابہ کی اس اپروچ پر ہی پہلے ذرا غور فرمائیے:

عن اَبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ: قیل یا رسول اللہ من اَکرم الناس؟ قال:اَتقاہم۔ فقالوا: لیس عن ہذا نساَلک۔ قال: فیوسف نبی اللہ ابن نبی اللہ ابن نبی اللہ ابن خلیل اللہ۔ قالوا: لیس عن ہذا نساَلک۔ قال فعن معادن العرب تساَلون؟ خیارہم فی الجاہلیۃ خیارہم فی الاسلام اذا فقہوا

(صحیح البخاری: کتاب الاَنبیاء، باب قول اللہ تعالی واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا)

روایت ابو ہریرہؓ سے، کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: انسانوں میں سب سے بلند مرتبہ کون ہے؟ فرمایا: وہ جو ان میں سب سے بڑھ کر تقویٰ رکھنے والا ہو۔ صحابہ کہنے لگے: یہ نہیں ہم پوچھ رہے۔ فرمایا: تو پھر یوسف علیہ السلام، جو کہ اللہ کے نبی ہیں ، اللہ کے ایک نبی کے فرزند، اور وہ اللہ کے ایک نبی کے فرزند ، اور وہ اللہ کے ایک نبی کے فرزند، جوکہ فرزند ہیں اللہ کے خلیل کے۔ عرض کیا: یہ (بھی) ہم نہیں پوچھ رہے۔ فرمایا: تو کیا عرب کے معدنوں (6) کی بابت پوچھتے ہو؟ جاہلیت کے اندر ان میں سے جو برتر ہوں گے وہی اسلام میں برتر ہوں گے، بشرطیکہ (حقیقتِ اسلام کے فہم و کردار میں ) خوب گہرے اتر گئے ہوں “

غرض یہ تحریک ان عناصر سے تشکیل پائی تھی جو اپنے دور اور زمانے کے ساتھ تفاعل کرنا جانتے تھے، بلکہ جو اپنے دور اور زمانے کے ساتھ تفاعل کررہے تھے کہ عین اس حالت میں ان کو اسلام مل گیا اور وہ بھی اصلی ترین حالت میں ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ان لوگوں نے آنکھ ’مسجدوں ‘ اور ’مدرسوں ‘ میں نہیں کھولی تھی۔ ’حجروں ‘ میں ہوش نہیں سنبھالی تھی۔ سماجی جہتیں ان کے لئے اجنبی نہیں تھےں ۔ عمرانی سرگرمی ان کے لئے ’عجیب و غریب‘ نہیں تھی۔ قبائل کی آویزش ان کے لئے نئی نہیں تھی۔ زمانے کی رمزیں ان سے پوشیدہ نہیں تھیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو مسجد بھی دی اور مدرسہ بھی، کہ ان کی زندگی میں کمی صرف اسی بات ہی کی تھی۔ ’محراب‘ کو ان کے نشاط کا منبعِ عمل بنا دینا ان کی اس معاشرتی سرگرمی کو صالح جہت دینے کے لئے ایک نہایت زبردست معنی ودلالت رکھتا تھا۔پس اِنہوں نے خوب خوب مسجدیں آباد کیں مگر یہ جہاں سے آئے تھے وہ ایک زندہ معاشرہ تھا اور ان میں سے بیشتر اسی معاشرے کی ننگی پیٹھ پر سواری کرتے آئے تھے۔ ’مسجد‘ نے ان کے اس نشاط میں کوئی بھی تعطل نہ آنے دیا۔ بلکہ یہ مسجد بھی ایک ایسی منفرد مسجد تھی جو ’عبادت گاہ‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ’فوجی چھاؤنی‘ تھی تو ایک ’کلچرل سنٹر‘ بھی.... جس نے ان کی اس سرگرمیِ عمل کو اور بھی مہمیز دی اور ان کی زورآوری کو اور بھی چار چاند لگائے۔ معاشرے اور ان کے مابین وہ سب پل موجود تھے جو طرفین کے اتصال کے لئے مطلوب ہوتے ہیں ۔ ان کو واقعتاً صرف وحی کی ہی ضرورت تھی جس پر یہ رسول اللہ ﷺ سے باقاعدہ ایک تربیت پا لیں ۔ اِن کی یہ ضرورت پوری کردی گئی اور اسلام کا مطلوبہ عمل دنوں کے اندر دیکھنے میں آنے لگا۔

ایسے ہی افراد رسول اللہ ﷺ کی ہدایت وراہنمائی ونگرانی میں ”وحی“ سے اپنی ساخت اور تشکیل کروا کر اور ”جہاد“ میں کندن ہوکر اپنی دنیا پر اثر انداز ہوئے تھے، تو دنیا نے ایک بھاری بھرکم تبدیلی کو اپنے سینے پر چلتا ہوا محسوس کیا تھا بلکہ دنیا تب ان کے آگے یوں بچھتی نظر آئی تھی جیسے ایک منہ زور گھوڑا جو بظاہر کسی کو پاس نہ آنے دیتا ہو اور اس کا قابو آنا تو ناممکنات میں دِکھتا ہو مگر دراصل وہ اسپِ خود سر ایک شہ سوار ہی کا متلاشی ہو اور جوکہ بالآخر اس کو مل گیا ہو!

٭٭٭٭٭

غرض اپنے زمانے کے جدید رجحانات modern trends پر نظر اور عبور ہونا صرف یہی نہیں کہ دعوت کی ضرورت ہے، بلکہ ’دعوت کی ضرورت‘ ہونے سے پہلے یہ دراصل اس ’مسلم شخصیت‘ کا ایک بنیادی وصف ہے جس کا وجود میں آنا بجائے خود مطلوب ہے۔’دعوت کی ضرورت‘ ہونا اور ’تحریک کی کامیابی‘ کے لئے ’مسلم نوجوانوں کی تیاری‘ میں اس جہت کا درکار ہونا بے شک سچ ہے، مگر ایسا مان کر دراصل ہم اس جہت کی وقعت کم کردیں گے۔ ’اپنے دور اور زمانے کے ساتھ تفاعل‘ اس مسلم شخصیت کا جو اسلامی عقیدہ کی پیدا کردہ ہو، ایک بے حد لازمی اور بنیادی فنکشن ہے اور اس فنکشن کو معطل کرکے آپ بڑی حد تک اس عقیدہ اور اس وحی کو ہی، اپنے دور کے ساتھ پورا اترنے کے معاملہ میں ، معطل کردیتے ہیں ۔ اپنے نوجوانوں کی تربیت اور تیاری میں اگر ہم اس مسئلہ کو اس بنیاد پر نہیں لیتے اور اس کی اہمیت محسوس کرنے میں ہم واضح واضح اس حد تک نہیں جاتے تو ہمارے خیال میں آپ وہ چیز برآمد کر ہی نہیں پائیں گے جو ایک صحیح سالم ’مسلم ہستی‘ کو برآمد کرنے کے معاملہ میں آپ کا مقصود ہونا چاہیے۔

ان دو باتوں کا فرق ایسے ہی ہے جیسے آپ ’عقل‘ کو انسان کی ’ضرورت‘ قرار دیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ’عقل‘ انسان کا ایک ’بنیادی وصف‘ ہے۔ بے شک ہر دو صورت میں آپ ’عقل‘ کی اہمیت بیان کریں گے، مگر اول الذکر بات عقل اور انسان ہر دو کے مرتبہ سے فروتر ہوگی!

٭٭٭٭٭

چنانچہ اس مسئلہ کی اہمیت گو بے شمار جہتوں سے ہے مگر اس کی سب سے اہم جہت شاید یہی بنتی ہے کہ وحی کے ایک بڑے حصے کا فہم و ادراک بھی ہمارے یہاں اس وقت معطل ہوجاتا ہے جب ہم سماج کے عین بیچ میں رہنا چھوڑ دیتے ہیں اور تب مسئلہ، وحی کے حفظ و کتابت اور درس و تدریس تک محدود ہوجانے لگتا ہے۔

وحی دراصل اور واقعتا اس لئے آئی ہے کہ انسان کے قلبی وفکری و عمرانی نشاط کو ایک بہترین جہت دے اور ان سبھی پہلوؤں سے انسان کو خدا کی طرف لے کر بڑھے اور تہذیب کے اس گھمسان میں اہل حق کا پلڑا بھاری کرائے، جبکہ زمین پر بنی نوع انسان کا یہ نشاط اس قدر متنوع رہتا ہے اور اس کے اندر ہر لمحہ نئے سے نئے ہزاروں عوامل یوں شامل ہوتے رہتے ہیں اور کروڑوں اربوں عقول ہر دور کے اندر اس میں یوں شریک رہتی ہیں کہ اس دنیا پر چڑھنے والا ہر نیا دن ایک نئی شان کے ساتھ آتا ہے اور امکانات کے نئے سے نئے نقشوں کے ساتھ۔ یہ سب نئے عوامل اور نئے امکانات اور نئی پیشرفتیں ایسی چیز ہیں کہ ہم اگر ان سے برابر معاملہ کررہے ہوں تو وحی کے وہ بہت سے جوانب ہم پر ساتھ ساتھ منکشف ہوتے رہیں گے جو بصورت دیگر شاید ہم پر روپوش ہی رہیں ۔

اس لحاظ سے اس وحی کا یہ وصف کہ یہ ہر دور کے ساتھ کمال کی مطابقت رکھنے والی ہے اور گویا یہ ہے ہی اپنے اِسی دور کے لئے.... وحی کا یہ خوبصورت وصف بھی ہم اسی صورت میں عملاً دیکھ سکیں گے اور دنیا کو دکھا سکیں گے جب ہم اپنے دور کی عصری جہتوں کے ساتھ مسلسل ایک علاقہ رکھیں اور جب وقت کے ان ماڈرن رجحانات کا بھی مسلسل ہمارے ساتھ ایک معاملہ dealing ہو.... البتہ جب ہم یہاں کوئی ’فریق‘ ہی نہ رہیں تو اپنے دین کی حقیقت کا فہم و ادراک بھی تب ہم بس ایک حد تک ہی پاسکیں گے۔

٭٭٭٭٭

معاصر دنیا پر ایک نگاہِ شناسائی رکھے بغیر، ”دین“ کی صحیح حقیقت اپنے سب مضمرات سمیت، پس نہ تو ہم پر واضح ہوگی اور نہ دنیا پر۔ یہ بند ذہنی ہی ہماری راہ کی آج ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

یہاں کوئی چیز دوسری کا متبادل نہیں ۔ ’دیکھنا‘ ہمیں اپنے ہی جہان کو ہے البتہ اس ’دیکھنے‘ کے لئے ’نظر‘ ہمیں آسمان سے پانا ہے۔’آسمان‘ اور ’زمین‘ کے مابین ’رابطہ واتصال‘ کا ذریعہ رہتی دنیا تک کے لئے اب ہم ہی ہیں!

آسمان سے ہمارے لئے صرف وہ چیز اتری ہے جو اس دنیا میں کسی کے پاس پائی ہی نہیں جاسکتی۔ پس یہ ’نظر‘ جو ہمیں ہمارا دین اور ہمارا عقیدہ پیدا کر کے دے سکتا ہے صرف دین ہی سے مل سکتی ہے، بشرطیکہ دین سے تربیت پانے کا عمل صحیح طور پر انجام پایا ہو۔ یہ نسخۂ کیمیا ہمیں اپنے شرعی مصادر کے سوا کہیں سے نہیں ملے گا۔ البتہ یہ ’نظر‘ اپنے دین سے لے کر وارد ہمیں اپنی اسی ’دنیا‘ میں ہونا ہے۔ آخرت کامرحلہ اس کے بعد ہے! اس لحاظ سے زمانے پر ایک گہری نظر ہونا ہماری ضرورت رہے گی۔ یوں بھی قرآن سے ایک گہری نظر پا کر ہمیں اپنے زمانے کو نہیں دیکھنا تو آخر کس چیز کو دیکھنا ہے اور یہ نہیں تو اس کا اور مصرف ہی کیا ہے؟!!
پس یہ وہ شخصیت ہے جس کو ’خبر‘ ہی نہیں ’نظر‘ میں بھی ’یکتا‘ ہونا ہے۔’زمانہ‘ اس پر تحقیق کرے مگر یہ زمانے کے بابت محض ’اندازے‘ لگائے اور وہ بھی پسماندہ قسم کے اور ’تاثرات‘ کو ہی حرفِ آخر جانے اور وہ بھی غیر علمی اور غیر واقعاتی، ’جذبات‘ ہی کو برانگیختہ کرلینے اور ’حالات‘ ہی کا شکوہ کرتے جانے میں ہر مسئلے کا حل جانے اور ہر تہذیبی بحران میں ایک سلبیت non-contributive attitudeدکھانے اور لاتعلق رویہ indifferent approachظاہر کرنے کے سوا کوئی تدبیر اپنے یہاں نہ پائے، یہ اس کے شایان نہیں ۔

ایک ’عزلت‘ نما ذہنیت اور ’گوشہ نشین‘ طرزِ عمل سے اِس شخصیت کو ہرگز کچھ تعلق نہیں ۔ زمانے میں رہتے ہوئے زمانے سے کٹا ہوا اور ’قدیم‘ طرز کی ہستی نظر آنا اور یوں اپنے زمانے کے ساتھ تعامل dealing اور اپنے گردوپیش کے ساتھ تفاعل interaction کرنے میں کوتاہ ثابت ہونا.... یہ اِس کی ایک نہایت اصیل خاصیت کے ساتھ ہی ایک جذری نوعیت کا تعارض ہے۔

٭٭٭٭٭

اس ’عزلت‘ سے مراد جوکہ یہاں ’مذہبی‘ سیکٹر کی بابت معاشرے کا ایک مقبولِ عام تاثر ہے.... یہ نہیں کہ یہ حجروں اور خانقاہوں کے اندر بیٹھی ہوئی ایک شخصیت ہے، جوکہ باہر آنے کے لئے ہی تیار نہیں ! مسئلہ صرف اتنا ہوتا تو شاید پریشانی کی اتنی بڑی بات نہ تھی.... تب ہمیں صرف یہ کرنا ہوتا کہ ہم اس کو قائل کرنے پر زور لگاتے اور کسی نہ کسی طرح کھینچ کر اس کو ’معاشرے‘ میں لے آتے....!

مسئلہ کی پیچیدگی یہ ہے کہ یوں تو ’مذہبی شخصیت‘ اس وقت معاشرے کے اندر ہر جگہ دیکھنے میں آرہی ہے۔ تجارت وکاروبار سے لے کر ہر سکیل کی ملازمت تک، یونیورسٹیوں میں اچھے مناصب سے لے کر بیوروکریسی کی اعلیٰ کرسیوں تک، اور سیاست کے ایوانوں سے لے کر ٹی وی اور میڈیا چینلوں تک، ’مذہبی شخصیت‘ کو آپ ہر جگہ دیکھ لیں گے حتیٰ کہ اس کے ایک مخصوص روایتی انداز سے اس کو ہر جگہ پہنچان لینے میں کوئی دقت تک نہ پائیں گے۔ مگر __ الا ما شاءاللہ __ وہ تخلیقی اپروچ جو دین سے معاشرے کے اندر اترنے کیلئے اِس کو ملتی ہے یا ملنی چاہیے کم ہی کہیں نظر آتی ہے۔ شخصیت کی وہ انفرادیت جو ’دین‘ اور ’معاشرے‘ کے ’اتصال‘ کے حوالے سے اِس کی ہستی سے بھر پور نشر ہونی چاہیے، ایک عام شخص، خاص طور پر ایک پڑھا لکھا اور تہذیبی وسماجی رجحانات پر نظر رکھنے والا شخص، اس کے اندر مفقود پاتا ہے۔ زیادہ تر، یہ کچھ لگے بندھے اور سکہ بند رجحانات کی حامل شخصیت ہوتی ہے اور خاص اپنی ہی دنیا میں گم، جو ”معاشرے“ میں صرف ’کاروبار‘ یا ’ملازمت‘ یا ’سیاست‘ کرنے کے لئے آتی ہے....!

چند ’مذہبی‘ امتیازات کو چھوڑ کر، جن میں کچھ باتیں یقینا مستحسن بھی ہیں (7).... ’مذہب‘ کے دائرہ سے باہر، یہ ’مذہبی‘ شخصیت بھی عام طور پر انہی لکیروں کے پیچھے چلنے والی ہوتی ہے جو ’نہ معلوم‘ ان معاشروں کے لئے ’کون‘ کھینچ دیتا ہے اور جب چاہتا ہے ان میں اپنی مرضی سے ترمیم کرتا ہے، اور جن پر ناک کی سیدھ چلنا یہاں پائے جانے والے ہر شخص پر لازم ہے!

یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طالبعلم دنیا کو دیکھیں ، جوکہ جوش اور ولولوں سے پر دنیا ہوتی ہے، جہاں انسانی صلاحیتوں اور منفرد رویوں کے جوہر کھِل کھِل کر اپنا ظہور کرانے کو بے چین دیکھے جاتے ہیں ،اور جہاں ’زندگی‘ پھوٹ پھوٹ کر باہر آرہی ہوتی ہے، آپ ایک نگاہ دوڑائیے اور جس جگہ زندگی کا دھارا آپ کو تھمتا ہوا محسوس ہو، وہاں مخصوص امتیازی نشانات کے ساتھ ’مذہبی‘ دنیا سے آپ کا واسطہ پڑے گا.... الا ماشاءاللہ!

پس یہ ’عزلت‘ کا جو لفظ ہم نے بولا وہ دراصل اس معنیٰ میں ہے۔

غرض یہ شخصیت جو اس وقت معاشرے میں ’دین‘ کی پہنچان بنی ہوئی ہے حد درجہ ایک روایتی اور غیر فعال وغیر تخلیقی اور سرد وقانع شخصیت ہے ’مذہب‘ کے معاملہ میں بھی اور ’دنیا‘ کے معاملہ میں بھی (جبکہ ”دین“ ان ہر دو کا مجموعہ ہے)، جبکہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہر دو میدان میں اس کی ایک اصیل ساخت کرائی جائے جس سے یہ ہر دو میدان میں منفرد رویے اور تخلیقی رجحانات صادر کرسکے اور یوں تہذیبی معنوں میں عملاً ان معاشروں کی زمام ہاتھ میں لے سکے۔ اس وقت کی اصطلاح میں جسے ’مذہب‘ کہا جاتا ہے، اس میں بھی یہ دین کے اصل حقائق سے جنم پائی ہوئی شخصیت ہو (ملاحظہ فرمائیے کتاب کے شروع کے ابواب) اور ’دنیوی‘ شعبے میں بھی یہ کوئی بے فاعلیت passive اور تابع و مقلد follower شخصیت نہ ہو۔

البتہ جس ’مذہبی ‘ شخصیت سے فی الوقت آپ کو واسطہ ہے یہ چوبیس گھنٹے اسی معاشرے میں رہنے کے باوجود اپنے اس دور میں بہت کم پائی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ آپ سے آپ یہ ہوتا کہ وہ ”دین“ جس کی یہ نمائندہ سمجھی جاتی ہے، خود وہ بھی ’پرانی طرز‘ old fashioned قسم کی ایک چیز نظر آتا۔ پس طبعی بات تھی کہ تعداد میں خاصا زیادہ ہونے کے باوجود معاشرے پر یہ ایک سرسری سی تاثیر رکھنے والی ہی ایک شخصیت ہوتی نہ کہ معاشرے پر اثر انداز ہونے کے لئے کسی خاص مؤثر ایجنڈے کے تحت ’پیش قدمی‘ پر یقین رکھنے اور جدید معاشرے کو ”دین“ کے حوالے سے بہت کچھ دینے پر قدرت رکھنے والی اور ایک خاص ڈائنامک دینی و سماجی صلاحیت سے لیس شخصیت، جو ان تمام جہتوں کا کچھ نہ کچھ ادراک رکھتی ہو جو آج کے اِن معاشروں کو اسلام کی حقیقت پر لایا جانے کے لئے نظر میں ہونا ناگزیر ہیں ۔

یقینا بہت اچھی اچھی مثالیں بھی دیکھنے کو یہاں مل جاتی ہیں اور خیر کو ناپید جاننا تو ہرگز ہمارا اسلوب نہیں ۔ مگر آپ اتفاق کریں گے ایک عمومی حالت اس وقت یہی ہے۔ یہ بحران یہاں کے سبھی ’فرقوں ‘ کو برابر لاحق ہے۔ ’مکاتبِ فکر‘ کا فرق کم از کم اِس پہلو سے غیر متعلقہ irrelevant ہو جاتا ہے۔ ’شخصیت کا تاثر‘ جو معاشرے کا ایک عام انسان ’مذہبی شخصیات‘ کی بابت حتیٰ کہ آدمی کے ’مذہبی‘ ہونے کی بابت رکھتا ہے سبھی ’فرقوں ‘ کی بابت ایک سا ہے اور کوئی مذہبی ٹولہ اس سے مسثنیٰ نہیں .... ہاں سوائے کچھ جدت پسندوں کے جو البتہ آج دین کی اصل بنیادوں کو ہی کھود کھود کر کھوکھلی کرنے میں لگے ہیں ۔

یہاں پہنچتے ہیں تو معاملے کی یہ پیچیدگی دو چند ہوجاتی ہے۔ یعنی آپ کی وابستگی کسی نہ کسی معنیٰ میں اپنے قدیم ورثہ سے ہو تو آپ ’پرانی طرز کی شخصیت‘ ہوں ، اور اگر ’اپنے دور میں رہتے‘ معلوم دیتے ہوں تو دین کی ٹھیٹھ بنیادوں ہی سے برگشتہ و بیزار ہوں ۔ البتہ یہ کہ ایک طرف آپ دین کی نہایت ٹھیٹھ بنیادوں سے پیوستہ ہوں اور دوسری جانب اپنے دور اور زمانے سے پوری طرح وابستہ ہوں اور اپنے سماج پر اثرانداز ہونے کے لئے درکار ایک نظر رکھتے ہوں اور جدید رویوں سے نہ صرف واقف بلکہ ان کو رخ دینے کی اہلیت سے بھی کچھ حصہ پا رکھا ہو، تو یہ بہرحال ایک نادر تصویر ہو اور بڑی مشکل سے ہی کبھی دیکھنے کو ملے۔

اور پھر یہ جس کو ہم نے ’دین کی ٹھیٹھ بنیادوں سے پیوستہ ہونا‘ کہا ہے، اس میں بھی سمجھئے ابھی بہت چھوٹ دے کر ہم نے ایک بات کی ہے، ورنہ ”سلف کی بنیادوں “ سے پیوستگی__ ’مذہبی‘ معنوں میں بھی __ آپ کو کہاں ملتی ہے؟(8) اور اگر ’ٹھیٹھ بنیادوں ‘ سے مراد سلف کی بنیادیں نہیں تو پھر ہمیں ان میں کیا دلچسپی؟؟؟!!!

یہاں پہنچتے ہیں تو معاملے کی یہ پیچیدگی دو چند بھی نہیں رہ جاتی بلکہ سہ چند ہوجاتی ہے....! یعنی نہ پیچھے جانے میں یہ ”سلف“ تک پہنچیں ، بلکہ درمیان میں ہی کہیں گم ہوجائیں اور بلکہ تو پچھلی چند صدیوں میں ہی کہیں اٹک کر رہ جائیں ، اور نہ آگے آنے میں یہ ”اپنے دور“ تک پہنچیں ، بلکہ اس حوالے سے بھی پرانے دور میں ہی کہیں غائب پائے جائیں .... آخر ہم ان کو ڈھونڈیں کہاں !؟؟؟

٭٭٭٭٭

پس جس تربیتی عمل سے اب ہم اپنے ان نوجوانوں کو گزارنے کی خواہش اور پروگرام رکھتے ہیں اس میں فکر اور شخصیت کی یہ جہت بھی خاص طور پر توجہ پاکر رہے گی.... کہ اس کا ناپید ہونا واقعتا اس وقت کا ایک بڑا بحران ہے۔

شاید یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اسلام کی یہ مطلوبہ شخصیت ہر پہلو سے اپنا ایک جداگانہ تعارف کرائے اور شاید اسے خاصا خیال رکھنا پڑے گاکہ یہ یہاں پہلے سے پائی جانے والی کئی ایک ’مذہبی‘ تصویروں پر قیاس نہ ہوتی رہے.... اس ’جداگانہ‘ تعارف کے لئے شریعت اور اسلامی ولاءو براءکی حدود میں رہتے ہوئے خواہ اِسے جو بھی انتظامات عمل میں لانا پڑیں ۔

البتہ اصل محنت اِس کو اپنے اندرون میں وہ تصویر بنانے پر کرنا پڑے گی، جو اگر بن جاتی ہے تو اس کے خوبصورت عکس بیرون میں لازماًاور آپ سے آپ نظر آئیں گے۔

٭٭٭٭٭

یہاں تک جو بات ہوئی، وہ اپنے ’مذہبی‘ دنیا کے ایک عمومی بحران کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہوئی اور کوئی خاص طبقہ الگ سے اس کا مقصود نہیں تھا۔ اب یہاں چند باتیں ہم خاص طور پر اپنے اس پس منظر میں کہنا چاہیں گے، جس کے ہاں اس وقت دین کے فہم و تحقیق اور عمل و تطبیق کی ایک خاص روح دیکھنے میں آتی ہے۔ عقیدہ کے کچھ نہایت اہم مطالب اس وقت اپنے اسی طبقہ کے ہاں پزیرائی پارہے ہیں اور رفتہ رفتہ ایک پختہ تر تحریکی عمل کے آثار بھی الحمد للہ یہیں پر واضح ہورہے ہیں ۔ دین کی حقیقت کو از سر نو ان معاشروں میں لے کر آنے کی ایک خاص تڑپ اور لگن سب سے بڑھ کر یہیں پر دیکھنے میں آرہی ہے۔

ہمارا یہ طبقہ جو ”تحقیقِ توحید“ پر اپنی خاص توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور وحیِ خالص کی طرف رجوع کی سنجیدہ کوششیں بھی اسی کے ہاں سب سے بڑھ کر ہورہی ہیں ، اور اس لحاظ سے یہ ہمارا بے حد قیمتی سرمایہ ہے.... ہمارا یہ طبقہ خاص طور پر یہ حق رکھتا ہے کہ جہاں یہ عقیدہ و شریعت کو اپنی محنت اور جدوجہد کا عنوان بنانے پر کام کر رہا ہے وہاں یہ اِس عمل کی سماجی وعصری جہتوں سے بھی آگاہ ہو، تاکہ عمل کی ایک کامل اور وسیع تر تصویر ان کے سامنے آئے۔

ہماری اِس گفتگو کا مقصد یہ نہیں کہ ہمارے دین کے یہ داعی طبقے سوشل سائنٹسٹ بنیں ! اور نہ خود ہم کوئی سوشل سائنٹسٹ ہیں ! مقصد صرف یہ ہے کہ یہ معاملے کی اس جہت سے واقف ضرور ہوں ۔ ایسا ہوجائے تو خود بخود ایسے علماءپر ان کا اعتماد بڑھنے لگے گا جو اِس میدان کے شہسوار ہوں اور جو اِن کو اس میدان میں لے کر آگے بڑھیں ۔نہ صرف یہ، بلکہ ان کے ہاں وہ پختگی بھی بڑھے گی جس سے کام لے کر یہ دین کے مختلف شعبوں میں اپنے علمی مراجع کا ایک بہتر تعین کرنے لگیں ، نہ یہ کہ ’فتویٰ‘ کے لئے ہر ہر معاملے میں کچھ محدود سے مصادر سے آگے بڑھ ہی نہ پائیں ۔

’عقیدہ‘ اور ’شریعت‘ کی ان عصری جہتوں کے ناکافی ادراک کے باعث ہی اس وقت یہ ہورہا ہے کہ ’حاکمیت‘ اور ’نفاذِ شریعت‘ ایسے کچھ موضوعات افراط و تفریط کی نذر ہونے لگے ہیں ۔ دین کا کوئی سنجیدہ مسئلہ یا عقیدہ کا کوئی نہایت اہم باب جس وقت افراط وتفریط کا شکار ہونے لگے اور بحثیں دونوں جانب ’انتہاؤں ‘ کی طرف شدت کے ساتھ بڑھنے لگیں ، خاص طور پر اس وقت اگر منہجِ وسط واضح کرنے والے عالم طبقے بھی کافی تعداد میں ایک ایسے ماحول کے اندر نہ پائے جارہے ہوں .... تو یہ ’پیش گوئی‘ کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا کہ آئندہ سالوں میں یہاں کچھ نہایت خوفناک خلطِ مبحث سامنے آنے والے ہیں اور طرفین کے مابین سر پھٹول کچھ ایسی پیچیدہ صورتیں دھار لینے والی ہے کہ معاملے کا سرا طرفین سے روپوش ہو۔

اسلامی عقیدہ میں اب تک جدلیات کی جو تاریخ دیکھنے میں آئی ہے، اور جس میں دو انتہاؤں کے بیچ کھینچاتانی لوگوں کو بڑے بڑے بحرانوں تک پہنچا دیتی رہی ہے ....وہ اِس خطرے سے، جس کی جانب ہم بڑھ رہے ہیں ، خبردار کرنے کے لئے کافی ہے۔

خاص یہ موضوع کسی اور موقعہ پر آئے گا۔ فی الوقت دعوتِ عقیدہ کی جو جہت واضح کرنا یہاں ہمارے پیش نظر ہے وہ یہ کہ عقیدہ اور شریعت ہر دو، بڑی دیر سے یہاں معاشرے کو راہنمائی دینے کے منصب سے بے دخل کر رکھے گئے ہیں ۔ان کو معاشرے میں لے کر آنا اور اس کے لئے زمین تیار کرنا بے شمار جہتوں پر مشتمل ہے۔ پس بجائے اس کے کہ اس پر معاملہ ایک قبل از وقت محاذ آرائی کی جانب بڑھے (گو آخر تو یہ ہونا ہے) اور پہلے سے پائی جانے والی پیچیدگیوں کو کچھ اور بڑھا جائے، جوکہ جاہلیت کیلئے ایک نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوگی(9).... عقیدہ و شریعت کو معاشرے میں لے کر آنے کے ان تقاضوں پر توجہ مرکوز کردی جائے جو جاہلیت کا فکری اقتدار ہی ختم کرادے۔ یقین کیجئے اِس کے بھی بیشمار مواقع ہیں ۔

٭٭٭٭٭

’منہجِ سلَف‘ کے حوالے سے بعض مفاہیم کی تصحیح ہوجانا بھی خاص طور پر ضروری ہے....

نصوصِ شریعت کو اپنی نہایت اصل حالت میں لوگوں کے لئے دستیاب رکھنا، ان میں ہردور کے اندر کی جاتی رہنے والی ملاوٹیں نکال باہر کرنا، اور کھرا کھوٹا خوب واضح کر دینا، پھر ان کے مفہومات میں جو تاویلات شامل ہوتی رہیں اور جوکہ آج بھی ہورہی ہیں ان کاازالہ کرنا اور صرف اور صرف ان کے درست و سلف سے ماخوذ معانی کا ہی اثبات کرنا.... امت کے اندر یہ جس طبقے کا امتیاز رہا ہے وہ حدیث اور سنت کے حامل ائمہ رہے ہیں ۔ یہی وہ طائفۂ منصورہ ہے جس کو اللہ نے اس امت کے زندہ و پائندہ رہنے کا سبب اور ذریعہ بناکر رکھا اور آج تک ہے۔

امت کے ان آخری ادوار میں جاکر البتہ اب کچھ ایسا تاثر بننے لگا ہے گویا اس طائفۂ حقہ کا امتیاز بس یہ ہے کہ یہ ائمۂ حق ”نصوص“ کے الفاظ یا معانی کے لئے علمی مراجع ہی بنے رہے تھے۔ پس آپ دیکھتے ہیں کہ ’منہجِ سلف‘ کے حوالے سے یہی چیز آج ایک طبقے کی توجہ پانے لگی ہے اور یہ تاثر بننے لگا ہے کہ ان تمام تر صدیوں میں ائمۂ سنت و حدیث کا گویا بس یہی اصل کردار رہا ہے! اور یہ کہ سَلَفیت کی اصل روح آج کے دور میں بھی کچھ ہے تو بس یہی کہ نصوص کی ایک اچھی چھان پھٹک کر کے اپنے دور کو دے دی جائے!

رہا وہ جہاد جو یہ ائمۂ دین ان معاشروں کو حقیقتِ اسلام پر لانے اور رکھنے کے لئے کرتے رہے، اور جس میں وہ باطل کے خلاف ہر ہر سطح پر برسر عمل رہے، اور پھر جس خوبصورتی اور دور اندیشی سے وہ اپنے دور کے فکری وسماجی رجحانات پر حاوی رہے اور اپنے زمانے پر وحی کی بنیاد پر نہایت دور رس پہلوؤں سے اثر انداز ہوتے رہے.... تو یہ سب کچھ ’منہجِ سلف‘ کے حوالے سے بیان ہونا نہ صرف موقوف ہوگیا ہے بلکہ عجیب بھی لگنے لگا ہے، اور بلکہ کچھ طبقوں کے ہاں تو شاید یہ ”منہجِ سلف“ پر ایک ’بہتان‘ بھی جانا جائے!

پھر چونکہ نصوصِ وحی کی جانب رجوع آپ کو یا تو خاص دورِ وحی میں ہی لے جاتا ہے اور یا پھر اس سے متصل ان ادوار میں جب ان نصوص کی تفسیر اور تدوین پر ائمۂ دین کے عظیم الشان کام سامنے آئے، اور اس پہلو سے واقعتا ہماری اور ہر کسی کی ضرورت ہے کہ ذہنی اور شعوری طور پر آدمی پلٹ پلٹ کر دورِ وحی کے ہی چکر لگائے اور یا پھر دورِ وحی سے متصل ان ادوار کے جب ان علومِ وحی کی تفسیر و تدوین ہوئی، جبکہ یہی وہ ادوار ہیں جن کو قرونِ سَلَف بھی کہا جاتا ہے۔ اور بلاشبہہ ہم اسی بات کے داعی ہیں کہ آدمی اپنے دور میں رہتے ہوئے بھی شعوری طور پر دورِ سَلَف ہی میں رہے اور وہیں سے ایک معنی میں اپنی ’پیدائش‘ کرائے.... اور ظاہر ہے اپنی ’جائے پیدائش‘ کے ساتھ ایک آخری درجے کی وابستگی کس کے ہاں نہیں پائی جائے گی؟!!.... اور اس معنیٰ میں ظاہر ہے کہ مسلم ذہن نہایت ’قدیم‘ اور ’ٹھیٹ‘ ٹکسالی ساخت ہی کا حامل ہوگا اور ’پرانے دور‘ سے ہی اپنا کل شغف اور غرض رکھے گا اور محدثاتِ امور سے برسرِ جنگ رہے گا اور اس پہلو سے امت کے اندر جدت پسند رحجانات کے خلاف سب سے بڑا محاذ کھڑا کر رکھے گا.... یہ سب کی سب باتیں عین حق ہیں اور ہر قسم کی بحث سے بالا تر۔ خود ہمارے تحریر و بیان کے اندر بھی یہ بات بلاشبہہ ایک صدائے بازگشت کے طور پر سنی جائے گی، جو کہ ہمارے لئے ایک بے حد بڑا اعزاز ہے....

البتہ یہ کہ اس پہلو پر زور دینے سے یہ تاثر بن جائے کہ ’سَلَفیت‘ کا مطلب ہی ایک ایسی ’قدیم‘ طرز کی شخصیت ہونا ہے جس کے لئے ’ماڈرن‘ ہونا اور ایک ’عصری‘ انداز کا شخص نظر آنا اور اپنے زمانے کے ساتھ ہم رنگ و ہم آہنگ دکھائی دینا ’گمراہی‘ کا ہم معنی ہو، اور اپنے دور کے فکری رویوں اور سماجی رجحانات کے ساتھ خوب خوب پورا اترنا اس کے لئے ایک اچھنبا ہو.... اور اس کے دور کے ان لوگوں کو جو معاشرتی گھمسان کی گہرائی ماپ سکتے ہوں یہ محسوس ہونا کہ یہ شخصیت ان سے بہت ’دور‘ اور بہت ’جدا‘ نہیں بلکہ انہی میں سے یا انہی کی طرح کی ایک شخصیت ہے، اس کے لئے ایک نہایت انہونی بات ہو!.... تو ”سَلَفیت“ پر __ اس معنی میں __ ’قدیم طرز‘ کا گمان ہونا البتہ بالکل ایک اور بات ہے اور نہایت قابلِ اصلاح۔

اِس چیز کو آج کے اِس دور خصوصا اپنے اِس ماحول میں پھیل جانے والی بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔

اس اندازِ فکر کے تقویت پکڑ جانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ سلف کا یہ منہج، وقت کے معاشرتی دھاروں کو اپنے ہاتھ میں لینے اور زندگی کے سوتوں پر اثر انداز ہونے کے اس سماجی عمل میں کبھی حصہ ہی نہ لے بلکہ ایسی سوچ بھی کبھی نہ سوچ پائے اور نہ ہی اس ’کوچے‘ کا کبھی رخ کرے جہاں سے عصری رحجانات کی تشکیل عمل میں لائی جاتی ہے اور جن کی پھونک سے آج کے یہ معاشرے چلائے جاتے ہیں ۔

اس اندازِ فکر کے ساتھ دراصل ایک اور اندازِ فکر آ شامل ہوتا ہے اور تب اس فریق کی الجھن حد سے بڑھ جاتی ہے.... اور وہ یہ کہ لوگ جیسے جیسے اللہ توفیق دے گا ہماری دعوت کو قبول کرتے رہیں گے تاآنکہ وہ اتنے ہو جائیں کہ زندگی کے سبھی شعبوں پر بلکہ تو حکومت پر ہمارا اقتدار ہو جائے اور سب معاملاتِ زندگی ہم سے پوچھ کر یا ہمارے ہی زیر انتظام چلنے لگیں اور تب ہی کہیں جاکر شریعت اور حدیث و فقہ کے وہ سب ابواب کھلیں گے جو کتابوں میں فی الوقت بند پڑے ہیں اور ایک غیر معین عرصہ تک بند ہی رہیں گے اور زیادہ سے زیادہ تدریس کے عمل میں ہی سامنے آئیں گے!

یہ انداز فکر دراصل کچھ واضح واضح سماجی حقائق سے لاعلمی کانتیجہ ہے۔معاشرے جس طرح تبدیل ہوتے ہیں ، وہ حقائق اس اندازِ فکر کے لئے بالکل اجنبی ہیں ۔ اس غیر عملی طرز فکر اور اس سطحیت کے باعث نہ تو ابھی اس وقت آپ اس پوزیشن میں آسکیں گے کہ آپ اِس وقت کے معاشرے پر اثر انداز ہوں اور نہ اُس وقت جب کسی معجزہ کے نتیجے میں معاشرے آپ سے پوچھ کر چلنے لگیں گے!

لوگ اِس وقت ایک غیر اسلامی نظام میں رہنے کی قیمت ہزار ہا انداز سے دے رہے ہیں اور وہ لوگ جو آج اس صورتحال میں بھی شریعت ہی کا پابند رہنا چاہتے ہیں وہ تو اس نظام میں رہنے کی حد سے بڑھ کر قیمت دیتے ہیں ۔ بے شمار راستے وہ زندگی میں آگے بڑھنے کے معاملہ میں اپنے اوپر بند پاتے ہیں ۔ حاملینِ دین اور وارثانِ رسل سے ان کی توقع ہوتی ہے کہ وہ ان کو یہاں راستے بنا کر دیں اور ان کے لئے ایسے لائحہ عمل تجویز کریں بلکہ خود اس عمل میں آگے لگیں جس سے صالحین کا گروہ دنیا کا سب سے پسماندہ اور دنیا سے سب سے زیادہ کٹا ہوا اور دنیا کا سب سے بے اثر گروہ بن کر نہ رہے۔ مگر ان کو دینے کے لئے ہمارے پاس کچھ ہوتا ہے تو وہ ’فتویٰ‘ ہے جس کا دے دیا جانا بے حد آسان ہے اور ایسے بیشتر سوالوں اور الجھنوں کے جواب میں ’حرام‘ کا لفظ بار بار بولنے پر ہمارا کیا لگتا ہے.... البتہ ’فتویٰ‘ لینے والے، معاشرے میں رہتے ہوئے کیا کیا مشکلات اپنے سامنے پاتے ہیں ، وہ جانیں اور ان کا کام! کیا ’راہنمائی‘ اسی کو کہیں گے؟؟؟

حضرات! اپنے دینی حلقوں کے یہاں ایک ڈائنامک سماجی اپروچ پیدا کرائی جانا ایک باقاعدہ کام ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے مربیوں کے ہاں ایک خاص سوچ اور اندازِ فکر پایا جائے۔ دین کو بنیاد بنا کر معاشرے کو راہنمائی دینا اور ہر مرحلہ کیلئے باقاعدہ ایک حل اور ایک پلان رکھنا، یہ ایک باقاعدہ منہج ہے۔ اس کے لئے جس انداز کی محنت درکار ہوتی ہے اور محنت سے پہلے ذہن کے رخ پانے کے لئے جن فکری خطوط کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب ایک خاص سماجی پراسیس سے گزر کر ہی آپ کو حاصل ہوسکتا ہے اور اپنے نوجوانوں کو لازماً ہمیں اس سے گزارنا ہوگا۔ اپنے دور میں بسنے کیلئے، دین کے مروجہ علوم پاس ہونے کے علاوہ آپ پر یہ واضح ہونا بھی ضروری ہے کہ یہ جدید معاشرے جن میں ہم رہتے ہیں اور جن میں رہنے والوں کو ہم ’فتوی‘ دیتے ہیں کس نقشے پر اور کیونکر قائم ہیں اور یہاں کارفرما عوامل کیا کیا ہیں اور اس میں ہم اپنے لئے راستے کس کس طرح بنا سکتے ہیں اور کون کونسے راستے آگے چل کر بند ہونے لگتے ہیں ۔

بہرحال، سماجی منصوبے جو اِس وقت ہمارے پاس اپنے لوگوں کو دیے جانا ضروری ہیں اور اس کے لئے کچھ خاص خطوط پر محنت ہونا ہی پہلے ضروری ہے، ایک الگ موضوع ہے۔ ہم اِس پر یہاں گفتگو نہیں کر پائیں گے اور اگر اللہ نے چاہا تو اپنے سلسلۂ مضامین ’توحید.. تحریک تا معاشرہ‘ کے تیسرے حصہ میں اس پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔ یہاں مقصد صرف اس مغالطہ پر بات کرنا تھا جس سے ’منہجِ سَلَف‘ کو ہر ہر پہلو سے ’قدامت‘ کا ہم معنیٰ باور کر لیا جاتا ہے۔

اس لحاظ سے یہ واضح ہوجانا ضروری ہے کہ ’منہجِ سَلَف‘ پر چلنا جہاں ایک پہلو سے بے حد ’قدیم‘ ہونا ہے وہاں ایک دوسرے پہلو سے بے حد ’جدید‘ ہونا بھی ہے۔اس منہج کی سب کی سب ’قدامت‘ دراصل ہے ہی اس کی ’جدت‘ کے اندر جھلکنے کے لئے۔ اس ’پرانی‘ اور اصیل حقیقت کو اگر اپنے زمانے کی راہ سے نہیں جھلکنا تو پھر اس کی جانب ’رجوع‘ ہی کس کام کا!!؟ پھر تو واقعتا یہ ’حفظ‘ و ’تدوین‘ ہی کی کوئی چیز رہ جائے گی نہ کہ ایک ایسی حقیقت جس کا ہر دور کے اندر اسی دور کے رنگ و آہنگ میں ایک کامیاب اعادہ ہو اور دیکھنے والے دیکھیں کہ ایک ہی اصیل حقیقت ہر دور اور ہر زمانے کو ہی کس خوبصورتی کے ساتھ اپنے بے ساختہ بیان کا ذریعہ بنا سکتی ہے، کہ یہ اصیل حقیقت اُس خدائے علیم وخبیر کی الہام کردہ ہے جس کا کلام زمان اور مکان کی قیود سے بالا ہے!

٭٭٭٭٭

اپنے دین کے اصیل حقائق کو ایک عصری اسلوب اور زبان میں پیش کرنا بھی اسی منہج میں آتا ہے، تاکہ لوگوں کو ”دین“ صرف پرانے دور کی ایک بابرکت یادگار نہیں بلکہ اپنے عہد کی ایک جیتی جاگتی حقیقت بھی معلوم ہو۔ وہ بہت سے بند راستے جو معاشرے میں ہمارے آگے بڑھنے میں حائل ہیں ، اپنے کھلنے کے لئے شاید یہیں سے ہی ایک بنیاد پا لیں گے....

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللّهُ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(ابراہیم: 4)

”اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر اس کی قوم کی زبان دے کر، تاکہ عین واضح کردے وہ ان کے لئے (اپنا مطالبہ) پھر اللہ گمراہ کردے جس کو چاہے اور راہِ راست پر لے آئے جس کو چاہے، اور وہ تو ہے ہی غلبے والا، حکمت والا“

اس سے پہلے ہم اپنی ایک تحریر میں کہہ چکے ہیں (10):

’دینِ رسول‘ اور ’لسانِ قوم‘ یکجا ہوں تو ہی معاشرے میں حق اور باطل کی وہ کشمکش کھڑی ہو سکتی ہے جو جاہلیت کو جڑوں سے ہلا دے اور جو کہ معاشرے میں ایک جاندار تبدیلی لے آنے کی راہ کا پہلا سنگ میل ہے۔

نہ خدا کی طرف سے اتری ہوئی صاف شفاف وحی کا کوئی متبادل ہے خواہ کتنے ہی سقراط یہاں سر جوڑ کر کیوں نہ بیٹھ لیں ،اور نہ اس کو زمانے کی زبان دیئے اور زمانے کو اس کی سیدھ میں لائے بغیر کوئی چارہ ہے چاہے وہ اپنے اندر کتنا ہی بڑا حق ہوتاکہ ’بیان‘ کا حق ادا ہو جائے اور لوگ خدا کے ان تقاضوں کو جو وہ اپنے نبیوں کے ذریعے ان سے ان کے اپنے دور اور زمانے میں کرتا ہے صاف صاف پہچان سکیں ۔اس کے نتیجے میں جس کو پیاسا مرنا ہے وہ پانی پاس نہ ہونے کا کم از کم گلہ نہ کر پائے تاکہ آسمان اس پرروئے اور نہ زمین اس پر ماتم کرے اور جسے زندگی پانی ہے وہ اس آب حیات کو پی کر جئے ۔

فَيُضِلُّ اللّهُ مَن يَشَاء وَيَهْدِي مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (11)

چنانچہ ایک طرف ہمیں دینی سیکٹر میں اس معیار سے آگے گزرنا ہے جو یہاں معاشرے کو عمومی سطح ٰپر ایک دینی راہنمائی فراہم کرنے کے معاملہ میں اپنایا جاتا ہے۔یہاں دین کا علم و فہم اس کے مستند مراجع اور مستند رجال سے لینا ہے نہ کہ نیم علماءسے۔جبکہ آثار میں دورِفتن کی ایک علامت یہ بتائی گئی ہے کہ علم(دینی راہنمائی) کےلئے لوگ اکابر کو چھوڑ کر اصاغر سے رجوع کرنے لگیں گے(12)یعنی علم کے اصل مستند مراجع چھوڑ بیٹھیں گے۔

دوسری طرف ہمیں غیر دینی سیکٹر کے اندر فکری وثقافتی و سماجی رجحانات کے فہم واستیعاب کے معاملہ میں اس معیار سے آگے گزرنا ہے جو ایک سطحیت، جزوی نظر،عدم گیرائی،روایت پرست ذہنیت اور تابع(additional)ہو رہنے کی قدرتی ذہنی استعداد سے عبارت ہے۔

’سلفیت‘ یہ ہے کہ اسلام کے ازلی حقائق کو جو کہ وحی کے ابدی الفاظ میں کندہ ہیں امت کی پہلی تین نسلوں کے طریقے کا پابند رہتے ہوئے خود اپنے دور میں کھڑا ہو کر اور اپنے زمانے میں رہتے اور اپنے وقت کے تمام تردستیاب علوم سے مدد لیتے ہوئے اور اپنے تمام ترانسانی قویٰ سے کام لیتے ہوئے پہلے سمجھا جائے اور پھر اپنے زمانے کے انسان کو سامنے رکھ کر ان کی ایک مؤثر تعبیر کی جائے اور پھر اسی کو لے کر عملاً چلتے ہوئے اپنے ماحول اور عصر کے ساتھ ایک بھرپور تفاعل کیا جائے اور اسی کے نقشے پر اپنے گردو پیش اور اپنی دنیا کی ایک نئی تصویر بنانے کی کوشش کی جائے۔

پس سلفیت جہاں ایک طرف خالصتاً وحی کی اتباع ہے اور قرون اولیٰ کے فہم و دستور کا التزام،وہاں یہ واقعتا ایک عصری عمل ہے اور ایک زور دار فکری اور ثقافتی اپروچ a dynamic intellectual and civilizational aproach ۔اور حق تو یہ ہے کہ یہ دو چیزیں نہیں ایک ہی حقیقت کے دورخ ہیں ۔یہ حقیقت ان دونوں پہلوؤں سے بیک وقت پائی جائے تو ’سلفیت‘ بنتی ہے۔مگر بدقسمتی سے اس کی اول الذکر جہت ہی آج ’سلفیت‘ کے عنوان سے مشہور ہو پائی ہے جبکہ اس کی ثانی الذکر جہت قریب قریب ابتداع کی ہم معنیٰ ہو ٹھہری ہے۔ایک ہی حقیقت کو دو لخت کر کے ’سنت‘ اور ’بدعت‘ میں بانٹ دینے کی اس سے شدید تر مثال ہر گز کہیں نہ دیکھی گئی ہوگی۔

’حق‘ انسانی’فہم‘ کے بغیر کس فائدہ کا اور ’فہم‘ ’حق‘ کا نہ ہو تو وہ کس مرض کی دوا؟!

حق آسمان سے نازل ہوتا ہے اور فہم و ادراک کی استعداد انسان کے اندر ودیعت کردی گئی ہے۔ شرط یہ ہے کہ انسان اپنے دور کے وسط میں رہتا ہو۔چنانچہ مذمت کی بات اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ ’فکر‘ انسان کی اپنی اپج ہو۔فکر کا کام ہے کہ وہ وحی کا ملتزم و معتکف رہے اور اس ’اعتکاف‘ میں وہ سب حدود اور قیود اور آداب ملحوظ رہیں جو سلفِ اول کے ہاں مقرر ٹھہرے رہے۔ہاں اگر خالص وحی کا یہ اعتکاف اور التزام نہ ہو تو یہ گمراہی و گم گشتگی کا ہی پیش خیمہ ہے۔

اب چونکہ یہ ایک واقعہ ہے کہ زمانہ کی معاصرت کرنے والی آج کی بیشتر تعبیری کوششیں عقیدہ کے خالص اور مستند حقائق پر اپنی بنیاد نہ اٹھا سکیں اور سلفِ اول کے منہج کی پابندی کا تو شاید یہاں خیال تک نہ کیاگیا ہو (اس کو ’تقلید‘ سمجھ کر نظر انداز کردیا گیا) تو یہ لازمی بات تھی کہ اسلام کے حوالے سے آج کی یہ عصری تعبیریں خالص توحید سے اور خصوصاً دور سلف کے ٹھیٹ مزاج سے کسی نہ کسی درجہ میں ہٹی ہوئی نظر آتیں ۔مگر اس سے، بجائے اس کے کہ یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا کہ اسلام کی ایک عصری تعبیر خالص وحی کی بنیاد پراور وحی کی تلقی reception کے ایک ٹکسالی اسلوب کا التزام کرتے ہوئے ہی ہونی چاہیے، اندازِ فکر یہ اختیار کیا گیا کہ اصولِ اسلام کو اپنے دور کے اسلوب میں پیش کرنا اور معاصر ذہن کو اس کے اپنے فکری و سماجی پس منظر میں اسلام کی حقیقت سے بہرہ ور کرنا ہی ایک غیر ضروری کام ہے اور ایک فالتو پراجیکٹ اور بلکہ تو ایک گمراہ کن جدت پسندی!

نتیجہ یہ کہ پوری علمی دیانت اور ایک تحقیقی اسلوب میں نصوص کو من وعن نقل کردینے اور تصحیح و تضعیف کی گتھیاں ممکنہ حد تک سلجھا دینے اور نصوص کی بابت ازالۂ شوائب کردینے پر اکتفا کا رجحان ہی آج کے دور میں ’سلفیت‘ کی شناخت بن گیا۔سلفیت کی یہ ایک سچی اور حقیقی جہت ہے مگر ہے البتہ یہ سلفیت کی محض ایک ہی جہت جس کی رو سے آدمی کو وحی اور وحی سے متصل دور میں بہت پیچھے چلے جانا ہوتا ہے ۔جبکہ اس کی دوسری جہت یعنی اپنے دور کے فکری اور ثقافتی گھمسان کے عین بیچ میں رہ کر دکھانا اور یوں اپنے دور کے فکری و ثقافتی حلقوں میں اپنا منفرد و اصیل اسلامی وجود منوانا ،اس منہج کا دوسرا رخ تھا جوکہ بڑی حدتک ہمارے اس دور میں روپوش ہی رہا۔

غلطی سے ہم نے اس کو دین کا تقاضا سمجھا مگر درحقیقت اس دین کااپنا ہی تقاضا اس کے برعکس تھا۔ انسانی دنیا میں اس ’خالص دین‘ کا ’انسانی روپ‘ میں نمودار ہونا اس کا اپنا ہی تقاضا ہے۔ لِّتَكُونُواْ شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ (13) جس کا ذریعہ انسانی فکر ہے اور انسانی کردار اور انسانی سماج اور انسانی ثقافت۔

کسی چیز کا ایک ہی رخ ہووہ سایہ تو ہوسکتا ہے مگر کوئی حقیقی چیز نہیں ۔ خالص دین تو ہمیشہ کےلئے ہی محفوظ اور دنیا کی رسائی کےلئے موجود ہے۔ ہمیں اس کے تحفظ کا نسل در نسل ایک ذریعہ بنا دیا گیا تو یہ ہمارے لئے یقینا فخر کی بات ہے۔مگر عملاً اپنے دور میں ہمارا کوئی کردار تھا تو وہ یہ کہ ہم اس کا انسانی پرتو نظر آتے اور اس کی عصری زبان کی صورت میں سنے جاتے۔دنیا ہمیں ان دونوں جہتوں سے دیکھتی تو ہم دنیا کا ایک محسوس و ملموس جیتا جاگتا واقعہ ہوتے۔ تب دنیا ہماری وساطت ’مشاہدئہ حق ‘ کرتی اور ہم ’حق ‘ اور ’دنیا‘ کے مابین عملاً ’نقطہءاتصال ‘ہوتے نہ کہ محض ’حق کے محافظ‘۔

توازن اور تکامل اس منہج کا مرکزی نقطہ ہے۔’قدیم‘ہمیں محض ایک ہی جہت سے نظر آنا تھا نہ کہ ’دونوں ‘جہتوں سے !

اس منہج کی دونوں جہتوں کا ایک ہو جانا اس دور کا ایک حقیقی بحران تھا۔اس سے نکل آنا بعید نہیں اور بہت سے بحرانات کا حل ہو۔

٭٭٭٭٭
 

(1) النحل: 97”جو بھی درست و خوب عمل کرنے لگے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، تو ضرور بضرور ہم اسے ایک نہایت بھلی زندگی جینے کو دیں گے، اور ضرور بضرور ہم ان کے بہترین اعمال کا ہی ان کو بدلہ دیں گے “۔

(2) االاَحزاب:  72”بے شک وہ (انسان) ہمیشہ سے ہے بڑھ جانے والا ظلم میں اور بڑھ جانے والا جہالت میں “۔

(3) البقرۃ: 251”اور اگر کہیں اللہ (یہاں ) انسانوں کو ایک دوسرے کے ذریعے ہٹاتا نہ رہتا تو زمین کا پورا نظام ہی درہم برہم ہو رہتا، مگر اللہ تو بڑے ہی فضل والا ہے جہانوں پر “۔

(4) یہی وجہ ہے کہ شریعت کے اندر اس قدر زیادہ اور کثیر التنوع ابواب ہیں جو انسانی ذہن اور انسانی ضرورت کی وسعت کے ساتھ ایک بہترین انداز میں پورا اترتے ہیں ۔ صحیح بخاری کے ابواب ہی ذرا ایک نظر دیکھ لئے جائیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے (خصوصاً اگر آدمی زندگی کے مختلف شعبوں سے اچھی واقفیت رکھتا ہو)۔ خود قرآن مجید میں قلوب اور عقول کے عمل کے لئے اتنا کچھ ہے کہ انسانی تصور سے باہر ہے۔ پھر اسلامی علوم کے ان گنت فروع پر نظر ڈالیں اور اسلامی فنون کا وہ عظیم الشان ارتقاءدیکھیں جوکہ سلف کے جہابذۂ علم کے ہاتھوں عمل میں آیا اور جوکہ زمانے کے ساتھ پورا اترنے میں اپنے اندر کمال کی جہتیں رکھتا رہا ہے تو اسلام کے تہذیبی کردار کے ہزاروں دریچے آپ کے سامنے کھل جاتے ہیں ۔ اور تو اور ایک فقہ مالکی ہی کے بارے میں کئی ایک یورپی محققین کا کہنا ہے __ مالکی فقہ اس لئے کہ اندلس میں معمول بہ رہی ہے، جبکہ ”مسلم اندلس“ یورپ کے لئے ایک تعلیم گاہ کا درجہ رکھے رہا ہے __کہ یورپ کے اندر ہونے والے تشریعی ارتقاءمیں اور jurisprudence کے اندر ہونے والی صدیوں پر حاوی پیشرفت میں فقہِ مالکؒ کا بے حد اہم کردار رہا ہے!یہ صرف آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ’قرآن حدیث‘ سے چند ’مذہبی‘ مسائل اخذ کرلیا جانا ’وحی کی جانب رجوع‘ کے باب میں کیا جانا والا ’کل کام‘ سمجھ لیا گیا ہے! سطحیت ہمارا آج کا سب سے بڑا رونا ہے۔
(5) بلکہ ایک خاص معنیٰ میں آپ اس شخصیت کو ’دنیا دار‘بھی کہیں تو شاید بہت غلط نہیں ، اگرچہ ایک طبقہ ہماری اس بات کو بہت غلط مفہوم میں لے اور اس پر شدید رد عمل بھی ظاہر کرے۔ البتہ حقیقت یہی ہے کہ یہ ’دیندار‘ اور ’دنیادار‘ نام کے ’خانے‘ ہمارے معاشروں میں بہت بعد میں جاکر بنے، جس کے پیچھے دراصل ’دین و دنیا کی تقسیم‘ کا فلسفہ ہی کارفرما ہے اور جوکہ ہمارے اسلامی تصورِ حیات سے ہی صاف طور پر متعارض ہے۔ اسلام کی مطلوبہ شخصیت تو وہ ہے جو ’دیندار‘ ہونے میں بھی اپنی ایک انفرادیت رکھے گی اور اس میں ”صبغۃ اللہ“ کی صاف ایک جھلک ہوگی، اور ’دنیا دار‘ ہونے میں بھی ویسی ہی ایک انفرادیت اور ویسی ہی خدا آگاہی کی ایک بے ساختہ و فطری جھلک۔ رہی یہ بات کہ ’دنیاداری‘ کے بہت سے نمونے جن سے دنیا واقف ہے، غلط ہیں اور مسترد ہونے کے قابل.... تو ’دینداری‘ کے بہت سے نمونے بھی، جن سے دنیا واقف ہے، غلط اور قابلِ اصلاح ہیں ۔ بلکہ ایک لحاظ سے تو آخر الذکر زیادہ اصلاح طلب، کیونکہ ’دینداری‘ کا روایتی تصور درست ہوجائے تو ’دنیاداری‘ خود بخود عبادت اور باقاعدہ طور پر مطلوبِ دین بن جائے گی۔ یہ ’دنیا ‘ اور ’سماج‘ مومن کے لئے جب عبادت گاہ ہے، اور اس کی یہ عبادت کچھ مسجد ومحراب کے سانھ خاص نہیں (گو اُس کی اپنی ایک شان ہے).... تو پھر ”دنیاداری‘ ’جس سے ”یہ“ واقف ہوگا ”عبادت“ ہی کی ایک صورت ہوگی نہ کہ ’بے دینی‘ کا ایک مترادف!!!

(6) معدن کا مطلب ہے دھات metal ۔ لغت کے بعض ناقدوں نے، رسول اللہ ﷺ کا انسانوں کو خاص اس سیاق میں دھاتوں اور کانوں سے تشبیہ دینا، عربی مرقع ادب کے ایک نمونے کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ بلاشبہہ انسانی خام صلاحیتوں کے تنوع اور تفاوت کے لئے استعمال کیا گیا یہ لفظ بے انتہا بلاغت کا حامل ہے۔ پھر، دھاتیں تہذیب و عمران کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھے رہی ہیں ۔ کسی چیز کا قدرتی حالت میں کسی خاص انداز سے پایا جانا اور پھر انسانی عمل کے نتیجے میں اس کا کچھ سے کچھ بنا لیا جانا جو انسانی زندگی کے اندر ہزاروں کام دے، ’ماہرین‘ کو دعوتِ عمل دینے میں کمال کا ایک پیغام رکھتا ہے۔ 
حدیث کے کئی ایک شارحین نے ’معادن‘ یعنی دھاتوں اور کانوں سے خاندانی وسماجی پس منظر بھی مراد لیا ہے، جوکہ اس نبوی استعمالِ لفظ کی بلاغت کو دوچند کردیتا ہے۔

(7) مثلا یہ کہ ’مذہبی شخصیت‘ رشوت نہیں لیتی۔ بدعنوانی نہیں کرتی اور اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ عام طور پر نہیں کرتی۔ اور اگر کہیں معاملہ اس کے برخلاف دیکھنے میں آئے تو یہ عام معمول سے بڑھ کر شرم کی بات ہو، جسے نہ لوگ آسانی سے قبول کریں اور نہ مذہبی حلقوں میں یہ بات ہضم ہو، جوکہ نہایت مستحسن ہے۔

(8) جیسا کہ پچھلی فصل میں ہم کچھ بات کر آئے ہیں ، زیادہ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: ہماری کتاب ’آپ کے فہمِ دین کا مصدر کیا ہے؟

(9) اس موضوع پر قدرے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: محمد قطب کی کتاب کا اردو استفادہ ’دعوت کا منہج کیا ہو‘، خصوصا اس کی فصل’معاصر تحریکوں میں عجلت پسندی کے آجانے کے اسباب اور عواقب‘

(10) ایقاظ جنوری 2006ء کا اداریہ بہ عنوان: ”عقیدہ سے فکر اور ثقافت تک“، کچھ توسیع دینے کے بعد اس مضمون کو کتابی شکل میں سامنے لایا جانا ابھی باقی ہے۔

(11) آیت کا حوالہ و مفہوم اوپر گزر چکا۔

(12) دیکھئے المعجم الاوسط للطبرانی: روایت نمبر8140، علاوہ ازیں جامع بیان العلم مؤلفہ ابن عبد البر روایت نمبر 569، و روایت نمبر 570
ان مناَشراط الساعۃ ثلاثا: احداہناَن یلتمس العلم عند الاَصاغر کہ ” قیامت کی تین نشانیاں ہیں جن میں سے ایک یہ کہ علم کو چھوٹوں کے ہاں سے لیا جائے گا“
ابن عبد البر ان آثار کی شرح میں وہیں پر سلف کے کچھ ا قوال بھی نقل کرتے ہیں :
عبد اللہ بن المبارکؒ سے دریافت کیا گیا: یہ ’چھوٹے‘ کون ہوئے؟ فرمایا: وہ جو اپنی رائے سے بات کریں ۔ رہ گیا یہ کہ کوئی ’چھوٹا‘ کسی بڑے سے روایت کرے تو وہ ہرگز ’چھوٹا‘ نہیں ۔
ابو عبید نے اس اثر کی تفسیر میں عبد اللہ بن المبارکؒ سے نقل کیا کہ ابن المبارک اس کا یہ مفہوم لیتے تھے کہ ’چھوٹوں ‘ سے یہاں مراد ہیں اہل بدعت، نہ یہ کہ اس کا تعلق عمر سے ہو۔
ابو عبید نے کہا: ’چھوٹوں ‘ سے مراد جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ کہ دین کا علم اصحاب رسول اللہ کو چھوڑ کر ان لوگوں سے لیا جائے جو اصحابؓ رسول اللہ کے بعد پائے گئے اور ان (بعد والوں کی رائے کو) اصحاب رسول اللہ کی رائے اور ان کے علم پر مقدم کیا جائے۔ یہ ہے علم کو ’چھوٹوں ‘ کے ہاں تلاش کرنا۔

(دیکھئے جامع بیان العلم، مؤلفہ ابن عبد البر: جلد 1 صفحہ 312)

(13) البقرۃ:143 ”تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو “
 


Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز