کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
|
:عنوان |
|
 |
برصغیر کا مسلم سویا ہوا اور اسکے اسلامی قائدین صرف انہی نعروں پر انوسٹمنٹ کےروادار، مانند ’کرپشن‘ ’مہنگائی‘ ’ووٹ کو عزت‘ وغیرہ، جو فی الوقت سکہ رائج الوقت ہیں اور جس پر
جاہلی میڈیا ان کےلیے تالیاں پیٹ سکتا ہے |
|
|
کلچرل
وارداتیں اور ہماری عدم فراغت!
حامد کمال الدین
ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب بلکہ یہاں کے معاشرتی
علوم کے نصاب بھی جس سید احمد شہیدؒ کو، جو اپنی مٹھی بھر تحریکِ مجاہدین کو لے کر
رنجیت سنگھ کی سکھا شاہی کے ساتھ جا بھڑے تھے، اور دیوانہ وار لڑتے ہوئے بالاکوٹ
کے مشہور معرکے میں جام شہادت نوش کر گئے تھے... غرض یہاں کے معاشرتی علوم کے نصاب
بھی جس سید احمد شہیدؒ کو اپنے قومی ہیرو کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں، تمہاری یہ
مستعار عقول اس سید احمد کے کردار کو حرفِ غلط ٹھہرانے کےلیے آج اس کے حریف کا بُت
اپنی بادشاہی مسجد اور شاہی قلعہ کے پہلو میں نصب کر دیتی ہیں!!!
کلچرل ارتداد کو یہاں ایجنڈا کے طور پر لے کر چلنے والا یہ ایک
ہی چھوٹا سا ٹولہ ہے جس کا جہاں ہاتھ پڑے وہاں بڑی خاموشی کے ساتھ واردات کر گزرتا ہے۔ ہماری تاریخ اور ہمارے قومی
وجود سے ’’اسلام‘‘ کو کھرچنے کےلیے کہیں فزکس ڈیپارٹمنٹ کو ایک قادیانی سے موسوم
کرنے کو اسلام کے اس قلعہ کے حق میں ایک achievement
بنانا، تو کہیں پارلیمنٹ کے حلف نامے سے ختم نبوت والی شق کو
’چپکے‘ سے غائب کروا جانا، تو کہیں مسلم فاتحین کی کردرا کشی پر مبنی لہجے عام
کرنا، تو کہیں کمپنیوں کے اشتہارات میں اپنی ’کلچرل‘ غلاظت کے داغ چھوڑتے پھرنا۔
یقین کیجیے اس ایک چھوٹے سے
وارداتی ٹولے کی یہ پےدرپے ’’کامیابیاں‘‘ “achievements”
دلیل
ہیں تو صرف ایک بات پر اور وہ یہ کہ ’’گھر والے‘‘ یہاں گہری نیند سوئے پڑے ہیں۔ یہ
تو چور ہی ڈرا ہوا ہے جو صرف اتنی سی ’کامیابیوں‘ پر اکتفا کیے جاتا ہے۔ لیکن
ہمارے خراٹے جس طریقے سے اس کا حوصلہ بڑھاتے چلے جا رہے ہیں اور وہ اپنی ایک کے
بعد ایک حرکت کو خود بھی بےیقینی کے ساتھ دیکھتا ہے کہ جس چیز کی وہ اس ملک میں آج
تک جرأت نہیں کر سکا آج اسے اس پر کوئی ٹوکنے والا تک نہیں رہا، توقع رکھیے اسلام
کی دیوار کو ڈھانے کےلیے وہ یہاں کچھ بڑے بڑے اقدامات کر گزرے۔ یہ سب تو شاید ایک
’واٹر ٹیسٹ‘ ہے، جس کا نتیجہ ہر بار یہ کہ برصغیر کا مسلم سویا ہوا ہے اور اس کے
اسلامی قائدین صرف انہی نعروں پر انوسٹمنٹ کرنے کے روادار ہیں، مانند ’کرپشن‘،
’مہنگائی‘ اور ’’ووٹ کو عزت‘ وغیرہ، جو فی الوقت سکہ رائج الوقت ہیں اور جس پر جاہلی
میڈیا ان کےلیے تالیاں پیٹ سکتا ہے! ابن الوقتی خود ہماری صفوں سے نکل جائے تو
مسلم عقول کے ایک خاص ایجنڈا کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی اس وارداتِ عظیم کی بھی ہم
شاید کچھ خبر لے سکیں۔ ہم فی الوقت فارغ نہیں ہیں!!!
|
|
|
|
|
|