معاشرے کا اسلام کے حق میں فیصلہ دینا اکثر ہمارے کسی دُوررَس ابلاغی لائحۂ عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ زیادہ تر یہ ایک خودکار عمل ہوتا ہے اور موقع پر اٹھائی ہوئی ’’وا اسلاماہ‘‘ کی کوئی صدا کام آ جاتی ہے، جس سےمعاشرے کی اپنی ہی اسلامی حس بیدار ہو جاتی ہے
’ویلنٹائن‘ وغیرہ اشیاء چند عشرے پیشتر یہاں کسی نگاہِ غلط انداز کے قابل بھی شاید نہیں تھیں۔ ان کا خالی ذکر ہونا قدروں پر ایمان رکھنے والے ایک مسلم معاشرے کےلیے معیوب ہوتا۔ کسے پڑی تھی کہ پرائی قوم کی تلچھٹ چھانتا پھرے۔ مگر اب آپ نے دیکھ لیا ایک آفت تھی جو مشکل سے ٹلی۔ وہ بھی ہائی کورٹ کے ایک جج کے فیصلہ نے یہ سارا پانسہ پلٹ دیا، ورنہ آپ دیکھتے کیا منظر ہوتا۔ (پوری قوم فاضل جج کے اس فیصلے کی ممنون بےشک ہے)۔ خود آپ کا ’آگہی بخش‘ میڈیا ایک بڑی حد تک قانون کا پابند ہے حیاء کا نہیں، سو قانون کے دم سے خیر رہ گئی۔
قدروں کے حوالے سے قانون کا حرکت میں آنا بےشک مطلوب ہے، مگر یہ معاشرے کے حق میں الارمنگ alarming بھی ہے، خصوصاً اگر وہ اس بڑی سطح پر ہو۔ قدروں کے تحفظ کے معاملہ میں آپ جانتے ہیں ‘’قانون‘‘ آپ کی آخری ڈیفنس لائن ہوتی ہے۔ جس کا مطلب ہے آپ کی بہت سی ڈیفنس لائنیں درہم برہم ہو چکیں۔ پھر جبکہ یہ قانون کا سہارا بھی کچھ ایسا پائیدار نہ ہو! آئین میں جو کچھ بھی ہے، اور وہ بےشک بڑا واضح ہے کہ اس ملک میں لوگوں کو اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنانا ریاست کی باقاعدہ ذمہ داری ہے، لیکن سب جانتے ہیں، آئین کا پالیسیوں اور فیصلوں میں ڈھل جانا یہاں کیسا ایک مشکل اور نایاب واقعہ ہے۔
اس سے زیادہ امید افزا بات ایک حوالے سے میری نظر میں لبرلزم کی جانب مائل ایک انگریزی جریدے کی مایوسی ہے، جس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بیچ چوراہے کے ’پولنگ‘ کےلیے لا دھرا تھا کہ آیا آپ اس کی تائید کرتے ہیں یا نہیں۔ مجھے ذرہ شک نہیں کہ ہمارا معاشرہ ایک شدید حد تک اسلام پسند اور اقدار پرست معاشرہ ہے، پھر بھی اس انگریزی جریدے کے ’پول‘ کا نتیجہ ویلنٹائن پر پابندی کے خلاف آتا تو میرے لیے باعثِ تعجب نہ ہوتا۔ اس لیے کہ انگریزی پڑھنے والا طبقہ اس اسلام پسند اور اقدار پرست معاشرے کا نمائندہ طبقہ بالعموم نہیں ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ انگریزی دان طبقے میں سے قدروں پر ایمان رکھنے والے لوگ زیادہ تر ’اپنے کام سے کام رکھنے‘ والے ثابت ہوئے ہیں جو ’پولز‘ وغیرہ کو کسی تہذیبی کشمکش کے طور پر لینے کا تردد کم ہی کرتے ہیں۔ جبکہ ’میڈیائی چابک دستی‘ کا حامل طبقہ بالعموم وہی ہے جو یہاں لبرل ایجنڈا کی نوکری پر مامور ہے۔ لہٰذا ایک انگریزی جریدے کا پول اگر ’لبرل‘ اھواء کے حق میں نکل آتا تو میرے لیے یہ کوئی انہونی خبر نہ ہوتی۔ نہ ہی یہ اس بات کی غماز ہوتی کہ پاکستان کی اکثریت اس وقت لبرل رجحانات سے متاثر ہے۔ تاہم یہ ایک نہایت خوش گوار خبر ہونے کے ساتھ ساتھ میرے لیے حیران کن تھی۔ انگریزی اخبار پر پہنچ کر رائے دینے والا طبقہ اس بھاری اکثریت کے ساتھ اگر یہ فیصلہ سنا رہا ہے کہ پاکستان میں ایسی خرافات کی کوئی گنجائش نہیں تو معاشرے کی عام اکثریت تو ان شاءاللہ کہیں بڑھ کر یہ فیصلہ سنانے والی ہو گی۔ اور وہاں تو ’سترہ فیصد‘ کیا ایک عشاریہ سات فیصدی بھی اس کے خلاف نہ جاتی۔ حق بھی یہی ہے کہ بہت سے مواقع پر ہم نے اپنی آنکھوں دیکھا، کسی لبرل قضیے کے حق میں جلوس نکالنے والے پلے کارڈ بردار مرد اور عورتیں چند درجن سے تجاوز نہیں کر رہے ہوتے اور صرف میڈیا کے کرشمے سے ’خبر‘ کے درجے کو پہنچتے ہیں۔ کیا یہ حیران کن نہیں کہ میڈیا میں ان حضرات کو یدِ طولیٰ حاصل ہونے کے باوجود عوام کی سطح پر ان کے ایجنڈا کو کوئی پزیرائی نہیں؟ میں چاہوں گا کہ ہمارے اسلام پسند اور قدروں کے محافظ طبقے اپنی اس اصل طاقت strength کا اندازہ کریں اور اس کے مطابق کوئی لائحۂ عمل وضع کریں۔ یہاں صرف ایک ابلاغی حکمت عملی سامنے لانے کی ضرورت ہے، جوکہ اس وقت ہم نہیں لا رہے، باقی سب سماجی عوامل اللہ کے فضل سے ہماری پشت پر ہیں۔ اس بات کا اندازہ کر لینا بےحد ضروری ہے کہ یہاں گاہےگاہے معاشرے کا اسلام کے حق میں فیصلہ دینا اکثر ہمارے کسی دُوررَس ابلاغی لائحۂ عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ زیادہ تر یہ ایک خودکار عمل ہوتا ہے اور موقع پر اٹھائی ہوئی ’’وا اسلاماہ‘‘ کی کوئی صدا کام آ جاتی ہے، جس سے معاشرے کی اپنی ہی اسلامی حس بیدار ہو جاتی ہے اور معاشرے کی گھٹی میں بیٹھی ہوئی ایک چیز لمحوں میں صدائےبازگشت بن کر سامنے آ جاتی ہے۔ یہ بات جہاں خوش کن ہے وہاں لمحۂ فکریہ بھی ہے۔ تصور کریں، اس قدر عظیم الشان پوٹینشل عوامی تائید رکھتے ہوئے ہمارے پاس کوئی مؤثر ابلاغی پروگرام بھی ہوتا! پھر کون اس ملک میں لبرل سویرے کے راگ چھیڑ سکتا؟ سبحان اللہ، اس ملک میں اسلام کے حاکم نہ ہونے کا مقدمہ؟ ایسی بات کرنے والے یہاں منہ چھپاتے پھرتے۔ مگر اب وہ دندناتے ہیں، محض اس لیے کہ اسلام کے کیس کو یہاں کوئی مؤثر وکیل دستیاب نہیں ہے جو اسے خاص موقعوں پر آنے والے ’رد عمل‘ کی بجائے ایک پروایکٹو proactive تاثیری عمل کے طور پر لاتا۔ یہ اپنے وجود میں آنے کےلیے واقعات کا محتاج یا منتظر نہ ہوتا بلکہ خود یہ واقعات کو وجود دینے والا ہوتا۔ اس چیز کےلیے ہمیں بہرحال سوچ بچار کرنا ہو گا۔