یہ کس سے جنگ چھیڑی ہے۔۔۔؟!
شاعر: عدیل احمد عدیل (کراچی)
سنو للکارنے والو !
سنو للکارنے والو!!
کسے للکارتے ہوتم ؟!
یہ کس پہ وار کرتے ہو!!
کہ ہاہاکار کرتے ہو
مگر یہ بھول جاتے ہو
یہ کس سے جنگ چھیڑی ہے۔۔۔
کسے تسخیر کرنے کی ادھوری کوششوں میں تم مگر مصروف رہتے ہو
چمن پہ قہر ڈھاتے ہو ، گُلوں کو روند دیتے ہو
ستم کی فصل بوتے ہو!
امام الانبیاءﷺ کے تم کبھی خاکے بناتے ہو
کبھی افکار کو ان ﷺ کے ، نشانے پر سجاتے ہو
مگر یہ جانتے ہو کیا!؟
سگ ِآ وارگاں کی جب بری آوازگونجے تو
مسلماں جاگ جاتے ہیں!
فصیلیں ٹوٹ جاتی ہیں!
قلعے تسخیر ہوتے ہیں!
ستم کی فصل بوتے وقت ہمیشہ سوچ لینا تم
مری تاریخ کہتی ہے
کہ جب یہ فصل اگتی ہے نہایت تلخ ہوتی ہے
یہ اپنے ہاریوں کے خون سے سیراب ہوتی ہے!
سنو للکارنے والو! نہایت غور سے سن لو !
میرے آقاﷺ کے بارے میں زبانیں زہر جب اگلیں
تو ان ﷺ کے چاہنے والے سروں کو کاٹ دیتے ہیں