’اور میرا بولنا ذکر‘....! |
رہے ’کلمات‘ تو ان کا تحفظ یہ ہے کہ آدمی زبان کو بے سود نہ چلنے دے۔ وہی بات بولے جو اس کے اندازے میں اسے کوئی نفع لا کر دے اور یا اس کے دین کا بھلا کر کے جائے۔
بولنے سے پہلے آدمی ہمیشہ تولے آیا یہ بول کر وہ کچھ نفع پانے والا ہے یا نہیں؟ اگر نفع کی کوئی اُمید نہیں تو چپ ہی بھلی۔ البتہ کوئی نفع ہے تو پھر یہ تولے آیا یہ بات کہہ دینے سے اس نے اپنے لئے بولنے کا کوئی ایسا موقع تو ختم نہیں کر لیا جو کہ اس سے بھی بڑھ کر نفع بخش ہو سکتا تھا؟ جو بات وہ کہنے جا رہا ہے اس سے بھی بہتر کیا کوئی اور بات تو نہیں جو وہ نہیں کہہ رہا؟ ایسا ہو تو ’یہ‘ بول کر ’وہ‘ بولنا اپنے حق میں فوت نہ کرلے۔
تم اگر کبھی اندازہ لگانا چاہو کہ کسی دِل میں کیا کیا کچھ ہے تو اِس کا کچھ اندازہ تم آدمی کی حرکتِ زبان سے ہی کر سکتے ہو۔ ’زبان‘ ضرور کچھ نہ کچھ ’ِدل‘ کی خبر دے جاتی ہے، آدمی لاکھ چاہے یا نہ چاہے....!
یحییٰ بن معاذؒ فرماتے ہیں:
’قلوب کیا ہیں ہانڈیاں ہیں جو ایک خاص آنچ پر دھری ہوئی ہیں۔ ان میں وہی کچھ جوش کھاتا ہے جو کچھ کہ ان میں ہے۔ زبانیں وہ ’کف گیر‘ ہیں جن سے ’پکوان‘ کچھ نہ کچھ باہر انڈیل لیا جاتا ہے‘!
پس آدمی کو دیکھنا چاہو تو اس وقت دیکھو جب وہ بولتا ہے۔ وہ کبھی اپنے اس ’پکوان‘ کا مزہ چکھائے بغیر نہ رہے گا۔ صاف پتہ چلے گا جو اندر پک رہا ہے میٹھا ہے یا ترش۔ خوش مزہ ہے یا بدذائقہ....!
صحابیِ رسول انس رضی اللہ عنہ ایک مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں:
”آدمی کا ایمان درست نہیں ہوتا جب تک اس کا دِل درست نہ ہو جائے۔ آدمی کا دِل درست نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی زبان درست نہ ہو جائے“
آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا: کون سی چیز سب سے زیادہ انسانوں کو جہنم میں داخل کرائے گی؟ فرمایا:
”زبان اور شرمگاہ“ (ترمذی، حدیث حسن صحیح)
معاذ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اسلام کی اساس اور عمود اور کوہان کی چوٹی کی بابت جاننا چاہا۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا:
”کیا میں تمہیں وہ چیز ہی نہ بتا دوں جو اس سب کا ملاکِ امر ہے؟“
کہا: ارشاد فرمائیے اللہ کے رسول ﷺ! تب آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر دکھائی اور فرمایا:
”بس اس کو تھام رکھو“
معاذ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا: تو کیا ہم اپنے بولنے پر ہی پکڑے جائیں گے!؟
فرمایا:
”تمہاری ماں تم پر روئے ارے او معاذ! تو کیا لوگوں کو ان کے چہروں کے بل ___ ایک روایت میں، ان کے نتھنوں کے بل ___ گرانے والی ان کی زبانوں کی کمائی کے سوا کوئی اور بھی چیز ہوگی؟!“ (ترمذی، حدیث حسن صحیح)
عجیب بات یہ ہے کہ آدمی پر حرام کھانے سے بچ رہنا آسان ہے۔ ظلم و زیادتی، چوری چکاری اور شراب خوری اور نظرِ حرام ایسے امور سے مجتنب رہنا آسان دیکھا گیا ہے۔ لیکن زبان کو قابو رکھنا بسا اوقات مشکل تر۔ اور تواور ایسے ایسے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ دینداری اور زہد اور عبادت گزاری میں مثال جانے جاتے ہیں پر زبان کی نوبت آتی ہے تو وہ کچھ بول جاتے ہیں جو اللہ کو سخت ناپسند ہو اور جو انہیں عذاب میں جھونک آنے کیلئے کافی ہو۔
کتنے ہی پرہیزگاروں کو آپ دیکھیں گے کہ بدکاریوں اور گناہوں سے کوسوں دور رہتے ہیں مگر زبان ہے جو زندوں کی چغلیوں سے تو کیا رکے گی مرے ہوئے لوگوں کو بے آبرو کرنے سے نہ ہٹے گی۔ پرواہ تک نہ ہوگی کہ حضرت کہہ کیا رہے ہیں!
ایک بے سوچا سمجھا جملہ آدمی کو کیسے کیسے مروا ڈالتا ہے، دیکھئے صحیح مسلم میں جندب بن عبداللہ کی حدیث: فرمایا رسول اللہ ﷺ نے:
”ایک آدمی بولا: بخدا، فلاں آدمی کو خدا کبھی معاف نہ کرے گا۔ تب خدا تعالیٰ نے فرمایا: یہ ہوتا کون ہے جو اپنی طرف سے مجھ پر بات کرے کہ میں فلاں شخص کو کبھی معاف نہیں کروں گا؟ جاؤ میں نے اسے معاف کیا البتہ تمہارا سب عمل غارت کردیا“
کیا معلوم اس عبادت گزار نے کتنی کتنی عبادت کی ہوگی۔ زبان سے نکلا ہوا ایک کلمہ سب کیا کرایا غارت کرا بیٹھا....!
ابوہریرہؓ کی حدیث میں بھی ایسا ہی مروی ہوا ہے۔ جس کے بعد ابوہریرہؓ کہتے ہیں: ”ایک ہی کلمہ اس کی دُنیا اور آخرت برباد کرگیا“۔
صحیحین میں ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
”آدمی خدا کی خوشنودی والی کوئی ایک بات کر دیتا ہے جسے بولتے وقت اس کا سان گمان تک نہیں ہوتا مگر اس کے سبب اللہ اس کے درجات بلند کرتا جاتا ہے۔ آدمی خدا کی ناراضی کی کوئی بات کر دیتا ہے جسے بولتے وقت اس کا سان گمان تک نہیں ہوتا مگر وہ اس کے سبب جہنم میں اترتا ہی چلا جاتا ہے“۔
جبکہ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں:
”آدمی ایک بات بول دیتا ہے اور دیکھتا تک نہیں اس میں کہہ کیا دیا گیا ہے، جس کے سبب وہ جہنم میں اتنی دور تک لڑھکتا چلا جاتا ہے کہ شاید مشرق اور مغرب کا فاصلہ بھی اس سے کم ہو“
ترمذی میں بلال بن حارث مزنی، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں:
”تم میں سے کوئی شخص کبھی خدا کی خوشنودی کی بات کر لیتا ہے جبکہ اس کو گمان تک نہیں ہوتا کہ اس کے اثرات کہاں کہاں تک پہنچیں گے تب اللہ اس کے بدلے اپنی خوشنودی اسکے لئے اپنے روزِ ملاقات تک کیلئے لکھ چھوڑتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی خدا کو ناراض کرنے والی کوئی ایک بات کر بیٹھتا ہے جبکہ اس کو گمان تک نہیں ہوتا کہ اس کے اثرات کی نوبت کہاں کہاں پہنچے گی۔ تب اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اپنی خفگی اس کیلئے اپنے روز ملاقات تک کیلئے لکھ چھوڑتا ہے“
اس مذکورہ بالا حدیث کی بابت، علقمہؒ کہا کرتے تھے: ’بڑے بڑے لفظ میرے منہ پر آئے ہوئے، بلال بن حارثؓ کی اس ایک حدیث نے روک دیے‘!!!
ترمذی میں ہی حضرت انسؓ کی حدیث ہے کہ صحابہ میں سے ایک آدمی فوت ہوا۔ تب ایک آدمی نے کہا: جنت مبارک ہو! تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم؟ کیا پتہ اس نے کچھ بے سروکار بولا ہو یا ایسی چیز یا ایسی بات میں بخل کیا ہو جس کے کرنے سے اس کا کچھ بھی نہ گھٹتا“
(ترمذی نے اسے حدیث حسن کہا ہے)
ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: ایک نوجوان نے یومِ اُحد شہادت پائی۔ اس کے پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہوا پایا گیا جو اس نے بھوک سے باندھ رکھا ہوگا۔ اس کی ماں اس کے چہرے سے مٹی پونچھتی ہوئے کہہ رہی تھی: مبارک ہو بیٹا جنت تمہاری ہوئی۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا معلوم؟ شاید اس نے کچھ بے سروکار بولا ہو یا وہ چیز دینے سے انکاری ہوا ہو جس کے دے دینے میں اس کو کوئی نقصان نہ ہوتا“۔
صحیحین میں ابوہریرہؓ سے مرفوع روایت ہے:
”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے“
مسلم کے الفاظ ہیں:
”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ جب کسی موقع مناسبت پر حاضر ہوتا ہے تو وہاں اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے“
ترمذی نے صحیح اسناد کے ساتھ نبی ﷺ سے روایت کی:
”آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی امور سے مجتنب ہو“
سفیان بن عبداللہ ثقفیؓ سے روایت ہے، کہا: میں نے عرض کی یا رسول اللہ! اسلام میں مجھے کوئی ایسی بات بتا دیجئے جو آپ کے بعد میں کسی سے نہ پوچھوں۔ فرمایا: کہو: ’ایمان لایا میں‘، پھر اس پر استقامت پکڑو۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ آپ ﷺ میرے لئے کیا خدشہ دیکھتے ہیں؟ تب آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”یہ“....!!!
اُم المومنین ام حبیبہ نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں:
”ابن آدم کا بولا ہوا ہر لفظ اس کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف جاتا ہے، سوائے یہ کہ وہ نیک کام کا کہے یا بُرائی سے روکے یا اللہ عزوجل کا تذکرہ کرے۔ ترمذی نے اسے حدیث حسن کہا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے: صبح ہوتی ہے تو سب اعضاءزبان کو جھڑکتے ہیں اور اسے کہتے ہیں: ہمارے معاملے میں خدا سے ڈرنا۔ ہم تمہارے ساتھ وابستہ ہیں۔ تم سیدھی رہو تو ہم بھی سیدھا رہیں۔ تم ٹیڑھ پن میں پڑو تو ہم بھی ٹیڑھ پن کا شکار ہو جائیں“
سلف صالحین کا حال یہ تھا کہ وہ ایسے ناقابل التفات جملوں تک پر اپنا احتساب کر لیا کرتے تھے کہ مثلاً: ’افوہ کیسا گرم دِن ہے یا کیسا سرد دِن ہے‘۔ اہل علم میں سے کوئی بزرگ شخصیت فوت ہوجانے کے بعد کسی کو خواب میں نظر آئی۔ پوچھا گیا: کیسا معاملہ رہا؟ کہا: ایک کلمہ ایک بار زبان سے کہہ بیٹھا تھا اس کی وجہ سے روک لیا گیا۔ میں نے کہہ دیا تھا ’لوگ بارش کے کس قدر ضرورت مند ہیں‘۔ مجھے کہا گیا: تم بہت جانتے ہو؟ میں خود اپنے بندوں کی ضرورت بہتر جانتا ہوں۔
سلف اور خلف کے ہاں اس پر اختلاف رائے پایا گیا ہے کہ آیا انسان کا بولا ہوا ہر لفظ لکھ لیا جاتا ہے یا صرف خیر اور شر کی بات لکھی جاتی ہے؟ اس پر دو رائے ہیں مگر پہلی رائے کا قوی ہونا ظاہر تر ہے۔
سلف میں سے کسی کا قول ہے: ’ابن آدم کی بولی ہوئی ہر بات اس کے خلاف پڑتی ہے نہ کہ اس کے حق میں سوائے وہ بات جو خدا کے تعلق سے آئی ہو‘۔
ابوبکر صدیقؓ اپنی زبان پکڑ کر کہا کرتے تھے۔ اس نے مجھے بڑی بڑی مشکلوں میں ڈالا۔
تمہارے لفظ تمہارے قیدی ہیں۔ البتہ جب تمہارے منہ سے نکل جائیں پھر تم ان کے قیدی ہو۔ اور اللہ ہر بولنے والے کی زبان پر اپنے پہرے دار رکھے ہوئے ہے۔
مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ۔ (ق: 18)
٭٭٭٭٭
زبان کے معاملے میں دو آفتیں پائی جا سکتی ہیں۔ آدمی ایک سے بچ جائے تو دوسری میں جا پڑتا ہے۔ یا ’بولنے‘ کی آفت اور یا پھر ’چپ سادھ لینے‘ کی آفت....
ہو سکتا ہے ان میں کسی وقت ایک آفت زیادہ مہلک اور آدمی کو گناہ میں ڈال آنے والی ہو اور کسی وقت دوسری....
پس جو شخص حق سے خاموشی اختیار کرتا ہے وہ گونگا شیطان ہے۔ اللہ کا صاف نافرمان ہے۔ ریاکار ہے اور اللہ کو ناراض کر لینے کی قیمت پر انسانوں کے ساتھ اچھا بننے (مداہنت) کا مرتکب، ہاں البتہ اگر اسے اپنی عافیت کا خدشہ لاحق ہو تو اور بات ہے۔
دوسری طرف، باطل بات بولنے والا شیطانِ ناطق ہے اور اللہ کا پکا نافرمان۔
اکثر مخلوق کا حال یہ ہے کہ بولنے کا معاملہ ہو تو حق سے انحراف ہوتا ہے اور چپ رہنے کا معاملہ ہو تو حق سے انحراف۔
جبکہ اہلِ وسط جو کہ اہلِ صراطِ مستقیم میں یہ وتیرہ اختیار کرتے ہیں کہ باطل سے اپنی زبانوں کو روک لینے کا تو پورا اہتمام ہوتا ہے البتہ ان خاص امور میں جو ان کو اخروی فائدہ لا کر دیں اپنی زبانوں کو پوری چھوٹ دیتے ہیں۔ پس آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بولتے ہیں مگر ان کا بولا ہوا کوئی ایک لفظ بھی بے سود خرچ نہیں ہوا ہوتا بلکہ ایک ایک لفظ ان کو منفعت لا کر دیتا ہے اور ایک ایک لفظ میزان میں لکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ زبان کے استعمال میں وہ کبھی گھاٹا کما کر نہیں آتے۔
جبکہ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ زبان وہ چیز ہے جو گھاٹا کھانے یا نفع پہنچانے کا ایک خاص اوزار ہے۔ ایسے ایسے لوگ قیامت کے روز آئیں گے کہ نیکیاں پہاڑوں سے بڑھ کر ہوں گی مگر دیکھتے ہی دیکھتے نیکیوں کے یہ پہاڑ زبان کی کارگزاری کے ہاتھوں یوں چٹیل اور روپوش پائے جائیں گے کہ گویا تھے ہی نہیں۔ اسی پر بس نہیں، نیکیوں کے پہاڑوں کی جگہ پر دیکھتے ہی دیکھتے بدی کے پہاڑ نکل آئیں گے۔
جبکہ ایسا بھی ہوگا کہ گناہوں کے پہاڑ ہوں گے مگر زبان کے بولے ہوئے اچھے کلمات جو کہ خدا کے ذکر وتعظیم میں کہے گئے ہوں یا حق کی نصرت واعانت میں، ان سب کو بے وزن کر جائیں گے....!
خدایا خیر....!!!
٭٭٭٭٭