سکولوں سے لے کر کالجوں تک ”سیرت“ اور ”اسلامی تاریخ“ وغیرہ ایسے مضامین کا آغاز بالعموم ”زمانۂ جاہلیت“ کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ جس کے بعد طالبعلم کو ”زمانۂ نبوت“ اور ”قرونِ اولیٰ“ کے مطالعہ کی طرف بڑھنا ہوتا ہے۔ اب یہ پہلا سبق جو ”جاہلیت“ کے مطالعہ سے متعلق ہوتا ہے، کس طرح پڑھایا جاتا ہے؟ سرکاری ادارے ہوں، یا پرائیویٹ یا کوئی اور قسم، بالعموم یہ سبق یہاں پر کچھ اِس طریقے سے شروع ہوتا ہے:
”عرب، جاہلیت میں بتوں کی پرستش کیا کرتے تھے۔ لڑکیوں کو درگور کر دیتے۔ شراب پیتے۔ جوا کھیلتے۔ لوٹ مار کرتے۔ قبائل ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ اسلام نے آ کر لوگوں کو اِن سب برائیوں سے روکا“۔
”جاہلیت“ یا ”زمانۂ جاہلیت“ کا یہ جو وصف بیان ہوا، میں چاہوں گا ذرا میرے ساتھ آپ بھی اِس کا ایک تجزیہ کریں….
یہاں البتہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ سب وحشت ناکیاں اور ظلم و بربریت کی وہ سب داستانیں نظر سے اوجھل کرا دی جائیں جو استعمار کے ہاتھوں دنیا کے اندر سامنے آئیں۔ کس کس طرح استعمار نے ہر اُس سرزمین میں جہاں اس کے پیر لگے آگ اور خون کا بدترین اور بے رحم ترین کھیل کھیلا، خصوصاً عالم اسلام پر قبضہ کرتے وقت اور پھر اِس قبضہ کو مستحکم کرنے کیلئے کیا کیا ظلم ڈھائے گئے، سب کچھ ’ناقابل ذکر‘ ہو جاتا ہے۔ جنگوں میں یوں تو ہو ہی جاتا ہے‘! بارود کے اتنے بڑے بڑے ڈھیر، یک دم روپوش! یہ اوجھل کرا رکھنا بھی بے حد ضروری تھا کہ عالم اسلام کو قبضہ میں لانے کے پیچھے پیچھے کون کونسے صلیبی اغراض و مقاصد کار فرما تھے۔ اخلاق کے میدان میں یورپ کا وہ دیوالیہ پن جو اُس کو اُس وقت بھی لاحق تھا جب وہ ہمیں یہاں پر علم و معرفت کی تعلیم دینے بیٹھا تھا، نظر انداز کرا رکھنا ضروری تھا! ’مادے‘ کی اِس کثیر منزل ترقی کے ملبے تلے ’روح‘ کس بری طرح کراہ رہی تھی، نہایت ضروری تھا کہ اس کی سسکیاں بھی اپنے اِس شاگردِ رشید کو ہرگز نہ سننے پائیں!
اِس عبارت میں بظاہر کوئی غلط بیانی نہیں۔ مگر اِس کی تہہ میں جائیں تو یہ خباثت سے لب ریز ہے….
ظاہر ہے اِس عبارت میں کوئی غلط بیانی نہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں عرب یقینا ایسے ہی تھے جیسے جاہلی مدارس میں پڑھائے جانے والے اِس سبق میں ذکر ہوا ہے۔ اور یقینا اسلام نے آ کر اِس صورتحال کو تبدیل بھی کیا۔
اِس عبارت میں خباثت کہاں پر ہے؟ خباثت یہ ہے کہ اِس میں جاہلیت کا وہ ”اصل جوہر“ بیان نہیں ہوا جس کو مٹانے اور تبدیل کرنے کیلئے اسلام دنیا میں آیا ہے۔ یہ عبارت محض اور محض جاہلیت کے چند ”مظاہر“ سے بحث کرتی ہے اور وہ بھی اُس جاہلیت کے مظاہر جو عربوں کی تاریخ کے ایک خاص حصے کے اندر پائی گئی اور جبکہ عین ممکن ہے ویسے ”مظاہر“ دوسری جاہلیتوں کے اندر نہ پائے جائیں۔ کیونکہ جاہلیت کا ”اصل جوہر“ ایک ہے جو کبھی نہیں بدلتا۔ ہاں ہر جاہلیت کے ”مظاہر“ اپنے اپنے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے اسلام اِس لئے نہیں آیا تھا کہ یہ ”عرب جاہلیت کے مظاہر“ کو ختم کرے۔ اسلام اِس لئے آیا ہے کہ یہ جاہلیت کے ”اصل جوہر“ ہی کو نیست و نابود کرے۔ اسلام کسی ایک جاہلیت کو ختم کرنے بھی نہیں آیا۔ یہ ہر جاہلیت کو ختم کرنے آیا ہے اور اس کی جگہ خدا کی فرماں برداری پر قائم زندگی کا پورا ایک تصور دینے آیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں .. جب ہم طالبعلم کے ذہن میں اسلام کا کردار اِسی ایک بات کے اندر محصور کر دیں گے کہ اِسلام کو جاہلیت کے یہ خاص ”مظاہر“ ختم کرنا تھے، تو پھر اس طالبعلم کے اپنے زمانہ میں اسلام کاکیا کردار باقی رہ جاتا ہے اور وہ کونسی مہمات ہیں جو اسلام کو خود اِس کے دور میں سر کرنا ہیں؟
طالبعلم اب یہ سبق پڑھ کر باہر معاشرے میں آتا ہے تو اُس کو ”بتوں“ کی پرستش کہیں نظر نہیں آتی۔ اچھا تو اسلام دنیا میں جو مہات کو سر کرانے آیا ہے ان میں سے پہلا بند تو ساقط ہوا، ”بت“ تو یہاں دور دور تک کہیں نہیں پوجے جا رہے!!!
پھر وہ دیکھتا ہے، یہاں تو لڑکیاں بھی کہیں درگور نہیں ہوتیں! بلکہ معاملہ سراسر الٹا ہو چکا ہے۔ لڑکیاں تو یہاں ’دندناتی‘ پھر رہی ہیں!اِن لڑکیوں کو تو وہ ’آزادی‘ حاصل ہے کہ الامان والحفیظ!!! اچھا تو پھر اسلام کو جو مہمات سر کرنا تھیں، اُس کا دوسرا بند بھی ساقط ہوا!!!
ہاں کچھ لوگ، اور وہ بھی ظاہر ہے کچھ ہی ہیں، کہیں کہیں شراب پی لیتے ہوں گے۔ بعض جگہوں پر جوا بھی کھیل لیا جاتا ہے۔ بہر حال اسلام نے اِن لوگوں کو یہ بتا کر کہ شراب حرام ہے اورجوا کھیلنا کتنی بری بات ہے، اپنا ”اخلاقی فرض“ تو ادا کر ہی دیا ہے۔ اتنے سارے لوگ ہیں جو معاشرے میں شراب نہیں پیتے اور جوا کھیلنے ایسے واقعات بھی ان کی زندگی میں پیش نہیں آتے۔ آخر یہ بھی تو اسلام کی اِن ہدایات کو مانتے ہی ہیں۔ اب کچھ لوگ برائیوں میں پڑے ہوئے ہیں اور اسلام کی بات ان پر بے اثر ہو رہی ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے؟ ’گناہگار‘ تو بہرحال دنیا میں ہوتے ہی ہیں۔ زیادہ لوگ تو بہرحال ایسے ہیں جو اِن دونوں برائیوں میں نہیں پڑتے!…. یعنی یہ بند بھی سمجھو ختم ہی ہوا!
رہ گئی لوٹ مار اور قبائل میں آپس کی خونریزی…. تو مار دھاڑ اور قتل و خونریزی کی روک تھام کیلئے آج کے دور کے اندر ’سسٹم‘ وجود میں آ گئے ہیں۔ یہاں پولیس ہے۔ امن عامہ کے ادارے ہیں۔ سول حکومتیں ہیں۔ امن خراب کرنے والے عناصر کو پکڑنے کا پورا پورا بندوبست ہے۔ ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے انتظامات بھی خوب ہیں۔ کوئی بے قاعدگی ہو جاتی ہو گی تو یہ ’مس مینج منٹ‘ کا مسئلہ ہے، جوکہ لا ینحل نہیں….!
اچھا تو پھر اسلام کو اب دنیا میں کیا کرنا ہے؟؟؟ آج کے اِس دور میں وہ کونسا کردار ہے جو اسلام کو ہر حال میں ادا کرنا ہے اور وہ کونسی مہمات رہ جاتی ہیں جنہیں از روئے اسلام یہاں سر کرایا جانا ہے؟؟؟
سچ پوچھئے تو کچھ بھی نہیں!!!
تبصرہ :
0