عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, November 14,2019 | 1441, رَبيع الأوّل 16
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Fehame_Deen1 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ایک بے قابو مجمع!
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

ایک بے قابو مجمع!

   

جس امت کو ایک بڑی سطح پر داخلی یکسوئی حاصل نہ ہو وہ اپنے دشمن کے مدمقابل کونسا معرکہ سرانجام دے سکتی ہے؟ چنانچہ اب ایک عرصے سے ہمارے آپس کے ’معرکوں‘ کا ہی بازار گرم ہے جس میں کمی آنے کا تو سوال بھی ’عجیب‘ لگتا ہے البتہ اس میں تیزی روزبروز آرہی ہے!

غور طلب بات یہ ہے کہ دشمن کے مدمقابل ہمارا جو اصل ہتھیار تھا وہ ہمارا فکر وعقیدہ ہی تھا اور ہمارے دین کے بنیادی تصورات۔ برتری قائم رکھنے کے معاملہ میں یہی ہمارا اصل میدان تھا اور اسی میں ہم دشمن کو بآسانی مات دے سکتے تھے۔ مگر یہی میدان ہمارا آپس کا کارزار بنے تو دشمن کے مدمقابل ہم کس کام کے! یہی وجہ ہے کہ پچھلی دو صدیوں میں کسی بڑی سطح پر ہم نے کچھ محنت اور ہمت کرکے دشمن کے خلاف بندوق اٹھائی ہو تو اٹھائی ہو مگر فکر کے ہتھیار کسی بڑی سطح پر استعمال نہ کر سکے۔ جبکہ معاملہ کیا ہے؟ دشمن اپنے وجود کے لحاظ سے ہم سے دور ہو تو ہو مگر اپنے فکر کے لحاظ سے وہ ہمارے اندر بیٹھا ہے بلکہ ہماری جڑوں میں بیٹھا ہے۔ ایک فکری یکسوئی اس لحاظ سے ہماری سب سے پہلی ضرورت تھی مگر ہم اس سے روز بروز دور ہو رہے ہیں اور اس بات پر ہی مصر، کہ یہ معرکہ زیادہ سے زیادہ کوئی بندوق اور توپ کا معرکہ ہے۔

_______________

اتفاق اور اختلاف کے ضوابط اور مراجع اس لحاظ سے ہماری ایک بہت بڑی اور بنیادی ضرورت ہے۔ دین کے فہم کی بابت ایک ایسی بنیاد جو درست بھی ہو اور امت کے ایک معتدبہ طبقے کے مابین مشترک بھی، اس کو اپنی سب سے پہلی ضرورت کہیں تو شاید غلط نہ ہو۔

اس سلسلہ میں”ضوابط“ یہاں ہمارا موضوع نہیں اور درحقیقت اس کا انحصار بھی بڑی حد تک ”مراجع“ پر ہی ہے۔ ’مراجع‘ درست ہو جائیں تو ’ضوابط‘ کا صحیح ہونا آپ سے آپ ممکن ہو جاتا ہے اور توفیق تو ہر معاملہ میں بہرحال خدا سے ہی طلب کرنا ہوتی ہے۔

حتی کہ ’فہم و استدلال کے ضوابط‘ ہی نہیں بلکہ ’فہم و استدلال کی بابت اتفاق واختلاف آراءکے ضوابط‘ کا درست ہونا بھی درست ”مراجع“ اختیار کر لینے کے بعد ہی ممکن ہے۔

اس لحاظ سے یہ مسئلہ بے انتہا اہم ہو جاتا ہے۔

_______________

اللہ تعالیٰ نے یہ دین نازل کیا تو ’افراد‘ کیلئے نازل نہیں کیا۔ یہ دین ’جماعتوں‘ کیلئے نازل نہیں ہوا۔ یہ ایک ”امت“ بنانے اور ایک ”امت“ کو چلانے کیلئے اترا ہے۔ اس کا یہی قد کاٹھ ذہن میں رہنا ضروری ہے۔ اس کا یہی مرتبہ دلوں میں جانشین کرایا جانا چاہیے۔

یہاں ایک آدمی اٹھے۔ وہ اپنا ’حاصلِ مطالعہ‘ لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ ’گہرے غور وخوض‘ کے بعد وہ اسلام کی ایک تعبیر متعارف کرائے۔ ’کتاب وسنت‘ سے اس کے ثبوت دے۔ کچھ لوگوں کو وہ ’ثبوت‘ نظر آئیں اور وہ اس کے ساتھ ہو لیں اور اس کی دعوت کو کتاب اور سنت کا تقاضا سمجھیں۔ کچھ کو وہ ثبوت نظر نہ آئیں اور وہ اس کو رد کر دیں اور باطل پر سمجھیں۔ یہ اپنے اس فہمِ اسلام کو لوگوں سے منواتا اور اس کے ثبوت دیتا اور لوگوں کو اور اطراف سے توڑ توڑ کر اپنے ساتھ شامل کرتا دنیا سے رخصت ہو جائے اور پسماندگان کو ”مشن جاری رکھنے“ کی وصیت کر جائے۔ کچھ اس کو جاری رکھ پائیں اور کچھ ہمت چھوڑ جائیں اور کچھ ذرا عرصہ بعد کسی اور ’زندہ‘ دعوت میں حق کے ثبوت دیکھنے لگیں۔۔۔۔ عالم اسلام کے ہر خطے اور ہر علاقے میں سینکڑوں کے حساب سے بیک وقت ایسے ’سلسلے‘ چلیں اور ہر لمحہ یہ چراغ جلتے اور بجھتے رہیں۔۔۔۔ غرض امت کے اندر توڑ پھوڑ کا یہ عمل مسلسل اور پورے اخلاص کے ساتھ جاری رہے اور بالآخر کوئی ’جماعت‘ بھی ’امت‘ کو فتح نہ کر سکے، گو ہر جماعت ہی اس تاک میں ہو اور نیک نیتی کے ساتھ امت کا بھلا کرنے کی یہی ایک صورت جانتی ہو۔۔۔۔ تو ’دین کے کام‘ یا ’دین کی دعوت اور تفہیم‘ یا ’دین کے قیام‘ کا یہ تصور اسلام کی فطرت سے بالکل ہی بیگانہ ہے۔ اس کی ضرر رسانی کے عملی شواہد بھی اب دیکھنے ہوں تو جگہ جگہ دیکھے جا سکتے ہیں۔

کسی روزنامہ یا کسی جریدہ میں کوئی شخص دِین کے کسی موضوع پر ’اظہار خیال‘ کرتا ہے۔ کچھ حوالے قرآن اور حدیث کے دے لینا بھلا کیا مشکل ہے۔ اِس شخص کا اپنا مبلغ علم، خدا معلوم۔ ہو سکتا ہے محض تراجم پر انحصار کیا گیا ہو یا حتی کہ ’اُردو بازار‘ سے کسی بھی اچھے چھاپے کی کوئی کتاب اُٹھا کر حوالہ دے لیا گیا ہو۔ بس شرط یہ ہے کہ مضمون ذرا انداز سے باندھا گیا ہو۔ اسلوب دلچسپ ہو اور ’خیال‘ نیا ہو اور اس باب میں بعض ’روایتی خیالات‘ کو جابجا غلط اور فرسودہ ٹھہرایا گیا ہو۔ لیجئے ایک ’تحقیق‘ حاضر ہے۔ اس پر جوابی تبصروں کا ایک طویل سلسلہ چل نکلے اور کئی دیگر پرچوں اور جریدوں کے صفحات کھل جائیں تو ہرگز تعجب نہ کیجئے۔ مضمون میں اگر ایک خیال پیش کیا گیا تھا تو اس پر جتنے تبصرے اور اعتراض اور جواب آئیں گے اتنے ہی خیال اس موضوع پر تب آپ کے پڑھنے کو دستیاب ہوں گے۔ خود صاحبِ مضمون جواب در جواب جو مزید خیال پیش کریں گے وہ اس پر مستزاد۔ کہاں رکا جائے؟ (ویسے رکنے کی کیا ضرورت ہے!) کہاں ٹھہرا جائے؟ کہاں پہنچا جائے؟ جہاں اخبار اس سلسلہ کو مزید جاری رکھنے اور مزید کسی مضمون کو شائع کرنے سے معذرت کر لے! اس کے بعد آپ کی انفرادی اور شخصی ’تحقیق‘ ہے اور اس کی کوئی حد نہیں!!!

بہت سے لوگ اُردو اور انگریزی کتب پر مشتمل اپنی ذاتی لائبریری میں بیٹھ کر (زیادہ تر ریٹائرمنٹ کی عمر میں!) دِین کے بہت سے اہم اور بنیادی اُمور پر بڑے آرام سے نہ صرف ’تحقیق‘ کر لیتے ہیں بلکہ اپنی اس تحقیق کا بہت ہی شدومد سے پرچار کرنے تک پرمصر ہوتے ہیں! علما تک کو ان موضوعات پر غلط ٹھہرانے اور خاموش کرانے کی فکر میں ہوتے ہیں اور بسا اوقات تو ان موضوعات پر تالیف کیلئے طبع آزمائی تک نوبت آتی ہے!

یہ درحقیقت ہمارے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ ایسے میں آپ چلیں گے بہت اور پہنچیں گے کہیں نہیں۔ سرگردانی اسی کو کہتے ہیں! اس دین کی حقیقت، اس کی فطرت اور اس کا مزاج یقینا اس سے کہیں برگزیدہ ہے کہ اس کے ساتھ یوں تعامل کیا جائے۔

ضروری ہے کہ دین کے فہم کی بابت کچھ ایسے مستند مراجع اختیار کئے جائیں جو نہ صرف صحیح ہوں بلکہ وہ ’امت‘ کی سطح کے ہوں۔ صرف ایک ’فرد‘ یا ایک ’جماعت‘ کو کام دینے والے نہ ہوں بلکہ ایک فرد یا ایک جماعت کسی وقت اپنی بات چھوڑ کر اور اپنے فہم واستدلال سے دستبردار ہو کر ان پر آنے کا پابندہو۔ ان کو اپنا کر ایک جماعت امت کی سطح پر آئے نہ کہ امت کو ’جماعت‘ کی سطح پر لانے کی کوشش کرے۔ ایک بڑی چیز اپنے سے چھوٹی چیز میں فٹ نہیں ہوسکتی۔ یہ کوشش درحقیقت عبث ہے۔ بڑا ہونے کی صرف یہی صورت ہے کہ جس طرح ایک فرد سے اس کا اپنا آپ ’جماعت‘ میں گم کرایا جاتا ہے اور اس کو اس بات کے بے پناہ فضائل بتائے جاتے ہیں ویسے ہی اور اتنے ہی اخلاص کے ساتھ ’جماعت‘ اپنا آپ ’امت‘ میں گم کر دے۔ اس عمل کے جہاں اور بہت سے تقاضے ہیں وہاں فہم دین کیلئے کچھ ایسے مراجع کا اختیار کیا جانا بھی جو بیک وقت مستند بھی ہوں اور مشترک بھی، ازحد مطلوب ہے اور امت بننے اور بنانے کا ایک لازمی تقاضا۔

_______________

ایک مجمع جہاں بہت سارے لوگ اپنی اپنی سناتے اور بیک وقت بولتے ہوں، کسی مثبت سمت میں حرکت نہیں کر سکتا۔ اس میں موجود چھوٹی چھوٹی ’ٹولیاں‘ اپنے اپنے انداز سے جو طریق اپنائیں گی بے شک اپنے حساب سے کسی ٹولی کا عمل کتنا ہی ’منظم‘ کیوں نہ ہو مگر ’مجمع‘ کے لحاظ سے اس کو ایک بے ہنگم عمل ہی کہا جائے گا۔ ایسے مجمع کو اگر کوئی افتاد پڑے تو وہ اپنی اس ہیئت ترکیبی کے باعث بھاری نقصان اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے۔

فی الوقت، اپنا یہ نقصان ہم بڑی محنت اور تن دہی کے ساتھ کرا رہے ہیں!

کسی مجمع کو شامتِ اعمال سے اگر ایسی صورت پیش آچکی ہے، اس میں اگر کچھ سمجھدار ہیں تو بھی مجمع کا کچھ نہ کچھ نقصان ہو جانا تو بہرحال یقینی ہے۔ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو یہ کہ اس ’نقصان‘ کا عرصہ دراز ہو جانے کی راہ میں پوری سنجیدگی سے حائل ہوں اور معاملے کو _ رفتہ رفتہ _بہتری کی جانب لانے کیلئے کوشاں ہو جائیں۔ جس کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ آپ کوئی ایسی چیز سامنے لائیں جس کی جانب ہر فرد اور گروہ کا رجوع کرلینا ایک معقول ترین بات ہو جو کہ ظاہر ہے آپ کی اپنی بات یا اپنا ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے ورنہ آپ بھی ٹولیوں میں سے ایک ٹولی ہوں گے اور عین وہی کام کر رہے ہونگے جو ’اپنی اپنی جانب‘ دعوت دے کر مجمع کو بے ہنگم رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ یہ آپ کی اپنی تفسیر اور اپنا فہم نہیں ہونا چاہیے جس کا کہ اصولاً سب کو ہی برابر حق ہے۔ یہ آپ کی اپنی بات سے بڑی کوئی چیز ہونی چاہیے جس پر سب لوگوں سے اتفاق کرلینے کا تقاضا کرنا واقعتا ایک معقول تقاضا کہلا سکے۔ جس کے ماننے اور منوانے میں کوئی فاتح اور مفتوح نہ ہو۔ کوئی بڑا اور چھوٹا نہ ہو۔ پھر یہ کہ لوگوں کو اپنی سمجھ پر چلنے کیلئے اس میں ایک حد تک آزاد بھی چھوڑا گیا ہو۔ گو لوگوں کا آپ کی اس بات کو سمجھ لینا اور مان لینا پھر بھی ضروری نہیں کیونکہ لوگوں کے مان لینے کا تعلق خود لوگوں سے ہے اور اس بات سے ہے کہ خدا کو ان کی بھلائی کہاں تک اور کب تک منظور ہے۔ البتہ ایک ایسا تقاضا جو بیک وقت درست بھی ہو اور سب کو ایک مشترک بنیاد پر بھی لا سکتا ہو اور جس میں کسی ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار نہ ہو اور جو کہ لوگوں کو اس بحران سے نکال لانے اور کامیابی کی جانب گامزن کر دینے کیلئے بالفعل لازم ہو، اُن کے سامنے رکھ دینا اور اس پر انکو قائل کرنے کیلئے آخری حد تک جان کھپا دینا بہرحال لازم ہے۔ خدا کو اگر منظور ہوا اور جب منظور ہوا لوگوں کی ایک معقول تعداد کو وہ بات سمجھنے اور تسلیم کرنے کی توفیق مل جائے گی جو مجمع کو بالآخر بحران سے باہر لے آسکے اور بحران سے باہر لانے کی امکانی Potential صلاحیت رکھتی ہو۔ خدا کو منظور نہ ہو گا یا جب تک منظور نہ ہوگا تب تک افراتفری کی یہ صورتحال بہرکیف باقی رہے گی۔

صورتحال کو بالفعل بدل دینے کی ضمانت پس خدا کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ کسی انسان کے ہاتھوں نتائج کی یقین دہانی بہرحال نہیں کرائی جا سکتی۔۔۔۔ البتہ اجتماع کا وہ درست طرز عمل اختیار کرنا جو ”اصول اہلسنت“ ہمارے لئے فراہم کرتے ہیں اور جو کہ موجودہ دور کے اہلسنت طبقوں کو یا ان کی ایک معتدبہ تعداد کو مجتمع کرنے کی واقعتا اور معقول ترین حد تک صلاحیت رکھتی ہے، اور اس کی تبلیغ کرنا اور آخر تک کرتے رہنا، البتہ ضرور انسان پر فرض ہے۔ اس سے بڑھ کر اس معاملہ میں انسان کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ ایک مجمع کا خجل اور خراب ہوتے رہنا جتنی دیر تک خدا نے لکھ رکھا ہے ___ گو اس کے اسباب اہل مجمع کے اپنے پیدا کردہ ہوں گے ___ تب تک ”صبر“ اور ”محنت“ کے سوا کچھ چارہ نہیں، بشرطیکہ ”محنت“ اور اس پر ”صبر“ کی صحیح بنیاد دریافت کرلی گئی ہو۔ اس ’درستیِ حالات‘ کی ضمانت دے دینا تو پس کسی کے بس کی بات نہیں، لیکن اگر انسان اس عمل کا حصہ بن کر اپنا فرض ادا کر رہا ہے اور اپنی استطاعت کی حد تک عین وہ کام کر رہا ہے جو اس مجمع کو مجتمع اور یکسو کر دینے کی راہ میں، یا یوں کہیے ’مجمع‘ کو ”جماعت“ میں بدل دینے کی راہ میں، کر دیا جانا آدمی سے مطلوب ہے تو مجمع پھر درست ہوتا ہے یا بدستور خراب ہوتا چلا جاتا ہے وہ شخص بہرحال ضائع نہیں۔ عبداللہ بن مسعودؓ کا قول مشہور ہے:

الجماعة ماوا فق الحق ولو کنت وحدك

”جماعت وہ ہے جو حق کے تابع ہو چاہے تم اکیلے کیوں نہ رہ گئے ہو“۔

اب جس مجمع کو ایک بڑے بحران سے بلکہ ایک عدیم النظیر بحران سے نکال لانے کا چیلنج ہمیں درپیش ہے ___ جیسا کہ فصل اول میں بھی ہم اس جانب اشارہ کر آئے ___ وہ طبقہ ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو اپنے لئے حجت مانتا ہے۔ اس کو طبقہ ہائے اہلسنت کہا جاتا ہے اور اس میں مذاہبِ اربعہ مثل احناف، مالکیہ، شوافع اور حنابلہ، علاوہ ازیں اہل الحدیث اور اہل الظاہر وغیرہ سبھی آجاتے ہیں۔ کیا ہمارے پاس کوئی ایسے ضوابط ہیں جو ان سب طائفوں اور ان طائفوں کے ذیل میں آنے والی سب جماعتوں اور دھڑوں اور گروہوں کو __ ان کا تنوع برقرار رکھتے ہوئے __ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی جانب رجوع کرنے اور دین کو لے کر ایک ساتھ چلنے کے اس عمل میں مدد دے سکیں؟ ان کیلئے اجتماع کی ایک معقول بنیاد فراہم کر سکیں اور ان کے اتفاق اور اختلاف ہر دو کو ایک ضبط میں لا سکیں اور یوں اس عمل کے نتیجہ میں وحدت کے تصور کو ایک عملی جامہ پہنا سکیں؟ ’اصول اہلسنت‘ میں درحقیقت ہمارے ان سب سوالات کا جواب موجود ہے۔

_______________

’اجتماع‘ کیلئے ’اتفاق‘ کی شرط لگانا نہ تو نقل کا تقاضا ہے اور نہ عقل کا۔ یہ لوگوں سے ایک غیر طبعی مطالبہ ہے۔ شریعت نے یہ بات کہیں فرض نہیں کی۔ البتہ شریعت میں اور اصول اہلسنت کے اندر اس کی کچھ حدود اور قیود ہیں۔ اختلاف ایک انسانی واقعہ ہے۔ درست ترین بات یہی ہو سکتی تھی کہ اس کی ممانعت نہ ہو بلکہ اس کی حدود متعین کر دی جائیں۔

پس نہ تو ہر امر میں اتفاق لازم ہے اور نہ ہر معاملہ میں اختلاف کی اجازت۔ البتہ اجتماع کا حکم ہے اور افتراق کی ممانعت۔ ’اجتماع‘ دراصل ’اتفاق‘ سے ایک وسیع تر چیز ہے۔ اسی طرح ’افتراق‘ محض ’اختلاف‘ سے ایک مختلف واقعہ ہے۔ نہ تو ہر معاملے میں اتفاق کا ہونا اجتماع کیلئے شرط ہے اور نہ اختلاف کا بعض معاملات میں ہو جانا افتراق کا موجب۔

البتہ وہ معاملات بے حد واضح ہو جانے چاہئیں جن پر اتفاق ہو جانا فرض ہے اور اجتماع کیلئے ایک پیشگی شرط۔ اسی طرح ان معاملات کا بھی واضح ہو جانا ضروری ہے جن میں اختلاف قطعی طور پر حرام اور ناقابل قبول ہے اور اجتماع کے راستے کی ایک قطعی رکاوٹ۔ ان دونوں کے مابین پھر وہ معاملات خودبخود واضح ہو جاتے ہیں جن میں نہ تو اتفاق شرط ہے اور نہ اختلاف رکاوٹ۔

جب ایسا ہے ۔۔۔۔ یعنی نہ تو اختلاف کی کھلی چھٹی ہے اور نہ اتفاق کی کلی شرط ۔۔۔۔ تو پھر آپ کے پاس کوئی ایسا متوازن ضابطہ ہوناچاہیے جس میں ان دونوں کی حدود طے کر دی گئی ہوں اور جس میں ہر دور اور ہر خطے کے لوگوں کیلئے بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کی گنجائش نہ رہنے دی گئی ہو۔

ایک بے قابو مجمع کو یکسوئی کی راہ پر ڈال دینا بے حد محنت طلب اور وقت طلب کام ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اس میں خدا کی توفیق درکار ہے۔ اس پر وقت اور محنت صرف ہو، یہ ہرگز باعث تعجب نہ ہونا چاہیے اور ایک سمجھدار کو تو ہرگز اس سے جی نہ چرانا چاہیے۔ اس پر محنت نہ ہوگی تو اور کس بات پر محنت ہوگی۔ امت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو مجتمع کرنے سے بڑھ کر کیا نیکی ہو سکتی ہے؟ البتہ جو چیز دیکھنے کی ہے اور اس معاملہ میں بے انتہا اہم اور فیصلہ کن حیثیت رکھنے والی ہے وہ یہ کہ اجتماع کا وہ نسخہ جس پر ایک منتشر مجمع کو لایا جانے کیلئے ایک طویل محنت ہونا ہے کہاں تک اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ آپ کے وقت اور محنت کا عین صحیح مصرف ہے اور یہ کہ کہاں تک وہ اجتماع کا واقعتا ایک درست طریقہ ہے اور کہاں تک وہ اتفاق اور اختلاف کے درست اور متوازن ضوابط پر مبنی طرز عمل ہے۔

’اصولِ اہلسنت‘ دراصل ان سب باتوں کا ایک صحیح ترین جواب ہے۔ یہ نہیں تو پھر آپ کے پاس اجتماع کی کوئی بنیاد نہیں سوائے اس کے کہ ہر آدمی ’اجتماع‘ کیلئے ایک ہی شرط رکھے اور وہ یہ کہ سب دوسرے لوگ بس ایک اسی کے یا اسی کی جماعت یا اسی کے بڑوں کے فہم دین پر آجائیں اور یہ کہ قرآن اور حدیث سے جس طرح خود اس کو یا اس کے بڑوں کو دین کے سب مسائل سمجھ آئے ہیں عین اسی طرح سب دوسروں کو سمجھ آنے لگیں!

طرفہ یہ کہ کچھ لوگ دوسروں پر اپنی یا اپنے مذہب کی تقلید کی شرط بھی نہیں لگاتے مگر یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ لوگوں کودین کے سب اصولی اور فروعی مسائل قرآن وحدیث سے ویسے ہی سمجھ آئیں جیسے خود ان کو یا ان کی جماعت کو او ران کے بڑوں کو سمجھ آئے ہیں بصورت دیگر لوگ فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ (1) کی حالت سے باہر نہیں اور وہ خود إِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِينِ (2) کا مصداق۔ کیونکہ اپنے تئیں یہ کتاب وسنت کے متبع ہیں اور دوسرے لوگ اپنی باطل خواہشات کے پیروکار! اب جس بات کا یہ اپنے تئیں حق رکھتے ہیں عین اسی بات کا اتنا ہی حق اگر دوسروں کو بھی حاصل ہو تو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو حق کا مصدر ماننے والوں کے مابین اجتماع کی کیا صورت باقی رہ جاتی ہے؟

اسی طرح وہ لوگ جو کتاب وسنت کے فہم واستنباط کی بابت خود اپنی یا اپنے بڑوں کی تقلید کی شرط لگاتے ہیں وہ درحقیقت امت کو اپنی شروط پر مجتمع کرنا چاہتے ہیں۔ ہر شخص اگر دوسروں پر یہ شرط لگانا شروع کر دے تو امت کا اجتماع کہاں گیا؟

لامحالہ آپ کو کوئی ایسا طریقہ کار درکار ہے جو لوگوں کو کسی بات کا حق دے تو سب کو ایک سا حق دے اور اگر کسی بات کی پابندی لگائے ___ ظاہر ہے کہ پابندیوں سے بالکل آزاد اجتماع کا کوئی تصور نہیں ___ تو سب پر ایک سی پابندی لگائے۔ اس کے اس ’حق دینے‘ اور ’پابند کرنے‘ میں کچھ ایسا توازن اور حکمت ہو کہ لوگ مجتمع بھی رہیں اور مصادرِ دین سے فہم واستنباط کرنے اور اپنے فرائضِ دین کا تعین کرنے میں ایک خاص حد تک آزاد بھی رہیں۔ یگانگت بھی ہو اور سوچ اور فہم کا ایک تنوع بھی برقرار رہے۔ نہ یہ ہو کہ اختلاف کی کھلی چھٹی ہو اور دین کی کسی بھی بنیاد کو کوئی بھی شخص کسی بھی وقت چیلنج کر لینے کا مجاز ہو اور نہ یہ کہ فروعِ دین کے ہر ہر مسئلہ میں لاکھوں کرڑوں لوگ نسل درنسل اور صدیوں تک ایک ہی طرح سوچنے اور ایک ہی سا عمل کرنے کے پابند ہوں چاہے علم اور دلیل کی روشنی میں کسی کو اس سے کتنا ہی اختلاف ہو۔

_______________

یہاں ایک دوسری انتہا کا ذکر کر دیا جانا بھی بے حد ضروری ہے۔

امت کے اس دورِ انتشار میں اس انداز فکر نے بھی بے انتہا ترقی کی ہے۔ اس کو زیادہ تر دانشور طبقہ کے ہاں پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور آج یہ اپنے معاشرے میں ایک ترقی یافتہ اور ’علمی‘ طرز فکر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ میڈیا اس چیز کی تبلیغ کا موثر ترین فورم ہے۔ مذہبی جماعتوں کا سیاسی نشاط بھی اس سوچ کے مقبولیت پانے میں مساعد ہوا ہے۔

اس طرز تفکیر کا لب لباب یہ ہے کہ ہر آدمی اور ہر طبقے کو دین کی تفسیر کے معاملے میں اپنی رائے رکھنے کی کھلی چھٹی ہو۔ اختلاف رائے کی قطعی آزادی ہو۔ ’اختلافِ رائے‘ کا یہ حق لوگوں کو ”اصولِ دین“ کے اندر بھی اتنا ہی ہو جتنا کہ ’فروعِ دین‘ کے اندر! بس کسی کو اس کے نظریہ یا عقیدہ کی بنا پر غلط نہ کہا جائے! ’مخالفت‘ کسی کی نہیں ہونی چاہیے! ہر معاملہ میں آدمی زیادہ سے زیادہ بس ایک ’علمی‘ اور ’تحقیقی‘ نوعیت کا اور ایک ’روادارانہ‘ سا اختلاف کر سکتا ہے اور اختلاف کے وہ سب آداب جو اہلسنت کے ہاں ’فرو عِ دین‘ کے اندر ملحوظ رکھے جاتے ہیں وہ ان کے نزدیک ”اصولِ دین“ کے معاملہ میں بھی فرض ہیں! کسی کو باطل پر جاننا اور گمراہی کا پیروکار ماننا ان کے نزدیک ایک پسماندہ اور غیر علمی رویہ ہے خواہ وہ دین کا کتنا ہی بنیادی مسئلہ کیوں نہ ہو! ’جذبات‘ میں آنا، کسی بھی معاملہ میں، ان اصحاب کے نزدیک حد درجہ معیوب ہے۔ کوئی رافضی ہے اور اپنے اماموں کی عصمت کا معتقد ہے۔ دوسری طرف صحابہ کیلئے ایک لفظ اچھا بولنے کا روادار تک نہیں (یہ ظاہر کا معاملہ ہے، سینے میں جو چھپائے بیٹھا ہے وہ تو صرف خدا کو معلوم ہے) اور بخاری ومسلم سے لے کر محدثین اہلسنت کی مروی کسی ایک بھی ایسی حدیث کو قابل اعتنا نہیں جانتا جس میں عائشہؓ، ابوہریرہؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ، عبد اللہ بن عمرؓ، عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ، انس بن مالکؓ اور ام سلمہؓ وغیرہ ایسے نام آتے ہوں، الا یہ کہ اس کی تائید اس کے نزدیک ائمہ معصومین سے ہوتی ہو ۔۔۔۔ تو بھی اس پر تشنیع جائز نہیں۔ آپ مصر ہی ہیں تو اس سے ایک ’دوستانہ‘ اور ’محققانہ‘ اختلاف کیجئے اور خود اپنی رائے اس سے مختلف رکھیے مگر ’الجھنے‘ کی ضرورت نہیں! ایسے اختلافات کے باوجود باہم مل کر اور ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اُمت کی وحدت اور یکجہتی کا پروگرام سرے چڑھایا جا سکتا ہے! کوئی شخص شرک کا داعی ہے۔ وحدة الوجود کا مبلغ ہے۔ کوئی شریعت کو طریقت سے الگ کر دینے پر اعتقاد رکھتا ہے۔ کوئی معتزلہ کا پیروکار، وحی کو اپنی عقل کی سان پر کستا ہے۔ کوئی دین کو سیاست سے جدا کرتا ہے اور خدا کو صرف ’مذہبی معاملات‘ میں معبود مانتا ہے ۔۔۔۔ ان سب رحجانات کے ساتھ آپ زیادہ سے زیادہ ’اختلاف‘ رائے رکھیے۔ اس کو ’نقطہ نظر‘ کا فرق سمجھیے البتہ ایسے کسی معاملہ میں جہنم اور ہلاکت کی وعید سے کسی کی سمع خراشی کرنا ایک غیر علمی طرز عمل سمجھا جانا چاہیے اور وحدتِ اُمت کے منافی!!!

یہ اس معاملہ کی ایک دوسری انتہا ہے۔ مختلف طبقے مختلف انداز سے اس اپروچ کو اپنائے ہوئے ہیں۔ دانشور اس حد کو چھونے میں اپنا انداز رکھتے ہیں۔ سماجی کارکن اپنا اسلوب رکھتے ہیں۔ میڈیا اپنی وجوہات رکھتا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول بعض مذہبی جماعتوں کے ہاں اس کی کچھ اور بنیاد ہے۔ البتہ خلاصہ اس انداز فکر کا یہی بنتا ہے۔ اس کی رو سے ’وحدت اُمت‘ کیلئے دائرہ اتنا ہی وسیع کرنے کی ضرورت ہے جتنا کہ کسی دور کے اندر اسلام کے نام لیوا طبقوں کے ہاں پائی جانے والی گمراہیاں، معاشرے میں برقرار رہنے اور ہرگز نہ چھیڑا جانے کا تقاضا کریں! انحرافات اور گمراہیوں کو باہر نکالنے کی کیا ضرورت ہے آپ وحدت اُمت کا دائرہ ہی اتنا کھلا کر لیجئے کہ ہر چیز اس میں آپ سے آپ آجائے اور کسی کو کسی کے سر آنے کی احتیاج ہی باقی نہ رہے! یہاں سب خوش رہیں اور اپنی اپنی سنائیں، آخر اس میں کیا مانع ہے!!!

چنانچہ یہ منہج جو کہ ”اساسیاتِ دین“ تک میں ہونے والے اختلاف پر ’مٹی ڈالنے‘ اور اس کو نظر انداز کروانے کی تلقین پر مبنی ہے، معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کے ہاں اس وقت خوب پذیرائی پا رہا ہے۔

دین اور عقیدہ کی بنیادوں کے اندر ہونے والا اختلاف شدید مہلک ہے۔ اس کو کسی صورت مسلم معاشرے میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ کم از کم بھی یہ ہے کہ ایک گمراہی کو صاف گمراہی کہا جائے۔ معاشرے میں اس کی شدید حوصلہ شکنی اور مذمت ہو اور اس کے پرچار کے صاف صاف آڑے آیا جائے۔ گمراہی کا شکار ہو جانے والے کسی شخص کو گمراہ کہنے سے احتراز کرنا کسی وقت مصلحت کا تقاضا ہے تو ضرور اس سے احتراز کر لیا جائے البتہ یہ کہ گمراہی کو گمراہی ہی نہ کہا جائے، یہ ناقابل تصور ہے۔ انحراف کی بیخ کنی معاشرے میں کسی وقت موقوف نہیں ہونی چاہیے۔ مسلم معاشرے میں باطل کا چلن ہونے دینا بہرحال روا نہیں۔

دین کے بنیادی امور ومعتقدات میں پیدا کئے جانے والے انحرافات کے ساتھ محض اس وجہ سے رواداری برتنا کہ لوگوں کی کچھ تعداد اب ان کی معتقد ہے، ہرگز کوئی علمی رویہ نہیں۔ باطل عقائد اور افکار کا یہ کالا دھن کثیر اور بے قابو ہو جانے کے باعث بہرحال سفید نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کوئی ’انتظامی‘ معاملہ نہیں۔ مسئلہ خدا کے دین کا ہے۔ یہ ایک انتشار کو وجہ جواز دینا اور افتراق کو سند فراہم کرنا ہے۔ یہ شریعت کے ثابت اور معلوم حقائق پر ثبات و اصرارکے فرض سے دستبردار ہونا ہے اور حق وباطل کے معاملہ میں مصالحت compromise پر اتر آنا اور خدا کی نصرت کا استحقاق کھو دینا ۔۔۔۔ جس سے کہ قرآن میں اہل ایمان کو بار بار تنبیہیں ہوئی ہیں۔ (3)اس کو علمی رویہ تسلیم کرنا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر ایمان رکھنے والوں کے حق میں قطعی طور پر ایک غیر علمی رویہ ہے۔

یہ رویہ ۔۔۔۔ یعنی ”اصولِ دین“ میں اختلاف کو برداشت کرنا۔ مثلاً ایک غیر نبی کی عصمت، یا صحابہ یا اہل بیت کی تحقیر کے معاملہ کو، یا شرک وزندقہ کے نظریاتی وعملی رحجانات کے معاملہ کو، یا وحی کو عقل اور فلسفہ کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے معاملہ کو، یا عبادتِ قبور یا کسی بھی اور گمراہی کو آدمی ایک ’اندازِ بے پروائی‘ سے لے اور ان امور میں ’غیر جانبداری‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بس ’اپنے کام سے کام‘ رکھے ۔۔۔۔ ایسا منہج رکھنے کو ایک علمی اور معقول رویہ ماننا مستشرقین کے ہاں روا ہو تو بات سمجھ آتی ہے۔ ان کو صرف افکارِ مشرق کا مطالعہ کرنا تھا۔ کیا حق ہے اور کیا باطل، اور کس چیز پر آدمی کو وسعت صدر کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کس چیز پر آدمی کی غیرت کو جوش میں آجانا چاہیے، مستشرقین کو اس سے واقعی کچھ سروکار نہ ہونا چاہیے۔ مگر یہی رویہ قرآن پڑھنے والے معاشرے کی فکری قیادت کے ہاں بھی قابل قبول ہو بلکہ قابل فخر ہو اور اسی کو ایک علمی انداز فکر بھی باور کیا جائے، تو یہ بات یقینا مسترد ہونے کے لائق ہے۔

مگر واقعہ کیا ہے؟ ہماری یہ یونیورسٹیاں جو ہمارے مسلم دانشوروں کی مادر ہائے علمی رہی ہیں کس کے زیرسرپرستی اور کس کے زیرانتظام پروان چڑھیں؟ کس کے دیے ہوئے نقشے پر ان علمی اداروں کی اٹھان ہوئی ہے؟ ’مستشرقین‘ کے سوا اس کے جواب میں آپ کس کا نام لے سکتے ہیں؟ سب جانتے ہیں عالم اسلام پر قبضہ سے بہت پہلے استشراق کا شعبہ مغرب میں اپنے مطلوبہ حجم اور استعداد کو پہنچ چکا تھا۔ یورپ کی فوجوں کے حرکت میں آنے سے بہت پہلے یورپ کے مستشرقین اپنے حصے کا کام کر چکے تھے اور اب وہ لوگ عالم اسلام کو صرف ’فزکس کیمسٹری‘ نہیں بلکہ ’اسلامیات‘ تک پڑھانے پر دسترس رکھتے تھے! اب وہ ’اسلامیات‘ جو ہم نے مستشرقین سے پڑھی اور آگے مستشرقین کے ولایت پلٹ تلامذہ سے اور پھر ان کے پڑھائے ہوؤں سے نسل درنسل پڑھی۔ اسی نے بڑی حد تک ہمارے یہاں کے ’جدید‘ دینی طبقہ کی ذہنی تشکیل کی۔ ابتدائی طور پر یہاں کے کورس اور تعلیمی سلسلے وضع ہوئے، حتیٰ کہ دینِ اسلام کے ’مطالعہ‘ کا ایک پورا منہج دیا گیا، تو وہ انہی کے ہاتھوں، یعنی مستشرقین کے ہاتھوں۔ اسکے بعد پھر جتنے بھی تعلیمی ادارے اور منصوبے اپنے یہاں بنے ان کی تہہ میں بڑی حد تک وہی ذہنیت اور وہی ڈھب کام کرتا رہااور آج تک کر رہا ہے، جس کی شروع میں ایک بار داغ بیل ڈال دی گئی تھی۔ پھر کیا تعجب کہ استشراق کے دیے ہوئے بعض فیشن شعوری طور پر نہ بھی سہی لاشعوری طور پر ہمارے جدید تعلیم یافتہ اور دانشور اسلام پسند طبقہ کے ذہنی پس منظر میں کام کریں!

آگہی کا ’مصدر‘ source of inspirationانسان کے ذہن کی تشکیل کرنے میں بہرحال ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے جان چھڑانا ہرگز اتنا آسان نہیں۔ دین کو محدثین اور فقہاءوائمۂ اہلسنت سے پڑھنا اور دین کو مستشرقین سے یا مستشرقین کے ترتیب دیے ہوئے سلسلہ ہائے تعلیم سے پڑھنا شدید حد تک متضاد نتائج کے پیدا کرنے کا باعث ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات؟ استثناءات کا پایا جانا ہر جگہ ممکن ہے مگر ایک سلسلۂ تعلیم اور ایک مصدرِ دانش source of inspiration کی مسلمہ حیثیت کچھ استثناءات کے باعث مشکوک نہیں ہوجاتی۔

آج کا یونیورسٹی سے لے کر کالج اور اسکول تک پایا جانے والا جو ایک ظاہرہ phenominon ہے وہ اپنی پشت پر کچھ متعین اسباب اور ایک معلوم پس منظر رکھتا ہے۔ اس سے صرفِ نظر آپ یوں بیٹھے بٹھائے کس طرح کر سکتے ہیں؟ کوئی اسلامیات ’لازمی‘ پڑھے یا ’اختیاری‘ ۔۔۔۔ ’مطالعۂ اسلام‘ کی یہاں جو ایک اپروچ ہے اور ’مذہب‘ کو پڑھنے کی یہاں جو ایک جہت اور ایک انداز ہے وہ بہرحال کچھ تاریخی اسباب کی مرہون منت ہے۔ نصابوں کے اندر کچھ تھوڑی بہت تبدیلیاں کر بھی لی جاتی رہی ہوں، مگر اپروچ اور جہت کو تبدیل کرنے پر یہاں کون کھپا ہے؟!

اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ’اسلامیات‘ پڑھی اور پڑھائی جانا ایک بے حد مستحسن امر ہے مگر وہ ذہنیت جو دین کے حقائق کا علم لینے کے پیچھے یہاں اس نظام میں کام کر رہی ہے وہ بلاشبہ جاہلیت کی تشکیل کردہ ہے۔ اس کے بارے میں کم از کم بھی یہ کہا جائے گا کہ ایک دیندار شخص تک کے حق میں یہ شدید آلودہ intensive polluted ہے۔ بہت تھوڑی استثناءات کو چھوڑ دیجئے تو عملاً یہاں ’اسلامیات‘ کا ہر طالب علم ’مطالعہ اسلام‘ کے اسی نظام کا ہی بڑی حد تک ایک تسلسل ہے جس کی یہاں کوئی ڈیڑھ دو سو سال پہلے بڑی سوچ سمجھ کر داغ بیل ڈالی گئی تھی۔

پس یہ سوال کہ آپ نے اسلام کا فہم کہاں سے لیا ہے، ایک بہت بنیادی سوال ہے۔ اسلام کچھ معلومات کا نام نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے جو سب سے پہلے دل میں جاگزیں ہوتی ہے اور انسان کو خدا کے حق کیلئے پوری دنیا کے مدمقابل کھڑا ہو جانے پر تیار کر دیتی ہے اور جس کی زد پھر انسان کے ہر ہر رشتے اور ہر ہر تعلق پر پڑ سکتی ہے۔ دین کا ہر معاملہ ایک ’دوستانہ اور برادرانہ اختلاف رائے‘ کا متحمل نہیں۔ الا یہ کہ دین محض ’معلومات‘ کا نام ہو یا زیادہ سے زیادہ بس حسنِ اخلاق کا ایک بے ضرر درس۔ نہ کہ ’لا‘ سے شروع ہونے والی ایک واضح اور دو ٹوک اور متعین حقیقت جس کیلئے انبیاءجہاد کرتے رہے اور قتال بھی اور ہجرت بھی۔ دوستی بھی اور دشمنی بھی اور جس کو ہر تغیر سے بچا رکھنے کیلئے صحابہ وتابعین نے اہل بدعت وانحراف اور اہل زیغ وضلال کے ساتھ درشت ترین رویہ اپنا لینے سے گریز نہ کیا۔

_______________

یہ تو جدید اسلام پسند طبقہ کا معاملہ تھا جس میں بلاشبہ اچھے اچھے نمونے بھی پائے گئے مگر ان اچھے نمونوں کو استثناءکا ہی درجہ دیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس طبقہ میں پایا جانے والا ذہن عمومی طور پر وہی ہے جس کی جانب اوپر ہم نے اشارہ کیا۔ یہاں دین کے اساسی مسائل اور عقیدہ کے بنیادی امور کی بابت بھی اسی ’وسعتِ نظر‘ اور اسی ’فراخدلی‘ کا ثبوت دیا جاتا ہے جس کی کہ اہلسنت کے ہاں صرف اجتہادی مسائل میں گنجائش ہو سکتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ دین کے اندر ہونے والے بنیادی انحرافات اور عقیدہ میں در آنے والی گمراہیوں کی بابت ایک اندازِ بے پروائی اختیار کرنا ان حضرات کے نزدیک مستحسن جانا جاتا ہے۔ حمیت کو کسی معاملہ میں دخل نہیں۔ اسی کو ان کے ہاں intellectual approachکہا جاتا ہے!

اِلا من رحم ربک

دوسری طرف ہمارا روایتی دیندار طبقہ ہے جس کی بابت ہم پیچھے کچھ بات کر آئے ہیں۔

یہاں شدت ہے۔ تمسک ہے۔ حمیت ہے۔ مگر بسا اوقات یہ سب کچھ اپنے محل پر نہیں ہوتا بلکہ وہاں پایا جاتا ہے جہاں یہ قابل ستائش ہونے کے بجائے معیوب ہونے لگے۔ بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے فریق کے ہاں وسعتِ نظر اور اختلاف رائے کو قبول کرنے کا انداز پایا جاتا ہے مگر وہ بھی چونکہ اپنے محل پر نہیں لہٰذا قابل ستائش ہونے کی بجائے معیوب ہو جاتا ہے۔

ہر چیز اپنے محل پرنہ ہو تو خوش نما نہیں رہتی۔ ظلم کی تعریف بھی یہی کی گئی ہے کہ ایک چیز کو اس کی جگہ پر نہ رہنے دیا جائے۔

پس ہمیں کوئی ایسا پیمانہ درکار ہے جس میں ہر چیز کی جگہ متعین کر دی گئی ہو اور جس کے باعث ایک اچھی چیز ہمیشہ خوشنما ہی لگے اور بدنمائی اس کے قریب نہ آنے پائے اور جس کی بدولت مسلم نوجوان کے فکر وکردار میں ایک حسن اور توازن آئے۔ شدت کے مقام پر واضح شدت ہو اور وہاں مصالحت compromisation خارج از امکان ہو۔ جبکہ نرمی کے مقام پر نرمی ہو اور وہاں مفاہمت و رواداری پائی جائے، یہاں تشدد کا گزر نہ ہو۔ کوئی چیز بڑھ کر دوسری کی جگہ نہ لے۔ جہاں سختی اور مواجہت confrontation ضروری ہو وہاں وسعت نظر کا سوال اٹھ کھڑا نہ ہو اور جہاں دوستانہ و برادرانہ اختلاف رائے رکھا جانا چاہیے وہاں ’رزم حق وباطل‘ نہ برپا ہونے لگے۔

ایسا پیمانہ ظاہر ہے کہ بنایا نہیں جائے گا بلکہ دیکھا یہ جائے گا کہ ہمارے دین نے ہمیں کسی ایسے پیمانے کی طرف رہنمائی کی ہے یا نہیں اور آیا ہمارے پاس پہلے سے کوئی ایسا دستور موجود ہے جس میں اس توازن کی صحیح ترین مساوات equation ہمیں بتا دی گئی ہو اور حتیٰ کہ اس کی عملی تطبیق کرکے ہم کو دکھا دی گئی ہو؟ اصول اہلسنت دراصل اسی سوال کا کافی و شافی جواب ہے۔ ہمیں اس سلسلہ میں ایک پیمانہ اور ایک کسوٹی بلاشبہ حاصل ہے۔ بنانے کی بات ہے تو پیمانے بنائے کہاں جاتے ہیں!؟ ہر پیمانہ اپنے بننے کیلئے ایک پیمانے کا ضرورت مند ہوتا ہے۔ حق کا پیمانہ مطلق طور پر وحی ہے۔ اسی سے پھر آگے سب پیمانے چلتے ہیں۔حتی کہ عقل کی حدود تک اسی سے ماپی جاتی ہیں۔ رہا اس وحی کا فہم تو اس کا پیمانہ ’سلف‘ ہیں۔ اس کا پیمانہ وہ انسانی واقعہ ہے جس کو صاحبِ وحی نے خود اپنے ہاتھوں سے گھڑا اور مِن مِن کر اور تراش تراش کر ربع صدی میں اس کو تیار کیا اور اس کے عین مطابقِ وحی ہونے کی خوب خوب تسلی کی اور بعد والوں کو کرائی۔ اور قیامت تک آنے والوں کو اسے ”پیمانہ“ تسلیم کرنے کی تاکید فرمائی۔ ”ما اَنا علیہ و اَصحابی (4) اس کا مجموعی تسلسل پھر تابعین اور اتباع تابعین رہے۔ ان تین نسلوں کو سلف کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد فتنوں اور انحرافات نے امت کے اندر گو بڑی بڑی سطح پر مقبولیت پائی اور حق کا معاشرے میں پھر اس طرح بول بالا نہ رہا جس طرح کہ قرون ثلاثہ میں۔ مگر بعد والوں کو ایک پیمانہ اور کسوٹی دے دینے کیلئے یہ بہت کافی تھا۔ اس کے بعد اس بڑی سطح پر نہ سہی مگر کسی نہ کسی سطح پر اور تاریخ کے بعض ادوار میں تو خاصی اچھی سطح پر یہ تسلسل ہمیشہ باقی رہا اور اُمت کے جسم پر حملہ آور امراض وانحرافات کے خلاف مسلسل برسرپیکار رہا ۔۔۔۔ اس تسلسل کا نام اہلسنت تھا۔ اس کو پسپائی بھی ہوئی۔ یہ ہم مانتے ہیں۔ خصوصاً آخری صدیوں میں۔ دلچسپ بات یہ کہ اس کی پسپائی اُمت کے زوال کا پیمانہ ٹھہرا۔ پس یہ ہر معاملے میں ایک پیمانہ رہا۔ اُمت کا عروج بھی اسی سے ماپا جا سکتا ہے اور زوال بھی۔
پس یہ درست ہے کہ اصول اہلسنت کو آج آپ کسی بڑی سطح پر قائم نہیں دیکھتے اورموجودہ صورتحال میں اس کو بڑی حد تک غائب پاتے ہیں مگر یہ اس صورتحال کے درست ہونے کی دلیل نہیں۔ یہ بات اصول اہلسنت سے بے نیاز رہ سکنے کاجوازنہیں۔ بلکہ یہ اس زوال کی تفسیر ہے جو ہمیں پچھلی کچھ صدیوں سے لاحق ہے اور جو کہ ایک بے قابو مجمع کی صورت میں اب ہمارے سامنے ہے اور ایک ایسے پیمانے کا شدت سے ضرورت مند جو اسے اس انتشار اور اس بحران سے نکال کریکسوئی کی راہ پر گامزن کرسکے۔

ہم ایک خود کفیل اُمت ہیں۔ اس بنا پر یکسوئی ہمارا حق ہے۔ تجربے اور ٹامک ٹوئیاں مارنے سے ہمیں بچا لیا گیا ہے الا یہ کہ ہم خود ہی اس پر اصرار کریں اور اس نعمت کا اندازہ کرنے سے انکاری ہوں جو خدا نے ہم پر کر رکھی ہے۔ ہمارے دین میں اور سلف کے راستے میں ہمارے لئے سب خیر رکھ دی گئی ہے۔ ایک پورے اطمینان اور تسلی کے ساتھ اس کو بنیاد بنا کر ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔ کن باتوں میں ہم کو یک آواز ہونا ہے اور کن امور میں اپنی آوازوں اور لہجوں کا تنوع باقی رکھا جا سکتا ہے، ہمیں اس معاملے میں رہنمائی بالفعل حاصل ہے۔ اس لحاظ سے ہم دنیا کی ہر قوم سے بڑھ کر پیدآور productive قوم ہو سکتے ہیں۔ کسی قوم کواپنے تمام تنوع کے ساتھ مجتمع رہنے کی بہترین بنیاد حاصل ہو اور مل کر آگے بڑھنے کیلئے اس کا راستہ سرے تک روشن ہو اور پھر یہ کہ اول سے آخر تک اس کا حق ہونا ثابت ہو اور وہ اس کی دنیا ہی نہیں آخرت کی بھی ضمانت ہو، اس سے بڑھ کر اس کو کیا چاہیے؟ ہم اس کی تمنا کریں؟ بطور امت ہمیں یہ چیز بالفعل دے دی گئی ہے!

عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے:

اتبعوا ولا تبتدعوا فقد کفیتم  (سنن دارمی، حدیث نمبر 210)

”اپنے سے پہلوں کی راہ پر چلو اور اپنی اپج مت لڑاؤ۔ کیونکہ تمہیں (اس ساری زحمت سے) کفایت کر دی گئی ہے“۔

ایسی یکسوئی کیا کسی قوم کو حاصل ہو سکتی ہے؟ اپنے یہاں اگر اس کا فقدان ہے تو ہمیں ا پنے فہم کے ان مراجع پر جو دین اور عبادت کا مقصود پانے کے معاملے میں ہمیں آج تک متاثر کرتے رہے ہیں، ایک نظر ثانی کر لینی چاہیے۔

_______________

پس اس سوال کا جواب دے لینا بہت ضروری ہے کہ آپ نے دین کا فہم لیا کہاں سے ہے؟ دین کو جاننے کیلئے آپ کا مصدرِ فہم source of inspiration یہاں کے درسی نصاب ہیں؟ تنظیمی لٹریچر ہے؟ ’اسٹال‘ پر فروخت ہونے والی کتب اور رسائل ہیں؟ جلسے اور پروگرام ہیں؟ تقریر اور تحریر کے مناظرے ہیں؟ ’ذاتی مطالعہ‘ ہے؟ تراجمِ کتب ہیں؟ ریڈیو اور ٹی وی کی ’مذہبی‘ نشریات ہیں؟ اخبارات کے ’روحانی‘ ایڈیشن ہیں؟ ۔۔۔۔ اور یا پھر اصولِ اہلسنت کے مستند مصادر؟

کسی ’لٹریچر‘ یا ’پروگرام‘ یا ’تقریر‘ وغیرہ کی افادیت کم کرانا یہاں ہمارا مقصود نہیں۔ یہ سب کچھ بجا مگر یہ کس حد تک آپ کو سلف کے منہج سے جوڑتا اور ”اصولِ اہلسنت“ سے وابستہ کرتا ہے اور کہاں تک آپ کو یہ خود ’اپنے‘ ساتھ یا ’اپنے سلسلے‘ کے ساتھ وابستہ کرتا ہے؟ یہ لٹریچر، یہ نصاب، یہ پروگرام اور یہ تقریریں وغیرہ کہاں تک یہ آپ سے ’اپنے‘ اوپر انحصار کرواتے ہیں اور کہاں تک یہ آپ کو سلف تک پہنچا کر آتے اور سلف کے دستر خوان کا خوشہ چین بناتے ہیں؟ کہاں تک یہ آپ کا سلف پر انحصار کرواتے ہیں؟ دیکھنے کی بات صرف یہ ہے وگرنہ تحریر اور تقریر کی سرگرمی کسی دور میں بھی بُری نہیں۔

آئندہ فصول میں ہم اس موضوع کے کچھ مزید پہلو زیر بحث لائیں گے اور پھر ذرا آگے چل کر فہمِ دین کے معاملہ میں اصولِ اہل سنت کا پابند رہنے کی شرعی بنیادوں کا ذکر کریں گے ۔

_______________

 

(1) البقرۃ127 ”وہ تو صاف مخالفت (ہٹ دھرمی) پر ہیں“

(2) النمل: 79: ”بے شک تو ہی بین حق پر ہے“

(3) وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّهُ إِلَيْكَ  (المائدۃ49)

”ان سے ہوشیار رہیے کہ اللہ نے آپ پر جو اتار اس کے کسی ایک حصہ سے بھی یہ آپ کو منحرف نہ کرنے پائیں“۔

وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللّهِ مِن وَلِيٍّ وَلاَ نَصِيرٍ (البقرہ: 120)

”اور اگر علم آنے کے بعد تو ان کی خواہشوں پر چلے تو اللہ سے تیرا حمایتی اور بچانے والا کوئی نہیں ہے“۔

(4) ترمذی: حدیث نمبر 2565 ”وہ چیز جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ“


Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز