عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Monday, September 23,2019 | 1441, مُحَرَّم 23
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Fehame_Deen1 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
دائرۂ بحث
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

دائرۂ بحث

   

 

اصولِ اہلسنت میں عموماً جو سب سے پہلا موضوع دیکھنے کو ملتا ہے وہ ہے مصدرِ تلقِّی اور منهج تلقِّی۔

 کیونکہ انہی دو باتوں پر پھر دین کے سب مسائل کا انحصار ہوتا ہے۔

مصدرِ تلقِّی کا مطلب ہے: دین کہاں سے لینا ہے۔

اور منهج تلقِّی کا مطلب ہے: دین کس طرح لینا ہے۔

صرف اول الذکر کو لینا اور ثانی الذکر کو نظر انداز کردینا کچھ عظیم مغالطوں اور بڑے بڑے انحرافات کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے۔

جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو خدا کا شکر ہے کہ مصدر تلقِّی پر ___ آج کے یہاں کے اہلسنت طبقوں میں ___ ہنوز اتفاق پایا جاتا ہے کہ صاف صاف یہ کتاب اللہ ہے اور یا پھر سنت رسول اللہ۔ جو اس پر متفق نہیں وہ اہلسنت کے دائرہ میں ہی نہیں آتا۔

رہا اس تَلَقِّی کا منہج تو اس پر بہت کچھ بات ہونے کی ضرورت ہے اور اس موضوع پر پیچیدگی بھی حد سے بڑھ کر پائی جاتی ہے۔ دین کا ”مصدر“ بیشتر طبقوں پر واضح ہے مگر دین کا ”فہم“ لیا کہاں سے جائے ___ جو کہ منہج تلقِّی کا ایک موضوع ہے ___ تو اس بابت کئی ایک غلطی ہائے مضامین ہیں جو شاید ہم میں سے بہت سوں پر واضح نہیں۔ یہ مؤخر الذکر مسئلہ ہی ہمارے اس کتابچہ کا موضوع ہے۔

*********

’مرجعیت‘ اس وقت تحریکوں کا ایک بڑا اہم مسئلہ ہے۔ تحریکی نوجوانوں کی حیرانی اور سرگردانی کا ایک بڑا باعث ہے۔ خود قیادتوں کیلئے یہ ایک پریشان کن اور غور طلب بات ہونی چاہیے بلکہ بعض کے ہاں ہے بھی۔ ’تبدیلی‘ کے موضوعات میں بہر حال یہ بھی ایک بڑا موضوع ہے، یعنی:

’آپ کے فہم دین کامصدر کیا ہے؟‘

واضح رہے ہم یہاں ’دین کے مصدر‘ کی بات نہیں کررہے بلکہ ’فہمِ دین کے مصدر‘ کی بات کر رہے ہیں۔ شاید ہمارایہ سوال اٹھانا کچھ دیر کیلئے آپ کو عجیب بھی لگے، پھر بھی ہماری درخواست ہوگی کہ کچھ دیر آپ اس پر غور کرنے میں ہمارا ساتھ دیں۔

جہاں تک ’دین کے مصدر‘ کی بات ہے، تواس معاملہ میں ہمارے یہاں بیشتر دینی وتحریکی طبقے مجموعی طور پر الحمدللہ اہلسنت کے دائرہ سے وابستہ ہیں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی آئینی وشرعی حیثیت ان کے ہاں کبھی محل نظر نہیں رہی۔ فہم کی بات الگ ہے،جس پر بحث آگے آرہی ہے، کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ ﷺکو رد کر دینے کا رحجان البتہ ان کے ہاں نہیں پایا گیا۔ ’مصدریت‘ ان بیشتر طبقوں کے ہاں قطعی طور پر نصوصِ وحی کو ہی حاصل ہے۔ سب کے نزدیک ہی دین دراصل قرآن اور حدیث ہے، اس کے علاوہ اِن کا عقیدہ ہے کہ بشر کی ہدایت کیلئے کچھ اور آسمان سے نہیں اترا۔

کسی گفتگو کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ واضح کر دیا جانا ضروری ہوتا ہے کہ یہ کس طبقے کے ساتھ مخصوص ہے۔۔۔۔

ہماری یہ ساری گفتگو اس تحریکی اور تربیتی اور فکری دنیا کیلئے ہے جو مجموعی اور اصولی طور پر اہلسنت کے دائرہ سے وابستہ ہے اور جس کے ہاں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہرگز کوئی اختلافی حیثیت نہیں رکھتے۔ مذاہب اربعہ یعنی احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ (جبکہ ہمارے برصغیر میں مذاہب اربعہ میں سے ایک بڑی سطح پر صرف احناف پائے جاتے ہیں اور یا پھر محدود سی سطح پر، خصوصاً ہمارے جنوبی ساحلوں پر، شوافع)، علاوہ ازیں اہل الحدیث و اہل الظاھر وغیرہ (جن کی ایک معتد بہ تعداد برصغیر کے اندر پائی جاتی ہے)۔۔۔۔ یہ سب ”مصادرِ دین“ کی بابت کوئی بہت بنیادی اختلاف نہیں رکھتے، اور اس بنا پر یہ سب کے سب اہلسنت میں آتے ہیں۔ ان کے مصادرِ دین کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور اجماعِ امت ہیں البتہ ان مصادر سے فہم و فقہ لینے میں ان کے مابین ایک تنوع پایا جاتا ہے جوکہ جب تک صحت مند رہا اور بلاشبہہ کئی صدیاں ایسا رہاامت کی فقہی تاریخ کے ایک قابل رشک واقعے کے طور پر دیکھا گیا، گوکہ اس تنوع کے اندر ان آخری زمانوں میں آکر اب بڑی سطح پر ایک اضطراب بھی پایا جانے لگا ہے بلکہ یہ ’تنوع‘ بڑی حد تک اب ایک ’تضاد‘ کی صورت دھار گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی صورت درست کرنا اب بے حد ضروری ہوگیا ہے، بلکہ بڑی حد تک ہمارے اس کتابچہ کا موضوع بھی۔

المختصر، یہ سب طبقے معتبر علمائے امت کی نگاہ میں اہل سنت کے اندر آتے ہیں۔۔۔۔

پس اپنی گفتگو میں ہم اس دائرے سے باہر نہیں نکلیں گے۔ یعنی ہمارا اصل خطاب انہی طبقوں سے رہے گا جو اپنی تاریخی وابستگی کے لحاظ سے اور مصادرِ دین کے حوالے سے اہل سنت شمار ہوتے ہیں۔ انہی کے عمل میں ایک وحدت اور یکسوئی لانا ہمارا مقصود ہے اور ہمارے اس کتابچہ کا مطالعہ کرلینے کے بعد آپ محسوس کریں گے کہ یہی دائرہ جو ہمارے اسلامی برصغیر کے اندر بلاشبہہ ہمیں حاصل ہے، فکری حوالے سے کچھ تھوڑا سا بنیادی کام اور ایک ترتیبِ نو کر لینے کی صورت میں، ہمیں ایک عظیم الشان تحریکی بنیاد فراہم کرکے دیتا ہے اور عمل و جہاد کی دنیا میں ہماری پیش قدمی کیلئے ایک ایسی زبردست زمین جو ہند کو پھر سے اسلام کی عالمی قوت کا ایک عظیم ستون بنا دے۔

لہٰذا ہمارا اولین خطاب انہی اہل سنت طبقوں سے ہے جوکہ بڑی حد تک ہمارا ایک بنا بنایا اثاثہ ہے، بشرطیکہ کچھ کام اس کو ایک بنیادی جہت دے لینے پر کر لیا جائے، اور ہمارا یہ سب لکھنا لکھانا جس کا کہ ادنیٰ سا ایک حصہ ہے۔

رہے وہ طبقے جو ہمارے ساتھ اس اصل پر ہی متفق نہیں اور جن کے لئے مرجع کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ اس طرح نہیں جس طرح کہ اہلسنت کے ہاں ہے مثلاً روافض، خوارج، معتزلہ، صوفیا کے باطنی مذاہب(1)، منکرین حدیث، نیچرسٹ اور سیکولر وغیرہ ایسے افکار کے پیروکار، جوکہ ہمارے ساتھ ’مصادر دین‘ پر ہی متفق نہیں، تو وہ ہماری اس گفتگو کے اولین مخاطب نہ ہوں گے۔ کیونکہ ہمارے اور ان کے مابین ایک اصولی اور بنیادی اختلاف کی دیوار حائل ہے اور کسی ایک فریق کے اس کو پار کئے بغیر مفاہمت ممکن نہیں۔ اس طبقہ کے ساتھ گفت وشنید بھی ضرور ہونی چاہیے اور بلاشبہہ اس طبقہ میں بھی بہت سے مثبت سوچ رکھنے والے اصحاب پائے جا سکتے ہیں، اور ہمارے اس مضمون میں بھی ان کے غور وفکر کیلئے بہت کچھ ہوگا، مگر مصادرِ دین پر اتفاق کے معاملہ میں ان سے بات کرنے کیلئے بہرحال کوئی اور موقعہ درکار ہوگا اور ایک مختلف اپروچ۔

سو یہ واضح رہے کہ وہ سب قدیم اور جدید طبقے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو دین کا قطعی اور حتمی مصدر نہیں مانتے اور زندگی کے ہر ہر معاملے میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو ’حَکَم‘ اور دین ودنیا کے ہر ہر شعبے میں اس کو فیصل تسلیم نہیں کرتے، خواہ وہ ’شریعت‘ اور ’طریقت‘ میں امتیاز کے زیرعنوان ہو، یا باطنیت کے پردے میں، یا عقل اور فلسفہ اور نیچر کی تحکیم کے تحت، یا سیکولر بنتے ہوئے دین و دنیا کی تقسیم کے تحت ۔۔۔۔ اور جو کہ اہلسنت ہی شمار نہیں ہوتے، تو یہ طبقہ ہماری اس گفتگو کا براہ راست اور اولین مخاطب نہیں۔ گو ان کے لئے بھی اس مضمون میں کوئی کام کی بات پائی جا سکتی ہے۔

البتہ اہل سنت طبقوں کی ایک کثیر تعداد، خصوصا یہاں کے سنجیدہ دیندار اعلی ٰ تعلیم یافتہ طبقے، چونکہ برصغیر کے روایتی حلقوں کے اندر پائے جانے والے جمود سے تنگ آکر، اور ایک صحیح علمی وفکری راہنمائی کے معاملے میں پائے جانے والے خلا کے باعث، یہاں کے جدت پسند رجحانات کی طرف کچھ میلان کرلینے پر ’مجبور‘ سے ہوئے ہیں اور اس وقت یہ صورتحال ہے کہ ان میں سے کوئی کہیں کھڑا ہے تو کوئی کہیں، البتہ ایک عدم اطمینان کی کیفیت سے عموماً باہر نہیں جبکہ اہلسنت کے ہاں مانے جانے والے مصادر دین سے انکی وابستگی بھی الحمد للہ ختم نہیں ہوپائی بے شک وہ جدت پسندوں کے افکار کو کتنا ہی سنتے پڑھتے ہوں اور حتیٰ کہ ان سے متاثر بھی کیوں نہ ہوں۔۔۔۔ یہ طبقہ سمجھئے ہماری اس پوری گفتگو کا اہم ترین مخاطب ہے۔ بہت جگہوں پر ہمارے ہاںجدت پسند رجحانات پر کچھ گفتگو پائی جائے گی تو دراصل وہ ہمارے ان اپنے ہی اصحاب کے فائدے کیلئے ہوگی اور اس کا مقصد اپنے انہی اصحاب کا ”اصولِ اہل سنت“ پر اعتماد بڑھانا ہوگا۔

 

*********

آپ کے فہم دین کا مصدر کیا ہے؟

اس کا سیدھا جواب کچھ قابل احترام طبقوں کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ: ”قرآن اور حدیث“۔

قرآن اور حدیث سے بڑھ کر حق بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ قرآن وحدیث کے سوا حق کا کوئی پیمانہ اپنے پاس اور رہتی دنیا تک پوری انسانیت کے پاس کوئی نہیں۔ دین کے حقائق وحی کی انہی نصوص میں محفوظ ہیں اور قیامت تک محفوظ ہیں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے سوا علم حقیقی کا کوئی مصدر ہے ہی نہیں۔

مگر مسئلہ سوال کی نوعیت کا ہے۔ سوال کا مقصود متعین کئے بغیر جواب دے دیا جانا بسا اوقات الجھن بڑھا دینے کا سبب ہوتا ہے نہ کہ الجھن کا حل۔ اس سوال کے ساتھ بھی بعض طبقوں کی جانب سے یہی معاملہ ہوتا ہے۔ ’دین‘ اور ’قرآن و حدیث‘ دو الگ الگ چیزیں نہیں۔ یہ ایک ہی چیز ہے۔ آپ نے دین ’قرآن وحدیث‘ سے سمجھا ہے تو زیادہ واضح ہونے کیلئے ہم یہ سوال یوں رکھ لیتے ہیں کہ: ”آپ نے قرآن اور حدیث کو کہاں سے سمجھا ہے؟“

یہ سوال البتہ واقعتا غور طلب ہے اور توجہ طلب۔

’قرآن اور حدیث‘ تو خودبخود واضح ہیں۔ اس کو ’کہیں‘ سے سمجھنے کا کیا سوال؟‘ یہ ایک اندازِ فکر ہے اور اس کی تہہ میں جانا موضوعِ زیر بحث کو واضح کردینے کیلئے کسی حد تک ضروری۔ گو آئندہ فصول میں ہم بعض دیگر انداز ہائے فکر پر بھی مفصل گفتگو کریں گے۔

قرآن اور حدیث دین کا اصل مصدر ہیں۔ بلکہ دین ہیں۔ یہ بات ہر بحث اور ہر شبہہ سے بالاتر ہے۔ اس کے سوا خدا نے انسانوں کی ہدایت کیلئے اپنے رسول پر کچھ نہیں اتارا۔ دین کا یہ منبع محکم ہے اور اپنے آپ میں بے انتہا واضح۔ مگر پھر بھی اس کی ”تفسیر“ اور ”بیان“ ایک باقاعدہ علم ہے اور اس علم کو درست طور پر جاننے اور سمجھنے والے تاریخی طور پر کچھ متعین لوگ ہیں۔

یوں تو خدا کی یہ کائنات بھی ایک کھلی کتاب ہے۔ ان کو بھی کتاب اللہ میں خدا کی آیات کہا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک واضح کتاب ہے۔ ہر کوئی اس کو پڑھ سکتا اور اس سے فوائد کشید کر سکتا ہے۔ کسی پر بھی پابندی نہیں۔ کتابِ کائنات سے فوائد کشید کرنے کے بے شمار پہلو ہیں۔ کچھ ایمانی ہیں اور کچھ واقعاتی۔ کائنات کو واقعاتی انداز میں پڑھنے کا ایک پہلو ’سائنس‘ کہلاتا ہے۔ ’سائنس‘ کائنات کی بابت کئے گئے انسانی تجربات اور مشاہدات کا نام ہے۔ مگر ’کائنات‘ سے ’سائنس‘ کی کشید کے معاملے میں بھی کیا سب لوگ برابر ہیں؟ کیا اس کا علم کچھ مخصوص مصادر سے لیا جانا ضروری نہیں؟ تجربے اور مشاہدے کی بابت کچھ خاص متعین اصول نہیں؟ سائنس کی وادی میں آکر کیا ہر کسی کو اپنا ”پہیہ“ ایجاد کرنا ہوتا ہے یا ’پہیے‘ کی بابت پہلے سے جاری عمل کو لے کر ہی آگے بڑھانا ضروری ہوتا ہے؟ سائنس کی بابت آدمی کو کیا کسی تاریخی تسلسل کا حصہ بننا ہوتا ہے یا اس سے الگ تھلگ رہ کر ہی کائنات کے حقائق کو ’از سر نو‘ دیکھنا اور پرکھنا ہوتا ہے؟ کائنات تو وہی کائنات ہے جو دس ہزار پہلے تھی۔ مگر کائنات کو پڑھنے کا عمل ایک تاریخی تسلسل ہے اور اب اس کے کچھ خاص قواعد وضوابط ہیں اور کچھ متعین مراجع، جن سے منقطع رہنا ہرگز کوئی علمی رویہ نہیں۔

ضروری نہیں یہ مثال ’دین کے علم‘ کے معاملہ سے سوفیصد مطابقت رکھتی ہو۔ مگر یہ اس سے سوفیصد متعارض بھی نہیں۔ ان دونوں معاملوں کا مشترکہ پہلو ہی دراصل اس مثال سے ہمارا مقصود ہے۔

بنا بریں، یہ بات کہ قرآن وحدیث اپنے آپ واضح ہیں، اس بات سے متعارض نہیں کہ قرآن اور حدیث کو پڑھنے اور سمجھنے کا ایک درست طریق کار ہی اختیار کیا جائے اور اس کے فہم کے معاملہ میں صرف اور صرف درست ”مراجع“ پر ہی انحصار کیا جائے۔ یہ ”درست مراجع“ ہی چنانچہ ہماری اس گفتگو کا اصل موضوع ہے۔ ’مرجعیت‘ آج کے تحریکی اور اصلاحی عمل کی راہ میں واقعتا ایک اہم سوال اور ایک وضاحت طلب مسئلہ ہے اور اس سے صرف نظر کرنا ایک بہت بڑے فرض کو تشنۂ تکمیل چھوڑ دینا۔

*********

تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے وہ طبقے جو قرآن اور حدیث کے فہم کیلئے __ واضح رہے ”فہم“ کے لئے __ کسی خاص مراجع اور ضوابط کا اپنے آپ کو ضرورت مند نہیں جانتے، کیونکہ ’کتاب اور سنت کے خودبخود واضح ہونے‘ سے ان کے ہاں یہی مراد لی جاتی ہے۔۔۔۔ یہ کسی دوسرے کو اپنے سے مختلف استدلال کرتا دیکھیں ___گو وہ قرآن اور حدیث سے ہی استدلال کر رہا ہو ___ تو اس کو شدت سے مسترد بھی کرتے ہیں!

برصغیر میں خصوصاً پچھلی پانچ سات دہائیوں سے یہ انداز فکر خاصی تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ یعنی ہر شخص قرآن اور حدیث کو خود اپنی تحقیق کرکے سمجھے گا اور اس کے نتیجے میں چاہے پھر وہ جہاں بھی پہنچے! قرآن اور حدیث کے بے انتہا واضح ہونے کا اس کے ہاں یہی مطلب ہے کہ وہ ان کو خود سمجھ سکتا ہے! جس کیلئے سوائے عربی زبان کے (بلکہ شاید تراجمِ کتب کے) یا کچھ تھوڑا بہت ’ذاتی مطالعہ‘ کرلینے کے وہ کسی چیز پر انحصار کا پابند نہیں۔ اب جو اس کو سمجھ آئے اس کو حق ماننے کا بھی وہ اپنے اس انداز فکر کی رو سے خودبخود پابند ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ دوسرے اس قرآن اور حدیث کو اس سے مختلف انداز میں سمجھیں تو ان کو غلط جاننے کا بھی اپنے آپ کو مکلف سمجھتا ہے!

پس اس انداز فکر کی رو سے ہر شخص قرآن اور حدیث کو خود سمجھنے کا جس قدر پابند ہے اپنے سے مختلف قرآن و حدیث سمجھنے والوں کو غلط جاننے کا بھی اتنا ہی پابند ہے!

کیا سب لوگ قرآن اور حدیث کو ایک ہی طرح سمجھ سکتے ہیں؟ کہ جب بھی ان کے سمجھنے میں فرق آئے تو ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہو؟؟؟ بلکہ درست مراجع اور صحیح ضوابط نہ ہوں تو کیا قرآن اور حدیث کو سرے سے سمجھ بھی سکتے ہیں؟؟؟ الا یہ کہ ایک چیز کا ’آپ کو حق ہے اور دوسرے کو نہیں‘! یعنی عین وہ چیز جو ایک کبھی نہ ختم ہونے والے تنازعہ کی جڑ ہوا کرتی ہے! ایک چیز آپ کیلئے جائز ہے تو دوسرے کیلئے ناجائز کیوں؟ اور اس بات کی آخر کیا ضمانت ہے کہ قرآن اور حدیث سے اپنے تئیں آپ نے یا آپ کی جماعت نے جو سمجھا وہ ضرور ہی درست ہے اور دوسرے نے یا اس کی جماعت نے جو سمجھا وہ ضرور ہی غلط ہے؟ معاملہ اگر اس کے برعکس ہو تو!!؟

*********

’دین‘ کے مصادر اور ’فہم دین‘ کے مصادر ۔۔۔۔ ان دونوں کا خلط کر دیا جانا کئی ایک پیچیدگیوں اور معضلوں کے پیدا کردینے کا سبب بنا ہے۔ لہٰذا اس پر کچھ مزید روشنی ڈالنا ضروری ہوجاتا ہے۔

’دین‘ کے مصادر اور ’فہم دین‘ کے مصادر گڈ مڈ ہوجانے کے باعث پیدا ہوجانے والی یہ غلط فہمی حق یہ ہے کہ محض ایک ہی طبقے میں نہیں پائی جاتی۔۔۔۔

ایک طرف آپ دیکھتے ہیں کہ دین کا مصدر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو ماننے کا یہ تقاضا سمجھ لیا جاتا ہے کہ ہر وہ مصدر جس کی کتاب اور سنت کے ’فہم‘ کے معاملہ میں پابندی اختیار کی جانی چاہیے، اس کو کتاب اور سنت کا ہی ہم سر قرار دے کر مسترد یا نظرانداز کر دیاجائے۔

آیات اور احادیث کے فہم اور تطبیق کی بابت چنانچہ جب آپ لوگوں کو صحابہ یا تابعین و اتباع تابعین کے راستے کا پابند کرتے ہیں یا جب اس راستے کا علم رکھنے والے ائمۂ علم و فقہ کے مراجع کا، ایک مجموعی معنیٰ میں، پابند رہنے کا ان سے تقاضا کرتے ہیں تو کسی وقت جواب آتاہے ’کیوں، وہ نبی ہیں؟!‘جبکہ ہم ان کو سلف و ائمہ کے اقوال کا اللہ اور رسول کے قول کے مقابلے میں نہیں بلکہ اللہ اور رسول کے قول کے ’فہم‘ کے معاملے میں پابند کرا رہے ہوتے ہیں، جبکہ جس قدر سلف و ائمہ کے اقوال میں تعددِ آراءکی گنجائش ہوتی ہے ہم وہ بھی ان کو پوری دے رہے ہوتے ہیں، صرف اس سے باہر جانے اور اپنی ’اَقول‘ سنانے سے ان کو متنبہ کرتے ہیں ، اس کے باوجود وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ’اللہ اور رسول‘ کے ماسوا دین کے کسی مرجع یا کسی ماخذ کا پابند کر رہے ہیں!

دوسری جانب وہ طبقے ہیں جو اپنے مصادر کو جن سے وہ دین کا فہم لیتے رہے ہیں، مستقل بالذات حیثیت دینے لگتے ہیں۔ یہ خاص ’اپنے‘ ائمہ اور ’اپنی‘ کتبِ فقہ کے علاوہ کہیں اور سے رجوع کیا جانے کو باطل تک سمجھنے لگتے ہیں اور انہی کے اندر وارد ہوچکے مسائل کو قیامت تک کیلئے حرف آخر ۔ اس سے اختلاف ہوجانے میں یہ ہلاکت کے اندیشے تک دیکھنے لگتے ہیں چاہے وہ اختلاف کتنی ہی علمی بنیادوں پر کیا گیا ہو اور دیگر مستند ائمۂ دین سے اس کا ثبوت کیوں نہ ملتا ہو۔

پھر کسی وقت کتاب اور سنت کے ساتھ، جوکہ دین کے ابدی مصادر ہیں، انکے اختیار کردہ مراجع کا صاف تعارض بھی پایا جائے، جوکہ کسی خاص متعین امام یا عالم کے حق میں بہرحال ممکن ہے، گو وہ عند اللہ اس پر جوابدہ نہ ہوگا، بلکہ تو کبار صحابہ تک سے ایسے اقوال یا افعال صادر ہوجانا محال نہیں جو کتاب اور سنت کے ساتھ مطابقت رکھنے میں پایۂ ثبوت کو نہ پہنچتے ہوں اور ان اقوال کے مقابلہ میں کچھ دیگر صحابہ و اہل علم کے اقوال ہی حق کے موافق تر ہوں، مگر یہاں بھی یہ ’اپنے‘ مراجعِ فہم کو اسی طرح واجب اتباع قرار دیں گے جیسا کہ ان معاملات میں جہاں ان کے یہ مراجع کتاب و سنت سے متعارض نہیں۔ یوں کچھ ائمۂ علم وفقہ، جن سے رجوع کیا جانا بلا شبہہ ضروری ہے، اس طبقہ کے لئے البتہ ’فہم دین‘ کے مصدر نہیں بلکہ خود ’دین‘ ہی کے مصادر بن جاتے ہیں۔

گویا یہ خلط دونوں طرف برابر پایا جاتا ہے: ’دین کا مصدر‘ اور ’دین کے فہم کا مصدر‘۔

تیسری طرف ایک الجھی ہوئی ذہنیت ہے۔ یہ قرونِ سلف کو ویسے ہی کسی خاطر میں لانا اموردِین کے فہم و استنباط کے معاملہ میں اپنے اوپر گراں سمجھتی ہے بلکہ شاید اپنے مرتبہ ومقام سے فروتر اور اس سلسلہ میں سلف کے فہم کی پابندی کو اپنے کھل کھیلنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ۔ اس ’آزادی‘ کے باعث، اس طبقہ میں اب ایک سے ایک نیا رجحان آرہا ہے، حتیٰ کہ ایک ہی محقق کی زندگی میں ہر چند سال بعد فکر کا ایک نیاتر ماڈل آجاتا ہے جس کو وہ ’تحقیقی دیانت‘ کے تحت خود ماننا اور جرات کرکے خلق خدا کے سامنے لانا قریب قریب اسی اخلاص کے ساتھ ضروری سمجھتا ہے جس تجرد و لاپروائی کے ساتھ ایک نبی اپنے اوپر اترنے والے ’ناسخ ومنسوخ‘ کو اپنی امت تک پہنچانے کا ہر حال میں پابند ہوا کرتا تھا! امت کا فرض ہے کہ ان محققین پر نگاہ مرکوز رکھے کہ کب ان کے سفر میں اچانک کوئی نیا موڑ آجاتا ہے اور کب اصولِ دین کے معاملے میں ان پر یکلخت کوئی نئی دلیل یا کوئی نئی توجیہ منکشف ہوتی ہے تا کہ ’حق‘ کو تسلیم ’کرتے جانے‘ یا کم ازکم زیر بحث ’لائے رکھنے‘ میں امت کسی وقت تقصیر کی مرتکب نہ ہوجائے۔۔۔۔ اور ’دین کے بنیادی امور میں تحقیق‘ کے مشن پر روانہ کسی صاحبِ فکر کا ’قبلہ‘ کسی وقت تھوڑا بہت سرک جاتا ہے تو ’دلیل‘ کے پیچھے چلنے کا عمل تعطل یا خلل کا شکار نہ ہو!

یہاں تک کہ اس طبقہ میں مسئلہ کسی بھی وقت ’اصولِ فہم‘ سے نکل کر’مصادرِ دین‘ کی حدود میں بھی داخل ہوجاتا ہے اور ’کتاب‘ اور ’سنت‘ کی تعریف تک میں بہت کچھ ’نیا‘ سامنے آجانے کا انکے یہاں امکان رہتا ہے۔ اپنے عمومی مسلک میں یہ طبقہ اہلسنت میں شمار ہونا بھی مشکل ہے، کیونکہ اس کے ساتھ ’مصادر‘ کے معاملہ میں ہی کوئی مشترک و قابلِ اعتماد زمین ہمارے اور ان کے اکٹھا چلنے کیلئے میسر نہیں رہتی اور بات بات پر ہر دو فریق کے مابین ’وضاحت در وضاحت‘ اور ’استیضاح در استیضاح‘ کی ضرورت پڑی رہتی ہے اور حیرت یہ کہ مسلسل بڑھتی جارہی ہے،۔۔۔۔ حالانکہ نزاع اصولِ دین کے گرد ہے، جوکہ امت کے وسیع طبقوں میں پیشگی واضح اور معلوم سمجھی جانے والی چیز ہونی چاہیے، جبکہ یہاں کئی ایک ’محققین‘ کو یہ گلہ رہتا ہے کہ ’میری بات سمجھی نہیں جارہی اور ایک بے حد محدود تعداد ہی کو ’سمجھ‘ آرہی ہے‘!۔۔۔۔ اور چونکہ فریقِ دیگر کا سفر ونقل مکانی مسلسل جاری ہے اس لئے کئی ’وضاحتوں‘ کی میعاد expiry date تک ختم ہوچکی ہوتی ہے اور کئی پرانے ’اسٹیشن‘ بھی متروک ٹھہرائے جاچکے ہوتے ہیں۔ مراجعِ فہم کا پس کیا رونا، مصادرِ دین تک کے معاملہ میں ’نئے‘ کا امکان مسلسل یہاں موجود رہتا ہے!

تاہم چونکہ ”فہم“ کے ساتھ بھی ان لوگوں کا مسئلہ کسی نہ کسی حد تک متعلقہ ہے، پھر مآخذ کے معاملہ میں بھی ہماری یہی گفتگو ان سے متاثر ہونے والوں کے غور وفکر کیلئے کئی ایک راہیں کھول سکتی ہے۔۔۔۔ لہٰذا اس فریق کے فائدہ کی بھی کئی ایک باتیں ان شاءاللہ یہاں آئیں گی۔

*********
(1) یعنی صوفیاءکے وہ طبقے جو ’شریعت اور طریقت‘ میں فرق کرتے ہوئے ’طریقت‘ کو مقدم اور ’شریعت‘ کو مؤخر کردیتے ہیں۔ رہے صوفیاءکے وہ طبقے جو پابند شریعت ہیں اور شرک سے دامن کش رہتے ہیں، تو بلا شبہہ وہ اہل سنت میں آتے ہیں۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز