عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, December 14,2019 | 1441, رَبيع الثاني 16
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
Gard_Nahi آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
دلیل کی قوت ہی تو رسالتِ محمدیﷺکا اصل امتیاز ہے!
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف
دلیل کی قوت ہی تو 
 

رسالتِ محمدیﷺکا اصل امتیاز ہے!

 

 

اسلام کی ’تلوار‘ کو موضوع بنانے والے عیسائیوں کیلئے یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ وہ پہلا عیسائی جو نبی آخر الزمان پر ایمان لایا، وقت کا ایک مقتدر بادشاہ تھا! اور وہ بھی جب مکہ میں اِس نبی پر ستم کے پہاڑ توڑ دیے گئے تھے اور جب اِس کے پیروکاروں کو اپنی قوم کے ظلم سے چھپنے کیلئے پورے ملک  میں کہیں جگہ نہ ملتی تھی! تب اِن میں سے کئی ایک ’پناہ گیر‘ ہو کر اس نصرانی بادشاہ کے ملک میں چلے گئے تھے۔ ان کی قوم ان کا پیچھا کرتی ہوئی بحر قلزم پار کر کے اُس ملک تک گئی اور بادشاہ سے اُن کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ تب بادشاہ نے ان پناہ گیروں کو طلب کیا، جن سے قرآن سن کر بادشاہ کی کایا پلٹ گئی، سورۂ مریم میں خدا کی کبریائی اور مسیحؑ کی عبدیت کا ذکر سن کر اس کی آنکھیں نمناک ہو گئیں اور یہ بادشاہ مکہ کے اِن پناہ گیروں کو ان کی ظالم قوم کو واپس دینے کی بجائے محمدﷺ کو اپنا دل دے بیٹھا! محمدﷺ پر پائی جانے والی تاریخ (سیرت) کی کوئی کتاب نہ ہوگی جس میں ’ہجرتِ حبشہ‘ کے عنوان سے یہ واقعہ درج نہ ہو!

اِس کے علاوہ بھی امام ابن قیمؒ نے اپنی مشہور کتاب "ہدایۃ الحیاریٰ فی الرد علیٰ الیہود والنصاریٰ" میں متعدد واقعات نشان زد کئے ہیں جن سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ نصاریٰ کے بڑے اونچے اونچے ایوانوں میں محمدﷺ کی شانِ نبوت کا رعب کس طرح چھایا تھا۔ خود قیصر روم نے آپ کا نامۂ مبارک کس انداز میں وصول کیا بلکہ یہ خواہش تک ظاہر کی کہ ہوسکے تو ’میں اُس کے پیر دھوؤں‘، صحیح بخاری کے اندر درج ہے۔ مصر کا نصرانی بادشاہ مقوقس، آپ کے نامۂ مبارک کا جواب کس ادب اور احترام سے دیتا ہے اور بیش قیمت تحائف آپ کی خدمت میں روانہ کر کے اپنے نیک جذبات کا کیا خوب اظہار کرتا ہے، تاریخ کا معلوم واقعہ ہے۔ عمان کے بادشاہ جیفر بن الجلندی کے پاس آپ کا نامہ بر جاتا ہے، عمان کا بادشاہ اُس سے آپ کے بارے میں اور آپ کے دین کے متعلق سوالات کرتے ہی خود اور اس کا بھائی عبید بن الجلندی دونوں حلقہ بگوش اسلام ہو جاتے ہیں۔ تاریخ کی مشہور ہستی حاتم طائی کے بیٹے عدیؓ بن حاتم جو اپنی قوم کے بادشاہ ہیں اور نصرانی ہیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرفِ صحبت حاصل کرتے ہیں۔ نجران کے علاقہ سے، جو 73 بستیوں پر مشتمل تھا اور ایک لاکھ مردانِ جنگی کہ سب کے سب عیسائی تھے اس کے تصرف میں تھے، 24 سردار آپ کے پاس آکر ٹھہرتے ہیں اور ان میں سے کئی ایک مسلمان ہوجاتے ہیں، وفدِ نجران کا کچھ ذکر ابھی ہم آگے جاکر کریں گے۔

علاوہ ازیں، کیا یہ بات اِن کے نوٹ کرنے کی نہیں کہ۔۔۔۔ ”دلائل“ رکھنے میں معاذ اللہ اِس نبی کے ہاں کوئی کمی ہوتی تو یہ ’یثرب‘ کا رخ کیوں کرتا جہاں یہود کے اَحبار اپنے صحیفے کھول کر بیٹھے تھے؟ انبیاءکے صحیفے پاس رکھنے کے حوالے سے پورے عرب میں اَحبارِ یہود ہی کی دھاک تو بیٹھی تھی! کیا اِس واقعہ کی کوئی دلالت یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ کیونکر اِس نبی کا دار الہجرت پورے عرب میں سے ایک یثرب ہی کو بنایا جاتا ہے! یہ تو درحقیقت پورے عرب کو دکھانے کیلئے تھا کہ بے شک یہ (عرب) خود اُمّی (ناخواندہ) ہیں مگر ایسا نہیں کہ اِس نبی کے دلائل و آیات صرف اِن عربوں کو لاجواب کر سکتے ہوں بلکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ احبارِ یہود جو علمِ نبوت کے ماہر مانے جاتے ہیں، ایسے ’ماہرینِ دینیات‘ بھی اِس نبی کے سامنے کس طرح گھگیاتے ہیں اور اُن کی ہٹ دھرمی سب دیکھنے والوں کے روبرو کیونکر آشکارا ہوتی ہے۔

یقینا پورے عرب کے متلاشیانِ حق نبیﷺ کے پیچھے مدینہ پہنچ چکے تھے۔ یہ لوگ پہلی نبوتوں کا کچھ زیادہ علم نہ رکھتے تھے تو بھی مدینہ میں ہونے والے وہ مناظرے تو جو آپ کے اور احبارِ یہود کے مابین ہوتے رہے دیکھ ہی سکتے تھے کہ کس طرح اِنہی میں کاایک آدمی اِن ’فریسیوں‘ پر بھاری پڑ رہا ہے! قدرتی ذہانت سے مالامال اور تلاشِ حق سے سرشار عرب گزشتہ نبیوں اور صحیفوں سے کچھ اتنا باخبر نہ تھے تو بھی مدینہ میں برپا ہونے والے اِن مناظروں سے نہایت مفید نتائج پر تو پہنچ ہی سکتے تھے، اور کیا پہنچے نہیں؟! ”تعلیم“ کا یہ بھی تو ایک حصہ تھا! کہ اِس جماعت کو عنقریب دنیا بھر کے فلسفوں کا سامنا کرنا تھا! اِس ”تعلیم“ سے وجود میں آنے والی جماعت ہی کی جانب تو اُس سورت میں جو ”امیوں کے اکٹھ“ کا حوالہ جانی جاتی ہے، نگاہ والوں کی نگاہ مبذول کرائی جاتی ہے:

”وہی ہے جس نے (عرب کے) ناخواندہ لوگوں میں انہی میں سے ایک پیغمبر برپا کیا، جو انہیں اس کی آیات پڑھ پڑھ کر سناتا ہے، انکا (ظاہر وباطن) نکھار دیتا ہے، اور ان کو کتاب اور دانشمندی کی تعلیم دیتا ہے۔ حالانکہ یہ اس سے پہلے ایک کھلی گمراہی میں ہی تو تھے! اور (علاوہ اِن موجودین کے) دوسرے (اقوام) کے لئے بھی ان میں سے جو ابھی اِن میں شامل نہیں ہوئے۔ اور وہ تو زبردست حکمت والا ہے! یہ ہے اللہ کا فضل جس کو وہ چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ تو بڑے فضل والا ہے۔ وہ لوگ جن کو تورات اٹھوائی گئی تھی پھر انہوں نے تورات اٹھا کر نہ دی انکی مثال ایسی ہی ہے جیسے وہ گدھا جس پر بہت سی کتابیں لاد دی گئی ہوں! بری ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات ہی کو جھٹلا دیا۔ ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔(سورۃ الجمعۃ، 5-2)

جس کے پاس دلیل کی قوت نہیں کیا وہ پورے عرب میں سے یثرب ہی کا انتخاب کرتا؟ ’جنگ‘ کی نوبت نبیﷺ کی طرف سے تو آئی ہی نہیں لیکن یہود کی طرف سے یہ نوبت آئی بھی تو اِس کو کچھ عرصہ لگا۔ کیسی کیسی مجلسیں اِس دوران علمائے یہود اور نبی ِ آخر الزمانﷺ کے مابین منعقد نہیں ہوئیں! کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ سوالات کرنے آئے ہوئے یہودی مجلس برخاست ہونے پر آپ کے ہاتھ، اور بعض روایات میں آتا ہے، آپ کے پیر چوم کر اٹھے۔(1) ان کے بعض چوٹی کے علماءمانند عبد اللہؓ بن سلام حلقہ بگوش اسلام بھی ہوئے۔ کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ ان مناظروں میں احبارِ یہود کی بددیانتی کا تماشا برسرعام دیکھا گیا۔ یہ تک دیکھنے میں آیا کہ یہودی تورات کی عبارتیں نکال کر دکھاتے ہوئے نص کے متعلقہ حصے ہاتھ سے چھپا لیتے ہیں اور تب احبارِ یہود ہی میں سے اسلام قبول کر چکے صحابی عبد اللہؓ بن سلام آنحضور سے کہتے ہیں کہ اِنہیں کہیے جو حصہ ہاتھ کی اوٹ میں کر رکھا ہے اُس کو پڑھیں(2) اور تب وہ شرمسار ہو کر اٹھتے ہیں!

مستشرقین کی ریس میں، اور یہ ادراک کئے بغیر کہ اِس کی زد ’کہاں‘ پڑنے والی ہے، کس ’ناقدانہ بے پروائی‘ سے آج کے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ لکھاری اپنے تئیں ’ترپ کا پتہ‘ پھینکتے ہیں: ’اگر آپ نبی تھے اور دلیلیں پاس رکھتے تھے تو پھر نبیوں کے واقف یہود نے تو آپ کو پہچان کر نہ دیا‘ بلکہ اِن میں سے کئی سارے آج کل یہ بھی لکھتے پھر رہے ہیں (نقل کفر کفر نہ باشد) کہ ’محمدﷺ اَن پڑھ عربوں کو ہی ساتھ ملا سکتے تھے مانتے تو تب جب کتاب کا علم رکھنے والے یہود آپ کو مان کر دیتے مگر یہود نے، کہ صرف وہی تھے جو انبیاءکی تاریخ سے واقف تھے، آپ کی اِس دعوت کا ذرہ بھر وزن نہ لگایا اور عرب اُمّیوں کے سوا کہیں آپ کو پزیرائی نہ ہوئی‘ (معاذ اللہ)۔ اِن حقائق کو فی الحال ایک جانب رکھتے ہوئے کہ آپ نے اِن ’اَن پڑھوں‘ کو قعرِ جہالت سے نکال کر علم و عرفان کے کس ثریا تک پہنچایا اور کیونکر اِن ’اُمّیوں‘ کو زمانے بھر کا استاد بنا ڈالا اور یہ کہ پورے جہان کے پڑھے لکھوں کے ہاں کہاں کہاں تک آپ کی پزیرائی ہوئی اور ابھی تک ہو رہی ہے۔۔۔۔ کیا اِن معترضین سے ، جنکی اکثریت نصرانی ہے، ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ اِن یہود نے اِس سے پہلے کیا مسیح ؑ کو پہچان کر دیا تھا؟! یہودی جو انبیاءکی تاریخ سے نہایت خوب واقف تھے مسیحؑ پر ایمان کیوں نہ لے آئے تھے؟!! کیا معاذ اللہ ’دلیل‘ کی کمی تھی؟؟! حالانکہ مسیح علیہ السلام کو تو بھیجا ہی یہود کی طرف گیا تھا!!! محمدﷺ پر تو پھر آپ کی اپنی قوم ایمان لے آئی، مسیحؑ کو تو ان کی اپنی قوم جو کتاب کا علم رکھتی تھی، یعنی یہود، نے رد ہی کر دیا تھا! یہودیوں کے ایمان نہ لانے سے تم نصرانیوں کے یہاں مسیح ؑکی (معاذ اللہ) ’خدائی‘ پر حرف نہ آیا تو یہودیوں کے ایمان نہ لانے سے ہم مسلمانوں کے یہاں محمدﷺ کی ”نبوت“ کیوں متاثر ہونے لگی؟! مسیح علیہ السلام نے یہودی فریسیوں کو جیسی جیسی سنائیں کیا وہ تمہاری بائبل کے عہدِ جدید میں مذکور نہیں؟؟ کیا آج تک تمہارے یہاں یہ نہیں کہا جاتا رہا کہ اِن لوگوں نے (معاذ اللہ) تمہارے ’خدا‘ کو سولی چڑھوایا تھا؟ ہمارے ”نبی“ نے ایسے لوگوں سے اپنی بچت کر لی بغیر اِس کے کہ ان پر ذرہ بھر ظلم کرے تو یہ ایک کہانی ہی الگ ہے مگر کیا یہ حق نہیں کہ انبیاءکی واقف اِس قوم کا رویہ مسیح ؑ اور محمدﷺ ہر دو کے ساتھ ایک سا ہی رہا؟ اصل چیز یہ ہے کہ ایک نبی جو خدا کے ہاں سے مبعوث ہوا ہو ان لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے جو پہلی نبوتوں کا نہایت خوب علم رکھتے ہوں اور نہایت مدلل انداز میں ان پر حجت قائم کرے۔ یہ کام ہمارے اعتقاد کے مطابق مسیح ؑ اور محمدﷺ ہر دو نے یہود کے رو برو بدرجۂ اتم انجام دیا۔ یہود میں سے چند حق پرست مسیح ؑ پر بھی ایمان لائے، یہود میں سے چند حق پرست محمدﷺ پر بھی ایمان لائے۔ یہود کی اکثریت نے مسیح ؑ کے ساتھ بھی کفر کیا، یہود کی اکثریت نے محمدﷺ کے ساتھ بھی کفر کیا۔ پھر فرق کیسا؟؟؟ البتہ خاص بات یہ ہے کہ یہود مسیح ؑ کی اپنی قوم تھے اور مسیح ؑ کو خاص بھیجا ہی انہی کیلئے گیا تھا لہٰذا مسیح ؑ کو یہود کا سامنا کرنا ہی تھا، تاہم محمدﷺ کی نہ یہ اپنی قوم تھی اور نہ ان کا سامنا کرنے کی آپ کو ویسی کوئی ضرورت۔ پھر بھی آپ کا یہود کے گڑھ میں جا بیٹھنا یہاں تک کہ بعض مواقع پر یہود کے بڑے بڑے اجتماعات کے وقت اُن کے عبادت خانوں کے اندر جا کر اُن سے بات کر کے آنا کیا اِس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ یہ تو خدا کا کوئی خاص منصوبہ تھا کہ اَخبارِ انبیاءسے واقف اِس قوم کے ساتھ اِس نبی کے جدال اور اُن پر اِس کی حقانیت کی دھاک بٹھا کر پورے عرب کو دکھا دی جائے، بلکہ، اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ چونکہ بیک وقت تاریخ کے مستند ترین وثائق کا بھی حصہ بن رہا تھا، لہٰذا آپ کا یہ جدال - قرآن کی اُن سورتوں سمیت جو بنی اسرائیل کو خطاب کر کے اتاری گئیں - پوری انسانی تاریخ کو ہی دکھلا دیا جائے! یوں بھی قرآن کا ایک حصہ جو آسمانی امتوں کے صلاح و فساد سے متعلق تھا، عصرِ تنزیل کے وقت بنی اسرائیل کا آمنا سامنا کئے بغیر بلکہ بنی اسرائیل سے معاملہ کئے بغیر شاید پوری طرح واضح ہی نہ ہو سکتا تھا۔

بلکہ یہ معاملہ تو اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے! آنحضورﷺ کی اپنی قوم نہ یہودی تھی اور نہ عیسائی۔ مگر آپ نے یہود ہی نہیں نصاریٰ کے ساتھ بھی پورا اتر کر دکھایا! یہ کوئی محدود سطح کی نبوت ہوتی، جیسا کہ اِس سے پہلے کی نبوتیں ہوتی رہی ہیں، تو ضرورت ہی نہ تھی کہ آنحضور اِن ہر دو گروہ کے ساتھ طویل جدال کریں، آپ کی اپنی قوم کے عقلاءکی ایک بڑی تعداد تو مکہ میں اور پھر یہود کے ساتھ پالا پڑنے سے بہت پہلے مدینہ میں ہی آپ پر ایمان لے آئی تھی اور اُن کے لئے تو وہ معجزات کافی تھے جو وہ اپنی آنکھوں دیکھ چکے تھے! وہ طویل مناظرے جو آنحضورﷺ نے یہود اور نصاریٰ ہر دو کے ساتھ کئے اسی لئے تو تھے کہ سب سے پہلے آپ کی اپنی قوم اور پھر پوری دنیا دیکھ لے نبوتوں کا تسلسل کیونکر محمد رسول اللہﷺ پر اختتام پزیر ہوا ہے۔ یہ سب تو تھا ہی اِسی لئے کہ دراَصل یہ عالمی نبوت ہے اور آخری نبوت ہے! لہٰذا اِس کے ماسوا اگر کسی کو حق رکھنے کا زعم ہے (یقینا ہمارا ایمان ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو ملنے والی اصل تعلیمات حق ہی تھیں، ہم اُس وقت کی بات کر رہے ہیں جب آخری نبوت میدان میں آئی خصوصاً یہود اور نصاریٰ کا محمدﷺ کو قبول نہ کرنا) تو وہ اِس نبی کے جیتے جی سامنے آلے کہ اِس دعوت کو پھر پوری دنیا کے عقلاءتک پہنچنا ہے۔ بائبل کا عہدِ جدید پڑھیں تو یقینا سچائی کا وہ اعتماد مسیح علیہ السلام کی شخصیت میں بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو یہودی فریسیوں کے روبرو مسیح ؑ کے خطبوں سے مترشح ہے۔ سچائی کی ایک اپنی زبان ہوتی ہے اور وہ خود بخود بولتی ہے۔ عام حالات میں یہ ایک حقیقت ہے پھر نبوت ایسی سچائی سامنے آئے تو تب کیا یہ حقیقت بول بول کر اپنا آپ نہ بتائے گی؟! پس وہ لوگ جنہوں نے بائبل کے عہدِ جدید میں یہودی فریسیوں کے روبرو مسیح ؑ کا اعتماد دیکھا ہے وہ ذرا قرآن کی سورۃ البقرۃ اور سورۃ آلِ عمران پڑھ لیں، سورۃ البقرۃ احبارِ یہود کے روبرو اور سورۃ آلِ عمران علمائے نصاریٰ کے روبرو!!! علاوہ ازیں حدیث اور سیرت کی کتابوں سے وہ مناقشے پڑھ لیں جو نبی آخر الزمانﷺ اور یہودونصاریٰ کے چوٹی کے علماءکے مابین پیش آئے، اور پھر فیصلہ کر لیں کہ سچائی جب آدمی کے پاس ہو تو وہ کیونکر بولتی ہے!

حق کی قوت ہی تو اِس نبی کی دعوت میں بولتی ہے! اِس حقانیت کی گواہی عقلائے عالم نے جتنی اِس نبی اور اِس رسالت کے حق میں دی اور کس کے حق میں دی؟؟؟!

دلائل، بینات، آیات، معجزات، عقلی شواہد، آسمانی مؤیدات، تاریخی حقائق، قلوب پر وارد ہونے والی کیفیات، شریعت کے محیر العقول خصائص، شخصی اوصاف، عظیم اخلاق، فتوحات،تحصیلِ اہداف، جو کچھ کہا وہ پورا ہوا، بدترین دشمنوں کا بالآخر آپ پر ایمان لا کر عقیدت اور فدائیت کی آخری حد تک چلے جانا اور ایک دو نہیں ایسے بے حساب اَن گنت واقعات کا رونما ہوتے چلے جانا۔۔ یہ سب کچھ اِس نبی کی زندگی میں یوں وافر پایا جاتا ہے کہ انسان کے متاثر ہو ہو جانے کے یہاں ہزار ہا پہلو سامنے آجاتے ہیں۔۔۔۔ مختصر یہ کہ اللہ کا آخری رسول!!! یعنی ایک ایسا حسین و خوب سیرت نادرِ روزگار انسان جسے جہانوں کے مالک نے قلب انسانی کو اپنی بندگی کا شعور بخشنے کیلئے کھرب ہا کھرب انسانوں میں سے منتخب فرمایا ہو اور جو قلوب کیلئے آخری بار زمین پر آسمان کی خیر بانٹنے آیا ہو۔ کیا خدائے رب العالمین، کہ قادرِ مطلق ہے، ایسے انسان کو نہایت کافی شواہد اور مؤیدات کے بغیر ہی بھیج دے گا، کہ سچے اور جھوٹے میں معاذ اللہ کوئی فرق ہی نہ ہو اور لوگ اُس کے تعین میں یونہی سر پٹختے رہیں؟!! یہ نبی تو ایک قرآن ہی لے آیا ہوتا تو کسی معجزے کی ضرورت باقی نہ تھی! کیا آج تک، جی ہاں آج تک، کسی بھی مذہب کی کتاب کسی بھی پہلو سے اِس کے مقابلے میں پیش کی جا سکی ہے یا پیش کی جا سکتی ہے؟؟؟ قرآن کا مقابلہ تو ہزاروں پہلوؤں سے کرنا پڑے گا، کیا صرف اِس ایک ہی پہلو سے کسی مذہب کی کتاب اِس کا مقابلہ کر سکتی ہے کہ وہ ”تناقضات“ سے مکمل طور پر پاک ہو؟؟؟ کوئی مذہب آج تک اِس قرآن کے مقابلے پر کچھ بھی تو نہیں لا سکا!!! یہاں ’رہنے‘ کا حق تو سب کو ہے مگر ’مقابلہ‘ کرنا کس کا بس ہے؟!!

ذرا ایک نظر دیکھ تو لیں ”قرآن“ پر دنیا میں جس طرح تحقیق ہوئی اور ہر شعبے ہر میدان کے محققین نے جس طرح اور جن ہزارہا پہلوؤں سے اِس کو اپنے مطالعہ کا موضوع بنایا، اس کی نظیر کیا کسی اور ’کتاب‘ کی بابت بھی پیش کی جاسکتی ہے؟ اور کیا کسی اور ’کتاب‘ کی یہ حیثیت تھی اور کیا اُس کے بس میں یہ تھا کہ وہ ایک ایسے کڑے امتحان کی تاب ہی لے آئے؟؟؟

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ !!!

کیا یہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ خدا اپنی وہ سنت جو نبیوں کی تکذیب ہونے کی بابت دنیا میں ہمیشہ پائی گئی اپنے آخری رسول کے معاملہ میں ختم ہی کر کے رکھ دیتا؟!! آخر وہ کچھ پردے تو اُس کو باقی رکھنا ہی تھے جو مکذبین کیلئے ’کچھ کہنے‘ کی گنجائش دنیا کے اندر باقی رہنے دیں۔ ”ماننے والوں“ کا سارا اجر اور سارا لطف اِسی کے دم سے تو ہے!!! یہ تو نہ ہو سکتا تھا کہ وہ ”غیب“ کو اب ”غیب“ ہی نہ رہنے دے اور محض کچھ ہٹ دھرم مکذبین کے لحاظ میں ”ایمان بالغیب“ کے چاہت مندوں کا وہ لطف ہی اِس رسالت کے اندر (خدانخواستہ) ختم کر کے رکھ دے جو ”نبی کو پہچاننے“ اور آسمان کے ”لطیف پیغام“ پڑھنے میں رکھا گیا ہے!!!

أَمْ لَمْ يَعْرِفُوا رَسُولَهُمْ فَهُمْ لَهُ مُنكِرُونَ !!! (المؤمنون: 69)(3)

کسی بھیڑ میں کھوئے ہوئے بچے کو یکلخت اُس کا باپ مل جائے وہ خوشی بھی اس کے مقابلے میں کیا خوشی جو مذہبی پروہتوں کی پیدا کردہ تاریکیوں میں گرفتار ایک سچائی کے طالب کو اُس کا ”نبی“ مل جانے پر ہوتی ہے:

وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ  وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّهِ وَمَا جَاءنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ فَأَثَابَهُمُ اللّهُ بِمَا قَالُواْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاء الْمُحْسِنِينَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا أُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ  (المائدۃ: 86-83)

” اور جونہی ایسے (پاک طینت) لوگ وہ کلام سنیں جو اِس رسول پر اتارا گیا، تو تم دیکھو گے کہ اُن کی آنکھوں سے اشک بہہ نکلے ہیں، کہ وہ حق جو اس (کلام) میں تھا ان کی پہچان میں آگیا، تب ان کی زبان پر (بے ساختہ) آتا ہے: ”خدایا! ہم بھی (اِس پر) ایمان لائے پس تو ہمارا نام بھی (اِس کی) شہادت دینے والوں میں لکھ ڈال! اور بھلا ہم کیوں نہ ایمان لے آئیں اللہ پر اور (اُس کی جانب سے) ہم تک پہنچ جانے والے اِس حق پر جبکہ ہمارا سب چاؤ تو یہی ہے کہ ہمارا پرودگار ہمیں بھی صالحین میں شامل کر دے“۔ یہ بول جو وہ بول گئے انہی کے ثواب میں تب اللہ نے اُن کو جنتیں  دے ڈالیں کہ جن کے نیچے ندیاں بہتی ہیں اور وہ ان میں خلود پا کر رہنے والے ہیں۔ یہی تو جزا ہے ایسے نیکوکاروں کی! رہے وہ لوگ جو کفر کر گئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلانے پر اتر آئے تو یہ دوزخ کے باشندے ہیں“

پس یہ تو نہ ہوسکتا تھا کہ خدا اِس بار اپنی وہ سنت ہی بدل دے جو انبیاءکی بابت دنیا میں ہمیشہ پائی گئی، یعنی ہر ظرف کو اس کی طلب مل کر رہے اور ہر مانگنے والے کی مانگ اس میں سے پوری ہو۔ قلوب کا خالق ایک ایک کا حال دیکھے اور ہر کسی کو اِس واقعۂ نبوت سے وہ کچھ دے جس کا وہ حق دار اور طلبگار ہے؛ تکذیب کا فیصلہ کر لینے والوں کیلئے بھی کچھ ’کہنے‘ کی گنجائش ہو، البتہ اللہ اور یومِ آخرت کے امیدواروں کیلئے ایمان و ایقان کے خزانے ہی خزانے ہوں۔ انبیاءکی بابت خدا کی یہ جو سنت ہے، اِسی پر تو درحقیقت اِس دارِ فانی کا پورا نقشہ استوار ہے، کہ وہ حقیقتیں جو سامنے آئیں تو اِس سارے نزاع کا فیصلہ ہی چکا دیں، وہ حقیقتیں اِس جہانِ ناقص میں سمانے کی ہی نہیں اور وہ تو اُس جہانِ کامل میں اپنے وقت پر ہی آئیں گی جب ’نہ ماننے‘ کی گنجائش ہی ختم کر دی جائے گی! ابھی تو یہ گنجائش بہرحال ہے اور ابھی تو اِس کو بہرحال رہنا ہے!

فَلَمَّا جَاءهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَى أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَى مِن قَبْلُ (القصص: 48)

پھر جب انکے پاس حق آیا ہماری طرف سے، تو بولے، اس (نبی) کو ویسا کچھ کیوں نہ دیا گیا جیسا کچھ موسیٰ ؑ کو دیا گیا تھا۔ تو کیا اُس کے منکر نہ ہوئے تھے جو اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کو دیا گیا تھا؟!

چنانچہ ایسا بہرحال نہیں ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام ڈھیر سارے معجزات لے کر آئے تو ’نہ ماننے‘ والے شرم سے پانی پانی ہو گئے ہوں اور ’کچھ کہنے‘ کیلئے ان کے پاس کچھ رہ ہی نہ گیا ہو! ہٹ دھرموں کیلئے مین میخ نکالنے کی گنجائش چھوڑ دی جانا خود اِس منصوبے ہی کا حصہ ہے، جس کے باعث کفر کرنے والوں کو دھڑلے کے ساتھ بولنے کی کوئی نہ کوئی صورت بہرحال دستیاب کرا دی جاتی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اتنے حیرت انگیز معجزات لے کر مبعوث ہوئے تو بھی ایسا بہرحال نہیں ہوا کہ منکرین کے منہ کو تالے لگ گئے ہوں ! پس معاندین کا پایا جانا نبوتوں اور رسالتوں کی تاریخ میں ایک باقاعدہ خدائی سنت ہے جوکہ ممکن نہ تھا کہ اِس آخری رسالت کے معاملہ میں موقوف ٹھہرا دی جائے۔(4) ایسا ہوتا تو رسالت کا وہ نقشہ ہی تبدیل ہو کر رہ جاتا جس کے دم سے یہ خدائی منصوبہ اِس جہانِ انسانی کے اندر روپزیر کرایا جانا ہے۔ بہت کچھ ثواب و عذاب اُس کے اِسی منصوبے سے وابستہ ہے۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔۔ محمدﷺ بہرحال ایک رسول ہی ہیں۔ اِس سے بڑھ کر ہمارا کوئی دعویٰ نہیں۔ اور رسول آپ سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ جو کچھ رسولوں کے ساتھ پیش آیا وہ سب کے علم میں ہے۔ بڑی بڑی حیثیت کے لوگ رسولوں کو جھٹلاتے رہے، اور بڑی بڑی حیثیت کے لوگ رسولوں کو مانتے بھی رہے۔ رسالتِ محمدی میں خدا کی سب سنتیں ہی تو پوری ہوئی ہیں، یہاں تک کہ مکذبین اور مستہزئین کے پائے جانے کی سنت بھی!

محمد رسول اللہﷺ کی تکذیب آج بھی ہو رہی ہے اور آپ کا ٹھٹھہ آج بھی اڑایا جا رہا ہے تو اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ محمدﷺ وقت کے رسول ہیں۔ کوئی اور نبی اِن جھٹلانے والوں اور ٹھٹھہ اڑانے والوں کا موضوع نہیں تو اِس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ وہ دورِ ماضی کے انبیاءہیں نہ کہ زمانۂ حاضر کے۔
جس نبی کی انسانی دنیا میں منادی ہوگی، جس کی لائی ہوئی آیات و بینات زمانے کو چیلنج کریں گی، ظاہر بات ہے تکذیب اور ٹھٹھہ کرنے والے مریض ذہن اُسی کو اپنا ہدف بنائیں گے۔ یہ اگر دیکھیں تو آج روئے زمین پر ”نبوت“ کے سلسلہ میں محمدﷺ کے سوا آخر کس کی منادی ہے اور کس کی لائی ہوئی آیات و بینات زمانے بھر کو چیلنج کر رہی ہیں۔۔۔۔؟ کوئی ہے یہاں جو اقوامِ عالم کو مثلاً آج موسیٰ علیہ السلام پر ایمان کی دعوت دیتا پھر رہا ہو؟ مسیح علیہ السلام کی منادی کرنے والے یہاں ضرور ہیں مگر وہ مسیحؑ کی ’خدائی‘ کی دہائی دیتے پھر رہے ہیں نہ کہ مسیح ؑ کی ”نبوت“ کی۔ ”خدائی“ یہاں سوائے خدائے واحد قہار و جبار کے کسی کی چل سکتی ہے؟ البتہ ”نبوت“ کا دعویٰ اور منادی تو روئے زمین پر آج ہے ہی صرف محمدﷺ کی! کوئی مومن ہوگا تو اِس کا، کافر ہوگا تو اِس کا! اِس کے سوا تو کوئی اور چناؤ ہی نہیں!!! تو پھر کیا یہ لوگ اِس حقیقت سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرتے کہ ”آسمانی رسالت“ کے حوالے سے سوائے محمدﷺ کے آج نہ کسی کا دعویٰ، نہ کسی کی دعوت، نہ کسی کی منادی اور نہ کسی کا چیلنج!!! بطورِ ”خدا کا پیغمبر“ اِس ایک شخص کے سوا آج نہ کسی پر ”ایمان لانے“ کے واقعات ہو رہے ہیں اور نہ کسی کو ”جھٹلانے“ کے اور نہ کسی کا ٹھٹھہ اور مذاق اڑایا جانے کے!!!

پس محمدﷺ کے سوا یہاں میدان میں ہے ہی کون؟ یہ اِن پر ایمان لائیں، یا اِن کو جھٹلائیں، ہر دو صورت میں یہ خدا کی سنت ہی کو پورا کریں گے!!!

پس یہ خدائی سنت تو اپنی جگہ رہے گی، اور ہر کسی کو اِسی کے اندر ہی اپنی جائے مراد ڈھونڈنی ہے نہ کہ اِس سے باہر، البتہ اصل دیکھنے کی بات یہی ہے کہ آیا ایک نبی اُس قبیل کی وہ سب اشیاءخدا کے پاس سے لے کر آیا ہے جو اس سے پہلے انبیاءلے کر اُس کے ہاں سے آتے رہے یا اِس خاص پہلو سے اس کے ہاں معاذ اللہ کوئی کمی رہ گئی ہے؟ ہاں اِس خاص پہلو سے دیکھیں، اور ضرور دیکھیں، اور بار بار دیکھیں، وہ سب کچھ جو کسی نبی کے ہاں پایا گیا اِس آخری آسمانی رسالت میں اپنے عروج پر ملے گا۔

آج کے علمائے اسلام قرآن کے معجزاتی پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں تو وہ اس لئے کہ محمدﷺ کا یہ وہ سدا بہار معجزہ ہے جو ہر دور میں اپنے کرشمے دکھا سکتا ہے اور آج بھی ایسے ایسے پہلوؤں سے کرشمے دکھا رہا ہے کہ اَدوارِ ماضی میں اُن کا تصور تک نہ کیا جاسکتا ہو (اِن کے ذکر کا گو یہ مقام نہیں)۔ علمائے اسلام کا یہ طریق کار اس لئے بھی ہے کہ دورِ محمدی علوم کی افزودگی کا دور ہے لہٰذا intellectual miracles ہی کو زیادہ سامنے لے آیا جائے جن کا کہ قرآن ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے، اور یہ معجزوں کی وہ قسم ہے جو صرف ’تاریخ‘ میں پڑھنے کی نہیں بلکہ ہر دور کا انسان ان کو خود بھی محسوس کر سکتا ہے۔ معجزوں کی یہ قسم اِس کثرت کے ساتھ رسالتِ محمدی کو اِسلئے ملی کہ اِس کے زمانے میں عقول اپنے جوبن پر پائی جائیں گی اور اس کا تسلسل قیامت تک رہے گا۔ البتہ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ حسی معجزات physical miracles میں معاذ اللہ اِس نبی کے ہاں کوئی کمی رہنے دی گئی۔ اردو کے دستیاب لٹریچر میں ’سیرۃ النبی‘ کے مؤلف علامہ سید سلیمان ندویؒ نے نبی آخر الزمانﷺ کے دو سو کے لگ بھگ حسی معجزے بہ تفصیل ذکر کئے ہیں اور نہایت چھان پھٹک اور عرق ریزی سے ان روایات کا موثوق ہونا ثبوت کے ساتھ واضح کیا ہے۔

رہ گیا نبیﷺ کے حسی معجزات کی بابت معاندین کا یہ کہنا کہ یہ مسلمانوں کی اپنی ہی روایات سے ملتے ہیں دیگر ’ذرائع‘ سے ان کی تصدیق ہونا ممکن نہیں، تو گو اِس کے کئی ایک جوابات ہیں مگر بائبل پر ایمان رکھنے والے یہ لوگ ہمیں یہی بتا دیں کہ وہ کونسا نبی ہے جس کے حسی معجزات کا ذکر نسلیں گزر جانے کے بعد اُس کے اپنے ہی پیروکاروں کے سوا کہیں اور پایا گیا ہو؟ موسیٰ علیہ السلام نے مصر میں خدا کے حکم سے معجزات کئے اور مسیح علیہ السلام کے آنے تک کوئی ڈیڑھ ہزار سال اِن معجزات کا ذکر چلتا رہا تو وہ بنی اسرائیل کی اپنی ہی روایات تھیں جوکہ ایک قابل وثوق طریقے سے ذکر ہوتی تھیں جسے جھٹلانے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ مصر میں موسیٰ علیہ السلام نے جو معجزے برسرعام دکھائے تھے ان کا ذکر کیا بنی اسرائیل کے علاوہ بھی کسی کے پاس رہا؟ ان معجزات کا ثبوت آلِ فرعون کے ’آرکائیوز‘ سے لا کر تو کبھی نہیں دیا گیا!!! عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے جو بطور نبی چھ سو سال تک یعنی پیغمبر آخر الزمانﷺ کی بعثت تک ذکر ہوتے رہے (اور ان کی ’خدائی‘ کے ثبوت کے طور پر آج تک ذکر ہو رہے ہیں) پیروانِ مسیح ؑ کے سوا اُن معجزات کا ذکر کس کے پاس پایا گیا؟ یہود یا پھر دیگر اقوام کے ’ریکارڈ‘ سے تو ان کے ثبوت لا لا کر کبھی پیش نہیں کئے گئے!!!

موسیٰ اور عیسی علیہما السلام کا معاملہ تو ابھی پھر کچھ مختلف رہا ہو گا، اِس نبی کے تو اِنجازات acheivements ہی اتنے رہے کہ یہ سوال اٹھنے کی گنجائش ہی باقی نہ رہی۔ پورے کا پورا جزیرۂ عرب ہی تو اِس نبی پر ایمان لے آیا!!!کوئی اور یہاں رہا کہاں کہ اُس سے کچھ بھی دریافت کیا جائے؟!! پورے کے پورے جزیرۂ عرب ہی نے تو گواہی دے ڈالی کہ ”محمد اللہ کا بندہ اور اُس کا رسول ہے“!!! اِس جزیرۂ عرب سے اِن معجزات کی گواہی نہ لیں تو کہاں سے لیں؟!! جہاں معجزے پیش آئے گواہیاں وہیں سے تو لی جائیں گی!!! مسیح ؑ کے معجزے اگر فلسطین میں ہوئے تو اس کی گواہیاں امریکہ سے تو نہیں ملیں گی!!! تاریخ کی نگاہ جس منظر پر تھم جاتی ہے ذرا ایک نظر رک کر یہ بھی تو اس کو دیکھ لیں: نبوت کے تیئسویں سال یہ ”اللہ کا بندہ اور اللہ کا رسول“ جب انسانوں کے ٹھٹھ میں گھرا جبلِ عرفات پہ اپنی قصواء(5) کی پیٹھ پر چڑھا ایک لاکھ چوبیس ہزار پاکیزہ ترین نفوس سے خطاب کر رہا تھا اور جوکہ آج تک ”تاریخ“ کے کانوں میں گونج رہا ہے!!! محض یہ سن کر کہ ابراہیم ؑ کا یہ فرزند کہ جسے سرور دو عالم بنا دیا گیا ہے بیتِ عتیق کے گردا گرد تاریخ کی منفرد ترین تقریب اِمسال منعقد کرنے جا رہا ہے اور یہ کہ زمین پر چراغِ نبوت کا سب سے بڑا اور آخری جلوہ اِس بار ہوجانے والا ہے، پورا جزیرۂ عرب ہی تو امڈ آیا تھا!!! کوئی تصور تو کرے اُس منظر کا جب سفید لبادہ میں ملبوس خدا کے اِس آخری پیغمبر نے ہاتھ بلند کیا اور تاحد نگاہ بیٹھے ’جزیرۂ عرب‘ سے یہ پوچھا کہ کیا وہ آسمان کی امانت ان تک پہنچا چکا؟ تو اُس کے جواب میں ایک لاکھ چوبیس ہزار آوازیں آئی تھیں کہ ”ہاں“!!! تب اُس نے اپنے بھیجنے والے کی طرف نگاہ کا رخ کر کے یہ شہادت تاریخ کے ماتھے پر ثبت کردی اللّٰہم فاشہد ”خدایا! گواہ رہنا!!!“

دنیا کے انصاف پسند بتائیں، اِس نبی کے معجزے ڈھونڈنے اور ان کے ثبوت اکٹھے کرنے کیلئے جزیرۂ عرب سے باہر ہم کہاں جائیں؟؟؟!!!

جیسا کہ ہم نے کہا: ہر وہ خیر اور خوبی جو پہلے انبیاءکے ہاں پائی گئی، اُس میں یہ نبی اُن سے مختلف نہ ہوگا، صرف قوی تر اور نمایاں تر ہوگا! کچھ کمی نہیں، اضافہ ضرور ہوگا، یعنی کچھ ایسی باتیں ہوں گی جو خاص اِسی نبی کو دی گئی ہوں!!!

پس اگر حسی معجزات physical miraclesکے ثبوت evidence کا سوال ہے تو ایک پوری قوم کی گواہی اگر اِس امر کیلئے کافی نہیں تو تاریخ کا کونسا واقعہ پھر دنیا میں معتبر رہ جاتا ہے؟ یا تو یہ کہہ دیں کہ دنیا میں معجزات نام کی کوئی چیز کبھی ہوئی ہی نہیں، پھر اُس صورت میں ہمیں وہ معجزے بھی نہ سنائیں جن سے کنواری مریم ؑ کے بطن سے پیدا ہونے والا ایک انسان ’خدا‘ ثابت کر دیا جاتا ہے یا پھر مانیں کہ معجزات کی صورت میں خدا کی قدرت تاریخ کے اندر وقتاً فوقتاً اپنا آپ بتانے کیلئے اور اپنے فرستادہ انبیاءکی غیبی تائید کیلئے نگاہِ انسانی پر آشکارا ہوتی رہی ہے۔ اور اگر معجزے دنیا میں ہوئے ہیں اور ایک اِن لوگوں کو نہیں دنیا کے ہر ایک مذہب کو اِس بات کا دعویٰ ہے تو اس کے ثبوت کا جو معیار وہ مذہب اپنے لئے رکھے گا ہم اپنے نبی کے معجزات ثابت کرنے میں اُس معیار پر سب سے بڑھ کر پورا اتر کر دکھائیں گے! کیا یہ ایک معقول ترین بات نہیں؟ پس یا تو معجزات دنیا میں ہوئے ہی نہیں اور اگر ہوئے بھی ہیں تو ان کے ثبوت کی بابت کوئی دعویٰ آج درخور اعتنا ہی نہیں جب تک کہ ہر شخص وہ معجزہ آپ اپنی آنکھ سے نہ دیکھ لے یا وہ معجزہ خود اُس کے دور میں نہ ہو لے۔۔ اور یا پھر معجزے دنیا میں ہوئے ہیں اور اُن کے وقوع کی بابت کسی مذہب کے پیروکاروں کا دعویٰ بھی سنا جا سکتا ہے۔ موخر الذکر صورت میں لازماً یہ سوال اٹھے گا کہ اِس کو ثابت کرنے کے کچھ معیار ہونے چاہئیں۔ یہاں امتِ محمدﷺ کا چیلنج ہے کہ جو معیار تم اپنے دعویٰ کے ثبوت کیلئے رکھو، انہی معیاروں پر ہمارے نبی کے معجزات کے ثبوت پر ہم سے بات کر لو!!!

یہاں تک تو بات تھی ان معیاروں کی جو دوسرے اپنے لئے رکھنا چاہیں اور ان میں وہ جتنے کڑے ہونے کی ہمت رکھیں ہو لیں، ہم خدا کے فضل سے اُن معیاروں پر اُن سے بڑھ کر پورا تریں گے۔ البتہ اِس کے بعد رہ جاتی ہے بات اُن معیاروں کی جو ہم اپنے لئے رکھتے ہیں اور جن پر پورا اترنا کسی اور کے بس کی بات نہیں۔۔۔۔!

ہاں یہ ایک بات ایسی ہے جو اللہ کے فضل سے ہمارے ہی پاس ہے اور صرف اور صرف امتِ محمدﷺ کا خاصہ ہے۔۔۔۔ اور یہ ہے علم الاِسناد وروایت Sicience of Narration and Documentation۔ ”روایت“ اور ”اسانید“ البتہ صرف اور صرف اِس نبی ہی کا معجزہ ہے!!! یہ چیز البتہ کسی اور کے پاس تھی اور نہ ہے۔ دنیا کا یہ منفرد ترین اور عجوبۂ روزگار فن اِس امت کے علماءکے ہاتھوں، کہ جو اب قیامت تک کیلئے انبیاءکے وارث ہیں، صرف اور صرف اِس مقصد کیلئے وجود میں آیا کہ اِس نبیِ خاتم المرسلینﷺ کی زندگی کے سب واقعات محقق طور پر محفوظ کرکے قیامت تک آنے والی نسلوں پر احسان کر دیا جائے۔ علم الاسناد، واقعتاً علمِ تدوینِ تاریخ کا ایک حیرت کدہ ہے اور مسلم عبقریت Muslim genius کا ایک منہ بولتا ثبوت۔ صرف ایک مبارک ہستی کی زندگی کا ”اسکیچ“ لینے کیلئے ہزارہا راویوں کے اسکیچ بھی کمال دِقت کے ساتھ محفوظ کر لئے گئے!!! ایک ایک کا نام، ولدیت، کنیت یا لقب اور اگر ایک سے زیادہکنیتیں یا لقب تھے تو وہ، زمانہ جس میں وہ شخص پایا گیا، کس کس سے حدیث سنی، کس کس کو آگے حدیث روایت کی، اُس کا اپنا عقیدہ، دینی و علمی حالت، حتیٰ کہ بہت سے حالات میں اُس کی نفسیاتی کیفیت، اُس کی دیانت اور امانت کس معیار کی تھی، حافظہ کس پائے کا تھا، اس کے اہم حالاتِ زندگی ۔۔ غرض ہزاروں راویوں کے مفصل کھاتے biographiesسر بمہر کر دیے گئے۔ ایک ایک پر جتنی جرح ہو سکتی تھی بلا رو رعایت جرح کی گئی۔   بڑے بڑے نام ضعیف نکلتے تھے تو ادنیٰ تامل کئے بغیر ضعیف قرار دے دیے گئے۔ پھر صرف راوی کے حالات ہی نہیں ایک ایک سند پر الگ سے سیر حاصل بحث ہوئی۔ ایک راوی کا دوسرے سے دعوائے سماع ثابت ہوتا ہے یا نہیں، اِس پر دفتروں کے دفتر لکھنا پڑے تو لکھے گئے، صرف اِس لئے کہ آسمان کی آخری امانت زمین والوں کیلئے بدرجۂ تمام محفوظ کر دی جائے۔ ایک ایک سند کے اتصال اور اِنقطاع پر ایسی ایسی بحث اور ایسے ایسے دقائق کہ آدمی کے پاس داد دینے کو لفظ تک باقی نہ رہیں! جس مورخ نے بھی مسلم محدثین کے ہاں پایا جانے والا ”علم رجال“ اور ”علم تخریج“ دیکھا ہے وہ دنگ ہو کر رہ گیا ہے کیونکہ اس کی نظیر اُس کے سان گمان میں نہ آسکتی تھی۔ بخدا یہ ظاہر بین دنیا جو ’اَہرامِ مصر‘ اور ’پیسا ٹاور‘ اور ’تاج محل‘ کو عجائبِ جہاں گنتی ہے اگر کہیں مسلم محدثین کے ہاں پائے جانے والے ”علم رجال“ کو دیکھ لے جس کو ’تعمیر‘ کرنے میں کئی نسلوں تک ہزاروں افراد کی پوری پوری زندگیاں صرف ہوئیں تو وہ دنیا کے باقی سب عجوبے بھول جائے۔ ایسی کمال کی ایک میزان وجود میں لائی گئی ہے کہ کھرا اور کھوٹا یوں الگ کر دیا جاتا ہے کہ سنار بھی سونے کی ایسی پرکھ کرنے سے عاجز رہ جائے!

امتِ محمدﷺ کے ہاں پائی جانے والی مرویات narrations کی اِس خصوصیت کو سامنے رکھیں، ہر شخص یہ شہادت دے گا کہ اہلِ کتاب کی روایت کردہ کوئی تاریخی رپورٹ رتبے میں اُس درجے کو پہنچ ہی نہیں سکتی جو اللہ کے فضل سے ہماری مرویات کو حاصل ہے۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ اُن کی بیشتر ’معتبر‘ روایات رتبے میں ہمارے ہاں پائی جانے والی اُس روایت کو بھی نہیں پہنچتیں جسے ہمارے علمائے اِسناد ’ضعیف‘ قرار دیتے ہوں! کیونکہ ہمارے ہاں پائی جانے والی ایک ’ضعیف روایت‘ میں بھی راویوں کی پوری سند موجود ہوتی ہے، محض کسی ایک آدھ راوی کے ضعف کی وجہ سے یا سند میں کہیں انقطاع آجانے کے باعث اُس کو ضعیف قرار دے دیا گیا ہوتا ہے۔ اِن لوگوں کی تو معتبر سے معتبر روایت میں بھی ’سند‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، راویوں کا ضعف یا سند کا اتصال دیکھنے کی تو نوبت ہی بھلا کیوں آنے لگی!

امت محمدﷺ کے ہاتھوں ہونے والے تاریخ کے دو نہایت عظیم کام: ایک حفاظتِ قرآن، اور دوسرا فنِ رجال کا وجود میں لایا جان۔۔ زمین پر ختمِ نبوت کے دو اتنے بڑے ثبوت ہیں کہ اِس کے بعد ’ثبوت‘ مانگنے والا کوئی اندھا ہی ہو سکتا ہے۔

بخدا!!! کوئی شخص امتِ محمدﷺ کے خصائص دیکھے تو سہی جو خدا کی جانب سے اِسے بخشے گئے ہیں!!! ہم جس نعمت میں ہیں کسی کو اِس کا کیا اندازہ!!!

٭٭٭٭٭

آیات و بینات اور معجزات کا ذکر ہو چکا۔ حق یہ ہے کہ انبیاءصرف معجزات دکھانے نہیں آتے کہ جہاں کسی سے بات ہوئی فوراً معجزہ لا دکھایا بلکہ ’بات‘ کی بجائے بھی معجزات ہی سے کام چلایا! معجزات انبیاءکی زندگی میں ایک خاص ضرورت پوری کرنے کیلئے ہی ہوتے ہیں نہ کہ ہر ضرورت پوری کرنے کیلئے ! یہ دنیا بہرحال سعی اور جہد کی دنیا ہے خرق عادت واقعات انبیاءکے ہاتھ پر ہوتے ضرور ہیں مگر انبیاءسعی وجہد کی دنیا میں ہی کچھ بنیادی ترین تبدیلیاں برپا کر کے جاتے ہیں۔ پس اصل یہی ہے کہ انبیاءحجت وبیان کا حق ادا کریں۔ انبیاءکا جدال قرآن میں سب سے بڑھ کر مذکور ہوا ہے۔ خرقِ عادت واقعات اپنی جگہ برحق مگر اصل یہ ہے کہ انبیاءخدا کی راہ میں جہاد کریں اور حق پرستوں کی ایک بڑی تعداد کو جوت کر انسانی محنت کے نتیجے میں اُس حق کا قیام کروائیں جس کے ساتھ وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ لہٰذا انبیاءکی زندگی میں دیکھنے کی بات یہی نہیں کہ وہ کیا کیا معجزات کر گئے ہیں بلکہ دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ وہ انسانی زندگی پر کس حد تک اثر انداز ہو کر گئے ہیں اور انسانی فکر و عمل کو کونسی ایسی سمتیں دے گئے ہیں جو نہایت دور رس اثرات کی حامل ہوں۔ اس پہلو سے غیر مسلم مؤلفین تک نے(6) محمدﷺ کے تاریخ انسانی پر اثرات کے حوالے سے جو جو کچھ لکھا ہے اس سے عقل والوں کو دنگ کر کے رکھ دیا ہے۔

’محمدﷺ کی تلوار‘ کے عیب جوؤں کو کچھ جواب ہم دے چکے۔ محمدﷺ کے ”جہاد“ بمعنیٰ ”قتال“ کی بابت اِس سے زیادہ گفتگو کی اِس مختصر کتاب میں گنجائش نہیں۔ ”دلیل“ کی قوت درحقیقت ایک نبی کے ”جدال“ کے اندر بولتی ہے۔ فکر و شعور اور عقل و منطق کی دنیا میں باطل کو نیست و نابود کر دینے پر بہترین مثال قرآنی اندازِ خطاب خود ہے۔ اِس کی عملی تصویر کسی کو دیکھنا ہو تو وہ محمدﷺ کا معرکۂ حجت و بیان دیکھے۔ اُسے اپنے سامنے ایسا پراِعتماد ، اپنی حقانیت پر آخری حد تک مطمئن، خدا کی نصرت اور معیت پر کمال حد تک واثق، خوش گفتار، صریح البیان، فصیح اللسان، منطقی اسلوب کا مالک، باطل سے ناقابل یقین حد تک برسرپیکار اور حق کے احقاق کیلئے آخری حد تک تلا ہوا اور اِس پر کوئی مفاہمت قبول نہ کرنے والا باہمت شخص نظر آئے گا جس کا حوصلہ پہاڑوں پہ بھاری ہو۔ اِس کی بے شمار مثالیں آپ کے عہد مکی و مدنی سے پیش کی جا سکتی ہیں مگر ایک مختصر منظر ہم اِن لوگوں کو اہل کتاب کے ساتھ ہونے والے جدال ہی کا دکھائیں گے۔ بائبل کے عہد جدید میں اِنہوں نے مخالفوں کے روبرو مسیح علیہ السلام کا بھی اعتماد دیکھا ہے، جوکہ ایک سچے آدمی کا خاصہ ہوا ہی کرتا ہے۔ ”دلیل“ کی قوت آدمی میں جب بولتی ہے تو اس کا کیا رعب ہوتا ہے، اِس کا اندازہ یقینا مسیح ؑ کی زندگی کو دیکھ کر ہوتا ہے کیونکہ وہ اللہ کا سچا نبی تھا اور ”ایمان بالغیب“ کے داعیِ اولین کو ایک ایسا ہی غیر متزلزل یقین دکھانا ہوتا ہے! وجہ یہ کہ یہ معرکہ ہے ہی ”ایمان بالغیب“ کا جس میں کچھ پردے حائل رکھے جانا ”پلان“ کا حصہ ہے ورنہ بات اگر ”ایمان بالشہادۃ“ کی ہوتی تو اِس ”شدتِ یقین“ کو سامنے لایا جانے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ ایک ”غیر متزلزل یقین“ جس سے منکر دہل کر رہ جائیں، اِس کی ایک نہایت مختصر جھلکی یہ نبیِ خاتم المرسلینﷺ کی شخصیت میں بھی دیکھیں، کہ یہ جھگڑا، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، ہے ہی ”ایمان بالغیب“ کا:

عرب میں سب سے بڑا کلیسا نجران کے اندر پایا جاتا تھا۔ رومن ایمپائر اِس پر بے تحاشا خرچ کرتی اور اِسے مال ودولت اور وسائل کی کوئی کمی نہ آنے دیتی تھی۔ جزیرۂ عرب میں نجران کے گرجا کو کعبۂ مکہ کے بعد بطورِ عبادت گاہ سب سے نمایاں مقام حاصل تھا۔ بلکہ مقابلے میں لاکر اِس کو ’کعبۂ نجران‘ تک کہا جاتا تھا۔ عرب کا مشہور شاعر، الاعشیٰ یہاں سے ایک بھاری عطیہ پا کر اِس کا قصیدہ کہہ چکا ہے اور وہ آج بھی عربی ادب کا حصہ ہے۔ ۹ ہجری میں اِس کلیسا کے اسقفِ اعظم Chief Bishop حارثہ بن علقمہ کو نبیِ آخر الزمان کی جانب سے نامۂ مبارک جاتا ہے کہ ہدایت قبول کریں اور اگر قبول نہ ہو تو جزیہ دے کر مملکتِ اسلام کے زیر نگیں ہوں۔ عرب کی یہ سب سے بڑی عیسائی مذہبی شخصیت تب نجران کی دو چوٹی کی شخصیتوں کو لے کر، کہ جو مشترکہ طور پر امورِ مملکت انجام دیتے تھے ایک عبد المسیح جس کا لقب عاقب تھا اور دوسرا اَیہم یا شرحبیل جس کا لقب سید تھا، بمع 24 سردارانِ نجران مدینہ پہنچتی ہے، جبکہ وفد کی کل تعداد ساٹھ ہے۔ سورۃ آلِ عمران کا ابتدائی حصہ اِسی موقعہ پر نازل ہوا، لہٰذا بقیہ واقعہ ہم تفسیر کے مشہور نام ابن کثیرؒ، اور سیرت کے مشہور نام زاد المعاد از ابن قیمؒ سے اپنے الفاظ میں مختصر طور پر نقل کریں گے:

نجران کے اِس وفد کو اعزاز واکرام کے ساتھ مسجد نبوی میں ٹھہرایا گیا۔ نجران کے ساٹھ عیسائی نمائندے بشمول عرب کا سب سے بڑا عیسائی عالم اور بشپ مسجدِ نبوی کے مہمان! اِن نصاریٰ کے اپنے مذہب کے مطابق نماز پڑھنے کا وقت ہو جاتا ہے اور وہ مسجدِ نبوی کے اندر ہی اپنی نماز پڑھنے لگتے ہیں۔ مسجد نبوی کے اندر نصاریٰ کی نماز! لوگ انہیں روکنے کیلئے بھاگتے ہیں، مگر نبی آخر الزمانﷺ روکنے والوں کو روک دیتے ہیں کہ دَعُو ´ہُم ´ ”اِن کو چھوڑ دو“۔ تب یہ لوگ مشرق کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ آخر نبیﷺ کی ان کے ساتھ مجلس ہوئی۔ دو چوٹی کے عیسائی عالم وفد نجران کی جانب سے گفتگو کر رہے تھے۔ نبیﷺ نے ان دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا: اسلِمَا یعنی ”خدا کے فرماں بردار بندے بن جاؤ“۔ دونوں نے جواب دیا:اَسلَمنَا ’ہم خدا کے فرماں بردار ہیں‘۔ آپ نے فرمایا:اَنَّکُمَا لَم تُسلِمَا فَاَسلِمَا ”تم خدا کے فرماں بردار نہیں ہو، یکسو ہوکر خدا کے فرماں بردار بن جاؤ“۔ وہ بولے: بلَیٰ قَد اَسلَمنَا قبلکَ ’کیوں نہیں، ہم آپ سے پہلے کے فرماں بردار ہیں‘۔ فرمایا: کَذِبتُمَا، یَمنَعُکُمَا مِنَ الاَسلامِ ادّعَاؤکُمَا لِلّٰہِ وَلَدًا وَعِبَادَتُکُمَا الصَلِیبَ وَ اَکلُکُمَا الخِنزِیرَ ”غلط کہتے ہو۔ خدا کی (یکسو) بندگی کیسی جب تمہارا دعویٰ ہے کہ خدا کا بچہ ہے، جب تم صلیب کو پوجتے ہو اور خنزیر کھاتے ہو“۔ تب وہ دونوں بولے: ’تو پھر اے محمد! مسیح ؑکا باپ کون ہے‘؟ اِس کا جواب آپ نے فوری نہ دیا، کہ اِس کا جواب قرآن کو خود دینا تھا۔ تب سورۂ آل عمران کی ابتدا کی اَسی سے اوپر آیتیں نازل ہوئیں (جن میں مسیح ؑ کی حقیقت ہی نہایت تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے)۔ یہ آیات ان کو پڑھ کر سنا دی گئیں۔ خاص طور اس سلسلۂ آیات کا یہ حصہ:

” عیسیٰ ؑ کی مثال خدا کے ہاں ایسی ہی تو ہے جیسی آدم ؑ کی، جسے اُس نے مٹی سے بنا ڈالا تھا اور پھر کہا تھا ’ہوجا‘ سو وہ ہو گیا! حق تیرے رب کی طرف سے ہے، پس تو شک میں پڑنے والوں میں نہ ہو۔ تو پھر اب بھی جو شخص تجھ سے اِس معاملہ میں جھگڑنے پر (مصر) ہے، جبکہ یقینی علم تیرے پاس پہنچ چکا ہے، تو پھر کہہ دے: ’آجاؤ، ہم بلا لاتے ہیں اپنے اپنے فرزندوں کو اور اپنی اپنی عورتوں کو اور خود اپنے آپ کو، پھر ہم (مل کر) مباہلہ کرتے ہیں اور باطل بات کرنے والوں پر خدا کی لعنت بھیج ڈالتے ہیں‘۔ یہی ہے حق کا ٹھیک ٹھیک بیان، اور نہیں ہے کوئی الٰہ مگر ایک خدا ہی، اور بے شک اللہ ہی طاقتور ہے اور حکمت کا مالک“۔(آل عمران: ۹۵-۲۶)

اِسی سلسلۂ آیات میں وہ مشہور آیت تھی جو اہل کتاب کو دعوت دی جانے کی بنیاد ہے، اور جسے آپ نے ملوکِ نصاریٰ کو اپنے خطوط میں بھی لکھ کر بھیجا تھا:

”اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے، یہ کہ نہ عبادت کریں ہم مگر ایک اللہ کی، اور نہ شریک کریں اُس کے ساتھ کسی چیز کو، اور نہ پکڑیں ہم اپنے میں سے کسی کو اللہ کے ماسوا، رب۔ تو اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم لوگ کہہ دو کہ پھر گواہ رہو، ہم تو صرف اللہ ہی کو اپنا رخ بندگی سونپ دینے والے ہیں“(آل عمران: ۴۶)

اسی دوران، نجران کے نصاریٰ کا سن کر احبارِ یہود بھی آ پہنچے۔ اب یہود اور نصاریٰ کے مابین بھی بحثیں ہونے لگیں۔ نصاریٰ اور یہود دونوں ابراہیم ؑ پر اپنا حق جتا رہے تھے۔ اِس پر ان دونوں کو قرآن کی آیت سنائی گئی:

”اے اہل کتاب! تم کیوں حجت کرتے ہو ابراہیم ؑ کے بارہ میں، حالانکہ نہیں نازل کی گئی تھی تورات اور نہ انجیل مگر ابراہیم ؑ کے بہت بعد، تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟ (آل عمران: ۵۶)

اور اس سے ذرا بعد:

”ابراہیم نہ کبھی یہودی تھا اور نہ عیسائی، وہ تو تھا خدا کا یکسو فرماں بردار۔ اور نہ تھا وہ مشرکین میں سے۔ ابراہیم ؑ پر سب سے بڑھ کر حق تو ان کا ہے جو اس کی پیروی کر کے دکھائیں۔۔۔۔“ (آل عمران: ۵۶)

یہ بھی مذکور ہے کہ اِس موقعہ پر یہود اور نصاریٰ دونوں کے مجمعے نبیﷺ کو مخاطب کر کے کہنے لگے: ’تو اے محمد صاحب! کیا آپ کی چاہت ہے کہ مسیح ؑ کو چھوڑیں اور آپ کو پوجنے لگیں؟‘ آپ کا جواب تھا: ”اللہ کی پناہ کہ ہم اللہ کے ماسوا کسی کو پوجیں یا اُس کے ماسوا کسی کو پوجنے کی دعوت دیں۔ اُس نے مجھے اِس چیز کے ساتھ مبعوث نہیں کیا نہ مجھے یہ مشن سونپا ہے!“۔ اور پھر سورۂ آل عمران کے اسی سلسلۂ آیات کا یہ حصہ سنایا گیا:

”کسی بشر سے کبھی یہ بات نہیں ہو سکتی ہے کہ اللہ اُسے کتاب اور فہم اور نبوت عطا فرمائے اور پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے: خدا کو چھوڑ تم میرے ہی بندے بن جاؤ، وہ تو یہی کہے گا کہ تم اللہ والے بنو۔۔۔۔“(آل عمران: ۹۷)

غرض معاملہ کو آخری حد تک واضح کر دیا گیا کہ مسئلہ خدا کی کبریائی اور مسیح ؑ کی عبدیت کا ہے۔ مسیح ؑ خدا کی برگزیدہ مخلوق ہے مگر خدا کا شریک کوئی نہیں۔ خدا کی کبریائی محمدﷺ اور امتِ محمدﷺ کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ مباہلہ کی آیت نجران کے بشپ اور علمائے نصاریٰ کو سنا دی گئی۔ ان کو سوچنے کیلئے پورا ایک دن دے دیا گیا۔ سارا دن وہ ان آیات اور اس جدال پر غور و فکر کرتے رہے۔ اگلی صبح نبیﷺ نکلے، اپنے ساتھ اپنے نواسوں حسنؓ اور حسینؓ اور چچیرے بھائی علیؓ کو لیا، پیچھے پیچھے نبی کی صاحبزادی فاطمہؓ چل رہی تھیں۔ یوں اپنا یہ خانوادہ ساتھ لئے آپ مباہلہ  کیلئے تیار ہو کر نکل آئے۔ اب مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا کہنے والے بشپ اور دیگر علمائے نصاریٰ کی باری تھی کہ مقابلے پر نکلیں اور اپنے اس عقیدہ پر کہ ’خدا کی کوئی اولاد ہوئی ہے‘ باطل بات کہنے والے فریق پر خدا کی لعنت ہو جانے کی دعا میں شامل ہوں۔ نبیﷺ نکل چکے تھے اور اساقفۂ نصاریٰ کے منتظر تھے۔ وفد نے خدا کی وحدانیت کے موضوع پر نبیﷺ کو اِس قدر سنجیدہ اور مباہلہ کیلئے اس قدر تیار دیکھاتو عاقب اور سید ایک دوسرے کے ساتھ سرگوشی کرنے لگے: تم جانتے ہو جس قوم نے بھی کسی نبی سے مباہلہ کیا نہ ان کا کوئی بڑا بچا اور نہ ان کے کسی چھوٹے نے نشو و نما پائی۔ اگر مباہلہ کر لیتے ہیں تو اپنا کچھ بھی نہ بچے گا۔ اپنے دین پہ قائم ہی رہنا ہے تو اِس کے ساتھ صلح کی شروط طے کر لو اور واپس اپنے گھر چلے جاؤ۔ تب انہوں نے مباہلہ سے انکار کیا اور اپنے دین پر قرار رہتے ہوئے جزیہ تسلیم کر کے واپسی کا عزم کیا۔

بشپ کے اپنے بھائی کرز بن علقمہ نے نبیﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔ واپسی سے کچھ ہی دیر بعد عاقب اور سید بھی مسلمان ہو چکے تھے۔ اپنی جانب سے افسرِ مجاز کے طور پر نبی ﷺ نے پہلے حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ اور بعد ازاں حضرت علی بن ابی طالبؓ کو نجران بھیجا، جن کی تعلیم اور حسن تعامل کے زیر اثر، کچھ ہی دیر میں نجران سے آنے والا ’جزیہ‘ ”زکات“ میں بدلنے لگا، یعنی نجران مسلمان ہو گیا۔۔۔۔ جبکہ اہل نجران کو اپنے دین پر باقی رہنے کی آزادی دینے کیلئے جو وثیقہ لکھ کر دیا گیا تھا وہ بھی خاص طور پر حق رکھتا ہے کہ ’محمدﷺ کی تلوار‘ کا چرچا کرنے والے اسے بغور پڑھیں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ من محمد النبی اَلی الاَسقف اَبی الحارث واَساقفۃ نجران وکہنتہم ورہبنتہم واَہل بیعہم ورقیقہم وملتہم وسوقتہم وعلی کل ما تحت اَیدیہم من قلیل وکثیر جوار اللہ ورسولہ لا یغیراَسقف مناَسقفتہ ولا راہب من رہبانیتہ ولا کاہن من کہانتہ ولا یغیر حق من حقوقہم ولا سلطانہم ولا مما کانوا علیہ۔ علی ذلک جوار اللہ ورسولہاَبدا ما نصحوا واَصلحوا علیہم غیر منقلبین بظالم ولا ظالمین۔ (از زاد المعاد، مؤلفہ ابن القیم)

ِ ”شروع اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔ نبی محمدﷺ کی طرف سے برائے بشپ ابو الحارث ودیگر اساقفۂ نجران، علاوہ ازیں وہاں کے کاہنوں، راہبوں، گرجا گھروں کے لوگوں، ان کے خدام، ان کے اہل ملت اور ان کے گلی کوچوں کے لوگوں کیلئے۔ ہر وہ چیز جو ان کے ہاتھ میں ہے چاہے کم ہے چاہے زیادہ اس پر ان کو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے تحفظ حاصل ہوگا۔ ان کا کوئی بشپ نہ بدلا جائے گا۔ ان کا کوئی راہب اور کوئی کاہن نہ بدلا جائے گا۔ ان کے حقوق میں سے کوئی حق موقوف نہ کیا جائے گا اور نہ ان کے افسران میں سے کوئی تبدیل کیا جائے گا۔ وہ جس طریقے پر رہتے آئے ہیں ان کو اس سے ہٹایا نہ جائے گا۔ اِس پر اُن کو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے حاصل تحفظ برقرار رہے گا جب تک کہ وہ اخلاص اور بہتری کی راہ پر قائم رہیں، نہ کسی ظالم کے ساتھ مل کر پھریں اور نہ خود ظلم کی راہ پر چلنے لگیں“

کیا یہ اہل کتاب بھی اپنی تاریخ سے عدل اور انصاف اور احسان پر مبنی ایسا کوئی وثیقہ لا کر دکھا سکتے ہیں جس طرح کے وثیقے محمدﷺ کی طرف سے صلح پر آمادہ قوموں کو جاری کر کے دیے جاتے تھے؟ ؟؟

آج جو لوگ ’محمدﷺ کی تلوار‘ کو بنیاد بنا کر اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں، کون نہیں جانتا ان کو اصل تکلیف ’محمدﷺ کی تلوار‘ سے نہیں بلکہ ان کی اصل تکلیف یہ ہے کہ اِنکے سامنے ایک ایسا حق ہے جسے نہ یہ قبول کرنے کیلئے تیار ہیں اور نہ زمین میں اُسکا راستہ چھوڑ دینے پر۔البتہ یہ ایک ایسا حق ہے جس کے مقابلے پرآنے کی یہ ہمت بھی نہیں رکھتے! ”محمدﷺ کی دلیل“ کے بارے میں تو یہ اپنا اظہارِ تکلیف کرنے سے رہے، لے دے کر ’تلوار‘ بچ جاتی ہے اسی کے خلاف بول بول کر دل کا غم تو ہلکا کیا جاسکتا ہے!


(1) سنن الترمذی رقم 3069، کتاب التفسیر، باب ”ومن سورۃ بنی اسرائیل“.... سنن النسائی 4010 کتاب تحریم الدم باب السحر.... مسند احمد 17397 اول مسند الکوفیین، حدیث صفوان بن عسال

(2) صحیح بخاری، حدیث رقم: 6320، کتاب الحدود، باب: الرجم فی البلاط

(3) کیا اِن لوگوں کا رسول ہی اِن کی پہچان میں نہ آیا کہ یہ اُس کے نا آشنا بن رہے ہیں؟

(4) اسی خدائی سنت کی یاد دہانی کرا کر جا بجا قرآن میں رسول اللہﷺ کو تسلی دلائی جاتی ہے کہ یہ منصوبہ ہمیشہ اِسی نقشے پر روپزیر کرایا گیا ہے اور اب بھی اس میں تبدیلی ممکن نہیں:

وَلَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَى مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّى أَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللّهِ وَلَقدْ جَاءكَ مِن نَّبَإِ الْمُرْسَلِينَ   وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاء فَتَأْتِيَهُم بِآيَةٍ وَلَوْ شَاء اللّهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْجَاهِلِينَ   إِنَّمَا يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَى يَبْعَثُهُمُ اللّهُ ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (الانعام: 36-34)

”یقینا تجھ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا ہی گیا ہے، تب وہ اس جھٹلائے جانے پر صبر ہی کرتے رہے۔ اُن کو ایذا پہنچائی جاتی رہی یہاں تک کہ اللہ کی مدد ان کو آپہنچی۔ (اب بھی) اللہ کے کلمے تبدیل ہونے والے نہیں۔ رسولوں کی کچھ خبریں تو تیرے پاس آ ہی چکیں۔ اگر ان کا اعراض کر جانا تجھ پر اتنا ہی شاق ہے تو اگر تیرا بس چلے کہ زمین میں تجھے کوئی ایسی سرنگ مل جائے یا آسمان میں کوئی ایسی سیڑھی کہ (جہاں سے) تو ان کو (ایسی خاص) نشانی لا کر دے دے ۔ اللہ چاہتا تو ان سب کو ہی تو ہدایت پر اکٹھا کر دیتا، پس تو نادانوں میں مت ہو۔ مانیں گے وہی ہیں جو سنیں گے، اور جو ہیں ہی مردہ ان کو تو اللہ اٹھائے گا تب وہ اُس کی طرف لوٹائے جائیں گے“۔

(5) قصواء: نبیﷺ کی ناقہ کا نام۔

(6)ایک غیر مسلم مصنف تاریخ انسانی پر سب سے بڑھ کر اثرانداز ہونے والی ایک سو شخصیات پر کتاب تالیف کرتا ہے، تو سب سے پہلے نمبر پر پیغمبرِ اسلام کو لانے پر مجبور ہوتا ہے:

The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History

by Michael H. Hart

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز