عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 16,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 7
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
جوازِ اقتدار (لیجی ٹی میسی) اور ہیومنسٹ جاہلیت
:عنوان

فرمایا: ’’وہ تمہیں مبغوض ہوں اور تم ان کو مبغوض ہو‘‘۔ یعنی ایک سو فیصد ’غیرجمہوری حکمران؛ (اَن پاپولر) جولوگوں کو پسند ہی نہیں؛ اور جو اُن پر ظلم زیادتی تک کر لیتا ہے؛ مگر شریعت کی رِٹ اس کے ہاتھوں قائم ہے

. باطلنظام :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

ابن تیمیہ کی ’’خلافت و ملوکیت‘‘ پر تعلیق 29[1]

جوازِ اقتدار legitimacy  اور ہیومنسٹ جاہلیت

یہاں ہم ابن تیمیہؒ کے متن[2] میں وارد اُن دو حدیثوں پر جو غیر مقبول unpopular  اُمراء کی اطاعت فرض ٹھہراتی ہیں، قاری کی توجہ چاہیں گے:

وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِﷺ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَقُولُ: وَلَوْ اسْتَعْمَلَ عَبْدًا يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا۔

صحیح مسلم میں ام الحصین سے روایت ہے، کہ انہوں نے رسول اللہ کو حجۃ الوداع میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’اگرچہ تم پر ایک غلام[3]    کو والی کیوں نہ بنایا گیا ہو جو تم کو کتاب اللہ کے مطابق چلائے، تو سمع و اطاعت ہی کرو۔

یہ ہے ’’يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ‘‘ کی آئینی حیثیت: سمع و اطاعت۔ اسلام میں ’’جواز‘‘ legitimacy  کی اصل بنیاد یہ ہے، یعنی شریعت کی رِٹ قائم ہونا۔ چنانچہ آپ یہاں حدیث میں دیکھتے ہیں... اگر ’’يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ‘‘ کی شرط پوری ہو رہی ہے تو مسلم والی کی اطاعت سردست فرض ہے۔ وہ والی کس طرح اقتدار میں آیا، یہ بات اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود ایک ثانوی مسئلہ ہےجس کی شریعت میں اپنی جگہ تفصیل ضرور ہے (شریعت میں زبردستی حکمران بننے کی باقاعدہ ممانعت ہے اور خاص حدود اور قیود کے تحت امت کے علماء، اصحابِ رائے اور قضاۃ وغیرہ اُس والی کو ہٹا بھی سکتے ہیں، یا امت کو اس معاملہ میں کوئی ہدایات بھی جاری کرکے دے سکتے ہیں) [4]  مگر ’’يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ‘‘ کے مقابلے پر ہے وہ ایک ثانوی مسئلہ۔ کیونکہ جماعتِ مسلمہ کا اصل دردِ سر ہی یہ ہے یعنی اجتماعی امورِ زندگی کتاب اللہ کی رُو سے چلیں؛ کیونکہ اِس کے بغیر جماعت کی موت ہے اور بطور ’’آسمانی امت‘‘ اس کا امتیاز ہی چلا جاتا ہے۔ اِدھر ہمارے اِس جدید ملغوبے میں جو اِس وقت عام جپا جاتا  ہے  legitimacy   کا سرچشمہ عوامی ہڑبونگ سے منتخب ہوکر آنا ہے، ’’يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ‘‘ ثانوی مسئلہ ہے (اگر ہے!)۔ ’جائز حکومت‘ اور ’ناجائز حکومت‘ کا تمام تر تعلق اس کے ’منتخب‘ یا ’غیرمنتخب‘ ہونے سے ہےنہ کہ اس بات سے کہ کتاب اللہ کی جانب اُس حکومت کا رخ ہے یا اُس کی پشت! یہ وجہ ہے کہ ’’غیرمنتخب‘‘ ہونے کی صورت میں حکمران کے حقِ حکمرانی کو کالعدم ٹھہرانے کی رِٹ تو لوگوں کو (بلکہ خود اسلام پسندوں کو!) بآسانی سمجھ آ سکتی ہے لیکن یہ رِٹ کہ کتاب اللہ کو قائم نہ کر رکھنے کے باعث حکمران معاشرے میں اپنا جوازِ اقتدار  legitimacy سوفیصد  کھو چکا ہے، ایک ہکابکا ہوکر سنی جانے والی چیز ہے، حتیٰ کہ اچھے اچھے فضلاء کے ہاں بھی! کتاب اللہ کی یہ حیثیت تھوڑی ہے کہ یہ  legitimacy  ہی کی بنیاد ہوجائے...!

عجم ہنوز نہ داند رموزِ دیں...!

*****

 وَفِي رِوَايَةٍ: عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ۔

ایک روایت میں الفاظ ہیں: نکٹا حبشی غلام کیوں نہ ہو

ایک بڑی آفت یہ ہے کہ آپ اپنے دور کے رجحانات کی ’روشنی‘ میں نصوصِ کتاب وسنت کا مقصود متعین کریں!

اوپر ’’نکٹے حبشی غلام‘‘ کا ذکر ہوا.. جو اگر کسی وقت امیر مقرر کر دیا جائے تو ایک خاندانی مسلمان کو بھی اس کی اطاعت ہی کرنا ہوگی۔ اِدھر  دورِحاضر کے ’جمہوری‘ ذہن کی کارفرمائی دیکھئے: حبشی غلام والی اِس حدیث کے اصل مدعا کو پیچھے کر کے اِس کے چند فرعی مطالب ہی کو حدیث کا اصل مضمون ٹھہرا دیا! احادیث سے ’جمہوریت اور مساوات‘ کشید کرنے والے جدت پسند اِس حدیث کو صرف ’انسانی برابری‘ کی  دلیل ٹھہراتے رہے کہ دیکھو کس طرح شریعت نے ’طبقاتی فرق‘ کو ختم کر ڈالا[5]؛ یہاں تک کہ ایک حبشی غلام بھی قریشی سردار کی طرح امیر ہوسکتا ہے! (یا قریش کے مقابلے پر ’الیکشن‘ لڑسکتا ہے؛ کیونکہ خلافت میں اصل چیز ’الیکشن‘ ہے!!!) حالانکہ حدیث کا اصل مضمون ’’کتاب اللہ‘‘ کو لاگو کر رکھنے کی دھاک بٹھانا ہے؛ اور خاص اِس بنیاد پر اطاعتِ نظم کی اہمیت اجاگر کرنا۔ یعنی کسی بھی نظم کی اطاعت نہیں بلکہ اُس نظم کی اطاعت ’’جو تمہیں کتاب اللہ کی رُو سے چلائے‘‘ (روایت کے الفاظ پیش نظر رہیں: وَلَوْ اسْتَعْمَلَ عَبْدًا يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا)۔  ہاں جس نظم میں ’’تمہیں کتاب اللہ کی رُو سے چلایا‘‘ جائے، اُس کی ناگوار سے ناگوار صورت کی بھی تمہیں پروا نہیں کرنی؛ بلکہ فریضۂ شرعی جان کر اُس کی اطاعت کرنی ہے۔

اب ان ’’ناگوار‘‘ صورتوں کی بعض مثالیں دی جا رہی ہیں، ایک اِس حدیث میں:

’’وہ نکٹا حبشی غلام کیوں نہ ہو‘‘۔

اسی حدیث کی ایک روایت میں: ’’خواہ اس کا سر منقے جیسا کیوں نہ ہو‘‘۔

یعنی ایک غیر مقبول unpopular  معاملے کی آخری ترین صورت، جس کو بدلنا بیچارے غلام کے بس میں بھی نہیں ہے۔ ظاہر ہے ایک ایسا شخص عربوں کے ہاں بطورِ حکمران کبھی پسندیدہ نہیں ہوسکتا؛ کیونکہ عرب معاشرہ خاندانی بندھنوں پر قائم ایک معاشرہ تھا؛ اور جبکہ کسی قوم کی سماجی بُنتی social fabric کو چھیڑنا اسلام کے اصولوں میں شامل نہیں۔ سماجی عمل میں اَنساب کو اپنی جگہ ایک اہمیت حاصل ہونا (گو وہ ’’دین‘‘ پر مقدم نہیں ہے)، ایک مضبوط خاندانی پس منظر کا اعتبار کرنا اور خاندانی وجاہت کا امیر کے قابل قبول ہونے میں ایک درجہ مؤثر ہونا اُن معلوم سماجی حقیقتوں social realities   میں سے ایک ہے جن کا اسلام نے باقاعدہ اعتبار کیا ہے... ؛ خلیفۂ اول نے خلافت کو قریش میں محصور ٹھہرانے کے موضوع پر انصار کو جہاں حکمِ نبوی سنایا کہ ’’امراء قریش سے ہی ہوں گے‘‘، وہاں اس کی یہ توجیہ بھی ذکر فرمائی کہ قریش کے سوا کسی کو عربوں میں یہ حیثیت حاصل نہیں کہ وہ سب کے سب خوشدلی کے ساتھ اس کو اپنے حکمران کے طور پر قبول کرلیں۔[6]

یہ ہوئی ناقبول حکمران unpopular ruler  کی ایک مثال۔

ایک دوسرے انداز کی ناقبول صورت اس سے اگلی حدیث میں آتی ہے (متن ابن تیمیہ):

 وَفِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ قَالَ: خِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمْ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَا؛ مَا أَقَامُوا فِيكُمْ الصَّلَاةَ۔ لَا؛ مَا أَقَامُوا فِيكُمْ الصَّلَاةَ۔ أَلَا مَنْ وُلِّيَ عَلَيْهِ وَالٍ فَرَآهُ يَأْتِي شَيْئًا مِنْ مَعْصِيَةٍ فَلْيَكْرَهْ مَا يَأْتِي مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا يَنْزِعَنَّ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ۔                    (رقم 1855)

صحیح مسلم میں عوف بن مالک سے روایت ہے، کہ رسول اللہ نے فرمایا:

’’تمہارے بہترین ائمہ (والی) وہ ہوں گےجو تمہیں محبوب ہوں اور تم ان کو محبوب ہو، تم ان کےلیے دعاگو رہو اور وہ تمہارے لیے دعاگو رہیں۔ جبکہ تمہارے بدترین ائمہ (والی) وہ ہوں گے جو تمہیں مبغوض ہوں اور تم ان کو مبغوض ہو، تم ان پر لعنتیں کرو اور وہ تم پر لعنتیں کریں‘‘۔ ہم نے عرض کی: اگر ایسا وقت آجائے تو کیا ہم تلوار کے ساتھ ان کے مقابلے پر نہ آجائیں؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں، تاوقتیکہ وہ تم میں نماز قائم کیے رکھیں تب تک نہیں۔ نہیں، تاوقتیکہ وہ تم میں نماز قائم کیے رہیں تب تک نہیں۔ خبردار! تم میں سے جس پر کوئی ایسا والی مقرر ہو اور وہ دیکھے کہ والی خدا کی نافرمانی کا کوئی کام کرتا ہے تو اُسے چاہئے کہ والی کے اُس کام کو جو خدا کی نافرمانی ہے ناپسند ہی جانتا رہے، مگر (اس کی) اطاعت سے ہرگز ہرگز ہاتھ نہ کھینچے‘‘۔

چنانچہ یہ ناقبول صورت یہ ہے کہ امراء کی کچھ بری خصلتوں کے باعث لوگ ان کو ناپسند کریں۔ فرمایا: ’’وہ تمہیں مبغوض ہوں اور تم ان کو مبغوض ہو‘‘۔ یعنی ایک سو فیصد ’غیرجمہوری‘ unpopular   حکمران؛ جولوگوں کو پسند ہی نہیں؛ اور جو اُن پر ظلم زیادتی تک کر لیتا ہے؛ مگر شریعت کی رِٹ اس کے ہاتھوں قائم ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک برا امیر ہے۔ خود اُس کے حق میں یہ گناہ ہی ہے کہ وہ مسلمانوں کا امیر رہے جبکہ وہ اُسے ناپسند کرتے ہوں۔  تاہم لوگوں کے حق میں اِس حدیث کی رُو سے پھر بھی اُس کی اطاعت کرنا ہی فرض ہے، جب تک کہ ’’وہ تمہارے مابین نماز قائم کرواتا رہے‘‘۔

چنانچہ آپ دیکھتے ہیں’جمہوری کلچر‘ کی درآمد نے ہمارے تصورات بلکہ ہماری تفسیراتِ دین تک کو مسخ کر ڈالا۔ یہاں ہمارے ’جدید اسلامی ڈسکورس‘ کی رُو سے:

à     ایک ’غیر جمہوری‘ حکومت تو ہر حال میں ناقابل قبول ہے؛ اور اس کے خلاف تو لازماً اٹھ کھڑے ہونا چاہئے (کس دلیل سے؟ معلوم نہیں؛ شاید اس پر کوئی ’اجماع‘ وغیرہ ہو!) اگرچہ وہ ’غیرجمہوری‘ حکومت نورالدین زنکیؒ، صلاح الدین ایوبیؒ، ارنگزیب عالمگیرؒ یا دیگر بہت سے نیک سیرت و عادل مسلم حکمرانوں کی طرح (مجموعی طور پر) شریعتِ محمدیؐ  کو نافذ کیے ہوئے کیوں نہ ہو}کیا کریں جب وہ ایک ناجائز illegitimate حکومت ہے (عوام کا مینڈیٹ لے کر نہیں آئی)!{۔

à     البتہ ایک ’جمہوری‘ حکومت حق ہے اور واجبِ اطاعت ہے اگرچہ وہ شریعتِ انگریزی کو نافذ کیے ہوئے کیوں نہ ہو! } کیا کریں جب وہ ایک جائز legitimate حکومت ہے (یعنی اُسے عوام کا ووٹ حاصل ہے) تو وہ شرعِ خداوندی کے ساتھ جو بھی کرے ہم اُس کو ’ناجائز‘ کیسے کہہ دیں؟ زیادہ سے زیادہ، ہم اُس سے نفاذِ شریعت کا مطالبہ کرلیں گے اور وہ ہم کرتے ہیں لیکن اس کے ’جواز‘ ہی کو چیلنج کردیں، اس کی کیا دلیل ہے؟ اُس کو ’’ناجائز‘‘ تو ہم اُسی وقت کہہ سکیں گے نا جب اُس کے ہاتھ میں عوام کی پرچی نہ ہو!{

یعنی  legitimacy  کی وہ اصل بنیاد کیا ٹھہری (جس کے آگے جوازِ اقتدار کی باقی ہر بنیاد ہیچ ہو)؟

à     ہمارے جدید اسلام پسند اس کا جواب دیں گے: ’’عوام کے ہاتھوں منتخب ہوا ہونا‘‘۔ عوام سے ملی ہوئی سند پاس رکھنا۔

à     جبکہ ہمارے فقہاء کا روایتی اسلامی ڈسکورس اس کا جواب دے گا: مسلم شیرازہ کو مجتمع، اسلامی حرمتوں کو قائم اور شرعِ اسلام کو حکمران رکھنا۔ (يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ)

(فقہاء کے کلام کی صحت پر اوپر شروع میں مذکور حدیث بذاتِ خود شاہد ہے)۔

شرعِ انگریز کی اقامت کو ہمارے ماڈرنسٹ اسلام پسند آج کی حکومتوں کا ایک ’بہت بڑا عیب‘ شمار کرلیں گے (جس طرح زبردستی حکمران بننے کو فقہائے اسلام ماضی کی حکومتوں کا ایک ’’بہت بڑا عیب‘‘ شمار کرتے رہے ہیں)۔ لیکن اصل سوال یہی رہے گا کہ وہ ایک اصل چیز کیا ہے جو ہر مفاہمت سے بالاتر مانی جائے؟

اس ’’ایک اصل چیز‘‘ کا تعین کرنے کے سوال پر:

à     ہمارا جدید ڈسکورس کہے گا: عوامی مینڈیٹ۔

à     جبکہ ہمارا روایتی فقہی ڈسکورس کہے گا: اقامتِ دین۔

یہ ہے وہ اصل نکتہ جہاں سے ہردو فریق کے کانٹے الگ ہوتے ہیں؛ ورنہ نہ تو ہمارے ماڈرنسٹ اسلام پسند شرعِ اسلام کی پامالی کو کبھی ’اچھا‘ کہیں گے اور نہ ہمارے دورِ قدیم کے فقہاء نے لوگوں پر زبردستی حکمران بن بیٹھنے کو کبھی ’اچھا‘ کہا ہے! [7]

 

 



[1]   ابن تیمیہ کے متن میں دیکھئے فصل دوم، حاشیہ  29، 30، 31، 32۔

[2]   ابن تیمیہ کی ’’خلافت و ملوکیت‘‘ سے متعلقہ عبارت کا متن:

نبیﷺ نے ولی الامر کی اطاعت میں رہنے کا حکم دیا ہے اگرچہ حبشی غلام کیوں نہ ہو، جیساکہ صحیح مسلم میں نبیﷺ کا حکم ہے:

اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنْ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ۔

سمع و اطاعت پر کاربند رہو اگرچہ ایک حبشی غلام جس کا سر منقے جیسا ہو تم پر والی مقرر کیا گیا ہو۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَنْ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا؛ وَلَوْ كَانَ حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ۔

ابو ذر سے روایت ہے، کہا: میرے پیارےﷺ نے مجھے تلقین فرمائی تھی کہ: ’’سمع و اطاعت کا پابند رہنا، اگرچہ وہ کوئی حبشی غلام ہو جس کے اعضاء کٹے ہوئے ہوں‘‘

وَعَنْ الْبُخَارِيِّ: وَلَوْ لِحَبَشِيٍّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ۔

بخاری کی روایت میں: ’’اگرچہ ایسے حبشی (کی اطاعت کرنی پڑے) جس کا سر منقے جیسا ہو‘‘

[3]   فقہاء کے بیان میں آپ بکثرت دیکھتے ہیں، ایک غلام کا والی بننا ویسے شرعاً نادرست ہے۔

[4]   یعنی ایسا نہیں کہ زبردستی حکمران بن بیٹھنے پر شریعت کو اعتراض نہیں ہے، یا زبردستی حکمران بننے والے شخص کے خلاف امت اور اس کے اہل حل و عقد اصولاً کوئی کارروائی کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور اس کو لازماً قبول ہی کیا جانا ہے۔  مقصد صرف یہ  ہے کہ ہر سیاسی نظام میں اُس ’’سب سے بڑی اور مرکزی‘‘ چیز کا تعین کیا جاتا ہے جس پر دوسری اشیاء کسی نہ کسی درجے میں قربان کی جاسکتی ہوں لیکن اُس پر کوئی آنچ آنا کسی قیمت پر قبول نہ ہو۔ اسلام میں یہ حیثیت ’’شریعت کی رِٹ‘‘ کو حاصل ہے، جبکہ ماڈرن سٹیٹ میں یہ حثییت ’’عوام کی رِٹ‘‘ کو۔

[5]   حالانکہ اگر آپ حدیث کا مطالعہ کریں تو اس کا سیاق ہی یہ نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ یہاں عرب نخوت پر ایک چوٹ بھی پڑتی ہے ؛ لیکن یہ بات حدیث کے فرعی مطالب میں آئے گی۔

[6]   بخاری میں حضرت ابوبکر﷛ کے الفاظ نقل ہوئے ہیں:

وَلَنْ يُعْرَفَ هَذَا الأَمْرُ إِلَّا لِهَذَا الحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ العَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا

جبکہ مصنف ابن عبد الرزاق اور صحیح ابن حبان کے الفاظ ہیں:

وَلَنْ تَعْرِفَ الْعَرَبُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا۔

مراد ہے:

اِس امارت کو عرب کسی اور کےلیے مان کر نہیں دیں گے سوائے اِس قریش کے قبیلے کے؛ یہ عربوں میں سب سے چنیدہ ہیں بطورِ نسب اور بطورِ قبیلہ۔

بخاری کی شرح میں ابن بطالؒ نے ابوبکر﷛ کے استعمال کردہ لفظ ’’وَلَنْ يُعْرَفَ هَذَا الأَمْرُ‘‘ کے حوالے سے نوٹ کروایا ہے کہ:

والمعروف هو الشىء الذى لا يجوز خلافه. وهذا يدل أنه لم يختلف فى ذلك على عهد النبى ولو اختلف فيه لعُلم الخلاف فيه، والمعروف ما عرفه أهل العلم وإن جهله كثير من غيرهم كما أن المنكر ما أنكره أهل العلم

معروف وہ چیز ہے جس کے خلاف چلنا جائز نہ ہو۔ اور یہ (ابو بکرؓ   کا لفظ  يُعْرَفَ  استعمال کرنا) اس بات پر دلیل ہے کہ عہدِ نبوت میں یہ مسئلہ ہرگز اختلافی نہ تھا؛ اگر اِس پر اختلاف ہوتا تو وہ معلوم ہوجاتا۔ معروف اُس چیز کو کہیں گے جو اہلِ علم کے ہاں معروف ہو اگرچہ بہت سے غیر اہل علم اس سے جاہل ہوں، جس طرح منکر اُس چیز کو کہیں گے جو اہل علم کے ہاں منکر ہو۔

[7]   نوٹ: سلطانِ متغلِّب (زبردستی اقتدار میں آنے والے) کی بابت زیادہ تفصیلی گفتگو فصل 39 میں کی گئی ہے (تاحال شائع نہیں ہوئی)۔

Print Article
  سیاسۃ شرعیۃ
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز