عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, August 8,2020 | 1441, ذوالحجة 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2014-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
داخلی زیادتیوں کے ساتھ معاملہ کیسے؟
:عنوان

جماعت" سےخروج کا مطلب صاف جاہلی زندگی ہے؛ اور ایسی حالت پر مرنا "ميتة جاهلية". ظاہر ہے، ظلم اور ناانصافی جتنی بھی بری ہو "جاہلیت" کی زندگی اس سےکہیں بری ہے اور جوکہ آج بڑی محنت سےہمیں "محبوب" کرائی جارہی ہے

. اصولمنہج :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

Text Box: 96(خلافت و ملوکیت) تعلیق 17[1]

داخلی زیادتیوں کے ساتھ معاملہ کیسے؟

احادیث میں مستعمل لفظ ’’اَثَرَۃ‘‘ جس کا مطلب ہے ترجیحی یا امتیازی سلوک۔ خواہ اسکی صورت یہ ہو کہ امراء اپنے لیے ایسی چیزوں کو مخصوص کرلیں جو باقیوں کو نہ ملیں۔ یا یہ صورت کہ حقوق یا عہدوں وغیرہ کے معاملہ میں آپ پر دوسروں کو ناحق ترجیح دی جائے، یعنی میرٹ کا قتل۔ جوکہ مسلم معاشروں کے حق میں ناسور ہے اور عدل کے سراسر منافی۔

 یہ ظلم یا امتیازی سلوک مسلم وحدت میں کسی وقت تو ایک حقیقت ہوسکتی ہے،تاہم کسی وقت ایک فرد، یا ایک قبیلے یا ایک قوم کا اپنا خیال ہوسکتا ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے؛ کیونکہ انصاف بعض لوگوں کو غیرمطمئن اور پریشان بھی کرتا ہے، نیز شیطان نفوس کو بہکاتا ہے، یہاں تک کہ آبپاشی کے ایک تنازعہ میں نبیﷺ کےفیصلے پر ایک منافق نے آپؐ پر (معاذ اللہ) اپنے رشتہ دار کی طرفدار ی کا الزام لگا یا۔ اس پر شرعی دلائل موجود ہیں کہ شیاطینِ جن و انس مسلمانوں کی جماعت اور وحدت سے سب سے بڑھ کر خار کھاتے ہیں۔ چنانچہ کسی وقت واقعتاً زیادتی ہوتی ہے اور شیطان اس پر مسلمانوں کے مابین فتنہ اٹھاتا ہے۔ اور کسی وقت زیادتی نہیں بھی ہوتی یا اتنی نہیں ہوتی جتنی شیطان آدمی کو بڑھا چڑھا کر دکھاتا ہےاور اس سے آگ بھڑکا کر مسلم وحدت کو پارہ پارہ کردینے کی سعی کرتا ہے۔

جہاں تک زیادتی، ناانصافی ، طرفداری اور ترجیحی سلوک کا تعلق ہےتو یہ معاملہ قریبی رشتہ داروں تک کے مابین ہوجاتا ہے۔ ایک باپ کسی وقت اپنے دو سگے بیٹوں کے مابین ناانصافی کر بیٹھتا ہے۔ دفتر، ادارے، انجمنیں، قبیلے، برادریاں... زیادتی کہاں نہیں ہوتی۔  جس کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے اُس کو مسند پر بٹھا دیں وہ شاید دوسروں سے بڑھ کر زیادتی کرلے! انصاف اور حقوق کی ادائیگی دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اس کےلیے علم، خداخوفی، صلاحیت، تربیت اور صالحین کی مصاحبت و مشاورت ہردم درکار رہتی ہے۔  پھر بھی غلطی اور لغزش کا امکان ہمیشہ رہتا ہے۔  دنیا کوئی مثالی جگہ ویسے ہی نہیں ہے۔ گھر سے لے کر قبیلے، قوم اور امت تک صبر، حوصلہ، برداشت، اصلاح اور معافی تلافی کے سوا یہاں کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ اس معاملے کے ساتھ پیش آنے کےلیے اسلام میں یہ انتظامات کیے جاتے ہیں:

1.        ایمانی بنیادوں پر معاشرے کی تعلیم اور تربیت کی جاتی ہے۔ بقول محمد قطب: اس وقت دنیا کا ہر نصاب ایک ’اچھا شہری‘ پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن ہوا ہے؛ کوئی ایک نصاب کرۂ ارض پر ایسا نہیں جو یہاں ایک ’’صالح انسان‘‘ پیدا کرنے کےلیے ترتیب دیا گیا ہو۔

2.        ’’آخرت‘‘ پر ایمان کو صبح شام کا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ اخروی جوابدہی، خدا کے حضور پیشی، حساب کتاب اور نجات ایسے موضوعات یہاں گونج کی طرح سنائی دیتے ہیں۔

3.        علماء اور صلحاء کو معاشرے میں سلاطین سے بڑھ کر توقیر دی جاتی ہے۔ ان کا سلاطین کو فہمائش کرنا حتیٰ کہ بوقت ضرورت سرزنش کرنا نہایت مؤثر نتائج کا حامل رہتا ہے۔

4.        راعی کو اُس کے فرائض پر نہایت اہم تنبیہات کی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض تاکیدات اور وعیدیں ایسی ہیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔

5.        اہلِ خیر کو سلطان کے روبرو کلمۂ حق کہنے کی شدید تاکید ہوئی ہے۔

6.        حاکم کا کھلا احتساب کرنے کی ریت ڈالی گئی ہے۔ اس کی لمبی چوڑی تفصیل ہے۔

7.        دوسری جانب رعایا کو راعی کے ساتھ متعاون رہنے اور  صبر کا دامن تھام رکھنے کی تلقین ہوئی ہے۔ان میں سے کچھ احادیث کا ذکر ابن تیمیہ کے متن میں ہوا۔ بعض دیگر احادیث میں یہ تک کہا گیا کہ جماعۃ المسلمین کا دامن کسی صورت نہ چھوڑو، خواہ امام المسلمین تمہارا مال کیوں نہ قبض کرلے (معاشی ظلم) یا تمہاری پیٹھ پر کوڑے کیوں نہ مارے (جسمانی ظلم)، پھر بھی تم اس کی اطاعت میں رہو۔ کیونکہ ’’جماعت‘‘ سے خروج کا مطلب صاف جاہلی زندگی ہے؛ اور ایسی حالت پر مرنا ’’مِیتۃٌ جاھلیۃٌ‘ کہا گیا ہے۔ ظاہر ہے، ظلم اور ناانصافی جتنی بھی بری ہو، ’’جاہلیت‘‘ کی زندگی اس سے کہیں بری ہے اور جوکہ آج بڑی محنت سے ہمیں ’’محبوب‘‘ کرائی جارہی ہے۔ مسلم وحدت اور جماعت کا خاتمہ آدمی کے حق میں موت ہے اور دنیا و آخرت کی ذلت کا موجب۔

’’عقیدہ‘‘ کی مستند ترین کتب دیکھیں تو  مسلمانوں کی ’’جماعت‘‘ (وحدت اور  شیرازہ بندی) کی تاکیدات سے بھری ہوئی ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمان امیر کی سمع و طاعت اختیار کرنا اور اس کے خلاف خروج نہ کرنا اہل سنت کے امتیازی ترین مسائل میں درج ہوتا ہے۔ بلکہ عقیدہ کا کوئی بیان اس کے بغیر مکمل نہیں۔

غرض ایک ظلم، زیادتی یا ناانصافی کا ازالہ کرنے کی ہزاروں صورتیں اختیار کی جائیں گی، لیکن اگر اس کا ازالہ نہیں ہوتا تو صبر و برداشت کی ہر سبیل اختیار کی جائے گی (اور اصلاح کی کوشش بھی بدستور جاری رہے گی) مگر ’’جماعت‘‘ کی قربانی کرنے کو کفر کا مترادف جانا جائے گا؛ کیونکہ یہ فی الواقع موت سے بدتر ہے۔ یہ وجہ ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے اصحاب کو تلقین کرتے ہیں کہ میرے بعد تمہارے ساتھ بڑا بڑا ترجیحی سلوک ہوگا بس تم ’’جماعت‘‘ کے اندر صبر و حوصلہ کے ساتھ جیسے کیسے وقت گزار لینا، ’’جماعت‘‘ کے معاملہ میں اپنا ’’فرض‘‘ پورا کرتے رہنا اور اپنا ’’حق‘‘ خدا سے مانگنا ؛ جو کمیاں اور محرومیاں تمہیں یہاں ’’جماعت‘‘ کے اندر رہ جائیں گی وہ حوضِ کوثر پر جا کر پوری کردی جائیں گی۔ کیونکہ حوضِ کوثر وہ مقام ہے جہاں امت کے سرخرو لوگ اپنے نبیؐ سے ملاقات کریں گے اور ’’جماعت‘‘ کا یہ اکٹھ پھر ابدی و دائمی ہوگا۔ اس کے مقابلے پر دنیا کی تلخیاں اور محرومیاں بھلا کیا شےء ہیں!

یہ ہے جہان کی قیمتی ترین چیز ’’جماعۃ المسلمین‘‘ جس سے ہماری دنیا اور آخرت دونوں وابستہ ہیں اور جس کا ہاتھ سے جانا، دنیا و آخرت دونوں کی بربادی ہے۔

ماضی قریب میں... عثمانی خلافت کے ہاتھوں یقیناً عربوں کے ساتھ زیادتیاں ہوتی رہی ہوں گی۔ آخر اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کےلیے ملتِ صلیب نے لارنس آف عریبیا کو پراجیکٹ دیا کہ وہ عربوں میں خلافت سے آزادی پانے کی تحریک اٹھائے۔ یہ تحریک کامیاب رہی۔ لارنس کے تیار کیے ہوئے عرب راہنماؤں کی ’’استدعاء‘‘ پر انگریزی افواج نے بروقت کارروائی کرکے عربوں کو ’’خلافت‘‘ سے ’’آزادی‘‘ لےدی۔  یہاں تک کہ انگریز ان میں سے ایک کو دوسرے سے اور دوسرے کو تیسرے سے ’’آزادی‘‘ دلواتا چلا گیا ... اور چند عشروں کے اندراندر عربوں کو درجنوں ’’آزاد‘‘ ملک مل گئے جو ڈھیروں وسائل کے باوجود اپنی ذلت کی داستان کہنے کو آج ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اپنے ترک بھائیوں کی زیادتی برداشت نہ ہوئی حالانکہ تب یہودی کو عرب سرزمین کی طرف آنکھ اٹھانے کی ہمت نہ تھی، اور آج دیکھ لو  صلیب کی شریعت، اسکے فوجی اڈے اور اسکے لےپالک اسرائیل کے جوتے کیسے راس آ رہے ہیں!

دوسری جانب ماضی کا ایک واقعہ ہمارے سامنے ہے جو امام ذہبی﷫ نے اپنی تاریخ الاسلام میں سن 478 ہجری کے واقعات میں درج کیا ہے۔ کہ جب مسلم اندلس میں طوائف الملوکی پھیلی اور یہ موقع دیکھ کر صلیبی بادشاہ الفانسو پوری تیاری کے ساتھ مسلم خطوں پر چڑھائی کےلیے عازمِ جنگ ہوا... تو ملوک الطوائف میں سب سے نمایاں بادشاہ معتمد بن عباد نے امیر المرابطین یوسف بن تاشفین کا دروازہ جا کھٹکھٹایا۔ اس پر اعیانِ سلطنت سٹپٹا گئے کہ مراکش کا وہ بدو سلطان اندلس آیا تو الفانسو کو شکست دے کر وہ اندلس تمہیں واپس تھوڑی دے گا۔ یہاں معتمد نے اپنا وہ تاریخی جملہ کہا: دیکھو، (یوسف بن تاشفین کے) اونٹ چرانا (الفانسو کے) خنزیر چرانے سے کہیں باعزت ہے! بعض مورخین نے معتمد کا یہ قول بھی نقل کیا ہے: میں تو کھایا ہی جانے والا ہوں، مگر اندلس پر آج اگر اسلام کا سورج غروب ہوتا ہے تو منبروں اور محرابوں سے صدیاں جو مجھے لعنت ہوتی رہے گی میں وہ کیوں لوں؟ واقعتاَ اعیانِ سلطنت کے خدشات سچ ثابت ہوئے۔ معتمد کو اپنے تخت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ساری زندگی قید میں گزری۔ برس ہا برس بعد ایک بار عید کے موقع پر بیٹیوں سے ملاقات کی اجازت ملی تو شہزادیوں کے سوت کات کات کر گزر اوقات کرنے والے ہاتھ معتمد سے دیکھے نہ گئے۔اس پر اُس نے جو شعر کہے وہ آج بھی آپ کے بی اے عربی کے نصاب میں شامل ہیں۔ ہاں مگر زلاقہ کے مشہور معرکے میں مرابطین کے اڑتالیس ہزار مجاہدین نے الفانسو کے ایک لاکھ کی تکہ بوٹی کرڈالی، مورخ کہتا ہےبہت کم صلیبی تھے جو زلاقہ سے زندہ  بچ کر گئے؛ اور اس کے بعد مزید ساڑھے تین سو سال اندلس میں اذان گونجتی رہی۔

بارہا ایسا ہوا ہے کہ کسی ایک ’’فرد‘‘ کے صبر وحوصلہ نے ’’جماعت‘‘ کو صدیوں کی زندگی دے دی۔ اور صبر و برداشت چھوڑنے کے نتیجے میں ’’جماعت‘‘ کے کروڑوں نفوس نسلوں خوار ہوتے رہے۔  آج جن خطوں میں آپ کو مسلمانوں کی ذلت اور بےبسی پر رونا آئے اور جہاں کہیں مسلم بیٹیوں کی چیخیں سنیں، لازماً وہاں کچھ مسلمانوں سے ’’جماعت‘‘ کے حق میں کوئی جرم ہوا ہوگا جس کے نتیجے میں مسلمان وہاں اس حالت کو پہنچے۔



[1]   ابن تیمیہ کے متن میں دیکھئے فصل اول، حاشیہ 17 (گزشتہ شمارہ ص 48)

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار.. اور امت کا طائفہ منصورہ
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
رسالہ اصول سنت از امام احمد بن حنبلؒ
اصول- عقيدہ
اصول- منہج
ادارہ
رســـــــــــــــــــــالة اصولِ سنت از امام احمد بن حنبل اردو استفاده: حامد كمال الدين امام ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل کونٹریکٹ‘۔۔۔ ’’جماعۃ المسلمین‘‘ بہ موازنہ ’ماڈرن سٹیٹ‘
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 12   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’آسمانی شریعت‘‘ نہ کہ ’سوشل ۔۔۔
"کتاب".. "اختلاف" کو ختم اور "جماعت" کو قائم کرنے والی
اصول- منہج
حامد كمال الدين
تعلیق 11   [1]   (بسلسلہ: خلافت و ملوکیت، از ابن تیمیہ) ’’کتاب‘‘ ’’اختلاف‘‘ کو خت۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ترک حکمران پارٹی سے وابستہ "اسلامی" توقعات اور واقعیت پسندی حامد کمال الدین ذیل میں میری ۔۔۔
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
جہاد- تحريك
تنقیحات-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
تحريك
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز