عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 16,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 7
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
’نظام‘ کی بحث.. متنبہ رہنے کی بات بس ایک ہے
:عنوان

جماعۃالدعوۃ کے نوجوان اُس دن تک ان شاءاللہ مغرب کی اس کھوسٹ بڑھیا کی عشوہ طرازیوں سے محفوظ رہیں گے جب تک یہ جمہوریت کو ’’اسلامی‘‘ کا ٹانکہ نہیں لگاتے۔ ’جمہوریت‘ کو نری استعمال کی چیز سمجھیں نہ کہ تقدیس کی۔

. راہنمائى . تنقیحات :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

’نظام‘ کی بحث.. متنبہ رہنے کی بات بس ایک ہے

وقت کے ایک رائج سیاسی نظام میں حصہ لینے کے حوالہ سے جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے ایک حالیہ فیصلہ کے پس منظر میں۔

جماعۃالدعوۃ کے نوجوان اُس دن تک ان شاءاللہ مغرب کی اس کھوسٹ بڑھیا کی عشوہ طرازیوں سے محفوظ رہیں گے جب تک یہ جمہوریت کو ’’اسلامی‘‘ کا ٹانکہ نہیں لگاتے۔ ’جمہوریت‘ کو نری استعمال کی چیز سمجھیں نہ کہ تقدیس کی۔ ہاں جس دن یہ خدا نخواستہ اُس کی تقدیس جپنے لگے اُس دن وہ بڑھیا اِنہیں نگلنے میں دیر نہ لگائے گی جو اس سے پہلے ہمارے بڑے بڑے گبھرو اٹھا چکی۔ اللہ انہیں محفوظ رکھے اور ہماری سب تحریکوں کو خالص اسلامی پیراڈائم پر اکٹھا کرے۔

یہاں ہم اپنے ایک پرانے مضمون (شمارہ جولائی 2013) سے تھوڑے تصرف کے ساتھ چند اقتباس دیں گے :

******

اقتباس 1

سیاست وغیرہ میں ’’دستیاب مواقع‘‘ سے اِن دینی جماعتوں کا فائدہ اٹھانا ہماری نظر میں اصولاً غلط نہیں ہے بشرطیکہ ایک ٹھیٹ پیراڈائم خود اِن جماعتوں کے اپنے کارکنان کے ہاں باقی رہے اور ان کے وجود سے پھوٹ پھوٹ کر نشر ہو، نیز مصالح و مفاسد کا ایک شرعی موازنہ اور اسلامی ضوابط کی پابندی برقرار رہے۔ بلکہ ایک ٹھیٹ عقیدہ کے ہوتے ہوئے ان کا سیاست میں پیش قدمی کرنا، ہماری نظر میں، اُس ہدف کے حصول میں ممد ہوگا جسے ہم نے ان دو نقاط میں ملخص کیا ہے، اور جوکہ ہمارے (عالم اسلام کے) اِس بحران کے اصل پائیدار حل کی جانب ایک درست ترین پیش قدمی ہے:

1.  مغرب کی فکری مصنوعات (خصوصاً مغربی مصنوعات کی ’اسلامیائی‘ گئی صورتوں) کا قلع قمع اور اس کے مقابلے پر خالص اسلامی پیراڈائم کا احیاء۔ اِسی کو ہم ’’استشراق کے ساتھ جنگ‘‘ کا نام دیتے ہیں اور جوکہ ایک وسیع البنیاد معرکہ ہے اور جس کے لیے ایک شدید درجے کا نظریاتی رسوخ اور ایک فکری استقامت درکار ہے۔ اِسی سے متصل، استعمار کے ساتھ ہماری وہ جنگ ہے جس کا کلائمکس اِس وقت ہمیں افغانستان اور فلسطین کے اندر درپیش ہے اور جس کے جیتنے یا ہارنے کی صورت میں شاید پورے عالم اسلام کی صورت اور ہیئت تبدیل ہوکر رہ جانے والی ہے اور یہاں پر ہمارا یا پھر عالمی استعمار کا بہت کچھ تہ و بالا ہوجانے والا ہے۔

2.  معاشرے کی سرزمین پر (نہ کہ محض اقتدار پر) اسلامی قوتوں کا ایک معتدبہٖ حد تک قبضہ، جس پر ہم متعدد بار گفتگو کرچکے ہیں۔

*****

اقتباس 2

بعض مسلم ملکوں میں، جہاں اس کی گنجائش ہو، مغرب اور اُس کے کاسہ لیس لبرلز کو لگام دینے (یا ’ٹف ٹائم‘ دینے) کےلیے ’جمہوریت‘ کا استعمال کچھ ایسا تشویش ناک نہیں۔ سیاست کے اِس عمل میں حصہ لینا ہے تو لفظِ جمہوریت کا ایسا (الزامی) استعمال بھی باعثِ قدح نہیں (الزامی سے یہاں ہماری مراد کہ: ہم تو اس جمہوری شریعت کے پابند نہیں؛ اور ہماری شریعت تو آسمان سے ہی اترتی ہے، ہاں اُنہیں اُن کے اصولوں سے باندھا یا پسپا کیا جائے، جہاں اور جتنا ممکن ہو ۔ ممکن نہ ہو تو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں؛ اللہ پر بھروسہ اہل ایمان کا پہلا اور آخری ہتھیار ہے۔ البتہ جہاں کچھ ممکن العمل ہو وہاں تدبیر اور اقدام کا سہارا لینا بھی اہل ایمان کا شیوہ ہے)۔ جمہوری عمل کا ایسا استعمال ہماری نظر میں مضرت رساں نہیں، کم از کم بھی یہ کہ علمائے توحید کے ہاں یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے، یعنی اِس معاملہ میں تعددِ آراء کی گنجائش ہے، لہٰذا کوئی اگر یہ رائے اختیار کرتا ہے تو آپ زیادہ سے زیادہ اُس کے ساتھ ایک فقہی قسم کا اختلاف رکھ سکتے ہیں جوکہ کوئی ایسی پریشان کن بات نہیں۔ اصل باعثِ تشویش مسئلہ ’’ڈیموکریسی‘‘ اور اس کے مشتقات کو خود اپنے فکری پیراڈائم کے اندر جگہ دینا اور اپنے نظریات کی دنیا میں اس کو قبول کرنا ہے، جس پر پیچھے ہم گفتگو کر آئے ہیں۔

********

اقتباس 3

جیسا کہ ہم اپنے مضمون ’’درمیانی مرحلہ کے بعض احکام‘‘ میں عرض کرچکے، مغربی اشیاء کے ساتھ (مصالح اور مفاسد کے موازنہ کی بنیاد پر) معاملہ deal کرنا تو مسئلہ نہیں (تاآنکہ خدا عالم اسلام میں ہمیں ایک پائیدار صورتحال نصیب فرمائے اور ہم اِن جاہلی اشیاء کے ساتھ معاملہ deal کرنے تک سے مستغنی ہو جائیں)، البتہ اِن اشیاء کو ’اسلامی‘ جوڑ لگانے بیٹھ جانا، ان اشیاء کو خود اپنے نظریات کے احاطے ہی میں جگہ دے ڈالنا اور ان کو اسلام سے ’ہم آہنگ‘ کرنا درحقیقت ایک بڑی آفت ہے اور جوکہ یہاں ایک ٹھیٹ اسلامی تبدیلی کے ریشنال ہی کو فوت کردیتی اور خود اپنا ہی راستہ اپنے اوپر بند کرلیتی ہے، علاوہ اس اہم تر بات کے کہ یہ چیز خدا کو ہی ناراض کردینے کا موجب ہے۔

پس ان جاہلی اشیاء کے ساتھ معاملہ کرنا تو قابلِ فہم ہے مگر ان جاہلی اشیاء کو اسلام کے ٹانکے لگانا خود اپنے ہی کیس کو ختم کرلینے کے مترادف ہے۔ اِس حقیقت کو تسلیم کرلینے میں اب مزید عشرے نہیں لگانے چاہئیں۔ جاہلی اشیاء (مانند ڈیموکریسی، کونسٹی ٹیوشن، پارلیمنٹ، لیجس لیشن، نیشن سٹیٹ، بیسک رائٹس... روٹی، ترقی اور آسائشاتِ دنیا کے نعرے، جوکہ یہاں فی نفسہٖ مطلوب بلکہ معبود ہوتے ہیں، وغیرہ) کو اسلام کے ٹانکے لگا کر ہمارا اسلامی کیس فوت ہوسکتا ہے

*******

اقتباس 4

آدمی خود ایک محکم و راسخ عقائدی بنیاد پر کھڑا ہو، تو ملکی سیاست یا انتظامی مشینری میں ’’دستیاب گنجائش‘‘ کے مطابق ہی اپنے آپ کو فی الحال نمایاں کرنا اور اپنا پورا ایجنڈا سامنے لانے سے ایک عرصہ تک گریز کرنا اور پھر جیسے جیسے گنجائش ملتی چلی جائے ویسے ویسے کھلتے چلے جانا، البتہ جتنی گنجائش ملے اُس کو بھرپور طور پر (اور آخری حد تک بےلحاظ ہو کر، بلکہ بوقتِ ضرورت اپنی زندگی اور سلامتی کی قیمت پر) اسلامی ایجنڈا کے حق میں استعمال کر جانا اور باقی کےلیے مسلسل کوشاں اور مواقع کا متلاشی رہنا... غرض عمل اور نفاذ میں ’’تدریج‘‘ کا راستہ اختیار کرنا اور سارا کچھ ایک ہی دن میں کر گزرنے کے اسلوب سے کنارہ کش رہنا ایک صائب طریقِ کار ہے۔ اس کو اختیار کرنے میں ہرگز کوئی مضائقہ نہیں۔ جہاں مضائقہ ہے اُس کی ہم نے نشاندہی کردی اور وہ آدمی کا اپنا ’’تصورِ دین‘‘ اور ’’حقیقتوں کے تعین کے معاملہ میں اُس کی اختیار کردہ اپروچ‘‘ ہے جس میں جاہلیت سے یکسر مختلف طریق اختیار کرنا، مشرک اور دوزخی ملتوں سے الگ تھلگ ایک طریق اختیار کرنا، اور راستوں کے اِس فرق کے مسئلے میں کوئی جھول نہ آنے دینا ’’مسلم‘‘ ہونے کا بنیادی ترین تقاضا ہے۔ اِسی کو ہم عقیدہ بھی کہتے ہیں۔ اِس میں کوئی ’’تدریج‘‘ نہیں۔ یہاں ’’استطاعت و عدم استطاعت‘‘ کی کوئی بحث نہیں۔ اِس میں کوئی ڈھیل اور کوئی نرمی نہیں۔ ہاں ’’اعمال‘‘ کے اندر ’’تدریج‘‘ بھی ہے۔ ’’عدمِ استطاعت‘‘ کا اعتبار بھی۔ اور نرمی و رخصت وغیرہ ایسی اشیاء کی گنجائش بھی۔ نیز بھول چوک اور سستی کوتاہی پر چھوٹ اور معافی کا امکان بھی ’’اعمال‘‘ میں زیادہ ہے بہ نسبت ’’اعتقاد‘‘ کے۔ پروردگار کے سامنے اعلیٰ ترین حالت میں پیش ہونا ’’اعتقاد‘‘ کے معاملہ میں کہیں اہم تر اور نازک تر ہے بہ نسبت ’’اعمال‘‘ کے۔

۔

پس نوشت: اوپر کے مضمون پر وارد بعض اعتراضات کے پس منظر میں لکھی جانے والی ایک تحریر: دین و دنیا.. اور ’نظام‘ کی بحث

Print Article
  نظام میں شرکت
  جمہوریت
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا!
جہاد-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا! کل ہمارے یہاں ایک ٹویٹ ہوا تھا: شیعہ سنی تصادم&۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
کوٹ پینٹ پہننے کا شرعی حکم
راہنمائى-
حامد كمال الدين
کوٹ پینٹ پہننے کا شرعی حکم سوال: بہت سے مسلم ملکوں میں سوٹ کا رواج ہے، یعنی کوٹ پینٹ۔ جبکہ ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز