عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, September 22,2019 | 1441, مُحَرَّم 22
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
’نظام‘ کی بحث.. متنبہ رہنے کی بات بس ایک ہے
:عنوان

جماعۃالدعوۃ کے نوجوان اُس دن تک ان شاءاللہ مغرب کی اس کھوسٹ بڑھیا کی عشوہ طرازیوں سے محفوظ رہیں گے جب تک یہ جمہوریت کو ’’اسلامی‘‘ کا ٹانکہ نہیں لگاتے۔ ’جمہوریت‘ کو نری استعمال کی چیز سمجھیں نہ کہ تقدیس کی۔

. راہنمائى . تنقیحات :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

’نظام‘ کی بحث.. متنبہ رہنے کی بات بس ایک ہے

وقت کے ایک رائج سیاسی نظام میں حصہ لینے کے حوالہ سے جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے ایک حالیہ فیصلہ کے پس منظر میں۔

جماعۃالدعوۃ کے نوجوان اُس دن تک ان شاءاللہ مغرب کی اس کھوسٹ بڑھیا کی عشوہ طرازیوں سے محفوظ رہیں گے جب تک یہ جمہوریت کو ’’اسلامی‘‘ کا ٹانکہ نہیں لگاتے۔ ’جمہوریت‘ کو نری استعمال کی چیز سمجھیں نہ کہ تقدیس کی۔ ہاں جس دن یہ خدا نخواستہ اُس کی تقدیس جپنے لگے اُس دن وہ بڑھیا اِنہیں نگلنے میں دیر نہ لگائے گی جو اس سے پہلے ہمارے بڑے بڑے گبھرو اٹھا چکی۔ اللہ انہیں محفوظ رکھے اور ہماری سب تحریکوں کو خالص اسلامی پیراڈائم پر اکٹھا کرے۔

یہاں ہم اپنے ایک پرانے مضمون (شمارہ جولائی 2013) سے تھوڑے تصرف کے ساتھ چند اقتباس دیں گے :

******

اقتباس 1

سیاست وغیرہ میں ’’دستیاب مواقع‘‘ سے اِن دینی جماعتوں کا فائدہ اٹھانا ہماری نظر میں اصولاً غلط نہیں ہے بشرطیکہ ایک ٹھیٹ پیراڈائم خود اِن جماعتوں کے اپنے کارکنان کے ہاں باقی رہے اور ان کے وجود سے پھوٹ پھوٹ کر نشر ہو، نیز مصالح و مفاسد کا ایک شرعی موازنہ اور اسلامی ضوابط کی پابندی برقرار رہے۔ بلکہ ایک ٹھیٹ عقیدہ کے ہوتے ہوئے ان کا سیاست میں پیش قدمی کرنا، ہماری نظر میں، اُس ہدف کے حصول میں ممد ہوگا جسے ہم نے ان دو نقاط میں ملخص کیا ہے، اور جوکہ ہمارے (عالم اسلام کے) اِس بحران کے اصل پائیدار حل کی جانب ایک درست ترین پیش قدمی ہے:

1.  مغرب کی فکری مصنوعات (خصوصاً مغربی مصنوعات کی ’اسلامیائی‘ گئی صورتوں) کا قلع قمع اور اس کے مقابلے پر خالص اسلامی پیراڈائم کا احیاء۔ اِسی کو ہم ’’استشراق کے ساتھ جنگ‘‘ کا نام دیتے ہیں اور جوکہ ایک وسیع البنیاد معرکہ ہے اور جس کے لیے ایک شدید درجے کا نظریاتی رسوخ اور ایک فکری استقامت درکار ہے۔ اِسی سے متصل، استعمار کے ساتھ ہماری وہ جنگ ہے جس کا کلائمکس اِس وقت ہمیں افغانستان اور فلسطین کے اندر درپیش ہے اور جس کے جیتنے یا ہارنے کی صورت میں شاید پورے عالم اسلام کی صورت اور ہیئت تبدیل ہوکر رہ جانے والی ہے اور یہاں پر ہمارا یا پھر عالمی استعمار کا بہت کچھ تہ و بالا ہوجانے والا ہے۔

2.  معاشرے کی سرزمین پر (نہ کہ محض اقتدار پر) اسلامی قوتوں کا ایک معتدبہٖ حد تک قبضہ، جس پر ہم متعدد بار گفتگو کرچکے ہیں۔

*****

اقتباس 2

بعض مسلم ملکوں میں، جہاں اس کی گنجائش ہو، مغرب اور اُس کے کاسہ لیس لبرلز کو لگام دینے (یا ’ٹف ٹائم‘ دینے) کےلیے ’جمہوریت‘ کا استعمال کچھ ایسا تشویش ناک نہیں۔ سیاست کے اِس عمل میں حصہ لینا ہے تو لفظِ جمہوریت کا ایسا (الزامی) استعمال بھی باعثِ قدح نہیں (الزامی سے یہاں ہماری مراد کہ: ہم تو اس جمہوری شریعت کے پابند نہیں؛ اور ہماری شریعت تو آسمان سے ہی اترتی ہے، ہاں اُنہیں اُن کے اصولوں سے باندھا یا پسپا کیا جائے، جہاں اور جتنا ممکن ہو ۔ ممکن نہ ہو تو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں؛ اللہ پر بھروسہ اہل ایمان کا پہلا اور آخری ہتھیار ہے۔ البتہ جہاں کچھ ممکن العمل ہو وہاں تدبیر اور اقدام کا سہارا لینا بھی اہل ایمان کا شیوہ ہے)۔ جمہوری عمل کا ایسا استعمال ہماری نظر میں مضرت رساں نہیں، کم از کم بھی یہ کہ علمائے توحید کے ہاں یہ ایک مختلف فیہ مسئلہ ہے، یعنی اِس معاملہ میں تعددِ آراء کی گنجائش ہے، لہٰذا کوئی اگر یہ رائے اختیار کرتا ہے تو آپ زیادہ سے زیادہ اُس کے ساتھ ایک فقہی قسم کا اختلاف رکھ سکتے ہیں جوکہ کوئی ایسی پریشان کن بات نہیں۔ اصل باعثِ تشویش مسئلہ ’’ڈیموکریسی‘‘ اور اس کے مشتقات کو خود اپنے فکری پیراڈائم کے اندر جگہ دینا اور اپنے نظریات کی دنیا میں اس کو قبول کرنا ہے، جس پر پیچھے ہم گفتگو کر آئے ہیں۔

********

اقتباس 3

جیسا کہ ہم اپنے مضمون ’’درمیانی مرحلہ کے بعض احکام‘‘ میں عرض کرچکے، مغربی اشیاء کے ساتھ (مصالح اور مفاسد کے موازنہ کی بنیاد پر) معاملہ deal کرنا تو مسئلہ نہیں (تاآنکہ خدا عالم اسلام میں ہمیں ایک پائیدار صورتحال نصیب فرمائے اور ہم اِن جاہلی اشیاء کے ساتھ معاملہ deal کرنے تک سے مستغنی ہو جائیں)، البتہ اِن اشیاء کو ’اسلامی‘ جوڑ لگانے بیٹھ جانا، ان اشیاء کو خود اپنے نظریات کے احاطے ہی میں جگہ دے ڈالنا اور ان کو اسلام سے ’ہم آہنگ‘ کرنا درحقیقت ایک بڑی آفت ہے اور جوکہ یہاں ایک ٹھیٹ اسلامی تبدیلی کے ریشنال ہی کو فوت کردیتی اور خود اپنا ہی راستہ اپنے اوپر بند کرلیتی ہے، علاوہ اس اہم تر بات کے کہ یہ چیز خدا کو ہی ناراض کردینے کا موجب ہے۔

پس ان جاہلی اشیاء کے ساتھ معاملہ کرنا تو قابلِ فہم ہے مگر ان جاہلی اشیاء کو اسلام کے ٹانکے لگانا خود اپنے ہی کیس کو ختم کرلینے کے مترادف ہے۔ اِس حقیقت کو تسلیم کرلینے میں اب مزید عشرے نہیں لگانے چاہئیں۔ جاہلی اشیاء (مانند ڈیموکریسی، کونسٹی ٹیوشن، پارلیمنٹ، لیجس لیشن، نیشن سٹیٹ، بیسک رائٹس... روٹی، ترقی اور آسائشاتِ دنیا کے نعرے، جوکہ یہاں فی نفسہٖ مطلوب بلکہ معبود ہوتے ہیں، وغیرہ) کو اسلام کے ٹانکے لگا کر ہمارا اسلامی کیس فوت ہوسکتا ہے

*******

اقتباس 4

آدمی خود ایک محکم و راسخ عقائدی بنیاد پر کھڑا ہو، تو ملکی سیاست یا انتظامی مشینری میں ’’دستیاب گنجائش‘‘ کے مطابق ہی اپنے آپ کو فی الحال نمایاں کرنا اور اپنا پورا ایجنڈا سامنے لانے سے ایک عرصہ تک گریز کرنا اور پھر جیسے جیسے گنجائش ملتی چلی جائے ویسے ویسے کھلتے چلے جانا، البتہ جتنی گنجائش ملے اُس کو بھرپور طور پر (اور آخری حد تک بےلحاظ ہو کر، بلکہ بوقتِ ضرورت اپنی زندگی اور سلامتی کی قیمت پر) اسلامی ایجنڈا کے حق میں استعمال کر جانا اور باقی کےلیے مسلسل کوشاں اور مواقع کا متلاشی رہنا... غرض عمل اور نفاذ میں ’’تدریج‘‘ کا راستہ اختیار کرنا اور سارا کچھ ایک ہی دن میں کر گزرنے کے اسلوب سے کنارہ کش رہنا ایک صائب طریقِ کار ہے۔ اس کو اختیار کرنے میں ہرگز کوئی مضائقہ نہیں۔ جہاں مضائقہ ہے اُس کی ہم نے نشاندہی کردی اور وہ آدمی کا اپنا ’’تصورِ دین‘‘ اور ’’حقیقتوں کے تعین کے معاملہ میں اُس کی اختیار کردہ اپروچ‘‘ ہے جس میں جاہلیت سے یکسر مختلف طریق اختیار کرنا، مشرک اور دوزخی ملتوں سے الگ تھلگ ایک طریق اختیار کرنا، اور راستوں کے اِس فرق کے مسئلے میں کوئی جھول نہ آنے دینا ’’مسلم‘‘ ہونے کا بنیادی ترین تقاضا ہے۔ اِسی کو ہم عقیدہ بھی کہتے ہیں۔ اِس میں کوئی ’’تدریج‘‘ نہیں۔ یہاں ’’استطاعت و عدم استطاعت‘‘ کی کوئی بحث نہیں۔ اِس میں کوئی ڈھیل اور کوئی نرمی نہیں۔ ہاں ’’اعمال‘‘ کے اندر ’’تدریج‘‘ بھی ہے۔ ’’عدمِ استطاعت‘‘ کا اعتبار بھی۔ اور نرمی و رخصت وغیرہ ایسی اشیاء کی گنجائش بھی۔ نیز بھول چوک اور سستی کوتاہی پر چھوٹ اور معافی کا امکان بھی ’’اعمال‘‘ میں زیادہ ہے بہ نسبت ’’اعتقاد‘‘ کے۔ پروردگار کے سامنے اعلیٰ ترین حالت میں پیش ہونا ’’اعتقاد‘‘ کے معاملہ میں کہیں اہم تر اور نازک تر ہے بہ نسبت ’’اعمال‘‘ کے۔

۔

پس نوشت: اوپر کے مضمون پر وارد بعض اعتراضات کے پس منظر میں لکھی جانے والی ایک تحریر: دین و دنیا.. اور ’نظام‘ کی بحث

Print Article
  نظام میں شرکت
  جمہوریت
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
لفظ "شریعت" اور "فقہ" انٹر چینج ایبل ہو سکتے ہیں
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
اناڑی ہاتھ درایت
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
’مسلک‘ اور ’تنظیم‘ کا خوب و بد.. والله يعلم المفسدَ من المصلح
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
"اقوالِ سلف" کا ایک متناقض اطلاق: نظام ڈیموکریسی اور احکام خلافت کے!
تنقیحات-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر: فلک شیر کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
حامد كمال الدين
ادارہ
تاريخ
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز