عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Saturday, June 6,2020 | 1441, شَوّال 13
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
AmericanAmpaire آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
صحیح تر حکمت عملی ناگزیرہے
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

صحیح تر حکمت عملی ناگزیرہے

 

 

ہماری یہ چودہ سو سالہ کشمکش، جس پر نہ جانے ابھی اور کتنے دور گزرنے باقی ہیں، اور جوکہ اپنے حالیہ مرحلہ کے انتہائی فیصلہ کن موڑ پر بہرحال پہنچ چکی ہے، ہو سکتا ہے اب کسی بھی وقت ایک بے حد حیران کن صورت دھار لے۔ آئندہ سالوں میں یہاں کچھ ایسے حالات کا ہمیں آناً فاناً سامنا ہوسکتا ہے جن کے لئے ہم ذہنی طور پر تیار تک نہ ہو پائے ہوں۔

یہاں ہر دو فریق کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اور عقل و خرد کے سب قویٰ استعمال کرتے ہوئے، صورتحال کو اپنے حق میں پلٹنا ہے۔ پس آنے والے دنوں میں ہم کچھ حیران کن تبدیلیوں سے دوچار ہوسکتے ہیں ، اچھے معنوں میں بھی اور برے معنوں میں بھی۔

مختصراً، مغرب کی آہنی گرفت سے نکلنے کیلئے زور مارتا عالم اسلام یا تو اب کسی وقت اپنا آپ چھڑا لینے میں کامیاب ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں دنیا کے حالیہ توازن (در حقیقت عدم توازن) میں ایک بھونچال سا آتا محسوس ہوگااور دنیا کا وہ دھارا جو کوئی تین سو سال سے ایک خاص رخ پر بہتا آیا ہے، ایک بار تھم کر سمت کی تبدیلی کے عمل سے گزرنے پر مجبور ہوگا.. اور یا پھر ایک نئی اڑان کیلئے پر تولتے عالم اسلام کے پر کاٹ دینے میں مغرب کچھ دیر کیلئے پھر ایک بار کامیاب ہوجائے گا، اور معاملہ جس قدر بڑھ چکا ہے اس کے پیش نظر یہ بھی کسی بھونچال سے کم نہ ہوگا۔

گویا ہر دو صورت ایک بھونچال ناگزیرہے!

البتہ اول الذکر بھونچال کا امکان اس وقت قوی تر ہے۔ گو اس کے جھٹکے ثانی الذکر سے شدید تر ہوں گے!

مستقبل کے معاملے میں خوش امیدی خوب ہے اور ہم بھی اس ناآشنا نہیں لیکن دشمن کی الجھن اور جھنجھناہٹ کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں مسلم خطوں کے اندر بہت کچھ زیر وزبر ہوتا دیکھا جائے۔

ملتِ روم کے پاس شارٹ ٹرم آپشنزoptions short term بہت ہیں مگر لانگ ٹرم آپشنز options long term نہ ہونے کے برابر۔ اس کے برعکس، ملتِ اسلام کے پاس شارٹ ٹرم آپشنز options short term بہت محدود ہیں جبکہ لانگ ٹرم آپشنز options long term بے حد زیادہ۔ جب ایسا ہے تو ایک فریق کو ابھی، یعنی آئندہ کے چند سالوں اور چند عشروں کے دوران ہی، بہت کچھ کر گزرنا ہے البتہ دوسرے فریق کو زیادہ سے زیادہ وقت لینا، اپنے دشمن کو بھاری مگر مسلسل زک پہنچانا اور اپنے طویل میعادی اہداف long term goals پر نگاہ مرکوز رکھنا ہے۔ (1)

اسلامی قوتوں کی بہترین پالیسی اس وقت یہ ہوسکتی ہے کہ ملتِ روم اب آنے والے دنوں میں، بڑی تیزی کے ساتھ اور ایک بڑی ہی ہنگامی کیفیت پیدا کرکے، جو ایک کے بعد ایک چال چلے گی، یہ پامردی اور زیرک پن سے کام لیتے ہوئے ایسی ہر چال کو ناکام اور ہر وار کو خالی جانے دیں البتہ امتِ اسلام کے غصب شدہ خطوں میں براجمان دشمن کے زخموں کو، اور سے اور رِستا رہنے کیلئے، زیادہ سے زیادہ پھپھولیں اور دشمن ہزار جتن کرلے یہ اس کو وہاں سے ہرگز نہ چھوڑیں جہاں وہ تکلیف سے بے حال ہوکر اپنا آپ چھڑانے کیلئے اِن کو کچھ ’متبادل‘ اہداف کی راہ دکھائے، خواہ وہ ’متبادل اہداف‘ بظاہر کتنے ہی ضروری اور ’منطقی‘ کیوں نہ نظر آئیں اور خواہ ایسا کیوں نہ نظر آئے کہ یہ ’اُن‘ کے دیئے ہوئے اہداف نہیں بلکہ کسی ’اور‘ کی خباثت کے زیر اثر سامنے آگئے ہیں۔یہ یقین رکھیں کہ ایک بار دشمن نے اپنا آپ وہاں سے چھڑا لیا جہاں وہ درد سے بلبلا رہا ہے، اور جس کی کہ پوری دنیا گواہ ہے، تو پھر ان جہادی قوتوں کو اپنا کام بہت پیچھے سے اور شاید ازسر نو کرنا پڑے گا۔ وَلاَ تَكُونُواْ كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِن بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَاثًا۔ (2)

شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم آپشنزshort term and long term options کے حوالے سے ہمارا اور ان کا یہ موازنہ اگر درست ہے تو ہر دو فریق کی کامیابی کو جانچنے کا معیار بھی پھر جدا جدا ہوگا: ہم اگر ان کے وقتی حربوں کو ناکام جانے دیتے ہیں تو یہ ہماری جیت ہے اور وہ اگر ہمیں اپنے دور رس پروگراموں سے پھیر دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ان کی جیت ہے۔ ہم اگر ان کے دئیے ہوئے ہنگامی اور جذبات انگیز اہداف میں الجھ جاتے ہیں، خصوصاً یہ کہ اس وقت اپنے کام اور اپنے محاذ بڑھا لیتے ہیں، تو یہ ہماری ناکامی ہوگی اور وہ اگر ہمیں ہمارے دور رس اہداف سے نہ پھیر سکیں اور ہم سے اپنا طویل راستہ نہ چھڑا سکیں، خصوصا اگر وہ ہماری ترکیزِ عمل کو متاثر نہ کرسکیں، تو یہ ہماری جیت ہے۔ ہر دو فریق کا جب اپنا اپنا ایک میدان ہے تو پھر ہردو کی پیش قدمی اور پسپائی کی جانچ اس کے اپنے ہی میدان کے حساب سے ہوگی۔ جو بات ایک کیلئے درست ہے ممکن ہے وہ دوسرے کیلئے غلط کا درجہ رکھے۔

 

٭٭٭٭٭٭٭

 

ایک بات بہرحال طے ہے کہ مغربی طاقتیں، اپنے وجود کے ان حصوں کو چھڑانے کیلئے جو عراق اور افغانستان میں مجاہدین کے قابو میں آچکے ہیں اور وہاں پر مجاہدین کی مسلسل پڑنے والی چوٹ کے باعث یہ بری طرح کراہ رہی ہیں.. مغربی طاقتیں اپنے وجود کے ان حصوں کو چھڑانے کیلئے جو بھی چال چلیں گی، اور اس وقت جہادی عمل کو ’متبادل راہ‘ دکھانے کی جو بھی صورتیں پیدا کریں گی.. وہ بھی بالآخر ان کے لئے وبالِ جان بنیں گی اور عالمِ اسلام کے اندر ان کے اقتدار کا موت پانا اگر ٹھہر گیا ہے، اور جوکہ نظر آرہا ہے، تو پھر اس موت کو ٹال دینا اب ان کے بس میں نہیں۔زیادہ سے زیادہ جو یہ کرسکیں گی وہ یہ کہ عالم اسلام کو اپنے اہداف کا حصول کچھ زیادہ مہنگا پڑ جائے۔ یعنی یہ ہمیں اپنا ہدف اتنی آسانی سے نہ لینے دیں جتنی آسانی سے ملتا اس وقت نظر آرہا ہے۔ مغرب کے بس میں زیادہ سے زیادہ اب کچھ ہے تو وہ بس اتنا ہے۔

یعنی ایک بات طے ہے اور وہ ہے اس صورتِ حال کا ایک پکے ہوئے پھل کی طرح دکھائی دینا کہ عالم اسلام سے مغرب اب بے دخل ہوجائے اور اس بیرونی ’نگرانی‘ کے ختم ہوجانے کے باعث عالم اسلام کا صالح عنصر اوپر آنے کا آزادانہ موقعہ پائے۔ عالم اسلام اپنا یہ ہدف حاصل کرنے پر ہی بضد ہے، اور جوکہ نظر آرہا ہے، تو مغرب یہ چاہے گا کہ ہم زیادہ سے زیادہ قیمت دے کر اور اپنا زیادہ سے زیادہ نقصان کراکے اس ہدف کو حاصل کریں بلکہ یہ قیمت اتنی بڑھ جائے کہ وہ ہماری پہنچ سے باہر ہو جائے۔

البتہ اسلامی قوتوں کو جو کمال دکھانا ہے وہ یہ کہ امت کے لئے اس ہدف کا حصول کم سے کم لاگت اور کم سے کم سے کم نقصان کے ساتھ یقینی بنائیں۔ پس مسئلہ اس وقت صرف ’نقصان‘ اور ’لاگت‘ کا ہے۔ طرفین کا اصل زور سمجھئے اسی پر لگنا ہے اور ایک ’چیز‘ کے ملنے یا نہ ملنے کا انحصار بس اسی بات پر رہ گیا ہے۔

چنانچہ امریکہ مجاہدین کو پاکستان، سعودی عرب اور عالم اسلام کے کچھ دیگر ممالک کے داخلی محاذوں پر الجھا دینے میں اگر کامیاب ہوجاتا ہے، تو اس سے وہ دہرا تہرا فائدہ لینے کی کوشش کرے گا:

ایک یہ کہ جہادی عمل کے خاتمہ کی ’ذمہ داری‘ یہاں کی حکومتیں تب زیادہ اخلاص اور تن دہی کے ساتھ ادا کریں۔ کیونکہ اس صورت میں مقامی حکومتیں امریکہ کے بچاؤ یا اپنے کچھ ’مفادات‘ کیلئے نہیں بلکہ ’اپنی‘ زندگی اور بقا کی جنگ لڑیں گی جوکہ کوئی بھی انسان کہیں زیادہ مخلص ہو کر اور رفتہ وار لڑتا ہے، جبکہ امریکہ کو اس وقت ’جہادیوں‘ کے خلاف ان سے اسی درجہ کا اخلاص درکار ہے۔

دوسرا یہ کہ یہاں کی اقوام جوکہ مجاہدین کے افغانستان و عراق میں جہاد پر پوری طرح یک آواز ہیں اور اسی باعث امریکہ کو نکالنے کا یک نکاتی ایجنڈا یہاں کی اقوام میں شدید حد تک پزیرائی پاچکاہے، اور جوکہ مجاہدین کے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ایک نعمتِ غیر مترقبہ کا درجہ رکھتاہے.. مجاہدین کیلئے ان اقوام کی یہ غیر معمولی حمایت، جو صدیوں بعد انہیں اس سطح پر حاصل ہونے لگی ہے، اپنا وہ زور کھو دے جوکہ اسے ابھی حاصل ہے۔ بلکہ ہوسکے تو ان ملکوں میں ایک اندرونی جنگ چھیڑ کر اس کو ایک ایسے داخلی بحران کی صورت دھار لینے کی جانب بڑھایا جائے کہ امریکہ کو ’نکالنے‘ کی بجائے لوگوں کا ایک بڑا طبقہ اپنے اس داخلی بحران سے ’نکلنے‘ کیلئے امریکہ سے ’مدد لینے‘ کی ضرورت محسوس کرے۔

تیسرا یہ کہ امریکہ کے سر پر پڑنے والی چوٹ اپنا وہ زور کھو دے جو افغانستان و عراق کے اندر اس کا بیٹھنا اس وقت دوبھر کئے ہوئے ہے اور اپنے اس ’درد سر‘ کے باعث وہ خطے میں کوئی کھیل شروع کرنے سے عاجز پڑ رہا ہے۔

اور چوتھا یہ کہ یہاں جہاد کے حامی ومددگار طبقوں پر ایک ایسا آہنی ہاتھ ڈلوا دیا جائے جوکہ بوجوہ ابھی تک نہیں ڈالا جاسکا۔ علاوہ ازیں، ’جہادیوں‘ کے سوتے بند کرنے کی آڑ میں امت کے ان تمام بنیادی و طویل میعادی منصوبوں gross route & long term projects کا صفایا کرکے رکھ دیا جائے جوکہ دعوتی، تربیتی اور فکری ضرورتوں کے حوالے سے، خصوصا آئندہ کے کچھ اہم ترین مرحلوں کیلئے، امت کے انفراسٹرکچر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

البتہ ہمارا کہنا صرف اتنا ہے کہ اسلامی قوتوں کی اپنی جانب سے ایسا کوئی موقعہ بہرحال نہ دیا جائے اور امریکہ کو جو وہ چاہتا ہے سادہ لوحی میں آکر ’سونے کی پلیٹ‘ میں رکھ کر پیش ہرگز نہ کردیا جائے..

عراق وافغانستان وغیرہ میں اس وقت تک کامیاب جانے والے جہادی عمل کو عالم اسلام کے داخلی محاذوں پر الجھانے کی امریکہ جو بھی کوشش کرتا ہے.. لازم ہے کہ اسلامی قوتوں کی جانب سے امریکہ کو اس پہلو پر شدید مایوسی ملے اور ہمارے نوجوان اپنی سمجھدار، دور اندیش قیادتوں سے راہنمائی لینے اور خود اپنے طور پر کوئی اقدام نہ کرنے کا شدید حد تک التزام کریں، جبکہ خود یہ قیادتیں ہر ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھائیں اور کوئی فیصلہ خوب ٹھونک بجا لینے اور آخری حد تک غور و فکر اور صلاح مشورہ کرلینے کے بغیر نہ کریں۔ بلکہ ہو سکے تو عالمی سطح کے بعض تحریکی دماغوں اور امت کی سطح کی اہل حل و عقد شخصیات سے راہنمائی لئے بغیر نہ کریں۔

علاوہ ازیں، میڈیا وار میں ’بعد از وقوعہ سرگرمی‘ re-active role چھوڑ کر پیشگی سرگرمی pro-active role کی روش اختیار کریں اور پل پل پر معاملے کی اصل تصویر یہاں کی اقوام پر واضح کریں کیونکہ اس کی ضرورت آنے والے دنوں میں بے حد بڑھ جانے والی ہے اور گمراہ کن خبر رسانی disinformation ایک بہت بڑے ہتھیار کے طور پر برتی جانے والی ہے، بلکہ برتی جارہی ہے، صرف ہم ہیں جو ’تصویر‘ نہیں بناتے بلکہ ان کی بنائی ہوئی تصویر کی ’وضاحتیں‘ اور ’تراش خراش‘ کرلینے کو ہی میڈیا میں اپنے کردار کی آخری حد سمجھتے ہیں۔

اسلامی قوتوں کی جانب سے اگر اس امر کی پابندی ہونے لگتی ہے تو پھر پرو ا نہیں، امریکی اپنے سب شوق یہاں پورے کرلیں۔ قربانیاں ہم بھی دیں گے اور خون ان کا بھی بہے گا۔ پچھلے تین عشروں سے ہم مسلسل دیکھتے آرہے ہیں کہ امریکہ کی ہر نئی تدبیر میں اللہ تعالیٰ اس کی بربادی کا سامان پیدا کردیتا ہے اور اس کی ہر نئی چال بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس کے اپنے ہی خلاف پڑ جاتی ہے۔ ایک دیکھنے والا شخص محسوس کئے بنا نہیں رہتا کہ ٹینک، طیارے، میزائل اور بحری بیڑے رکھنے والی اس قوت کی جنگ عالم اسلام کے کچھ مٹھی بھر جوانوں کے ساتھ نہیں بلکہ اس قوت کے ساتھ ہے جو زمین و آسمان کی مالک، ہر چیز پر قادر ہے اور جوکہ اس طاغوت کے ہر مکر کو اس کے اپنے ہی اوپر الٹا دیتی ہے۔ اب بھی امریکہ جو کرے گا اس کے مد مقابل ہمارا وکیل و کارساز اللہ ہے، جو ہم پر نہایت مہربان ہے اور ہماری استطاعت و تدبیر سے بڑھ کر ہمیں کسی چیز کامکلف نہیں کرتا، بلکہ وہ بوجھ جس کے اٹھانے سے ہم عاجز ہوتے ہیں اور وہ تدبیر جو ہمارے بس سے باہر ہوتی ہے اس کے معاملے میں وہ خود کوئی راہ نکال دیتا ہے اور بسا اوقات تو ہمارا وہ بوجھ جو ہمیں عاجز کردینے والا ہو ہمارے دشمن کی پیٹھ پر لاد دیتا ہے اور ہمارے لئے تدبیر ان کی غلطیوں کے اندر سے ہی برآمد کرادیتا ہے ۔

چنانچہ یہ سب کچھ جو یہاں کہا جارہا ہے، تدبیر و منصوبہ بندی کے باب سے ہے، جس کو درست کرنے کے اپنی حد تک ہم بہر حال مکلف ہیں۔ رہ گئی یہ حقیقت کہ اس وقت امریکہ کا ہر آپشن ایک برا آپشن ہے اور اس کا ہر راستہ ایک بند گلی پر پہنچنے والا ہے، تو یہ بات اپنی جگہ ایک سچ ہے، گو یہ اس بات سے متعارض نہیں کہ ہم ایک درست تر حکمتِ عملی اپنائیں اور ممکنہ حد تک ایک ’کم خرچ‘ اور ’دورمار‘ اقدام کی راہ اختیار کریں۔

 

٭٭٭٭٭ ٭٭

 

بہترین کی امید رکھیں مگر بدترین کیلئے تیار رہیں، کسی دانا کا یہ قول اگر درست ہے تو ہمیں مستقبل قریب کی بابت اچھی امیدوں کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی صورت حال کیلئے تیار رہنا پڑے گا.. یہ ہرگز کوئی مبالغہ نہیں، آنے والے دنوں میں ناگہانی طور پر بہت کچھ پیش آسکتا ہے اس لئے ہر قسم کی صورتحال میں مطلوب حکمت عملی بھی ہم پر واضح ہونی چاہیے اور اس سے متعلقہ شرعی ضوابط بھی۔

 


(1) ”اہداف“کے موضوع پر ’ایقاظ‘ میں ہمارے سلسلۂ مضامین بہ عنوان ”موحد معاشرہ نہ کہ تیسری دنیا“ کو دیکھ لینا مفید ہوسکتا ہے۔ مکمل ہونے پر یہ کتابی صورت میں بھی دستیاب ہوگا۔

(2) النحل: 92 ”اور مت ہو مانند اس عورت کی کہ توڑ ڈالا کاتے اپنے کو، پیچھے قوت کے، ریزہ ریزہ“ (ترجمہ شاہ رفیع الدین دہلوی)

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
Featured-
احوال- وقائع
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مدفن کی بےحرمتی کا افسوسناک واقعہ اغلباً صحیح ہے حامد کمال الد۔۔۔
جہاد- دعوت
عرفان شكور
كامياب داعيوں كا منہج از :ڈاكٹرمحمد بن ابراہيم الحمد جامعہ قصيم (سعودى عرب) ضرورى نہيں۔۔۔۔ ·   ضرور۔۔۔
باطل- فرقے
Featured-
حامد كمال الدين
"المورد".. ایک متوازی دین حامد کمال الدین اصحاب المورد کے ہاں "کتاب" سے اگر عین وہ مراد نہیں۔۔۔
جہاد-
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
’دوحہ‘ اہل اسلام کی ’جنیوا‘ سے بڑی جیت، ان شاء اللہ حامد کمال الدین ہمیں ’’زیادہ خوش نہ ہونے۔۔۔
Featured-
حامد كمال الدين
اسلامی تحریک کا ’’مابعد تنظیمات‘‘ عہد؟ Post-organizations Era of the Islamic Movement یہ عن۔۔۔
حامد كمال الدين
باطل فرقوں کےلیے گنجائش پیدا کرواتے، دانش کے کچھ مغالطے   کچھ علمی چیزیں مانند (’’لازم المذھب لیس بمذھب‘۔۔۔
باطل- فرقے
حامد كمال الدين
شیعہ سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی، شادی بیاہ   سوال: السلام علیکم سر۔ یونیورسٹی میں ا۔۔۔
بازيافت- سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
وقائع
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
فرقے
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
دعوت
عرفان شكور
حامد كمال الدين
مزاحمت
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز