عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 16,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 7
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2013-04 apniJamhuriat آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
’لفظی‘ مشابہت کا خمیازہ!
:عنوان

مال سرے سے اصلی نہیں تھا، یہ تو سب مانتے ہیں، مگر ہمارے بےدینوں کی رغبت اس دلربا ’مشابہت‘ سے تھی جبکہ دینداروں کا زور ’لفظی‘ پر تھا!

. باطل :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

فصل 8 کتابچہ: ’’اپنی جمہوریت یہ تو دنیا نہ آخرت‘‘

لفظی مشابہت کا ’بے ضرر‘ معاملہ ابھی اور بھی سننے سے تعلق رکھتا ہے۔

ہمارے بعض راہنما ہمیں بتاتے رہے کہ مغربی جمہوریت اور ہماری اسلامی جمہوریت میں زمین آسمان کا فرق ہے؛ ان میں اگر کچھ مشابہت ہے تو وہ محض لفظی قسم کی ہے۔ ان کی یہ بات تو بالکل درست ہے کہ’مغربی جمہوریت‘ اور ’ہماری جمہوریت‘ میں زمین آسمان کا فرق ہے؛ اور یہ تو ایک اندھا بھی دیکھ سکتا ہے۔ تاہم کفار سے اس ’بس ذرا سی مشابہت‘ نے ہمیں جو مار دی، وہ ایک طویل داستان ہے۔ پیچھے ہم اس پر کچھ بات کرچکے۔ لفظی مشابہت کے چند اور پہلو یہاں ذکر کئے جاتے ہیں:

مغرب کے ہاں ’’گندم نمائی و جو فروشی‘‘ کوئی ایسی نئی ریت نہیں، مگر جمہوریت کے نام پر ہم نے اُس کا جو دھڑادھڑ مال خریدا وہ ’لفظی مشابہت‘ کے چکر میں ہی خریدا۔ مال سرے سے اصلی نہیں تھا، یہ تو سب مانتے ہیں، مگر ہمارے بےدینوں کی رغبت اس دلربا ’مشابہت‘ سے تھی جبکہ دینداروں کا زور ’لفظی‘ پر تھا! آپ کے خیال میں وقت کے ایک رائج فیشن ’ڈیموکریسی‘ کا کوئی حوالہ دیے بغیر آپ کے گھر میں پورے چالیس چور گھس آئے ہوتے اور آپ سے ’ملتمس‘ ہوتے کہ حضرات اپنے  گھر میں پڑے سامان کی گٹھڑیاں باندھ باندھ کر ہمارے باہر کھڑے ٹرکوں پر لادنے کی اِس رضاکارانہ کارروائی میں ’بڑھ چڑھ کر‘ حصہ لیں اور ’ثوابِ دارین‘ حاصل کریں تو کیا آپ ان کی ’اپیل‘ پر اس جوش و خروش سے شریک ہوتے؟ اِس بلا کا کوئی اور نام رکھا ہوتا تو کون اس کا خریدار بنتا؟ اس کےلیے تو وقت کا ایک ’معتبر عالمی حوالہ‘ ہی درکار تھا اور وہ ’ڈیموکریسی‘ کے سوا کچھ نہ ہوسکتا تھا۔ چنانچہ ہم بھی کب کہتے ہیں کہ  یہ ’وہ‘ ڈیموکریسی تھی؛ ہم تو خود کہتے ہیں کہ یہ اَلفاظ اور اَشکال کا ہی بظاہر ایک بےضرر کھیل تھا۔اِس کی دھڑادھڑ فروخت اسی طرح ہوسکتی تھی۔ آپ جانتے ہیں نقل صرف ایک ’چلنے والی چیز‘ کی بنائی جاتی ہے۔ دو نمبر مال تیار کرنے والے بھی کچھ ایسے کندذہن نہیں ہوتے؛ ان کو خوب معلوم ہوتا ہے کہ ایک چیز کی مانگ کتنی ہے؛ ایک نہ چلنے والی چیز پر وہ کبھی انوسٹمنٹ نہیں کرتے!

چنانچہ جمہوریت کے معاملے میں یہاں جو ہاتھ کی صفائی دکھائی گئی ہم نے اُس سے ’لفظی مشابہت‘ کے شبہے میں ہی مار کھائی اور بہت بری مار کھائی۔ لوگوں نے ہمیں نالائق سمجھا کہ مغرب جس نظام سے یہ دلکش ثمرات حاصل کرتا ہے ہم اس بنے بنائے نظام سے وہ بھی لینے کے قابل نہیں۔ مگر دراصل معاملہ کیا تھا؟ ہمیں جو جمہوریت ملی وہ مغرب میں ہوتی تو وہاں بھی یہی گل کھلاتی۔ مغرب نے ہمیں وہ جمہوریت دی کب ہے جو اُس کے اپنے ہاں رائج ہے؟ اس کی تو آج تک اس نے ہمیں ہوا تک نہیں لگنے دی۔ اس اصل واردات سے تو ظاہر ہے کم ہی لوگ واقف تھے کہ ہمیں دکھایا کچھ گیا اور دیا  کچھ گیا۔ ہم نے ایک غلطی کی کہ وہ لیا حالانکہ ہمارے دین نے ہمیں سختی سے روکا تھا کہ کفار سے کچھ نہیں لینا۔ دوسری غلطی کی کہ بغیر یہ دیکھے کہ ہمیں یہ ملا کیا، اس سلطانیِ جمہور پر ریجھ گئے اور اپنے سب ’نقش کہن‘ اپنے ہی ہاتھوں مٹانے پر آمادہ ہوگئے۔ پھر تیسری غلطی یہ کی کہ اپنی سب فصل خود اپنے ہاتھوں تلف کرلینے کے بعد ادھار کے اس بیج سے اپنے ہاں بھی اس خوشحالی کا دور دورہ ہوجانے کی آس کرنے لگے جو یورپ کی سر زمین میں ہمارا دل لبھاتی رہی تھی۔ پھر جب نتیجہ اسکے برعکس رہا تو بھی ہماری نظر واردات کے اصل سبب پر نہیں گئی کہ ہمارے ساتھ جو ہوا وہ ہمارے اپنے ہی دین کو فراموش کر بیٹھنے سے ہوا ۔ تب بھی ہمیں اس بدیشی بیج کی صلاحیت پر تو کوئی شبہہ نہ ہوا۔ البتہ اپنی ہی اہلیت ہماری نظروں میں مشکوک ٹھہری اور ہم نے سمجھا کہ ہمیں ہی فصل کاشت کرنا نہیں آئی آخر مغرب جو کاشت کرتا ہے وہ بھی تو یہی  بیج ہے!

ہمیں مغرب سے ایک نمبر مال بھی نہیں لینا تھا مگر ہمیں دونمبرمال ملا اور ہم نے خوشی سے لیا۔ اس سامنے کی چیز پر تو ہماری نظر نہ جاسکی ۔ ہم نے سبب تلاش کیا بھی تو یہ کہ مغرب کی تو گرد کو پہنچنا بھی ہمارے بس میں نہیں ہم کہا ں اور مغرب کہاں۔ بھائی مغرب کے مقابلے کا خیال چھوڑدو ہم تو انکی نقل تک نہیں کرسکتے۔ مغرب کی بہترین مصنوعات کے استعمال کا بھی ہمیں سلیقہ نہیں ورنہ ایک ہی جمہوریت سے یورپ نے وہ ترقی کی اور ہم نے یہ تنزلی!

’ایک ہی جمہوریت‘ تھی کب!؟ محض یہ تو کفار سے لفظی مشابہت کا خمیازہ تھا ورنہ اس آفت کانام ہم آفت ہی رہنے دیتے اور قوم کا بچہ بچہ اسے آفت ہی کے نام سے جانتا تو کم از کم اتنی بڑی سزا تو ہم نہ جھیلتے!

اب بھی کچھ اور ممکن نہیں تو یہ نام کی درستی تو کی جاسکتی ہے۔ کیا بعید کہ اصل کام کی بازیافت  بھی اسی کے ساتھ شروع ہوجائے!

الفاظ کے درست استعمال پر اسلام بلاوجہ اتنا زور نہیں دیتا۔ درستیِ الفاظ کودرستیِ اعمال کے ساتھ دیکھئے قرآن کس طرح جوڑتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا  يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا(الاحزاب ٠٧۔١٧)

اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور سیدھی درست بات کیا کرو؛ اس سے اللہ تمہارے اعمال درست کردےگا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا۔ جو شخص یوں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔

تفسیر ابن کثیر سے آیئے اب سورۃ البقرۃ کی ایک آیت کی تفسیر بھی سمجھتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ                                               (البقرہ١٠٤)

اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو  رَاعِنَا نہ کہا کرو بلکہ انظُرْنَا کہو اور توجہ سے بات کو سنو یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں۔

آیت کی تفسیر میں دیکھئے امام ابن کثیرؒ کس طرح ایک سبق کا باربار اعادہ کراتے ہیں:

تفسیرِ آیت کے بالکل شروع میں امام صاحب فرماتے ہیں:

نھی ﷲتعالی عبادہ المومنین ان یتشبھوا بالکافرین فی مقالھم وفعالھم

اللہ تعالی نے یہاں اپنے مومن بندوں کو منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کے الفاظ یا اقوال میں ان سے مشابہت رکھیں۔

ذرا آگے چل کر ابن کثیرؒ پھر لکھتے ہیں:

والغرضُ أن ﷲ تعالی نھی المومنین عن مشابھة الکافرین قولاً و فعلاً فقال: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ

مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو کافروں کے ساتھ قولاً یا فعلاً مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا، چنانچہ فرمایا:”اے ايمان والو  رَاعِنَا  کالفظ نہ بولو بلکہ انظُرْنَا کہا کرو اور بات کو غور سے سنو ان کافروں کیلئے توایک دردناک عذاب ہے۔

اس کے بعد ابن کثیرؒ اپنی اسی تفسیر میں مسند احمدسے بروایت عبداللہ بن عمرؓ رسول اللہﷺ کی ایک حدیث لاتے ہیں جوان الفاظ پرختم ہوتی ہے:

وَمَنۡ تَشَبَّہَ بِقَوۡمٍ فَھُوَ مِنۡھُمۡ

 اور جو کسی قوم سے مشابہت کرے وہ ا نہی میں سے ہوگا

اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:

ففیهِ دلالةٌ علی النھی الشدید، والتھدید ،والوعید ،علی التشبه بالکفار فی أقوالھم وأفعا لھم و لباسھم و أعیادھم و عباداتھم وغیر ذلک من أمورھم التی لم تُشرع لنا ولا نُقَرُّ علیھا۔

 یہ حدیث بھی اس بات پرواضح دلیل ہے کہ شریعت میں اس گناہ کی شدید ممانعت بھی ہے ، اس پر تنبیہ بھی ہے اور اس پر عذاب کی وعید بھی  ہے، کہ کفار سے ان کے اقوال، ان کے افعال، ان کے پہناوے ، ان کے عید میلے اوران کی عبادات یا کسی بھی ایسی چیز میں مشابہت رکھی جائے جو نہ ہماری شریعت میں اتری ہے اور نہ ہماری شریعت میں اسے برقرار رکھا گیا ہے۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز