عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, November 16,2018 | 1440, رَبيع الأوّل 7
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2013-04 apniJamhuriat آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
جمہوریت محض ایک انتظامی طریقِ کار نہیں!
:عنوان

بیسویں صدی میں جب استعمار ہمیں پوری ایک صدی تک اپنے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں پڑھا چکا تھا، اور اپنے پیچھے اس تعلیمی ، تربیتی اور ثقافتی نظام کو چلتی حالت میں چھوڑ کرجانے کی پوری پوری تسلی کرچکا تھا...

. باطل :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

فصل 4 کتابچہ: ’’اپنی جمہوریت یہ تو دنیا نہ آخرت‘‘

جمہوریت کے ان بنیادی عناصر پر غور فرمائیے، جوکہ اسلام کے عقیدہ و شریعت کے ساتھ قدم قدم پر متصادم ہیں ؛ آپ پر خودبخود واضح ہوجاتا ہے کہ جمہوریت نرا پرا ایک ’انتظامی ‘ طریق کار نہیں بلکہ یہ ایک باقاعدہ فلسفہ اور نظام ہے۔ اس کی جڑوں میں باقاعدہ ایک عمرانی عقیدہ کار فرما ہے جو کائنات، وجود، زندگی اور مابعد الطبیعیات ایسے ہر ہر مسئلے پر اپنا الگ نکتۂ نظر پیش کرتا ہے۔ ہمیں اگر یہ ’دین ‘ نظر نہیں آتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ تاریخی عوامل نے ہمارے یہاں ’دین‘ اور ’عبادت‘ کا مفہوم سکیڑدیا ہے۔ مغرب کے یہاں اس بات کی پوری گنجائش ہے کہ بعض پہلوؤں سے وہ ’نصرانیت‘ کو اپنا دین رکھے تو بعض پہلوؤں سے ’ڈیموکریسی‘ کو اور بعض پہلوؤں سے ’کیپٹل ازم‘ کو۔ ہندوؤں کو اِسے قبول کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ اجتماعی وسماجی زندگی میں ان کے ہاں ’دین ‘ کا خانہ پہلے سے خالی چلاآتا ہے۔ بلکہ دنیا کی سبھی اقوام ہی دینِ جمہوریت کو اپنائیں (جوکہ وہ اپناچکی ہیں) تو ان کاایسا کرنا بنتا ہے۔ ایک طرف ان کے ہاں اس کی پوری گنجائش، دوسری طرف زمانے کا یہی فیشن۔ بقول شاعر ’رسمِ دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے‘!

یہ سب اقوام پہلے دن سے کوئی جامع دین نہیں رکھتی تھیں۔ ان کے ہاں اس کی پوری گنجائش تھی  کہ ’پوجاپاٹ‘ کے باب میں ان کا دین کچھ ہو، تو ’معاشیات‘ کے باب میں کچھ، اور ’سیاسیات‘ کے باب میں کچھ۔  انسان کو دراصل زندگی کے ہر پہلومیں ’ہدایت‘ کی ضرورت ہے۔ زندگی کے ہر پہلو میں وہ جس ہدایت پر چلتا ہے وہ اس کا ’’دین‘‘ ہے۔ اس لحاظ سے؛ ہمارے سوا آج دنیا کی کسی بھی قوم کےلئے بیک وقت ایک سے زیادہ ’’دین‘‘ رکھنا انہونی بات نہیں بلکہ یہ ان کی مجبوری ہے؛ یہ نہ کریں تو کیا کریں۔ ایک ہی دین جب اتنا مکمل نہ ہو کہ وہ انسانی زندگی کے ہر انفرادی و اجتماعی پہلو کو محیط ہو تو متعدد اَدیان کو بیک وقت اپنانے کے سوا کیاچارہ ہے؟ یہ چیز ان کے ہاں ’’تضاد‘‘ میں نہیں آئے گی۔ اِس ’’تضاد‘‘ کا سوال دنیا کی  صرف ایک قوم کے ہاں اٹھے گا اور یہ وہ قوم ہے جس کی کتاب میں جلی حروف کے اندر لکھ رکھا ہے:

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

ہونا یہ چاہئے تھا کہ اِن جدید مذاہب کے ساتھ بھی آج ہمارا تعامل عین اِسی ’’الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا‘‘ کی بنیاد پر ہوتا۔ یہ سب نظام جدید دور کے مذاہب ہیں نہ کہ محض انتظامی طریقِ کار۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ پچھلی تین چار صدیوں میں مغرب کے ہاں بہت سے سماجی مذاہب کی پرورش ہوئی ہے۔ یہ چونکہ کلیسا کے بھگوڑے ہیں لہذا اسے مذہبی رنگ دینے سے بچنے کےلئے یہ ’عقیدہ‘ کی جگہ’نظریہ‘ اور ’دین ‘ کی جگہ ’نظام‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔کپٹل ازم ، سوشل ازم ، آزادی فکر، آزادی نسواں، مساوات مردو زن، قومی ریاست (Nation State)، عالمی اخوت (عالمی برادری)، اباحیت، جمہوریت، وطنیت (Patriotism)، انسانی پرستی (Humanism)، سیکولرزم وغیرہ وغیرہ سب جدید دور کے مذاہب ہیں جو ’دھرم‘ کو چرچ میں بند کردینے کے بعد یورپی معاشروں نے پہلے اپنے لئے ایجاد کئے اور پھر پوری دنیا پر اس شریعت کی پیروی لازم کردی۔

ہر باطل مذہب کی طرح ان جدید مذاہب میں بھی بہت سے اچھے اچھے اور اسلام سے مشترک پہلو پائے جاتے ہیں مگر قدیم مذاہب کی طرح ان جدید مذاہب پر بھی ہمیں وقت برباد کرنے کی ضرورت نہ تھی کہ ان میں سے کیا چیزہمیں لینی ہے اور کیا چیز چھوڑنی ہے۔ ہمارے دین کی تعلیم اس بارے میں بہت سادہ اور واضح ہے: ہمیں ان سے کچھ بھی نہیں لینا ، سبھی کچھ چھوڑنا ہے۔ ان میں اگر کوئی خیرہے (اور ظاہر ہے کچھ نہ کچھ خیر ہر باطل میں ہونی ہی چاہیے) تو وہ خیر ہمارے دین میں آپ سے آپ اورپہلے سے موجود ہے ۔ اس کے لئے ہمیں باہر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ وہ خیر ہمیں اپنے ہی دین پر چلتے ہوئے وافرطور پر خود بخود مل جائے گی؛ اس کےلئے  ہمیں مغرب کے کسی نظام یا اصطلاح کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں؟ہم ایک خود کفیل ملت ہیں دوسرے ہمارا حوالہ دیں تو دیں؛ ہم ایک آسمانی امت ہوتے ہوئے اور آسمانی شریعت پاس رکھتے ہوئے زمینی مذاہب کے حوالے کیوں دیں؟ اللہ تعالی ہمیں الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا[1] ایسا اعزاز دے مگر ہم اپنی فکری پہچان کی تلاش میں یورپ کی خاک چھانتے پھریں! اللہ تعالی ہمیں ہمارے دین کا تعارف فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ    مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ    بِأَيْدِي سَفَرَةٍ   كِرَامٍ بَرَرَةٍ  [2] کہہ کر کرائے اور ہم اپنی شناخت تک کےلئے مغرب کے دست نگر ہوں۔ کیا عزت و برتری ایسی نعمت غیروں کا طفیلی (Parasite) بن کر مل سکتی ہے؟ بلاشبہ، دوسروں کے سامان میں اپنی چیزڈھونڈتے پھر نا لاچاری اور مفلسی کی دلیل ہے۔ یہ مفلسی ہمارے دین میں نہیں، ہماری اپنی اختیارکردہ ہے۔

حضرات! کچھ دیر کےلیے ہم ’اسلامی جمہوریت‘ کی تفصیلا ت میں نہیں جاتے... صرف اتنا پوچھ لیتے ہیں کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں خاتم المرسلینﷺ کی امت کو یورپ کی تراشیدہ ایک اصطلاح کی ضرورت کیونکر پڑی؟ جی ہاں،بیسویں صدی میں جب استعمار ہمیں پوری ایک صدی تک اپنے تعلیمی اور تربیتی اداروں میں پڑھا چکا تھا، ہمارے ہزار وں ذہین دماغوں کو لمبے لمبے کورسوں پر محیط ولایت یاترا کراچکا تھا اور اپنے پیچھے اس تعلیمی ، تربیتی اور ثقافتی نظام کو چلتی حالت میں چھوڑ کرجانے کی پوری پوری تسلی کرچکا تھا... جمہوریت میں اسلام اور اسلام میں جمہوریت اتنی عیاں ہو کر عین اسی مرحلہ پر آخر ہمیں کیوں نظر آئی؟ اسلام کےلئے ایک ’عالمی طور پر معتبر‘ حوالے کی ضرورت ہمیں آج آکر ہی کیوں محسوس ہونے لگی؟ اسلام کےلئے خود اسلام ہی اب کیوں حوالہ نہیں؟

اس سوال پر للہ غور فرمائیے ۔ یہ ہماری گزارش ہے۔



[1]     (المائدۃ: ٣)  آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا، اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند ٹھہرالیا ہے

       اِس آیت کے ضمن میں بخاری میں آتا ہے:

حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ایک یہودی حضرت عمرؓ سے کہنے لگا: اے امیر المومنین تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جس کی تم تلاوت کرتے ہو اگر کہیں وہ ہم یہودیوں پر اتری ہوتی تو ہم اس دن کو ہمیشہ کےلئے جشن قرار دے لیتے ۔حضرت عمر نے پوچھا: کونسی آیت؟ یہودی کہنے لگا الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ یعنی” آج میں نے تمہارے لئے تمہار ا دین مکمل کردیا ، تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین پسند ٹھہرالیاہے“۔ عمر فرمانے لگے ہمیں وہ(جشن کا) دن بھی یاد ہے اور جگہ بھی جب وہ نبیﷺ پر اتری ۔ وہ جمعے کا دن تھا اور آپؐ میدا نِ عرفات میں کھڑے تھے۔ (بخاری، کتاب الایمان، حدیث رقم 45)

[2]     (سورۃ عبس ١٣۔١٦) ”یہ تو عظمت والے صحیفوں میں درج ہے جو کہ بابرکت ہیں ،بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں، جن کو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھ لکھتے ہیں جو خود بابرکت ومعزز اور پاکباز ہیں“۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
کچھ مسلم معترضینِ اسلام!
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
غامدى اور عصر حاضر ميں قتال
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
زیادتی زیادتی میں فرق ہے
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
دین پر کسی کا اجارہ نہ ہونا.. تحریف اور من مانی کےلیے لائسنس؟
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
اب اس کےلیے اہلِ دین آپس میں الجھیں!؟
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ
باطل- اديان
شیخ خباب بن مروان الحمد
شرک کے تہواروں پر مبارکباد دینے والے حضرات کے دلائل، ایک مختصر جائزہ تحریر: شیخ خباب بن مروان ا۔۔۔
دیوالی کی مٹھائی
باطل- اديان
حامد كمال الدين
دیوالی کی مٹھائی تحریر: سرفراز فیضی(داعی: صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی ) *سوال*: کیا دیوالی کی مبارک باد دینا ۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
جہاد- مزاحمت
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
کشمیر کےلیے چند کلمات حامد کمال الدین برصغیر پاک و ہند میں ملتِ شرک کے ساتھ ہمارا ایک سٹرٹیجک معرکہ ۔۔۔
ثقافت- رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
میرے ایک معزز دوست نے ویلینٹائن ڈے کے حوالے سے ایک پوسٹ پیش کی ہے۔ پوسٹ شروع ہوتی ہے اس جملے سے"ویلنٹائن ۔۔۔
بازيافت- تاريخ
ادارہ
علاء الدین خلجی اور رانی پدماوتی تحریر: محمد فہد  حارث دوست نے بتایا کہ بھارت نے ہندو۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز