عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, June 27,2019 | 1440, شَوّال 23
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
weekly آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
تصوف سے متعلق اہل خیر کے مابین اختلاف؟
:عنوان

ان بحثوں کے اکثر شرکاء ’’حقائق‘‘ میں تقریباً متفق ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر اپنا ’’مقصد‘‘ واضح کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہوتے ہیں! یہ حقیقت ڈھیروں غور و خوض کی متقاضی ہے۔

. تنقیحات :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

سوال:

تصوف سے متعلق فیس بک احباب کے مابین خاصی بحثیں اٹھی ہوئی ہیں (آپ کو نمونے کی کچھ پوسٹیں بھی بھیجی جا رہی ہیں)۔ اس سلسلہ میں آپ کی رائے جاننا چاہ رہے تھے۔

جواب:

بھائی ’’تصوف‘‘ ایک ایسا لفظ ہے جس کی فی الوقت متعدد تفسیریں ہیں اور مختلف ذہنوں میں اس کا مدلول خاصا مختلف۔ یہ وجہ ہے، نہ اس کی مدح کرتے ہوئے آپ بہت زیادہ واضح ہوتے ہیں جب تک کہ آپ اچھی خاصی توضیح نہ کر دیں کہ اس کے تحت آپ کن کن باتوں کو قبول کر رہے ہیں اور کن کن باتوں کو خود آپ بھی مسترد ہی کرتے ہیں (یا، کم از کم، آپ کے بارے میں پہلے سے یہ واضح ہو اور آپ کا مخاطَب پیشگی آپ کے مقصود سے مطَّلِع)۔ اور نہ اس کی مذمت کرتے ہوئے آپ کچھ ایسا واضح ہوتے ہیں جب تک کہ علیحدہ سے توضیح نہ کر دیں کہ آپ اس کے تحت کس بات کی مذمت فرما رہے ہیں (یا، کم از کم، اس لفظ کے تحت آپ کا نشانۂ تنقید پہلے سے آپ کے مخاطَب پر واضح ہو)۔

لفظ تصوف کو اون کرنے والے اصحابِ سنت مانتے ہیں کہ اس کے تحت بہت سا باطل بھی پھیلایا گیا ہے اور اس کو باطل کہنے میں ان کو ہرگز کوئی تردد نہیں۔ لفظِ تصوف کو اون نہ کرنے والے اصحابِ سنت تسلیم کرتے ہیں کہ اس کے تحت بہت سی خیر بھی پائی گئی ہے اور اس کو خیر کہنے میں ان کو ہرگز کوئی تامل نہیں۔ یعنی اس کی مذمت کر دیں تو آپ غلط نہیں، اور آپ کی وہ ساری مذمت ان باتوں کی طرف منصرف ہو جائے گی جو تصوف کے تحت غلط طور پر مانی اور منوائی گئی ہیں۔ اور اگر آپ اس کی ستائش کر دیں تو آپ غلط نہیں، اور آپ کی وہ ساری ستائش ان اچھی باتوں کی طرف منصرف ہو جائے گی جو تصوف میں بہرحال پائی جاتی ہیں۔ پس میری یہ بات گستاخی پر محمول نہ ہو تو: فی الوقت یہ لفظ اپنا مدلول بتانے میں خاصی حد تک غیر مفید non-purposive   ہے تا وقتیکہ آپ یا تو اس سے اپنا مقصود واضح نہ کر دیں یا وہ پہلے سے آپ کے مخاطَب پر واضح نہ ہو۔ اس غموض کے پائے جانے کے باعث، اس موضوع پر ہر دو طرف زور لگانے والوں کو دیکھ کر مجھے عموماً وہ لطیفہ یاد آ جاتا ہے جس میں دو مزدور ایک بھاری الماری کو اٹھانے میں زور لگاتے ہوئے پسینے میں شرابور ہو جاتے ہیں اور آخر ان میں سے ایک تھک ہار کر کہتا ہے: چھوڑ دو یہ الماری ہم سے اندر جانے کی نہیں۔ تو دوسرا اچھل کر کہتا ہے: ہائیں، تم اندر لے جا رہے تھے؟ میں سمجھ رہا تھا باہر لے جانی ہے! اس مسئلہ پر میری نظر میں طرفین کے مابین کچھ اسی طرح کا زور لگ رہا ہے۔

اس مقام پر میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ: شروع میں بھی گو یہ لفظ اصحابِ سنت کے مابین متنازعہ رہا ہو گا، تاہم ان آخری ادوار میں تو یہ متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے مدلول سے متعلق ایک غیر معمولی ابہام بھی پیدا کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں امکان آ چکا ہے کہ ایک اچھی خاصی وضاحت کے بغیر آپ کا مخاطَب ’آپ کی بات غلط سمجھے‘۔ میں یہ بالکل مبالغہ نہیں کر رہا۔ ان بحثوں کے اکثر شرکاء ’’حقائق‘‘ میں تقریباً متفق ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر اپنا ’’مقصد‘‘ واضح کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہوتے ہیں! یہ اپنی اس کمیونی کیشن میں اگر صرف اِس ایک لفظ سے گریز کر لیں (ویسے مجھے اس لفظ کے ساتھ کچھ مسئلہ نہیں؛ میرا مطلب ہے خاص ان بحثوں میں اس لفظ سے گریز کر لیں) تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے مابین اختلاف کی نشاندہی تک نہ ہو سکے گی۔ تزکیہ، اخلاص، زہد، فقر، ذکر، عبادت میں ڈوبنے اور دلجمعی لانے اور خدا سے محبت اور لو لگانے ایسے ان حسین مباحث میں سے کونسا مبحث آخر ایسا ہے جس کا کوئی ایک بھی صاحبِ سنت انکار کرے گا؟ ’اختلاف‘ تو ان مباحث کے پاس پھٹک تک نہیں سکتا۔ دین کے ان سب خوبصورت مباحث میں اصحابِ سنت کے مابین کمیونی کیشن حد درجہ آسان ہے اور رہے گی۔ کوئی وجہ نہیں ہم اس کو خوامخواہ مشکل کر لیں۔ اور اکثر اوقات تو ایک لا ینحل بحث۔ بلکہ جس قدر یہ مباحث (اللہ کی محبت، ذکر، عبادت میں دلجمعی، زہد وغیرہ) اہل ایمان کے مابین غیر متنازعہ ہیں اس قدر غیر متنازعہ چیز دین میں کوئی ہے ہی نہیں۔ پس غور کرنا چاہئے کہ کیوں دین کا یہ غیر متنازعہ ترین باب اہل خیر کے مابین متنازعہ ترین ہو جائے؟ عقلاء کا کام ہے کہ وہ ایسی ہر بات کا، جو غیرضروری طور پر ایک نزاع کا سبب بن رہی ہو، سد باب کریں۔ مختصراً، ایک دوسرے کےلیے اپنے مضمونِ خطاب میں پوری طرح واضح ہوں اور اِبہام کے موجبات سے باہر رہیں؛ خصوصاً جبکہ نفسِ حقیقت میں طرفین کے مابین تقریباً کوئی اختلاف نہ ہو۔

 قصہ کوتاہ، تصوف ’’عقیدہ‘‘ یا ’’فقہ‘‘ کی طرح اپنے کسی متعین مدلول پر دلالت کرنے میں بہت واضح لفظ نہیں ہے۔ ایک اصطلاح کسی مسئلہ کو آسان کرنے کےلیے لائی جاتی ہے نہ کہ ایک آسان مسئلہ کو الجھاؤ میں ڈالنے کےلیے۔ اور فی الوقت تو یہ اس اصل مضمون (اللہ کی محبت، ذکر، عبادت میں دلجمعی، زہد وغیرہ) سے ہٹ کر، کہ جس میں اللہ کا شکر ہے بحث کا کوئی امکان ہی نہیں ہے، بحث ہی بحث اٹھا رہی ہے۔ صرف اگر آپ ایک لفظ کی نزاکت کو پیش نظر رکھ لیں تو ان اکثر بحثوں کی ضرورت ہی ان شاء اللہ ختم ہو جاتی ہے۔ اس غموض سے نکل آئیے تو تب بحثیں اگر ہوں گی تو ان مباحث میں جو فی الحقیقت متنازعہ ہیں مانند وحدۃ الوجود اور حلول و فنا یا کچھ محدَث ریاضتیں وغیرہ۔ ابھی تو البتہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس رہا ہے: ایک حق بات کے ساتھ ہی بہت سا باطل بھی چلا آ رہا ہے اور ایک باطل بات کے ساتھ ہی بہت سا حق بھی رد ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اور یہ ہے اصطلاح کا ابہام۔ اس سے نکل کر ہی آپ کچھ پختہ بحثوں کی طرف بڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی ضرورت ہو۔ ورنہ ان شاء اللہ سرے سے یہ بحث ختم ہو جاتی ہے۔

 تاہم اگر آپ کو اس لفظ پر ہی اصرار ہے، جبکہ اس کا غموض اپنی جگہ ہے، تو پھر میرا خیال ہے ہر دو امر کی گنجائش ہونی چاہئے۔ اس کی مذمت بھی چلتی رہنی چاہئے اور ستائش بھی۔ مذمت کرنے والے کی مذمت اپنے محل پر ’باور‘ کر لی جانی چاہئے اور ستائش کرنے والے کی ستائش اپنے محل پر۔ اپنی جگہ نہ وہ غلط ہو گا اور نہ وہ۔ ہر دو کے ساتھ حسنِ ظن قائم رہنا چاہئے اور اُس کی بات کو ’’اعلیٰ ترین امکان‘‘ پر ہی محمول کروانے کی وہ مشکل ریاضت بھی جاری و ساری رہنی چاہئے۔ (ایک متنازعہ اور غیرضروری لفظ پر اصرار کی مستقل قیمت!)۔ اس باب میں امام شافعی کے بیان کردہ ’’مطلق‘‘ کو ’’مقید‘‘ کیا جا سکتا ہے تو میرے اور آپ کے ’’مطلق‘‘ کو بھی ’’مقید‘‘ کے خانے میں رکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ فی الحقیقت مذمت کا اپنا ایک درست موجب ہے اور ستائش کا اپنا؛ اور اِن ہر دو موجبات میں سے کوئی ایک بھی آج ناپید نہیں۔ ظاہر ہے یہ عوام کو مسلسل ایک کنفیوژن میں جھونک رکھنے والی بات ہو گی؛ اور ان شاء اللہ طرفین سے صبر و حوصلہ کی بہترین مشق کروانے کی وہ مشکل مہم جاری رہے گی! جبکہ آسان تر بات یہ ہے کہ اس غموض سے نکل کر ان تعبیرات کو استعمال کیا جائے جن میں اختلاف اور بحث کی سرے سے گنجائش نہیں۔ امت کے وقت اور توانائیوں کی بچت کم از کم ’مینجمنٹ‘ کے باب سے ہی آج درخورِ اعتناء ہو جانی چاہئے۔

 واللہ الموفِّق۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
’مسلک‘ اور ’تنظیم‘ کا خوب و بد.. والله يعلم المفسدَ من المصلح
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
"اقوالِ سلف" کا ایک متناقض اطلاق: نظام ڈیموکریسی اور احکام خلافت کے!
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
شخصیات اور پارٹیوں کے ساتھ تھوک کا معاملہ نہ کرنا
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا!
جہاد-
تنقیحات-
حامد كمال الدين
شیعہ سنی تصادم میں ابن تیمیہؒ کو ملوث کرنا! کل ہمارے یہاں ایک ٹویٹ ہوا تھا: شیعہ سنی تصادم&۔۔۔
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان
احوال-
باطل- كشمكش
تنقیحات-
حامد كمال الدين
بائیکاٹ کا ہتھیار.. اور قومی یکسوئی کا فقدان ہر بار جب کسی دردمند کی جانب سے مسلم عوام کو بائیکاٹ کا ۔۔۔
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج
اصول- منہج
تنقیحات-
حامد كمال الدين
’خطاکار‘ مسلمانوں کو ساتھ چلانے کا چیلنج سوال: ایک مسئلہ جس میں افراط و تفریط کافی ہو ر۔۔۔
واقعۂ یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر
تنقیحات-
اصول- منہج
حامد كمال الدين
قارئین کے سوالات واقعۂ  یوسف علیہ السلام کے حوالے سے ابن تیمیہ کی تقریر ہمارے کچھ نہایت عزیز ۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کیٹیگری
Featured
ادارہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
ادارہ
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز