عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Thursday, June 27,2019 | 1440, شَوّال 23
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-06 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
ہماری عبادات! خدا کو کیا پروا؟؟
:عنوان

:کیٹیگری
ذيشان وڑائچ :مصنف

 

ہماری عبادات! خدا کو کیا پروا؟؟

ذیشان وڑائچ

ملاحدہ اور لادینوں کی طرف سے اُٹھایا جانے والا ایک اعتراض:

اگر مان بھی لیا جائے کہ خدا ہے تو کیا واقعی ہی وہ انہی خصلتوں کا مالک ہوگا جو ہمیں مذہب بتاتے ہیں؟،مثال کے طور پہ کیا اتنی بڑی کائنات کے بنانے والے کو ذرا بھی فکر ہو گی کہ اربوں کھربوں ستاروں میں سے اک نقطے کی حثیت جتنے سیارے کے چھوٹے سے شہر کی چھوٹی سی گلی میں رہنے والا اک معمولی انسان کوئ چیز کھانے سے پہلے اس کا نام لیتا ہے کہ نہیں؟ وہ اس کے نام کی تسبیح کرتا ہے یا نہیں ؟ دن میں پانچ وقت اس کے لیے جھکتا ہے کہ نہیں؟ اور اگر یہ سب نہیں کرتا تو اس کے لیے پہلے سے تیار کردہ دوزخ کا عذاب انتظار کر رہا ہے؟ اگر خدا ہے بھی تو کم از کم وہ نہیں ہے جس کی عبادت کے لیے کہا جاتا ہے۔ وہ صحیح معنوں میں بے پرواہ ہو گا۔

اعتراض کا جواب:

انسان باشعور ہے اور یہ خدا ہی ہے جس نے انسان کو باشعور بنایا۔ خالق کا حق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ خالق نے مخلوق کو جن خصوصیات کے ساتھ بنایا، چاہئے کہ ان خصوصیات کے ساتھ وہ اپنے خالق کی عبادت کرے۔ اس کائنات میں ان گنت کرے پائے جاتے ہیں اور وہ خدا کے طئے کردہ قانون کے مطابق سفر کر رہے ہیں۔ لیکن ان کے اندر اس قسم کا شعور نہیں ہے جیسا کہ اللہ نے انسانوں کے اندر بنایا۔ اسی کرے یعنی زمین پر لاتعداد جانور پائے جاتے ہیں۔ حیاتیاتی اعتبار سے یہ جانور ہیں تو انسانوں سے کافی ملتے جلتے، لیکن ان کے اندر پایا جانے والا شعور انسانوں کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ انسانوں کے اندر پایا جانے والا شعور اور اس کی صلاحیتیں اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ وہ اپنے خآلق کو اس پورے شعور کے ساتھ محسوس کرے اور اس کے آگے سر خم تسلیم کرے۔ جس خالق نے انسانوں کو یہ شعور عطا کیا اس کا بھی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے شعور کے ساتھ اس کی عبادت کرے نہ کہ کسی بے جان مادے کی طرح سے یا کسی جانور کی طرح۔ یہ شعور ہی اس کی جزا و سزا کہ اصل بنیاد ہے۔ جب کوئی ملحد یہ کہتا ہے کہ خالق کائنات کو اس بات کی کیا پروا کہ میں اس کا نام جپتا ہوں یا نہیں، اس کے سامنے جھکتا ہوں یا نہیں تو دراصل وہ اپنے آپ کو بے جان مادے یا جانور کی سطح پر رکھ کر سوچتا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خالق کا انکار دراصل ایک انسان کو کس سطح پر لے آتا ہے۔ اللہ تعالی نے منکرین کے بارے میں یہ کہا ہے کہ

 َلهُمْ قُلُوبٌ لاَّ يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لاَّ يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لاَّ يَسْمَعُونَ بِهَا أُوْلَـئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ, (جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔یہ لوگ جو پایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ لوگ زیادہ بےراہ ہیں۔یہ لوگ غافل ہیں۔

(سورہ اعراف ۱۷۹)

اور دوسری جگہ یہ کہا ہے

 وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ نَسُواْ ٱللَّهَ فَأَنسَٮٰهُمۡ أَنفُسَہُمۡ‌ۚ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلۡفَـٰسِقُونَ (اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے اللہ (کے احکام ) سے بے پروائی کی سو اللہ تعالیٰ نے خودا ان کی جان سے ان کو بے پروا بنادیا یہی لوگ نافرمان ہیں۔                              (سورہ حشر ۱۹)

یہ سوال ایسے ہی ذہن کی پیداوار ہے۔ انسان جب خدا کا انکار کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے شعور کا انکار کر رہا ہوتا ہے۔

انسان بہت کمزور ہے۔

۱۔ جب انسان کسی چیز کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو دوسری چیزوں کی طرف سے اس کی توجہ کم ہوجاتی ہے۔ کوئی بندہ جب اپنی ڈیوٹی پر ہوتا ہے تو وہ اتنی شدت کے ساتھ اپنے گھر والوں کی طرف توجہ نہیں دے سکتا اور اگر وہ بہت ہی شدت کے ساتھ گھر والوں کی طرف توجہ دے گا تو پھر اپنی ڈیوٹی ٹھیک سے انجام نہیں دے پائے گا۔

۲۔ جب انسان کسی چیز کی گہرائی اور تفصیلات میں چلا جاتا ہے تو اسی چیز کی مجموعی کیفیت سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص ایک گھر کا معائنہ کر رہا ہے۔ اگر وہ گھر کی تعمیر میں استعمال کئے گئے مٹیریل، رنگ، ٹائلز وغیرہ پر بہت زیادہ توجہ دے گا تو گھر کے مجموعی سانچے اور شکل کی طرف سے وقتی طور پر اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔

۳۔ جب انسان کا کسی چیز سے سروکار ہوجاتا ہے، اس سے اس کا جذباتی تعلق بن جاتا ہے تو پھر وہ اس کی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اگر اس تعلق میں کوئی رخنہ پیدا ہوجاتا ہے تو پھر انسان کا سکون اور چین چھن جاتا ہے۔ مثلاً اولاد اور بیوی سے تعلق میں تلخیاں کسی انسان کی نیندیں حرام کرنے کے لئے کافی ہیں۔

اوپر بیان کردہ چیزیں انسان کی کمزوریاں ہیں۔ اللہ رب العالمین تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔ اللہ تعالی کلام پاک میں اپنا تعارف لطیف اور خبیر جیسے نام سے کراتا ہے۔ لطیف کا مطلب باریک بین ہے۔ اور خبیر کا مطلب ہر چیز کی خبر رکھنے والا۔ اللہ پاک اپنی تمام مخلوقات کو پوری تفصیل کے ساتھ بہ یک وقت اور بغیر کسی کوتاہی کے خبر رکھ سکتا ہے۔ اللہ کا ایک طرف متوجہ ہونا کسی کی طرف بے توجہی کی قیمت پر نہیں ہوتا۔ اس دنیا میں پائے جانے والے تمام کروں کو اس کے ایک ایک ذرے کے ساتھ خدا جانتا ہے اور خدا کا یہ سب کچھ جاننا کسی اور معاملے میں اس کی کوتاہی کا سبب نہیں بن سکتا اور نہ ہی اسے اس سے غافل کرتا ہے کہ وہ اپنی باشعور مخلوق کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کرے۔

اللہ غنی ہے یعنی اللہ ہر ضرورت سے بے نیاز ہے۔ ایک طرف اللہ کو اپنے بندوں سے محبت ہے اور اللہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔ لیکن محبت کی یہ شدت جس طرح انسانوں کی کمزوری ہے اس طرح خدا کی کمزوری نہیں ہے۔ خدا تمام انسانوں کے ساتھ بالکل ہی ذاتی تعلق رکھ سکتا بغیر اس کے کہ وہ تعلق اس کی کمزوری بنے۔

اوپر بیان کئے گئے نکات سے واضح ہوجاتا ہے کہ جب ملحد اس طرح کے اعتراضات کرتا ہے تو وہ خدا کے ساتھ انسانوں کی کمزوریوں کو منسوب کر کے سوچتا ہے۔

ایک بالکل عام اور سادہ ذہن آدمی بھی اس بات کو اچھی طرح سے سمجھتا ہے کہ رب العالمین تمام کمزوریوں اور عیبوں سے پاک ہے اور یہ اس کے رب العالمین ہونے کا لازمی تقاضا ہے۔ ایسا کیا ہوتا ہے کہ ملحد بنتے ہی آدمی کا دماغ الٹا سوچنا شروع کردیتا ہے۔

شاید ایک ملحد کو اس بات سے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ رب العالمین میں اُس جیسی کمزوریاں کیوں نہیں ہیں۔ یہ تکبر ہے اور وہ بھی رب العالمین کے آگے!! 

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس قسم کا اعتراض کرنے والے کے ذہن میں دو بنیادی الجھنیں ہیں

وہ انسان کو جانور یا اس سے بھی کمتر سطح پر رکھ کر سوچتا ہے۔

اور
وہ رب العالمین کو انسان کی سطح پر رکھ کر سوچتا ہے۔

 

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
متفرق-
ادارہ
پطرس کے ’’کتے‘‘ کے بعد! تحریر: ابو بکر قدوسی مصنف کی اجازت کے بغیر شائع کی جانے والی ای۔۔۔
باطل- فرقے
اعتزال
ادارہ
ایک فیس بکی بھائی نے غامدی صاحب کی جہاد کے موضوع پر ویڈیو کا ایک لنک دے کر درخواست کی تھی کہ میں اس ویڈیو کو ۔۔۔
باطل- فرقے
احوال- وقائع
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ایک بڑی خلقت واضح واضح اشیاء میں بھی فرق کرنے کی روادار نہیں۔ مگر تعجب ہ۔۔۔
باطل- كشمكش
حامد كمال الدين
تحریر: حامد کمال الدین کہتا ہے میں اوپن ایئر میں کیمروں کے آگے جنازے کی اگلی صف کے اندر ۔۔۔
احوال-
باطل- شخصيات و انجمنيں
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین ’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش۔۔۔
کیٹیگری
Featured
ادارہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
ادارہ
امت اسلام
ذيشان وڑائچ
امت اسلام
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
خواتين
ادارہ
رواج و رجحانات
ذيشان وڑائچ
معاشرہ
عرفان شكور
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز