عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Friday, December 6,2019 | 1441, رَبيع الثاني 8
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
2015-04 آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعاً کی تفسیر: "جماعۃ المسلمین"
:عنوان

ابوہریرہؓ والی حدیث میں جو بات ان الفاظ میں آئی: وأن تعتصموا بحبل الله جميعاً ولا تفرقوا۔ عین وہی بات عبد اللہ بن مسعودؓ والی حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ آگئی: ولزومُ جماعةِ المسلمين۔

. مشكوة وحىاللہ كے كلام سے :کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

ایک رکاکت بھری (naïve)  عربی کا سہارا لیتے ہوئے اہل مورد کی جانب سے بار بار ’نکتہ‘ بیان کیا جاتا ہے: قرآن نے کہا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ ’’مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘، یہ تو نہیں کہا: المؤمنون قومٌ واحد!

گویا لفظِ ’’قوم‘‘  اُس زمانے میں ’’نیشن‘‘ کے معنیٰ میں استعمال ہوتا بھی تھا!

’’نیشن‘‘ کے معنیٰ میں تو لفظ ’’قوم‘‘ آج بھی عربی میں مستعمل نہیں! اور نہ اس سے پہلے کبھی رہا ہے! اور قرآنِ مجید ظاہر ہے عرب اور عربی میں نازل ہوا ہے!

اور ویسے یہ ضروری کیا ہے کہ دورِ حاضر میں بنا لی گئی ایک چیز، پوری کی پوری، عین اپنے اس ’جدید‘ مفہوم کے ساتھ قرآن میں آئے؟ اور ذرا کاریگری دیکھیں: چونکہ قرآن میں ’’المؤمنون قومٌ واحدٌ‘‘ کے لفظ نہیں آئے، لہٰذا شرق تا غرب مسلمانوں کا ایک سیسہ پلائی قوت اور وحدت (الجماعۃ) ہونا دین کا تقاضا ہی نہیں!

ایک مربوط شناخت کی حامل انسانی وحدت کےلیے شرعی نصوص میں ’’الجماعۃ‘‘ کا لفظ  استعمال ہوا ہے۔ کہیں مختصر طور پر ’’الجماعۃ‘‘ اور کہیں پورا لفظ ’’جماعۃ المسلمین‘‘۔  نصوص کا تتبع کریں تو کہیں یہ ’’قوم‘‘ کے قریب قریب معنیٰ میں آتا ہے (جو ایک نظریہ پر کھڑی ہو)، کہیں ’’ریاست‘‘ کے قریب قریب معنیٰ میں، تو کہیں ایک مستحکم مجتمع سیاسی وسماجی قوت کے معنیٰ میں۔

(’’الجماعۃ‘‘ کے مفہوم پر ہم نے اپنی زیرتالیف کتاب ’’ابن تیمیہ کی خلافت و ملوکیت پر تعلیقات‘‘ میں قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے؛ یہاں اِس مختصر وضاحت پر ہی اکتفاء کریں گے)۔

سنت اور سلف سے قرآنی آیت وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا کی جو تفسیر ملتی ہے وہ بھی ’’الجماعۃ‘‘ ہے... جو ہمارے آزاد خیال ’مفسرین‘ کو شاید مشکل سے قبول ہو۔

دراصل مغرب میں پروان چڑھنے والے نظریۂ فردیت  individualism کا اثر ہمارے جدید تعلیم یافتہ ذہن نے بھی اچھا خاصا لیا ہے۔ چنانچہ یہ ذہن آیتِ مذکورہ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے ’’جمیعاً‘‘  کا معنیٰ ’’اکٹھے‘‘ یا ’’جماعت بن کر‘‘ کی بجائے ’’سب لوگ‘‘ کرنے کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ تاکہ مراد یہ ہوجائے کہ: ’’سب لوگ‘‘ اللہ کی رسی (قرآن) سے چمٹ جاؤ۔  پھر یہ ’’سب لوگ‘‘دیکھتے ہی دیکھتے ’’ہر آدمی‘‘ سے بدل جاتا ہے۔ یعنی ’’ہر آدمی‘‘ (اپنے اپنے طور پر!!!) اللہ کی رسی (شرعِ قرآنی) کو مضبوطی سے تھام لے! یوں ’’جماعت‘‘  کا معنیٰ مکمل طور پر گول ہوگیا؛ اور قرآن کے اُس مقام پر بھی جہاں (از روئے حدیث و ازروئے تفسیرِ سلف) ’’جماعت‘‘ کا حکم دیا گیا، نظریۂ فردیت   individualism    ثابت ہوگیا! سلف قرآن کے اِس مقام پر ’’الجماعۃ‘‘ کے مباحث بیان کرتے رہ گئے؛ اور ہمارے ماڈرن مفسرین کا خیال کہ آیت یہاں ’الگ الگ‘ انسان سے مخاطب ہے!

آیت کی تفسیر از روئےحدیث: الجماعۃ

امام ابن تیمیہ﷫ اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں ایک ہی مضمون پر دو حدیثیں ایک ساتھ لے کر آئے ہیں:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

إنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا: أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا، وَأَنْ تناصحوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ (صحیح مسلم 1715)

ابو ہریرہؓ سے روایت ہے، کہ نبیﷺ نے فرمایا:

 اللہ کو تمہارے لیے تین باتیں پسند ہیں: یہ کہ تم اس کی عبادت کرو بغیر اس کے کہ اُس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک کرو۔ اور یہ کہ سب مل کر اللہ کی رسی سے چمٹ جاؤ اور آپس میں تفرقہ نہ کرو۔ اور یہ کہ جن لوگوں کو اللہ نے تمہارا حکمران بنایا ہے ان کا وفادار و خیرخواہ  رہو۔

عَن ابْنِ مَسْعُودٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:

ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأُمُورِ وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ.  (أحمد 13350، ابن ماجۃ 3056،  صححہ الالبانی عن زید بن ثابت)

عبد اللہ بن مسعود اور زید بن ثابت﷠ سے روایت ہے، کہ نبیﷺ نے فرمایا:

تین باتیں ایسی ہیں کہ ان کا پابند مسلمان دل کا پاپی نہیں ہوتا: عمل کو خالص اللہ کےلیے کرنا۔ اولیاء الامور کی خیرخواہی اور مسلمانوں کی جماعت سے وابستگی۔

آپ دیکھتے ہیں، دونوں حدیثوں میں من و عن ایک سا مضمون ہے:

ý         ابوہریرہ﷛ والی حدیث میں فرمایا: اَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا۔ عین یہ چیز ابن مسعود﷛ والی حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ آگئی:   إخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ۔

ý         ابوہریرہ﷛ والی حدیث میں فرمایا: وَأَنْ تناصحوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ۔ عین یہی بات ابن مسعود﷛ والی حدیث میں یوں آگئی: وَمُنَاصَحَةُ وُلَاةِ الْأُمُورِ۔

ý         ابوہریرہ﷛ والی حدیث میں جو بات ان الفاظ میں آئی:  وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا۔ عین وہی بات عبد اللہ بن مسعود﷛ والی حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ آگئی: وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ۔

اب لامحالہ کسی امتی سے نہیں بلکہ خود نبیﷺ سے ثابت ہوگیا کہ آیت ’’وَاعۡتَصِمُوا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعاً‘‘ کی تفسیر ’’لُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ‘‘ ہے }نہ کہ ’اپنے اپنے طور پر قرآن مجید سے تعلق قائم کرنا‘ (جس پر آلِ وحید الدین خان کا پورا تصورِ دین کھڑا ہے){۔

آیت کی تفسیر از سلف وائمہ متقدمین: الجماعۃ

مفسر طبری﷫ ’’حبل اللہ‘‘ کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن مسعود ﷛ سے بیان کرتے ہیں: الجماعۃ۔ (دیکھئے آل عمران کی اس آیت کے تحت طبری کی تفسیر)۔ ابن عبدالبر﷫ اس پر اپنی تقریر دیتے ہوئے کہتے ہیں:

وَحَبْلُ اللَّهِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ فِيهِ قَوْلَانِ أَحَدُهُمَا كِتَابُ اللَّهِ وَالْآخَرُ الْجَمَاعَةُ وَلَا جَمَاعَةَ إِلَّا بِإِمَامٍ وَهُوَ عِنْدِي مَعْنَى مُتَدَاخِلٌ مُتَقَارِبٌ لِأَنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالْأُلْفَةِ وَيَنْهَى عَنِ الْفُرْقَةِ

اس مقام پر ’’حبل اللہ‘‘ کی تفسیر میں (سلف سے) دو قول آتے ہیں: ایک یہ کہ اس سے مراد ہے کتاب اللہ۔ دوسرا یہ کہ اس سے مراد ہے جماعت (مسلمانوں کا ایکا کر کے رہنا)۔ جبکہ جماعت بغیر امام کے ممکن نہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں معنے ایک دوسرے کے اندر داخل ہیں  اور باہم قریب ہیں؛ کیونکہ کتاب اللہ کا اپنا حکم یہ ہے کہ (مومن) ایک ہوں اور ٹولہ ٹولہ ہونے سے ممانعت ہے۔

ابن عبدالبرؒ اپنی اِس تقریر پر (کہ یہ دونوں معنے ایک دوسرے میں داخل ہیں) دلیل دیتے ہیں کہ خود عبداللہ بن مسعودؓ دو الگ الگ مواقع پر ’’حبل اللہ‘‘ کی تفسیر میں یہ دو قول بیان کرتے ہیں۔                                                   (التمھید مؤلفہ ابن عبد البر: 21: 269)

اوپر شروع میں مذکور عبد اللہ بن مسعود﷛ والی حدیثِ مسلم کی شرح میں، امام نووی﷫ لکھتے ہیں:

وَأَمَّا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَفَرَّقُوا فَهُوَ أَمْرٌ بِلُزُومِ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ وَتَأَلُّفِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَهَذِهِ إِحْدَى قَوَاعِدِ الْإِسْلَامِ                              (شرح النووی لصحیح مسلم حدیث 1715)

(حدیثِ مذکورہ میں) نبیﷺ کا یہ فرمان کہ ’’ٹولے مت بنو‘‘: دراصل یہ جماعۃ المسلمین کو لازم پکڑنے کا حکم ہے اور یہ کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ مل اپنی شیرازہ بندی کریں۔ اور یہ اسلام کے بنیادی پایوں میں سے ایک پایہ ہے۔

*****

ویسے بھی آپ دیکھ لیں، قرآن وہ شریعت ہی نہیں ہے جسے ہر شخص ’اپنے اپنے طور پر‘ تھام لے تو وہ تھامی جائے؛ قرآنی شریعت (حبلُ اللہ) کو ’’تھامنے‘‘ کیلئے کرۂ ارض پر پھیلی ایک مربوط انسانی وحدت درکار ہے۔ (زیرِ تالیف کتاب، فصل ’’واعتصموا بحبل اللہ کی تفسیر‘‘، شائع ایقاظ اپریل 2014)


Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
اناڑی ہاتھ درایت
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
ابن عباس : تفسیر قرآن چار پہلوؤں سے
مشكوة وحى- علوم قرآن
حامد كمال الدين
22 ابن عباس﷠: تفسیر قرآن چار پہلوؤں ۔۔۔
غصہ مت کرو
مشكوة وحى-
مریم عزیز
17 حدیثِ نبوی ’’غصہ مت کرو‘‘ ار۔۔۔
اللہ کے کلام سے۔ اپریل 2014
مشكوة وحى-
ادارہ
إنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَ۔۔۔
شرح دعائے قنوت
مشكوة وحى- توضيح مفہومات
رقائق- اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
شرح دعائے قنوت نوٹ: ’’دعائے قنوت‘‘ ایک ایک جملہ کی علیحدہ شرح کےلیے آپ اس لنک پر جا سکتے ہیں۔ عَنِ ۔۔۔
خدا واسطے کی اخوت
مشكوة وحى- فرمايا رسول اللہ ﷺ نے
حامد كمال الدين
(حديث:‏152‏)[1] عن محمد بن سوقة أن رسول الله عليه السلام قال ما أحدث عبد أخا يواخيه في الله إلا رفعه ا۔۔۔
کائنات کا مالک اور مخلوق.. رُوبرُو
مشكوة وحى- توضيح مفہومات
حامد كمال الدين
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا أَن يَأْتِيَهُمُ اللَّـهُ فِي ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأ۔۔۔
حاکمیتِ خداوندی.. اجتماعِ انسانی.. اور سیاست
مشكوة وحى-
ادارہ
کتاب کا سبق حاکمیتِ خداوندی.. اجتماعِ انسانی.. اور سیاست إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ۔۔۔
قرآنِ مجید کا پہلا امر اور پہلا نہی
مشكوة وحى- توضيح مفہومات
حامد كمال الدين
مجالسِ قرآنی يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَل۔۔۔
ديگر آرٹیکلز
بازيافت- سلف و مشاہير
Featured-
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
امارتِ حضرت معاویہؓ، مابین خلافت و ملوکیت نوٹ: تحریر کا عنوان ہمارا دیا ہوا ہے۔ از کلام ابن ت۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
سنت کے ساتھ بدعت کا ایک گونہ خلط... اور "فقہِ موازنات" حامد کمال الدین مغرب کے اٹھائے ہوئے ا۔۔۔
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
Featured-
حامد كمال الدين
"انسان دیوتا" کے حق میں پاپ! حامد کمال الدین دین میں طعن کر لو، جیسے مرضی دین کے ثوابت ۔۔۔
Featured-
بازيافت-
حامد كمال الدين
تاریخِ خلفاء سے متعلق نزاعات.. اور مدرسہ اہل الأثر حامد کمال الدین "تاریخِ خلفاء" کے تعلق س۔۔۔
Featured-
باطل- اديان
حامد كمال الدين
ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ حامد کمال الدین اعتراض: اسلامی۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
لفظ  "شریعت" اور "فقہ" ہم استعمال interchangeable    ہو سکتے ہیں ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
ماتریدی-سلفی نزاع، یہاں کے مسلمانوں کو ایک نئی آزمائش میں ڈالنا حامد کمال الدین ایک اشع۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
منہجِ سلف کے احیاء کی تحریک میں ’مارٹن لوتھر‘ تلاش کرنا! حامد کمال الدین کیا کوئی وجہ ہے کہ۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
      کشمیر کاز، قومی استحکام، پختہ اندازِ فکر کی ضرورت حامد ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
مشكوة وحى- علوم حديث
حامد كمال الدين
اناڑی ہاتھ درایت! صحیح مسلم کی ایک حدیث پر اٹھائے گئے اشکال کے ضمن میں حامد کمال الدین ۔۔۔
راہنمائى-
حامد كمال الدين
(فقه) عشرۃ ذوالحج اور ایامِ تشریق میں کہی جانے والی تکبیرات ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ کے متن سے۔۔۔
تنقیحات-
ثقافت- معاشرہ
حامد كمال الدين
کافروں سے مختلف نظر آنے کا مسئلہ، دار الکفر، ابن تیمیہ اور اپنے جدت پسند حامد کمال الدین دا۔۔۔
اصول- منہج
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
اصول- عقيدہ
حامد كمال الدين
ایک ٹھیٹ عقائدی تربیت ہماری سب سے بڑی ضرورت حامد کمال الدین اسے فی الحال آپ ایک ناقص استقر۔۔۔
ثقافت- خواتين
ثقافت-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
احوال-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
کیٹیگری
Featured
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
سلف و مشاہير
شيخ الاسلام امام ابن تيمية
حامد كمال الدين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
باطل
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
اديان
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
معاشرہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم حديث
حامد كمال الدين
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز