عربى |English | اردو 
Surah Fatiha :نئى آڈيو
 
Sunday, July 21,2019 | 1440, ذوالقعدة 17
رشتے رابطہ آڈيوز ويڈيوز پوسٹر ہينڈ بل پمفلٹ کتب
شماره جات
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
  
 
تازہ ترين فیچر
Skip Navigation Links
نئى تحريريں
رہنمائى
نام
اى ميل
پیغام
آرٹیکلز
 
مقبول ترین آرٹیکلز
کیا کوئی تبدیلی آئی ہے؟
:عنوان

:کیٹیگری
حامد كمال الدين :مصنف

کیا کوئی تبدیلی آئی ہے؟

   

مسجد اقصیٰ کے بھرے صحن میں مسلمانوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کے ساتھ ہی صہیونی فوجیوں نے اپنے امن منصوبے کو آپ ہی موت کی نیند سلا دیا۔ یہ امن منصوبے سے دراصل ان کا ایک اظہار شفقت تھا، ایک ایسے حمل کا اسقاط تھا جس کے وضع کروانے کی برسوں کوشش کی گئی مگر اسقاط ہی بالآخر اس کا ایک طبعی اور منطقی حل قرار پایا! جس وقت اسرائیلی ہیلی کاپٹر عرفات کے سیکرٹریٹ پربمباری کر رہے تھے تو دراصل یہ اوسلو سمجھوتوں کو خاک میں ملا دینے کی ہی ایک باقاعدہ کارروائی تھی!! ۔

یہودیوں نے اپنے ہی کئے دھرے پر خود ہی پانی پھیر کر رکھ دیا! اپنی ہی محنت سے اگائی ہوئی فصل نذر آتش کر ڈالی! آخر ہوا کیا!؟ کونسی تبدیلی آئی ہے؟ یہ جاننے کیلئے یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ آخر وہ کونس سے اسباب تھے جو اس امر کیلئے وجہ جواز بنے کہ میڈ ریڈ اور اوسلو میں امن کانفرنسوں کا یہ سارا ڈول ڈالا جائے اور امریکہ کو بھی صہیونی امن منصوبوں کو کامیاب کروانے کیلئے یہ سارے پاپڑ بیلنے پڑیں اور مشرق وسطی میں ان امن منصوبوں کیلئے سب کو راضی کرنے کیلئے مفت کا یہ دردسر لینا پڑے؟

میڈ ریڈ کی منحوس امن کانفرنس کے بعد ہم نے اُس وقت (آج سے دس برس پہلے) جو کچھ لکھا تھا اس کا کچھ حصہ پہلے یہاں لفظ بلفظ نقل کر دیا جانا مضمون کے سمجھنے میں ممد ثابت ہو گا: ۔

وہ چیز جسے امن پروگرام کہا جاتا ہے کچھ اس وجہ سے معرض وجود میں نہیں آئی کہ بین الاقوامی حالات تبدیل ہوئے ہیں، یا یہ کہ سرد جنگ کے دور کا خاتمہ ہو گیا ہے یا یہ مشرق اور مغرب کے بلاکوں میں نئی عالمی قربت اور صلح جوئی کا تقاضا ہے ___ جیسا کہ مغربی ذرائع ابلاغ اور ان کی اندھی تقلید کرنے والا ہمارا مقامی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے ___ یہ سب تبدیلیاں تو دراصل ایک اساسی تبدیلی کی محض ظاہری علامات (سیمپٹمز) ہیں.... اور یہ ہے وہ صہیونی منصوبہ جس کا مقصد اب ایک اور انداز سے پوری دنیا اور خصوصاً اسلامی خطے پر اپنی برتری کو مستحکم کرنا ہے....

سادہ سی بات ہے کہ پہلے سے چلنے والے اس منصوبے میں ایک ترمیم کرنا پڑ گئی ہے۔ اور وہ یہ کہ وسیع تر اسرائیلی ریاست کے قیام کا خیال فی الحال چھوڑ دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں.... اس خیال کو جانے دینے کے کچھ بہت ہی بنیادی اوراندرونی قسم کے اسباب ہیں۔ جن میں اہم ترین سبب یہ ہے کہ اپنے قیام کو چالیس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود، یہ یہودی ریاست اپنے آپ کو ہنوز ایک ایسی حالت میں گھرا ہوا پاتی ہے، جسے ایک مجموعہءاضداد سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ اسرائیلی ریاست ابھی تک مشرق وسطی میں ایک غیر طبعی اور نا مانوس قسم کی مخلوق کا درجہ رکھتی ہے اور اس کے چاروں طرف تاحد نظر دشمنی اور عداوت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے جس کی موجوں میں روز بروزتلاطم برپاہو رہا ہے! ۔

اور جہاں تک داخلی امن کا معاملہ ہے تو اس میں بھی اسرائیلی ریاست ناکام ہی ثابت ہوئی ہے۔داخلی امن کی سطح پر ابھی یہ اس حد تک بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکی کہ فلسطین کی جو اراضی یہ کئی عشرے پہلے نگل چکی، اور نہیں تو کم از کم وہیں پر امن قائم کرکے سکھ کا سانس لے سکے۔ پھر مزید خطوں کو نگلنے کا سوچے تو کیسے؟! اور تو اور ایک لبنان ہی کی مثال کو سامنے رکھیں، لبنان نہ صرف اسرائیل کا کم زور ترین پڑوسی ہے بلکہ لبنان اسرائیل سے دشمنی مول لینے میںحد درجے محتاط بھی واقع ہوا ہے... ایک یہ لبنان ہی اس کے لئے لوہے کا گرم چنا ثابت ہوا ہے اور اس نے ابھی تک اس کے ناک میں دم کئے رکھا ہے۔ لبنان کے کچھ علاقوں پر جارحیت کا شوق ہی اسرائیل کو بہت مہنگا پڑا اور یہ معاملہ عالمی دھونس اور دھاندلی کے باوجود دقابو میں آنے کی بجائے خرابی میں کچھ اور ہی بڑھا بلکہ خراب سے خراب تر ہوا اور پھر جنوبی لبنان سے آخرکار اسرائیلی فوجی دستوں کو دم دبا کر بھاگ لینا ہی پڑا اور اب انتفاضہ رجب بھی لبنان کی سمت سے ہی اسرائیل کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے۔

خود یہودی آباد کاری کا مسئلہ ہی اس قدر گہرا اور پیچیدہ اور دور رس مضمرات کا حامل ثابت ہوا ہے کہ اس کو حل کر لینا اس صہیونی ریاست کے بس سے باہر ہو رہا ہے۔ یہاں آکر بسنے کیلئے جتنے بھی سبز باغ دکھائے گئے ،اس ضمن میں جتنی بھی کوششیں اور سرمایہ صرف ہوا ، اِس سب کے باوجودبہت سے یہودی ان وعدوں کے جال میں نہیں آئے۔ ان کو جتنے بھی لالچ دیئے گئے وہ اس بات کیلئے پھر بھی تیار نہیں کہ وہ ایسی جگہ ہجرت کر آئیں جو سماجی المیوں اور معاشرتی ناچاقیوں سے بھری پڑی ہے۔ بدامنی کا خوف الگ ہے۔ طبقاتی کشمکش کسی لعنت سے کم نہیں۔ سیاسی کھینچا تانی، پارٹی بازی اور باہمی تعصب زوروں پر ہے....

یوں بھی ،جہاں طرح طرح کے ناگ اکٹھے ہونگے وہاں انہیں ایک دوسرے کے ڈنگ تو کھانے ہی پڑیں گے.... اور وہ پتھر الگ سہنے پڑیں گے جو ان ناگوں کا سر کچلنے کیلئے مسلم نونہالوں سے روز اب ان کو پڑنے لگے ہیں۔ پھر بات پتھروں تک رہے تب بھی ہے مگر نوبت گولیوں تک جا پہنچے تو پھر....؟! ۔

یہودی ریاست کو تو اسی بات کے لالے پڑ گئے ہیں کہ یہودیوں کی اسرائیل سے دوسرے ملکوں کو ہونے والی واپس نقل مکانی کا گراف اب روز بروز اوپر جانے لگا ہے۔ حکومت یہاں یہودیوں کی نسل بڑھانے کیلئے یہودیوں کو بے پناہ ترغیبات اور سہولیات فراہم کرتی ہے مگر یہودی باشندے ان اسکیموں کو کامیاب کروانے میں کوئی خاص متعاون نہیں دوسری جانب سروے ظاہر کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کی آبادی میں روز بروز حیران کن اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا روزانہ ایک بچہ شہید ہوتا ہے تو اس کی جگہ سینکڑوں پیدا ہوتے ہیں! ۔

اسرائیل کا تحریک مزاحمت کو کچلنے کا تجربہ اس قدر ناکام ہوا ہے کہ اس پر بحث کرنے تک کی گنجائش نہیں۔ فلسطینیوں کو اسرائیل اب تک کوئی گزند پہنچا سکا ہے تو وہ بھی اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نہیں بلکہ فلسطینیوں کو نقصان پہنچانے کا یہ کام اسرائیل کے ان نام نہاد مسلمان ایجنٹوں کے ہاتھوں ہی ہوا جو لبنان، اردن، شام اور کویت وغیرہ میں حکومتی سطح پر فلسطینیوں کی بیخ کنی کے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔۔۔

ایسے میں پھر کیوں نہ اسرائیل خطے میں ان سب ملت فروش حکمرانوں سے ہاتھ ملا لے اور اس طرح ایک دوسرے منصوبے کی راہ پر گامزن ہو جس کی رو سے اسرائیل توراتی سرزمین کی وسیع تر حدود سے دستبردار ہو کر توراتی سرزمین کی ایک تنگ سی پٹی پر ہی قناعت کر لے!؟ اس میں تعجب کی بھی کیا بات، یہود کے ہاں بداءکا عقیدہ تو پہلے ہی پایا جاتا ہے جس کی رو سے خدا کو بھی ___ معاذ اﷲ ___ اپنی غلطی کا اندازہ ایک وقت کے بعد ہو سکتا ہے اور جس کی رو سے یہودی احبار (علماء) رب کی غلطیوں کی تصحیح گاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں!!! ۔

پھر اسرائیل کو ایک اور مشکل بھی درپیش ہے۔ مغربی معاشروں میں بسنے والے ایک عام انسان کو اپنی جانب سے مطمئن کئے رکھنا بھی اسرائیل کیلئے اتنا آسان نہیں۔ مغرب کے ایک عام انسان کے ذہن میں ڈیمو کریسی اور حقوق انسانی کے نعروں کو اس قدر گہرا اتارا گیا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں کہ اسرائیل پورے فلسطین کو غیر معینہ مدت تک ایک بڑی جیل اور ایک فوجی بیرک بنائے رکھے۔

پھر اس کے ساتھ ساتھ عربوں کا بائیکاٹ بھی، چاہے وہ کتنا ہی ظاہری اور سطحی اور غیر موثر ہو، خطے میں موجود اقوام کے ہاں بہرحال ایک بڑی نفسیاتی رکاوٹ کا درجہ رکھتا ہے۔ اس بنا پر بھی کسی ایسے جوڑ توڑ کی ضرورت ہے جس میں یہود کی بظاہر پسپائی ہو اور وہ فلسطینیوں کو محدود طورپر سہی حق خود انتظامی عطا کرنے پر مجبور ہوں.... تاکہ اسٹریٹجی کے اعتبار سے ایک بڑے ہدف تک رسائی ممکن ہو....

یہ بڑا ہدف یہ ہے کہ اسرائیل جغرافیائی توسیع پسندی کا خیال چھوڑ کر خطے میں اب سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں دور رس کامیابیاں حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کرے۔ یہ وہ چیز ہے جو ایک سے زیادہ دانشوروں اور سرکاری حکام کی زبان پر آچکی ہے اور تجزیہ نگار اسے مشرق وسطی میں ایک ریاستہائے متحدہ (یونائیٹڈ اسٹیٹس آف مڈل ایسٹ) کا نام دیتے ہیں!! ۔

یوں اس منصوبے کی رو سے یہ طے پایا کہ ثقافتی، سماجی اور اقتصادی رکاوٹوں کو درمیان سے ہٹا کر اور سیاسی راہوں (پولیٹیکل چینلز) کو چوپٹ کھول کر ایک ایسی صورتحال معرض وجود میں لائی جائے جس میں اسرائیل کے یہود کو مشرق وسطی میں عین وہی حیثیت حاصل ہو جو نیو یارک کے یہود کو امریکہ کے طول وعرض میں حاصل ہے۔ مسلمانوں کی تمام تر دولت اور ان کے سب کے سب قدرتی وسائل یہودیوں کی براہ راست دسترس میں آجائیں۔ مسلمانوں کی یونیورسٹیاں اور تعلیمی وثقافتی ادارے ان کے افکار ونظریات کی آماجگاہ بن جائیں۔ مسلمانوں کے شہر اور بستیاں ان کی تجارتی منڈیاں بنیں اور مسلمان شہری ان کی مصنوعات کے صارفین۔ یہاں جگہ جگہ انہی کے بنک ہوں اور انہی کے صنعتیاور بڑے بڑے سرمایہ کاری منصوبے۔ عام صحت مند مسلمانوں کی کوئی اہمیت ہو تو اس حد تک کہ وہ سود خور یہودی مہاجنوں اور ساہوکاروں کیلئے سستے ترین اور محنتی قسم کے مزدور ہوں! (1)

یہ ہے اس نام نہاد امن پروگرام کا اصل ہدف اور اصل غرض وغایت۔ اس کی وہ جتنی بھی ملمع کاری کریں مگر اس کی اصل حقیقت یہی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہودی منصوبوں میں یہ تبدیلی کوئی آناً فاناً نہیں آگئی۔ یہ محض فکری اور میدانی تحقیق (intellectual and field studies)کا نتیجہ بھی نہیں ___ جیسا کہ بظاہر نظر آتا ہے ___ اس کے اسباب اور اس کی جڑیں دراصل اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ اس کا اصل سبب درحقیقت وہ چیز ہے جو یہودی ذہنیت کی گھٹی میں پڑی ہے اور یہ یہودی فطرت کا اصل پرتو ہے۔ ماضی وحال میں یہ یہودی تاریخ کی سب سے واضح اور دور سے نظر آنے والی حقیقت رہی ہے...

مراد یہ ہے کہ یہودیوں کی ایک مستقل بالذات ہستی کا قائم ہو جانا، ان کی ایک اپنی الگ تھلگ ساکھ بن جانا اور جس طرح دنیا کی دوسری اقوام سیاسی اور سماجی طور پر مکمل خود انحصاری سے کام لے کر اپنا ایک الگ تھلگ وجود رکھتی ہیں، دنیا کی اور قوموں کی طرح یہود کا بھی خود انحصاری کے ساتھ آپ اپنا وجود رکھنا اور اپنے اس وجود کو دنیا سے منوانا.... یہ دراصل یہودیوں کی اس دائمی ذہنیت اور نفسیات بلکہ یہودیوں کی پوری تاریخ کے ساتھ ایک واضح تصادم رکھتا ہے،وہ سب سے بڑی غلطی جو یہودی قومی ریاست کے قیام اور ارضِ میعاد کو واپسی کے خواب دکھانے والے بابل کی اسیری سے لے کر یورپی قہر و ذلت تک کرتے آئے ہیں اور جس کی بنیاد پہ ہرزل (صیہونی تحریک کا بانی) فش مین اور وائز مین عشروں تک عملی منصوبہ بندی کرتے رہے.... اِن کی وہ سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ یہ اپنی آرزؤں کے جذباتی تعاقب میں اپنی تاریخ کی اِس سب سے بڑی حقیقت کو بھلا بیٹھے یا پھر جذبات نے اِنہیں یہ حقیقت بھلا دی.... کہ یہودی دوسری قوموں کی طرح مستقل بالذات ہو کر آپ اپنا اجتماعی وجود کبھی رکھ ہی نہیں سکتے۔ پھر جب وہ وقت آیا کہ ان کے وہ صدیوں پرانے خواب پورے ہوں اور دوسری قوموں کی طرح اِن کی اپنی ایک ہستی وجود میں آئے تب یہ تاریخی حقیقت امیدوں اور آرزوؤں کے ملبے تلے سے باہر آگئی اور نصف النہار کی طرح پوری دنیا کو نظر آنے لگی! ۔

کم از کم یہودیوں اور جدید صہیونی تحریک سے واقف دانشوروں سے یہ بات اوجھل نہیں کہ یہودیوں کی ایک معتد بہ تعداد اور یہودیوں کی بعض مذہبی اور فکری قیادتیں ایک الگ تھلگ یہودی ریاست کے قیام کو شدت سے مسترد کرتی رہی ہیں۔ یہی جماعتیں ہی دراصل ان توراتی پیشین گوئیوں کی صحیح عکاس ہیں۔ یہ یہودی جماعتیں صاف کہتی ہیں کہ یہودی ریاست کا قیام یہودیوں کی ہلاکت اور بربادی کا پیش خیمہ ہے۔ اس پر وہ اپنے مذہبی صحیفوں اور اپنے تاریخی واقعات سے متعدد دلائل بھی پیش کرتی ہیں۔

اسرائیلی ریاست کے قیام نے یہود کو اب ایک ایسے پیچیدہ بحران میں پھنسا دیا ہے جہاں ایک طرف تلمود میں پڑھے جانے والے وہ خواب اور آرزوئیں ہیں جن سے یہودی نسل پرستی اور موروثی فضیلت کے سبق پڑھ پڑھ کر اب یہ ایسے ایسے توسیع پسندانہ عزائم رکھنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ جن کی کوئی حد ہے نہ حساب۔ دوسری طرف ان حوصلوں اور آرزوؤں کا منہ چڑانے کیلئے وہ بیمار یہودی ذہنیت ہے جس کی وجہ سے یہودی آج تک کبھی مستقل بالذات ہو کر اور خود اپنے برتے پر کسی مسئلے میں آگے لگنے کیلئے تیار نہیں ہوتے، چاہے وہ ان کا اپنا ہی مسئلہ کیوں نہ ہو؟ پھر یکایک کیسے ہو سکتا تھا کہ یہ یہودی کچھ نمایاں ترین عالمی مسائل میں اور پوری دنیا کے سیناریو پر اپنی مستقل بالذات حیثیت میں آگے آنے پر تیار ہو جائیں!! اپنا بوجھ آپ اٹھانے کے ڈر سے تو آج تک یہ مسیح موعود کے منتظر رہے ہیں کہ میسح آئے تو یہ کچھ کریں، یہ خود اتنی ہمت کبھی نہ کریں گے!!! ۔

اپنی طویل ترین تاریخ کے کسی دور میں بھی یہودی کبھی کسی مسئلے میں اپنی مستقل بالذات حیثیت میں آگے نہیں آئے، چاہے وہ انکا اپنا ہی مسئلہ کیوں نہ ہو۔ اس قاعدے میں اگر کبھی کسی استثنا ءکا امکان تھا تو وہ صرف اور صرف موجودہ دور ہی میں ہو سکتا تھا مگر دیکھ لیجئے وہ بھی نہ ہوا!!! ۔

یہودی ہمیشہ دنیا میں ایک آکاش بیل کی طرح زندہ رہے۔ آکاش بیل ہمیشہ کسی اور تنومند درخت کا سہارا چاہتی ہے۔ یا پھر یوں کہئے کہ تاریخ کے ہر دور میں یہ ہمیشہ پیٹ کے کیڑوں کی طرح پلے ہیں جو صرف اور صرف کسی اور کی کھائی ہوئی خوراک پر ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔ آپ (سیرت کی کتب میں مذکور)واقعہ بنو قینقاع سے شروع ہو جائیں جس میں ان کے ظاہری باقاعدہ ترجمان مدینہ منورہ کے وہ منافقین تھے جو بہ ظاہر کلمہ پڑھتے تھے، پھر جنگ احزاب کے سازشی کرداروں تک آجائیں جس میں سامنے آکر مسلمانوں سے جنگ کرنے والی فوج قریش تھے یا پھر قریش کے عرب حلیف۔ تب بھی بنو قریظہ اور دیگر قبائل کو کھل کر سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی تھی.... پھر تاریخ کے اور واقعات سے گزرتے ہوئے آپ امریکی انتظامیہ تک آجائیں.... آپ دیکھیں گے کہ اقتصاد، ابلاغی ہتھکنڈوں اور سیاسی جوڑ توڑ کے کھلاڑی اگرچہ یہاں بھی یہودی ہیں مگر ان کا کیس لے کر چلنے کیلئے نکسن، کارٹر، ریگن اور بش جیسے لوگ ہی استعمال ہوتے ہیں جو کہ سب کے سب عیسائی ہیں!! ۔

یہ پیٹ کے کیڑوں کی طرح ہی آج تک یورپ کی آنتوں میں پلے ہیں۔ یہ آکاش بیل ہمیشہ صلیبی بغض وکینہ کے درخت کا ہی سہارا تکتی رہی ہے۔ اور جیسے قرآن میں آتا ہے: الا بحبل من اﷲ وحبل من الناس کہ کبھی ان کو اللہ کے ذمہ میں پناہ مل گئی تو کبھی انسانوں کے ذمہ میں بالکل اس کے مصداق یہ اسلام کے خلاف پائے جانے والے صلیبی بغض وعداوت کی اوٹ میں یونہی پناہ پاتے رہے ہیں۔ پھر جب لگ بھگ دو ہزار سال کے بعد جا کر اب ان کی ایک ریاست اور حکومت وجود میں آئی تو اللہ کی وہ سنت بھی روبہ عمل ہوتی نظر آئی: تحسبہم جمیعاً و قلوبہم شتّی ”تم ان کو اکٹھا سمجھتے ہو، مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں“۔

یہودیوں کے سب سہانے خواب اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کی اسرائیلی ریاست تضادات کا ایک مجموعہ ہے۔ اس میں آپس کی اندرونی سرکشی زوروں پر ہے۔ آپ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے سے یہ ریاست آج بھی لاچار ہے۔ یہ آج بھی پوری دنیا سے خیرات حاصل کرتی ہے۔ پوری دنیا کے یہودی اور غیر یہودی ساہوکاروں کو نچوڑ نچوڑ کر عطیات لیتی ہے۔ پھر دنیا کا کوئی عالمی فورم ہو وہاں یہ امریکی مندوب اور یورپی نمائندوں کی نظر کرم کی محتاج ہوتی ہے۔ اس کی ساری بہادری امریکہ کے بل بوتے پر ہوتی ہے۔ اس کی بہادری کا حال اس سے کچھ بہت مختلف نہیں جو کہانیوں (2) میں ہم ایک ایسی لومڑی کے بارے میں سنتے آئے ہیں جو شیر کے چھوڑے ہوئے چیتھڑوں پر پلتی ہے!! ۔

یہودی ہمیشہ پس پردہ رہ کر پتلیاں نچاتے ہیں۔ اگر یہ سامنے اسٹیج پر آجائیں تو ان کا سارا ننگ واضح ہو جائے اور ان کا جادو پھر کبھی نہ چلنے پائے۔ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ یہ کسی بھی امریکی صدر کے کاندھے پر سوار ہو جائیں۔ اگر وہ ان کے ساتھ سیدھا نہ چلے تو پھر اسے اتار دیں۔ مگر ان میں اتنی ہمت نہیں یا پھر یہ اس خیال کو ترجیح نہیں دیتے کہ امریکہ میں یہ اپنا ایک یہودی صدر بنوا لیں جو سیدھا سیدھا اور واضح طور پر یہودی صدر کے روپ میں سامنے آئے۔ (صرف ایک بار سن دو ہزار میں انہوں نے ایک یہودی کو نائب صدر کے عہدے کیلئے نامزد کیا)

ایک اور چیز نے بھی اسرائیل کے یہودیوں کی راتوں کی نیند حرام کر رکھی ہے۔ زمین کے جس خطے کے بارے میں تورات ان کو مژدہ سناتی ہے کہ وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہوں گی یہودیوں کی اندھی اور لامحدود ہوس کیلئے یہ ممکن نہیں کہ فلسطین کے اسی مقبوضہ خطے کے محدود وسائل پرقانع رہے اوراردگرد کے اس وسیع تر خطے سے صرف نظر کئے رہے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ اس یہودی حرص اور ہوس کیلئے یہ ممکن نہیں کہ اپنے اس مذہبی فرض کے احترام میں کہ انہیں ہر حال میں نیل سے فرات تک کی سرزمین پر ایک فوجی قبضہ ہی کرنا اور اس پر بس ایک یہودی ریاست کا قیام ہی عمل میں لانا ہے.... یہودی حرص اور ہوس کیلئے یہ ممکن نہیں کہ محض اپنے اس مذہبی فریضہ کے احترام میں یہ خطے کے اندر تیل کے بہتے چشموں کی دولت سے زہد و بے رغبتی برت رکھے.... کہ جب تک نازیوں کی طرح یہ اپنے زور بازو سے اس خطے پر خود قبضہ کرنے کا مذہبی خواب پورا نہیں کر لیتے تب تک یہاں کی دولت پر فریفتہ ہونے سے پرہیز کئے رہیں۔ جبکہ وہ یہ بھی جان چکے ہیں کہ دلی ہنوز کتنی دور ہے اور انگور کس قدر کھٹے ہیں۔ فوجی قبضے کا تجربہ تو انہیں خود اس چھوٹی سی فلسطینی پٹی میں ہی بہت مہنگا پڑا ہے۔ چنانچہ فلسطین کے اسی علاقے کو سنبھالنا ان کے بس میں نہیں اور اسے قابو رکھنے کیلئے وہ جارحیت کی آخری حد تک جانے پر تیار ہیں مگر مقامی باشندے ہیں کہ وہاں بھی ان کی ایک نہیں چلنے دیتے۔ مزید خطوں پر قبضے کا خواب وہ کیسے دیکھیں اور اس خواب کے پورا ہونے کے انتظار میں وہ خطے کی دولت سے زہد کیونکر اختیار کئے رہیں!؟

اس خواب کا تو جتنا حصہ کسی نہ کسی طرح پورا ہو گیا وہی کافی ہے کہ انہیں اس خواب کو مزید عملی جامہ پہنانے کا خیال ترک کرنے پر مجبور کر دے۔ یہ ان کا میدان نہیں، بس اب وہ اسی خواب کو پورا کرنے کی کوشش جاری رکھیں جس میں بلاشبہ یہودیوں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے اور یہ ہے بنکاری، میڈیا اور جاسوسی کی دنیا کی بے تاج بادشاہی۔ روتھ شیلڈ اور اس کی نظریاتی اولاد نے اس میدان میں واقعی کمال دکھایا ہے۔ یہ میدان ضرور ایسا ہے جو یہودیوں کی طفیلی ذہنیت اور سازشی فطرت کے ساتھ گہرا میل رکھتا ہے۔ ان کو اب یہی مناسب نظر آتا ہے کہ سود، میڈیا اور جاسوسی کی دنیا پر ہی فرمانروائی رکھی جائے جبکہ اس پر فرمانروائی کیلئے اتنی زمین بھی کافی ہے جو اتنی ڈھیر ساری جنگیں لڑ کے فلسطین میں حاصل کر لی گئی۔ آکاش بیل کو اتنی سی زمین بھی بہت ہے۔ ساری خوراک تو اسے پھر بھی بیرون سے ہی ملنی ہے۔ کیوں نہ بس اسی اراضی کو بنیاد بنا کر یہ فکری اور ثقافتی میدان میں اردگرد کی دنیا کی عقل وفکر اور اعصاب کو قبضے میں کریں اور تعلیمی نصابوں تک پر اثر انداز ہو کر اردگرد کے اس پورے خطے کو اپنی ثقافتی گرفت میں کر لیں جس کی دولت کو دیکھ دیکھ کر آج پوری دنیا کی رال ٹپک رہی ہے!! ۔

کیوں اس بیش بہا قدرتی دولت اور ان بہتے خزانوں تک ان کی رسائی امریکیوں اور یورپیوں کی وساطت کی ہی مرہون منت رہے۔ کیوں نہ اس پر یہ قریبی ہمسایہ ہی سب سے زیادہ حق جتائے!؟

یہودیوں کی طمع اور لالچ اُنہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ پڑوس میں بیٹھے خلیج کے کم زور خطوں کے اندر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے یہ محض اس لئے اجنتاب کریں کہ انہیں اخلاص کے ساتھ اپنے مذہبی تقاضوں پر عمل کرنا ہے! ان کی حرص وآز کو یہ منظور نہیں کہ نیل تا فرات کو بندوق کی نالی کے زور پر فتح کرنے کی راہ پر چل پڑنے کی یہ فاش غلطی ایک بار ان سے سرزد ہو گئی تو اب یہ اسے کرتے ہی چلے جائیں۔ جغرافیائی توسیع کو مزید جاری رکھنا ایک خطرناک ترین غلطی ہے۔ اس کے بھلے نتائج نکلنے کی جب دور دور تک کوئی ضمانت نہیں تو پھر ایک ایک دمڑی کا حساب رکھنے والی قوم اس غلطی کا ارتکاب کیوں کرتی چلی جائے۔ تلمود سنانے والے پروہت پیشین گوئیاں کریں نہ کریں، مسیح نکلے نہ نکلے، اپنی جان اور مال دونوں کا نقصان کراتے چلے جانا اور وہ بھی غیر معینہ عرصے تک.... کہاں کی تُک ہے!!! ۔

(تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ فرمائیں: شیخ سفر الحوالی کا رسالہ القدس بین الوعد الحق والوعد المفتری، ص 9 تا 13)

یہ اس تحریر کا ایک اقتباس ہے جو ہم نے آج سے دس سال پہلے قلمبند کی تھی۔ اب موجودہ حالات میں دیکھئے کیا کچھ تبدیل ہوا اور کیا کچھ اپنی جگہ باقی ہے:

اس گفتگو کا سلبی پہلو تو جوں کا توں باقی ہے جس کا ایک واضح سبب ہے اور وہ یہ کہ یہودی ذہنیت وہی یہودی ذہنیت ہے اور اس میں تبدیلی آجانا ممکن نہیں، جنگ اور امن کی اسٹریٹجی خواہ لاکھ بدلتی رہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ یہ صہیونی ریاست امن کے یہ بے پناہ فوائد اتنی آسانی سے ہار دے؟ اور یہ کیسے ممکن تھا کہ جس امن کے قیام کیلئے اتنے سارے ملک دوڑ دھوپ کرتے رہے وہ امن ہی اس کے لئے باعث نقصان ہو ؟

حقیقت تو یہ ہے کہ اس صہیونی ریاست کو اپنی زندگی کا اس وقت شدید ترین ضعف لاحق ہے حالانکہ کسی نے ابھی اس کے ساتھ جنگ تو کی تک نہیں حتی کہ اردگرد کی کوئی حکومت اس کے ساتھ جنگ کی نیت تک نہیں رکھتی! پھر اسے یہ اس قدر ضعف خوامخواہ کیوں لاحق ہے؟ لازمی بات ہے کہ اس ضعف کا سبب خود اس کی ذات میں ہے۔ ورنہ امن کانفرنسوں کی ایسی زبردست لوٹ، جس میں فلسطینیوں کو چند ٹکوں پر ٹرخا دیا گیا، ایسے بھاری بھر کم فوائد کے حامل منصوبے دنیا کے کسی اور قوم کو میسر ہوتے (چاہے وہ قوم یہود جتنی کائیاں نہ بھی ہوتی) اور یہ سب سمجھوتے کسی اور فریق کے ساتھ کئے گئے ہوتے تو کچھ یقینی نتائج تک ضرور پہنچا جا سکتا تھا۔ مگر یہودیوں کو ایک خاص طبیعت ملی ہے جو تمام انسانوں کی طبیعت سے مختلف ہے۔ مردانہ وار بات پر ڈٹ جانا اور جو کہنا اسے پورا کر دکھانا ان کے بس کی بات نہیں۔ پیر پیر پر بات سے پھر جانا اور ہر موقعہ پر راہ فرار اختیار کرنا ان کی گھٹی میں پڑا ہے۔

میڈ ریڈ اور اوسلو میں طے پانے والے سمجھوتے جن مفروضوں کی بنیاد پر کر لئے گئے وہ مفروضے اختصار کے ساتھ یہ ہیں:

ایک مفروضہ یہ تھا کہ قیام امن کے ہو جانے سے یہودیوں اور عربوں کے درمیان پائی جانے والی نفسیاتی رکاوٹیں ختم کی جا سکیں گی۔ اس مفروضے کے قائم کرنے میں واقعی کوئی بڑا جھول نہیں سوائے اس بات کے کہ اس سمجھوتے کا فریق ایک یہودی قوم ہے جس کی نفسیات کی ساری بُنتی عقدوں اور پیچیدگیوں سے بُنی گئی ہے۔ اب جو عقدے اور پیچیدگیاں صدیوں سے ایک قوم نسل درنسل پالتی آئی ہو وہ ایک ’امن سمجھوتے‘ سے کیونکر دور ہو جائیں! ۔

ایک مفروضہ یہ تھا کہ امن ہر قوم کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی سچ ہے مگر ایک ایسی قوم کے حق میں سچ نہیں جو صدیوں سے محرومیاں پالتی آئی ہو اور جس نے آج تک سیکھا ہی صرف یہ ہو کہ محکوم ہو تو ذلت قبول کرکے رہے اور اقتدار ہاتھ میں آجائے تو اپنا تعصب اور صدیوں کا اپنا بغض وکینہ چھپائے بغیر نہ رہے! ۔

مبادا کہ ہم پر نسل پرستی کا الزام آئے یا ہم پر بھی نسل پرست ہونے کا دعویٰ دائر کر دیا جائے جیسا کہ فرانس کی عدالت میں جارودی کے خلاف نسل پرستی کا مقدمہ واقعی کر بھی دیا گیا تھا.... ہم اپنی اس بات پر ثبوت کیلئے کتاب اللہ سے کوئی آیت یا حتی کہ امیوں کی امت میں سے بھی کسی بشر کے قول سے کوئی حوالہ نہیں دیں گے۔ اپنی اس بات پر دلیل ہم صرف تو رات کے حوالوں سے دیں گے جس کی پیشین گوئیوں کو بنیاد بنا کر اس پوری صہیونی تحریک کی اٹھان اٹھائی گی ہے۔ اب جو کان رکھتے ہیں ذرا سنیں!! ۔

Print Article
Tagged
متعلقہ آرٹیکلز
ديگر آرٹیکلز
ثقافت- خواتين
ثقافت-
Featured-
حامد كمال الدين
"دردِ وفا".. ناول سے اقداری مسائل تک حامد کمال الدین کوئی پچیس تیس سال بعد ناول نام کی چیز ہاتھ لگی۔ وہ۔۔۔
احوال-
حامد كمال الدين
امارات کا سعودی عرب کو یمن میں بیچ منجدھار چھوڑنے کا فیصلہ حامد کمال الدین شاہ سلمان کے شروع دنوں میں ی۔۔۔
احوال-
Featured-
حامد كمال الدين
پاک افغان معاملہ.. تماش بینی نہیں سنجیدگی حامد کمال الدین وہ طعنے جو میرے کچھ مخلص بھائی او۔۔۔
Featured-
احوال-
حامد كمال الدين
کلچرل وارداتیں اور ہماری عدم فراغت! حامد کمال الدین ظالمو! نہ صرف یہاں کا منبر و محراب ۔۔۔
Featured-
احوال-
Featured-
ادارہ
تحریر:   تحریم افروز یوں تو امریکا سے مسلمانوں  کے معاملے میں کبھی خیر کی توقع رہی ہی&۔۔۔
Featured-
احوال-
ادارہ
کچھ عرصے سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی "صدی کی ڈیل" کا شہرہ ہے۔دو سال بل جب ٹرمپ نے اق۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
حامد کمال الدین بعض مباحث بروقت بیان نہ ہوں تو پڑھنے پڑھانے والوں کے حق میں ایک زیادتی رہ جاتی ہے۔ جذبہ۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
https://twitter.com/Hamidkamaluddin کچھ چیزوں کے ساتھ ’’تعامل‘‘ کا ایک مناسب تر انداز انہیں نظر۔۔۔
Featured-
باطل- جدال
حامد كمال الدين
کچھ ’مسلم‘ معترضینِ اسلام! تحریر: حامد کمال الدین پچھلے دنوں ایک ٹویٹ میرے یہاں سے  ہو۔۔۔
اصول- منہج
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
پراپیگنڈہ وار propaganda war میں سیگ منٹیشن segmentation (جزء کاری) ناگزیر ہوتی ہے۔ یعنی معاملے کو ای۔۔۔
بازيافت-
ادارہ
ہجرت کے پندرہ سو سال بعد! حافظ یوسف سراج کون مانے؟ کسے یقیں آئے؟ وہ چار قدم تاریخِ ان۔۔۔
تنقیحات-
Featured-
حامد كمال الدين
میرے اسلام پسندو! پوزیشنیں بانٹ کر کھیلو؛ اور چال لمبی تحریر: حامد کمال الدین یہ درست ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
ذيشان وڑائچ
ہمارے کچھ نوجوان طیب اردگان کے بارے میں عجیب و غریب الجھن کے شکار ہیں۔ کوئی پوچھ رہا ہے کہ۔۔۔
احوال- امت اسلام
حامد كمال الدين
’’سلفیوں‘‘ کے ساتھ تھوڑی زیادتی ہو رہی ہے!    عرب داعی محترم ابو بصیر طرطوسی کے ساتھ بہت م۔۔۔
اصول- عقيدہ
اداریہ-
حامد كمال الدين
شرکِ ’’ہیومن ازم‘‘ کی یلغار..  اور امت کا طائفہ منصورہ حالات کو سرسری انداز میں پڑھنا... واقعات م۔۔۔
احوال-
اصول- منہج
راہنمائى-
حامد كمال الدين
پاکستانی سیاست میں اسلامی سیکٹر کے آگے بڑھنے کے آپشنز تحریر: حامد کمال الدین میری نظر میں، اس۔۔۔
Featured-
ثقافت- خواتين
باطل- فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فیمینسٹ جاہلیت کو جھٹلاتی ایک نسوانی تحریر اجالا عثمان انٹرنیٹ سے لی گئی ایک تحریر جو ہمیں ا۔۔۔
تنقیحات-
حامد كمال الدين
"نبوی منہج" سے متعلق ایک مغالطہ کا ازالہ حامد کمال الدین ایک تحریکی عمل سے متعلق "نبوی منہج۔۔۔
کیٹیگری
Featured
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
Side Banner
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
احوال
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اداریہ
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
اصول
منہج
حامد كمال الدين
عقيدہ
حامد كمال الدين
منہج
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ایقاظ ٹائم لائن
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ذيشان وڑائچ
مزيد ۔۔۔
بازيافت
ادارہ
تاريخ
ادارہ
سلف و مشاہير
مہتاب عزيز
مزيد ۔۔۔
باطل
جدال
حامد كمال الدين
فكرى وسماجى مذاہب
ادارہ
فرقےاعتزال
ادارہ
مزيد ۔۔۔
تنقیحات
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
ثقافت
حامد كمال الدين
خواتين
حامد كمال الدين
خواتين
ادارہ
مزيد ۔۔۔
جہاد
مزاحمت
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
راہنمائى
حامد كمال الدين
حامد كمال الدين
ابن علی
مزيد ۔۔۔
رقائق
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
اذكار و ادعيہ
حامد كمال الدين
مزيد ۔۔۔
فوائد
فہدؔ بن خالد
احمد شاکرؔ
تقی الدین منصور
مزيد ۔۔۔
متفرق
ادارہ
عائشہ جاوید
عائشہ جاوید
مزيد ۔۔۔
مشكوة وحى
علوم قرآن
حامد كمال الدين
مریم عزیز
ادارہ
مزيد ۔۔۔
مقبول ترین کتب
مقبول ترین آڈيوز
مقبول ترین ويڈيوز